عائشہ کنول درانی.علی پور
عائشہ تو اماں یا ابا نے رکھا ہوگا کنول کا لقب بڑے بھائی جان نے دیا۔ انہوں نے ہمیشہ ہی کنول کہہ کر پکارا۔ ان کی دیکھا دیکھی سب ہی نے کہنا شروع کردیا مگر ان کا منفرد محبت سے لبریز لہجہ اور طرز تخاطب ہمیشہ نمایاں رہا مگر افسوس کہ اتنے محبت اور مان دینے والے بڑے بھائی جان صرف تین ماہ پہلے (جو میرے لیے صدیوں کے برابر ہیں)ہمیں دنیا کے صحرا میں بھٹکتا ہوا چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ جن کے بعد صحیح معنوں میں ہمیں زندگی کی مشکلات کا احساس ہوا کہ کس طرح کڑی دھوپ میں وہ ہم پر سایہ فگن رہے کہ اماں کی کمی کا احساس بھی کسی حد تک مندمل رہا مگر وہی کہ قسمت پر کس کا بس چلتا ہے۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ ان کے لیے دعا کریں اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔
خواتین، شعاع،اردو اور روحانی ڈائجسٹ باقاعدگی سے پڑھتی ہوں اس کے علاوہ بھی دیگر کتب کے وقت نکال لیتی ہوں کیونکہ بی اے بی ایڈ کرنے کے بعد اب فارغ ہوں ،کچھ عرصہ نجی تعلیمی اداروں میں بھی پڑھایا لیکن اب سنجیدگی سے ایم اے کی تیاری کرنے کا ارادہ ہے آپ بھی دعا کریں میرے لیے کہ میں اپنے ارادوں میں کامیاب رہوں۔
خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں تو دوسرے زیادہ بہتر بتاسکتے ہیں لیکن سب کی رائے سننے کے بعد کچھ نہ کچھ ادراک تو ہوہی گیا ہے تو جناب سب سے پہلی خوبی مجھ میں یہ ہے کہ وقت کی پابندی کرتی ہوں اور اسی عادت کی وجہ سے بعض دفعہ کوفت میں مبتلا ہوجاتی ہوں(دوسروں کے لیٹ ہوجانے سے)خامی بقول بڑے بھائی جان کے مجھے غصہ بہت آتا ہے اور اس کااظہار میں جارحانہ طریقے سے کرتی ہوں۔ خوبی بھی وہ کہتے تھے کہ جتنا جلدی مجھے غصہ آتا ہے اتنی ہی جلدی ختم بھی ہوجاتا ہے اور میں سب کا خیال رکھتی ہوں اس خوبی کو بہت سراہتے تھے۔
خواتین ڈائجسٹ سے وابستگی تقریباً نو،سال پرانی ہے ڈائجسٹ ملتے ہی ہم بہنوں میں تکرار شروع ہوجاتی اور سب کی کوشش یہی ہوتی کہ میں پہلے پڑھوں۔ لیکن میں ہمیشہ تسلی سے پڑھنے کی عادی ہوں چھینا جھپٹی مجھے پسند نہیں، خواتین اور شعاع کی اکثر کہانیاں ذہن پرانمٹ نشان چھوڑ گئیں لیکن مجھے نام بھول جاتے ہیں لیکن عمیرہ احمد کی’’ میری ذات ذرہ بے نشان، حرف بحرف یاد رہ گیا۔ ماہا ملک کا ’’میرے خواب ریزہ ریزہ‘‘ بہت عرصہ رلاتا رہا۔ خواتین اور شعاع کے سارے شمارے محفوظ رکھتی ہوں اور گاہے بگاہے فیض یاب ہوتی ہوں اگر کوئی دوست ڈائجسٹ لے کر واپس نہ کرے تو بہت غصہ آتا ہے۔
سالگرہ پر کبھی زیادہ اہتمام نہیں کیا لیکن بہن بھائی اور دوستوں نے ہمیشہ یاد رکھا لیکن گزشتہ دسمبر میں گزری ہوئی سالگرہ پر بڑے بھائی جان نے بہت اہتمام کیا اب تو ایسی سالگرہ دوبارہ نہیں آسکتی کیونکہ ناں بڑے بھائی جان ہیں نہ ویسی محبتیں کہیں اور سے مل سکتی ہیں ،میری پیاری دوست تسلیم اکثر میری سالگرہ پروش کرتی ہے اور یہ شعر لکھتی ہے۔
آنکھیں غزل ہیں آپ کی اور ہونٹ ہیں گلاب
سارے جہاں میں آپ کا کوئی نہیں جواب
٭٭
عائشہ کنول درانی.علی پور
عائشہ تو اماں یا ابا نے رکھا ہوگا کنول کا لقب بڑے بھائی جان نے دیا۔ انہوں نے ہمیشہ ہی کنول کہہ کر پکارا۔ ان کی دیکھا دیکھی سب ہی نے کہنا شروع کردیا مگر ان کا منفرد محبت سے لبریز لہجہ اور طرز تخاطب ہمیشہ نمایاں رہا مگر افسوس کہ اتنے محبت اور مان دینے والے بڑے بھائی جان صرف تین ماہ پہلے (جو میرے لیے صدیوں کے برابر ہیں)ہمیں دنیا کے صحرا میں بھٹکتا ہوا چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ جن کے بعد صحیح معنوں میں ہمیں زندگی کی مشکلات کا احساس ہوا کہ کس طرح کڑی دھوپ میں وہ ہم پر سایہ فگن رہے کہ اماں کی کمی کا احساس بھی کسی حد تک مندمل رہا مگر وہی کہ قسمت پر کس کا بس چلتا ہے۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ ان کے لیے دعا کریں اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔
خواتین، شعاع،اردو اور روحانی ڈائجسٹ باقاعدگی سے پڑھتی ہوں اس کے علاوہ بھی دیگر کتب کے وقت نکال لیتی ہوں کیونکہ بی اے بی ایڈ کرنے کے بعد اب فارغ ہوں ،کچھ عرصہ نجی تعلیمی اداروں میں بھی پڑھایا لیکن اب سنجیدگی سے ایم اے کی تیاری کرنے کا ارادہ ہے آپ بھی دعا کریں میرے لیے کہ میں اپنے ارادوں میں کامیاب رہوں۔
خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں تو دوسرے زیادہ بہتر بتاسکتے ہیں لیکن سب کی رائے سننے کے بعد کچھ نہ کچھ ادراک تو ہوہی گیا ہے تو جناب سب سے پہلی خوبی مجھ میں یہ ہے کہ وقت کی پابندی کرتی ہوں اور اسی عادت کی وجہ سے بعض دفعہ کوفت میں مبتلا ہوجاتی ہوں(دوسروں کے لیٹ ہوجانے سے)خامی بقول بڑے بھائی جان کے مجھے غصہ بہت آتا ہے اور اس کااظہار میں جارحانہ طریقے سے کرتی ہوں۔ خوبی بھی وہ کہتے تھے کہ جتنا جلدی مجھے غصہ آتا ہے اتنی ہی جلدی ختم بھی ہوجاتا ہے اور میں سب کا خیال رکھتی ہوں اس خوبی کو بہت سراہتے تھے۔
خواتین ڈائجسٹ سے وابستگی تقریباً نو،سال پرانی ہے ڈائجسٹ ملتے ہی ہم بہنوں میں تکرار شروع ہوجاتی اور سب کی کوشش یہی ہوتی کہ میں پہلے پڑھوں۔ لیکن میں ہمیشہ تسلی سے پڑھنے کی عادی ہوں چھینا جھپٹی مجھے پسند نہیں، خواتین اور شعاع کی اکثر کہانیاں ذہن پرانمٹ نشان چھوڑ گئیں لیکن مجھے نام بھول جاتے ہیں لیکن عمیرہ احمد کی’’ میری ذات ذرہ بے نشان، حرف بحرف یاد رہ گیا۔ ماہا ملک کا ’’میرے خواب ریزہ ریزہ‘‘ بہت عرصہ رلاتا رہا۔ خواتین اور شعاع کے سارے شمارے محفوظ رکھتی ہوں اور گاہے بگاہے فیض یاب ہوتی ہوں اگر کوئی دوست ڈائجسٹ لے کر واپس نہ کرے تو بہت غصہ آتا ہے۔
سالگرہ پر کبھی زیادہ اہتمام نہیں کیا لیکن بہن بھائی اور دوستوں نے ہمیشہ یاد رکھا لیکن گزشتہ دسمبر میں گزری ہوئی سالگرہ پر بڑے بھائی جان نے بہت اہتمام کیا اب تو ایسی سالگرہ دوبارہ نہیں آسکتی کیونکہ ناں بڑے بھائی جان ہیں نہ ویسی محبتیں کہیں اور سے مل سکتی ہیں ،میری پیاری دوست تسلیم اکثر میری سالگرہ پروش کرتی ہے اور یہ شعر لکھتی ہے۔
آنکھیں غزل ہیں آپ کی اور ہونٹ ہیں گلاب
سارے جہاں میں آپ کا کوئی نہیں جواب
٭٭


