بشریٰ احمد – شاہین رشید

انٹرویو 78

بشریٰ احمد کا شمار ان مصنفین میں ہوتاہے جنہوں نے کم لکھا لیکن جب بھی لکھا اچھا لکھا۔

بشریٰ کی خصوصیت ان کا سادہ انداز بیاں ہے۔ وہ لکھتے ہوئے ہماری معاشرتی اقدار کو مد نظر رکھتی ہیں۔ ان کے کردار ہمیں اپنے اردگرد نظر آتے ہیں۔ ان کی کہانیاں اسی معاشرے کی کہانیاں ہیں۔ متوسط طبقہ جو آج بھی اقدار وروایات کا دامن تھامے ہوئے ہے بشریٰ احمد اس کی عکاسی کرتی ہیں۔ قارئین کی فرمائش کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے آج بشریٰ کا انتخاب کیاہے۔

’’کیسے مزاج ہیں؟‘‘

’’اللہ کا کرم ہے، احسان ہے۔‘‘

’’بہت شکریہ کہ آپ نے ہمارے میگزین کے لیے وقت نکالا۔‘‘

’’انٹرویو کے آغاز میں پوچھنا چاہوں گی کہ عموماً والدین اپنی بیٹی کا نام بشریٰ اس وقت رکھتے ہیں جب اللہ انہیں بیٹے سے نہیں نواز رہا ہوتا.آپ کے یہاں کیا صورت حال تھی؟‘‘

’’آپ کا کہنا بالکل صحیح ہے۔لیکن میرے لیے صورت حال کچھ مختلف تھی۔میرے دادا نے میرا نام رکھا تھا۔بشریٰ کا مطلب خوش خبری ہے اور چونکہ میری پیدائش کے وقت میرے والد کی ترقی ہوئی تھی۔سو میرے دادا کے نزدیک میں ان کے لیے خوش خبری لائی تھی ،اس لیے میرا نام بشریٰ رکھا گیااور پھر میں تو دوسری بیٹی تھی،راشدہ تو مسلسل تیسری بیٹی تھی۔اور امی ابو کی لاڈلی تھی۔

میرے دادا ابا کی ڈائری جو آج بھی میرے ابو کے پاس محفوظ ہے ،اس میں اس کی پیدائش کا ذکر بہت خوشی سے کیا گیا ہے۔سو یہ کہنا شاید درست نہیں کہ میرا نام بیٹے کی خواہش کے لیے رکھا گیا تھا۔‘‘

’’گڈچلیں تو پھر اپنا فیملی بیگ گرائونڈ بتایئے؟‘‘

’’میںچار اپریل کو محلوں کے شہر بہاول پور میں پیدا ہوئی۔ میرے والدین کا تعلق ملتان سے تھا لیکن بہ سلسلہ ملازمت وہ بہاول پور میں رہے۔میرا ننھیال بہاول پور میں ہی تھا.

ہم پانچ بہن بھائی ہیںیعنی چار بہنیں اور ایک بھائی میرا نمبر دوسرا ہے۔سب بہن بھائی الحمدللہ شادی شدہ ہیں۔میرے تین بچے ہیں۔پہلا بیٹا ہے جو ما شائ اللہ ’’اولیول‘‘میں ہے ،باقی دو بیٹیاں بالترتیب چھٹی اور چوتھی جماعت میں پڑھتی ہیں۔میں نے ’’بی ایس سی‘‘ کیا ہے.جبکہ انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے ۔

میری والدہ کی وفات کو تقریباً گیارہ سال ہوگئے ہیں ان کی وفات کینسر سے ہوئی۔ ابو ما شائ اللہ حیات ہیں۔ اور بھائی کے ساتھ اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔اورابو اسلامیہ یونی ورسٹی بہاول پور کے اسکول سے بہ حیثیت پرنسپل ریٹائر ہوئے ہیں۔امی بھی گریجویٹ تھیں لیکن ہائوس وائف تھیں۔اپنے امی ،ابو ،نانا اور دادا کی زندگی پر تو میں پوری ایک کتاب لکھ سکتی ہوں۔‘‘

’’بچپن کے بارے میں بھی بتائیں؟‘‘

’’بچپن بہت خوش گوار تھا، میں ایک حساس بچی تھی، کسی حد تک اب بھی ہوں۔شرارتی بچوں کا جو تصور ہے کہ اودھم مچانے والے، شور شرابا کرنے والے تخریبی قسم کے.تو میں ایسی بالکل بھی نہیں تھی.

ہم سب بہن بھائی بہت سلجھے ہوئے اور بہت تمیز دار بچے تھے۔ایسے بچے کہ جن کی دوسرے لوگ مثالیں دیتے تھے۔ہاں جب ہم تھوڑے بڑے ہوئے تو گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم دادا کے گھر ملتان چلے جاتے تھے اور وہیں چھٹیاں گزارتے تھے۔ اس وقت ہم اپنے ہم عمر کزنز کے ساتھ مل کر گرمیوں کی، طویل دوپہروں میں نوٹ کے ساتھ دھاگا باندھ کر گیٹ کے نیچے سے گزارتے اور جیسے ہی کوئی راہ چلتا نوٹ کھینچتا تو ہم دھاگا کھینچ لیتے تھے۔‘‘

’’بہن بھائیوں سے تعلقات کیسے تھے؟‘‘

’’بہنوں اور بھائی سے تعلقات بچپن سے ہی مثالی رہے ہیں ،ہم تین بہنیں ’’اوپر تلے‘‘ کی ہیں تو آج تک دوستی کا رشتہ قائم ہے۔اکلوتے بھائی اور سب سے چھوٹی بہن تابندہ سے لاڈ پیار کا رشتہ تھا اور ہے.اللہ تعالیٰ سب کو سلامت رکھے اور ہمارے پیار کو بھی۔

ہم دو بہنیں دیورانی جٹھانی بھی ہیں اور ایک دوسرے کا مضبوط سپورٹ سسٹم بھی۔میری اور میری بہن کی شادی اپنے تایا کے گھر ہوئی ہے۔ راشدہ کی شادی چچا کے گھر اور وہ پڑوس میں ہی رہتی ہے۔ بھائی اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے۔اس کی بیوی بھی بہت محبت کرنے والی اور خوش مزاج ہے،وہ بھی ہمارے چچا کی بیٹی ہے۔

یہاں ایک دلچسپ بات بتاتی چلوں کہ ہمارے دادا اور دادا کے بھائی کی شادی بھی ،دو بہنوں سے ہوئی تو دونوں بھائیوں کے گھر ساتھ ساتھ تھے۔لیکن انہوںنے اپنے بچوں کے رشتے آپس میں نہیں کیے۔جو تیسری نسل تھی یعنی کہ ہم کزنز تو ہمارے، نوے فیصد رشتے آپس میں ہوئے اور الحمدللہ سب کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔اس کا کریڈٹ میں اپنی امی،ساس یعنی تائی اماں اور دیگر چچیوں کو دوں گی کہ جنہوں نے ،آپس میں مثالی تعلقات رکھتے ہوئے خاندانی سیاستوں سے محفوظ نسل پروان چڑھائی۔‘‘

’’لکھنے کا عمل کب سے جاری ہے.تفصیل سے بتائیں؟‘‘

’’لکھنے کے عمل کا باقاعدہ آغاز تو کالم نگاری سے ہوا۔لڑکپن سے ہی ابو نے اخبار پڑھنے کی عادت ڈال دی تھی ،پتا ہی نہیں چلا کہ کب ابو کے ساتھ سیاسی بحث ومباحثہ کرتے اور کرنٹ افیئرز کے پروگرام دیکھتے دیکھتے ،کالم لکھنے شروع کردیے۔ مشرف کا دور تھا۔ میں کالج میں تھی۔ تو نوائے وقت ملتان میں بڑی باقاعدگی سے کالم لکھا کرتی تھی.

گھر کا ماحول ادبی تھا.دادا فارسی کے عالم تھے، اور نانا انگریزی ادب کے استاد۔ پھوپھو زبردست مقررہ تھیں اور خالہ شاعری کرتی تھیں۔ گھر میں نانا ابا ڈھیروں کتابیں ہر ہفتے سینٹرل لائبریری سے لاتے تھے ۔ہم بہنیں باریاں لگاکر کتابیں پڑھتی تھیں،چونکہ پڑھائی میں غیر معمولی ذہین تھی تو میرے رزلٹ ہمیشہ اچھے آتے تھے۔سو ماں باپ بھی مطمئینتھے۔میں بجا طور پر کہہ سکتی ہوں کہ ابو اور نانا ابا نے ہمارے اندر ادبی ذوق کی آبیاری کی۔

راشدہ رفعت میری چھوٹی بہن ،وہ بچپن سے ہی تعلیم وتربیت اور ماہنامہ پھول وغیرہ میں لکھتی آرہی تھی۔بڑے ہونے پر اس نے ناول نگاری بھی شروع کردی تھی۔ لیکن اس نے کوئی تحریر شائع ہونے کے لیے نہیں بھیجی تھی۔تو ہوا یوں کہ ایک دن میں آفاق احمد صاحب کی کتاب پڑھ رہی تھی تو راشدہ نے کتاب، مجھ سے لینے کی خاطر مجھے کاغذ قلم دے کر کچھ لکھنے کا چیلنج دیا۔یوں میں نے پہلا افسانہ لکھا جو کہ ’’کرن‘‘ میں شائع ہوا، پھر شعاع اور خواتین میں کئی ناول اور ناولٹ لکھے۔پہلے افسانے کا اعزازیہ تو یاد نہیں کتنا تھا لیکن افسانہ شائع ہونا بطور خود ایک اعزازیہ ضرور تھا۔

میں اس بات کو مانتی ہوں کہ آپ کی حوصلہ افزائی کا عمل ،آپ کے اپنے گھر سے ہی شروع ہوجاتا ہے.اس کے بعد میں امتل اور ریحانہ کو کریڈٹ دوں گی ،ان دونوں خواتین نے مجھے ہمیشہ سراہا.میری پہلی تحریر سے لے کر آج تک ہر تحریر ایک ماہ کے اندر اندر پرچوں کی زینت بنی.جب کبھی فون پر بات ہوئی ،ان دونوں خواتین نے مجھے میرے لکھاری ہونے کا احساس دلایا۔‘‘

’’کہانیاں کب اور کیسے وارد ہوتی ہیں؟اور کس طرح انہیں آگے تک چلاتی ہیں؟‘‘

’’کہانیاں لکھنا میرے لیے ا یسا ہی ہے جیسے ایک گھر کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئی ہوں۔ جہاں جیتے جاگتے کردار اپنا تعارف کرواتے ہیںاور یوں کہانی چل پڑتی ہے۔ مکالمہ نگاری میرے لیے کبھی مشکل نہیں رہی،بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ آپ کے کردار خود بول رہے ہوتے ہیں، ذہن میں ایک تواتر سے جملے ترتیب پاتے ہیں کہ آپ کا قلم پیچھے رہ جاتا ہے،ہاں کبھی کبھار ذہن ایسے صاف ہوجاتا ہے کہ گھنٹوں کچھ لکھ نہیں پاتی، اسے ’’رائٹر بلاک‘‘ کہتے ہیں اور یہ ہر رائٹر کے ساتھ ہوتا ہے۔رائٹر بلاک توڑنے کے لیے لکھنے کے عمل میں ایک وقفہ دے کر کسی اور ایکٹیویٹی کی طرف توجہ کرلی جائے تو بہتر ہوتا ہے۔‘‘

’’آپ کے لیے کہا جاتا ہے کہ آپ سوشل رومینٹک ناولسٹ ہیں.اس سے کیا مراد ہے؟‘‘

’’کسی بھی سماجی ایشو کو ہلکے پھلکے انداز میں تھوڑے رومانوی ٹچ کے ساتھ کہانی کی شکل دی جاتی ہے۔میری کہانیاں ایک مضبوط خاندانی تصور کے گرد گھومتی ہیں،جہاں زندگی ایک مثبت انداز میں گزاری جارہی ہوتی ہے مجھ سے فلسفہ نہیں لکھا جاتا۔بہت سادہ انداز تحریر ہے میرااور میری کہانی کے کسی نہ کسی کردار میں میرے اپنے خاندان کے کسی فرد کی جھلک ضرور ہوتی ہے۔‘‘

’’رومانس لکھتے وقت آپ کے ذہن میں کون ہوتا ہے؟‘‘

’’بڑا دلچسپ سوال ہے لیکن اتنا ہی سادا جواب ہے۔رومانس کردار کے حساب سے لکھا جاتا ہے۔ اگر خشک مزاج ہیرو یکایک آخری سین میں ضرورت سے زیادہ رومینٹک ہوجائے تو یہ سراسر غیر فطری لگے گا۔اچھا ایک بات بتائوں، میرے شوہر اچھے خاصے رومان پرور انسان ہیں لیکن کبھی رومینٹک ڈائیلاگ لکھتے وقت مجھے ان کا خیال نہیں آیا ذہن میں. میرے ذہن میں وہی کردار ہوتا ہے جو زیر قلم ہوتا ہے۔‘‘

’’کس موضوع پر آسانی سے لکھ لیتی ہیں،کوئی ایسی تحریر جس کو لکھتے وقت آپ بہت مسکرائی ہوں یا دکھی ہوئی ہوں۔‘‘

’’کوئی بھی گھریلو کہانی جس کے کردار بڑے سادہ سے ہوں۔ میں آسانی سے لکھ لیتی ہوں۔ لیکن میں بہت زیادہ رنجیدہ تحریر نہیں لکھ سکتی، یہ میرا مزاج ہی نہیں ہے۔2005ئ میں ایک افسانہ لکھا تھایہ بات بھی آپ کو بتاتی چلوں کہ2005ئ میری زندگی کا تلخ ترین سال تھا.اور2005ئ میں مئی یا جون میں جب میں نے ایک افسانہ لکھا تھا تو ان، تلخ ترین دنوں میں بھی اس افسانے کو لکھتے وقت میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ تھی۔اسی طرح’’عراق وار‘‘ کے حوالے سے ایک نادل لکھا تھا ۔جو ادارے کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا تھا شاید اس لیے شائع بھی نہیں ہوا اس ناول کی ہر سطر پر میرے آنسوئوں کے نشانات تھے۔میں نے آپ کو کہا ناکہ کہانی لکھتے وقت کردار آپ کے اوپر طاری ہوجاتے ہیں۔آپ ،آپ نہیں رہتے۔ اس منظر کا حصہ بن جاتے ہیں۔سو وہ نہ شائع ہونے والا ناول میرا ماسٹر پیس تھا۔‘‘

’’اب تک کیا کیا لکھ چکی ہیں؟‘‘

’’میں نے ابتدا میں کافی لکھا، افسانے،ناول اور ناولٹ.شعاع،خواتین اور کرن کے لیے. جب2006ئ میں شادی ہوئی تو اس کے بعد جاب بھی کرلی۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کی ذمہ داریاں بھی ساتھ ساتھ تھیں ،تو لکھنے کا عمل نسبتاً سست روی سے چلتا رہا۔‘‘

’’پرنٹ میڈیا معاوضہ اچھا نہیں دیتا.کبھی احتجاج کیا آپ نے؟‘‘

’’یہ درست ہے کہ پرنٹ میڈیا میں پیسہ نہیں ہے لیکن آپ کے اندر کے لکھاری کی تسکین کے لیے یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے ،جو آپ کو پیسہ دے نہ دے پہچان اور عزت ضرور دیتا ہے۔ اس لیے میں نے کبھی احتجاج نہیں کیا۔‘‘

’’الحمدللہ میں فنانشنلی ان ڈیپینڈنٹ ہوںایک معروف تعلیمی ادارے میں بطور اکیڈمک کوآرڈینیٹر اپنی ذمہ داریاں نبھارہی ہوں۔‘‘

’’چلیں اب کچھ نجی سوال ہوجائیں.؟‘‘

’’آج کل کیا مصروفیات ہیں؟۔دن کیسا گزرتا ہے؟‘‘

’’آج کل بلکہ گزشتہ کئی سالوںسے نہایت مصروف زندگی گزار رہی ہوں۔صبح جلدی اٹھنے کی عادت ہے اور رات کو بھی جلدی سو جاتی ہوں۔ گھر کے کام کاج کے لیے فل ٹائم ہائوس ہیلپر رکھی ہوئی ہے۔ اگر آپ دو محاذوں پر نبرد آزما ہوں تو اپنی ذاتی زندگی کو، خوش گوار رکھنے کے لیے خود کو آسانی فراہم کرنی چاہیے.ہانڈی میں خود بناتی ہوں، لیکن دیر سویر کی صورت میں وہ بھی ہائوس ہیلپر بنالیتی ہے جب آپ اپنے طرز زندگی کے حساب سے خود کو آسانیاں فراہم کرتے ہیں تو اس کا آپ کی ازدواجی زندگی پر مثبت اثر پڑتا ہے۔‘‘

’’گھر میں آپ کی تحریروں کو کون کون پسند کرتا ہے۔ کہانی کس کے ساتھ ڈسکس کرتی ہیں؟‘‘

’’کہانی لکھتے وقت میں اور راشدہ ایک دوسرے سے ضرور ڈسکس کرتی ہیں.امی جب تک حیات تھیں ۔بہت خوش ہوتی تھیں ہماری تحریریں پڑھ کر.ابو اور شوہر دونوں پڑھتے تو کم کم ہیں لیکن فخر ضرور کرتے ہیں۔

میرا سسرال چونکہ میرا ددھیال ہی ہے اس لیے سب ہی شوق سے پڑھتے ہیں۔میری خالہ بجو آج بھی بہت ایکسائیٹڈہوکر فون کرتی ہیں، جب بھی رسالے میں میرا اور راشدہ کا نام دیکھتی ہیں۔‘‘

’’آپ مزاج کی کیسی ہیں؟‘‘

’’میں نہایت متحمل مزاج ہوں۔غصہ کم آتا ہے، اگر کبھی آئے تو جلدی اتر جاتا ہے،حقیقت پسند ہوں اور کمپرومائزنگ بھی۔میں بڑے منظم طریقے سے زندگی گزارنے کی قائل ہوں چھٹی کے دن اچھی سی کوکنگ کرتی ہوں،میرے ہاتھ میں ذائقہ ہے۔بے ترتیب گھر نہ تو مجھے پسند ہے نہ میرے بچوں کو، چنانچہ کپڑوں کی الماریوں سے لے کر گھر کے پودوں تک میری توجہ ہر چیز کی طرف ہوتی ہے۔ لیکن کچھ منفی پوائنٹس بھی ہیں۔ کبھی کبھی موڈ سوئنگز بھی ہوتے ہیں۔ جو صرف شوہر کو برداشت کرنے پڑتے ہیں ویسے ہم میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے موڈ سے سوئنگز آسانی سے ہینڈل کرلیتے ہیں۔

مجھے ٹریولنگ کا شوق ہے،شاپنگ بہت شوق سے کرتی ہوں.لیکن اپنے بجٹ کے اندر رہ کر۔ ڈرائیونگ اگرچہ روز کرتی ہوں لیکن بحالت مجبوری، اسکول کے علاوہ اگر شام کو دوبارہ گاڑی نکالنی پڑے تو مصیبت لگتی ہے۔ہاں شوہر اور بچوں کے ساتھ لانگ ڈرائیو بہت پسندہے۔

کچن کے بارے میں آپ کو بتاچکی ہوں کہ کھانا پکانا پسند ہے لیکن چھٹی کے دن۔ باقی دنوں میں ایک ذمہ داری سمجھ کر کرتی ہوں۔ہاں اتوار کو دو تین ڈشز ضرور بناتی ہوں. مینیوپہلے سے سوچ کر رکھتی ہوں.باقی پورے ہفتے کا مینیوفکس ہوتا ہے۔‘‘

’’آج آپ ایک خوش گوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں اللہ تعالیٰ نے شہرت، عزت اور دولت سے بھی نوازرکھا ہے اس کا کریڈٹ کس کو دیں گی؟‘‘

’’میری کامیاب زندگی کے پیچھے دو لوگ ہیں ایک میرے ماں باپ اور دوسرے میرے شوہر ہیں۔میرے ماں باپ نے مجھے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا سیکھایا اور میرے شوہر نے مجھے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے آزادی دی اور اپنا بھرپور ساتھ دیا۔‘‘

’’اپنے میاں صاحب اور بچوں کے بارے میں بھی کچھ بتایئے؟‘‘

’’میرے میاں صاحب کا پور انام محمد معصوم فائق ہے۔ان کی مینو فیکچرنگ فرم اور ویئر ہائوس ہے۔ جہاں انڈسٹریل اسکیل پر مشینری بنائی جاتی ہے.

میرا بیٹا عبداللہ اولیول کررہا ہے۔ بیٹی ’’مشائم‘‘ جس کے نام کا مطلب’’نرم ونازک ‘‘ہے کلاس سکس میں پڑھتی ہے اور چھوٹی بیٹی کا نام’’عنائزہ ‘‘ ہے جس کا مطلب’’سورج کی پہلی کرن‘‘ ہے اور یہ کلاس فور میں ہے۔

لکھنے کی صلاحیت مشائم میں کافی حد تک ہے۔ لیکن جدید نظام تعلیم کی بدولت وہ اردو تحریر میں اتنی رواں نہیں ہے۔البتہ انگریزی زبان میں’’نثر اور نظم‘‘ دونوں میں طبع آزمائی کرتی رہتی ہے۔بیٹا اسکیچنگ اچھی کرتا ہے اور ویڈیو ایڈیٹنگ میں بھی ماہر ہے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی ہم نے بشریٰ احمد صاحبہ سے اجازت چاہی.اس شکریہ کے ساتھ کہ انہوں نے ہمیں وقت دیا۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں