نازیہ کی پہلی ہی تحریر موصول ہوئی تو صاف ستھرا عمدہ کاغذ، بہترین لکھائی اور سطر چھوڑ کر صفحے کی ایک جانب لکھی گئی تحریر نے فوراً متوجہ کرلیا۔ کہانی بھی اچھی تھی، اسی ماہ پرچے میں شائع ہوگئی۔
اس کے بعد نازیہ کی شاید ہی کوئی تحریر ہو جو ناقابل اشاعت کی فہرست میں آئی ہو۔ نازیہ کا انداز بیاں سادہ اور دل نشین اور وہ سنجیدہ مسائل کو بھی اتنے رواں انداز میں لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے کو کوئی الجھن محسوس نہیں ہوتی۔ اب کافی عرصہ سے انہوں نے لکھنا چھوڑ رکھا ہے۔
س:’’نازیہ ! آپ اپنے فیملی بیک گرائونڈ کے بارے میں بتائیے؟‘‘
ج:میرے فیملی بیک گرائونڈ کے بارے میں میری بہن شازیہ نے اتنا تفصیلی اور وضاحت سے لکھا ہے کہ پڑھ کر مزہ آ گیا۔ صرف مجھے ہی نہیں سب کو۔
اپنے والدین کی ساتوں اولادوں میں سے میرا نمبر سب سے پہلا ہے۔ ہم چار بہنیں ہیں چارپائی کے چار مضبوط پائے۔
ہمارا گھرانہ تعلیم یافتہ ، باشعور ، بہترین دینی و سماجی اقدار سے مالا مال ہے۔ میرے والد کی سخاوت اور مہمان نوازی پورے علاقے میں ضرب المثل مانی جاتی ہے۔
رات کا ایک بج رہا ہو کوئی بھولا بھٹکا مسافرکسی بے نوا راہی کو منشی جمال عبدالناصر کے ڈیرے سے پیٹ بھر کر کھانا اور بستر ضرور ملے گا۔ بڑے بڑے رئوسا ، ایم این ایز ، ایم پی ایزکو والد صاحب کے ڈیرے پہ بہترین ضیافتوں سے لطف اندوز ہوتے دیکھا۔ اسی معیار کے کھانے مفلوک الحال فقیروں اور مجذوب ملنگوں کو کھا کر دعائیں دیتے سنا۔
میں دو ہفتے قبل نومبر میں امی کے گھر گئی تو بابر کے خرگوشوں کی ایک بڑی کھیپ تیار ملی۔ سفید ، سرخ ، بھورے خرگوش۔
فیصل بھائی صبح صبح اپنے اصیل ، پالتومرغوں کی سیوا میں لگے رہتے۔ انہی مرغوں میں سے دو مرغوں کی ضیافت میرے لیے آسیہ نے لذیذ ثوبت کی صورت میں تیار کی۔
صبح اٹھی تو ڈیرے سے اٹھ کے سفید اجلا اجلا پپی گھر میں آ گیا۔ جس کا نام میرے بھانجے زین نے ’’بگولہ‘‘ رکھا تھا۔
امی ہنس کر بولیں۔
’’نازی ! بگولے کو تمہاری آمد کی اطلاع مل گئی ہے ۔ تمہارے دیدار کو آگیا ہے ۔‘‘
امی کی بات بجا کہ بگولے کی تیسری نسل ہمارے گھر میں پرورش پا رہی ہے۔ البتہ بطخوں کی جوڑی کی آنکھوں میں میرے لیے اجنبیت تھی اور انداز میں نخوت ،میری دوسالہ پیاری سی بھتیجی دعا فاطمہ جب مجھے وڈی بوا کہتی ہے تو مجھے بڑا مزہ آتا ہے۔ شازیہ کے ’’بٹرکپ‘‘ محمد خان نے سب کو دیوانہ بنا رکھا تھا۔
سرسبزو شاداب پھل دار درختوں کے سائے میں پلتے ، پالتو جانور ، وقتاً فوقتاً کسی مہمان کی آمد پہ خاطر داری کی مصروفیت۔
امی کا وسیع و عریض صحن ،اب پورشنز میں تقسیم ہو چکا ہے۔ مگر امی ابو کے بابرکت وجود کی بدولت گھر میں وہی محبت ، بے تکلفی اور خلوص کی فضا قائم ہے۔ جس میں ، میں پلی بڑھی۔ ‘‘
سـ:’’آپ کی شادی کب ہوئی اور بچے کتنے ہیں؟‘‘
ج:آج سے پندرہ سال قبل ، جب عمر عزیز نے دو دہائیاں مکمل کیں تو میرے والدین نے ہر اچھے اور ذمہ دار والدین کی طرح مجھے وداع کرنے کا ارادہ کیا۔ انتخاب مرحومہ دادی جان کے عزیز ٹھہرے۔
نصیب ایک ان دیکھی دیوار ہوتی ہے اور پہیلی جسے روز اول سے کوئی انسان بوجھ نہیں پایا ہے۔
بے جوڑ بندھن ڈھیلے ہی بندھتے ہیں۔ تعلیم کی کمی ، شعور کا فقدان ، گھر میں رچی پست ذہنیت ۔ یوں یہ رشتہ سال بھر میں ہی ختم ہو گیا۔
دھانی سائے سیاہ رنگ میں ڈھل گئے اور گلابی دوپہروں میں زردی گھل گئی تھی۔ ’’زردموسم ‘‘ کی ایمن کا گھر اجڑنے پر میری امی ہفتہ بھر روئی تھیں تو بیٹی کے غم نے ان پہ کیا قیامت ڈھائی ہو گی۔ اہل درد اندازہ کر سکتے ہیں۔
جب میں اپنی زندگی کی بدترین ذہنی ابتری کا شکار تھی ،تب میرے مہربان اور شفیق والدین نے مجھے اپنے لطف و کرم کی ٹھنڈی چھائوں میں سمیٹ لیا تھا۔ انہوں نے مجھے اپنے رویے سے ایک دن بھی باور نہیں کرایا تھا کہ میں کسی ’’زلزلے‘‘ کے ملبے میں دب گئی ہوں یا اس گھر میں ’’بھونچال‘‘ کی ساعت بھی گزری ہے ،کبھی میرے والد مجھے روز مضبوطی اور بہادری کا ایک سبق پڑھاتے تھے۔ ان کی دعائوں ، محبتوں اور خصوصی توجہ کی بدولت بہت جلد ایک نارمل زندگی کی جانب لوٹ آئی۔ ان کی شفقتوں کی مقروض ہوں میں اور عنایتوں پہ شکر گزار۔
اللہ تعالیٰ میرے والدین کو ایک لمبی صحت اور ایمان والی زندگی عطا فرمائے۔ اور ان کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پہ قائم رکھے۔ آمین
ابھی سال ہی گزرا تھا اس ’’سانحے ‘‘ کو کہ کاتب تقدیر نے ایک اور قیامت ہم پہ ڈھادی۔ جی ہاں ، قیامت صغریٰ۔ آسمان کی نیلاہٹ پہ ایک دم سے چھاتی سرخی دیکھ کے ہم سب دھک رہ گئے تھے۔
شازیہ کی مایوں والے دن ہماری پیاری خالہ جان فرحت النسائ اپنے تین بچوں کے ساتھ ایک ٹریفک حادثے میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئیں۔
ہمارا شہزادوں سی آن بان رکھنے والا گبھروسجیلا بھائی ملک خاور عباس جس کی شادی پہ ہم نے ’’ اتن ‘‘ ڈانس کرنے کا پروگرام بنا رکھا تھا ۔ہماری دودھ مکھن سے بنی ڈاکٹر مہرالنسائ جو میڈیکل کی تعلیم مکمل کر کے شادی میں شرکت کے لیے آ رہی تھی۔
اور ہم سب کی ہر دل عزیز مصنفہ فرحانہ ناز ملک جنہیں ہم پہار سے بے بی باجی بلاتے تھے ،چاروں ایک ہی مقام پر ایک ہی لمحے میں ہم سب کو داغ مفارقت دے گئے۔
شازیہ کی شادی درد و اذیت کی گھڑی میں بدل گئی تھی۔
نوبرس بیت چکے ہیں۔ مگر ان چاروں کے جانے کا غم آنسو بن کر ہمارے آنکھوں سے بہتا رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ میری خالہ جان اور ان کے بچوں کو جوار خاص میں جگہ دے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ (آمین)
آ پھر شروع سے شروع کریں
آ پھر تجھے میں اپنا نام بتائوں
جنوری 2018ئ میں ،میں نے ازدواجی زندگی کا ایک نیا سفر شروع کیا۔ جو بہت مبارک ، سہل اور خوشیوں بھرا ثابت ہوا میرے لیے۔ الحمدللہ۔
صاحب پہلے فرحانہ ناز ملک کے شوہر نام دار تھے۔ پھر وقت کی الٹ پھیر اور تقدیر کے فیصلوں نے انہیں میرا ہم سفر بنا دیا۔
فرحانہ باجی ان کی رفاقت میں فرحان رہتی تھیں تو میں ان کی ہمراہی پہ نازاں .
میرے شوہر ملک بشیر احمد ایک انتہائی مہذب متحمل مزاج اور متوازن شخصیت کے مالک انسان ہیں۔ ٹھنڈے پانیوں جیسا پرسکون مزاج ہے ان کا اورمیں قدرے پارہ صفت عورت ۔ تندی اوردھیمے پن کا یہ امتزاج وقت پہ بڑے خوب صورت نقوش چھوڑ رہا ہے۔
کرن کی مدیرہ روبینہ شریف نے ایک بارکہا تھا۔
’’تمہارے شوہرکتنے لکی انسان ہیں جنہیں دورائٹرزبیویاں نصیب میں ملی ہیں۔ ورنہ کسی کوتوایک بھی نہیں ملتی۔‘‘ اورمیں ہنستے ہوئے انہیں اکثریہ بات جتاتی رہتی ہوں۔
میری طرح یہ بھی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ہیں۔ اس لیے ہماری روٹین میں مطابقت پائی جاتی ہے۔ اورکمال کی ذہنی ہم آہنگی۔ الحمد اللہ میں اپنی رب کریم کی بہت شکرگزار ہوں جس نے میرے صبر کا انعام ایک بہترین شریک حیات کی صورت میں دیا۔
یہ شعر میرے اسٹیٹس کی زینت بنا میرے جذبات کی خوب ترجمانی کرتا رہتا ہے۔
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
میرے نصیب کی ساری محبتیں میرے شوہر نے مجھ پہ نچھاور کی ہیں۔
میں صاحب اولاد نہیں ہوں مگر فرحانہ باجی کے تینوں بچے میری ممتا کی تسکین کا بخوبی سامان بنے ہوئے ہیں۔
بڑا بیٹا دانیال کا اپنی مما کے ساتھ شدید ایکسی ڈینٹ ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور تمام چاہنے والوں کی خصوصی دعائوں سے بہت جلد روبہ صحت ہو کر اس وقت دیار غیر میں میڈیکل کی تعلیم کے حصول کے سلسلے میں مقیم ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ طب کے میدان میں کامیابی کے اونچے اونچے جھنڈے گاڑے۔ (آمین)‘‘
س:’’سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہیں؟ سوشل میڈیا پہ آپ کا انتخاب ؟‘‘
ج:آج کل کے دور میں سوشل میڈیا کا استعمال ناگزیر ہے۔ اگر بندر ’’ادراں ‘‘ رکھے تو اس ’’ادرک‘‘ میں کافی مزہ ہے۔ میرے خیال میں اگر آپ شور سے بچنے کے لیے دروازہ بند کرتے ہیں تو روشنی بھی اندر نہیں آ سکے گی۔ میں اپنی جاب کے حوالے سے ’’نئی تازی‘‘ سوشل میڈیا سے لیتی ر ہتی ہوں۔دوسرا کوکنگ اور کپڑوں کی ڈیزائننگ کے لیے دوسروں کے ہنر سے مستفید ہونے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتی ۔
س:’’ٹی وی پہ لکھنے کا ارادہ ہے ؟‘‘
ج:ٹی وی پہ لکھنا تو درکنار میں ٹی وی دیکھتی ہی کم ہوں۔ ٹی وی امی کے گھرخوب دیکھا اور لڑجھگڑکے دیکھا۔ ایک ٹی وی ریموٹ پہ جھپٹنے والے کئی ہاتھ .سعدیہ کوانڈین سوپ ڈرامے پسند تھے۔ تو آسیہ کوکرکٹ میچ اورانگلش موویز دیکھنے کا کریز تھا۔ شازیہ پاکستانی ڈراموں کی شوقین اورمجھے نیوزچینلزاورسیاسی حالات پہ تجزیہ کاروں کے لمبے لمبے تبصرے۔
فیصل بھائی جان انڈین ایکشن موویزکے دیوانے ،بس ایک انار اور سوبیمار والی صورت حال ہو جاتی تھی۔
تنازعہ زیادہ بڑھتا تو باہرچھت پہ جا کے کیبل کا کنکشن ہی الگ کر ڈالتا، ادھر ہم مزاہ کرکرا ہونے پرکیبل والوں کوجی بھرکرکوستے۔ باہر کی کارستانی کا پول اگلے دن کھل جاتا تھا۔
عمیرہ احمد ، فرحت اشتیاق کے ناولز پہ مبنی ڈرامے میں بہت شوق سے دیکھتی تھی۔ اب موبائل نے ٹی وی کے اچھے متبادل کی جگہ لے لی ہے۔ مگر وہ گزرا ہوا وقت واپس نہیں آ سکتا جب آسیہ ،افہام و تفہیم سے وقفے کے دوران سب کواپنا من پسند چینل دیکھنے کا سیٹ اپ بنا لیتی تھی۔
میری یہ خواہش ضرور ہے کہ شازیہ ٹی وی پہ کچھ لکھے۔ اسکرین پہ اس کا نام ہو۔
سـ:’’تعلیم اور روزمرہ کی مصروفیات کے بارے میں بتائیں؟‘‘
ج:میری تعلیم الحمد اللہ اتنی ہے کہ گورنمنٹ اسکول میں تدریسی فرائض سر انجام دے رہی ہوں۔ میرا اسکول ڈی جی خان سے بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ جاب کے حوالے سے میری صبح بہت جلدی ہوتی ہے۔ نماز کے وقت ناشتے کے بعد اسکول وین مجھے لینے آجاتی ہے۔ میرا پیشہ میری عبادت ہے۔ میں نے اپنی سہولت کے لیے ایک جزوقتی ملازمہ بھی رکھی ہوئی ہے مگر مجھے گھر کے کام ،اپنے ہاتھوں سے انجام دینا اچھا لگتا ہے۔ میرے شوہر کو میرے ہاتھ کی بنی چائے پسند ہے۔
فارغ وقت میں ،بہنوں کے ساتھ دن بھر کی روداد گروپ میں شیئر کرتی ہوں۔
جاب کا آدھے گھنٹے کا سفرمیرے لیے ہرگزتھکاوٹ کا سبب نہیں بنتا کیونکہ ٹیچنگ ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ہماری امی ریٹائرڈ ٹیچر ہیں۔ ہم چاروں بہنوں نے شادی سے قبل شہر کے بہترین پرائیویٹ اسکولز میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ گھر پہ ایک ٹیوشن سینٹر بھی کامیابی سے چلایا۔گھرکے چاروں کونوں میں پڑھاتی ،چار باجیاں اوراردگرد بچوں کا ہجوم یہ مکمل منظر اب بھی ذہن کے پردے پہ بلنک کرجاتا ہے۔
سعدیہ اپنی شادی کے بعد اس سینٹر گھرجہیز میں لے گئی کہ ہم بہنوں کا زیورگہنوں کے بغیرگزارہ توہوسکتا ہے مگرکوئی ایسا دن آئے ،جس دن کوئی بچہ ہم سے نہ پڑھ پائے، خدا نہ کرے۔ علم عبادت تو درس گاہ کا مقام .؟
اب سعدیہ کاگھرکم سن آوازوں سے بھرا رہتا ہے۔ دیے سے دیا جلانا ہے۔
لکھنا پڑھنا۔
میرا اور شازیہ کا لکھنا، بلکہ چاروں بہنوں کا ڈائجسٹ پڑھنا سب ہمارے گھرکے ’’علم دوست‘‘ ماحول کی مرہون منت ہے ،جو یقینا ہمارے تعلیم یافتہ روشن خیال ماں باپ کا عنایت کردہ تھا۔
دادا اور نانا جان مرحومین اخبار بینی کے عادی، گھر میں تمام معیاری اخبارات اور ہفت روزے باقاعدگی سے آتے تھے۔ امی اور خالائیں ڈائجسٹوں کی رسیا . ایسے میں ہم بہنوں کا ڈائجسٹ پڑھنا یا لکھنے کے لیے قلم اٹھانا کچھ اچنبھے کی بات نہیں۔ گھر کے علم پرور ماحول اور والدین کی حوصلہ افزائی کی بدولت ،ہم جمال سسٹرز کے نام معیاری پرچوں کی زینت بنے۔
جب میرے خاندان کی خواندہ و نیم خواندہ مائیں ،اپنی بیٹیوں کے ساتھ اسٹارپلس کے ڈھائیں ڈھائیں اور سازشوں سے بھرپور ڈراموں سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ عین اسی وقت ہم ماں بیٹیوں میں اس بات پہ شرط لگی ہوئی تھی کہ زرد موسم میں ’’طا‘‘ کی پہیلی طارق سے حل ہو گی یا طاہر سے۔
شوق کا یہ عالم، بڑی خالہ شمع (شازیہ کی ساس)کے گھر سے رسالہ آیا جو فارغ تھی جھپٹ کر رسالہ پڑھنے بیٹھ گئی۔ اگر اتفاق سے کوئی دو ہی فارغ ہوں تو اس کا یہ حل کہ چارپائی پہ بیٹھ کے ٹانگیں لٹکائے مشترکہ جڑے گھٹنے پہ رکھ کر رسالہ پڑھا جاتا۔ با آواز بلند تبصرے کھی کھی کھی ،آسیہ کی دہائی۔
’’خبردارکسی قسط کا تجسس خراب مت کرو۔ ہمارا پڑھنے میں مزہ خراب ہوجائے گا۔‘‘
س:’’لکھنے کا آغازکب کیا؟‘‘
ج:میں نے ایک قول پڑھا تھا۔ ’’پڑھو، پڑھو اورخوب پڑھواورجب ابلنے لگ جائوتب لکھو۔ میں ابلی تونہیں البتہ تھوڑی بہت چھلکی تھی۔ خواتین شعاع اورکرن کے مستقل سلسلوں میں شرکت کی صورت۔‘‘
میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں میں خاندان کی وہ واحد لڑکی تھی ،جس نے بلا جھجک نو عمری میں معیاری رسالے پڑھے اور ڈٹ کر دوسروں کو پڑھنے کی ترغیب دلائی۔ کم فہم عزیزوں کے حوصلہ شکن جملے سنے، تمسخرانہ ، مشکوک نگاہوں کا سامنا کیا۔
س:’’تم اتنی عمر میں رسالے پڑھتی ہو؟ پھر تم اسکول کا بستہ پڑھ چکیں؟‘‘
ج:’’اچھا اگر پڑھتی بھی ہو تو اتنا دھڑلے سے بتانے کی کیا ضرورت ہے؟ چھپ کے پڑھ لیا کرو۔‘‘ ہمدردانہ مشورہ خیر خواہی سے گندھا ہوا۔
’’چھپ کرکیوں؟‘‘خود کو اس تربیت سازی کے مکتب کا طفل مان چکی تھی۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ مائوں نے ان بہترین رسالوں کو اپنی بیٹیوں کے لیے شجرممنوعہ کیوں بنا رکھا تھا۔ تعلیم اور شعو رکی کمی ، زندگی کی سب سے بڑی کمی ہوتی ہے۔ ‘‘
س:’’پہلی تحریر کب شائع ہوئی؟‘‘
ج:’’میرا پہلا افسانہ 2008ئ میں کرن میں شائع ہوا تھا۔ اعزازیہ پانچ سو ملا تھا۔ جو اس وقت دنیا کی بہت بڑی دولت معلوم ہوتی تھی۔ بہت پذیرائی ملی تھی۔ ہمارا لکھنا امی کے لیے فخر و انبساط کا سبب بنا تو میں اگلے دس سال تک لکھتی گئی۔ پہچان کا ایک دروازہ مجھ پہ کھلا تھا۔ زندگی ایک اچھوتے سرور سے آشنا ہوئی۔ کتاب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ تھی۔‘‘
س:ـ’’وسیع حلقہ قارئین ملا؟‘‘
ج:’’وہ نام ، پہچان اور تعارف ،گزری زندگی کا اہم اور روشن ترین باب ہے۔ جوکتاب زندگی میں خواتین کے توسط سے شامل ہوا۔ شکریہ خواتین ڈائجسٹ ۔‘‘
س:’’لکھنے کا محرک کیا بنا ؟‘‘
ج:’’لکھنے کا محرک کچھ بھی ہوسکتاہے۔ آپ کے ذاتی جذبات، احساسات ، کوئی واقعہ یا اچھوتا خیال۔‘‘
امی کے گھرجہاں تنہائی ملی، لکھ لیتی تھی۔ زردپھول گراتے دھریک کے درخت کے نیچے درجنوں افسانے لکھے۔ لکھنے میں اتنی مگن ہوتی تھی کہ میرے لکھنے کا ساتھ پڑا سامان پیلے پھولوں سے اٹ جاتا تھا۔ اور ساتھ میں چائے کا کپ چسکیاں لیتے ہوئے، قلم چلتا رہتا، نرمی سے گرتے پھولوں سے بھرے کپ کو دیکھنا بھی میرے لیے قلم میں روانی کا سبب بنتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے نیچے آرام سے اترتے پیلے پھول نہیں۔ بلکہ میری تحریرکے جملے ہوں جنہیں میں کاغذ پہ اتارتی جاتی تھی۔
س:ـ’’شادی کے بعد نام میں تبدیلی نہیں کی ؟‘‘
ج:ـ’’میں نے شادی کے بعد کچھ ایسا خاص نہیں لکھا۔ اس لیے اپنے نام میں تبدیلی کی نوبت نہ آ سکی۔ البتہ شازیہ نے ابو کے نام کے آگے اپنے شوہرکا نام بہت خوب صورتی سے سیٹ کر دیا ہے۔ مجھے اپنا نام بے حد مکمل لگتا ہے۔ نازیہ جمال ، اسی نام سے مجھے پہچان ملی۔ یہ نام بڑا بابرکت ہے میرے لیے۔‘‘
سـ:’’آپ کا مزاج کیسا ہے ؟ غصہ آتا ہے ؟‘‘
ج:میرا مزاج بہت سادہ ہے۔ میں ہر بات تقریباً ہر معاملے میں خیرکا پہلو ڈھونڈنے والی بندی ہوں۔ ہمدردی واپنائیت میری نمایاں خوبیاں ہیں۔ ہرکام توجہ اور محبت سے کرتی ہوں۔
مجھے دل کے چھوٹے اور تنگ نظر لوگ بہت برے لگتے ہیں۔ دل کی بہت فیاض ہوں۔ ہاتھ کی کھلی اور ہرعادت مجھے اپنے ابو سے ورثے میں ملی ہے۔
ہم نے اپنے والدکوحضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول پہ ہمیشہ کار بند پایا۔’’ رزق سخاوت میں پوشیدہ ہے ۔ جبکہ تم اسے محنت میں تلاش کرتے ہو۔‘‘ بہت اچھی راز دارہوں۔ اس معاملے میں ’’یارم‘‘ کے کردار ’’سائی ‘‘ سے بھی بہت آگے کی چیز ہوں۔ ‘‘
’’اپنی پرسکون اورآسودہ زندگی کا صدقہ مٹھی بھرکے دیتی رہتی ہوں۔ ‘‘
س:’’موجودہ حالات کے حوالے سے کیا کہیں گی؟‘‘
ج:ملکی حوالے سے جوتبدیلیاں رونما ہوتی ہیں انہوں نے دل و دماغ کو افسردگی سے بوجھل کردیا ہے۔ جس شعبے میں جھانکیں، آنکھیں بھر آتی ہیں۔ ایک تو موسمی اسموگ ، اوپر سے یاس و نا امیدی کی کثیف فضا نے جیسے سانس لینا دوبھرکردیا ہے۔
گھرکے پاس آٹا تقسیم کے دوران بھگدڑ مچنے سے کئی افرادکچلے گئے۔ بجلی کے بل اتنے زیادہ آئے ہیں کہ ہم تنخواہ دار طبقے کی جوچیخیں نکلی ہیں سونکلی ہیں جو مزدور اور دیہاڑی دار طبقے پہ مہنگائی کا قہر ٹوٹا ہے ، سمجھیں دل خون کے آنسو روتا ہے۔
کلاس کی ایک بچی کے کانوں سے سونے کی بالیاں غائب تھیں۔ پوچھنے پہ بتایا بجلی کا بل بھرنے کے لیے ابا نے بیچ دیں۔
ـ’’اے غربت تیکوں چیرگھتاں؟‘‘
ـ’’بس رب کریم سے دعا ہے کہ آنے والا ہر سال ہمارے ملک کے لیے امن و ترقی کا سال ثابت ہو۔‘‘
آخر میں شاہین کا بے حد شکریہ جنہوں نے بے حد قیمتی صفحات پہ مجھے کچھ لکھنے کا موقع فراہم کیا۔ سات سال بعد میرا کاغذ اور قلم سے ناتا جوڑا۔
اورپیاری امتل کے لیے ڈھیروں دعائیں اور پیار ۔ اس درخواست کے ساتھ مجھے یہ پرچہ اس پتے پر مل جائے گا۔ میں یہ پرچہ سنبھال کے رکھوں گی۔ (صرف اپنے انٹرویو والا پرچہ )
٭٭


