مجھے اس وقت بہت حیرت ہوتی ہے جب کسی سے سوال کیا جائے کہ آپ کب سے رسالے پڑھ رہی ہیں تو جواب یہ آتا ہے کہ کم عمری سے پڑھ رہے ہیں مگر گھر والوں سے چھپ کر کیونکہ گھر والے پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ مجھے حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب ان رسالوں کی تحریروں پر ڈرامے بنتے ہیں اور مختلف چینلز پر آتے ہیں تو پورا گھر بڑے ذوق و شوق سے دیکھتا ہے اور تعریفیں بھی ہوتی ہیں۔ اس وقت تمام چینلز پر جو ڈرامے آرہے ہیں، وہ ادارہ خواتین ڈائجسٹ کی رائٹرز لکھ رہی ہیں۔
دراصل جو لوگ ان رسالوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہیں، انہیں یہ علم ہی نہیں کہ ان رسالوں میں کس قسم کی تحریریں شائع ہوتی ہیں اور وہ عملی زندگی میں لڑکیوں کے لیے کتنی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ان رسالوں میں جو تحریریں شائع ہوتی ہیں وہ لڑکیوں کو شعور و آگہی دیتی ہیں اور مثبت سمت کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔
افسانہ یا ناول لکھنا تخلیقی کام ہے اور قدرت یہ صلاحیت کسی کسی کو ودیعت کرتی ہے۔ دیگر شعبوں کی طرح تخلیق کے میدان میں بھی خواتین نے خود کو منوالیا ہے۔
عفت سحر طاہر کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کے کئی ناولز، بے شمار افسانے اور ناولٹ شائع ہوکر مقبولیت کی سند حاصل کرچکے ہیں۔
عفت سحر طاہر کا انداز بیاں بہت سادہ اور فطری ہے۔ ان کے کردار اسی دنیا کے باسی ہوتے ہیں۔ وہ بہت خوب صورت اور با محاورہ نثر لکھتی ہیں۔ ان کی تحریریں گنجلک نہیں ہوتیں نہ ہی وہ دقیق اور فلسفیانہ زبان لکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا شمار قارئین کی پسندیدہ ترین مصنفین میں ہوتا ہے۔
اس بار ہم آپ کی ملاقات عفت سحر طاہر سے کروارہے ہیں۔
’’جی. عفت! کیا حال ہیں؟‘‘
’’اللہ کا شکر ہے۔‘‘
’’آپ کا نام کچھ زیادہ بڑا نہیں ہے ؟‘‘
’’اس کا بیک گرائونڈ کچھ یوں ہے کہ میری دوست شہر بانو کی ایک دوست تھی اس کا نام ’’سحر‘‘ تھا اور سحر سننے میں مجھے اتنا اچھا لگتا تھا کہ میں نے اپنی کاپیوں پر اپنا نام ’’عفت سحر پاشا‘‘ لکھنا شروع کردیا۔ شادی کے بعد ’’عفت طاہر‘‘ کرنا چاہا مگر امتل نے کہا کہ اسے ایک دم سے چینج مت کرو، لوگوں کو پہچاننے میں دقت ہوگی پھر آہستہ آہستہ تبدیلی لانی پڑی اور میں نے ’’عفت سحر طاہر‘‘ لکھنا شروع کردیا۔ اس طرح ’’سحر‘‘ میرے نام کا حصہ میرے ساتھ ساتھ ہے۔ سحر نام نے مجھے اس وقت متاثر کیا جب میں آٹھویں کی طالبہ تھی۔‘‘
’’ہوں. اچھا. اپنا فیملی بیک گرائونڈ بتایئے؟‘‘
’’ ابو کا تعلق پشاور سے تھا اور امی کا گجرات سے۔ شادی کے چند سال بعد دادا ابو کے ساتھ یہ لوگ بھی گجرات آگئے یعنی والدین اور بچے۔ میرے چار بہن بھائی پشاور میں پیدا ہوئے جبکہ میں گجرات میں۔ کاش میں بھی پشاور میں پیدا ہوتی توپٹھانی ہوتی۔ حق ہاہ.
مجھے زیادہ تو نہیں مگر دھندلا دھندلا سا یاد ہے کہ جب میں فورتھ کلاس میں تھی تو میرے ابو کا اچانک انتقال ہوگیا۔ میرا بڑا بھائی تقریباً سولہ سال کا تھا، نہ چچا، نہ تایا، نہ ماموں. دادا ابو ہمارے لیے مشفق چھائوں بن گئے۔ وہ خود بھی دکھ سے چھلنی سینہ لیے ہوئے تھے کہ ان کے آٹھ بچوں میں سے صرف میرے ابو کو اللہ نے زندگی دی۔ میری دادی میرے ابو کے بچپن میں ہی فوت ہوگئی تھیں۔
دادا جان نے ابو کو بڑے نازو نعم سے پالا، مگر محض پینتالیس سال کی عمر میں میرے ابو چل بسے، تو آپ میرے دادا ابو کے غم کا اندازہ کرسکتے ہیں۔مگر پھر بھی انہوں نے ہم سب کو باپ بن کرپالا۔‘‘
’’بچپن کیسا گزرا؟ کہانیاں لکھنے والوں کا بچپن دیگر بچوں سے مختلف ہوتا ہے۔ کیا ایسا ہی تھا؟‘‘
’’جی ایسا ہی تھا. چونکہ بچپن دادا کے ساتھ گزرا تو پہلی کہانی انہوں نے ہی بَننا سکھائی مجھے۔ سردیوں کی راتوں میں بستر پر رضائیوں کا گھر، اس کے دائرے میں بٹھا کر وہ ’’علی بابا، الٰہ دین کا چراغ‘‘ اور ڈھیر ساری کہانیاں روزانہ سنایا کرتے تھے۔ مجھے لیٹتے ہی فوراً نیند نہیں آتی تھی اور اب تک یہی حال ہے کہ سونے سے پہلے ذہن کسی نہ کسی کہانی کو بَنتا رہتا ہے۔ بچپن میں بھی پوری کہانی فلم کی طرح چلاتے ہوئے نہ جانے کب نیند آجایا کرتی تھی۔ کہانیاں بَنتے بَنتے مطالعہ کا شوق ہوا او رپانچویں جماعت میں جانے تک گھر میں آنے والا اخبار جہاں، جاسوسی ڈائجسٹ اور دیگر چیزیں پڑھنا شروع کردی تھیں۔ چاہے زیادہ سمجھ میں باتیں یا تحریریں نہیں آتی تھیں مگر پڑھنے کا چسکا لگ گیا تھا۔‘‘
’’لکھنے کا ادراک یا شوق کب ہوا؟‘‘
’’لکھنے کا شوق نویں اور دسویں جماعت میں آکر یوں ہوا کہ ہر کاپی اور ہر کتاب مختلف کوٹیشنز اور شعروں سے بھرجاتی تھی۔ پین ہاتھ میں آتے ہی میرا ہاتھ لکھنے کو بے چین ہوجایا کرتا تھا۔ شاعری بھی کرلیتی تھی اور ایک رجسٹر بھی شاعری کا بھرچکی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ اب اس شاعری کو پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ ویسے ٹوٹی پھوٹی شاعری میں ابھی بھی کرلیتی ہوں، تو جب ہاتھ میں پین آتا تھا تو یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ لکھنا کیا ہے۔ میٹرک میں اور میری دوستیں خواتین، شعاع، جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ لیا کرتی تھیں۔
پھر میں نے شعاع اور دوسری ڈائجسٹوں میں تبصرے لکھ کر بھیجنا شروع کردیئے۔ کالج تک پہنچتے پہنچتے ذہن کہانیاں بنانا شروع ہوچکا تھا۔ ایف اے تک میں کئی افسانے اور ایک آدھ ناول لکھ کر اپنے گدے کے نیچے جمع کرچکی تھی۔گھر والے سمجھتے تھے کہ میں کالج کے نوٹس لکھ رہی ہوں۔ آپ کو بتائوں کہ میں اس زمانے میں بے حد شرمیلی اور اپنی فیلنگز کسی پر ظاہر نہ کرنے والی اور ناکامیوں سے ڈرنے والی لڑکی تھی۔
میں اپنے خاندان کی واحد لڑکی تھی جو ’’بی اے‘‘ کررہی تھی، جب کہ ہمارے خاندان کی دیگر لڑکیوں کی ایف اے اور میٹرک کے بعد شادیاں ہوجاتی تھیں۔ خاندان میں دور دور تک کسی کو ’’ادب‘‘ سے کوئی لگائو نہیں تھا۔ خواتین ڈائجسٹ کے ادارے میں اس وقت رفعت سراج ، ہما کوکب بخاری، فریدہ اشفاق اور غزالہ نگار اورکزئی جیسی رائٹرز کا طوطی بولتا تھا، تو سچ بتائوں کہ ہمت ہی نہیں پڑتی تھی ان کے درمیان آدھمکنے کی۔‘‘
’’کوئی ایسا رائٹر جس کی تحریر آپ کو بہت متاثر کرتی تھی؟‘‘
’’جی. میں اسلم راہی انکل کی تحریروں سے بہت متاثر تھی۔ لکھنے کی تحریک ایک رائٹر کو سامنے رکھ کر ہی ملتی ہے۔ میں ان کے ناول بہت شوق سے پڑھا کرتی تھی۔ ان کے تاریخی ناولز مجھے بہت متاثر کرتے تھے۔ وہ میرے لکھنے کے شوق سے بھی واقف تھے اور مجھے اکثر کہا کرتے کہ جنون کو فنون بنالو۔ اچھا میں آپ کو یہ بتائوں کہ اسلم راہی انکل میری دوست شہر بانو کے پھوپھا ہیں اور میرا سارا بچپن ان کے ساتھ گزرا ہے۔ ہمارے تعلقات رشتے داروں جیسے ہیں۔ پہلے وہ کراچی میں رہتے تھے، پھر گجرات میں کئی سال رہے اور آج کل لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔‘‘
’’ڈائجسٹ تک رسائی کیسے ہوئی؟ پہلا افسانہ کس ڈائجسٹ میں چھپا؟‘‘
’’میں مختلف ڈائجسٹوں میں جب نو آموز رائٹرز کے افسانے پڑھا کرتی تھی تو (معذرت کے ساتھ) میں ان کو پڑھ کر سوچا کرتی تھی کہ ان سے اچھا تو میں لکھ لیتی ہوں یا لکھ سکتی ہوں۔ تو بس یہی سوچ کر میں نے پہلا افسانہ لکھا اور بہن کے ہاتھ محلے کے ایک معتبر صاحب جو کہ ڈاک خانے میںہی ملازم تھے، ان کوبھیجا کہ وہ ایک پرچے میں پوسٹ کردیں۔ انہوں نے بہ مشکل رجسٹر ی کروایا۔
خیر افسانہ چلا گیا اور میرا انتظار شروع ہوگیا۔ ایک ماہ گزرا، پھر دو ماہ گزر گئے۔ مگر تحریر نہ لگی تو میں مایوس ہوگئی کہ اتنی دیر تو نہیں ہوسکتی، یقینا ردی کی ٹوکری میں چلا گیا۔ مگر تیسرے مہینے باجی نے رسالا کھولا اور ایک دم سے بولیں۔
’’عفت تمہارا افسانہ چھپا ہے‘‘ تو یقین کریں کہ خوشی اور بے یقینی کے مارے ’’گنگ‘‘ رہ جانے والی کیفیت تھی میری. اور بہن افسانہ پڑھتی جارہی تھیں اور پوچھ بھی رہی تھیں کہ ’’یہ تم نے کب لکھا اور کب بھیجا تھا۔‘‘
’’اور وہ جو گدے کے نیچے چھپا کے رکھے ہوئے تھے تو وہ چھپے؟‘‘
’’جی بالکل شائع ہوئیں اور وہ تمام تحریریں اس پرچے میں ہی شائع ہوئیں۔ میں نے تقریباً سات سال وہاں لکھا اور اس کے بعد صرف شعاع اور خواتین ڈائجسٹ میں لکھا اور اللہ کا شکر ہے کہ جو لکھا وہ سب چھپا اور میں یہاں اپنے بھائی ارشد اور بھانجے احتشام کا ذکر ضرور کروں گی جو میرے لیے بڑی سخت ڈیوٹی دیتے تھے یعنی پیپرز لاکر دینا، بال پوائنٹس لاکر دینا، ڈاک کے لفافے لانا اور پھر سردی گرمی کسی موسم کا لحاظ کیے بغیر میری تحریریں پوسٹ کرکے آنا اور ماتھے پر شکن بھی نہ لانا. واہ! کیا بات تھی دونوں کی۔‘‘
’’لکھنے کا معاوضہ اور کتابی شکل میں جو تحریریں آئیں ان کی رائیلٹی ملتی تھی؟‘‘
’’الحمداللہ۔ پہلے افسانے سے ہی معاوضہ ملنا شروع ہوگیا اور جب پہلے افسانے کا معاوضہ ملا تو میں حیران و پریشان تھی کہ ’’کیا لکھنے کے بھی پیسے ملتے ہیں؟‘‘ میرے لکھنے کا اوُلین مقصد اپنی سوچ اور خیالات کو ایک باقاعدہ شکل دینا تھا۔ پیسہ تو ذہنی آسودگی کے بعد آتا تھا، لیکن پیسہ کسے نہیں چاہیے ہوتا۔ جب ملنا شروع ہوا تو اپنی بہت سی ضروریات اپنے ہی پیسوں سے پوری کرنے لگی، جس کا الگ ہی مزا آنے لگا۔
اکتوبر 98ئ میں پہلے افسانے سے میری تحریر کا سفر شروع ہوا اور ہاں ایک دلچسپ او ر مزے کی بات بتائوں، یہ بات آج تک میں نے کسی سے شیئر نہیں کی کہ. ہر ادارے کے بارہا کہنے کے باوجود کہ پہلے افسانہ بھیجیں پھر کچھ اور. میں نے خواتین ڈائجسٹ میں پہلے ایک مکمل ناول بھیج دیا اور دم سادھ کربیٹھ گئی۔ اللہ جانے انہیں ملا یا نہیں، مگر نہ وہ ناول لگا اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی بات ہوئی۔ وہ مکمل ناول بعد میں ایک اور رسالے میں’’اعتبار کا موسم‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور بہت سراہا گیا۔ میں نے وہاں دو قسط وار ناول لکھے۔ سبز رتوں کی جھیل میں‘‘ اور دوسرا ’’محبت دل پہ دستک‘‘ اور میرے لیے فخر کی بات تو یہ ہے کہ یہ ناول پاکستان کے علاوہ انڈیا کے قارئین میں بھی میری پہچان بنا اور اب تک اس کے پانچ ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
گھر میں میری شادی کا سلسلہ چل رہا تھا تو میں نے مارچ 2005ئ میں خواتین ڈائجسٹ کے تمام رولز کو فالو کرتے ہوئی شرافت سے انٹری کا سوچا اور اور ’’ازمیر‘‘ سیریز کا پہلا افسانہ لکھ کر بھیج دیا۔ تب کافی خود اعتمادی بھی آچکی تھی کہ ’’ہاں میں اس ادارے میں لکھ سکتی ہوں‘‘ اور اپریل 2005ئ میں نہ صرف وہ افسانہ شائع ہوا بلکہ ایک شام جب میں اپنی بارات کا لہنگا پہن کر فٹنگ چیک کررہی تھی کہ امتل کی کال. اف. کوئی اندازہ لگاسکتا ہے میری خوشی کا۔
امتل نے نہ صرف افسانے کی تعریف کی بلکہ مزید کچھ لکھ کر بھیجنے کو بھی کہا، تو میں نے انہیں بتایا کہ میری تو شادی ہورہی ہے. لیکن امتل نے پھر بھی اصرار کیا کہ شادی کے بعد بھی ضرور لکھنا اور آج تک امتل کایہ کہنا ہے کہ عفت جب ازمیر بٹ کا افسانہ آتا ہے تو میں ساری تحریریں چھوڑ کر یہ پہلے پڑھتی ہوں۔ یقین کریں سیروں خون بڑھتا ہے میرا۔
خیر. پھر میری شادی ہوگئی۔ ایک ایسے بندے کے ساتھ جس کی نہ میں نے تصویر دیکھی اور نہ اس نے میری تصویر دیکھی. لیکن الحمداللہ! اللہ پاک کا کرم ہوا اور ایک بڑا پیارا، انتہائی نرم خو، مہذب اور محبت کے ساتھ ساتھ عزت کرنے والا شخص میرا شریک سفر بنا جس پر میں اللہ تعالیٰ کی انتہائی ممنون ہوں۔‘‘
’’افسانوں اور ناولوں میں جب رومانس لکھتی ہیں تو نظروں کے سامنے کون ہوتا ہے؟ یا بہت سوچنا پڑتا ہے یا میاں صاحب سامنے ہوتے ہیں؟‘‘
’’مجھے رومانس یا مزاح لکھنے کے لیے سوچنا نہیں پڑتا اور میاں صاحب ہی میرے سامنے ہوتے ہیں کیونکہ ہماری گفتگوبرجستہ اور بڑے مزے کی ہوتی ہے کیونکہ ہمارا پہلا رشتہ دوستی کا رشتہ ہے اور ویسے بھی ہم رائٹرز ہیروز کے لیے ایک مخصوص اصطلاح استعمال کرتے ہیں ’’لونگ اور کیئرنگ‘‘ تو یہ ایسے ہی ہیں۔ الحمداللہ آج تک اس بندے نے کبھی جاہل مردوں کی طرح اونچی آواز میں بات کی اورنہ ہی کوئی طعنہ اور طنزیہ بات کی۔ اللہ پاک انہیں صحت و تندرستی والی زندگی عطا کرے، آمین۔
شادی کے بعد طاہر نے خام مال لانے اور رجسٹری یا ٹی سی ایس کروانے کی ذمہ داری اٹھالی اور اس بندے کی ہمت کہ کئی بار رات گئے بھاگم بھاگ گاڑی نکال کر ٹی سی ایس کروانے جاتے کہ آخری تاریخ ہے کل ڈائجسٹ کی۔ امتل جانتی ہےں کہ میں لکھنے کے معاملے میں کتنی نکمُی بلکہ سست ہوں مگر امتل کے حوصلے اور برداشت کو سلام۔‘‘
’’لکھنے کے لیے کوئی مخصوص وقت ہوتا ہے یا جب خیالات ذہن میں آئے نوٹ کرلےے؟‘‘
’’شادی سے پہلے مجھے لکھنے کے لیے مخصوص ماحول کی ضرورت نہیں پڑتی تھی کیونکہ جب سب کے پاس بیٹھ کر لکھتی تھی تو مجھے احساس ہی نہیں ہوتا تھا اور تھوڑی دیر بعد میں اپنے کرداروں میں کھوجاتی تھی۔ رات کا وقت اور خاموشی لکھنے کے لیے مجھے بہترین لگتے ہیں اور اب تو یہ حال ہے کہ جب خیالات وارد ہوتے ہیں، تب فارغ نہیں ہوتی اور جب فارغ ہوتی تو لکھنے کا موڈ نہیں کرتا۔ چلتے پھرتے کئی کردار، سچویشنز اورمکالمے ذہن میں آتے ہیں تو فوراً موبائل میں لکھ لیتی ہوں کہ کہیں بھول نہ جائوں۔‘‘
’’شادی کے بعد کسی نے لکھنے پر اعتراض تو نہیں کیا؟ اور فیملی لائف ڈسٹرب تو نہیں ہوئی؟‘‘
’’شادی کے بعد کسی نے بھی لکھنے پر اعتراض نہیں کیا کیونکہ میں نے کبھی اپنے لکھنے کے شوق کو گھر داری پر ترجیح نہیں دی اور ہمیشہ اپنی نیند کے وقت لکھا کیونکہ یہ میرا شوق تھا اور شوق نے وقت پڑنے پر میری ضرورت بھی پوری کی، اس لیے میرے لکھنے سے سسرال میں کسی کو فرق نہیں پڑا بلکہ میری نند اور جیٹھانی شوق میرے ناولز پڑھتی ہیں۔‘‘
’’کوئی ایسی تحریر جو آپ کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی؟‘‘
’’جی. ’’محبت دل پہ دستک‘‘ یہ ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی کہ میں قارئین میں پہچانی جانے لگی۔‘‘
’’کوئی ایسی تحریر جو بہت دل سے لکھی مگر پذیرائی نہ ملی اور کوئی ایسی تحریر جو عام تحریروں کی طرح لکھی مگر اسے بہت پذےرائی ملی ہو؟‘‘
’’بن مانگی دعا‘‘ ایک بہت ہی حساس موضوع پر لکھی جانے والی تحریر تھی، خصوصاً صالحہ اور ابیہا کا کردار میں نے بہت محنت سے لکھا مگر افسوس کہ یہ تحریر پذیرائی حاصل نہ کرسکی۔ شاید میرا انداز تحریر خواتین ڈائجسٹ کی قارئین کے لیے نیا تھا اور عام تحریروں کی طرح لکھی جانے والی تحریر ’’خواب شیشے کا‘‘ بہت پسند کی گئی۔ ہاں ’’ازمیر سیریز‘‘ ادارے اور قارئین میں اتنی سراہی جائے گی اس کا اندازہ نہیں تھا اور ایک بات وہ یہ کہ اس سیریز کے کردار اکرم بٹ اور بوبی کی فیملی اصل میں بھی موجود ہے۔‘‘
’’لکھنے کے لیے پورا پلاٹ ذہن میں آتا ہے یا صرف پلاٹ؟‘‘
’’لکھنے کے لیے پلاٹ یوں ہی ایک دم کسی شعر یا کسی کا ایک جملہ سن کربھی وارد ہوجاتا ہے تو میں اسے فوراًموبائل میں سیو کرلیتی ہوں۔ اس وقت میرے پاس تین مکمل ناولز کے پلاٹس ہیں جو شروع کی کہانی لکھ کر چھوڑ دےے گئے ہیں۔ اب باری باری ان کی قسمت جاگے گی اورمیری یہ شروع سے ہی عادت ہے دو اکٹھے پلاٹ لکھ لینا یا اکٹھی کہانیاں لکھنا شروع کردینا اور میں اپنی اس عادت سے بہت تنگ تھی تو آنٹی تہمینہ جو کہ ڈگری کالج فوارہ چوک میں فائن آرٹ کی ٹیچر تھیں۔ ان سے یہ پرابلم شیئر کی تو انہوں نے کہا کہ ’’تم بہت ذہین ہو بھئی‘‘ بڑے بڑے آرٹسٹ ایسا ہی کرتے ہیں کہ ایک ساتھ دو تین تصاویر پینٹ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ توبس پھر دل کو قرار آگیا کہ ایک میں ہی سر پھری نہیں دنیا بھری پڑی ہے ہم جیسوں سے۔‘‘
’’ٹی وی پر آپ کی کوئی تحریر نظر نہیں آئی، کیوں؟‘‘
’’ایک پروڈیوسر میری خان نے بڑا اصرار کرکے میرے ایک ناول ’’دھندلکے چھٹ جائیں گے‘‘ پر اسکرپٹ لکھوایا اور عبد اللہ کا دوانی کے پروڈکشن ہائوس کو دے دیا۔ مجھے اسکرپٹ کی پوری پے منٹ کردی گئی مگر پانچ سال ہوگئے وہ اسکرپٹ شوٹ پر نہیں گیا۔ اس کے بعد میری دو تین تحریروں پر ہاتھ صاف کرکے کئی لوگ ڈرامے بنا چکے ہیں۔میں سوچتی ہوں کہ ایسے لوگوں کی قسمت میں اللہ نے چرایا ہوا رزق ہی لکھا ہوگا تو صبر آجاتا ہے۔
’’بن مانگی‘‘ دعا پر جو ڈراما بنا اس کے بارے میں امتل نے مجھے فون کرکے آگاہ کیا کہ تمہارے ناول پر کسی نے ڈراما بناکر چلا بھی دیا ہے، تو یہ سب چلتا رہتا ہے۔ اس کے بعد تقریباً تمام ہی چینلز سے آفرز ہوئیں۔ اے آر وائی کی ٹیم میرے گھر آئی مگر میرا دل نہیں کیا اس فیلڈ میں آنے کو۔‘‘
’’کمپیوٹر کے اس دور میں کیا مطالعہ کرنے کی عادت ہے لوگوں میں؟‘‘
’’آن لائن ریڈنگ نے جہاں پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے، وہیں کتاب سے دوری بڑھا دی ہے۔ہمیں تو دی ہی کتاب گئی تھی اور کہا گیا. اقرائ. یعنی کہ پڑھ تو آن لائن رائٹنگ اور ریڈنگ نے ہمارے بچوں کو واقعی کتاب سے دور کردیا ہے۔ ایک روپیہ ہاتھ آتے ہی ’’عمرو عیار‘‘ اور ٹارزن کی کہانیاں خریدنا ہماری ترجیح ہوا کرتی تھی۔ہمارے بچوں کے ہاتھ میں کمپیوٹر، آئی پیڈ اور ٹیب ہیں۔ خود بچوں کو شوق بھی نہیں، ان رسالوں کا اور وہ اب شاید ملتے بھی نہیں ہےں۔
برانڈز سوٹ اور جوتے خریدنے والوں کو اب رسالہ مہنگا لگتا ہے۔ میں خود آج تک کتاب اور رسالے پڑھنے کی عادی ہوں اور بچوں کے لیے نصیحتیں، کہانیاں اور نبیوں کے حالات زندگی اور سگنلز پر موجود بچوں سے خریدتی رہتی ہوں، چاہے میرے میاں اس بات جتنا بھی چڑ جائیں کہ ایک سے کتاب خرید کر پانچ فقیروں کو پیچھے لگوالیتی ہو۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرے بچے کبھی کبھار کوئی بچوں کا میگزین پڑھ لیتے ہیں۔‘‘
’’بچوں کی بات آئی تو ماشائ اللہ سے کتنے بچے ہیں اور بتائیں کہ کس نے آپ کی شہرت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی؟‘‘
’’میرے ماشائ للہ تین بچے ہیں۔ بڑا بےٹا ریان بارہ سال کا ہے۔ بیٹی ردا دس سال کی ہے اور صبحان آٹھ سال کا۔ تینوں بچے پڑھتے ہیں اور ان کی ’’ماں‘‘ ماسی اور ٹیوٹر میں ہی ہوں۔ میرے میاں صاحب کا نام طاہر ابراہیم ہے اور ان کی ٹریول ایجنسی ہے اور جناب جہاں تک فائدہ اٹھانے کی بات ہے تو میرے بچوں کو ماں کا نام کیش کرانا پسند ہے۔ ان کے ہر گریڈ میںکلاس ٹیچر کو ضرور پتا ہوتا ہے کہ ان کی اماں خواتین اور شعاع والی ’’عفت سحر‘‘ ہیں۔ ہاں میرا بیٹا ریان ایسے کام نہیں کرتا کیونکہ وہ بہت شرمیلا ہے۔
میری بھانجی خزینہ نے میرے نام کو اپنی ٹیچرز سے بہت کیش کرایا۔ اس نے تمام پیپرز میں ٹیچرز کو میرے ناول پڑھنے کے لیے دیے۔ تحریم بھی خوش ہوتی ہے کہ کالج کی دوستیں اس سے حیران ہوکر پوچھتی ہیں کہ عفت سحر واقعی تمہاری خالہ ہیں۔‘‘
’’عام لوگوں میں پہچانی جاتی ہیں؟‘‘
’’ ارے نہیں، کیونکہ میں عبایا پہنتی ہوں اور نقاب کرتی ہوں مجھے تو کوئی نہیں پہچانتا۔ ہاں، ایک بار ڈاکٹر کے کلینک میں دوست کی بہن ملی تو وہ میرے ایک ناول کی تعریف کرنے لگی۔ دو چار لڑکیاں وہاں موجود تھیں،میری طرف کھنچی چلی آئیں کہ کیا نام ہے آپ کا اور کس ڈائجسٹ میں لکھتی ہیں اور جب انہیں بتایا تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔‘‘
’’ناولز اور افسانوں کے نام میں کیا سوچ یا لاجک ہوتی ہے؟‘‘
’’میں تحریروں کے نام ایسے رکھتی ہوں جیسے کوئی ماں اپنے بچے کا نام رکھتی ہے اور تحریر کے مطابق افسانے اورناول کے نام ہوتے ہیں۔ کسی بھی فلم یا گانے کے بولوں پر نام نہیں رکھ سکتی۔ جوتحریر کی تھیم ہوتا ہے، اس کے مطابق نام رکھتی ہوں۔‘‘
’’اب تک کتنے ناولز چھپ چکے ہیں آپ کے؟‘‘
’’اب تک میری دس کتابیں شائع ہوچکی ہیں، جن میں طویل قسط وار ناولز محبت دل پہ دستک‘ سبز رتوں کی جھیل میں، زندگی دھوپ تم گھنا سایہ، بن مانگی دعا، خواب شیشے کا‘‘ اور ناولٹس کے مجموعے ’’دھندلکے چھٹ جائیں گے‘ پورا دکھ اور آدھا چاند، دستِ طلب میں پھول، بس اک لمحہ‘‘ اور ’’الفت سی ہوگئی تھی‘‘ شامل ہیں۔ ’’محبت دل پہ دستک‘‘ کا گزشتہ سال پانچواں ایڈیشن آیا ہے۔ خواتین ڈائجسٹ میں میری پہلی پہچان اور ٹرننگ پوائنٹ ’’ازمیر‘‘ اور ’’رویحا گل‘‘ سیریز ہیں۔‘‘
’’گھر داری سے لگائو؟‘‘
’’لکھنے کے علاوہ سارے گھر کا نظام خود سنبھالتی ہوں۔ الحمدللہ کوکنگ بیکنگ کا بہت شوق ہے۔ بیکری کی کوئی چیز سوائے بریڈ کے میں نہیں منگواتی۔ الحمدللہ بچوں کے لنچ بکس میں روزانہ گھر کابنا ہوا شوارما، پیٹیز، زنگر، انڈا برگر یا پیز اہوتا ہے۔ سات سالوں میںمیرے بچوں نے اسکول کی کینٹین سے کبھی لنچ نہیں کیا اور یہ سب میں اپنے میاں اور بچوں کی محبت میں کرتی ہوں۔ گھرمیں پہننے والے عام کپڑے میں خود سلائی کرتی ہوں۔ اپنے بھی اور ردا کے بھی۔ آپ مجھے کافی حد تک سگھڑ خاتون کہہ سکتے ہیں۔بہت گھریلو ہوں، گھرسے باہر نکلنا پہاڑ لگتا ہے اورمجھے لونگ ڈرائیو کے دوران بڑے مزے کی نیند آجاتی ہے۔ میں بالکل انجوائے نہیں کرتی۔
میں گزرے وقت کی باتوں کو بھلا کر موجودہ زندگی اور تعلق پر یقین رکھتی ہوں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو پکڑ لیں تو وہ بڑی بن جاتی ہیں او ربڑی سے بڑی بات کو نظر انداز کردیں تو وہ معمولی بن جاتی ہے۔ زندگی گزارنے کا یہی اصول ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری بہت سی کمیاں، کوتاہیاں نظر انداز کرکے ہمارے ساتھ رشتہ نبھارہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، نجانے ہم آپ کی کتنی زیادتیاں اور کوتاہیاں نظر انداز کرکے آپ کے ساتھ چل رہے ہیں۔ رشتوں میں آسانیاں لایئے۔ انہیں بوجھ بنا کر دوسروں پر مت لادیں۔‘‘
’’کبھی ایوارڈ ملا؟‘‘
’’کبھی جب ہم قاری ہوا کرتے تھے اور ذوالقرنین بھیا کرن شام سجایا کرتے تھے، تب ایوارڈ کا سلسلہ بھی ہوتا تھا۔ ایک رائٹر اپنی ساری عمر ایک ادارے کو دے دیتا ہے، مجھے سب ڈائجسٹ والوں سے گلہ ہے کہ رائٹرز کے لیے کوئی ایوارڈ نہیں رکھے گئے۔ مجھے بھی ابھی تک تو کوئی ایوارڈنہیں ملا مگر خواتین کا ادارہ پھر سے یہ خوب صورت روایت شروع کرے، پلیز۔‘‘
’’اور کچھ کہنا چاہیں گی؟‘‘
’’بالکل جی.! میں آخر میں امتل کا بہت شکریہ ادا کرنا چاہوں گی کہ وہ رائٹرز کو ہمہ وقت متحرک رکھتی ہیں او ران ہی کی کاوش اور محبت ہم سب کو اس ادارے سے جوڑے رکھتی ہے۔ قارئین کی محبت اور یاد آوری کی بھی ممنون ہوں۔ بس کوئی میری سستی کو گولی ماردے تو میں یہ ناول مکمل کرلوں جس کا امتل سے وعدہ کرچکی ہوں۔‘‘
عفت آپ کی محبت کا بھی شکریہ کہ آپ نے ہمارے لیے وقت نکالا۔


