اس ماہ آپ کا تعارف شمائلہ دالعباد سے کرارہے ہیں۔ شمائلہ کو لکھتے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی کچھ تحریروں سے قارئین کے دل میں جگہ بنالی۔
’’کیاحال ہیں؟‘‘
’’اللہ کا شکر ہے۔‘‘
’’آج کل کیا مصروفیات ہیں؟‘‘
’’بس لکھنے لکھانے کی ہی مصروفیات ہیں۔ آج کل ایک ناول لکھ رہی ہوں اور فرصت کے اوقا ت میں ہی لکھتی ہوں۔ اس کے علاوہ فی الحال کوئی مصروفیات نہیں ہیں۔ گھر داری تو چلتی ہی رہتی ہے. اور ہاں ایک پبلیکشن ہاؤس نے مجھ سے رابطہ کیاہے ان سے بات چیت چل رہی ہے۔ وہ رائلٹی بھی دیں گے تو ان شائ اللہ ان کے ساتھ میرا کنٹریکٹ ہوجائے گا۔
’’آپ کانام شمائلہ دالعباد ہے۔ دالعباد آپ کا سرینم ہے؟‘‘
’’جی میرا نام شمائلہ دل عباد ہے۔ عربی والا عباد ہے اور یہ میرے میاں صاحب کا نام ہے۔ ان کا پورا نام ’’رانا دل عباد احمد‘‘ اور ’’رانا‘‘ کا سٹ ہے۔ ’’راجپوت ‘‘ بھی ’’رانا‘‘ کہلواتے ہیں اور ان کانام ان کے ’’نانا ابو‘‘ نے رکھاتھا شادی کے بعد جب میں نے سلطنت نعمانی میں آناتھا تب میرا ’’آئی ڈی کارڈ‘‘ بناتھا اور آئی ڈی کارڈ پر پھر میں نے ان کے قوائد استعمال کیے تھے جب میں ’’عمان ‘‘ آئی تو میں نے دیکھا کہ خواتین شادی کے بعد بھی اپنے میاں کا
نام نہیں لگاتیں تو مجھے تھوڑی حیرت بھی ہوئی تھی۔
خیر نام کی انفرادیت کی وجہ سے بھی مجھے ان کا نام پیارا لگتاتھا اور پھر کاغذات پر بھی لکھواناتھا ۔میاں کا نام اپنے نام کے ساتھ لگانا کوئی مجبوری نہیں ہے اپنی پسند ہے، اور مجھے یہی اچھا لگا سو میں نے لگالیا۔ میرے میاں صاحب بتاتے ہیں کہ کالج یونیورسٹی میں صرف میں ہی تھا کہ جس کا یہ نام تھا اور مجھے، میرے نام سے جانتے تھے. اور آپ نے نام کی کنفیوژن کی بات کی ہے تو زیر زبر والی بات بھی درست ہے اور الف ع والی بات بھی درست ہے اور وہ شعر تو آپ نے سناہی ہوگا کہ
’’ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے۔ ایک نقطے نے محرم سے مجرم بنادیا۔
تو زیر زبر اور نقطے بڑے اہم ہوتے ہیں۔ نام کے حوالے سے ایک دلچسپ بات آپ کو بتاؤں کہ اتفاق سے خواتین ڈائجسٹ میں میری تحریر’’ہجر زدہ‘‘ پر نام شمائلہ دالعباد کی بجائے عشر ت العباد شائع کیاگیاتھا۔‘‘
’’فیملی بیک گراؤنڈ؟‘‘
’’کٹر راجپوت گھرانے سے تعلق ہے جو تقسیم کے وقت ضلع لدھیانہ سے ہجرت کرکے پاکستان پہنچے تھے ۔ جنہوں نے پنجاب کے ضلع جلال پور میں ڈیرے اس لیے ڈالے تھے کہ روہی یعنی صحرائے چولستان سے انڈیا کا بارڈر قریب ترین ہے ،وہ حالات سنبھلتے ہی واپس راجپوت نگر اپنی زرخیز ترین زمینوں اور جائیداد کے درمیان ہوں گے انہیں یہ گلہ تھا کہ کلیم میں انہیں جو زمین انہیں دی گئی ہے وہ لدھیانہ کی زمینوں وجائیداد کے عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔
مخصوص راجپوتی نجابت اور روایت رکھنے والے گھرانے میں بہاولپور کے پسماندہ اور دور دراز گاؤں میں پیدا ہوئی ،میری تاریخ پیدائش 30اگست ہے والد صاحب پولیس میں ہونے کے باوجود فنوں، لطیفہ کا بہترین ذوق رکھتے تھے۔ موسیقی اور شاعری میں ان کا انتخاب بہت اعلا تھا۔ میں سمجھتی ہوں فنون لطیفہ سے محبت مجھے جنیز میں ملی ہے لیکن ان کا اور میرا ساتھ بہت تھوڑا تھا۔ ابھی میں پنگھوڑے میں تھی کہ ایک خطرناک روز ایکسیڈنٹ میں ان کا انتقال ہوگیا۔ یہ ایک ایسی قیامت تھی کہ جس سے میری والدہ جلدی سنبھل نہیں پائیں۔ ان کی بیماری میں میری ذمہ داری میری پھوپھو نے اٹھائی. ان کی کوئی بیٹی نہیں تھی انہیں میری صورت میں بیٹی مل گئی۔ اور انہیں جوان بھائی کی موت کا صدمہ بھی کچھ قابل برداشت لگنے لگا۔
میں آج بھی پھوپھو کو پھو پھو کے بجائے امی ہی کہتی ہوں اور ان کے پانچوں بیٹوں کو کزنز کے بجائے سگے بھائیوں کی جگہ پر رکھتی ہوں۔
میری بھلائی اور مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے خاندان کے بزرگوں نے میری والدہ اور چاچو کی شادی کردی ،میں نے چونکہ اپنے سگے والد کو دیکھا ہوا نہیں تھا اس لیے میرے چاچو ہی میرے لیے ’’ابا جی‘‘ ہیں اور رہیں گے ۔
انہوں نے میرے لیے گاؤں اور راجپوتوں کی ہر روایت توڑ ڈالی۔ مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ گاؤں کی کسی لڑکی نے کبھی شہر جاکر نہیں پڑھا تھا ۔ میٹرک سائنس کے ساتھ پاس کرنے والی میں پہلی لڑکی تھی۔ نمبرز بھی ایسے تھے کہ خاندان میں کسی نے پہلے اتنے نمبرز نہیں لیے تھے۔ حالانکہ میرے والد ، تایا، چچا اور کنزنز کے نام جس جس اسکول میں وہ پڑھے تھے وہاں کے دفتر میں لگی تختیوں پر آج بھی کندہ ہیں .
اس کے باوجود میٹرک کے بعد راجپوتی پردہ نجابت کی پاس داری میں مجھے بھائیوں(کزنز) کی طرح شہر نہیں بھیجاگیا جس پر میں نے رو رو کر اور احتجاج کرکے سب کا ناطقہ بند کردیاتھا . اور یوں اگلے سال میرے ابا جی نے ساری روایتیں توڑ کر مجھے شہر کے کالج اور ہوسٹل میں داخل کرادیا۔ یوں تعلیم کا رکا ہوا سلسلہ بحال ہوگیا۔ تو میں نے ایم کام فنانس ، ایم اے اسلامیات اور بی ایڈ بھی کر ڈالا۔
امی ،ابو (چاچو) کے گھر میں سب سے بڑی ہوں۔ میرے بعد دو بھائی اور ایک بہن ہے۔ بڑی امی یعنی پھوپھو کے گھر میں سب سے چھوٹی ہوں مجھ سے بڑے پانچ بھائی ہیں۔
میری شادی والدین اور خاص کر ابو کی (چاچو) کی پسند سے خاندان سے باہر کے کٹر راجپوتوں میں ہوئی۔ میاں کا نام جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا ’’رانا دلعباد احمد‘‘ ہے جو پیشے کے اعتبار سے ’’الیکٹریکل انجینئر ‘‘ہیں ۔عرصہ دراز سے گلف میں مقیم ہیں اور کچھ ہی عرصے کے بعد انہوں نے مجھے بھی بلالیا. اللہ کا کرم ہے. بڑی اچھی انڈاسٹینڈنگ ہے اور دوستی بھی ہے. رانا صاحب عام راجپوت مرد سے ہٹ کر بڑے کھلے دل ودماغ کے مالک ہیں اور عورت کو محکوم کے بجائے برابر کی مخلوق سمجھنے والے انسان ہیں چنانچہ بڑے مزے کی گزر رہی ہے۔ ماشائ اللہ۔
جناب پیدا تو میں مڈل کلاس گھرانے میں ہوئی تھی لیکن ہمارا گھرانہ گاؤں کے کافی طاقت ور گھروں میں شمار ہوتاتھا۔ کیونکہ جوائنٹ فیملی تھی۔ گھر کے دو افراد پولیس میں باقی آرمی اور دوسری سرکاری ملازمتیں بھی کررہے تھے. اور آج سے تیس ، چالیس سال پہلے اب کے دور کی طرح ڈیجٹیل دور نہیں تھا تو پولیس کو آل ان ون قسم کی قوت سمجھاجاتا تھا اس لیے اپنے گھر کی بیٹھک میں اپنے گاؤں کے علاوہ دوسرے سے ملے مسئلے مسائل حل کروانے آنے لوگوں کو بکثرت دیکھ رکھاہے۔‘‘
’’بچپن کیسا گزرا؟‘‘
’’ایک تو میں کافی عرصہ گھر کی اکلوتی لڑکی رہی۔ اس پر ابو کی وفات کی وجہ سے بھی مجھے بہت لاڈ پیار ملا . اور لاڈ پیار کابچپن بہت مزے کا گزرتاہے۔‘‘ سگے بہن بھائی مجھ سے چھوٹے ہیں مثلاً۔ چھوٹی بہن اور مجھ میں تیرہ سال کا فرق ہے ۔ امی جی نے انہیں میرا احترما کرنا ہی سکھایا ۔ پھوپھو کے گھر بھائی مجھ سے بڑے تھے تو وہاں چھوٹی ہونے کی وجہ سے لاڈ اٹھوائے۔
بھائیوں کو فلمیں اور میچ دیکھنے کا بہت چسکا تھا۔ بڑی امی ان پر سختی کرتی تھیں کہ مراثی نہیں بننا۔ بھائی جب بھی کوئی نئی فلم لاتے امی بہت ناراض ہوتی تھیں۔ تو ان سے چوری چوری دیکھتے تھے۔ میں بہت نگرانی کرتی تھی اور جیسے ہی وہ بیٹھک کی طرف جاتیں میں بھائیوں کو سنگل دے دیتی۔ وہ جلدی سے کتابیں اٹھالیتے تھے۔ کبھی کپڑے بھی جاتے تھے۔ میں چھوٹے دو بھائیوں کی تو خاص کر کرائم پارٹنر تھی۔ بھائیوں نے سائیکل چلانا بھی سکھائی چنانچہ بھائیوں کے سنگ بڑا تھرلنگ بچپن گزرا۔
بچپن میں لڑکیوں والے کام تو اچھے ہی نہیں لگتے تھے اس لیے سلیقہ شعاری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ جبکہ میری مائیں بے حد سلیقہ شعار تھیں اور پورے خاندان میں مشہور تھیں سلیقہ شعاری میں اور جب میں بڑی ہوئی تو انہیں یہی فکر لاحق رہی کہ میں سسرال میں ان کی ناک کٹوادوں گی۔
عجیب بات یہ ہے کہ جن باتوں پر ہمیشہ امی سے بحث کی کہ گھر ہے۔ فوجی اڈا نہ بنایا کریں وغیرہ وغیرہ. شادی کے بعدمیاں سے اور اب بچوں سے پتا چلا کہ میرے لاشعور میں وہی چیزیں فکس ہیں۔ بالکل والدہ کی طرح ری ایکٹ کرتی ہوں۔ تو ماننا پڑے گا کہ ان کی نفیس طبیعت اور سلیقے نے میرے اندر بھی کافی گہرے پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ زندگی میں طریقہ سلیقہ تریتب لاشعوری طورپر ان سے ہی سیکھ کر اختیا رکی ہے۔‘‘
’’ایک طرف سے آپ اکلوتی. دوسری سائیڈ سے بہن بھائی. کس کو پیار زیادہ ملا؟ عموماً کسی ایک کو پیار زیادہ ملتاہے. ایسا ہوا؟‘‘
’’جی بالکل ایسا سلسلہ تھا. اور اب تک ہے۔ میں گھر کا وہ بچہ ہوں جس سے والدین بہت پیار کرتے ہیں. بچپن میں پیار کی وجہ میں بتاچکی ہوں ۔لیکن کالج یونی ور سٹی کے وقت سے ابو (چچا) میری مینٹل اپروچ کی وجہ سے مجھے بے حد اہمیت دیتے ہیں۔ انہیں میں بہت ذہن لاجیکل اور سمجھ دار لگتی ہوں (قہقہہ ) سچ کہوں تو دونوں گھروں کے بھائی بھی میری بے رحمی کی حد تک عملی سوچ اور نفسیات پر اچھی گرپ رکھنے کے گرویدہ ہیں۔ گھر اور باہرکے مسئلوں پر ہم اب بھی گھنٹہ گھنٹہ کانفرنس میں کال کرتے ہیں۔ صرف اسی پوائنٹ پر مجھے لگتا ہے انٹرنیٹ پاکستان سے باہر رہنے والوں کے لیے نعمت ہے۔ بات چیت کی بہت آسانی دے رکھی ہے۔ اسی بات چیت سے رشتوں کو احساس کی گرمائش ملتی رہتی ہے۔
’’بڑے ہونے کا احساس کب ہوا ، اور کب گھر سے نکلنے پر پابندی لگی کہ چادر یا دوپٹہ کے بغیر نہیں جانا۔ ماریا ڈانٹ پڑی۔‘‘
’’گاؤں میں نانی دادی کی عمر کی خواتین سب کی نانی دادی ہوا کرتی تھیں۔ اس لیے وہ کسی بھی بچی کے کان کے پیچھے دو لگاکر سر پر دوپٹا ٹکانے کا کہہ دیا کرتی تھیں۔ مجھے نہیں یاد کہ کب کسی نے اس طرح کی پابندی عائد کی تھی۔ بچپن میں بھائیوں کی وجہ سے لڑکوں والے کپڑے جوتے پہنے۔ لڑکپن میں اسکول میں دوپٹہ لے کر جاتی تھی گھر کے اندر کبھی سر پر دوپٹا نہیں لیا۔ اور جب شہرمیں کالج میں داخلہ لیا تو پھر چادر لینے لگ گئی اور ہوسٹل میں بھی چادر ہی لی تھی۔
اس زمانے میں تربیت کا انداز آج کے مقابلے میں تھوڑا مختلف تھا۔ گھر اور اسکول دونوں میں پیار نہیں ’’مار‘‘ والا سلوگن ہی مقبول ومنظور تھا تو مجھے یاد ہے کہ بڑی امی(پھوپھو) اور سگی والدہ جب دل کرتا بھائیوں کے لیے میدان عمل سجالیا کرتی تھیں۔
بس کسی ایک کے تھپڑ لگنے کی دیر ہوتی تھی ہم باقی بچے فزکس کے خود کار اصول کے تحت والدہ کی خواہش کے عین مطابق ڈھل جاتے تھے۔ کرن میں ’’عہد رفتہ‘‘ کے نام سے ان واقعات کی سیریز لکھ چکی ہوں۔ اماں ابا دونوں ہی غصے کے تیز ہیں اپنے اپنے دائرہ کار میں بہترین انسان ہیں۔ خاص کر والد کو عام دیہاتی مردوں کی طرح کبھی اونچا بولتے نہیں دیکھا اور مجھ سے توویسے ہی دوسروں کی نسبت زیادہ پیار ہے اس لیے ابا کی تو نہ ڈانٹ پڑی اور مار کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ اماں سے کلاس ہوتی رہتی تھی۔
خاص طورپر جب وہ میری ہم عمر کسی لڑکی کو سلائی کڑھائی کرتے دیکھتیں یا شرما شرما کر جہیز کے غلاف کاڑھتے دیکھتیں تو میری تو جو تواضع ہوتی تھی ساتھ ساتھ بھائیوں پر بھی خوب اور ابا پر بھی جملوں کے تیر برسائے جاتے تھے۔ کیونکہ مجھے گھر والوں کے لاڈ پیار کی وجہ سے ’’سوئی‘‘ پکڑنی تو نہیں آتی تھی البتہ بھائی مجھے گن چلانا سیکھاچکے تھے۔
’’لکھنے کا عمل کب سے شروع ہوا؟ پہلی تحریر کب اور کہاں شائع ہوئی؟‘‘
’’لکھنے کا باقاعدہ آغاز تو شاید 2015ئ 2016ئ میں کیا۔ لیکن لکھنے کا عمل تو مجھے لگتاہے کہ اسی دن شروع ہوگیا تھا ۔جب میں اسکول میں مضامین اور باقی کتابوں میں جوابات اپنے الفاظ میں دینے لگی تھی۔ رٹا پرموٹ سسٹم میں استاد ایسے جواب بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن سینٹر کے امتحان میں پچیس کے قریب اسکولوں کے بچے شریک ہوئے تھے۔ ان میں سے تحصیل لیول پر میری پوزیشن نے ثابت کیاتھا کہ الفاظ قیمتی ہوتے ہیں۔ پہلی تجرباتی تحریر’’ردا ڈائجسٹ‘‘ میں شائع ہوئی۔ موضوع تو محبت ہی تھا لیکن اس نے حوصلہ بڑھادیا تو پھر اگلا افسانہ خواتین ڈائجسٹ کے لیے لکھا تھا جو دو یا تین ماہ کے بعد شائع ہوگیا تھا۔
ڈائجسٹ میں لکھنے کا قصہ بھی عجیب ہے . بھرے پرے گھر سے بھرے پرے گھر یعنی سسرال میں بیاہ کر گئی تھی لوگوں میں رہنے کی عادت تھی اس لیے مشکل نہیں ہوئی۔ لیکن جب میاں نے ’’عمان‘‘ اپنے پاس بلایا۔ تو اتنی منجمد زندگی اور تنہائی سے واسطہ پڑا کہ اوسان ہی خطا ہوگئے۔ میاں سارا دن آفس میں اور میں گھر میں پارٹیز میں جانے کا میرا مزاج نہیں تھا۔ میری تنہائی اور دہائی دیکھ کر میاں نے کہا انٹرنیٹ استعمال کرو، سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بناؤ اور تم تو کتابیں پڑھنے کی شوقین ہو گوگل پر سے کتابیں پڑھو، میاں کی بات پر عمل کیا تو اتنی کتابیں اور پرانے ڈائجسٹ گوگل سے ملے کہ سمجھو کہ دن عید اور راتیں شب برات بن گئیں. اس وقت فیس بک عام نہیں تھا اور نہ پاکستان میں نیٹ عام تھا۔ کتابیں اور ڈائجسٹ پڑھ پڑھ کر بھی بوریت ہونے لگی۔ میاں صاحب سے پھر اپنا مسئلہ ڈسکس کیا تو کہنے لگے تم خود کیوں نہیں لکھتیں۔ جتنا اچھا بولتی ہو اس سے اچھا لکھو گی، لکھنے والی بات تو اپنے لاشعور میں بھی تھی۔ کیونکہ جب شہر کے کالج میں داخلہ نہیں کرایاگیا تھا تو ’’دکھی آتما‘‘ قسم کی شاعری لکھ چکی تھی۔ رسالوں میں خطوط لکھ چکی تھی تو پہلی بار کہانی بھی لکھ ڈالی تو اس طرح ڈائجسٹ کی دنیا میں انٹری بھی ہوگئی۔
’’شروع میں موضوعات کیا ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ لکھنے میں میچورٹی آئی ؟ پہلی تحریر کا معاوضہ کتنا ملا؟‘‘
’’دیکھیں خواتین کے رسائل ہیں تو ان میں تحریریں بھی خاتون خانہ، گھر، سسرال اور محبت کے گرد گھومیں گی۔ ادارہ خواتین کا کمال یہ ہے کہ اس ادارے نے خاتون خانہ کو گھر خانہ داری معیشت ، سیاست حتیٰ کہ محبت میں بھی شعور دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ روایتی تحریروں سے نکال کر ’’نمرہ‘‘ اور عمیرہ احمد نے موضوعات کے تنوع میں بہت نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو قاری بہت باشعور ہوچکاتھا اس لیے میں نہیں کہہ سکتی کہ میں نے انوکھے موضوعات کو ٹچ کیاہے۔ ہاں میں اپنے موضوعات کو مختلف زاویہ سے اٹھانے کی کوشش ضرور کرتی ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ میرے کریڈٹ پر کوئی زیادہ کام بھی نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عمر بڑھتی ہے تو چیزوں کو دیکھنے کا اینگل بھی بدل جاتاہے۔ میری ابتدائی اور اب کی تحریروں میں واضح فرق ہے جو اسی بات کی دلیل ہے. پہلا معاوضہ ’’چارہزار‘‘ تھا جو کرن سے ملا تھا۔
’’گزشتہ دنوں تمہاری تحریر’’ سسرال گیندا پھول‘‘ پڑھی۔ تو اندازہ ہوا کہ جوائنٹ فیملی میں بڑے مسائل ہوتے ہیں۔ تمہارا کا کیا تجربہ ہے۔‘‘
’’موجودہ ڈیجٹیل دور میں جوائنٹ فیملی میں واقعی کافی زیادہ مسائل ہیں۔ والدین بچوں کو لے کر حساس بھی ہیں۔ خاص طورپر مائیں اور اسے میں ایک صحت مند رویہ بھی سمجھتی ہوں کہ مائیں اپنے بچوں پر خود توجہ دینا چاہتی ہیں تاکہ وہ ایک کامیاب انسان بن سکیں۔ میں نے کچھ وقت جوائنٹ فیملی میں بھی گزارا لیکن تب جب میرے بچے نہیں تھے۔ بعد میں میاں کے پاس پاکستان سے باہر شفٹ ہوئی تو نیو کلیئر فیملی کی بنیاد پڑ گئی۔ میرے بچوں نے جوائنٹ فیملی سسٹم نہیں دیکھا وہ پاکستان جاکر کزنز میں بہت انجوائے کرتے ہیں۔‘‘
’’ایک مثال دی جاتی ہے کہ اتنی تمہاری عمر نہیں جتنا میرا تجربہ ہے تو تمہارے لیے یہ کہوں گی کہ اتنی تمہاری عمر نہیں ہوگی جتنی تمہاری تحریریں ہیں۔ تو اب تک کتنے ناول اور افسانوں کی کتابیں آچکی ہیں؟‘‘
’’ہاہاہا. اپنی عمر کے حساب سے تو کچھ نہیں لکھا۔ محمد بن قاسم نے سترہ سال کی عمر میں سندھ فتح کرلیاتھا۔ مجھ سے قسط وار کے لیے چند صفحات اب تک فتح نہ ہوسکے ۔ میں نے گنے نہیں لیکن شاید پینتس سے چالیس کے قریب ناولز، ناولٹ، افسانے وغیرہ ہوں گے۔ رہی کتاب کی بات تو اس لیے شائع نہیں کرواتی تھی کہ رائلٹی کے بغیر چھپوانا مجھے اپنے لکھے کی تو ہیں ۔لگتاہے۔ اگر پبلشر نے رائلٹی دے رہاہے تو ان شائ اللہ جلد ہی کتاب مارکیٹ میں ہوگی۔ ‘‘
’’آپ کے لکھنے کا بہترین وقت ؟ پلاٹ کب ذہن میں آتاہے ؟ کب پوائنٹ لکھتی ہیں؟ یا ذہن میں محفوظ کرلیتی ہیں؟‘‘
’’لکھنے کا بہترین وقت وہ ہوتاہے جب گھر میں خاموشی ہو اور یہ خاموشی میاں صاحب اور بچوں کے اسکول جانے کے بعد میسر آتی ہے۔ یا پھر رات کو آدھا پون گھنٹہ لکھتی ہوں۔ اگر موڈ بھی ہو، خاموشی بھی ہو، ذہن کہانی کی طرف فوکس بھی ہو تو ایک دو سین ہی لکھے جاتے ہیں۔ رات کے وقت صرف ایک ہی تحریر مکمل کی تھی جو خواتین ڈائجسٹ میں شائع ہوئی اور جس کا نام ’’ہجر زدہ‘‘ ہے۔ ‘‘
میرے زیادہ تر ناول کرداروں پر بیس ہیں۔ مجھے کردار کہیں نہ کہیں ٹکراجاتے ہیں۔ بس پھر پلاٹ مجھ پر جیسے اترنے لگتاہے اس کی مثال میں اپنے ہی ناول سے دوں گی۔ ’’خواب دریچے‘‘ اور ’’امید ‘‘ کی مارشل آرٹسٹ لڑکی میرے بچوں کے اسکول میں ٹرینر تھی۔ میں نے پہلی بار اس کی مووز اور فٹ ورک دیکھا تو میں نے بو ٹسوانہ افریقی لڑکی کو پاکستان کی لوئر مڈل کلاس کی نازش اکرام بنادیا۔
ہمارے روایتی معاشرے میں اتنی شان دار مارشل آرٹسٹ لڑکی وک کیسے رویے برداشت کرنا پڑتے ہیں ۔ دکھانے کی کوشش کی.
چائلڈ ابیوز کیسز میں وکٹم بچیوں کے ساتھ ہمیں بہت ہمدردی ہوتی ہے۔ جب جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی بچی مرتی ہے تو ہم طوفان بھی بڑا اٹھاتے ہیں مگر اگر ایسی بچی بچ جائے تو سروائیول کتنا مشکل کردیتے ہیں۔ سسرال اور ہر مرد چھوٹی لڑکی سے شادی کرنا چاہتاہے۔ ایسی لڑکیوں کا مستقبل پاک وہند جیسے معاشرے میں کتنا ہولناک ہوتاہے دکھانے کی کوشش کی تھی۔ ان کا زہن کرب بتانا چاہا اور الحمداللہ میں کامیاب بھی ہوئی تھی۔
تو یوں کہنا چاہیے کہ مجھ سے کردار پلاٹ بنواتے ہیں۔ کبھی کبھی کوئی ایک جملہ بھی کہانی کی بنیاد بن جاتاہے اور زیادہ تر آئیڈیاز سستی کے ہاتھوں ضائع کردیتی ہوں۔
’’ماضی اور حال میں بہت اچھی رائٹرز ہیں۔ کس کی تحریر یا انداز تحریر اچھا لگا؟ کبھی کسی کے اسٹائل کو کاپی کرنے کو دل چاہا؟‘‘
’’ماضی وحال میں بہت سی رائٹرز پسندیدہ ہیں۔ خواتین ڈائجسٹ کی سب سینئر رائٹرز کا میں بہت احترام کرتی ہوں۔ لوگ اپنے ہم عصر رائٹرز کی تعریف نہیں کرتے جو کہ ایک غلط رجحان ہے۔ ہم عصر یا رائٹرز کی تعریف ان کا حوصلہ بڑھاتی ہے تو جناب مجھے فرزانہ کھرل کے جملوں پر رشک آتا ہے۔ نازیہ رزاق کے کرداروں کی ’’آنکھ‘‘ ماضی میں بادشاہوں سے ٹکر لیتے راجپوتوں کی یاد دلاتی ہے۔ یاد آیا نئی رائٹرز میں ’’ام اقصیٰ‘‘ نام کی نئی رائٹر کی کوئی تحریر پڑھی تو نام ذہن میں رہ گیا۔ ان میں دم ہے اور بھی بہت سے نام ہیں جو سردست ذہن میں نہیں آرہے۔ مرد لکھاریوں میں مجھے ’’ سر طاہر جاوید مغل‘‘ پسند ہیں اورمیں نے کبھی کسی پسندیدہ لکھاری کا اسٹائل کاپی کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ میرا اپنا اسٹائل ہے لکھنے کا۔‘‘
’’ٹی وی کی طرف نہ آنے کی کیا وجہ ہے؟‘‘
’’ہماری ڈائجسٹ رائٹرز نے ٹی وی کا نیا عہد شروع کرایا میں اس پر خوش ہوں کہ انہیں ان کی محنت کا صلہ مل رہاہے کیونکہ لکھنا بہت ’’ جوکھم‘‘ کا کام ہے۔ پرنٹ میڈیا میں لکھنے سے لگژری تو کیا لوئر مڈل کلاس کا گھر چلانا بھی ناممکن ہے۔ رہی میری بات کہ میں اس سے کیوں دور ہوں تو ایمان داری سے کہوں گی کہ میں نے ٹی وی پر جانے کے لیے جان توڑ کوشش بھی نہیں کی۔ مجھے لگتاہے کہ بچے کچھ اور بڑے ہوجائیں، میں کچھ مزید بوڑھی ہوجاؤں، سستی وپوستی پن سے کٹی ہوجائے کسی بھی طرح سے۔ (مسکراہٹ)تو پروفیشنلی لکھنا آسان ہوجائے گا۔
کافی وقت پہلے ’’ ہم ٹی وی‘‘ والوں نے ایک ون لائنر لیاتھا جو اپرووڈ بھی ہے۔ اس کے بعد نہ انہوں نے کال کی نہ میں نے رابطے کی کوشش کی۔ میری موڈی اور ہڈ حرام طبیعت یوں خوش ہے جیسے جان چھوٹی ہوئی ہو۔ میرے لیے بنا موڈ کے لکھنا بہت مشکل ہے۔ بعض اوقات مہینوں موڈ نہیں بنتا تو سمجھو کہانی گئی تیل لینے (ہنستے ہوئے) اور بی بی شمائلہ پاؤں پسارے ، نیٹ فلکس وانسٹاگرام ریلیز دیکھتی مطمئن ،ہڈ حرام وپوستی کی تعریف پر پوری اتررہی ہوتی ہیں۔ ایسی شاہانہ شخصی خوبیوں کے ساتھ اچھی امید عبث ہے۔ پر میں نے رکھی ہوئی ہے۔ (ہنستے ہوئے) ۔
اللہ کا کروڑ ہا شکر ہے کہ میاں صاحب کو کمپنی کی طرف سے لگژری گاڑی ملی ہوئی ہے۔ ان کی ذاتی گاڑی الگ ہے اور میرے بچوں اور میرے استعمال کے لیے الگ ہے۔
الحمد اللہ میں بہت خوب صورت زندگی گزاررہی ہوں۔
شمائلہ دلعباد ’’آج کل نئی نسل میں پڑھنے کا رحجان نہیں ہے۔ کیا کہیں گی اس بارے میں اور کیا آپ کی تحریریں پڑھی جاتی ہیں؟‘‘
’’بہت اہم سوال آپ نے کیا ۔ آج کی نسل ہماری طرح پڑھتی نہیں ہے۔ جیسے ہم میگزین ، اخبار حتیٰ کہ اڑتے بکھرتے ٹکڑوں کو بھی اٹھا کر پڑھ لیا کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری لکھنے پڑھنے کی صلاحیتوں میں نکھار آتا چلا گیا۔ موجودہ جنریشن بالکل بھی ایسی نہیں ہے۔ پڑھنے لکھنے سے دور ہے .اور کیوں ہے ؟ تو اس سینریو کو میں تھوڑا الگ زاویے سے دیکھتی ہوں.
اخباراور میگزین تو حقیقتاً نئی نسل نہیں پڑھتی اور نہ ہی تسلی سے بیٹھ کر پڑھنے والے حالات ہیں۔ موبائل نے دنیا کو موجودہ وقت میں سانس لیتے انسانوں کی مٹھی میں قید کر دیا ہے۔ہم بڑے سادہ تھے۔ سیاست کی ہی مثال لے لیں کتاب یا اخبار میں تصویر کا جو رخ دکھا دیا جاتا تھا ،اسی پر کاربند رہنا پڑتا تھا۔ تصدیق اور مزید علم کے ذرائع محدود تھے ، پر اب ٹوئیٹر، فیس بک ، انسٹا گرام ، یوٹیوب ہے جہاں لمحوں میں کھڑے کھڑے بنا ماحول بنائے آپ ایک اسکرول پر دسیوں چیزیں دیکھ ، پڑھ اور جان لیتے ہیں۔ اختلاف اور اتفاق بھی فوری کر لیتے ہیں اور تصدیق اور تردید کرنے والے بھی لاکھوں اسی فورم پر مل جاتے ہیں.
گوکہ سچ و جھوٹ کی تفریق نا ممکن ہو گئی ہے ۔ دور ہی ایسا’’ فتنہ پرور ‘‘ہے پر ہزار ہا زاویہ نگاہ کا نظر سے گزرنا آج کی نسل کو اس معاملے میں ہم سے بہت آگے کھڑا کر چکا ہے ۔‘‘
رہی میگزین پڑھنے کی بات تو اب واقعی اس کا رحجان بھی ختم ہو گیا ہے۔ بہرحال پھر بھی کسی حد تک پڑھنے والے آج بھی موجود ہیں ،تب ہی تو ڈائجسٹ بھی شائع ہو رہے اور کتابیں بھی اور اخبارات بھی .ایسا نہیں ہے کہ پڑھنے کا رحجان بالکل ہی ختم ہو گیا ہے اور پھر میں سمجھتی ہوں کہ گھر کے ماحول سے بھی فرق پڑتا ہے۔ اگر آپ کے گھر کا ماحول ادبی ہے۔ پڑھا لکھا ہے جہاں اخبارات و رسائل کی ابھی بھی ویلیو ہے تو وہاں کتابیں پڑھی جاتی ہیں۔
میری شائع ہونے والی تحریریں بھی پڑھی جاتی ہیں۔ شمارے میں اپنے لکھے ہوئے پر رائے اور تبصرے پڑھ کر بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ابھی پڑھنے والے موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی کافی لوگ فوری رائے کا اظہار کر دیتے ہیں۔ وہ رائے بھلے گروپس میں ہو یا ذاتی طور پر میسجیز کیے جائیں لیکن پسندیدگی پہنچادی جاتی ہے جو مجھے بہت موٹی ویٹ بھی کرتی ہے۔
باہر کے ملک میں جائیں وہاں آپ کو ابھی بھی ٹرینوں میں ، بسوں میں ،گارڈن میں ،لوگ کتابیں پڑھتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ایک پڑھا لکھا معاشرہ کتابوںسے دور رہ ہی نہیں سکتا۔ کتابیں تو آپ کی ساتھی ہوتی ہیں۔ اور یہی تو اچھی دوست بھی ہوتی ہیں۔ اچھی کتاب ہمیشہ انسان کو اچھا انسان بنانے میں مدد دیتی ہے۔
’’کوئی بھی تحریرچھپتی ہے کتابی شکل میں توکیا ملتا ہے پیسہ یا رائلٹی ؟‘‘
’’پرنٹ میڈیا میں صرف نام ملتا ہے۔ پیسہ تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور یہ بات میں پہلے بھی بتا چکی ہوں۔ چنانچہ مجھے بھی ایک ناول کے چند ہزار ہی ملتے ہیں جو ’’گلف‘‘ میں میرے کسی کام کے نہیں ۔ لیکن انہی چند ہزار کا ’’منی آرڈر‘‘ وصول کر کے جس فخر سے میری ماں سائن کرتی ہے ،وہ کیفیت بڑی سرور بخش ہے۔ یہ منی آرڈر میرے ماں کے سائن کرنے والے قلم کو زنگ نہیں لگنے دیتا۔انہیں یاد دلاتا ہے کہ اپنی جوانی میں بہت سی طویل دوپہریںجو انہوں نے مجھے پڑھنا لکھنا سکھانے میں انویسٹ کیں آج انہیں سگنیچر کرنے کا فخر دیتی ہیں.
گائوں میں میری ماں کی عمر کی سب ، خواتین انگوٹھا لگانے والی ہیں . میری والدہ اور والد کا بینک میں جوائنٹ اکائونٹ ہے لیکن یہ اور بات ہے کہ ہمیشہ سے چیک سائن صرف ابا جی ہی کرتے ہیں۔ منی آرڈر وصولی کا سائن ، اماں کر کے ’’ہم کسی سے کم نہیں کا نعرہ بلند کر سکتی ہیں ‘‘(قہقہ) وصولی کے بعد وہ مجھے واٹس اپ پر وائس نوٹ سینڈ کرتی ہیں کہ ’’ارجنٹ کال کرو‘‘ پھر جب میں کال کرتی ہوں تو مجھے بتاتی ہیں اور ساتھ ہی پوچھتی ہیں ان کا کیا کرنا ہے اور میرا جواب ہوتا ہے آپ خرچ کرلیں.
اور ان کا ہمیشہ والا جواب ہوتا ہے کہ میرے پاس تو تمہارے بھائیوں اور ابوکے دیے ہوئے بھی ابھی تک پڑے ہیں۔تمہاری امانت رکھ لیتی ہوں۔ یوں انہیں میرا اعزازی شمارہ اور پیسے سنبھالنے کا ایک مشغلہ مل جاتا ہے ۔ یہ بڑی دل ربا داستان ہے اس پر میں صفحات سیاہ کر سکتی ہوں۔ اس لیے اب اگلے سوال کا جواب دیتی ہوں کہ .
اب پبلیشرز بھی رائلٹی بھی نہ ہونے کے برابر دے رہے ہیں اول تو نئی رائیٹرز کو تو دیتے ہی نہیں ہیں۔ قلم قبیلہ کے اپنے مسائل ہیں ،ان سے صرف نظر ہی بہتر ہے ورنہ بے ساختگی میں میں سچ بہت لکھ جاتی ہوں۔‘‘
’’عموماً گھر کی مرغی دال برابر ہوتی ہے، آپ کے گھر میں آپ کی تحریریں کون کون شوق سے پڑھتا ہے؟‘‘
’’میکے میں میری بھابیاں اور بہن پڑھتی ہیں۔ انہیں میری تحریریں پسند بھی آتی ہیں اور انتظار بھی کرتی ہیں۔ میرے سرتاج نے آج تک کوئی افسانہ نہیں پڑھا تو ناول کیا پڑھیں گے ۔ ہاں جس سوشل ایشو پر میری تحریر ہو اس پر ہم میاں بیوی سیر حاصل گفتگو ضرور کرتے ہیں۔‘‘
سسرال میں سب جانتے ہیں کہ میں کہانیاں لکھتی ہوں۔ نئی نسل مداح بھی ہے ۔ خصوصی پروٹوکول تو نہیں ملتا لیکن معاملات میں رائے ضرور لی جاتی ہے تو لکھنے کے حوالے سے یہ اگر گھر کی مرغی دال برابر تو یہی کہہ لیتے ہیں۔
’’کچھ نجی سوال بھی ساتھ ساتھ ہو جائیں کہ مثلاً مزاجاً کیسی ہیں آپ . اور گھر داری وغیرہ وغیرہ؟‘‘
’’میں بہت شگفتہ مزاج ہوں جن کے ساتھ میری بے تکلفی ہے ،وہ لوگ میری کمپنی بہت انجوائے کرتے ہیں۔ جب بھی ہم بھائی بہن اکٹھے ہوتے ہیں یا کانفرنس کال ہو توسب سے زیادہ میری ہی باتوں کو انجوائے کرتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ حتیٰ کہ میرے مزاحیہ فیس بک اسٹیٹس بھی میری فیملی میں کافی مقبول ہیں۔ میرے میاں صاحب بھی میری اسٹیٹس والی جگتیں بہت انجوائے کرتے ہیں.
گھریلوخاتون ہوں تو گھرداری سے لگائو ہو نہ ہو میری صفائی پسند طبیعت گھر کو ترتیب سے رکھنے پر ہی مطمئن ہوتی ہے۔ میڈ والا یہاں کوئی سین نہیں ہے سارا کام خود کرنا پڑتا ہے تو کوشش ہوتی ہے روٹین وائز ہی کروں ۔‘‘
’’کچھ میاں صاحب کے بارے میں بتائیں کیسے ہیں ،کیا کرتے ہیں ۔ نام کیا ہے؟‘‘
’’رانا دالعباد صاحب پیشے کے اعتبار سے الیکٹریکل انجینئر ہیں اور آج کل ماشائ اللہ الیکٹرک کمپنی چلا رہے ہیں۔ مضبوط قوتِ ارادی رکھنے والے نفیس اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔
میرے دوبیٹے ہیں۔ بڑا بیٹا رانا نجیب احمداس سال سینئرکیمرج میں گیا ہے۔ اور چھوٹا بیٹا رانا عبدالہادی ابھی جونیئر سیکشن میں ہے۔‘‘
’’ٹریولنگ کا شوق ہے؟ کہاں کہاں جا چکی ہیں؟‘‘
’’ٹریولنگ کی میری پوری فیملی ہی شوقین ہے ۔ ہر ویک اینڈ ’’عمان‘‘ کی دور دراز وادیاں اور ریسٹوران ، ایکسپلور کرنے ہم نکلتے ہیں۔ اگر کسی ہفتے دور دراز کے ساحل یا وادی وغیرہ کی طرف نہ جا سکیں تو اس کی وجہ بھی میں ہی ہوتی ہوں۔ میں شدید الرجی کی مریضہ ہوں اور یہ مجھے جینز میں ملی ہے ،الرجک کی پیشنٹ کی خود کی زندگی تو شدید ترین مشکل ہوتی ہی ہے۔ گھر والے بھی خاصی تکلیف اٹھاتے ہیں۔
مجھے ایک ’’ٹیک ‘‘ میں درجن چھینکیں مارتے دیکھنا فیملی تو ایک طرف باہر والوں کے لیے بھی اچھا تجربہ نہیں ہوتا۔ اچھی خاصی ذہنی و جسمانی تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے ۔ ستم یہ کہ میرے چھوٹے بیٹے کو بھی ہے۔ ساری دنیا کے ڈاکٹرز یہاں بیٹھے ہیں ،کوئی علاج کارگر نہیں۔ بس لا علاج مرض ہے۔ کسی بھی چیز سے غصہ کھا کر کہیں بھی الرجی مجھے گردن سے دبوچ لیتی ہے ان حالات میںدبئی ،قطر اور سلطنت عمان سارا گھوم چکی ہوں۔ پاکستان کا گلگت بلتستان رہتا ہے.
مستقبل میں جب بچے اسکول لائف سے نکل گئے۔ یہ ذمہ داری ختم ہو گئی توالرجی کو پسِ پشت ڈال کر بزنس ٹورز میں بھی میاں کے ساتھ اپنا بوریا بستر باندھ لیا کرنا ہے ۔مجھ اکیلی الرجی پیشنٹ کو سنبھالنا ان کو مشکل نہیں ہوگابلکہ حسین ذمہ داری ہی لگے گی۔ (قہقہ) ابھی انہیں کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے کہ اکیلے موجیں کیا کریں۔ فیملی ٹورز تو کرنے ہی کرنے ہیں۔‘‘
’’لکھنے پڑھنے کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں؟ سیاست ، کھیل وغیرہ سے کوئی دلچسپی ؟‘‘
’’میں OTTپلیٹ فارمز یعنی نیٹ فلکس ، امیزون ، ڈزنی وغیرہ کی غیر ملکی موویز اور ویب سیریز دیکھتی ہوں۔ لونگ ڈرائیو،آؤٹنگ، ہوٹلنگ، سائیکلینگ وغیرہ پسندیدہ ترین مشاغل ہیں۔ ان کے علاوہ سوشل ایپس پر موسیقی سنتی ہوں خاص کر لونگ ڈرائیو میں گاڑی میں علاقائی موسیقی چل رہی ہوتی ہے تاکہ بچے علاقائی زبان سے بھی واقف ہوں۔
سیاست سے خاص لگائو ہے ،ملکی کے ساتھ ساتھ غیر ملکی نیوز پر بھی نظر رکھتی ہوں۔ بارہا ڈپریسنگ نیوز کے بعد فیصلہ کیا کہ خبروں یا سیاست سے دور ہو جانا چاہیے۔ پر چھٹتی نہیں یہ کافر منہ سے لگی ہوئی والا معاملہ ہے ۔‘‘
’’فیشن سے کتنا لگائو ہے . اور اپنی کمائی کہاں خرچ کرتی ہیں؟‘‘
’’فیشن سے بڑی رغبت ہے مجھے .فٹ اور خوب صورت لگنا بہت پسند ہے، اجلے نکھرے رنگوں کے نفیس لباس جو نظروں کو بھلے لگیں خریدلیتی ہوں۔ پاکستان سے واپسی پر میرے پاس سب سے زیادہ اپنے ہی ڈریسز ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہاں پاکستانی برینڈز نہ ہونے کے برابر ہیں۔جبکہ مغربی لباس میں یہاں سے (عمان) ہی خریدتی ہوں۔ ادھرمغربی لباس کی ورائٹی اور برینڈز زیادہ ہیں.
اور میری انکم ہوتی ہی کتنی ہے چند ہزار . پاکستان میں والدہ سے کہہ کر کسی مستحق کو دلوا دیتی ہوں۔ لیکن ایک بات طے ہے جب بھی برسرروزگار ہوئی اور مناسب ارننگ ہوئی تو اپنی انکم رانا صاحب اور اپنے بچوں پر خرچ کروں گی۔ میری پہلی ترجیح میری فیملی ہی ہے جیسے ان تینوں کے لیے میں ہر لمحے پہلے نمبر پر ہوں۔‘‘
’’آپ کے لکھے پر سب سے زیادہ تنقید یا تعریف کس پر ہوتی ہے منظر نگاری ، مکالمے یا کہانی پر؟‘‘
’’تنقید توشاید ہوئی ہی نہیں۔ اس لیے یاد نہیں آ رہی ، لیکن کہانی ، مکالموں اور خاص کر کرداروں کی نفسیات کو الگ زاویئے سے اٹھانے پر تعریف کافی زیادہ موصول ہوتی ہے، جیسے ’’ہجرزدہ‘‘ کی مہرالنسائ ’’ایک فیس بک سو افسانے‘‘ کی فہمیہ’’عید سعید‘‘ کی تحریمہ اور حالیہ تحریر ’’سسرال گینداپھول‘‘ کی سسرالی نفسیات پر مجھے سوشل میڈیا کے توسط سے ذاتی طور پر بھی کافی پیغامات ملے۔ ان میں زیادہ تر خواتین کے پیغامات تھے کہ ان کے گھر ، خاندان یا اردگرد موجود ہیں۔’’درد جو دوا‘‘اور ’’تتلیوں کے پر‘‘میں میں کرداروں سے کافی لڑکیوں نے ریلیٹ کیا تھا اور ذاتی طور پر بھی بتایا تھا کہ وہ ان حالات سے گزر چکی ہیں یا گزر رہی ہیں۔ میں پوزیٹو اپروچ کے تحت اس کو تعریف کی مدمیں ہی لیتی ہوں/ مسکراہٹ۔‘‘
’’شہرت یا پہچانے جانے کی خواہش ہر انسان میں ہوتی ہے ۔آپ کا بھی دل چاہتا ہو گا۔ کہ لوگ آپ کو پہچانیں ؟ جبکہ رائیٹرز کو بہت کم لوگ جانتے ہیں ؟‘‘
’’جی بالکل رائیٹرز کو لوگ کم ہی جانتے ہیں۔ پہچانتے ہیں کیونکہ لکھنے کا شعبہ باقی سب سے مختلف ہے۔ رائیٹر کی لکھی کہانی، فلم ، ڈرامہ، ویب سیریز ہٹ ہوتی ہے یعنی رائیٹر نہ ہو تو یہ سب بھی نہ ہو لیکن وہ لوگوں کے سامنے نظر نہیں آتا تو لوگوں کو اس سے غرض بھی نہیں ہوتی۔ پر اب جدید دور کی مہربانی سے حالات کافی بدل چکے ہیں۔ اب لوگ رائیٹر کا مقام سمجھنے لگے ہیں۔ انہیں دیکھنے کی اب چاہ ہوتی ہے بہت سے لوگوں کو اور لوگ رائیٹر کو دیکھ بھی چکے ہیں۔ توپہچانتے بھی ہیں.
پرڈائجسٹ رائیٹرز بچاری اس ریس میں کافی پیچھے ہیں ،زیادہ ترکو قاری نہیں جانتے کیونکہ دیکھا ہوا نہیں ہوتا۔یہی بات میرے ساتھ ہے میں چونکہ پاکستان میں نہیں رہتی تو میں نے یہ توقع بھی نہیں رکھی کہ لوگ مجھے پہچا نیں۔
نام کی شہرت اچھا تجربہ ہے یعنی اچھی شہرت اچھی لگتی ہے ویسے سوشل میڈیا پر کوئی نہ کوئی پوچھ ضرور لیتا ہے کہ آپ خواتین ، شعاع اور کرن والی رائیٹر شمائلہ دالعباد ہیں یا کوئی اور . تو اچھا ہی لگتا ہے کہ لوگ میری تحریروں سے مجھے جانتے ہیں۔‘‘
’’کتنے عرصے کے بعد پاکستان آتی ہیں اور جب آتی ہیں تو سب کچھ کیسا لگ رہا ہوتا ہے؟‘‘
’’میں عموماً دو سال میں ایک بار پاکستان آتی ہوں۔ دراصل بچے اسکول گوئینگ ہیں تو ان کا اسکول سیشن آف جون میں ہوتا ہے اور ستمبر میں نئی کلاسزشروع ہو جاتی ہیں۔ توقصہ کچھ یوں ہے کہ ٹھیک ان ہی مہینوں میں ظفار عمان میںخریف سیزن شروع ہوتا ہے یہ موسموں کا بادشاہ موسم ہے۔ ہر طرف ہریالی ، ہر وقت بوندا باندی اور پہاڑوں سے نیچے پھرتے بادل ، ایسا خوشگوار موسم چھوڑ کر پاکستان کے گرم ترین علاقے ملتان ریجن میں جانا خاصا بڑا امتحان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ہر سال چھٹیوں میں پاکستان نہیں جاتی، بلکہ پاکستان سے کوئی نہ کوئی وزٹ کے لیے ہمارے پاس آجاتا ہے۔
سوال کا دوسرا حصہ خاصا تکلیف دہ ہے۔ مگر جواب ضروردوں گی۔پہلے پہل پاکستان وزٹ پر تکلیف ہوتی تھی کہ ہمارے لوگ کتنی مشکل زندگی گزار رہے ہیں یا جی رہے ہیں۔ اس دفعہ جون جولائی یعنی بچوں کی چھٹیوں میں وزٹ پر باقاعدہ مایوس ہو کرپاکستان سے نکلی ہوں۔ پچاس کو چھوتا ہوا ’’پارہ‘‘ بجلی ایک گھنٹہ آتی تھی اور دو سے تین گھنٹے غائب رہتی تھی۔ اس پر بے تحاشہ مہنگی بجلی .اے سی پیٹرول پینے کے لیے منرل واٹر گاڑی ، سپرلگژریز ہیں.
جبکہ یہاں یعنی عمان میں ہر خاص و عام کے لیے گاڑی۔ اے سی کھانا اور پانی ضروریات زندگی ہیں۔ میں فطرتاً حساس ہوں۔ پسماندہ ترین علاقے سے ترقی یافتہ اور جدید شہر کی رہائش تک میرے پاس بلا مبالغہ ہزار مشاہدے ہیں جن میں تکلیف اور غربت صرف میری قوم کے حصے میں آئی ہے۔
اس بار جب ملتان ایئرپورٹ سے ہم نے گھر کی طرف سفر شروع کیا تو فصل کاشت ہو چکی تھی درختوں پر آم لگے ہوئے تھے ،وہ زرخیز زمین دیکھ کر میری آنکھیں نم ہو گئیں (میں سچ میں روپڑی تھی) میں نے اپنے میاں سے کہا جہاں سے ہم آئے ہیں وہاں صرف سنگلاخ پہاڑ ہیں پھر بھی لوگ فرسٹ کلاس زندگی جیتے ہیں اور ہمارے پاکستان میں تو دنیا کی سب نعمتیں ہیں۔ ہمارے لوگ اس شدید گرمی میں سیلنگ فین چلانے کے لیے بجلی کو ترس رہے ہیں۔ وجوہات توسب باشعور لوگ جانتے ہیں ،ان پر کیا بات کرنی .لیکن پاکستان کے حوالے سے یہ سب دن بہ دن مزید تکلیف دہ ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
’’ہوں.یہ تو ہے . اور اب آخری سوال جو میں کرنا بھول گئی کہ ڈائجسٹ میں جگہ آسانی سے بن گئی یا پاپڑ بیلنے پڑے۔ کس نے حوصلہ افزائی کی اور کس نے دل شکنی کی ؟‘‘
’’اس سوال پر شمائلہ کی ’’آہ‘‘ اور’’واہ‘‘ایک ساتھ نکل گئی۔
جگہ کہیں بھی آسانی سے نہیں بنتی ، جگہ بنانے میں وقت لگتا ہے۔ میرا تو حساب بھی دنیا سے الگ ہے۔ میرے کام کبھی آسانی سے نہیں ہوتے بھلے کتنے ہی آسان کیوں نہ ہوں۔ تو جب لکھنا شروع کیا تو تخلیق ابل ابل کر باہر آتی تھی۔ دل کرتا تھا کہ ادھرلکھوں ادھرشائع ہو جائے۔ پر اس کے برعکس یہ بھی پتا نہ چلتا تھا کہ تحریر مل بھی گئی ہے یا ادارے کے بجائے کہیں جہازمیں ہی فنا ہو گئی ہے۔ بات کرنے پر دل شکنی بھی ’’پرومیکس لیول‘‘ کی ہوئی۔ ان دنوں ڈیپریشن اور مایوسی کا یہ عالم تھا کہ میں ڈائجسٹ پڑھتی اور جھول زدہ کہانیوں پر دائرہ کھینچ دیتی۔ دل کرتا آفس میں کال کروں اور پوچھوں کہ اس بلنڈر والی تحریر پر آپ کا کرائیٹیریاکیسے بدل گیا۔ میری کہانی تو ایسے جھول سے ہزار گنا اچھی ہے وغیرہ وغیرہ۔
ان ہی دنوں میری کہانی لگ گئی۔ جس پر امتل آپی کی کال آ گئی ،وہ موجودہ سفر کا نقطہ آغاز تھا۔ میں نے امتل آپی سا زیرک ایڈیٹر کبھی نہیں دیکھا۔اس مقام پر بھی میں کوئی تحریر بھیجوں تو مجھے یہ پوچھنے سے ڈر لگتا ہے۔ امتل آپی تحریر کیسی لگی (قہقہہ) مجھے تحریر کی اشاعت سے ہی پتا چلتا ہے کہ اچھی تھی یا بری تھی.‘‘
اور اس کے ساتھ ہی ہم نے شمائلہ دالعباد سے اجازت چاہی انہوں نے ’’عمان ‘‘ سے ہمیں انٹرویو دیا۔ شکریہ شمائلہ دالعباد صاحبہ ۔‘‘
٭٭


