سدرۃالمنتہیٰ – شاہین رشید

انٹرویو 70

’’سارے کام آسانی سے ہوئے یا کبھی کسی نے معذرت بھی کی کہ ہم آپ کے افسانے نہیں لگا سکتے؟‘‘

’’مجھے ریجیکشن کا بہت زیادہ سامنا کرنا پڑا۔ ادبی پرچوں میں نہیں ہوا۔ لیکن ڈائجسٹ میں ہوا۔ اسکرپٹ میں بہت زیادہ ہوا۔اور مجھے لگتا تھا کہ میں ان کے کانسیپٹ کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ ہاں ، ڈائجسٹ نے مجھے جگہ دی۔ اور کہا کہ آپ وہی کچھ لکھیں جو آپ لکھنا چاہتی ہیں۔‘‘

’’ریجکشن میں کیا اعتراضات ہوتے تھے۔ یا آپ کی کہانیوں پر تنقید ہوتی تھی؟‘‘

’’ریجیکٹ جو ہوئے وہ تو ہوئے۔ ہاں تنقید تعریف دونوں ملیں۔ جب میں مختلف ڈائجسٹوں میں لکھتی تھی تو کہا جاتا تھا کہ آپ اچھا لکھتی ہیں مگر مشکل الفاظ کا استعمال بہت کرتی ہیں یہ بات مجھے بھی محسوس ہوئی تو میں نے آسان الفاظ کا استعمال کرنا شروع کر دیا اور کہانیوں میں تھوڑا چینج لے آئی اور کوشش کرتی تھی کہ میری کہانیوں کے موضوعات آپس میں ٹکرائیں نہیں اور ہر کہانی پہلی کہانی سے مختلف ہو۔

میری کہانیوں میں کتابوں اور ریلوے اسٹیشن کا بہت ذکر ہوتا تھا تو مجھے سائرہ رضا نے کہا کہ پلیز اب تم کوئی بھی کہانی لکھو تو اس میں کتاب کا ذکر نہیں ہونا چاہیے اور ریلوے اسٹیشن کا تو بالکل بھی نہیں ہوناچاہیے۔‘‘

مجھے ہنسی بھی آئی کہ سب کتنا نوٹ کرتے ہیں۔ اس طرح ایک بار راحت جبیں نے کہا کہ تمہاری کہانی بہت اچھی تھی لیکن اس میں بیانیہ زیادہ تھااور کردار بہت کم بات کر رہے تھے۔ چنانچہ میں نے اپنی اس خامی پر بھی قابو پایا۔

’’ادبی میگزین میں بھی لکھا اور ڈائجسٹ میں بھی.توزیادہ کہاں اچھا لگالکھنا اور پہچان ادبی افسانوں نے دی یا ڈائجسٹ کے افسانوں نے دی ؟ ‘ ‘

’’میں نے ناولٹ بھی لکھے ہیں، مکمل ناول بھی لکھے ہیں۔ سلسلے وار کہانیاں اور افسانے بھی لکھے ہیں۔ ادبی پرچوں کا ایک اپنا مزہ ہے اور بندہ کھل کر لکھتا ہے لیکن ایمان داری کی بات تو یہ ہے کہ ڈائجسٹ میں چھپ کر بہت اچھا لگتا ہے اور جتنا ڈائجسٹ نے نام دیااورجتنی ڈائجسٹ سے محبت ملی ‘وہ کہیں سے نہیں ملی‘ ڈائجسٹ ہماری بنیاد ہے۔ اردو ادب کے بہت سے لوگ مجھ سے کہتے تھے کہ پاپولر فکشن کی کوئی ویلیو نہیں ہے اس لیے چھوڑ دو ڈائجسٹ میں لکھناتو میں نے ان سے یہ کہا کہ ادبی پرچے ہوائی جہاز کی اڑان ہیں بہت اونچائی سے نیچے دیکھنا پڑتا ہے۔ لیکن ہمارا ڈائجسٹ ہمارا ریلوے پلیٹ فارم ہے۔ جہاں کوئی عورت گٹھری اٹھائے جا رہی ہے‘ کوئی قلی سامان اٹھائے جا رہا ہے، کوئی بابا ہے۔ کوئی نوجوان ہے‘ کوئی بچی ہے۔ غرض یہ کہ ہر طرح کا چہرہ ہر طرح کے لوگ نظر آتے ہیں اس طرح ہمارے ڈائجسٹ میں ہر طرح کی کہانیاں آپ کو ملیں گی۔

مجھے ریل گاڑی کا ماحول بہت متاثر کرتا تھا بہت اچھا لگتا تھا۔ ٹرین کی کھڑکیوں سے ہم جو منظر دیکھتے تھے‘ وہ غربت والی زندگی دیکھتے تھے، منگ دھڑنگ بچے نظر آتے تھے۔کھیت کھلیان اونچے نیچے درخت ، بے ترتیب پہاڑ، ریت کے ٹیلے اور چھوٹے چھوٹے گھر زمین پر، پہاڑوں پر، عجیب و غریب سنسان اور ویران ۔راستے بور کر دینے والا اور تھکا دینے والا سفر اور اداس کر دینے والا سفر مجھے بہت اچھا لگتا تھا اور میں نے ریل کا سفر کیا بھی کافی ہے۔

توخیر.اسی لیے میںڈائجسٹ کو ریلوے پلیٹ فارم کہتی ہوں کہ اس کی کہانیاں عوامی ہوتی ہیں اور عوامی ادب ہر طرح کا ہوتا ہے۔ اور ہمارے یہاں بہت اچھے نام ہیں جنہوں نے ادبی چاشنی کے ساتھ لکھا جیسے ’’غزالہ نگار اور کزئی‘‘ عنیزہ سید ،رفعت ناہید سجاد‘‘ اور ایسے ہی بہت سے نام ہیں۔ ڈائجسٹ نے تو بہت عمدہ رائیٹر پیدا کیے ہیں جو ہمیں میسر ہیں اور ڈائجسٹ کا رائیٹر سب کا رائیٹر ہے۔ اور خاص طور پر خواتین ڈائجسٹ میں ہر طرح کا رائیٹر موجود ہے۔

جب سے رائیٹرز نے میڈیا کا رخ کیا ہے پرانے رائیٹرز کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے.اور جونئے رائیٹرز ہیں وہ کچھ مخصوص رائیٹرز کو کاپی کرتے ہیں۔ ان کا اپنا رنگ ڈھنگ نہیں ہوتا۔ ان کی انفرادیت بری طرح سے دب جاتی ہے۔ آپ ایسا نہ کریں۔ متاثر ہونا الگ بات ہوتی ہے۔ اور کسی اور کی کھال پہننا اور بات ہے۔‘‘

’’اور کیا مصروفیات ہیں آپ کی ؟ ذمہ داریاں ہوں گی؟‘‘

’’مصروفیات بھی خاص نہیں اور ذمہ داریاں بھی .لیکن مجھے لگتا ہے کہ میرا ٹائم تقسیم ہو گیا ہے۔ اب مجھے لکھنے کے لیے کم وقت ملتا ہے۔ میرے خیال سے جب عمر بڑھتی ہے تو پریکٹکل چیزوں کا بہت بوجھ ہوتا ہے ذہن میں.ان دنوں چیزیں کچھ اوپر نیچے ہوتی ہیں۔ خیالات آتے جاتے رہتے ہیں۔ ان دنوںدوبہنوں کی بھی شادیاں ہوئی ہیں۔ ان کی شادی سے پہلے بہت زیادہ کام تھا اور ذمہ داری تھی۔ اب ایسی کوئی ذمہ داری نہیں ہے جو مجھے ہی پوری کرنی ہے۔ بہت دیر سے سوتی ہوں اور دیر سے اٹھتی ہوں تو روٹین بہت خراب ہے ‘اس لیے کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا.

لیکن رات کے سکون والی لگژری ضرور محسوس کرتی ہوں۔ ایک دو گھنٹے خاموشی کے ساتھ بیٹھنا، تسبیح کرنا ، واک کرنا، خاموشی میں نماز پڑھنا.پھر کوئی پرانی غزل ‘گیت سن لینا ، کوئی اچھی کتاب پڑھ لینا۔ ان دنوں بڑی اچھی کتابیں ہیں میرے پاس اور خرید کر کتابیں پڑھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے.میں ان دنوں ترجمہ کر رہی ہوں ، پچاس افسانے سندھی سے اردو میں ترجمہ کیے ہیں اور یہ ایک طرح کے تھیسس ہوں گے اور دیگر مصنفین کے افسانے بھی ترجمہ کر کے سو افسانوں کا تھیسس ہوگا.اور آج کل ایک سیریل پر بھی کام کر رہی ہوں ۔‘‘

’’گھر کے کاموں سے کوئی شغف نہیں ہے کیا؟‘‘

’’گھر کے کام میں نے بہت کیے ہیں۔ جب میں سولہ سترہ سال کی تھی تو چھوٹے بہن بھائیوں کا بہت خیال رکھتی تھی۔ لیکن جب بہنیں بڑی ہوئیں تھوڑی سی تو امی نے ان کو کوکنگ اور دیگر کام سکھانا شروع کر دیے تو میری ذمہ داری تھوڑی کم ہو گئی۔ ڈسٹنگ کرنہیں سکتی تھی کہ میں استھما (دمہ)کی مریضہ تھی ابوخاص طور پر منع کرتے تھے کہ ڈسٹنگ کا کام نہیں کرتا۔ پکانے کے معاملے میں آج تک میں بہت پھوہڑ ہوں۔ میری سگھڑ بہن کی شادی ہو چکی ہے تو اب میں کوشش کرتی ہوں کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں خود بھی بنانا سیکھوں اور اپنی سب سے چھوٹی بہن سے پوچھتی ہوں کہ کون سی چیز کیسے بناتے ہیں۔

گزشتہ دنوں زندگی میں پہلی بار میں نے گڑوالے چاول اور سویاں بنانی سیکھی ہیں۔ روٹی زندگی میں ایک ہی بار بنائی تھی۔ البتہ سلاد اور رائتہ بہت اچھا بنا لیتی ہوں۔ شربت بنانا ‘کافی اور چائے بنانا بھی مجھے آتا ہے۔ ابو کے لیے میں چائے بناتی تھی دن میں دوتین بارتوچائے کی مجھے اچھی خاصی پریکٹس ہے۔ اب سوچتی ہوں کہ کوکنگ ضرورت ہے۔ اسے سیکھنا چاہیے.ہمارا خانقاہی ماحول تھا جیسا کہ میں نے بتایا، مگر میرے والد نے گھر میں ہی مجھے لگژری دی ہوئی تھی اور میں ان کے ساتھ بیٹھ کر انگریزی مووی دیکھتی تھی۔ وہ نہیں دیکھتے تھے۔ میں دیکھتی تھی مگر ان کے ساتھ بیٹھ کر دیکھتی تھی۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں والد صاحب پیرالائز ہوگئے تھے اور ڈائیلائسز پر تھے تو ان کی خدمت خاطر کرکے مجھے سکون ملتا تھا، روحانی باتیں بہت سیکھی میں نے ان سے ۔‘‘

’’فضول خرچ ہو یا .؟ ۔غصہ ؟‘‘

’’بہت زیادہ فضول خرچ ہوں۔ پیسہ بالکل بھی نہیں بچا سکتی۔ میرے والد میری ہتھیلی کو پکڑ کر کہتے تھے کہ اس میں بہت بڑا سوراخ ہے جتنا ڈالو گرجاتا ہے۔ او ر جب میرے پاس پیسے ہوتے ہیں تو مجھے بڑی الجھن ہوتی ہے کہ اس کو کس طرح اور کہاں خرچ کروں اور پھر خرچ کر دیتی ہوں۔ میرے پاس بالکل بھی پیسے نہیں بچتے لیکن اب میں چاہتی ہوں کہ بچت کروں تاکہ باقی کا ٹائم سکون سے گزرے۔ کیونکہ جب اچانک ضرورت پڑ جاتی ہے تو کان کھڑے ہو جاتے ہیں کہ اومائی گاڈ اب کیاہوگا ۔

غصہ زیادہ نہیں آتا اور نہ ہی روزانہ آتا ہے ۔ غلط بات پر غصہ بہت آتا ہے۔ چڑچڑاہٹ بہت ہوتی ہے۔ بہت کوشش کرتی ہوں ۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو اگنور کرنے کی مگر پھر بھی غصہ آ ہی جاتا ہے پہلے اتنا زیادہ نہیں آتا تھا۔ شاید میں اب میں بڑی ہو گئی ہوں۔‘‘

’’باقی مشاغل مثلاً سیاست، فیشن کھیل ، ٹریولنگ؟‘‘

’’کھیلوں سے لگائو ہے۔ جمناسٹک پسند ہے کرکٹ پسند ہے ۔ سیاست سے بالکل لگائو نہیں ہے۔ اچھا کھانا اور اچھا پہننا پسند ہے۔ فیشن سے بھی لگائو نہیں ہے۔ ہلکے اور ڈیسنٹ رنگ اور ڈریسنگ پسند ہے۔ ہاں مجھے ٹریولنگ کا بہت شوق ہے اور میں بہت زیادہ ٹریولنگ کرنا چاہتی ہوں۔ اللہ کی دنیا کو دیکھنا چاہتی ہوں۔ مطالعہ کا بہت شوق ہے اور تاریخ میرا پسندیدہ مضمون ہے اور تاریخی مقامات دیکھنا چاہتی ہوں۔ قدرتی مناظر دل کو چھو لیتے ہیں۔ آبشار، جھیلیں، پہاڑ، سمندر، خوب صورت ،پھول،جھرنے، پانی کی گہرائی ‘جنگلات‘ سبزہ زاریہ بہت پسند ہیں۔ دل چاہتا ہے۔ کہیں دورویرانے میں چلی جائوں جہاں چاروں طرف قدرتی مناظر ہوں ۔‘‘

’’ڈرامے دیکھتی ہیں؟‘‘

’’دیکھتی ہوں۔آج کل کے ڈراموں میں کتنا وائلینس ہے، بربادی ہے۔کتنا دھواں ہے۔کتنی شدت ہے۔کتنی شرپسندی ہے۔ اور ہمارے ناظرین ان چیزوں کے عادی ہوگئے ہیں اورالیکٹرونک میڈیا والے خوش ہورہے ہوتے ہیں کہ ریٹنگ بڑھ رہی ہے۔ اگرمعاشرے کا اچھا روپ دکھائیں گے تولوگوں کواس کی بھی عادت ہوجائے گی۔‘‘

’’اورکچھ کہنا ہے؟‘‘

’’میں خواتین ڈائجسٹ کا شکریہ اداکرنا چاہتی ہوں کہ خواتین ڈائجسٹ نے ہمیں بنایا۔ ہماری تحریروں کی اصلاح کی، ہمیں جگہ دی.اورہمارا پیغام پڑھنے والوں تک پہنچایا۔ ہمیں نام دیا ، ہمیں عزت دی تو.اس لیے میں ایک بار پھرخواتین ڈائجسٹ کی شکرگزار ہوں۔ امتل کی شکرگزارہوں۔‘‘

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں