یوں تو ہر مصنف کا اپنا ایک اسلوب اور اپنا انداز بیاں ہوتاہے لیکن نعیمہ ناز کی تحریریں اس لحاظ سے سب سے منفرد مقام رکھتی ہیں کہ جو بامحاورہ زبان وہ لکھتی ہیں، وہ لکھنے والے بھی اب خال خال ہی رہ گئے اور بولنے والے بھی۔ ان کی تحریریں جس خاص تہذیب کی نمائندہ ہیں وہ بھی اب کم کم گھرانوں میں نظر آتی ہے۔ شرافت وضع داری، شائستگی ، لحاظ، مروت ، رشتوں کا پاس اور بزرگوں کا احترام نعیمہ کی تحریروں میں نظر آتاہے۔
وہ تہذیب اور کلچر تیزی سے غائب ہورہاہے۔
وہ عام طورپرمعاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں لیکن کچھ کہانیاں جو انہوں نے تاریخ کے پاس منظر میں لکھی ہیں۔ اس میں ان کا فن عروج پہ نظر آتاہے۔
نعیمہ ناز کی ایک خاص بات جو بہت کم نظر آتی ہے۔ وہ ان کی شخصیت ہے ان کی شخصیت میں وہی بے ساختگی، سادگی اور سچائی ہے جو ان کی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔ ہر طرح کی بناوٹ اور تصنع سے بے نیاز، وہ جب بھی ملتی ہیں، مل کر پہلے سے بڑھ کر خوشی ہوتی ہے۔
’’کیال حال ہیں؟‘‘
’’الحمدللہ۔‘‘
’’ نعیمہ ناز. آپ کے نام کا کوئی بیک گراؤنڈ ہے تو بتائیے؟‘‘
’’میرے نام کا کوئی ایسا بیگ گراؤنڈ نہیں ہے۔ اور یقینا میرایہ نام میرے ا ماں ابا میں سے کسی نے رکھاہوگا۔ اور مجھے نہیں معلوم کہ میرے نام کے ساتھ ’’ ناز‘‘ کس نے لگایا۔ کیوں لگالیا . میرے چچا کی فیملی بھی ہمارے ساتھ ہی رہتی تھی تو ان کی بیٹیوں کے نام کے ساتھ بھی ’’ ناز‘‘ لگا ہوا تھا۔ تو شاید اس لیے میرے نام کے ساتھ بھی ’’ناز’’ لگالیا ہوگا۔ ہاں میری جو دو بڑی بہنیں ہیں جن میں ایک کا نام نسیمہ ہے اور دوسری کا راحت سیما ہے ان کے نام کے ساتھ ’’ ناز ‘‘ نہیں ہے ۔
’’تو جناب نعیمہ میرا نام جو کہ شادی کے بعد نعیمہ ناز سلطان ہوگیا۔ تو کبھی پورا نام لکھ لیتی ہوں تو کبھی صرف نعیمہ ناز ہی لکھتی ہوں ۔ ‘‘
’’آج کل آپ کی مصروفیات؟‘‘
’’آج کل کی مصروفیات تو شاعر کے حوالے سے کہوں گی کہ صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے۔ میں شادی شدہ ہوں اور میری تین بیٹیاں ہیں ماشائ اللہ جو بالتر تیب چودہ، بارہ، اور دس سال کی ہیں۔ چھوٹا سا کنبہ ہم میاں بیوی، بچے اورمیرے سسر . چھ افراد کاکنبہ ہے ہمارا. تو بس صبح سے شام تک گھر کے کاموں میں ہی مصروف رہتی ہوں۔ میری کوئی ہیلپر نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے یہاں رواج ہے۔ لہٰذا سارے کام خود ہی کرتی ہوں۔ البتہ بیٹیاں اب مدد کروادیتی ہیں۔ سسر صاحب تھوڑ ابیمار رہتے ہیں تو ان کی تیمارداری میں بھی مصروف رہتی ہوں۔‘‘
’’فیملی بیک گراؤنڈ بتائیں؟‘‘
’’میرا تعلق پورے برصغیر سے ہے۔ میری اماں بنگلہ دیش کی ہیں۔ اور ابا انڈیا سے آئے تھے اور اماں ابا کی اولادیں، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ اماں مشرقی پاکستان کے ضلع ہیمن سنگھ کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا چاند پور ،اس گاؤں میں بھی جاچکی ہوں۔ اس گاؤں سے میری ا ماں میرے ماموں کے ساتھ 1951یا 52میں کراچی آئی تھیں۔ اس وقت اماں خاصی چھوٹی تھیں اور پڑھنے کے شوق میں کراچی آئی تھیں۔ ابا میرٹھ کے ایک گاؤں حسن پور سے آئے تھے اور ابا 1948میں آئے تھے کہ قائد اعظم کا پاکستان دیکھنا ہے۔ وہ پاکستان آکر اپنی بہن کے پاس رہے جو کہ پنجاب میں تھیں۔
پھر ابا نے پورا پاکستان دیکھا اور جب وہ واپس لاہور آئے تو وہاں دادی کے ماموں رہتے تھے وہ حکیم تھے اور حکیم یامین کے نام سے مشہور تھے ان کی ایک ہی بیٹی تھی اور اس کی شادی کے لیے انہیں ’’حسن پور ‘‘ کا لڑکا چاہیے تھا۔ تو ابا کو جب پتا چلا تو وہ کراچی آگئے کہ میں کسی کا گھر داماد نہیں بنوں گا۔
خیر اماں، ابا اپنی ہجرت کی اور دیگر باتیں بتاتے رہتے تھے تو میں نے ان پر ایک کتاب لکھی ہے جو تکمیل کے مراحل میں ہے ۔ 1958میں ابا کی شادی ہوئی۔ اور اسی اکلوتی لڑکی سے جس سے بھاگ کر کراچی آئے تھے۔
شادی بہت سادگی کے ساتھ ہوئی۔
والد صاحب میں ’’ حسن مزاح‘‘ بہت تھا اور بہت زندہ دل تھے ان کی ذات سے کبھی کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی تھی۔ جبکہ اماں حساس اور سنجیدہ مزاج کی تھیں اور مذہبی رجحان رکھتی تھیں۔ننھیال اور ددھیال دونوں خاندانوں میں میری اماں واحد خاتون تھیں جنہیں پڑھنے کا شوق تھا۔ شادی سے پہلے ا نہیں پڑھنا لکھنا نہیں آتاتھا ،وہ بنگلہ زبان جانتی تھیں۔
اردو بولنا انہوں نے سیکھ لیاتھا اور شادی کے بعد انہوں نے ابا سے اور دادی سے کہا کہ میں نے قرآن پاک دہرانا ہے تو دادی نے ،ایک امام صاحب کو کہا تو وہ اماں کا قرآن پاک سنتے تھے تو پھر اماں نے ان سے کہا کہ مجھے اردو پڑھنا بھی سیکھائیں۔
اماں کے پاس مولانا اشرف علی تھانوی کا قرآن پاک تھا جس میں شروع میں اردو میں تفسیر لکھی ہوئی تھی تو ان سے اماں نے اردو پڑھنا اور تھوڑا بہت لکھنا بھی سیکھ لیا۔
اماں کو مطالعہ کا بہت شوق تھا۔ اس زمانے میں شاید 1962ئ میں ریڈیو سے شاہنامہ اسلام سنا انہیں شوق ہوا پڑھنے کا تو ابا نے انہیں ’’شاہنامہ اسلام‘‘ لاکر دیا۔ اماں ابا کی کتابوں کا سارا خزانہ میرے پاس آج تک محفوظ ہے۔ تو پڑھنے لکھنے کا شوق اماں کی طرف سے آیا ہے۔
اماں ابا کی اتنی ساری باتیں کہ میں بتاتے بتاتے تھک جاؤں گی مگر باتیں ختم نہیں ہوں گی۔ ابا نے پی آئی اے میں بھی جاب کی اور اس جاب کی بدولت وہ اماں کو بنگلہ دیش تین چار بار لے گئے اور ایک بار تو میں بھی جاچکی ہوں ،وہاں کی بھی بہت یادیں ہیں میرے دل میں۔ ان شائ اللہ آپ کو بتاؤں گی ۔‘‘
’’بچپن کسیا گزرا؟‘‘
’’میں بچپن میں بہت شرارتی، بہت کھلنڈری اور بہت باتونی تھی۔ سگھڑ میں کبھی بھی نہیں تھی اور آج بھی نہیں ہوں۔ بلکہ مجھ سے ز یادہ سگھڑ تو میرے میاں ہیں۔ زیادہ صفائی پسند، زیادہ نفاست پسند۔
کھیل کود بہت کیا، چچا کی فیملی بھی ہمارے ساتھ تھی اور ان کی ماشائ اللہ سات بیٹیاں تھیں اورہمارے سامنے جو فیملی تھی ان سے بھی رشتے داری تھی تو خوب کھیل کود ہلا گلا رہتا تھا ،میری شرارت یہ ہوتی تھی کہ میں اپنے گھر کی چھت پر بڑے آرام سے چڑھ جاتی تھی دیواروں پر چڑھنے کا بھی بہت شوق تھا۔ اور ہاں درخت پر بھی بہت آرام سے چڑھ جاتی تھی۔ البتہ ایسی کوئی شرارت نہیں کی جو دوسروں کے لیے نقصان دہ ہو۔
ابا نے پی آئی سے ریٹائرمنٹ کے بعد، ایک چھوٹا سا جنرل اسٹور کھول لیا تھا ،ہماری دکان یا جنرل اسٹور کے پیچھے مسجد تھی میں اور میری دیگر ساتھی دیوار کود کر مسجد کی سیڑھیوں پر کود کر مسجد کی چھت پر پہنچ جاتے تھے۔ میں نے لڑکوں کے ساتھ مل کر لڑکوں والے گیم کھیلے اور لڑکیوں کے ساتھ مل کر لڑکیوں والے ،کنچے، گلی ڈنڈا اور کرکٹ بھی خوب کھیلی۔ لڑکیوں کے ساتھ ’’پٹھوگرم‘‘ کوڑا جمال شاہی، برف باری، آنکھ مچولی اور اس وقت کے سارے مشہور گیم کھیلے۔
پڑھائی میں نارمل تھی اور انگریزی سب سے زیادہ مصیبت لگتی تھی ،پانچویں جماعت تک جتنا پڑھا اس میں انگریزی کا کوئی نام ونشان نہیں تھا اور چھٹی کلاس سے انگریزی شروع ہوئی، نویں دسویں میں فزکس ،کیمسٹری ،میتھس اف سب بہت مشکل مضامین تھے۔ ہاں میری سہیلیاں اکثر کہتی تھیں کہ تم زندگی میں کوئی نہ کوئی کارنامہ ضرور انجام دوں گی۔
میرے والد کا نام سمیع اللہ خان تھا اور میری امی کا نام شادی سے پہلے لیلیٰ تھا ،شادی کے بعد زاہدہ خاتون ہوگیا۔ گھر میں والدین سب سے زیادہ پیار کس سے کرتے تھے یہ تو پتا ہی نہیں چلتا تھا۔ کیونکہ سب کے ساتھ مساوی سلوک ہوتا تھا۔ بھائی بڑے تھے اور ایک بہن تو ان کے ساتھ ایک الگ ہی سلوک تھا اور چھوٹی بہن کے ساتھ بھی ایسا کچھ نہیں تھا۔
ابا لڑکیوں کو کام نہیں کرنے دیتے تھے۔
میری باہر کی مصروفیات بہت تھیں ،میں جماعت اسلامی کی کارکن تھی ،میں اسکول میں بھی پڑھاتی تھی اور شام کو ایک اکیڈمی میں پڑھاتی تھی جماعت کے کام بھی کرتی رہتی تھی۔ چھوٹی بہن گھر کے کاموں میں ماہر تھی۔
ہمارے ابا کی گفتگو میں سیاسی ٹچ ضرور ہوا کرتا تھا ،وہ سمجھاتے بھی تھے تو جب ایران عراق کی جنگ ہورہی تھی تو کہتے تھے ہم دونوں بہنوں سے کہ ایک صدر بش اور دوسری ٹونی بلیر بنی ہوئی ہو۔
بچپن سے ہی میرا دل بڑے بزرگوں کے ساتھ لگتا تھا اور میں ان سے ان کے بچپن کی باتیں شادی سے پہلے کی باتیں یعنی ان کے ماضی کے بارے میں کرید کرید کر پوچھا کرتی تھی۔ تو بس مجھے ان باتوں سے دلچسپی تھی مجھے اچھا لگتا تھا جو وہ باتیں بتایا کرتی تھیں ان کا منظر میری آنکھوں میں ہوتا تھا۔
ابا کو ریڈیو پروگرام اور بی بی سی نیوز سننے کا بہت شوق تھا ،وہ شام کے وقت ’’ فوجی بھائیوں کے لیے‘‘ پروگرام ضرور سنا کرتے تھے۔ اس وقت تفریح کا واحد ذریعہ ریڈیو ہی ہوتا تھا اور بی بی سی تو بہت تیز آواز میں سنتے تھے۔ آدھا محلہ سن رہاہوتا تھا۔ تو بس بڑی یادیں وابستہ ہیں ماضی کی۔ ‘‘
’’ لکھنے کا شوق کب ہوا؟‘‘
’’ڈائجسٹ پڑھنے کا شوق ہمیشہ سے رہا ،میں نے ’’سپنس ‘‘ سب رنگ ڈائجسٹ اور جاسوسی ڈائجسٹ بہت پڑھے۔ الف لیلیٰ کی کہانیاں ’’ سندھ باد کا سفر‘‘ ہمارے پڑوس میں ایک صاحب تھے جن کو ہم ماموں کہتے تھے ،ان کی بیٹی کی اپنی لائبریری تھی تو تمام بڑے رائٹرز کی کتابیں موجود تھیں جو میں ان سے لے کر پڑھا کرتی تھی۔
شاعری سے بہت شغف رہا تو شاعری کی کتابیں پڑھیں اور پڑھنے کا شوق اس وقت ہوا جب میں نویں، دسویں جماعت کی طالبہ تھی عصمت چغتائی ، قرۃ العین، اسد محمدخان، مستنصر حسین تارڑ اور عبدالستار قاضی کو بہت پڑھا۔ قدرت اللہ شہاب ، بانو قدسیہ ،اشفاق احمدکو بھی پڑھا۔ کسی کو چھوڑا نہیں میں نے۔
تو ان بڑے لوگوں کو پڑھ پڑھ کر ہی مجھے لکھنے کا شو ق ہوا۔
’ؔ’ اور جب میں نے لکھنا شروع کیا تو کسی سے چوری چھپے نہیں لکھا بلکہ سب کو معلوم تھا کہ مجھے پڑھنے کا اور لکھنے کا شوق ہے تو میری پھوپھو کہاکرتی تھیں کہ اپنی کہانیاں مجھے بھی سنایا کرو اور گھر میں سب میری کہانیاں پڑھتے ہیں ،صرف بھائی لوگ نہیں پڑھتے ،وہ دیکھ کر ہی خوش ہوجاتے ہیں اور مجھے ا چھے اچھے مشورے دیتے ہیں کہ تم ڈرامے بھی لکھا کرو۔ میری ایک کزن ہیں ان کی نند مجھے بہت شوق سے پڑھتی ہیں اور ہاں میری پہلی تحریر ’’شعاع‘‘ میں شائع ہوئی تھی۔ وہ ناولٹ تھا اور اس کا مجھے پندرہ سو معاوضہ ملا تھا۔ پھر مجھے اس ادارے سے فون آیا کہ آپ میں لکھنے کی صلاحیت ہے آپ کچھ اور بھی لکھ کر بھیجیں۔ نومبر میں ناولٹ بھیجا جنوری میں شائع ہو اور مجھے پتا اس وقت چلا جب مجھے اعزازیہ ملا تھا۔ امتل صاحبہ نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی۔ اور انہی کی وجہ سے میں نے اتنا کچھ لکھ لیا اور انہی کی وجہ سے آج میری ایک پہچان ہے۔
میں نے ڈیڑھ سو یا دو سو کے قریب افسانے اور ناولٹ لکھے ہیں۔ شروع شروع میں افسانے اور ناولٹ لکھے ہیں اور اب کئی سالوں سے میں’’ ناول‘‘ لکھ رہی ہوں۔ ابھی تک کتابی شکل میں کچھ بھی شائع نہیں ہوا۔ بس اگر کتابی شکل میں کچھ شائع ہوگا تو وہ میرے اماں ابا کی سوانح عمری ہوگی جو میں لکھوںگی۔
’’اور ہاں مجھے’ کالم‘‘ لکھنے کا بہت شوق تھا اور ابھی بھی ہے کسی زمانے میں بہت خواہش تھی کہ میں کالم نگار بنوں۔ مگر بن نہ سکی اور اس کا مجھے افسوس رہے گا۔‘‘
’’ پلاٹ کب ذہن میں آتا ہے اور کس مخصوص جگہ پر آتاہے؟‘‘
’’پلاٹ تو کسی بھی وقت ذہن میں آجاتا ہے کوئی مخصوص جگہ یا ٹائم نہیں ہے۔ ہاں زیادہ تر پلاٹ‘‘سفر‘‘ کے دوران ہی آتے ہیں اور سفر سے مراد جیسے کسی کے گھر جارہی ہوں۔ یا ویسے کہیں جارہی ہوں تو کہیں بھی جاتے ہوئے آتے ہوئے پلاٹ ذہن میں آجاتاہے اور دلچسپ بات یہ کہ گھر کے کام ہوں یا کوئی بھی کام کررہی ہوتی ہوں تو پلاٹ ذہن میں آجاتا ہے۔ کام کے دوران تو جب پلاٹ ذہن میں آتاہے تو دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لکھنے بیٹھ جاؤں۔ ہماری امی ایک لفظ استعمال کرتی تھیں ’’ دل گلابی ہونا‘‘ تو ایسا دل گلابی ہوتاہے کہ دل چاہتا ہے کہ ابھی کے ابھی لکھنا شروع کردوں، لیکن کام کے دوران یہ سب ممکن نہیں ہوتا، واش روم میں کبھی پلاٹ ذہن میں نہیں آیا۔ کیونکہ ایک ہی واش روم ہے اور وہاں اتنی فرصت نہیں ہوتی۔( قہقہہ) اور ہاں نماز کے دوران بھی پلاٹ صاحب ضرور وارد ہوتے ہیں اور مطالعہ کے دوران بھی ،اور کوئی خوب صورت منظر دیکھ کر بھی پلاٹ ذہن میں آتا ہے۔
لوگ عموماً موبائل میں پوائنٹ نوٹ کرلیتے ہیں جب کوئی ٹاپک ذہن میں آتاہے۔ لیکن میں موبائل زیادہ استعمال نہیں کرتی۔ بس رات کو دیکھ لیتی ہوں کہ کسی کا مسیج آیا ہے۔ فیس بک سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے اور انسٹا گرم تو استعمال کرنا آتا ہی نہیں ہے۔ ہاں میری ایک پرسنل ڈائری ہے تو میرے ذہن میں جو پلاٹ جو ٹاپک آتاہے اس کے پوائنٹ میں ڈائری میں لکھ لیتی ہوں۔
مجھے قلم کی دنیا سے وابستہ ہوئے تقریباً 20، 21سال ہوگئے ہیں 2004جنوری میں شعاع ڈائجسٹ میں میری پہلی تحریر شائع ہوئی تھی۔ شروع شروع میں تو بہت کم کم لکھا کرتی تھی ،مگر مس امتل کی بدولت میں نے آہستہ آہستہ کرکے زیادہ لکھنا شروع کیا اور مس امتل کی کوششوں کی بدولت میری غیر مستقل مزاجی مستقل مزاجی میں بدل گئی اور اتنی حوصلہ افزائی نے مجھے رائٹر بنایاہے۔ ‘‘
’’کیا لکھنا زیادہ پسند ہے۔ ہلکا پھلکا، رومینس، مزاح یا سنجیدہ؟‘‘
’’مجھے ہلکا پھلکا لکھنا زیادہ پسند ہے میں بہت زیادہ سنجیدہ یا ثقیل قسم کی تحریر نہیں لکھ سکتی۔ کیونکہ میرا مزاج بھی ایسا نہیں ہے۔ میرا مزاج بھی اپنے ابا کی طرح ہی ہے یعنی ہلکا پھلکا اور مزاح وغیرہ، ہاں میری تحریر میں میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ مقصد ہو اور اس میں کوئی نہ کوئی پیغام ضرو رہو تاکہ پڑھنے والے کچھ نہ کچھ سیکھیں ،میرے جو مکالمے ہوتے ہیں اس میں مزاح کا عنصر ضرور شامل ہوتاہے۔ رومینس بھی کھول کر نہیں لکھ سکتی۔ اپنی کہانیوں میں نہ تو میں نے ہیرو ہیروئن کا ہاتھ پکڑوایاہے اور نہ ہی رومینس کروایاہے۔ میرے ہیرو ہیروئن کا رومینس بھی ڈائیلاگ کی صورت میں ہی ہوتا ہے اور ذرا محتاط قسم کا ہوتاہے۔ نہ ہی میں نے رومینٹک کہانیاں لکھی ہیں اور نہ ہی میں لکھ سکتی ہوں۔‘‘
’’میکے اور سسرا ل سے حوصلہ ا فزائی ملی؟‘‘
’’سسرال میں پڑھنے والا اور خصوصاً ڈائجسٹ پڑھنے والا ماحول نہیں تھا ۔ پھر میری سسرالی فیملی بھی بہت مختصر سی تھی۔ جب میں بیاہ کر آئی تو ساس سسر تھے اور دو نندیں تھیں جو کہ شادی شدہ تھیں میرے شوہر اور ایک ہماری نند کی بیٹی تھی ،جو بچپن سے ہی ننھیال میں پلی بڑھی تھی۔ دلچسپ بات یہ کہ میں نے ایک کہانی میں اپنے سارے گھریلو حالات لکھ دیے اور وہ کہانی اتفاق سے سب نے پڑھ لی۔ اس پر میرے بڑوں نے کافی ڈانٹ ڈپٹ کی اورمجھ پر لکھنے پر پابندی لگادی تھی۔ مگر وہ تو غصے والی پابندی تھی۔ لیکن پھر میں اپنے کمرے میں سب سے چھپ کر لکھا کرتی تھی۔
لکھنے کے معاملے میں میرے شوہرنے مجھ سے بہت تعاون کیا ،جب لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے لائٹ چلی جاتی تھی تو انہوں نے کچھ لائٹیں لاکر رکھی ہوئی تھیں تاکہ مجھے لکھنے میں مشکل نہ ہو۔
شادی کے بعد ہی میں نے باقاعدگی سے لکھا ہے اس کی دو تین وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ جو پیسے ملتے تھے میں انہیں اپنے استعمال میں لے آتی تھی کبھی اخراجات کے لیے نہ شوہر پر اور نہ ہی سسرال والوں پر کوئی بوجھ ڈالاتھا۔ میں چھوٹی موٹی ضرورتیں خود پوری کرلیا کرتی تھی۔ پھر اپنے آپ کو مصروف رکھنے اور دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے بھی لکھا کرتی تھی کیونکہ حالات کچھ ایسے تھے۔ جبکہ مصروفیات بھی تھیں۔
ئ میں میری شادی ہوئی اور 2010 میں پہلی بیٹی، پھر 2012اور پھر 2015میں بیٹیاں ہوئیں۔ مگر اس کے باوجود میں لکھنے کے لیے ٹائم نکال لیتی تھی۔ میرے شوہر کا تعاون اس طرح رہا کہ وہ بچوں کے معاملے میں بھی اور گھر کے معاملے میں بھی میرا ہاتھ بٹادیا کرتے تھے ،میاں صاحب کو شروع سے ہی عادت تھی گھر کے کاموں کی، سسر کے ساس کے ساتھ ہاتھ بٹادیا کرتے تھے۔
اور اب بھی میرا ہاتھ بٹاتے ہیں جیسے کہ میرے ساتھ کپڑے دھلوالیتے ہیں، صفائی ستھرائی کا جو تفصیلی کام ہوتا ہے اس میں بھی تعاون کرتے ہیں۔ اور جب میں کبھی میکے جاؤں یا کبھی اپنی بہن کے گھر جاؤں تو واپسی پر مجھے ہمیشہ اپنا گھر صاف ستھرا اورچمکتا ہوا ہی ملتاہے۔ کوئی پھیلاوا نہیں ہوتا کہ میں کہوں کہ گھر کی کیا حالت بنادی ہے۔ بلکہ جو چیزیں عجلت میں ،میں پھیلاکر جاتی تھی وہ بھی سمٹتی ہوئی ہوتی تھیں ۔ ‘‘
’’ اب پہلے جیسا مطالعہ کا شوق نہیں رہا لوگوں میں کتابیں خریدنے کا رجحان نہیں رہا۔ کیا کہیں گی آپ؟‘‘
’’آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ اب رحجان موبائل پر یا فیشن پر یا پھر کھانے پینے پر ہوگیا ہے اور اب چونکہ موبائل پر ڈاؤن لوڈ کرکے بھی اپنی پسندیدہ تحریریں پڑھی جاسکتی ہیں تو لوگ کتابیں کیوں خریدیں گے۔ لیکن کتاب پڑھنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ مگر اب گھر کے ماحول بھی پہلے جیسے نہیں رہے۔ میری بھی ایک ہی بیٹی کو کتابیں پڑھنے کا شوق ہے باقی دو کو نہیں یعنی بڑی کو ہے دو چھوٹیوں کو نہیں ۔‘‘
’’اپنے مزاج کے بارے میں بتائیں؟‘‘
ہنستے ہوئے ’’مجھے تو خود ہی نہیں معلوم کہ میرا مزاج کیساہے اور میں سمجھتی ہوں کہ انسان کا مزاج بدلتا رہتاہے۔ جیسے اب سے پندرہ بیس سال پہلے جیسی تھی۔ اب نہیں ہوں۔ یا دس سال پہلے جیسی تھی اب نہیں ہوں۔ میرے مزاج میں تیزی طراری یا چالاکی نہیں ہے۔ غصہ پہلے اتنا نہیں تھا مگر اب حالات کچھ ایسے ہوجاتے ہیں کہ مجھے غصہ بھی آجاتاہے اور جھنجلاہٹ بھی ہوجاتی ہے تو غصہ بچوں پر اترتا ہے یا پھر کبھی کبھار میاں پر اترتاہے۔
فیشن کا شوق نہ شادی سے پہلے تھا نہ بعد میں ہوا اور نہ ہی اب ہے۔ اس معاملے میں اپنی اماں پر گئی ہوں وہ بہت سادگی پسند تھیں میں بھی ایسی ہی ہوں۔ بازار وغیرہ جانے کا بھی شوق نہیں ہے بس بہنیں جاتی ہیں بازار اور وہی لاتی ہیں اور وہی سلائی کرکے بھی دے دیتی ہیں۔ میاں صاحب کے ساتھ بھی اگر کبھی بازار جاتی تو بچوں کی شاپنگ کرتی تھی۔ میک اپ کا بھی کوئی شوق نہیں تھا۔ شادی کے بعد تھوڑا بہت ہوا مگر حالات نے اس کو بھی ختم کردیا۔
میری بڑی بیٹی کوبہت شوق ہے فیشن کا، میک اپ کا اس معاملے میں وہ اپنی پھوپھو پر گئی ہے سجنے سنورنے کا شوق میری بیٹی کو ہے۔ شادی کے بعد میاں صاحب مجھے کا جل اور دیگر میک اپ کی چیزیں لالاکر دیتے تھے میں نے خود کبھی نہیں خریدی تھیں۔ جب وہ آتے تو میں لپ اسٹک لگالیا کرتی تھیں۔
گھر سجانے کا شوق تھا۔ مگر سسر کہتے تھے کہ جوچیز جہاں پڑی ہے اسے پڑے رہنے دو ادھر ادھر نہ کرو۔ تو بتائیں کہ پھر کیا کرتے تو پھر یہ شوق بھی ماند پڑ گیا۔ بس اپنے کمرے کی حد تک تھوڑا بہت ردوبدل کرلیتی ہوں۔
شادی سے پہلے بھی مجھے کوکنگ کا شوق تھا اور شادی کے بعد بھی برقرار رہا۔ ہمارے میکے میں مہمان داری بہت ہوتی تھی اورمہمانوں کو کھانا کھلائے بغیر بھیجنے کا رواج نہیں تھا ،اسی طرح سسرال میں بھی بہت مہمان داری ہوتی تھی ۔
شوہر کے ساتھ میں کبھی آؤٹنگ کے لیے باہرنہیں گئی کیونکہ یہاں رواج نہیں تھا اور کوئی پسند بھی نہیں کرتاتھا۔ ہنی مون تو بہت دور کی بات ہے۔ میکے بھی اپنے میاں کے ساتھ کبھی نہیں گئی یہاں رواج یہ تھا کہ اگرمجھے اپنے میکے جاناہے تو میرے میکے سے مجھے کوئی لینے آئے گا البتہ رات یا کبھی واپسی پر میاں لینے آتے تھے اور ان کے ساتھ بھی سیدھے سسرال ہی آتے تھے کہیں اور نہیں جاتے تھے شادی کے شروع کے دن بس ایسے ہی گزر گئے اور پھر بچوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تو بس.
بچوں کے ساتھ بھی جانا نہیں ہوتاتھا ،ان کو بھی تفریح کے لیے لے جاتی تھی تو اپنی بہن اور ان کے بچوں کے ساتھ . تو بس یونہی پابندیوں میں زندگی گزری۔
پھر ساس ہماری رخصت ہوئیں۔ اللہ زندگی رکھے سسر ہیں مگر وہ بھی بیمار رہتے ہیں تو اب تو بالکل بھی ان کو اکیلا چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتے اور گھرمیں سے کوئی ایک ہی جاسکتاہے میں یا پھر میرے شوہر۔ تو سیاحت والے سوال کا جواب تو یہی ہے کہ ’’ملا‘‘ کی دوڑ مسجد تک ‘‘اور ہماری دوڑ سسرال سے میکے اور میکے سے سسرال تک ہوتی ہے۔ البتہ بچپن میں بنگلہ دیش گئی تھی اور ایک بار لاہور گئی تھی۔
مجھے میرے لکھنے پر کبھی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میں نے ایک ناول لکھا تھا ’’ادا فروش‘‘ تو وہ ناول امتل کو بہت پسند آیاتھا تو مس امتل کا مجھے فون آیا اور انہوں نے مجھے کہا کہ ’’ نعیمہ یہ تم نے اتنا اچھا لکھاہے کہ دل چاہتاہے کہ تمہارے ہاتھ چوم لوں۔‘‘ اور مس امتل کے یہ الفاظ مجھے آج تک انرجی دیتے ہیں۔
مجھے اپنی تحریروں میں سب ہی پسند ہیں اولاد کی طرح لیکن کچھ اولادیں بہت لائق فائق ہوتی ہیں اور کچھ نالائق ہوتی ہیں تو ’’ جنت دوزخ‘‘ ، ’’رزق زوال‘‘ ، ’’طلوع وغروب ‘‘ ، ’’یزدان‘‘ ، ’’کاوش بے سود‘‘ جو کہ سب میں نے بہت دل سے لکھے تھے اور ہاں ’’ نسخہ ہائے وفا‘‘ یہ بھی مجھے بہت پسند ہے۔‘‘
’’لوگ کیا پڑھنا پسند کرتے ہیں سنجیدہ ادب، کامیڈی یا پھر رومانس؟‘‘
’’میرا خیال ہے کہ لوگ ہر طرح کی تحریریں پڑھ لیتے ہیں بس اس میں دلچسپی کا عنصر ہوناچاہیے اور سب کچھ ایک حد میں ہو۔ رومانس ہو مگر چھچھورا اور عامیانہ نہ ہو۔ کامیڈی ہو مگر پھکڑپن نہ ہو، سنجیدہ ہو مگر بہت ثقیل نہ ہو۔ لوگ افسانے پہلے پڑھتے ہیں جبکہ ناول اور ناولٹ فرصت کے اوقات میں پڑھتے ہیں۔
اور میں ناول فرصت کے اوقات میں لکھتی ہوں اور یہی میرے لیے زیادہ آسان ہے۔ مختصر تحریریں لکھنا یعنی دریا کو کوزے میں بند کرنا میرے لیے زیادہ مشکل ہے۔ ‘‘
’’کہانیوں کے نام کیا سوچ کر رکھتی ہیں اکثر نام مماثلت نہیں رکھتے آپ کیا کہیں گی؟‘‘
’’میرے کرداروں اور کہانیوں کے نام آسان اور عام فہم ہوتے ہیں۔ کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ عنوان کہانی کے مطابق ہو، ویسے میری کئی تحریروں کے نام’’ مس امتل‘‘ نے رکھے ہیں۔ میں تو اکثر بغیر عنوان کے ہی بھیج دیتی ہوں۔‘‘
’’گوگل پہ اپنا نام دیکھ کر کیسا لگتا ہے۔ اور لوگ تعریف کرتے ہیں؟‘‘
’’بہت خوشی ہوتی ہے بہت اچھا لگتاہے اور آن لائن تحریریں لوگ پڑھتے ہیں۔ ویسے مجھے پسندیدگی کے لیے کبھی کسی نے پرسنل مسیج نہیں بھیجا۔ ہاں البتہ جو لوگ پڑھتے ہیں ان سے جب ملاقات ہوتی ہے تو
میری تحریروں کی تعریف ضرور کرتے ہیں۔‘‘
’’کبھی کسی تقریب میں لوگوں کو بتایا کہ آپ رائٹر ہیں؟‘‘
’’نہیں بالکل بھی نہیں ۔ مجھے خود اس طرح اپنے بارے میں بتاتے ہوئے یا تعارف کرواتے ہوئے شرم سی محسوس ہوتی ہے۔
اور ہاں آپ نے کہا کہ نئی نسل پڑھنے سے دور بھاگتی ہے تو آپ کس کے لیے لکھتی ہیں۔ تو بات یہ ہے کہ میں جن ڈائجسٹ ، خواتین ، شعاع میں لکھتی ہوں وہ تو بہرحال پڑھتے ہیں اس لیے ہماری ہمت بھی بندھی رہتی ہے۔ اور آج کی نسل اگر پڑھنے سے دور بھاگتی ہے تو اس میں کچھ قصور ہم بڑوں کا بھی ہے۔ ہمارے ہاتھ میں کتاب ہوگی تو یقینا ہم اسے اپنے بچوں کے ہاتھ میں بھی دے سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا ایک ٹول ہے چاہیں تو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرلیں اور چاہیں تو خود کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرلیں۔ ویسے ہماری نوجوان نسل نے زیادہ تر اسے منفی مقاصد کے لیے ہی استعمال کیاہے اور کررہے ہیں۔
آپ یقین کریں میرے بچوں کا اسکرین ٹائم آدھے سے ایک گھنٹہ ہے۔ سوشل میڈیا پر کوئی بھی ایکٹیو نہیں ہے۔ ابھی تک تو بچوں کو میں نے کنٹرول میں رکھا ہو اہے۔‘‘
’’آپ کی کوئی کہانی جو آپ کو خود بھی بہت پسند ہو؟‘‘
’’جی بالکل ہے، 14اگست اور 16دسمبر کے حوالے سے لکھی گئی اپنی تمام تحریریں مجھے پسند ہیں۔ فلسطین کے موجودہ حالات پر ایک ناول لکھاتھا اور دیگر پسندیدہ کہانیوں کے نام پہلے بتاچکی ہوں ۔‘‘
’’رزق وزوال تاریخی پسند منظر میں لکھاگیا ناول ہے، آپ کو تاریخ سے کتنی دلچسپی ہے؟‘‘
’’ وہ لکھاری ہی کیاجسے تاریخ اور سیاست سے دلچسپی نہ ہو۔ حال میں جو کچھ ہورہاہے اور ہوتاآیا ہے اس کے تانے بانے ماضی سے جڑے ہوتے ہیں انہیں جانے بغیرمستقبل کی پیش گوئی بھی نہیں کی جاسکتی ۔ تاریخ چند سال پرانی ہو۔ سیکڑوں یا ہزاروں سال ہر ایک لیے اس میں سامان ہے دلچسپی کا عبرت کا اور حیرت کا۔ تاریخ کا مطالعہ مجھے ہمیشہ مسحور کردیتاہے۔
آپ نے سیاست کے بارے میں پوچھا تو سیاست تو مجھے گھٹی میں ملی ہے۔ جب میں چھوٹی تھی تو مجھے سولاات کرنے کی بہت عادت تھی اور میرے ابا کا ایک خاص انداز تھا جو اب دینے کا۔
جیسے میں نے ا پنے ابا سے پوچھا کہ ’’اباجی آپ کی شادی کب ہوئی تھی؟‘‘
تو جواب آتا کہ ہماری شادی اس وقت ہوئی تھی جب ایوب خان نے پاکستان میں پہلا مارشل لائ لگایا تھا 1958میں تب ہوئی تھی شادی۔ سوال پوچھا کہ پہلی نوکری کب ملی تو جواب آیا کہ جب اسرائیل نے مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرلیا تھا یعنی 1967میں۔
اسی طرح بنگلہ دیش پہلی بار جانے کا ذکر آیا تو بتایا کہ ہم تو اس وقت گئے تھے جب بنگلہ دیش مشرقی پاکستان تھا ہم 70کے کے الیکشن کے بعد گئے تھے اور ویزا نہیں تھا اس وقت ،تب مجھے پتا چلا کہ بنگلہ دیش کب بنا تھا۔
یعنی ہر سوال کے جواب میں سیاست کا ضر ور ذکر ہوتا تھا۔ تو جب میں نے پرائمری پاس کی تو مجھے مارشل لا کے بارے میں جنرل ضیا کے بارے میں، جنرل یحییٰ اور ایوب خان کے بارے میں بہت اچھی معلوما ت ہوگئی تھی انہوں نے کیا کیا کارنامے انجام دیے تھے۔ ’’ آمریت ‘‘ کسے کہتے ہیں اور بھٹو کو پھانسی کیوں ہوئی تھی اس کے بارے میں ساری معلومات ہوگئی تھی۔
اور ہمارے چچا بھی اس طرح کے سوالات کرتے تھے جیسے والد صاحب۔
ابا کو ریڈیو پاکستان سننے کا بہت شوق تھا اور ہم نے تو آنکھ کھولتے ہی بی بی سی سنا۔ اور جب میں نے ہوش سنبھالا تو ’’وسعت اللہ خان‘‘ اور شفیع نفی جامعی کو بہت سنا اور ہر وقت سننے سے مجھے بھی سیاست سے خبروں سے اور دیگر چیزوں سے دلچسپی ہوگئی تھی۔ اور کسی زمانے میں تو میں ٹاک شو اور خبریں بہت دیکھا کرتی تھی۔ مگر اب مصروفیات کی وجہ اور کچھ دل کھٹا ہونے کی وجہ سے سیاست سے پہلے والی دلچسپی نہیں رہی اور اب یہ بات بھی سمجھ میں آگئی ہے کہ ہر پروگرام دیکھنے کے قابل نہیں ہوتا اور ہر صحافی سننے کے قابل نہیں ہوتا۔ اب میں زیادہ تر ’’ ڈان نیوز‘‘ کے پروگرام دیکھتی ہوں۔ ’’ ذرا ہٹ کے‘‘ جس میں وسعت اللہ خان اور دیگر صحافی شرکت کرتے ہیں۔
وسعت اللہ خان تو مجھے بہت ہی پسند ہیں اور جب ان کو دیکھتی ہو تو بچپن کی خوب صورت یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ میں اپنے بچوں کو بھی تاکید کرتی ہوں کہ کم سے کم ایک وقت کی نیوز تو ضرو رسنا کریں مگر بچے کب کسی کی سنتے ہیں۔ وہی سوشل میڈیا کی خرافات میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔
آپ کے شروع کے سوالوں میں ایک سوال جواب تھوڑا سا رہ گیا تھا کہ فیشن کتنا پسند ہے اور ہنر کچھ سیکھا اپنے بڑوں سے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کپڑوں پہ کڑھائی اور پینٹنگ کا ہنر بھی سیکھا اور اماں کی اون اور سلائیوں سے بھی الجھنے کی کوشش کی، مگر پھندوں کا حساب ہمیشہ گڑ بڑ ہوجاتاتھا۔ گرمیوں کے دن خاصے لمبے ہوتے تھے تو بہت سارے کام نمٹ جاتے تھے۔
کھانا پکانے کا مجھے بہت شوق ہے۔ سب کچھ اپنی ماں سے ہی سیکھا اور شادی سے پہلے ہی بہت اچھے ذائقہ دار کھانے پکانے لگ گئی تھی اور عام دنوں میں تو عام روٹین کی ہی چیزیں بنتی ہیں۔ مگر بقرعید پر خاص اہتمام ہوتا ہے۔ اور ہر وہ ڈش بنانے کی کوشش کرتی ہوں جو بقرعید کے حوالے سے مشہور ہے اور شوق سے کھائی جاتی ہیں۔ تو میرے گھر والے میرے ہاتھ کا پکا ہوا دم کا قیمہ، چپلی کباب اور گولا کباب بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ ‘‘
’’اپنی گھریلو لائف کے بارے میںبھی کچھ بتائیں؟‘‘
’’میری شادی 27ستمبر 2009میں ہوئی عید کا پہلا ہفتہ تھا۔ دو مہینے کے اندر اندر رشتہ آیا اور شادی ہوگئی۔ ارینج میرج تھی اور رشتہ طے ہونے کے بعد میں نے ان کی (محسن) تصویر دیکھی تھی گھر والے دیکھ کر آگئے اور تصویر لانا بھول گئے۔ بہن نے نقشہ کھینچا کہ اچھا ہے۔ لمبا ہے، خوش شکل ہے۔ یہ سن کر میری تشویش اور بڑھ گئی کہ خوش شکل ہونے کے ساتھ کہیں بدمزاج نہ ہو۔ روڈ نہ ہو۔ اگر ایسا ہوا تو کیسے گزارا ہوگا۔ بداخلاق نہ ہو اور شادی کے لیے میری خواہش تھی کہ کوئی بدمزاج اوربداخلاق نہ ہو۔ کیونکہ ایسے لوگوں سے میری بہت جان جاتی ہے۔ شکل وصورت ،آمدنی جو کچھ بھی ہو بس بدمزاج نہ ہو۔
تو جناب میں نے تو چند پھولوں کی تمنا کی تھی اللہ نے پورا گلدستہ ہی عنایت کردیا، یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی عنایت ہے۔ میرے شوہر دھیمے اورنرم مزاج کے ہیں۔ احساس ذمہ داری ہے۔ اپنی فیملی کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ اور یہی میں چاہتی تھی۔
سسرال کا ماحول عموماً میکے کے ماحول سے مختلف ہی ہوتا ہے ۔ لوگوں کے مزاج مختلف ہوتے ہیں رہن سہن مختلف ہوتاہے ۔
میرے میاں صاحب اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے اور ہیں تو انہیں یہ ڈر خوف تھا کہ آنے والی ان کے بیٹے کووالدین سے دور نہ کردے۔ جدا نہ کردے۔ اس خوف نے پابندیوں کی سختیوں کو جنم دیا اور جن دنوں کو خوب صورت کہاجاتاہے وہ بدصورت ہوکر گزرے۔ لیکن پھر دھیرے دھیرے انہیں(سسرال والوں کو) جب یہ یقین آگیا کہ میرا ایسانہ کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی نیت کہ ڈیڑھ انچ کی مسجد بناکر بیٹھ جاؤں۔ تو پھر حالات، مزاج سب کچھ صحیح ہوتا چلاگیا اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ تمام اختیارات اور تاج وتخت میرے حوالے ہوگیا۔ لیکن اس وقت تک وقت کافی گزر چکا تھا۔ میرے والدین بھی گزر چکے تھے۔ بس یہی کہوں گی کہ ’’ جب حسن تھا تو آئینے نہیں تھے، اب آئینے ہیں پھر حسن کہاں.
خیر میری تین بیٹیاں ہیں۔ بڑی زینب ہے چودہ سال کی ہے9thکلاس کی طالبہ ہے اور اسے ہر کام کو سیکھنے اور کورسز کرنا پسند ہے۔ اسے مطالعہ کابھی بہت شوق ہے ’’ نونہال‘‘ کے مختلف سلسلوں میں شرکت کرتی رہتی ہے اور تصویر دیکھ کر کہانی لکھیں کے سلسلے میں زینب کی کہانیاں چھپتی رہتی ہیں۔ دوسری بیٹی کا نام ’’ صبا‘‘ ہے ’’ صبا ‘‘ بارہ سال کی ہے اور 7thکلاس میں پڑھتی ہے۔ بہت ہی شرارتی ہے اور اپنی باتوں سے دوسروں کو ہنسانے میں ماہر ہے۔ چھوٹی کانام ’’ مریم‘‘ ہے اور مریم اور صبا کو کہانیاں اور لطیفے پڑھنے کا شوق ہے یہ دونوں زینب کی طرح کتابیں نہیں پڑھتیں۔ ان کاخیال ہے کہ جب ہم بڑے ہوں گے تو کتابیں پڑھیں گے۔ ابھی تو بچوں کے میگزین پڑھنے کی عمر ہے ہماری۔ ہاں’’ مریم‘‘ کے بارے میں تو بتایا ہی نہیں۔ مریم دس سال کی ہے۔ پانچویں کلاس کی طالبہ ہے اور اسے سوالات کرنے کا بہت شوق ہے دن میں کم سے کم ایک درجن سوالات تو کرہی لیتی ہے اور ابھی کچھ دن پہلے ’’مریم‘‘ نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ جو کہانیاں لکھتی ہیں انہیں’’ ڈاؤن لوڈ‘‘ کہاں سے کرتی ہیں۔‘‘
’’ کس کہانی کو لکھے وقت کشمکش کا شکار ہوئیں اور جو شہرت اور عزت ملی ہے، اس کے بارے میں سوچا تھا؟‘‘
میں نے کچھ ہی عرصہ قبل ایک ناولٹ لکھا تھا ’’برزخ سے دوزخ تک ‘‘ اگرچہ وہ مسترد ہوگیا مگر اسے لکھتے وقت میں خود بھی کافی کشمکش کا شکار تھی کیونکہ اس کا موضوع ایسا تھا لیکن وہ میرے دل کے قریب ہے۔
اور میں نے تو کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں مشہور مصنفہ بن جاؤں گی بلکہ میں نے تو مصنفہ بننے کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا تو مشہور ہونا تو دور کی بات ہے۔ بس پتا ہی نہیں چلا پہلی کہانی لکھی اور وہ چھپ بھی گئی۔ اور پھر لکھتی ہی چلی گئی اور آج تک لکھ رہی ہوں اور اللہ نے شہرت دے دی۔ کبھی سوچا نہیں تھا اس بارے میں۔ دراصل میں نے کبھی بڑے بڑے خواب دیکھے نہیںاور نہ ہی اپنے بارے میں ایسا سوچا تھا۔ بس اللہ کی مہربانی ہے۔ ‘‘
’’نئے لکھنے والوں کے لیے کیا کہیں گی؟‘‘
’’ نئے لکھنے والوں کے لیے یہی کہوں گی مطالعہ زیادہ کریں اور لکھتے رہے اور لکھتے ہی رہیں چاہے آپ کی کتنی ہی تحریریں مسترد ہوجائیں ہمت نہیں ہاریں۔ کبھی نہ کبھی تو آپ ایسا لکھ لیں گے کہ چیزیں چھپنا شروع ہوجائیں گی۔ اور ہاں والدین سے میری گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی ہنر بھی سکھائیں تاکہ وقت پر وہ پریشان نہ ہو۔ اور میں نے دیکھاہے کہ والدین اپنا سب کچھ اپنے بچوں پر قربان کردیتے ہیں اور بڑھاپے میں خود خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں تو ایسانہ کریں آپ نے تعلیم دلوادی۔ اب انہیں کہیں کہ اپنی ذمہ داریاں خود اٹھائیں۔ اپنی شادیاں اپنے پیسے سے کریںا ور میں یہ بات اپنے اردگرد کے لوگوں کو دیکھ کر ہی کہہ رہی ہوں جو بڑھاپے میں خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔
مزاج کے حوالے سے کچھ باتیں میں نے پہلے بھی کہی تھیں اور مزید اس میں اضافہ کرنا چاہوں گی کہ میں ذرا پرانے زمانے کی ہوں۔ زمانے کے ساتھ چلنا۔ قدم کے ساتھ قدم ملاکر چلنا میں ان خواتین میں سے نہیں ہوں۔ جدید چیزیں استعمال کرنا نئی سہولیات سے فائدہ اٹھانا اچھی بات ہے کہ سب سہولیات ہمارے فائدے کے لیے ہی ہیں۔ لیکن مجھے ان چیزوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے اس لیے میں اکثر پرانی چیزیں بھی استعمال کرلیتی ہوں جیسے گرائنڈر اگرخراب ہوجائے تومیں سل بٹہ استعمال کرلیتی ہوں ہاون دستہ بھی استعمال کرلیتی ہوں۔ اس میں مجھے کوفت یا بیزاریت نہیں ہوتی اور نہ ہی میں اپنے ہاتھ پاؤں چھوڑ دیتی ہوں کہ ہائے گرائنڈر خراب ہوگیا ہے تو کیا کروں۔
اسی طرح پراٹھے پر یا روٹی پر سبزی رکھ کر کھانا یا اچار کے ساتھ کھانے میں بہت مزہ آتاہے اور یہ عادت مجھ میں کیوں ہے پتا نہیں ۔ ہمارے گھر میں بھی کوئی ا تنا سادہ مزاج نہیں ہے۔ جتنی میں ہوں۔ پھر جب میں اپنی نانی اور دادی کا زمانہ سوچتی ہوں تو مجھے خیال آتا ہے کہ میری نانی دادی میں ایک بنگلہ دیش کے گاؤں کی تھیں اور ایک انڈیا کے گاؤں کی تھیں۔ تو مجھے لگتاہے کہ ان سے کچھ باتیں مجھے ورثے میں ملی ہیں۔
اپنا گھر ہر عورت کا خواب ہوتاہے تو جب میں اس کے بارے میں سوچتی ہوں تو میرے خوابوں کا گھر کوئی بڑا بنگلہ نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹا سا گھر ہو مگر اس میں ’’ صحن‘‘ بڑا سا ہو۔ صحن میں کیاریاں ہوں پھلواری لگتی ہوئی ہو۔ ایک درخت ہو اور درخت کے نیچے ایک تخت یا چار پائی ہو اور اس میں میں ’’براجمان‘‘ ہوں مجھے صحن والے گھر بہت زیادہ پسند ہیں۔ اگر میرے پاس وسائل ہوں تو میں ایسا ہی بڑے صحن والا گھر بنواؤں۔ ویسے میری اماں کوبھی شوق تھا پھلواری کا اور بنگال میں انہوں نے تو یہ سب چیزیں دیکھی تھیں۔ انہوں نے گھر میں بھی کیاری بنائی ہوئی تھی جس میں کریلے اور دیگر سبزیاں لگائی ہوئی ہوتی تھیں۔
’’ میں آپ کو فری ہینڈ دیتی ہوں کہ آپ اس انٹرویو کے ذریعے جو کچھ کہنا چاہیں ضرور کہیں؟‘‘
’’بہت شکریہ . اور شکر ہے کہ میں کوئی سیاسی کارکن نہیں ہوں ورنہ پتا نہیں کس کو کیا کیا کہہ دیتی ۔ اور اپنے قارئین کہ جن حالات ومسائل ومشکلات کا شکار ہیں سب لوگ عمومی طورپر، تو اس معاملے میں میں اور آپ ایک پیج پر ہیں۔
میں جس گھر میں رہتی ہوں وہ چھوٹا سا گھر ہے 60سے 70سال پرانی تعمیرات ہے۔ بہت ہی خستہ حالات ہیں۔ بارش کے دنوں میں برا حال ہوتاہے ۔
ہمارے بچے اور میاں کہتے ہیں کہ چلو اب کڑاہی چڑھادو اور پکوڑے ہی بنادو۔ تو میٹھے اور نمکین پکوڑے بن جاتے ہیں جو آرام سے ہم کھاپی لیتے ہیں اور کچھ گھنٹہ کے بعد فرسٹریشن کافی حد تک کم ہوجاتی ہے۔
میرے شوہر ہرحال میں پرامید رہتے ہیں اور خوش رہتے ہیں جبکہ میں ایسی نہیں ہوں۔ میں بہت سے معاملات کو بہت گہرائی میں جاکر سوچتی ہوں۔ مستقبل کے اندیشے مجھے بے چین رکھتے ہیں۔ اپنے شوہر سے یہی سیکھاہے کہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی بہت ہیں وہ بہت پرامید رہتے ہیں جبکہ میں نہیں رہ پاتی۔ میں بہت گہرائی میں جاکر سوچتی ہوں اور بہت زیادہ سوچتی ہوں۔ میرے شوہر بڑی بڑی خوشیوں کا انتظار نہیں کرتے۔ میں بھی اب یہی کوشش کرتی ہوں کہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں انجوائے کروں۔ مگر کر نہیں پاتی۔
ہم اپنی کہانیوں میں مشکلات دکھاتے ہیں۔ اندھیرے دکھاتے ہیں اور آخرمیں حل کردیتے ہیں ، تو پھر میں بھی یہی سوچتی ہوں کہ کہانیوں میں زندگی ہو نہ ہو زندگی ایک کہانی ضرور ہے۔ آخرمیں سب اچھا اچھا ہو ہی جاتاہے اور امید ہے کہ ہمارے ساتھ بھی سب اچھا اچھا ہو ہی جائے گا۔
اور اپنے شوہر کے بارے میں پھر ایک بات ضرور کہوں گی کہ میں نے ان سے یہ بات سیکھی کہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے لطف اندوز ہوں اور حالات کتنے ہی مشکل اور مایوس کن ہو ،پریشان نہ ہوں۔ وہ ان حالات میں خود بھی ہنس پڑتے ہیں اور مجھے بھی ہنسانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور پھر جب میں ہنس پڑتی ہوں تو بچوں سے کہتے ہیں دیکھو تمہاری اماں کو ہنسادیا۔
اور ہمارے معاشرے میں شادی شدہ وہ عورت بڑی خوش نصیب ہوتی ہے جس کا شوہر اس کو عزت دیتاہے، تو اللہ کا شکر ہے کہ میں خوش نصیب ہوں اس معاملے میں اور اب میں بھی چیزوں کو پوزیٹو دیکھنے لگی ہوں۔ ‘‘
’’ وہ بامحاورہ زبان جس کے بولنے والے بھی بہت کم ہیں آپ اپنی کہانیوں میں کیوں لکھتی ہیں؟‘‘
’’مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں بھولے بسرے،متروک اور گمشدہ لفظوں اور اصلاحات کا خزانہ موجود ہے جس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک لفظ بھی دوبارہ رائج ہوجائے تو سمجھوں گا میری محنت ٹھکانے لگی۔ میں بھی یہی سوچ کر ہر زبان لکھتی ہوں۔
اور میرے لکھنے کی روٹین یہ ہے کہ صبح ور رات کے وقت لکھتی ہوں۔ صبح سے دوپہر تک ہمارے یہاں خاموشی ہوتی ہے۔ پھر بچے دو بجے اسکول سے آجاتے ہیں اور پھر جو چڑیاں چہچہاتی ہیں تو رات گئے تک یہ ہنگامہ رہتاہے۔‘‘
’’لکھنے پڑھنے کے علاوہ کیا مشاغل ہیںآپ کے؟‘‘
’’بے شمار. مختلف ادوار میں مختلف مشاغل رہے ،اسکول اکیڈمی میں پڑھانا۔ قرآن کا انتظام اہتمام اور شرکت، نشرواشاعت کاکام، مختلف ریلیوں اور جلسے جلسوں میں شرکت، کوکنگ بہت کرتی تھی اور بہت شوق سے کرتی تھی۔ رشتے داروں سے ملنا جلنا۔
سلائی بھی سیکھی اور کروشیابھی سیکھا، دو پٹوں پر پرنٹنگ بھی بہت کی اور گلے اور آستین بھی بہت بنائی۔
اور چلتے چلتے ایک بات کہنا چاہوں گی کہ میرے انٹرویو کی پہلی قسط میں دو تین باتیں غلط شائع ہوگئی ہیں۔ مثلاً لکھاگیا ہے کہ میرے والد کی شادی لاہور والی لڑکی سے ہوئی تھی جبکہ ان کی شادی بنگال والی لڑکی سے ہوئی تھی۔
پھر ایک محاورہ لکھاہے ’’ دل گلابی ہونا‘‘ جبکہ ’’گلابی نہیں بلکہ ’’الاپی‘‘ ہے اس کا مطلب ہے کسی کام کو کرنے کا بہت دل چاہنا۔ ‘‘
اور اس کے ساتھ ہی ہم نے انٹرویو کااختتام کیا۔
بہت شکریہ نعیمہ ناز آپ نے وقت دیا۔
٭٭


