نور فاطمہ زاہد لاہور
آپ کتنے بہن بھائی ہیں؟اور آپ کا کون سا نمبر ہے؟تعلیم کتنی ہے؟
ج۔ہم چار بہن بھائی ہیں اور میرا نمبر دوسرا ہے۔ میں لاہور کالج فاروومین یونی ورسٹی میں ڈاکٹر آف فارمیسی تھرڈ پروفیشنل ائیر کی اسٹوڈنٹ ہوں۔
س۔خوبیاں کیا ہیں اور خامیاں کیا ہیں؟آپ کی ہابی؟
ج۔ما شائ اللہ سے خوبیاں تو بے شمار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حسن کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔
اس کے علاوہ شروع سے ذہین ہوں ۔اسی باعث پندرہ سال کی عمر میں میٹرک کے بعد میں نے میرٹ بیس پر اسکالر شپ حاصل کی جس نے میرے انٹر میڈیٹ کے تمام تعلیمی اخراجات ادا کیے اور اب یونی ورسٹی کی فیس ادائیگی بھی ان ہی کے ذمے ہے۔ اس اسکالر شپ کو حاصل کرنے کے لیے اچھے مارکس کے ساتھ پانچ انٹرویوز کلیئر کرنا بھی ضروری تھے۔الحمدللہ میں نے سب کلیئر کیے اور کل دو سو پچاس امیدواروں میں سے تیس کو اسکالر شپ ملی جس میں میرا نمبر تیسرا تھا۔
اس کے بعد ایف ایس سی پری میڈیکل میں کالج کی سپر ماڈل کلاس میں ایڈمیشن ملا اور انٹر میڈیٹ کے بعد گورنمنٹ یونی ورسٹی میں پانچ سالہ ہایئر پروفیشنل ڈاکٹریٹ ڈگری میں ایڈمیشن مل گیا اللہ کے فضل وکرم سے میں یونی ورسٹی میں بھی فرسٹ پروفیشنل ایئر کی ٹاپر ہوں اور اس بات پر مجھے وزیر اعظم صاحب کی یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم سے دسمبر 2023ئ میں لیپ ٹاپ بھی ملا۔
ذہین،فرماں بردار اور محنتی ہونے کے باعث میں ہمیشہ سے اپنی ٹیچرز کی فیورٹ رہی ہوں اور اپنی فیملی کے لیے باعث فخر ہوں۔ انٹر میڈیٹ کے بعد میں نے اپنے اندر چھپی رائٹر بننے کی خداداد صلاحیت کو دریافت کیا اور لکھنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ اگست2021ئ میں ایک نامور ڈائجسٹ میں میری پہلی کہانی شائع ہوئی جس کو کافی پذیرائی ملی۔ دیکھتے ہی دیکھتے میرا شمار بڑے مختصر وقت میں ان کے بہترین رائٹرز میں ہونے لگا ہے۔تاحال اسی نامور ڈائجسٹ کے لیے لکھ رہی ہوں۔
یہ تو ہوگئیں خوبیاں۔
خامیوں کی بات کروں تو میں حد درجہ حساس ہوں۔ مجھے لوگوں کے رویے، الفاظ بہت بری طرح سے ہرٹ کرتے ہیں۔ اگر کوئی حادثہ دیکھ لوں یا کسی کو تکلیف میں مبتلا دیکھوں تو مجھے کئی دن تک وہ منظر نہیں بھولتا اور میں پریشان رہتی ہوں۔ دوسری خامی یہ ہے کہ میں ہر کسی سے مخلص ہوکر ملتی ہوں اور سمجھتی ہوں کہ شاید دوسرے بھی میرے ساتھ بالکل میری طرح ہی مخلص ہیں مگر جب منافقت اور مطلب سے بھری دنیا اپنا اصل رنگ دکھاتی ہے ،تو میری روح تک گھائل ہوجاتی ہے اور مجھے کئی دن تک دکھ رہتاہے۔ مجھے لگتاہے کہ مجھے اپنے دل کو مضبوط کرنا چاہیے اور لوگوں کو ڈیل کرنے کا طریقہ سیکھنا چاہیے۔
ہابی میں جیسے پہلے بتایا کہ میں ایک رائٹر ہوں تو تحریریں لکھنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اس کے علاوہ بک ریڈنگ میری روزانہ کی روٹین ہے۔ مجھے کانٹی نیٹل فوڈز بنانے کا بہت شوق ہے۔ مجھے فرنچ، اٹالین اور چائنز کھانے بہت پسند ہے اور میں انہیں بنانے میں مہارت رکھتی ہوں۔
س: خواتین ڈائجسٹ سے آپ کا تعلق کتنا عرصہ پراناہے؟
ج: یہ بڑا دلچسپ سوال ہے ،میرا خواتین ڈائجسٹ سے اٹھارہ سال پرانا تعلق ہے۔ جب میں دوسال کی تھی تب میری ماما اپنے ریڈنگ گلاسز لگاکر تکیے سے ٹیک لگائے میٹھی ،خواتین ڈائجسٹ پڑھتی تھیں اور جب وہ کسی کام سے اٹھ کر باہر جاتی تو میں ان کی طرح گلاسز لگاکر تکیے سے ٹیک لگائے ڈائجسٹ کھول کر دیکھنا شروع کردیتی۔ یہ بات میں ہوش سنبھالنے کے بعد ہی سے سنتی آرہی ہوں۔ کتابوں سے محبت مجھے وراثت میں ملی ہے۔ میری والدہ ماجدہ کو مطالعے کا بہت شوق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچپن سے لے کر اب تک میں نے ا پنے اردگرد کتابیں ہی دیکھیں جس میں خواتین ڈائجسٹ کو اولین ترجیح حاصل ہے۔
س: خواتین اور شعاع کی کون سی رائٹر اچھی لگتی ہے؟
ج: خواتین کی ایسی بہت سی رائٹرز ہیں جن کا لکھا دل کو چھوتا ہے اور میں خود بھی ان کی کہانیوں سے کچھ نا کچھ سیکھتی ہوں۔ عمیرہ احمد صاحبہ کو ایموشنز کاسٹ کرنے پر ملکہ حاصل ہے جبکہ نمرہ احمد صاحبہ کی ڈائیلاگ ڈیلیوری اسٹرونگ ہے۔ فرحت اشتیاق صاحبہ کی اسٹوری لائن اور کریکٹرز کی پرسنلٹی بڑی زبردست ہوتی ہے۔ سمیر احمید صاحبہ ،ہمیشہ اندرون لاہور پر لکھی تحریروں کی منظر نگاری بڑی خوب صورتی سے کرتی ہیں۔ آسیہ رئیس خان کا انداز تحریر منفرد ہے۔ اس کے علاوہ باقی رائٹرز بھی اچھی تحریریں لانے میں پیش پیش ہیں۔
س: سالگرہ مناتی ہیں؟
ج: میں اپنی سالگرہ بہت شوق اور اہتمام سے مناتی ہوں۔ اپنی برتھ ڈے کے دن میں نیو ڈریس پہنتی ہوں اور سارا دن تیار ہوکر رہتی ہوں۔ اگر یونی ورسٹی سے میری برتھ ڈے والے دن چھٹی نہ ہو تو ساتھ کیک لے کر جاتی ہوں اور فرینڈز کے ساتھ بھی برتھ ڈے سیلیبریٹ کرکے، ان کے محبت سے دیے تحائف وصول کرتی ہوں۔ اس دن گھر میں میری پسند کا کھانا بنتاہے اور میرے بہن بھائی میرے لیے سرپرائز ڈیکوریشن کرتے ہیں۔ رات میں کیک کٹ کرکے ،تمام فیملی ممبرز کے دیئے تحائف کھول کردیکھتی ہوں اور پھر سب میری پسند کے ریسٹورنٹ سے ڈنر کرتے ہیں اور یوں میرا برتھ ڈے کا دن خوشی خوشی گزرتا ہے۔
س: شعر وشاعری سے لگاؤ؟ پسندیدہ شعر؟
ج:ـ شعر شاعری میں مجھے ان شاعروں کے اشعار اور غزلیں پسند ہیں؟
مرزا غالب ، اقبال، مومن خان مومن اور سرفراز
میری یونی ورسٹی میں اقبال کی شاعری کا مقابلہ منعقد ہوا تھا جس میں، میں نے بھی حصہ لیا اور مقابلہ جیت لیا تھا۔ میرا پسندیدہ شعردرج ذیل ہے۔
کیا ضروری ہے کہ ہر بات کی تصدیق بھی ہو
وہ جو نز دیک نظر آتاہے۔ نزدیک بھی ہو
تم اگر صاحب نظر ہو تو، یہ لازم تو نہیں
تم جسے ٹھیک سمجھتے ہو، وہ ٹھیک بھی ہو
صائمہ گل مردان
شعاع سے وابستہ ہوئے زمانے بیت گئے شاید بچپن اور لڑکپن کا درمیانی عرصہ ہو۔ پریوں شہزادیوں کی کہانیاں پڑھتے پڑھتے جانے کیسے شعاع ہاتھ لگا۔ شروعات لطیفوں ،اقوال زریں سے ہوئی کہ یہی ترجیح اور عمر کا تقاضا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ افسانوں اور پھر ناول کی طرف آئے۔ نئے پرانے جیسے بھی ملتے خوشی خوشی پڑھ لیتے۔
شادی کے بعد میاں صاحب منع کرتے تھے کہ نہ پڑھو مگر جب 2005میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کا انٹرویو شعاع میں پڑھا۔ تو سمجھ گئے کہ یہ معیاری ادب ہے۔ تب ہفتہ بازار سے نئے پرانے ڈھیر سارے ڈائجسٹ دلا دیتے۔ اس ٹائم ہم اسلام آباد میں ہوتے تھے کہ میاں صاحب وہاں پوسٹڈ تھے۔ انہی دنوں ’’ بن روئے آنسو‘‘ فرحت اشتیاق اور پیر کامل شروع ہوئے تھے۔ بس وہ دن اور آج تک ہر ماہ باقاعدگی سے دونوں رسالے ہمارے ساتھ ساتھ ہیں۔
س: دن کا آغاز کب ہوتاہے؟
ج: اس ذات کریمی کا احسان ہے دن کا آغاز فجر کے ساتھ ہوتاہے۔ ہمارے ہاں دیر سے اٹھنے کا رواج نہیں۔ا سلام آباد جیسے ایڈوانس شہر میں زندگی کے نوسال گزارے مگر وہاں بھی یہی روٹین تھی ،فجر کے ساتھ اٹھنا، نماز، تلاوت پھر ناشتا، پنجگانہ نماز کی پابندی سے ڈیلی روٹین خود بخود سیٹ ہوجاتی ہے۔ ہر کام وقت پر عمدہ طریقے سے ہوجاتاہے۔
میاں صاحب کو آفس اور بچوں کو اسکول کالج کے لیے آگے پیچھے رخصت کرکے ہم کمر کس لیتے ہیں کہ سستی ہمیں نہیں پسند۔ اگر کپڑے دھونے ہوں تو مشین لگاکر ساتھ ساتھ ڈسٹنگ ، ناشتے کے برتن اور دوپہر کے لیے آٹا گندھ جاتاہے۔ دس بجے تک دھلا دھلایا صاف ستھرا گھر چمک رہاہوتاہے۔ پھر ہمارا ٹی بریک ہوتاہے چائے، بے بے کے ساتھ ہلکی پھلکی گپ شپ اور ساتھ شعاع وخواتین پڑھنا۔ پھر دوپہر کے کھانے کی تیاری، جب تک بے بے سبزی بناتی ہیں مسالہ بھن چکا ہوتاہے ۔
بچوں کے آنے کے بعد کھانا کھایا جاتاہے۔ ظہر پڑھ کر قیلولہکرنا ،عصر کے بعد میاں صاحب بھی آفس سے آجاتے ہیں چائے کا دور چلتاہے۔ مغرب سے پہلے ہانڈی تیار کرنا کہ مغرب کے بعد کھانا کھایا جاتاہے۔ عشائ پڑھ کر بچوں کے ساتھ ہوم ورک اور زبانی قرآن کی سورتیں یاد کرواتی ہوں۔ ماشائ اللہ سے سورہ ملک کے بعد اب سورہ مزمل بھی آدھی سے زیادہ حفظ کرلی ہے۔
س: کوئی کہانی جسے پڑھ کر دل الجھا؟
ج: ہائے اگر سچ پوچھیں تو افسانوی دنیا ہی تو ہمارا ڈریم ورلڈہے۔ جہاں روٹھے ہوئے مان جاتے ہیں۔ بچھڑے ہوئے مل جاتے ہیں۔ غلطیاں سدھارلی جاتی ہیں۔ معافی تلافی کرکے سب کچھ اچھا اچھا ہوجاتاہے جب بھی تلخ وناگوار حالات ہوں میں خود کو افسانوں کی دنیا میں لے جاتی ہوں۔
س: خوبیاں ، خامیاں؟
ج: بندہ بشر ہیں۔ یقینا خامیاںبھی ہوں گی اور خوبیاں بھی ،ایسا کرتے ہیں میں اپنی چند عادات بتادیتی ہوں خامیاں خوبیاں آپ خود جج کرلیں۔
شادی سے پہلے جتنی لاپروا ہ ،چلبلی اور من موجی تھی اب اتنی ہی ذمہ دار، کم گو اور میں کو مارنے والی۔ ہر وقت مہمانوں کی ریل پیل لگی رہتی ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ اچھی میزبان اور مہمان نواز ہوں۔ یا رم کا کردار، سائی ہوں کہ لوگ بے دھڑک میرے سامنے دل کا بوجھ ہلکا کرلیتے ہیں۔ میکے جاکر بھتیجیوں بھتیجی کے ساتھ بچی بن جاتی ہوں۔ ٹینس، لڈو ، کیرم کی بازی لگتی ہے۔ لطیفے، پہیلیاں رات گئے تک زبردست محفل جمتی ہے۔
اگر کسی کی کوئی بات بری لگ جائے تو دل ہی دل میں کڑھتی ہوں۔ منہ پہ کچھ نہیں کہتی۔ غصہ بہت آتاہے جب حمدان اور سفیان آپس میں لڑتے ہیں( وہ بھی موبائل پر) یا ہوم ورک ٹھیک طرح سے نہیں کرتے۔ شاپنگ کی شوقین ہوں کہ اچھے کپڑے اور جوتے کمزوری ہے ،ناقابل برداشت رویوں، لہجوں میں بھی کوئی نہ کوئی اچھائی ڈھونڈ لیتی ہوں۔
س:بارش کیسی لگتی ہے؟
ج: گرمیوں میں بہت اچھی اور سردیوں میں اگر دورانیہ طویل ہوجائے تو اداس کردیتی ہے۔
س: پسندیدہ تحریر؟
ج: پیرکامل، بن روئے آنسو، آب حیات، خالی آسمان، زرد موسم، قراقرم کا تاج محل، ام الیقین ، جنت کے پتے، پارس، پارم ، حسن المآب ، نازنین، آسیہ رئیس خان کے ناول، نعیمہ ناز کی ہر تحریر ، صدف ناصر، گوشی اور ناہید اسماعیل کا ہر خط ۔
س: پسندیدہ کتاب؟
ج: جینٹل مین سیریز، شہاب نامہ، غازی، آب گم ،چراغ تلے، شہاب گھر۔
س: پسندیدہ اقتباس؟
ج: بہت پہلے شعاع میں فوزیہ فرخ نے انسانی نفسیاتی کی بہت اچھی ترجمانی کی تھی۔
ہر انسان کی زندگی میں عروج وزوال دونوں ادوار آتے ہیں۔ ہاں کسی کے لیے عروج کا زمانہ طویل ہوتاہے اور کسی کے لیے زوال کا ۔ اس میں ناراض ہونے پاگلہ کرنے کی بات نہیں۔ اصل میں ان دونوں ادوار کی اپنی اپنی آزمائشیں ہیں جن سے انسان کو ہرحال میں گزرنا ہوتاہے۔ یہ الگ بات کہ انسان اس بات کو سمجھ نہیں پاتا اس کو عیش وآرام مہیا کیاجائے تو وہ مذہب کو بھول کر جشن منانا شروع کردیتاہے وہ سمجھنے لگتاہے کہ یہ تو اس کا حق ہے یہ تو اس کے لیے ہونا ہی چاہیے تھا اور جب زوال آتاہے تو گلے شکوے شروع کردیتاہے تقدیر کا گلہ، زمانے کا گلہ، زندگی سے گلہ، موت کی خواہش گویا ہر قسم کی تاریکی اپنے گرد سجاکر بیٹھ جاتاہے یہ سوچے بغیر کہ یہ تو زندگی کے رنگ ہیں ان سے گزرنا ہی ہے۔ ہنس کر گزاروں چاہے روکر، کیا ہورہاہے کیا ہونا چاہیے یہ تو انسان کے اختیار میں کبھی نہیں دیاگیا۔
ہمیں نہیں پسند۔ اگر کپڑے دھونے ہوں تو مشین لگاکر ساتھ ساتھ ڈسٹنگ ، ناشتے کے برتن اور دوپہر کے لیے آٹا گندھ جاتاہے۔ دس بجے تک دھلا دھلایا صاف ستھرا گھر چمک رہاہوتاہے۔ پھر ہمارا ٹی بریک ہوتاہے چائے، بے بے کے ساتھ ہلکی پھلکی گپ شپ اور ساتھ شعاع وخواتین پڑھنا۔ پھر دوپہر کے کھانے کی تیاری، جب تک بے بے سبزی بناتی ہیں مسالہ بھن چکا ہوتاہے ۔
بچوں کے آنے کے بعد کھانا کھایا جاتاہے۔ ظہر پڑھ کر قیلولہکرنا ،عصر کے بعد میاں صاحب بھی آفس سے آجاتے ہیں چائے کا دور چلتاہے۔ مغرب سے پہلے ہانڈی تیار کرنا کہ مغرب کے بعد کھانا کھایا جاتاہے۔ عشائ پڑھ کر بچوں کے ساتھ ہوم ورک اور زبانی قرآن کی سورتیں یاد کرواتی ہوں۔ ماشائ اللہ سے سورہ ملک کے بعد اب سورہ مزمل بھی آدھی سے زیادہ حفظ کرلی ہے۔
س: کوئی کہانی جسے پڑھ کر دل الجھا؟
ج: ہائے اگر سچ پوچھیں تو افسانوی دنیا ہی تو ہمارا ڈریم ورلڈہے۔ جہاں روٹھے ہوئے مان جاتے ہیں۔ بچھڑے ہوئے مل جاتے ہیں۔ غلطیاں سدھارلی جاتی ہیں۔ معافی تلافی کرکے سب کچھ اچھا اچھا ہوجاتاہے جب بھی تلخ وناگوار حالات ہوں میں خود کو افسانوں کی دنیا میں لے جاتی ہوں۔
س: خوبیاں ، خامیاں؟
ج: بندہ بشر ہیں۔ یقینا خامیاںبھی ہوں گی اور خوبیاں بھی ،ایسا کرتے ہیں میں اپنی چند عادات بتادیتی ہوں خامیاں خوبیاں آپ خود جج کرلیں۔
شادی سے پہلے جتنی لاپروا ہ ،چلبلی اور من موجی تھی اب اتنی ہی ذمہ دار، کم گو اور میں کو مارنے والی۔ ہر وقت مہمانوں کی ریل پیل لگی رہتی ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ اچھی میزبان اور مہمان نواز ہوں۔ یا رم کا کردار، سائی ہوں کہ لوگ بے دھڑک میرے سامنے دل کا بوجھ ہلکا کرلیتے ہیں۔ میکے جاکر بھتیجیوں بھتیجی کے ساتھ بچی بن جاتی ہوں۔ ٹینس، لڈو ، کیرم کی بازی لگتی ہے۔ لطیفے، پہیلیاں رات گئے تک زبردست محفل جمتی ہے۔
اگر کسی کی کوئی بات بری لگ جائے تو دل ہی دل میں کڑھتی ہوں۔ منہ پہ کچھ نہیں کہتی۔ غصہ بہت آتاہے جب حمدان اور سفیان آپس میں لڑتے ہیں( وہ بھی موبائل پر) یا ہوم ورک ٹھیک طرح سے نہیں کرتے۔ شاپنگ کی شوقین ہوں کہ اچھے کپڑے اور جوتے کمزوری ہے ،ناقابل برداشت رویوں، لہجوں میں بھی کوئی نہ کوئی اچھائی ڈھونڈ لیتی ہوں۔
س:بارش کیسی لگتی ہے؟
ج: گرمیوں میں بہت اچھی اور سردیوں میں اگر دورانیہ طویل ہوجائے تو اداس کردیتی ہے۔
س: پسندیدہ تحریر؟
ج: پیرکامل، بن روئے آنسو، آب حیات، خالی آسمان، زرد موسم، قراقرم کا تاج محل، ام الیقین ، جنت کے پتے، پارس، پارم ، حسن المآب ، نازنین، آسیہ رئیس خان کے ناول، نعیمہ ناز کی ہر تحریر ، صدف ناصر، گوشی اور ناہید اسماعیل کا ہر خط ۔
س: پسندیدہ کتاب؟
ج: جینٹل مین سیریز، شہاب نامہ، غازی، آب گم ،چراغ تلے، شہاب گھر۔
س: پسندیدہ اقتباس؟
ج: بہت پہلے شعاع میں فوزیہ فرخ نے انسانی نفسیاتی کی بہت اچھی ترجمانی کی تھی۔
ہر انسان کی زندگی میں عروج وزوال دونوں ادوار آتے ہیں۔ ہاں کسی کے لیے عروج کا زمانہ طویل ہوتاہے اور کسی کے لیے زوال کا ۔ اس میں ناراض ہونے پاگلہ کرنے کی بات نہیں۔ اصل میں ان دونوں ادوار کی اپنی اپنی آزمائشیں ہیں جن سے انسان کو ہرحال میں گزرنا ہوتاہے۔ یہ الگ بات کہ انسان اس بات کو سمجھ نہیں پاتا اس کو عیش وآرام مہیا کیاجائے تو وہ مذہب کو بھول کر جشن منانا شروع کردیتاہے وہ سمجھنے لگتاہے کہ یہ تو اس کا حق ہے یہ تو اس کے لیے ہونا ہی چاہیے تھا اور جب زوال آتاہے تو گلے شکوے شروع کردیتاہے تقدیر کا گلہ، زمانے کا گلہ، زندگی سے گلہ، موت کی خواہش گویا ہر قسم کی تاریکی اپنے گرد سجاکر بیٹھ جاتاہے یہ سوچے بغیر کہ یہ تو زندگی کے رنگ ہیں ان سے گزرنا ہی ہے۔ ہنس کر گزاروں چاہے روکر، کیا ہورہاہے کیا ہونا چاہیے یہ تو انسان کے اختیار میں کبھی نہیں دیاگیا۔
**


