خاموشی کو بیان ملے – مریم زاہد – ادارہ

انٹرویو 78

مریم زاہد.لاہور

مارچ کو جب امتحانات سے فارغ ہوکر میں نے خواتین پڑھنا شروع کیا تو ’’کہنی سننی‘‘ میں موجود سوال نامے نے مجھے پھر سے اس ’’ظالم وقت‘‘ کی یاد دلادی۔ مگر یہ کیا یہاں تو سارے سوالات نہ صرف میرے مطلب کے ہیں بلکہ جواب بھی ہمیں فر فر آتے ہیں۔ اس لیے سوچا کیوں نہ اس امتحان میں بھی اپنی قسمت آزمالی جائے۔تو جناب جوابات کے ساتھ حاضر خدمت ہیں۔

میرا نام مریم زاہد ہے۔ ایم ایس سی اکنامکس پارٹ ون کی طالبہ ہوں اور زندہ دلوں کے شہر لاہور میں قیام پذیر ہوں۔ پڑھائی کے متعلق بس اتنا تعارف ہی کافی ہے۔

ارے خوبیوں کے متعلق کیا پوچھتے ہیں یہاں تو ایک لمبی فہرست ہے میرے پاس مگر خامیاں؟

خاندان کے بڑوں کی رائے یہ ہے کہ میں ایک سمجھ دار اور سلجھی ہوئی بچی ہوں اور میری دوستوں کے مطابق میری سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ میں بہت کیئرنگ ہوں۔ مگر میں سمجھتی ہوں کہ جو لوگ آپ کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں ان کی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی آپ کے لیے نہایت اہم ہوتی ہیں اور محبت تو ویسے بھی صرف تو ہی تو کے نظریے پر عمل کرنے کا نام ہے۔ لیکن میرے نزدیک میری سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ میں کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتی اور اس کی ذات پر کامل یقین رکھتی ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ میں تمہیں وہی عطا کرتا ہوں جس کا تم مجھ سے گمان رکھتے ہو۔

اب رہ گئیں خامیاں تو جناب اس کے لیے اِدھر اَدھر جانے کی یا زیادہ سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔

امی کی تازہ ترین ڈانٹ ملاحظہ فرمالیں۔’’یہ سارا سارا دن لیٹ کر ٹی وی دیکھنے اور رسالے پڑھنے کے علاوہ بھی دنیا میں کئی کام ہوتے ہیں۔ لوگوں نے تم کو آگے پوجا کرنے کے لیے نہیں لے کر جانا۔ باتیں تو مجھ کو ہی سننا پڑیں گی نہ کہ بیٹی کو کچھ سکھایا ہی نہیں۔ اب انہیں کیا پتا کہ اولاد ہی نہایت ڈھیٹ ہے۔‘‘ ہر بار اسی قسم کی باتیں کچھ لفظوں کے ہیر پھیر کے ساتھ سننے کو ملتی ہیں۔ حالانکہ میں امی کو کئی دفعہ سمجھا چکی ہوں کہ میں اگلوں کو بتادوں گی کہ یہ سب میری انفرادی خوبیاں ہیں میری امی ایک نہایت سلیقہ شعار خاتون ہیں۔ مگر پھر بھی وہی ہم میں اور وہی گردش زمانہ۔

ابھی کچھ دیر پہلے میں نے اپنی سمجھ داری کا ذکر کیا تھا تو اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جیسے ہی ہم نے شعور کی دنیا میں قدم رکھا تو اپنے ذوق کی تسکین کے لیے ڈائجسٹوں کی دنیا میں سے خواتین اور شعاع کا انتخاب کیا اور پھر2001 سے امی سے کافی مباحثوں کے بعد(روایتی کہانی)یہ باقاعدہ ہماری زندگی میں شامل ہوگیا۔

آپ کے سوال میں لفظ’’تحریر‘‘ پڑھ کر مجھے پہلی دفعہ جمع کے صیغے کی اہمیت کا اندازہ ہوا ہے کیونکہ جب میں نے اپنی یادداشت کو کھنگالا تو جناب’’جو قرض رکھتے تھے جان پر‘،’’ہجر کی شام‘‘،دل سے نکلے ہیں جو لفظ‘(فرحت اشتیاق)

’’کی جاناں میں کون (فائزہ افتخار)‘‘،’’دربار دل (عمیرہ احمد)‘‘،’’یہ دانہ ودوام کی کہانی،رقص طائوس (نگہت سیما‘‘،’’سورج کب رکا ہے، کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی(تنزیلہ ریاض)‘‘،’’بساط دل بھی عجب شہ ہے۔(افشاں آفریدی)‘‘.’’دل من مسافر من (عنیزہ سید)۔ ارے یہ تو ایک لمبی فہرست نکل آئی۔ اب آپ ہی بتائیں بہترین تحریر کا فیصلہ کیسے کریں؟

سالگرہ خیر دھوم دھام سے تو نہیں مناتی مگر اس رب کا شکر ضرور ادا کرتی ہوں جس نے ہمیں زندگی کی نعمت سے نوازا اور اشرف المخلوقات ہونے کا شرف عطا کیا۔ تحفہ اور وہ بھی کتاب کی صورت میں ہائے کیا پوچھ لیا آپ نے یہ تو میری زندگی کی سب سے بڑی حسرت ہے جو پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ البتہ مختلف کارڈز پر لکھی بے شمار دعائیں میرے لیے بہت انمول ہیں۔ مگر میری دوست رابعہ کا لکھا یہ جملہ کہ

’’اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ اپنی ہر نعمت سے نوازے۔‘‘ مجھے بہت پسند ہے۔

اس جدید دور کے بدلتے ہوئے تقاضوں نے جس چیز کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ ہے کتاب۔اگر اس مصروف ترین زندگی میں سے فرصت کے کچھ لمحات میسر آہی جائیں تو لوگ انہیں دیگر تفریحات میں گزارنا پسند کرتے ہیں۔ مگر کتاب ایک ایسی ساتھی ہے جو آپ کو ہر دفعہ اپنے اندر کے انسان کے ایک نئے رخ سے متعارف کرواتی ہے اور سوچ کے نئے در آپ پرواکرتی ہے۔ اس لیے نہ صرف خود کتاب پڑھیں بلکہ اپنے بچوں میں بھی تعمیری صلاحیتوں کے فروغ کے لیے کتب بینی کا رجحان پروان چڑھائیں۔

ابھی چند روز پہلے ہی میں نے ممتاز مفتی کی کتاب’’لبیک‘‘ پڑھی ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی انفرادیت یہ ہے کہ یہ بظاہر تو حج کا سفر نامہ ہے۔ مگر اس میں مقامات کے تفصیلی تعارف اور مناسک حج کے متعلق بیان کرنے کے بجائے حج کے اصل مقصد کو نہایت خوب صورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ ممتاز مفتی نے مناسک حج کی ادائیگی میں پوشیدہ اسرار کو بیان کیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ جو انسان کے باطن کو آلودگیوں سے پاک کرتا ہے اور ایمان کی مضبوطی عطا کرتا ہے۔ ان لوگوں کی حالت بیان کی ہے جو حقیقی معنوں میں حج ادا کرکے آتے ہیں۔

آخر اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گی جو میں ہمیشہ اپنے لیے اور تمام امت مسلمہ کے لیے مانگتی ہوں۔

میرے خدا میری سوچ کو

تابندگی دے دے

مجھے اندھیروں سے نکال کر

نئی روشنی دے دے

غم دنیا کے جھمیلوں سے

مجھے آزاد کردے

اپنے عشق پر مبنی

نئی زندگی دے دے

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں