خاموشی کو بیان ملے – بریرہ حسن – ادارہ

انٹرویو 78

میر انام بریرہ حسن ہے، میری تعلیم میٹرک تک ہے میں نے چار سالہ عالمہ کا کورس بھی کیا ہے الحمدللہ میری تاریخ پیدائش یکم اگست ہے رسالے پڑھنا ، ڈرامے دیکھنا، اپنے بہن بھائیوں سے اپنے بچپن کی باتیں سننا ، اب میری تعلیم مکمل ہوئی ہے تو فراغت کے مزے لوٹ رہی ہوں اور ہاں مہمان نوازی بے حد پسند ہے۔

خوبیاں:

ہائے میں اپنی خوبیا ں کیسے بتائوں، چلیں کچھ بتادیتی ہوں اپنے بڑے بھائی کے بقول میری یہ بہن بہت شریف ہے(آہم)میری کچھ دوستیں کہتی ہیں تم بہت ہنس مکھ ہو اور ایک خوبی کہ دل کو جلد صاف کرلیتی ہوں اور دوسروں کو معاف کردیتی ہوں۔

مزاج تو میرا ٹھنڈا ہے لیکن بے تکی باتوں پرغصہ کس کو نہیں آتا ،سب کو آتا ہے ناں؟لہٰذا مجھے بھی آتا ہے کوئی بڑا ہی خلاف مزاج بات کرے تو برداشت نہیں ہوتی ،ٹوک دیتی ہوں میری نظر میں یہ ایک خامی ہے۔

خواتین سے تعلق؟

خواتین سے تعلق زیادہ پرانا نہیں چند سال پہلے جب میں نویں کلاس میں تھی تو میری کزن (چچازاد) کے پاس خواتین تھا ،اس نے کہا تم یہ رسالہ بھی پڑھا کرو پھر نہ پوچھیں ایک نہ ختم ہونے والا تعلق قائم ہوگیا۔

وہ تحریریں جواب تک یاد ہیں؟

عمیرہ کی تحریر ،دانہ پانی ،موتیا مراد جو اپنوں کی ہی بے حسی سے مل نہ سکے ،انگنا پھول کھلیں گے کی ثانیہ کی بے وقوفیاں نہیں بھولیں گی ویسے دادیبھی نہ بھولنے والا کردار تھا اور بھی بہت سی تحریریں ہیں جو ذہن پر نہ مٹنے والے نقش چھوڑ گئی ہیں۔

کیا سالگرہ مناتی ہیں؟

نہیں نہیں سالگرہ نہیں مناتی ،بس سب کو بتادیتی ہوں کہ آج میری سالگرہ ہے ،اگر یاد نہ ہو تو پیارے ابو یاد کروادیتے ہیں ویسے میں سالگرہ منانا اچھا نہیں سمجھتی اگر کوئی کیک کھلادے تو برا بھی نہیں سمجھتی ہاہاہا۔

اپنی زندگی کا کون سا دور بھول نہیں سکتی؟

مجھے اپنا بچپن کبھی نہیں بھولے گا ،گرمی میں شہتوت کے درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں جھولا جھولنا، باغ میں جانا آم توڑتوڑ کے کھانا ،پکڑن پکڑائی کھیلنا ٹیوب ویل پر نہانا ،اسکول جانا واپسی پر بنچ پر بیٹھ کر چیز کھانا چھٹی کے دن موج مستیاں کرنا، یہ زیادہ پرانی بات نہیں صرف دس بارہ سال پہلے کی بات ہے لیکن غور کرنے کی بات اتنے سے عرصے میں ماحول کتنا بدل گیا۔

آپ کی پسندیدہ رائٹر؟

عمیرہ احمد، نمرہ احمد، راحت جبیں،عنبرین ابدال ،عائشہ نصیر ،مصباح نوشین، ام ہانی، مریم عزیز، نعیمہ ناز،سائرہ رضا،شازیہ اینڈ نازیہ جمال طارق نگہت سیما ،زاراہنجرا، سمیر احمید اور بہت سی رائٹر ہیں جو اچھا لکھتی ہیں۔

کس کہانی نے رلایا؟

ویسے میں جلدی رونے والوں میں سے نہیں اگر رونا آئے تو کنٹرول مشکل ہوجاتا ہے ویسے کسی کردار نے رلایا تو نہیں ہے دکھی کیا ہے لیکن میںنے ایک کہانی پڑھی ہے شام سے پہلے اس میں جو لڑکی کے ساتھ ہوا بہت برا ہوا ،پہلے سوتیلے باپ کے چنگل سے نکلی تو جابر شوہر ملا جب بچہ پیدا ہوا تو باپ نے چوری سے شوہر کو اٹھاکے دے دیا اور بچہ کتنا چھ ماہ کا بس پھر آنکھوں میں آنسو آگئے۔

**

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں