امتل عزیز شہزاد – شاہین رشید

انٹرویو 78

’’آپ کے افسانے یا ناول میں کسی جیتے جاگتے انسان کا عکس ہے ؟ اور جب اس نے پڑھا تو سوچا کہ یہ تو مجھ پر لکھا ہے . ایسا ہوا؟‘‘

’’ہاہاہا.پہلے تو نہیں لکھی تھی۔ اب لکھ دی ہے والعصر میں اور اب اگر وہ پڑھ لے تو سمجھ جائے گی کہ یہ کہانی اس کی ہے۔ اور اگر اس نے کہا اور پھر جو ہو گا آپ کو ضرور بتائوں گی۔‘‘ ہنستے ہوئے۔

’’ٹی وی سے دوری کی وجہ ؟‘‘

’’اس سوال کا اگر میں آپ کو مختصر ترین جواب دوں تو وہ یہ ہو گا کہ میں ٹی وی سے دور نہیں ہوں۔ ٹی وی مجھ سے دورہے بہت. اور آپ کو بتائوں کہ جب میرا ’’شہر آشوب ‘‘چھپ رہا تھا تو مجھے بہت سی آفرز آئی تھیں اور میں وقتاً فوقتاً ون لائز بھی شیئر کرتی رہی ہوں۔ اور اب ٹی وی والوں کی طرف سے مجھے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ آپ لکھتی اچھا ہیں ۔ منفرد لکھتی ہیں ڈائجسٹ میں ۔ لیکن وہ مختلف اور منفرد تحریر ٹی وی پہ کوئی نئی رائیٹر کے نام سے نہیں لگائے گا تو ادھر کہانی آ کر پھنس جاتی ہے اور روائتی کہانی جو ٹی وی کے لیے چاہیے ہوتی ہے وہ میں لکھ نہیں سکتی۔‘‘

’’کیا لکھنے میں مزہ آتا ہے۔ رومانس سنجیدہ یا کامیڈی؟ دل کس میں لگتا ہے؟‘‘

’’یوں تو میں جو کچھ لکھتی ہوں۔ دل سے ہی لکھتی ہوں اور اسے انجوائے بھی کرتی ہوں۔ مگر پھر بھی مجھے ’’مزاح‘‘ لکھنے میں زیادہ لطف آتا ہے۔

اور اس سوا ل کاجواب دینا ذرا مشکل ہے کہ کون سی تحریر پسندیدہ ہے کہ خواہ چھوٹا سا افسانہ ہی کیوں نہ ہو میں نے تو پوری محنت توجہ اور دل سے ہی لکھا ہے۔ مگر پھر بھی میں ’’والعصر‘‘ کو اس بنا پر پسندیدہ ترین قرار دوں گی کہ اسے لکھتے ہوئے سمجھ لیجئے کہ اپنی ذات کے ایک نئے رنگ سے خود مجھے آشنائی ہوئی اور اس سفر میں، میں نے خود بہت کچھ سیکھا ہے ۔‘‘

’’کس کس کو بہت پڑھا؟‘‘

’’جب ٹین ایج میں ڈائجسٹ پڑھنا شروع کیا تو نبیلہ ابر راجہ کی تحریریں ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھا کرتی تھی۔ پھر اس کے بعد جب باقاعدگی سے پڑھنے لگی تو فائزہ افتخار، راحت جبیں ، فاخرہ جبیں ، عالیہ بخاری، ثمرہ بخاری، عنیزہ سید، رخسانہ نگار کا دور تھا تو انہیں ہی بہت پڑھا. انہی دنوں رفعت سراج کا ایک ناول شائع ہو رہا تھا تو وہ اتنا پسند آیا کہ ان کے پچھلے تمام ناولز بھی منگوا کر پڑھے ۔ رفعت ناہید سجاد کا ’’چراغ آخر شب‘‘ بھی انہی دنوں پڑھا۔

اور ڈائجسٹ کی دنیا سے باہر الطاف فاطمہ ، امرتا پریتم ، عصمت چغتائی ، قرۃ العین حیدر، جمیلہ ہاشمی وغیرہ سے لے کر ’’منٹو‘‘ غلام عباس، ممتاز مفتی، مظہر الاسلام ،تاڑرصاحب ، ابن انشائ شفیق الرحمن وغیرہ سب کو ہی پڑھا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ابھی بہت کچھ پڑھنے کو باقی ہے۔‘‘

’’اتنے بہت سارے رائیٹرز کے آپ نے نام لکھے ۔ ان کی کتابیں خرید کر پڑھیں ؟ یا لائبریری سے فائدہ اٹھایا۔ اگر خرید کر پڑھیں تو آپ کے پاس تو اچھا خاصا ذخیرہ ہو گااور ایک عدد لائبریری بھی؟‘‘

’’کتابیں پڑھنے کی شروعات یوں ہوئی کہ ڈائجسٹ میں جن کتابوں کے اقتباسات شائع ہوا کرتے تھے۔ تو پہلے تو ان کتابوں کو محلے کی لائبریری سے لا لا کر پڑھا. اس لائبریری کا نام تھا ’’مونا لائبریری‘‘ وہاں ڈائجسٹ سے لے کر بچوں کی کہانیاں ۔ جاسوسی کہانیاں رسالے وغیرہ سب مل جایا کرتے تھے۔ روزانہ کا کرایہ شاید پانچ روپے تھا۔ تو وہاں سے لے کر خوب پڑھا۔ پھر وہ لائبریری ختم ہو گئی۔ تو جو ہمارا ہاکر تھا اس کے پاس بہت بڑا ذخیرہ تھا کتابوںکا تو ان سے خرید کر پڑھتی تھی اور پھر وہ آدھی قیمت پر واپس لے لیا کرتے تھے۔

سب سے پہلے جو کتابیں میں نے خریدیں وہ شفیق الرحمن اور ابن انشائ کی تھیں۔ پھر جو کتابیں مجھے اچھی لگتی تھیں وہ میں خرید لیا کرتی تھی۔ تو لائبریری تو نہیں مگر کتابیں میرے پاس اچھی خاصی موجود ہیں۔‘‘

’’اتنا کچھ پڑھا ، لکھا .کوئی عجیب و غریب خواہش نے جنم لیا۔ اس لکھائی پڑھائی کے دوران ؟‘‘

ہنستے ہوئے ۔’’ہاں میری ایک عجیب و غریب خواہش ہے کہ مجھے بچپن سے ہی اپنی زندگی میں ایک عدد سلمانی ٹوپی یا پھر کسی اپنے ایسے گیجٹ کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے ،جو مجھے غائب کر سکے اب سوال یہ ہے کہ غائب کیوںہونا ہے ۔ تو وجہ یہ ہے کہ بچپن میں تو ہر انسان کی درگت بنانے کی چاہت تھی جس کا میں اپنے مادی وجود کے ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی۔ خیر بچپن تو گزر گیا مگر دل کی تمنا ابھی بھی وہیں ہے یہ اور بات ہے کہ غائب ہو کر کرنے والے کاموں اور دماغ کو ٹھکانے لگانے والے ناموں کی فہرست ذرا طویل ہے ۔‘‘

’’آپ کی تحریریں آپ کی اپنی فیملی میں کون کون شوق سے پڑھتا ہے؟‘‘

’’گھر والوں میں تو میری امی میری تحریریں شوق سے پڑھا کرتی تھیں اور وہی فیڈ بیک بھی دیا کرتی تھیں۔ ان کے بعد میرے گھر میں تو اور کوئی نہیں پڑھتا۔ ہاں البتہ میرے سسرال میں میری جیٹھانی پڑھتی ہیں میری چھوٹی نند بھی پڑھتی ہے۔ شہزاد (میاں) کی سب سے بڑی بھانجی اور اس کی بیٹیاں جو رشتے میں میری نواسیاں ہوئیں۔ وہ بھی پڑھ کر فیڈ بیک دیتی ہیں۔ مگر کسی کو ڈائجسٹ میں لکھنے کا شوق نہیں ہے۔‘‘

’’شہزادصاحب کی بھانجی کی بیٹیاں جو رشتے میں آپ کی نواسیاں ہیں۔ آپ کو کیا کہہ کر بلاتی ہیں’’نانی‘‘ کیونکہ آپ کی تو اپنی بیٹیاں چھوٹی ہیں۔ اور شہزاد صاحب کو نانا کہتی ہوں گی؟‘‘

’’دراصل شہزاد کی جو دو بڑی بہنیں ہیں ان کے بچے دوچار سال ہی چھوٹے ہیں شہزاد سے اورمجھ سے وہ عمر میں دو چار سال ہی بڑے ہیں۔ تو جو بھانجی ہے اس کی تو اب بیٹی کی شادی بھی ہونے والی ہے۔ شہزاد کو گھر میں سب ’’عدنان‘‘ کہتے ہیں تو نواسیاں انہیں ’’عدنان ماما ‘‘ کہتی ہیں اور مجھے مامی کہتی ہیں، ہاں ایک بھانجے کی چھوٹی بیٹی مجھے ’’امتل دادی‘‘ کہتی ہے ۔اور میری چھوٹی بیٹیاں وہ ’’خالہ پھوپھو‘‘ ہیں نواسیوں کی ہاہاہا۔‘‘

’’گھرداری سے کتنا لگائو ہے ؟‘‘

’’میں آپ کو بتائوں کہ جب میں آٹھ نو سال کی تھی تو میں نے اپنی چیزوں کو خود سنبھالنا شروع کر دیا تھا۔ اپنی الماری کو صاف ستھرا رکھنا ، ہر شے کو قرینے سے ترتیب دینا ، صفائی ستھرائی کی عادت بچپن سے ہی مجھ میں آ گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ کہ اپنے کپڑے بھی خود دھوتی تھی۔ میری نانی مرحومہ بے حد صفائی پسند تھیں ۔ وہ اپنے کپڑے کسی اور کے کپڑوں کے ساتھ کبھی نہیں دھویا کرتی تھیں ۔ گھربھی بے حد صاف ستھرا رکھا کرتی تھیں۔ تو یہ ساری عادتیں کوٹ کوٹ کر میرے اندر بھی بھری ہوئی ہیں۔ میں اپنے روم اور واش روم کو بے حد صاف کرنے کے معاملے میں نفسیاتی پن کی حد تک پہنچ گئی تھی ،میرا تو یہ حال تھا کہ کسی کے گھر جا کر یا کسی بھی جگہ جا کر واش روم استعمال کرنے میں پریشانی ہوتی تھی .میرا کوئی تکیہ استعمال کر لیتا تھا تو گویا قیامت آجاتی تھی۔ ذرا سی پرشکن چادر پر مجھے نیند نہیں آتی تھی۔ میرا گلاس ہمیشہ علیحدہ ہوتا تھا۔

یہ سب سن کر آپ کو لگا ہو گا کہ میں کوئی بہت ہی خبطی قسم کی خاتون تھی ۔ مگر بات کچھ یہ تھی کہ میںحد درجہ صفائی پسند تھی ،جبکہ میری دادی کے گھر میں ان معاملات کواتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی تو شاید اسی لیے میں نے خود اپنا انتظام کر لیا تھا .گندگی اور پھیلاوے سے مجھے سخت الرجی ہے۔ مگر کیا کریں ۔ گھر میں تو آپ اس کاخیال رکھ لیں گے۔پرگھر سے باہر قدم نکالتے ہی لگتا ہے کہ جیسے ہم گندگی اور کچرے کے ڈھیرمیں رہتے ہیں۔ گھریلوامور سے مجھے دلچسپی ہے مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ اپنے صبح و شام اس کے نام کردوں۔

کوکنگ سے لگائو ہے مجھے .گھر کا پکا کھانامجھے اچھالگتا ہے اور میں خود بھی اچھا کھانا پکا لیتی ہوں اور اکثر لوگوں کو میرے ہاتھ میں ذائقہ لگتا ہے اس لیے وہ میرے پکے کھانے شوق سے کھاتے ہیں.اور چونکہ میں کھانے کی شوقین ہوں تو نئی نئی ڈشز ٹرائی کرتی رہتی ہوں ۔ ہاں روٹی میں آج تک اچھی نہیں بنا سکتی۔ آٹا گوندھنے اور سبزیاںکاٹنے سے مجھے چڑ ہے۔ گھر کو سجانے کا شوق ہے مگر گھر کو سامان سے بھرنے کا شوق نہیں ہے۔

سیاست پسند ہے اور 92 ئ سے میرے ذہن میں آج تک اس وقت کے حالات تازہ ہیںاور میرا خیال ہے کہ میری طرح اور لوگوں کے دلوں میں اس زمانے کا خوف اور وحشت آج بھی موجود ہو گی۔ بہت خراب حالات تھے اس وقت۔

مجھے یاد ہے کہ ’’گل بہار‘‘میں رہنے والے ہمارے ایک رشتے دار خاندان نے ان دنوں ہمارے گھر میں کئی ماہ رہائش اختیار کی تھی۔ کیونکہ ان کا علاقہ میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ اس زمانے کے ایسے کئی واقعات ہیں کہ اگر لکھنے بیٹھوں تو اسی میں انٹرویو کے صفحات پورے ہو جائیں۔

سیاست میں زیادہ دلچسپی میں نے ’’بے نظیر بھٹو‘ ‘ کے قتل کے بعد لینا شروع کی اور نہ صرف اپنے ملک کی سیاست سے بلکہ غیر ملکی یعنی عالمی سیاست سے بھی بہت لگائو ہو گیا ہے۔ ملکی حالات پر میری گہری نظر ہوتی ہے۔

سیاحت یعنی گھومنے پھرنے سے مجھے بہت لگائو ہے اور بچپن سے ٹین ایج تک ،میں نے اندرون ملک بہت سفر کیا ہے۔ پھر شادی کے بعد جب عمان میں رہنا ہوا تو گلف کا کچھ حصہ بھی دیکھ لیا۔ اب تو زندگی باخیر بچے بڑے ہوں گے تو پھر نکلیں گے کہیں گھومنے پھرنے۔

گھرسے باہر کھانا کھانا لازمی نہیں ہوتا اور نہ ہی کائونٹ کرتے ہیں۔ بس جب دل چاہتا ہے یا موقع ملتا ہے تو چلے جاتے ہیں۔ یا پھر گھر پر منگوا لیتے ہیں ۔ ویک اینڈ پر بچوں کا دل چاہتا ہے کہیں نہ کہیں جانے کو تو چلے بھی جاتے ہیں ۔‘‘

’’فیشن سے کتنا لگائو ہے ؟‘‘

’’فیشن سے مجھے لگائو ہے ۔ مگر میں فیشن میں اندھی تقلید پر یقین نہیں رکھتی۔ اور پھر فیشن کرنا کوئی فرض تو ہے نہیں . ویسے میں زیادہ تر فیشن میں اپنی سہولت کو ترجیح دیتی ہوں۔ اور اپنی پسند کو بھی . موقع کے حساب سے مجھے سجنا سنورنا پسند ہے۔ مگرمیں ہر وقت بنی سنوری نہیں رہ سکتی۔‘‘

’’کوئی عادت جو والدین سے آپ میں منتقل ہو ئی۔ اپنے میاں صاحب کے بارے میں بھی بتائو؟‘‘

’’میرے والد جن کا نام معین الدین تھا. اور وہ ماہر چشم تھے ۔ ان کی آواز بہت اچھی تھی۔ اس لیے اکثر گھریلو تقریبات میں ان سے گانے کی فرمائش کی جاتی۔ بلا کے بذلہ سنج اور شرارتی ۔ ان کے مزاج کی شرارت مجھے بھی ان سے یعنی والد صاحب سے ملی ہے۔ ان کے کردار میں بہت رنگ تھے ۔ ان شا ئ اللہ کبھی موقع ملا تو لکھوں گی ان پر۔

آپ کے اس سوال پر کہ میاں صاحب کے بارے میں بتائیں تو میں نے شہزادسے پوچھا کہ آپ کچھ شامل کروانا چاہیں گے اپنی طرف سے . تو جواب آیا۔

’’بتادوکہ میں بہت اچھا انسان ہوں ۔ میں وہ پارس ہوں جس نے تمہیں سونا بنا دیا اور کوئی تمہیں اتنا نہیں سمجھتا جتنا میں سمجھتا ہوں اور تم جو چاہو وہ کرتی ہو۔ اس لیے کہ میں تمہیں پریشان نہیں کرتا اور. ‘‘

ابھی ان کا بیان مکمل نہیں ہوا تھا کہ میں نے کہا ’’دھرتی کانپ رہی ہے یہ سب سن کر بس کر دیں ۔‘‘

جس پر وہ کچھ خفا ہو کر خاموش ہو گئے۔ مگر خیر.ان میں سے کچھ باتیں ٹھیک بھی ہیں۔ یہ صاحب مجھے اپنی زندگی کے ایسے موڑ پر ملے تھے کہ جہاں میں ہر طرف سے تنہا اور منتشر تھی۔ اس لحاظ سے کچھ کریڈٹ تو ان کو جاتا ہے ۔

جہاں تک بچوں کی بات ہے تو زینب ابھی نوبرس کی ہوئی ہے اور مجھے اس کے انداز و اطوار میں اپنا عکس نظر آتا ہے۔ ’’ضحیٰ‘‘چھ سال کی ہے اور یہ ایسے ایسے سوال کرتی ہے کہ خود سوال اس سے پناہ مانگ لے ۔ جب میری شہزاد سے کسی بات پر بحث ہو رہی ہو تو یہ جہاں کہیں بھی ہوتی ہے ،وہیں سے بنا کچھ جانے سمجھے نعرے لگانا شروع کر دیتی ہے کہ امی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ بہت مزہ آتا ہے اس کی معصوم سی حمایت پر ان دونوں کو لائم لائٹ میں آنے کا بڑا شوق ہے۔ .‘‘

’’ امتل آپ نے شہزاد صاحب کے ذکر پر کہا کہ یہ مجھے زندگی کے ایسے موڑ پر ملے تھے جہاں میں ہر طرف سے تنہا اور منتشر کھڑی تھی۔ اس کا کیا مطلب ہے ؟‘‘

’’میں نے آپ کو بتایا ہے نا کہ جب میں دس سال کی تھی تو سب الگ الگ ہو گئے تھے۔ تو میں چونکہ دادی کے ساتھ رہا کرتی تھی تو وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئیں۔ اب میں یہاں ایک بات واضح کر دوں کہ میری دادی کے ساتھ بہت سنجیدہ نفسیاتی مسائل تھے۔ وہ شیزو فرینک (بھول جانے کی بیماری )کے ساتھ ساتھ ہسٹیریا کی بھی مریضہ تھیں یہ اور بات ہے کہ وہ ان مسائل کو جن بھوت کا سایہ سمجھتی تھیں اور بھی مسائل تھے ،پر ایک دس سال کی بچی کو اس کا ادراک کیسے ہو سکتا تھا۔ تو بہرحال سمجھ لیں کہ میں نے دس سال سے سولہ سال کی عمر تک وہ وہ کچھ بھگتا ہے جو میں بیان نہیں کر سکتی ، بہتان ، الزام تراشی ، منفی ذہنیت نے میری ذہنی حالت تباہ کر دی تھی۔

کوئی عید ، تہوار مجھے نہیں یاد کہ میں نے بنا روئے گزارا ہو سب ان کی فطرت سے واقف تھے اس کے باوجود مجھے ایسے ٹریٹ کیا جاتا تھا کہ جیسے میں بہت بڑی نافرمان ۔ گناہ گار ہوں۔ ان کی ہر زیادتی پر مجھے ہی یہ کہہ کر درس دیا جاتا تھا کہ ’’بھئی محبت بھی تو بہت کرتی ہیں تم سے ۔‘‘

تولوگوں کے اس رویے نے مجھے باغی بنا دیا تھا اور پھر میرے والدین کا کردار اس قصے میں یہ رہا کہ وہ مجھے کبھی ڈیفنڈ نہیں کر سکے کہ لوگ کیا کہیں گے اور یہ ہم تمہیں کیسے لے جائیں ،وہ اکیلی رہ جائیں گی۔ ان کے پاس ہزار عذر تھے مجھے اس جہنم میں پھینک کر رکھنے کی ،بہرحال .تو بس جب میں ساری ساری رات اپنے کمرے میں تنہا بیٹھی یہی سوچا کرتی تھی کہ کیسے اس زندگی سے نجات حاصل کروں۔

تو ان ہی دنوں شہزاد میرے ٹیوٹر کی جگہ کچھ دنوں کے لیے مجھے پڑھانے آ گئے۔ چونکہ ٹیوٹر میرے چچا کے دوست تھے اور یہ ان کے دوست . تو میں نے ان سے بھی جان چھڑانے کے لیے خوب کوشش کی۔ یہاں میں یہ بتا دوں کہ دادی ، چھوٹے چچا اور میں ساتھ رہا کرتے تھے اور چچا ظاہر ہے کہ اپنی اماں کے شدید خیر خواہ تو مجھے ان سے بھی چڑ تھی۔ تو ہوا یوں کہ شہزاد نے چچا سے شکایت کی کہ یہ جو آپ کی بھتیجی ہے ، ہے تو بے حد ذہین مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر نہیں پڑھ رہی .

اس کے بعد چچا نے میرے جو کردہ نا کردہ گناہ ان کے سامنے بیان کیے تو مزہ ہی آ گیا۔ یہ شایدپہلے ایسے شخص تھے کہ جنہوں نے میری دادی اور چچا کی باتوں کے تناظر میں مجھے نہیں دیکھا اور اپنی خدائی فوج دار فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر مجھے سمجھاتے بجھاتے رہے۔ امتل نے اس پر بڑا اچھا کمنٹ کیا کہ ’’شکر کرو ایک اچھا انسان تمہیں مل گیا ہے۔ ‘‘اب میں سوچتی ہوں کہ کوئی اور ہوتا تو اللہ ہی حافظ ہوتا میرا کہ میں تو اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ تھی۔‘‘

’’اللہ نے آپ کو تین بیٹیاں عطا کی ہیں۔ کبھی سسرال والوں نے بیٹے کا طعنہ دیا ۔ کبھی آپ کو کمی محسوس ہوتی؟‘‘

’’اگر میں اپنے سسرال کی بات کروں تو کسی نے بھی کبھی کچھ نہیں کہا۔ہاں جب ولادت متوقع ہوتی ہے تو سب دعائیں کرتے ہیں کہ بیٹا ہو جائے۔ میری سب سے پہلی اولاد بیٹا ہی تھا جو آٹھویں ماہ میں اللہ کو پیار اہو گیا۔ پھر اس کے بعد نہیں ہوا۔ خیر بیٹے کی کمی کا احساس ابھی تو نہیں ہوتا آگے چل کر ہو تو کچھ کہہ نہیں سکتا بندہ.ہاں باہر والوں کو بہت رحم اور ترس آتا ہے کہ ہائے بے چاروں کے یہاں بیٹا نہیں ہے۔ اس رویے کا سامنا تو آئے دن کرنا پڑتا ہے اور مزے کی بات یہ کہ اگر ہم کہیں کہ ہمارے نزدیک اس بات کی اہمیت نہیں تو تمسخر سے دیکھا جاتا ہے جیسے ہم جھوٹ بول رہے ہو ۔‘‘

’’اور آخر میں نئے لکھنے والوں کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی ؟‘‘

’’نئے لکھاریوں کے لیے میں یہ کہنا چاہوں گی کہ میرے مشاہدے میں دو طرح کے لکھاری ہیں۔ یا یوں کہوں تو زیادہ بہتر ہو گا کہ دو کیٹگیریز ہیں۔ ایک لکھاری تھا ’’ڈرامہ ڈائجسٹ رائیٹر سے پہلے کا اور دوسرا وہ جس نے ڈرامہ ڈائجسٹ رائیٹر دیکھ کر لکھاری بننے کا سوچا۔ جن کو دو لفظ لکھے آئے وہ بھی اس میدان میں اتر آئے۔ کچھ نے تو اپنا ’’سرنیم ‘‘ بھی عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کے نام پر رکھ لیے ہیں۔ ایک دو افسانوں کے بعد اپنے آفیشل پیج بنا لیے ہیں۔ کہانیاں ادھر ادھر سے لے کر ہر ماہ صرف اپنا نام شائع کروانے کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کرنا شروع کر دیئے۔ میڈیا والوں کی نظر میں آنے کی ایک ریس شروع ہو گئی۔ جس سے ڈائجسٹ رائیٹر . جنہیں پہلے ہی ادبی سماج کے شودر سمجھا جاتا تھا ،کی ساکھ اور عزت نفس کو بری طرح مجروح کیا گیا۔ ہم سب اس طرح کے رویے پر کڑھتے ہیں مگر کچھ کر نہیں سکتے۔ ڈائجسٹ رائیٹر کی بدنامی میں ان کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔‘‘

اور اس کے ساتھ ہی ہم نے امت العزیز شہزاد سے اجازت چاہی ؟

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں