سلمیٰ یاسمین نجمی – شاہین رشید

انٹرویو 70

اردو ادب کا دامن بہت وسیع ہے۔ بے شمار لوگوں نے ادب کی مختلف اصناف میں اپنے جوہر دکھائے۔ شاعر افسانہ نگار، ناول نگاری میں بڑے بڑے نام نظر آتے ہیں اور ان ناموں میں اضافہ ہورہاہے۔ اچھی شاعری بھی کی جارہی ہے اور نثر میں بھی ناول اور افسانے لکھے جارہے ہیں لیکن مزاح کی صنف میں دیکھیں تو چند ہی نام نظر آتے ہیں جنہیں انگلیوں پر گنا جاسکتاہے۔ وجہ یہ ہے کہ مزاح نگاری آسان کام نہیں اچھا مزاح لکھنے کے لیے غیر معمولی ذکاوت، ذہانت اور حس لطیف کے ساتھ ساتھ ایک خاص تہذیبی تربیت بھی ضروری ہے۔ ذرا سی پٹری سے ادھر ادھر ہوجائیں تو مزاح پھکڑپن میں تبدیل ہوجاتاہے۔

آج ہم آپ کی ملاقات جس ہستی سے کروارہے ہیں۔ انہیں قدرت نے دل کھول کر نوازا ہے۔ انہوں نے ناول بھی لکھے، افسانہ نگاری بھی کی مزاح کے میدان میں بھی اپنے جوہر دکھائے اور ہر میدان میں اپنی انفرادیت کو منوایا اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار شخصی خوبیوں سے بھی نوازا ہے۔

بوئے گل سے لے کر سانجھ بھئی چودیس تک سلمیٰ یاسمین نجمی کا سفر بہت طویل ہے۔ اس سفر میں وہ مسلسل آگے بڑھی ہیں۔ اور ان کی حیرت انگیز صلاحتیں سامنے آئی ہیں۔ میں ہمیشہ سلمٰی یاسمین نجمی سے کہتی ہوں۔ سلمیٰ آپ اپنی سوانح لکھیں۔ مجھے یقین ہے کہ سلمیٰ کا یہ انٹرویو پڑھ کر قارئین بھی میری تائید کریں گے۔

آیئے آپ کو سلمیٰ یاسمین نجمی سے ملواتے ہیں۔

’’کیا حال ہیں آپ کے؟‘‘

’’الحمدللہ ۔‘‘

’’کچھ اپنے بارے میں بتائے؟‘‘

’’امتل کا فون آیا کہ ہم آپ کا انٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔ میں حیران رہ گئی۔ میرا انٹرویو؟ وہ کس خوشی میں بھئی۔ نہ میں کوئی بڑی لکھاری ہوں نہ ہی آپ کے رسالے میں لکھتی ہوں۔( سلمیٰ بے شک خاص طورپر آپ ہمارے رسالے میں نہیں لکھتیں۔ لیکن آپ کی کافی تحریریں ہمارے پرچوں میں شائع ہوئی ہیں ہماری قارئین کے لیے آپ اجنبی نہیں ہیں)

جواب آیا انٹرویوتو ہوگا۔ پھر امتل نے میرے بارے میں جو کہا وہ میری نظر میں کسی حد تک مبالغہ آرائی تھی۔ سو اس کا ذکر کیا کروں( سلمیٰ جی ! سچ تو یہ ہے کہ یہ آپ کی منکسر المزاجی ہے ورنہ آپ کی صلاحیتوں اور خوبیوں کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانا ہے)

شاہین رشید نے دلاسا دیا کہ کسی میں کوئی خاص بات ہوتی ہے تو انٹرویو کیاجاتاہے اور وہ خاص بات لگتا تھا کہ ان کے علم میں بھی نہیں تھی اور اتفاق سے میرے علم بھی نہیں تھی۔ بس امت الصبور کا اصرار نما حکم تھا جس کے سامنے ہم دونوں نے سر جھکادیا۔ حکم حاکم ’’مرگ مفاجات‘‘ ہوا کرتا ہے۔ حاکم کے سامنے تو یہ سر شاید کبھی نہ جھکتا لیکن دوستوں کے لیے تو بندہ جان بھی لٹا سکتاہے۔ اب آتے ہیں آپ کے سوالوں کی طرف ۔‘‘

’’آپ کانام طویل ہے؟‘‘

’’آپ میرے نام کی طوالت جاننا چاہ رہی ہیں تو نام کا پہلا حصہ ’’سلمیٰ‘‘ ہے ۔ہر پید اہونے والے کو ایک نام تو دیا ہی جاتاہے سو ہمیں بھی ایک نام عنایت ہوا۔ اکثر پہلا نام خاندان کے بزرگ رکھتے ہیں۔ اب ماں کا دل بھی چاہتا ہوگا کہ وہ اپنی پسند سے نام رکھے چنانچہ ماں نے یاسمین کا لاحقہ لگادیا۔ اب باری آئی ہماری۔

نوسال کی عمر میں، میں نے پہلی کہانی لکھی ’’ ننھا مجاہد‘‘ اسے بچوں کے رسالے میں بھیجنے سے پہلے یہ گمان ہوا کہ شاید ہم بڑے ادیب بننے والے ہیں تو ایک قلمی نام بھی ہونا چاہیے۔ چنانچہ اپنے والد کانام جو کہ ’’نجمی‘‘ تھا اس کا بھی اضافہ کردیا اور یہ نام ان کا بھی نہیں تھا،یہ نام ان کو میری خالہ نے دیا تھا۔ اس زمانے میں وہ ناول بڑے شوق سے پڑھتی تھیں تو کسی رائٹر کے نام میں ’’نجمی‘‘ بھی تھا چنانچہ انہوں نے اپنے پیارے بہنوئی کو ’’نجمی‘‘ نام سے پکارنا شروع کردیا تو یہی نام مشہور ہوگیا تو انہیں وہ ہیرو کی طرح لگے ہوں گے اور وہ تھے بھی ہیرو کی طرح۔

س:’’اپنی مصروفیت کے بارے میں بتائیں؟‘‘

’’آپ نے میری مصروفیات کے بارے میں پوچھا تو اس کے لیے سوچنا پڑے گا کہ میں اپنی ذاتی باتیں بتاؤں یا نہ بتاؤں اور سنی ان سنی کردوں۔ پھر سوچتی ہوں کہ کیا فرق پڑتا ہے میں کون سی کسی ملک کی وزیراعظم ہوں یا خفیہ ادارے کی سربراہ ۔

تو جواب یہ ہے کہ میں صبح بہت ہی اطمینان کے ساتھ دس بجے اٹھتی ہوں۔ کبھی اپنا درس ریکارڈ کرتی ہوں جو مجھے ہر منگل کو ’’درس کے گروپ‘‘ میں بھیجنا ہوتاہے ،جمعہ کو اقبال کی اردو نظموں کی تشریح ریکارڈ کرکے ’’اقبال کے گروپ‘‘ میں بھجواتی ہوں۔ ابلیس کی مجلس شوریٰ ختم ہونے والی ہے علامہ اقبال کی فارسی کی کتاب ’’ارمغان حجاز‘‘ اس کی چند رباعیاں بھجواتی ہوں۔

آج کل ہم ’’حضور رسالت ‘‘ کررہے ہیں ان پر گفتگو جمعرات اور پیر کے دن ’’گفت وشنید‘‘ گروپ میں گفتگو ہوتی ہے ،سب پڑھنے والے اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔ بارہ بجے میں ناشتا کرتی ہوں۔ کچھ وقت مل جائے تو ماہنامہ’’عفت‘‘ کی ادارت کی جو ذمہ داری مجھے سونپی گئی ہے اس کے لیے کام کرتی ہوں ۔ دراصل ’’عفت‘‘ میگزین کے منیجر بھی ہم ہیں پروف ریڈر بھی ، کلرک بھی اور چوکی دار بھی۔

ہفتے کو میری معاونین آتی ہیں ،ان کے ساتھ مل کر پرچے کے کام نمٹائے جاتے ہیں ۔ اور جو وقت بچ جائے اور دل چاہے تو اس میں لکھنے لکھانے کاکام بھی کرتی ہوں۔ ‘‘

س:’’ آپ نے لکھنا اتنا کم کیوں کردیا؟‘‘

’’آپ نے کہا لکھنے کاکام میں نے کم کردیاہے تو بھئی ’’ زودنویس‘‘ تو میں پہلے بھی نہیں تھی اور میں کوئی بہت بڑی ادیب تو نہیں ہوں جس کا اوڑھنا بچھونا لکھنا لکھانا ہوتاہے میرا اوڑھنا کچھ اور ہے اور بچھونا کچھ اور یہ تو فرصت کے مشاغل ہیں اور ’’فرصت محال ہے قدرت کے کارخانے میںنہ جانے امتل کو یہ غلط فہمی کیوں ہوگئی کہ میں افسانہ نگار یا ناول نگار ہوں۔ ‘‘

آپ میرے بہن بھائیوںاور میرے بچوں کے بارے میں بھی جاننا چاہتی ہیں تو میں نہیں سمجھتی کہ لوگوں کو اس سے کوئی دلچسپی ہوگی یا ہوتی ہے۔ شاید میرے ادبی بچوں یعنی میری تحریروں سے ہو اور نہ بھی ہو تو میں نے کبھی اس پر غور نہیں کیا۔ لکھا اور ادب کے دریا میں ڈال دیا اب آگے دریا جانے اور ادبی مچھیرے جانیں۔‘‘

’’آپ کا تعلق کہاں سے ہے اور پرورش کہاں پائی؟‘‘

’’پیدا میں دلی میں ہوئی تھی۔ لیکن بچپن اور لڑکپن پنجاب یعنی سیالکوٹ میں گزارا ۔والدہ کا تعلق مظفر نگر ’’یوپی ‘‘سے تھا وہ جماعت اسلامی کی پہلی رکن خاتون تھیں۔ ’’ خرم جاہ مراد‘‘ ان کے سگے خالہ زاد بھائی تھے۔ بعد میں وہ جماعت کی حلقہ خواتین کی قیمہ (قیم سے قیمُہ) بھی رہیں۔ لکھتی بھی تھیں اور بہت اچھا لکھتی تھیں۔ کاش میں ان کے جیسا لکھ سکتی ان کانام ’’ نیر بانو‘‘ تھا اور ان ہی کے زیر سایہ پروان چڑھنے کی وجہ سے کچھ جراثیم مجھ میں بھی سرائیت کرگئے۔

کچھ انہوں نے حوصلہ افزائی کی ،کچھ میری استاد محترمہ حمیدہ بیگم نے جو حلقہ خواتین کی پہلی قیمُہ تھیں میری حوصلہ افزائی کی ۔ انہوں نے ماہنامہ ’’بتول‘‘ کی ادارت میرے سپرد کی تھی ان سے ہی ادارت کے گر میں نے سیکھے۔ اٹھائیس سال میں ’’بتول‘‘ کی مدیرہ رہی پھر ’’عفت‘‘ کی۔

’’س: کچھ اپنی تعلیم کے بارے میں بتائیں؟‘‘

’’میری تعلیم کا کیا پوچھتی ہیں۔ بہ مشکل بی اے کیا ہی تھا کہ میری شادی ہوگئی۔ شادی کے بعد رزلٹ آیا۔ بہن بھائیوں کو تاکید کردی تھی کہ اگر فیل ہوگئی یا سپلی آگئی تو ہر گز نہ بتانا۔ کہیں سسرال میں بے عزتی نہ ہوجائے۔ بہرحال اللہ نے عزت رکھ لی۔ یہ اور بات ہے کہ بی اے پاس کے ناول ’’سانجھ بھئی چودیس ‘‘پر بھارت میں ایک پروفیسر صاحبہ عنبرین فاطمہ نے پی ایچ ڈی کرلی اور وہ مقالہ جب مجھ تک پہنچا تو میں بڑی حیران ہوئی کہ اس ناول میں کیا تھا اور کیا محرکات تھے کہ محترمہ نے پی ایچ ڈی کیا۔

پھر مجھ پر انکشاف ہو اکہ اس ناول میں کیاتھا۔ سماجی شعور اور تہذیبی روایات اور نہ جانے کیا کیا کہ جس پر عنبرین صاحبہ نے لکھ ڈالا۔ بہرحال عنبرین صاحبہ کا شکریہ کہ اس لاعلم اور بے خبر پر وہ کچھ منکشف کیا جو پہلے معلوم نہ تھا۔ خاصا مشکل مقالہ تھا کچھ سمجھ میں آیا کچھ سر سے گزر گیا۔

’’س: بچپن کیسا گزرا؟‘‘

’’اب آپ نے پوچھا کہ بچپن کیسا گزرا. تو بچپن تو اچھا ہی ہوتاہے خواہ گھرانہ مڈل کلاس ہو یا دولت مند. پارٹیشن کے بعد خاندان لٹ لٹاکر پاکستان آیا صرف تن کے تین کپڑوں کے ساتھ کہ والد پولیس میں تھے۔ وہ ایک سال کے بعد آئے ہم نانا کے پاس کوئٹہ میں رہے وہیں ’’پہلی جماعت میں ‘‘ داخل ہوئی ۔ ‘‘

جب ابا نے پاکستان کا انتخاب کیا تو ان کی پہلی نوکری سیالکوٹ میں لگی اور پھر ہم سب سیالکوٹ چلے گئے۔ پڑھا کو تو میں شروع سے تھی چار سال کی عمر میں پڑھنے لگی تھی اور چونکہ گھر میں بڑی تھی تو امی کی ساری توجہ مجھ پر ہی تھی تو آج جب میں چار سال کے بچوں کو دیکھتی ہوں ،جو ABCDاور الف ب ج ہی پڑھ رہے ہوتے ہیں تو بڑی حیرت ہوتی ہے۔ا پنے بچوں سے بھی یہی توقع تھی مگر ناکام ہوگئی۔

سب سے بڑی تھی تو چھوٹے بہن بھائیوں پر رعب بھی جماتی تھی ،وہ ہی تو میری ’’رعیت‘‘ تھے سو وہ رعب ہمیشہ قائم رہا۔ پھر ’’بہو‘‘ بھی بڑی بنی اور یہ بڑائی قائم ودائم رہی۔

بچپن میں بہت شوخ وشنگ تھی۔ والدہ جتنی سنجیدہ تھیں ،میں اتنی ہی باتونی تھی۔ اور ہاں کہہ سکتے ہیں کہ کسی حد تک لڑاکا بھی تھی تو بھئی دوسروں کے حقوق کی خاطر لڑنا تو چاہیے ہی تھا اور یہ لڑائی یاتو زبان سے لڑی یا پھر قلم سے۔ تلوار نہیں اٹھائی۔

والدہ کو بھی مطالعہ کا شوق جنون کی حد تک تھا۔ گھر میں سارے ادبی رسالے آتے تھے ۔ان میں رسالہ ’’عصمت‘‘ بھی شامل تھا۔ ہر چیز پڑھنے کی اجازت نہیں تھی مگر جن ادیبوں کو یا ان کی غیر ممنوعہ نگارشات پڑھنے کی اجازت تھی، وہ سب پڑھنے کی کوشش کی۔

کالج تک پہنچے تو پھر انگریزی ادب کی چاٹ لگ گئی ۔لکھنا لکھانا بھی شروع کردیاتھا۔ سگھڑ بالکل نہیں تھی۔ اماں کی دس انگلیوں میں دس چراغ جلتے تھے مگر ہماری تو کسی ایک انگلی میں بھی نہ جل سکا، اماں نے بہت کوشش کی کہ سینا پرونا آجائے یا کچھ پکانا ہی آجائے۔ مگر کہاں صاحب اگر ایک ہاتھ میں کتاب ہوتی تھی تو دوسری میں ڈوئی (چمچہ) تو خود سوچیے کہ ہانڈی پر کیا گزرتی ہوگی۔

تو جناب ،کھانا پکانا شادی کے بعد ہی سیکھا بلکہ سیکھنا پڑا اور اچھا خاصا سیکھ لیا۔ ابھی تک کسی نے برائی نہیں کی۔ میں تو سمجھتی ہوں کہ بچپن بہت اچھا اور مزے کا گزرا ۔ابا کے لاڈ ، والدہ کی ڈانٹ ، سہیلیوں کی محبت اور اساتذہ کی کرم فرمائی۔

کالج کی بیسٹ ڈبیٹر بھی تھی۔ افسانہ نگار بھی تھی۔ سوائے گیمز کے ہر ایکٹیو ٹی میں حصہ لیا۔ مزے کا وقت گزرا۔ اگرچالاک نہیں تھی تو سیدھی سادی بھی نہیں تھی۔‘‘

’’وہ دور گڑیوں کا بھی تھا، آپ نے گڑیاں کھیلیں؟‘‘

’’جی. بالکل کھیلیں۔ ان کی شادیاں بھی کیں۔ اماں بہت اچھی گڑیا بناتی تھیں۔ بھائی بھی ساتھ کھیلتا تھا اور وہ تو گڑیوں کے کپڑے بھی سی لیتا تھا۔ وہ ہم دو بہنوں کے درمیان میں تھا۔ شاید اس لیے اس میں لڑکی پن سرائیت کرگیا تھا۔ لڑکوں کے کھیل کبھی نہیں کھیلے میں نے ، آنکھ مچولی، اونچ نیچ ، رسی کودنے کابھی بہت شوق تھا۔ چھوٹے موٹے ڈرامے گھر میں ہم لوگ اسٹیج کرلیا کرتے تھے اور محلے کے بچوں کو ایک ایک پیسہ یا دو دوپیسے لے کر ڈرامہ دکھا بھی دیا کرتے تھے۔ مشاعرے بھی کیے۔

ابا پولیس انسپکٹر تھے مگر رشوت کا پیسہ گھر میں نہیں آنے دیتے تھے۔ حق حلال کی کمائی میں عیش نہیں کیاجاسکتا ۔ لہٰذا ایک نظم وضبط کی زندگی تھی۔ ہر چیز ملتی تھی مگر نپی تلی اور حصے کے مطابق ۔اماں بہترین منتظم تھیں سلیقہ شعار تھیں۔ ہاں کھانا پیٹ بھر کر کھلایا۔ ایک وقت دال اور ایک وقت گوشت ۔موسم کے پھل کبھی کبھار، گاجر مولی ہر وقت میسر ہوتے تھے۔

مہمان آتے تو مرغ بھی پکتا ۔ پلاؤ اور قورمہ بھی بنتا تھا تو اس میں سے حصہ مل جاتا تھا۔ والدین نے ہمیشہ قناعت سکھائی ۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم کبھی بیمار ہی نہیں ہوئے سوائے ان بیماریوں کے جو بچپن میں سب بچوں کو ہوجاتی ہیں۔ وہ خود بھی حکیم تھیں انہوں نے’’حکیم اجمل خان‘‘ کے مدرسے سے پڑھا ہوا تھا (حکمت) اور وہاں پڑھایا بھی تھا اس لیے ابا میری والدہ کو ’’حکیم جی‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔

اس زمانے میں جو بھی بچت ہوتی بھی ہوگی تو وہ رسالوں اور کتابوں پہ خرچ ہوتی ہوگی، ہمارے پاس تو نہ ایرانی قالین تھے اور نہ ہی فرنگی صوفے ،ہاں کتابیں ہر قسم کی تھیں۔ چار پائیاں وہ خود بن لیتی تھیں۔ لحاف بھی سی لیتی تھیں اور ہر طرح کا ڈیزائن بھی بنالیتی تھیں۔

ہمیں سردیوں میں ایک بار پائے، حلیم، گاجر کا حلوہ اور انڈوں کا حلوہ ضرور کھلاتی تھیں۔مکئی کی روٹی، لہسن، کی چٹنی کے ساتھ جو اصلی گھی میں بھگاری جاتی تھی کھاتے تھے اور یہ میرے ابا کی پسندیدہ ڈش تھی۔ ہمارے یہاں ’’ڈالڈا‘‘ کبھی نہیں آیا تھا۔

ہندوستان میں والد کی زمین داری تھی اور اورنگ زیب عالمگیر کے وقت میں ،انہوں نے دلی کے نواح میں بہت زمین دی تھی کہ بیٹھ کر تبلیغ دین کریں۔ ’’امیر خرم اللہ‘‘ ہمارے اجداد میں سے تھے تذکرہ اولیائ میں ان کا تذکرہ موجود ہے۔ا با کے مرشد محترم عبدالسلام شاہ نیازی صاحب تھے ۔وہ ابا سے محبت بھی کرتے تھے اور سید ہونے کے ناتے ان کا احترام بھی کرتے تھے۔‘‘

’’بہن بھائیوں میں والدین کو کس نمبر کی اولاد سے پیار تھا؟‘‘

’’میرا خیال ہے کہ ا ولاد تو ساری ہی پیاری ہوتی ہے۔ مگر جس سے ذہنی ہم آہنگی ہوجائے ،منزل ومقصد ایک ہوجائے تو وہ زیادہ قریب ہوجاتاہوگا اور یہ بات تو پکی ہے کہ میرے والد، اپنی اولاد میں سب سے زیادہ پیار مجھ سے ہی کرتے تھے حالانکہ صرف دو بہنیں اور دو بھائی تھے ،میرے بہن بھائیوں کو شکوہ ہی رہا کہ آپا زیادہ لاڈلی ہیں۔

رہی اماں کی بات تو شروع میں تو وہ سوتیلی ماں ہی لگتی تھیں، ہر وقت کی ڈانٹ ،ہر وقت کی تنقید۔ میں ذرا باغی بھی تھی ہر بات اندھا دھند نہیں مان لیا کرتی تھی مجھے پہلے وجہ معلوم کرنی ہوتی تھی اور یہ بات اماں کو بہت ناگوار گزرتی تھی وہ کہتی تھیں ۔

بس جو کہہ دیا ہے اسے مان لو۔ جو کہہ رہی ہوں وہ تمہارے بھلے کے لیے کہہ رہی ہوں۔ بحث مت کرو اور اگر نہیں ماننا چاہتیں تو گھر بیٹھو ،کل سے پڑھنے کے لیے نہیں جانا گھر بیٹھ کر گھر داری سیکھو۔

اب بتایے کیا کرتی، چولہے کے آگے ہاتھ اور دل جلانے سے تو بہترتھاکہ اماں صاحبہ کی بات مان لی جائے۔

شادی کے بعد ان کا پہلا خط جو مجھے لندن میں ملا اس سے پتا چلا کہ وہ مجھ سے کتنی محبت کرتی تھیں، انہیں مجھ پر کچھ ’’مان‘‘ بھی تھا، انہوں نے مجھے اپنی زندگی کی بہار کا پہلا پھول قرار دیا اور پھول جب درخت سے جدا ہوتاہے تو درخت کے دل پر کیا گزرتی ہے ،اس کا ذکر تھا جس نے مجھے رلا ڈالا۔ انہوں نے کبھی میری تعریف میرے منہ پر نہیں کی۔ ان کے جانے کے بعد ان کی منہ بولی بیٹیوں نے بتایا کہ وہ ان سے میرا ذکر کن الفاظ میں کرتی تھیں۔

’’ہاں میری مزاحیہ کہانیاں پڑھ کر وہ بہت ہنستی تھیں اور خوش ہوتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتوں کا سایہ کرے اور انہیں جنت میں اعلا مقام عطا فرمائے (آمین)‘‘

’’کبھی بچپن میں مار پڑی ؟‘‘

’’مار ‘‘ وہ کیا ہوتی ہے؟ نہیں صاحب اس اعزاز سے محروم رہے۔ والد نے مجرموں کو تو شاید مارا ہو لیکن ہمیں کبھی پھولوں کی چھڑی سے بھی نہیں چھوا تھا۔ امی ڈانٹتی تھیں مگر مارا کبھی نہیں۔ا لبتہ میں کبھی کبھار ضرور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی کٹائی کردیتی تھی۔ مجھ سے چھوٹا والا بہت زیادہ شرارتی تھا۔ کبھی میرے پراندے (چوٹی) کے ساتھ بھاری چیز باندھ دیتا۔ تو اس کی خبر لینا تو میرا حق بنتا تھا نا۔ میں گرمیوں کی دوپہر وں میں اسے ابن صفی کے ناول سناؤں۔ شفیق الرحمن کے شہ پارے گوش گزار کروں تاکہ وہ اس تیز دھوپ میں کمرے سے باہر نہ جائیں۔ اور وہ میرے ساتھ یہ حرکت فرمائیں۔ اس طرح کی بہت سی باتیں تھیں اب کہاں تک آپ کی ’’سمع خراشی‘‘ کروں۔‘‘

بچوں کے لیے میں نے پہلی کہانی نوسال کی عمر میں لکھی تھی جو چھپ بھی گئی ۔ پھر پھول اور ہدایت میں لکھا۔ میٹرک میں پہلا افسانہ’’ منزل‘‘ لکھا۔ کالج کے دوران جو کچھ لکھا وہ میری کتاب ’’گھر سے کالج‘‘ تک میں موجود ہے۔ پھر یہ کہانیاں ماہنا مہ عفت اور بتول میں شائع ہوئی ہیں۔

شادی کے بعد جو کچھ لکھا ،وہ ’’چلمن اور سیارہ‘‘ میں شائع ہوا۔ دوچار چیزیں ’’چراغ راہ‘‘ میں آئیں۔ ’’سوداگر‘‘ میں بھی کچھ لکھاتھا جو کہ اب دستیاب نہیں۔ امی لکھتی تھیں تو ہمیں بھی لکھنے کا شوق چرایا۔ حوصلہ ا فزائی اماں نے بھی کی اور خالہ حمیدہ بیگم نے بھی کی۔ پڑھنے والوںنے تو تعریف کی تو ہمیں لگا کہ شاید ہم ’’توپ‘‘ قسم کی چیز ہیں۔ یہ سلسلہ رک رک کر جاری رہا۔

یہاں تک کے پہلا ناول ’’بوئے گل‘‘ لکھ ہی لیا وہ چلمن میں قسط وار چھپا، میری مزاحیہ تحریریں اردو پنج میں شائع ہوتی تھیں۔ اور جب کرنل محمدخان صاحب جیسی شخصیت نے تعریف کی تو میں حیران ہی رہ گئی کوئے ملامت کا پہلا ایڈیشن ،سلطان رشک صاحب نے شائع کیا جو اردو پنچ کے مدیر تھے۔ ’’سانجھ بھئی چودیس ‘‘ کے لیے سید قاسم محمود کا اصرار تھا کہ وہ شائع کریں گے اور پھر انہوں نے ہی شائع کی۔

لکھنے کی صلاحیت خداداد ہوتی ہے مگر اس کو نکھارنے کے لیے مطالعہ بہت ضروری ہے اور صرف اردو ادب نہیں عالمی ادب بھی پڑھنا چاہیے کہانی افسانے ،ناول یا ناولٹ فنی لحاظ سے تب مضبوط ہوتاہے جب دنیا کے بڑے ادیبوں کو پڑھا جائے۔ اگر مطالعہ نہیں ہوگا تو جس میں لکھنے کی صلاحیت ہوگی وہ لکھ تو لے گا مگر وہ خام ہوگا۔ حقیقت سے دور ہوگا۔ الفاظ کا ذخیرہ بھی پڑھنے سے ہی ملتاہے اور ان الفاظ کا استعمال بھی آجاتاہے کہ کون سا لفظ کہاں جڑنا ہے الفاظ بھی نگینے ہوتے ہیں۔ وہ صحیح طریقے سے استعمال ہوں تو اپنا تاثر چھوڑتے ہیں۔

پڑھنے کا ایسا چسکا پڑا کہ میگزین کے علاوہ جو ہاتھ آیا پڑھ ڈالاجن لفافوں میں دالیںا ور نمک مرچ آتے تھے ،ان کوبھی کھول کر پڑھ لیتی تھی جس زمانے میں اخبار اور رسالوں کے صفحات سے لفافے بنتے تھے۔ اگر پتا چل جاتا کہ کسی کے پاس رسالوں کے ذخیرے ہیں تو وہ بھی لاکر پڑھ لیتی تھی۔ میری مامی تاریخی کتابیں پڑھتی تھیں تو ان کے یہاں سے کتابیں اٹھالاتی۔

ہر عمر کی اور ہر دور کی پسند الگ الگ ہوتی ہے۔ کبھی کوئی بھاجاتا ہے تو کبھی کوئی۔ ڈپٹی نذیر احمد اور راشد الخیری سے ابتدا ہوئی اور پھر نسیم مجازی اور اے آر خاتون سے ہوتی ہوئی فرحت اللہ بیگ، عصمت چغتائی اور پطرس بخاری تک جا پہنچی۔

ایک زمانہ آیا کہ ابن صفی بہت زیادہ پسند آگئے اور اتنے پسند آئے کہ ان کا ایک ہیرو ،کرنل احمد کمال خریدی اتنا پسند آیا کہ میں نے ا پنے دوسرے بیٹے کانام ’’احمد کمال‘‘ رکھ دیا۔ دراصل ہم اپنے آس پاس زندہ انسانوں کو اپنا آئیڈیل بنانے کے بجائے ،ان کو بناتے ہیں جو یا تو تخلیقی ہوتے ہیں یا پھر تاریخ کے صفحات میں گم ہوں اور اگر ایسا ہوجائے تو بہت ساری لڑکیاں گوشت پوست کے انسان کے شر سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔

جاسوسی ادب مجھے ہمیشہ اچھا لگتا تھا سپنس ہوتا ہے اور مزہ بھی بہت آتاہے تو میں نے بہت جاسوسی کتابیں پڑھیں ،جن کی فہرست کا فی طویل ہے۔ اسی لیے مجھے’’نمرہ احمد‘‘ بھی اچھی لگتی ہیں کہ ان کی کہانیوں میں سپنس ہوتاہے۔ مطالعہ کا یہ سفر ترقی پسند ادیبوں تک جا پہنچا۔ اگرچہ ان کے نظریات سے شدید اختلاف تھا مگر بہرحال فنی لحاظ سے ان کی تحریروں کا معیار بہت اونچا تھا۔

منٹو کی وہ کتابیں جن کو پڑھنے کی اجازت ملی وہ بھی پڑھیں عصمت چغتائی ، تسنیم سلیم چھتاری، جیلانی بانو، حاجرہ مسرور اور خدیجہ مسرور سے ہوتے ہوئے ’’اے حمید‘‘ تک پہنچے ۔ اس زمانے میں جو بھی نقوش اور ادب لطیف میں چھپا وہ ضرور پڑھا۔

مجھے اپنے بچپن کی ایک مزے دار بات بھی یاد آگئی۔ میں آٹھ یا نو سال کی تھی تو امی کے بکس سے ایک رسالہ نکلا جو شاید انہوں نے مجھ سے چھپاکر رکھا ہوا تھا اس کانام ’’روح ادب‘‘ تھا اس میں اشفاق احمد کا افسانہ تھا ’’مہمان بہار‘‘ اس کے ہیرو کانام غالباً اختر تھا۔ وہ میں نے چھپ چھپاکر جلدی جلدی پڑھ ڈالا۔ اب اس عمر میں کیا سمجھ میں آناتھا مگر ڈانٹ کافی پڑھی۔

سیالکوٹ کی لائبریری میں جب بچوں کی ساری کتابیں ختم ہوگئیں تو امی کانام لے کر میں ،ناول لے آئی اس کی ہیروئن کا نام کلثوم تھا۔ کلثوم بے چاری اپنے شوہر کے قدموں میں تھی اور شوہر کا تھپڑ اسے لگا اور اسی وقت ایک تھپڑ مجھ ناچیز کے سر پر بھی پڑا۔ ہم ذرا بھونچکے سے ہوگئے کہ یہ حضرت تو اپنی بیوی کو مار رہے تھے ،مارتے مارتے ہمارے سر پر کیسے پہنچ گئے نظر اٹھائی تو نانا جان عجیب نظروں سے گھور رہے تھے کہ تم خیر سے ناول پڑھ رہی تھیں۔ کہاں سے ملا ہے یہ اس کے بعد ،لائبریری جانے کی ممانعت ہوگئی۔ آج تک یہ جاننے کی حسرت رہ گئی کہ کلثوم پر کیا گزری تھی۔

اصل میں ہر ادیب کی تحریر شاہکار نہیں ہوتی اور یہ بھی نہیں ہوتاکہ جو بڑا ادیب ہوتاہے اس کی تخلیقات شاہکار نہ ہوں اور جو تحریر مجھے متاثر کرتی ہے ضروری نہیں کہ وہ سب کو متاثر کرے۔ اور کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیشہ یاد رہ جاتی ہیں جیسے ’’قرۃ العین حیدر‘‘ کا آگ کا دریا، عصمت چغتائی کا ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ ، الطاف فاطمہ کا ،چلتا مسافر، اور ،دستک نہ دو اور عبداللہ حسین کا ’’نئی نسلیں‘‘ ، ’’بیدی‘‘ کا ناولٹ اک چادر میلی سی ۔’’ ایمی زولا کی ’’ارتھ‘‘ اور جب میں نے ان کی کتاب ’’ارتھ‘‘ پڑھی تو اس نے مجھے ’’سانجھ‘‘ لکھنے پر اکسایا کہ اگر فرانس کے کسی گاؤں کی تہذیب وروایات کو اس خوب صورتی سے لکھا جاسکتا تو ہم کیوں نہیں ،کیا ہمارے گاؤں اور قبیلے کسی سے کم ہیں۔

کہانی اس وقت زندہ رہتی ہے جب تک علاقے اور کردار اصلی ہوں۔ اور رائٹر پر لز ایس بک کی گڈاارتھ بھی بہت عمدہ تھی۔ ٹالسٹائی کی وار اینڈ پیس اور انگریزی ادب کی کئی کتابیں مجھے بہت اچھی لگیں ایک ایک کا ذکر کروں گی تو بات بہت آگے تک نکل جائے گی۔‘‘

’’آپ نے ڈھیروں ڈھیر رائٹرز کے شاہکاروں کا ذکر کیا جو صفحات کی کمی سے نہیں لکھ پائی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا نے نوجوانوں کے ہاتھ سے کتاب چھین لی ؟‘‘

’’سچ کہا آپ نے کہ سوشل میڈیا نے ہاتھ سے کتاب چھین لی ہے بلکہ مصنف بھی چھین لیا ہے لائبریریاں نہیں رہیں اور جو ہیں ان میں کتابیں یونہی سجی ہوئی ہیں۔ جو مزہ ہاتھ میں کتاب لے کر پڑھنے کا ہے وہ انٹر نیٹ پر پڑھنے کا نہیں ،ذرا سی انگلی لگی اور سب کچھ ڈیلیٹ ہوگیا۔

اب تو کسی کو کتاب پڑھنے کا کہو تو جواب آتاہے کہ فرصت نہیں ہے۔ سوشل میڈیا نے ذوق ہی چھین لیا ہے یا بدل دیا ہے اور سارا وقت سوشل میڈیا ہی لے جاتا ہے۔ اور اگر شوق نہ ہو تو ذوق بھی نہیں ہوتا۔ پھر وقت میں بھی برکت نہیں رہی ہے۔ ‘‘

س:’’ڈائجسٹ کی دنیا میں کب قدم رکھا؟‘‘

’’میں نے تو کبھی ڈائجسٹ کی دنیا میں قدم نہیں رکھا۔ میں تو رومانٹک ناول لکھتی ہی نہیں ہوں۔ میرے تو صرف دو ناول چھپے ہیں ’’بوئے گل‘‘ اور ’’سانجھ بھئی چودیس‘‘ ایک ناولٹ ’’ہم نفس‘‘ اور ’’خلیج‘‘ اور دو مزاحیہ تحریروں کے مجموعے کیسے کیسے لوگ ‘‘ اور افسانوں کے مجموعے میں ’’گھر سے کالج تک‘‘ چوتھا کہوں ، ’’ ساس ،آس نراس ‘‘ تین سفر نامے ہیں جو ابھی کتابی شکل میں نہیں آئے۔ ’’نوائے سحر‘‘ جس میں اقبال کے اشعار کی تشریح ہے۔

بے شمار افسانے اور کہانیاں راہ تک رہے ہیں اور جب کبھی فرصت ملی تو انہیں بھی کسی کتاب میں نظر بند کردیاجائے گا۔ دو ناول زیر تحریر ہیں وہ بھی مکمل ہونے کے منتظر ہیں۔ ان میں ایک ناول تو میں نے امت ا لصبور کی فرمائش پر لکھا ہے اور رومانٹک لکھنے کی کوشش کی ہے۔ دیکھیں کیا ہوتاہے۔ کامیاب ہوتی ہوں یا نہیں ہوتی۔

بس یہی حقیر سی پونجی ہے میرے پاس، لکھنا لکھانا فرصت کا مشغلہ ہے اور فرصت ملتی نہیں۔ آپ نے پوچھا کہ مجھے اپنی کون سی کتاب پسند ہے تو اپنی کتاب’’سانجھ بھئی چودیس ‘‘ مجھے زیادہ اچھی لگی ہے اس سے پتا چلتاہے کہ ایک زمانہ تھا جب عورت کس قسم کی تھی۔ کتنی وہ مضبوط اور ہمت والی تھی اور کس طرح جنگ لڑتی ہے۔ جس طرح ’’گڈ ارتھ‘‘ کی عورت تھی۔

لیکن ’’گڈ ارتھ‘‘ کی عورت چپ چاپ ظلم سہتی تھی لیکن ’’سانجھ بھئی چودیس‘‘ کی عورت ظلم سہتی نہیں ہے بلکہ مقابلہ کرتی ہے۔ اور شاید اسی لیے مجھے اپنی یہ کتاب پسند ہے۔ اور میں نے یہ اس لیے لکھا کہ لڑکی کو یہ پتا ہونا چاہیے کہ’’ نفس‘‘ انسان کو ہمیشہ کھائی میں گراتاہے۔ پستی میں گراتاہے اور انسان کو اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ کوئی اس کی طرف انگلی اٹھاکر نہ دیکھ سکے اور اگر کسی کو محبت ہو بھی جائے تو اس کا اظہار نہیں ہونا چاہیے۔ اظہار انسان کو حقیر کردیتاہے اور عورت حقیر نہیں ہے اگر کوئی عورت اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے تو مجھے بتائیں کہ پھر وہ دنیا میں کیا کرے گی تو مرد سے زیادہ عورت کو مضبوط ہونا چاہیے۔

اظہار کرنا مرد کا کام ہے ،اب یہ عورت کاکام ہے کہ وہ اسے قبول کرے یا انکار کردے۔ میری تحریروں میںعورت آپ کو مضبوط ہی نظر آئے گی ،جو اپنے جذبات پر قابو رکھتی ہے۔ آج کی لڑکی نے اپنا یہ کردار بھلادیا ہے وہ کچھ شکاری سی بن گئی ہے مگر آپ نے دیکھا ہوگا وہ خود اکثر اپنے جال میں پھنس جاتی ہے اور شکار ہوجاتی ہے۔ عورت بے نیاز ہوگی تو مرد نیاز مند رہے گا۔‘‘

’’لکھنے کارجحان اب تقریباً ختم ہوتا جارہا ہے، شاید اس لیے کہ پڑھنے کا رجحان ختم ہوتا جارہا ہے؟‘‘

’’لکھا تو جارہا ہے اور بہت لکھا جارہا ہے اور تھوک کے حساب سے لکھا جارہا ہے لیکن ادب کا جو مروجہ معیار ہے اس پر بہت کم تحریریں پوری اترتی ہیں۔ زیادہ تر تو ایک ہی موضوع پر مسلسل لکھا جارہا ہے ۔ہیرو ہیروئن، ولن، ظالم ماں، بہنیں یا پھوپھی چچی تائی، وغیرہ آخر میں بے شمار مصائب سے گزر کر ہیروئن آخر ہیرو کے دل میں گھر کرلیتی ہے اور پھر شادی ہوجاتی ہے یا پھر دونوں میں سے کوئی ایک جان سے گزر جاتا ہے۔

خواتین اپنی صنف کی چالاکیوں اور مکاریوں کی بہت اچھی عکاسی کرتی ہیں بہر حال وقتی طور پر مزہ بھی بہت آتا ہے ،وقت بھی اچھا گزر جاتا ہے اور انسان اپنی زندگی کی تلخیوں کو بھلادیتا ہے۔ مگر ایسے ادب کی زندگی مختصر ہوتی ہے۔ یہ یادگار نہیں ہوتا ۔یہ موسم بہار کے پھولوں کی طرح ہوتا ہے۔ رنگ خوشبو اور مہک ضرور ہوتی ہے مگر وقتی اور پھر وقت کی فضا انہیں دھندلا دیتی ہے۔

اصل میں لکھنے والے ریسرچ اور محنت سے گھبراتے ہیں۔نئے موضوعات نہیں ڈھونڈتے، بس قلم اٹھایا اور لکھ دیا اور لکھتے چلے گئے۔ سب کچھ ایسے لگتا ہے کہ جیسے کمرشل ہوگیا ہے۔ ادب سے زیادہ اس سے حاصل ہونے والے معاوضے سے دلچسپی ہوتی ہے۔

عرصہ ہوا میں نے تو ڈرامے دیکھنا ہی چھوڑ دیے ہیں۔ لوگوں سے سنتی ہوں کہ بہت ’’بولڈ‘‘ موضوعات پر لکھا جارہا ہے اور نئی نسل تک بہت غلط پیغام جارہا ہے۔ محرم رشتوں کے تعلقات کو پامال کیا جاتا ہے۔ غلط فتویٰ،عقیدے کی ترویج کی جارہی ہے واللہ عالم بالصواب۔

’’یعنی آج کل جو خواتین ومرد حضرات لکھ رہے ہیں ان کے ڈرامے نہیں دیکھتیں۔‘‘

’’لوگوں کے اصرار پر میں نے’’عمیرہ احمد‘‘کا ڈرامہ’’الف‘‘ دیکھا تھا جو مجھے اچھا لگا تھا۔ اور میں نے بتایا نا کہ کافی عرصہ ہوا کوئی ڈرامہ نہیں دیکھا۔‘‘

’’سوشل میڈیا پر جو کچھ ہورہا ہے، اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟‘‘

’’آپ نے سوشل میڈیا کے کردار کے بارے میں بالکل صحیح کہا ہے ،اس مادر پدر آزاد میڈیا نے ہماری نئی نسل کا ستیاناس کردیا ہے۔ اتنا جھوٹ ہے وہاں کہ سچ کا پتا نہیں چلتا۔ دجل و فریب کا راج ہے اور بچے والدین کی نہیں سنتے بلکہ گوگل اور میڈیا کو اپنے ماں باپ سمجھتے ہیں۔ اور یہ ٹک ٹاک کیا بلا ہے۔ ملازمائیں بھی ٹک ٹاک میں نہ جانے کیا’’الم غلم‘‘ بھیجتی رہتی ہیں۔ الف سے ب پڑھنا نہیں آتا مگر ٹک ٹاک میں ماہر ہیں۔

اب تر بیت کا فریضہ سوشل میڈیا ادا کرتا ہے اور سوشل میڈیا کے لیے جیسا کہ میں نے پہلے کہا مادر پدر آزاد ہے تو نئی نسل بھی مادر پدر آزاد ہوگئی ہے۔ اب ہمارے بچے اپنے بچوں کی پرورش میں ہم سے نہ کوئی ہدایت لیتے ہیں نہ مشورہ کرتے ہیں۔’’گوگل اماں‘‘ پر بھروسا کرتے ہیں۔’’وہ کہتا ہے کہ بچوں کو کچھ نہ کہنا کہ وہ نفسیاتی مریض بن جائیں گے۔‘‘ تو بس اس بات پر عمل کرتے ہوئے اب بچے جو چاہیں کریں انہیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ چاہے وہ بدتمیزی کریں ،کسی کے گھر جاکر کھانے پر ٹوٹ پڑیں۔ا ن کی چیزیں توڑ ڈالیں۔ انہیں کچھ نہیں کہنا چاہے میزبان نفسیاتی مریض بن جائے۔

میں کہتی ہوں بچے ’’حیوان‘‘ ہوتے ہیں۔ انہیں کبھی ماراور کبھی پیار سے سمجھانا پڑتا ہے۔ یہاں تو لفظ ’’حیوان‘‘ سے ہی چہرے لال ہوجاتے ہیں۔ کیوں بھئی.کیا انسان’’حیوان ناطق‘‘ نہیں کہلاتا۔ کیا آپ کی نفسیات میں سوشل ایمینل نہیں کہا جاتا ہمیں؟ سارا صرف تنبیہ کے لیے ہونا چاہیے اس میں بے دردی اور سختی نہیں ہونی چاہیے۔‘‘

’’پرنٹ میڈیا میں لکھنے کا معاوضہ محنت کے مطابق نہیں ملتا۔ آپ کیا کہیں گی؟‘‘

’’آپ نے معاوضے کی بات کی ہے تو حقیقی بات تو یہ ہے کہ نہ مجھے جائیداد بنانے سے دلچسپی ہے اور نہ ہی روپے پیسے سے۔ جو اللہ نے دے دیا اسی پہ قناعت ہونی چاہیے۔ وہی کافی ہے۔ پھر لکھنا میرا پروفیشن بھی نہیں ہے۔

آپ نے یہ بھی پوچھا کہ میں نے ٹی وی کے لیے کیوں نہیں لکھا؟ تو بات یہ ہے کہ ٹی وی عموماً لکھنے والوں کی تحریروں کاناس ہی مار دیتا ہے اور اپنی مرضی سے ا س میں تبدیلیاں کردیتے ہیں جو کہ ان کے خیال میں لوگوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ ٹی وی دکان دار ہے اسے پیسہ چاہیے اور وہ وہی چورن بیچے گا جس کی ڈیمانڈ ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ وہ لوگوں کے نظریات کو بدلنا چاہتے ہوں۔ جیسا کہ’’زیڈ اے بخاری‘‘ صاحب نے فرمایا تھا جب ٹی وی کا آغاز ہوا تھا تو انہوں نے بتایا تھا کہ ہمارے کیا مقاصد ہیں۔

میں جس مقصد کے لیے لکھتی ہوں وہ تو پھر ’’غٹرغوں ‘‘ ہو جائے گا۔ وہی بات کہ اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی۔‘

میں صرف ایک مقصد کی خاطر لکھتی ہوں اور خود کو صرف اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھتی ہوں ،کسی پروڈیوسر یا ڈائریکٹر کے سامنے نہیں چند روپوں کی خاطر میں اپنی تحریر فروخت کردوں یہ ممکن نہیں ہے۔

تلوار اور قلم برائے فروخت نہیں ہوتا اسے انمول ہی رہنا چاہیے ،چاہے وہ کسی بڑے ادیب کا ہو یا ہم جیسے ٹٹ پونجیوں کا ہو۔ جائیدادیں تو دنیا میں رہ جائیں گی ،ساتھ تو نہیں جائیں گی۔تو پھر ساتھ کیا جائے گا اس کی فکر کرنی چاہیے۔

مجھے’’سانجھ‘‘ کے لیے آفر آئی تھی کہ ہم اس کا ڈرامہ بنانا چاہتے ہیں۔ مگر میں نے انکار کردیا۔

آپ نے مزاج کی بات کی ہے اصل میں زندگی میں تلخیاں زیادہ ہیں اور خوشیاں کم ہیں۔ مٹھاس بھی کم ہے ۔لوگ عموماً زودرنج ہوتے ہیں آنسو پلکوں پر دھرے ہوتے ہیں پر ہونٹوں پہ مسکان نہیں آتی میرا مزاج بھی شوخ وشریر تھا، میرے یہاں بھی طنز کم ہے، مزاح زیادہ ہے میں دوسروں پر کم ہنستی ہوں خود پر زیادہ ہنستی ہوں اپنی حماقتوں پر۔ تقریباً سب کچھ سچ ہی ہوتا ہے۔مزاحیہ کہانیوں کے سارے کردار ہمارے آس پاس ہی ہوتے ہیں لوگ ان کی بے وقوفیوں سے تنگ آتے ہیں اور میں لطف اندوز ہوتی ہوں اور لکھ مارتی ہوں تاکہ لوگ ناراض ہونے کے بجائے مزہ لیا کریں۔

ویسے پھر ہم لوگ آدھے پاگل تو ہوتے ہی ہیں ۔شفیق الرحمن نے یہی تو کہا تھا نا کہ پاگل خانہ تو ایک چھوٹی سی جگہ ہے ۔دنیا بہت بڑا پاگل خانہ ہے۔

ایک بار ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ میری والدہ بہت بیمار ہیں اور جب ان کی تکلیف بڑھتی ہے تو پھر میں آپ کی مزاحیہ کہانی ان کو سناتی ہوں تو وہ کچھ دیر کے لیے اپنی تکلیف بھول کر ہنسنے لگتی ہیں۔ بس یہی میرا انعام ہے۔ روتوں کو ہنسی کی تھوڑی سی خیرات کردینے میں کیا حرج ہے۔ سچ ہمیشہ کڑوا نہیں ہوتا تھوڑا تھوڑا میٹھا بھی ہوتا ہے آپ پڑھ کر دیکھ لیں ’’ہاتھ کنگن کو آرسی‘‘ کیا ہے۔

میں نے کبھی معاوضے کے لیے نہیں لکھا۔ یہ بات شاید میں پہلے پھر بھی بتاچکی ہوں جب لکھنے کو دل چاہتا ہے یا کوئی چیز مجھے مجبور کرتی ہے تو میں لکھ لیتی ہوں۔ اپنے ناشروں‘‘ کو بھی میں خود ہی رقم ادا کرتی ہوں۔ ویسے بھی جن کا مرشد اقبال ہو ،ان کو روپے پیسوں کی ہوس نہیں ہونی چاہیے۔ ہاں اگر کوئی ضرورت مند ہے تو پھر الگ بات ہے۔‘‘

’’کہانی کس طرح ذہن میں آتی ہے چلتے پھرتے ،کسی کو دیکھا یا فارغ اوقات میں؟‘‘

’’چلتے پھرتے کوئی بات کلک کرجاتی ہے تو افسانہ بن جاتا ہے کوئی خبر۔ کوئی واقعہ کوئی انسان۔ کوئی مشاہدہ۔ میںکسی منصوبے کے تحت نہیں لکھتی، نہ ہی میرے اوقات مقرر ہیں،موڈی ہوں دل چاہا تو لکھ دیا ورنہ ان واقعات کو دماغ کے کسی کونے میں ڈال دیا۔ یہ میرا دل کبھی نہیں چاہا کہ میں سارا دن لکھتی رہوں۔ دنیا میں اور بھی غم ہیں محبت کے سوا۔ شاید میں نے لکھنے کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ حالانکہ لینا چاہیے تھا۔‘‘

’’آپ کا دل نہیں چاہتا کہ آپ لکھیں اور سب پڑھیں؟‘‘

’’نہیں ،میں نے کبھی کسی کو زبردستی نہیں پڑھوایا اور نہ ہی کبھی کسی سے رائے پوچھی کہ میں نے کیسا لکھا ہے۔ لوگ تو لکھنے کے بعد ،اپنی ہر تحریر کو ہر جگہ بھجواتے ہیں اور رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں بلکہ جان کھاجاتے ہیں کہ بتائیں۔ اصل میں درپردہ وہ اپنی تعریف سننا چاہتے ہیں۔ میں نے کبھی ایسا کیا ہے اور نہ ہی کرسکتی ہوں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ سوت کاتا اور لے دوڑے ۔

تنقید کافی ہوتی ہے۔’’بوئے گل‘‘ اور سانجھ پر ہلکی پھلکی’’فحاشی‘‘ کا الزام لگ گیا تھا۔ بتول کی میں ایڈیٹر تھی۔ مگر چند لوگوں کی یہ تاکید تھی کہ’’ بتول‘‘ میں’’ بوئے گل‘‘ کا ذکر نہ آنے پائے تو پھر ہم نے بتول کے لیے اس کو شجر ممنوعہ بنادیا۔

یہاں شائع کرنے کی اجازت نہیں ملی تو ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘ میں بھیج دیا ۔ابھی بھی’’انہونی‘‘ افسانے پر بے حیائی کا لیبل لگ چکا ہے۔ میں برا نہیں مانتی ہر ایک کا اپنا معیار اور پسند ہوتی ہے۔ فکر ہر کس بہ قدرے ہت اوست‘‘ میں جو صحیح سمجھتی ہوں اسے لکھ ڈالتی ہوں۔اگر تنقید جائز ہو تو اصلاح کرلی اور اگر جائز نہیںہے تو نظر انداز کردیتی ہوں۔‘‘

’’سسرال میں آپ کی تحریروں کی پذیرائی ہوتی ہے۔ اور میکے میں؟‘‘

’’میرا خیال ہے کہ میرے سسرال میں میرے دیور اور میری نند پڑھتی تھیں۔ اور میکے میں میرے بہن بھائی اور بچے پڑھتے ہیں شاید۔ مگر دل وجان سے پسند کرنا۔’’تو بہ کیجیے ایسا ناشر کبھی نہیں ملا۔‘‘ شاید ہم میں ہی نہ تھی کوئی بات کہ یاد نہ تم کو آسکے۔

سچ بات تو یہ ہے کہ میں نے کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کی اور نہ ہی اپنی تحریر پہ لوگوں کی رائے معلوم کرنے کی کوشش کی نہ اس پر بحث ومباحثہ کیا۔ بس ٹھیک ہے لکھ دیا سولکھ دیا کسی کو پسند آتا ہے تو بڑی اچھی بات ہے اور اگر نہیںآتا تو بھی کوئی بات نہیں۔‘‘

’’آپ کے بچوں میں لکھنے کے جراثیم ہیں؟‘‘

’’نہیں ،بچوں میں یہ جراثیم ،نہیں آئے۔غالباً مارکیٹ میں اتنی طاقت ور’’ اینٹی بائیوتک‘‘ دوائیاں آگئی ہیں کہ وہ سارے جراثیم کو مار دیتی ہیں۔ پڑھنے کے سب شوقین ہیں مگر لکھنا کاردارد ہے۔دو بیٹے ایک انجینئر ہے ایک اکائونٹنٹ ہے سو ان کو اپنے پیشے سے متعلق ہی لٹریچر بھاتا ہوگا۔ ایک کو اردو ادب سے شغف ہے اور دوسرے کو انگریزی ادب سے ۔اللہ اللہ خیر صلا۔

آپ نے میری والدہ کے بارے میں پوچھا ہے۔ تو والدہ محترمہ جب جماعت اسلامی کی رکن بن گئیں تو ان سے کہا گیا کہ کچھ لکھیں۔ بھارت سے بچوں کا رسالہ’’نور‘‘ اور الحسنات پھر بتول نکلنا شروع ہوا۔ یہاں مبشر چراغ راہ اور غالباً یثرب تھے بعد میں محترمہ حمیدہ صاحبہ نے’’عفت‘‘ کا اجرائ کیا اور والدہ نے سن1950 سے لکھنا شروع کیا۔

بڑے نازک موضوعات پر بھی لکھتی تھیں اور آہستہ آہستہ منجھتی چلی گئیں۔ اگرچہ نازک موضوعات پر لکھا مگر قلم ہمیشہ محتاط رہا۔ افسانوں کے دو مجموعے’’حویلی‘‘ اور ’’پلائو‘‘ شائع ہوئے تھے جنہیں میں یکجا کررہی ہوں۔ناولٹ میں ایک ابن آدم‘‘ ہے اور ’’دانش‘‘بھارت میں چھپا تھا۔ اور ایک ناولٹ ہے’’کچے بول‘‘ ایک’’آٹو بائے گرافی قسم کی تحریر بھی ہے۔’’چراغوں کا دھواں‘‘۔’’کچے بول اور’’سانول موڑ مہاراں ‘‘ پر مشتمل ایک کتاب بھی شائع ہوگئی ہے۔

اصل میں جب ان پر ’’قیمہ ‘‘ کی ذمہ داریاں پر پڑیں تو وہ ادب سے دور ہوگئیں کیونکہ ان کے پاس وقت کی قلت ہوگئی۔ ان(والدہ) کا ذکر آپ کو منٹو کی کتاب ’’گنجے فرشتے‘‘ میں مل جائے گا۔ انہوں نے قلمی فحاشی پر تنقید کی تو اس پر انہوں نے اچھی طرح لتاڑا۔ وہ جانے اور ا ن کا خدا جانے بہرحال والدہ اپنے موقف پر قائم رہیں۔

لوگوں کے نام اور ان کے خطوط پر مبنی ایک کتاب’’مکاتب نیر‘‘ آچکی ہے ۔وہ ٹیلیفونک گفتگو کو ہوائی گفتگو سمجھتی تھیں اور’’خطوط‘‘ کی قائل تھیں کیونکہ وہ رہ جاتے ہیں۔ یہی بات ادب میں مقام کی ہے۔ اسلام پسند ادیبوں کو ویسے بھی کوئی گھاس نہیں ڈالتا۔

ہمارا نہ پی آر او ہوتا ہے اور نہ ہی نقادوں اور ایڈویٹروں سے تعلق۔ یہی لوگ ادب میں کسی کے مقام کا تعین کرتے ہیں۔لہٰذا ہم جو چاہیں لکھ لیں ادبی لوگ ہمارا نوٹس نہیں لیتے۔ ہمیں بھی پرواہ نہیں ہے ،ہم بھی اپنی دنیا میں مگن ہیںاور اگر کوئی تحریر مفید تھی یا ہے تو اس کااجر ہم اپنے اللہ سے لے لیںگے۔

میں بڑی حیران ہوتی ہوں کہ میرے ناول پر کیسے ’’پی ایچ ڈی۔ کی گئی یا پھر ایک صاحب نے ’’پی ایچ ڈی‘‘ کے لیے میرے ناولٹ کو کیوں منتخب کیا اور میرے کام پر جو’’’ایم فل‘‘ ہوا اس کا انتخاب کیسے کیا گیا۔ میں نے تو کسی سے نہ درخواست کی اور نہ ہی میرا کسی سے رابطہ تھا اور نہ ہی حوصلہ افزائی میں نے کی۔

اس کی وجہ میری کوئی ایروگینس نہیں ہے کہ اپنی چیزوں یا تحریروں پر مجھے کوئی تکبر ہو، اللہ نہ کرے بلکہ آپ یقین مانیے کہ میں نے اپنی تحریروں کو اس قابل سمجھا ہی نہیں ہے کہ ان کا کوئی نوٹس اس طریقے سے لیا جائے۔ میں نہیں جانتی کہ ایسا کیوں ہوا۔‘‘

’’اپنے بچوں کے بارے میں اور مزید اپنے بارے میں بھی بتائیں۔

’’آپ نے کہا کہ میں اپنے بچوں کے بارے میں بتائوں تو سچ بتائیں ،قارئین کو بچوں یا شوہر سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے بھئی۔ وہ اپنے(قارئین) شوہر اور بچوں کو سمجھنے کی کوشش کریں، بچوں کی تربیت پر اپنا وقت لگائیں۔ اپنے اپنے شوہر سنبھالیں اور ان کی صحیح ساتھی بنیں۔

ہم خیال ہیں تو شکر کریں اور اگر نہیں ہیں تو صبر کریں۔ میرے شوہر تو یکم مئی کو دنیا چھوڑ گئے ان کے بارے میں ،میںعفت میں لکھ رہی ہوں۔‘‘ ’’میرے ہم نفس میرے ہم سفر‘‘ کسی کو اگر کوئی دلچسپی ہے تو وہاں وہ پڑھ سکتے ہیں ،ویسے جو آپ سے گفتگو ہوئی ہے اس میں بچوں کی جھلکیاں کہیں نہ کہیں تو نظر آہی رہی ہیں۔

مزید کیا بتائوں۔ فارغ اوقات کے بارے میں آپ نے پوچھا تو فارغ اوقات ملتے ہی نہیں اور اگر مل جائیں تو کچھ نہ کچھ پڑھتی ہوں یا کچھ پکالیتی ہوں عید،بقر عید پر میرے بچے اور میرے سسرالی رشتے دار ہمارے یہاں آتے ہیں۔ کیونکہ یہ روایت قائم ہے اب تک ۔یہ بھی اپنے گھر میں(شوہر)بڑے تھے اور میں بھی ،عید بقر عید کا کھانا خود پکاتی ہوں سب کی پسند کا۔

آپ نے مزاج کا پوچھا تو صحیح جج تو دوسرے ہی ہوتے ہیں تو بس یہی کہہ سکتی ہوں میں کہ

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزم حق وباطل ہو تو فولاد ہے مومن

جوانی میں خوب سیاست کی، تحریکوں میں حصہ لیا، سڑکوں پر آنسو گیس کی وجہ سے آنسو بھی بہائے، تحریک نظام مصطفی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا مگر افسوس کہ نو ستارے اپنے اپنے ذاتی مفاد کے لیے جمع ہوئے تھے اور پھر ٹوٹ کر بکھر گئے۔ہم تو ویسے بھی ہر لیڈر کے چکر میں آجاتے ہیں۔ پتا ہی نہیں چلتا کہ کون محض چکر باز ہے اور کون واقعی مخلص ہے یا ہم بے وقوف ہیں۔ یا وہ زیادہ چالاک ہیں۔

سیاحت بھی خوب کی، انگلینڈ یورپ اور امریکہ کی تقریباً پینتس اسٹیٹس میں بائے کار گھومے پھرے، پہلے ایک قسم کا ہم نے لوپ بنایا اس میں ہم نیو یارک سے فلوریڈا کی طرف گئے اور دوسرے چکر میں نیو یارک سے کیلیفورنیا کا تھا اور سینٹا بابرا سے بھی آگے پھر سمندر تک جا پہنچے یعنی جہاں زمین ختم ہوتی تھی وہاں تک۔

تین سفر نامے میں نے لکھے جو قسط وار چھپے ہیں،قریہ بہ قریہ کو بہ کو۔‘‘’’منزل ہے کہاں تیری اے لالۂ صحرائی ‘‘اور ’’تیسرا قید مقام سے گزر۔‘‘

آپ کا یہ سوال کہ میرا بچوں کے ساتھ کیسا رویہ تھا تو جس طرح ،جس کی پرورش ہوتی ہے وہ اسی طرح اپنے بچوں کی پرورش کرتا ہے۔ ہمیں چند اصولوں کے تحت پالا گیا تھا۔ اور ان اصولوں کو توڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ آزادی تھی مگر ایک حد تک سختی تھی، ایک حد کے بعد۔

ہمیں سہیلیوں کے گھر رات رہنے کی اجازت نہیں تھی ،نہ ہی ان کو اپنے گھر رات ٹھہرانے کی۔ پردے کے بغیر گھر سے نہیں نکل سکتے تھے۔ گھر میں سر پہ دوپٹہ ہونا ضروری ۔والد کو دیکھ کر سر ڈھانپ لیا جاتا تھا۔ لیٹے ہیں تو اٹھ کر بیٹھ جاتے تھے۔

آج کی لڑکیوں کی طرح باپ کے گلے سے لٹکنے کی اجازت تو ہر گز نہیں تھی۔ والدین والدین ہوتے ہیں ۔سرپرست، ہمدرد اور مشفق ہوتے ہیں مگر دوست نہیں ہوتے، دوستی میںبے تکلفی ہوتی ہے ادب واحترام ذرا کم ہوتا ہے، میک اپ ،پھول اور عطر کی اجازت نہیںتھی۔ کیونکہ کہا جاتا تھا کہ جن آجاتے ہیں اور اگر بال کھول کر گھومیں تو شیطان سر پر تھپڑ لگاتا ہے۔

اب آج کا جو رواج ہے اس میں کوئی بال باندھتا ہی نہیں ہے۔ ہر وقت بال کھلے ہوتے ہیں خواہ چار بال ہی کیوں نہ ہوں۔ عجیب بندہ ہونق ہی لگتا ہے۔ جن کے لمبے اور سلکی بال ہیں وہ تو دکھاوے کے لیے کھول لیں ،مگر جن کے سر پر دو چار بال ہوں۔ انہیں کھولنے کی کیا ضرورت ہے۔میں نے کبھی گنجی لڑکیاں نہیں دیکھی تھیں مگراب دیکھی ہیں۔ کیونکہ جب ہر وقت بال کھلے ہوں گے تو گریں گے بھی۔

پان کھانے کا شوق تھا مگر پان کھانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ کبھی کبھار والدہ کے پاندان سے پان چراکر کھالیا تو ابا کے آنے سے پہلے منہ صاف کرلیا جاتا تھا۔ ہمیں شادیوں میں بھی نہیں لے جایا جاتا تھا کیونکہ وہاں ہر قسم کی گفتگو ہوتی ہے تو کنواری لڑکیاں سن نہ لیں۔

مگر آج؟آج تو لڑکیوں کو سجابناکر لے جایا جاتا ہے تاکہ رشتے مل جائیں۔ جو تقدیر میں لکھا ہوتا ہے وہ ہی ملتا ہے۔ اس وقت کچھ خواتین نے کہا بھی کہ اگر آپ اس طرح نہیں کریں گی تو پھر رشتے کیسے ملیں گے؟ اس پر امی نے کہا کہ جہاں ہونا ہوگا وہ خود ہی پہنچ جائیں گے میں لڑکیوں کی نمائش نہیں کرسکتی۔

گزرے زمانے میں خاندانوں کو دیکھ کر رشتے ہوتے تھے۔ لڑکیاں ٹرالیاں سجاسجاکر خود کو پیش نہیں کیا کرتی تھیں۔ ادھر ادھر سے پتا کرلیتے تھے یا کالج میں جاکر دیکھ لیتے تھے۔

میری ساس محترمہ نے تو مجھے رشتہ طے ہوجانے کے بعد دیکھا تھا۔ بس نند نے دیکھ لیا تھا وہ بھی شرمیلی ہی تھی ۔نظریں جھکاے بیٹھی رہی۔ اس نے تو مجھے بعد میں پسند کیا ہوگا۔ اس ناچیز نے تو اسے پہلے پسند کرلیا۔ یہ بات میرے علم میں نہیں تھی کہ وہ مجھے پسند کرنے آئی ہے میں17 سال کی تھی اور وہ چوبیس یاتئیس سال کی تھی اور شادی شدہ تھی۔

تو جناب ،میں نے بھی اسی طرح اپنے بچوں کو پالنے کی کوشش کی۔ زمانہ جب بدل جاتا ہے تو تربیت میں پہلی والی سختیوں کو کم کرنا پڑتا ہے۔لیکن مغرب کے بعد لڑکوں کو گھر سے باہر رہنے کی اجازت نہیں دی میں نے۔

سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں میرے بچے باہر پڑھنے چلے گئے۔ مگر وہاں بھی میرے شوہر کے دوست جو یونی ورسٹی میں پڑھاتے تھے ،وہ ان کے سر پر مسلط رہے۔ ہر ہفتے ان کے یہاں درس ہوتا تھا۔ اس میں انہیں شامل ہونا پڑتا تھا۔ بڑوں سے بحث کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ ’’خطائیں بزرگاں، گرفتن خطا است‘‘ ضروری نہیں کہ ہم ہر وقت ہی صحیح ہوں۔

بس اسے دل میں رکھیں جو بھی اختلاف ہو۔ہم پر رعب نہ جمائیں ،ایک بیٹا انگریزی گانوں کا شوقین تھا میں نے کہا کہ گھر میں آواز نہ آئے۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ شوق چند روز کا ہے۔ پھر اپنے بچوں کے رونے دھونے سنیں گے یا گانے۔ اور پھر ایسا ہی ہوا ۔

بیٹیاں باپردہ تھیں اور باپردہ ہیں، ایک امریکہ میں ہے اور ایک کینیڈا میں۔ ان کی بیٹیاں وہیں پیدا ہوئیں وہیں پرورش پائی۔ تعلیم بھی حاصل کررہی ہیں۔ مگر فی الحال تو انہوں نے اپنے پردے کی روایت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔

بڑی اکثر کہتی ہے کہ امی آپ ڈانٹتے ہوئے جو جملے بولا کرتی تھیں اور مجھے برے لگتے تھے وہی اب میں بولتی ہوں۔ لگتا ہے کہ میں نہیں آپ بول رہی ہیں۔

لیکن ظاہر ہے کہ وقت کے ساتھ کچھ تبدیلیاں تو آتی ہیں جو مجھے پسند نہیں ہیں۔مگر زور صرف اپنی اولاد پر چلتا ہے امی نے تو ہمیںکبھی فیشن کرنے ہی نہیں دیا۔ پائنچے تنگ ہوئے تو انہوںنے کھلے بنادیے اور جب کھلے پائنچوں کا رواج ہوا تو اس پر بھی پابندی لگ گئی۔ اپنے ناپ کے کپڑے پہناتی تھیں۔

میں اپنے کالج کی بیسٹ ڈیبیٹر تھی اور جب آپ کسی تقریری مقابلے میں جاتے ہیں تو آپ کی ظاہری شخصیت بھی دیکھی جاتی ہے کہ انسان کیسے اپنے آپ کو کیری کرتا ہے ،تو پھر میں چپکے سے چھوٹی بہن کے کپڑے پہن کر جایا کرتی تھی۔ کیونکہ وہ خود سینا جانتی تھی تو وہ فیشن والے اور ذرا ٹائٹ کپڑے سی لیتی تھی۔ اب برقعے میں تو پتا نہیں چلتا تھا کہ اندر کیا پہنا ہوا ہے۔

اب تو شادی شدہ اور کنواری کے لباس میں کوئی فرق رہا ہی نہیں ہے۔ ہم لٹھے کی شلوار، ململ کا دوپٹہ اور پرنٹٹیڈ قمیص پہنتے تھے۔ اب ایسا ممکن نہیں ہے۔ پاجامے مجھے پسند نہیں۔ بچیاں میرے سامنے شلوار میں ہی آتی ہیں۔ میری بڑی بیٹی بھی پاجامے نہیں پہنتی۔اس کی بیٹی ڈھیلا ڈھالا پاجامہ پہنتی ہے جو بیٹھنے سے اونچا نہیں ہوتا۔

حدیث میں تو یہی ہے کہ ’’حیا نصف ایمان ہے‘‘ بندہ جو چاہے پہنے، فیشن ایبل لباس بھی پہنیں مگر حیا کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر حیا نہیں ہے تو فائدہ مسلمان کہلانے کا۔’’حیا‘‘ نام کی کوئی چیز تو اب رہ ہی نہیں گئی۔

والدین دیکھتے ہیں بھائی دیکھتے ہیں۔ غیر محرم بھی دیکھتے ہیں مگر کسی پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ اگر باپ سختی سے بات کرے کہ گھر میں یہ طریقہ رہے گا تو کسی بچے کی کیا مجال ہے کہ وہ حد پار کرے۔

اب مجھے نہیں معلوم کہ میں صحیح ہوں یا غلط ۔بہرحال والدین کو اولاد کے آگے جھکنا نہیں چاہیے۔ بچوں کا ہی فرض ہوتا ہے کہ وہ جھک کر رہیں۔ والدین کے سامنے اف تک نہ کریں ،یہی اللہ کا حکم ہے۔ مادر پدر آزاد جو نسلیں ہوتی ہیں وہ تباہ ہوجاتی ہیں۔وہ ہلا گلہ تو مچاسکتی ہیں مگر کوئی تعمیری کام نہیں کرسکتیں۔

لیجیے آپ کا انٹرویو مکمل ہوا۔ اور اگر کسی کو کوئی چیز مطمئن نہیں کرسکی تو یہ میرا قصور ہوگا آپ کا نہیں۔‘‘

’’بہت شکریہ سلمیٰ یاسمین نجمی صاحبہ کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت سے ہمارے لیے وقت نکالا۔‘‘

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں