افشاں نوید کالم نگاری کی دنیا میں ایک جانا پہچانا ،وہ کالم نگاری میں ایک منفرد انداز کی مالک ہیں۔
ان کے ہلکے پھلکے کالموں میں بھی کوئی نہ کوئی نکتہ ، کوئی فکر انگیز بات ضرور ہوتی ہے ۔ سنجیدہ موضوعات کی تو بات ہی الگ ہے۔ افشاں زیادہ تر سنجیدہ موضوعات پر ہی لکھتی ہیںاور حالات حاضرہ پر بڑے گہرے اور بھرپور تجزے بھی کرتی ہیں۔
خواتین عموماً معاشرتی مسائل پر لکھتی ہیں لیکن افشاں نوید نے معاشرتی مسائل کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست اور ملکی سیاست پر بھی کالم لکھے ہیں۔
روزنامہ جسارت میں نوید فکر کے عنوان سے ان کے کالم شائع ہو رہے ہیں اس کے علاوہ بھی وہ سات مختلف میگزین میں لکھ رہی ہیں۔ اصلاحی موضوعات پر ان کے لا تعداد کتابچے بھی شائع ہو چکے ہیں۔
ان کے کالموں کے چار مجموعے آ چکے ہیں۔ افشاں بلاگر کے طور پر بھی اپنی شناخت رکھتی ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اکنامکس کرنے کے بعد سات سال ایک گرلز کالج میں پرنسپل کے فرائض بھی انجام دے چکی ہیں۔
افشاں اس سب کے ساتھ ساتھ ایک اچھی بیوی اور کامیاب ماں بھی ہیں۔
آج ہم آپ سے ان کی ملاقات کروا رہے ہیں
’’کیسے مزاج ہیں؟‘‘
’’الحمدللہ ۔‘‘
’’کچھ اپنے بارے میں بتائیے؟‘‘
’’پہلے تو میں خواتین ڈائجسٹ کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے قارئین سے ملاقات کا موقع فراہم کیا۔ میرے والدین کا تعلق یوپی کے شہر بدآیوں سے تھا قیام پاکستان کے تین برس بعد وہ ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور ان کی شادی قیام پاکستان کے تقریباً پانچ سال بعد ہوئی۔ ہم آٹھ بہن بھائی ہیں چار بہنیں اور چار بھائی ، میرا نمبر چوتھا ہے۔
والد صاحب جنہیں ہم ابا جی کہتے تھے۔ صوفی ٹائپ آدمی تھے ۔ پیشے کے لحاظ سے وکالت اختیار کی ، مگر وہاں بقول ان کے ان کی آخرت محفوظ نہیں تھی ، اس لیے یہ پیشہ چھوڑ دیا۔ ایک طویل عرصہ پاکستان انٹرنیشنل ایرلائن میں ملازمت کی ۔گورنمنٹ آف سندھ میں چیف سکریٹری کی حیثیت سے بھی کئی سال گزارے .تھری پیس سوٹ پہننے والی شخصیت مگر وہ کشتی پانی کے اوپر ہی رہی ، دنیا کا پانی اس کے اندر داخل نہ ہو سکا ۔
وہ حافظ قرآن تھے۔ اور قرآن کے عشق میںگرفتار ایک تہائی رات تلاوت میں گزارتے کہتے تھے کہ نیند نہیں آتی ، میرے سرہانے آگ جل رہی ہے ۔میں کسے خراٹوں کی نیند سو سکتا ہوں۔ نمازوں کایوںانتظار کرتے جیسے محبوب سے ملاقات کاہو۔
ہماری امی سادہ سی تھیں اور معمولی تعلیم یافتہ تھیں مگر مطالعہ کی رسیا جو کتاب ہاتھ آتی پڑھ ڈالتیں چاہے قانون کی کتابیں ہی کیوں نہ ہوں ، بھائی جج تھے ، تو اسٹور قانون کی کتابوں سے بھرا ہوا تھا ۔
میں نے 1988ئ میں کراچی یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹرز کیا۔ جامعتہ المحصنات کراچی کی پرنسپل شپ ملی تو لگے ہاتھوں درس نظامی کا آٹھ سالہ کورس بھی کر لیا۔ اس سال الحمد للہ ماسٹرز مکمل کر لیا ہے۔ امتحان پاس کر کے VBMویلیو بیٹ مینجمنٹ کے علاوہ کئی پروفیشنل کورسز کیے ۔
کی دہائی کے آخر میں میری شادی ہوئی۔ شوہر مالیاتی ادارے سے وابستہ رہے۔ حافظ قرآن اور سلیم فطرت انسان ہیں الحمد للہ ۔ کبھی میرے مشاغل اور مصروفیات میں رکاوٹ نہیں بنے بلکہ مقدور بھر تعاون کیا ۔
اللہ رب کریم نے تین بیٹیوں اور دو بیٹوں سے نوازا ۔ تینوں بیٹیاں طب کے شعبے سے وابستہ ہیں ڈائومیڈیکل یونیورسٹی کی گریجویٹ ہیں ۔ایک بیٹی ملبورن میں پریکٹس کر رہی ہے۔ دوسری کیلیفورنیا میں ریذیڈنسی (Residency) کررہی ہے تیسری اسلام آباد کے ایک اسپتال سے وابستہ ہے۔ تینوں شادی شدہ ہیں اور صاحب اولاد بھی اور خانگی اور پیشہ وارنہ ذمہ داریاں ساتھ ساتھ نبھا رہی ہیں۔ الحمد للہ بڑا بیٹا ایچ آر پروفیشنل ہے ،بچپن سے پڑھانے کا شوق ہے ۔ اس وقت CBM سے بھی باحیثیت لیکچرار وابستہ ہے۔ چھوٹا بیٹا این ای ڈی یونیورسٹی سے مکینیکل انجینئر ہے۔ الحمد للہ ۔‘‘
’’بچپن ، گھر کے ماحول ، لاڈ پیار اور بہن بھائیوں سے تعلق کے بارے میں بھی بتائیے؟‘‘
’’اس عمر میں ہر ایک کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ’’ میرا بچپن کسی مول لادے کوئی ‘‘ چونکہ والد صاحب صوفی ٹائپ تھے تو امی ان سے ڈرتی تھیں۔ (اس دور میں شوہر اور باپ سے ڈرنا سماجی روایات میں شامل تھا) گھر میں ابا جی کی موجودگی میں ٹی وی اور ریڈیو نہیں کھل سکتا تھا۔ ابا جی صرف خبرنامہ اور بی بی سی کی خبریں سنتے تھے۔ اس دور میں لاڈ کا مفہوم آج کے دور کا سلوگن نہیں تھا۔
اس دور میں بچوں کے ناز اٹھانا اور انہیں پیمپر کرنا شامل نہیں تھا۔ ابا جی کے سامنے ہم کبھی کھل کر نہیں ہنسے تھے۔ ابا جی کبھی بچوں کے بیڈ روم میں نہیں آئے تھے یعنی اتنا حیا دار ماحول تھا ۔ ہم نے ابا جی کو کبھی نانی اماں سے بات کرتے نہیں دیکھا تھا۔ جب وہ ہمارے گھر رہنے آتی تھیں تو ابا جی کمرے کی چوکھٹ سے سلام کر کے آگے بڑھ جاتے تھے۔ نظریں ملا کر بات کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ،نانی اماں بھی اتنی حیا دار تھیں کہ شام کو ابا جی کی واپسی پر خود کو کمرے تک محدودرکھتیں۔
ابا جی مجھے ’’آپا‘‘ کہتے تھے ۔ بچپن میں میں یہی سمجھتی تھی کہ میرا نام ہی آپا ہے اسکول جانے کے بعد سب نے مجھے میرے نام سے پکارنا شروع کیا تو مجھے اپنے نام سے آشنائی ہوئی۔ میں نو برس کی عمر میں پانچویں جماعت میں اسکول گئی۔ کیونکہ تین بھائیوں کے بعد پیدا ہوئی تھی تو والدین ناز اٹھاتے تھے۔ ابا جی نے مجھے گھر میں ہی پڑھایا کہ اسکول کا ماحول بچیوں کو خراب کرتا ہے۔
اباجی اپنی ماں کو آپا کہتے تھے اور ان ہی کی محبت میں مجھے بھی آپا کہنے لگے ۔ میری شکل اپنی دادی مرحومہ سے ملتی تھی تو ایک دن کسی رشتے دار سے کہنے لگے کہ افشاں کے ’’پیر بالکل میری ماں کے پیروں جیسے ہیں تو میں تصور میں ماں کے پیر سمجھ کر انہیں چھو کر اپنی ماں کے لیے دعا کرتا ہوں۔‘‘ اپنی ماں کو بہت یاد کرتے تھے ان کے پکائے ہوئے کھانوں کو بہت مس کرتے تھے اور با آواز بلند ان کی مغفرت کی دعا مانگا کرتے تھے۔
ہم آٹھ بہن بھائیوں میں ’’باجی‘‘ کی حیثیت ماں جیسی تھی ،انہوں نے ہی بچپن سے کچن سنبھالا۔ گھر میں شیف تھا لیکن جب باجی بڑی ہوئیں تو شیف کو ہٹا دیا گیا۔ ہماری امی چونکہ ٹی بی جیسے مہلک مرض سے لڑ رہی تھیں ، اس لیے باجی نے دس سال کی عمر سے گھریلو ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ اس وقت لڑکیوں کے کیئریر میں سرفہرست گھر داری ہوتی تھی اور آج کے دور میں کیئریر میں ،سب سے آخر میں گھر داری ہوتی ہے۔
گھرکے ماحول میں خاموشی اور پڑھائی تھی۔ حلال آمدنی اور آٹھ بچے تفریح کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھانہ آس پاس تفریح کا کوئی ماحول تھا۔ لڑکے کرکٹ اور لڑکیاں گڑیوں سے کھیلتی تھیں۔ گڑیوں کی شادی اس وقت کی روایت تھی۔ سلائی کڑھائی ،مکرامے اور سوئیٹر بنانا اس زمانے کی لڑکیوں کو یہ سب کچھ آتا تھا۔
نماز کی بہت سختی تھی اور اس معاملے میں ابا جی شیر کی نظر سے دیکھتے تھے۔ سب بہن بھائیوں کی روزہ کشائی سات برس کی عمر میں ہوئی ، روزہ قضا کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ابا جی سماجی تعلقات کو پسند نہیں کرتے تھے۔
امی کی سہیلیاں بھی ابا جی کی غیر موجودگی میں آتی تھیں ۔کبھی بھنک پڑتی کہ ’’حق صاحب‘‘گھر پر ہیں تو الٹے پیروں واپس چلی جاتی تھیں۔
ابا جی کی فلاسفی یہ تھی کہ بچے کم عمری میں دوسروں کے اثرات جلدی قبول کر لیتے ہیں ۔
اس لیے ’’آئسو لیشن‘‘ بہترین حکمت عملی ہے۔ مغرب کے بعد لڑکوں کا گھر سے باہر ہونے کا تصور بھی نہیں تھا۔ میرے بھائی نے اٹھارہ سال کی عمر میں گریجویشن کر لیا تھا۔ میں بھی سترہ سال کی عمر میں یونیورسٹی میں آنرز سال اول کی طالبہ تھی ۔ پڑھائی ہی مشغلہ ہوتا تھا اس وقت۔
’’آپ کی صلاحیتوں کا انکشاف کب ہوا اور کس نے تحریک دی؟‘‘
’’پہلی تقریر کلاس ششم میں ابا جی نے عربی میں لکھ کر دی اور پھر اس کی پریکٹس بھی کروائی ۔ جب میں گیارہویں جماعت میں تھی تو میری ہم جماعت افشاں تبسم نے ’’کرن رسالہ‘‘ دکھایا جس میں اس کا تبصرہ شائع ہوا تھا۔ مجھے لگا کہ یہ کوئی بہت ہی اہم ہستی ہے کہ اس کا میگزین میں نام شائع ہوا ہے۔ دیکھا دیکھی میں نے بھی اسی میگزین میں تبصرہ بھیج دیا۔ میرا بھی اگلے ماہ چھپ گیا پھر میں چھوٹی چھوٹی تحریریں ’’ڈائری کے اوراق‘‘بھیجنے لگی جو کہ چھپ جاتی تھیں کرن میں پھر تو گویا مجھے پر لگ گئے۔ اس عمر کی خوشیاں بھی بڑی عجیب ہوتی تھیں۔
پھر مختلف رسائل اور اخبارات کو اپنی تحریریں بھیجنے لگی جو باقاعدگی سے شائع ہونے لگیں۔ کوئی تحریر رد نہیں ہوتی تھی ۔ابا جی لکھنے سے خوش ہونے کے بجائے پڑھنے پر زور دیتے کہ ابھی مزید مطالعہ کرو. البتہ امی میری تحریر پر شاباش دیتی تھیں ۔‘‘
پڑھنے لکھنے کا عمل جاری تھا کہ میں کراچی یونیورسٹی میں آنرز سال دوم میں جمیعت سے متاثر ہو کر ان کے قریب آ گئی۔ یونیورسٹی میں اس وقت جمیعت طالبات کی یونین تھی۔ طالبات بھی کھل کر دعوت دین کاکام کرتیں۔
جمیعت طالبات میں علمی کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیاں بھی عروج پر رہتی تھیں۔ لکھنے کا شوق تھا تو میرا نام لکھنے والوں کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ پھر ان کے ماہنامہ جریدے ’’پکار‘‘ میں باقاعدگی سے لکھنے لگی اور اس کے تحت ہونے والے تحریری مقابلوں میں بھی حصہ لیتی تھی۔ 80ئ کی دہائی کے ’’پکار‘‘ کے شمارے آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں بلکہ فائلوں میں جنگ اخبار کی اور کرن میگزین کی تحریریں بھی محفوظ ہیں۔ لکھنے کی صلاحیت بھی میرا خیال ہے کہ خداداد ہوتی ہے۔ لفظ بھی اللہ کا دبا ہوا رزق ہیں۔‘‘
’’کالم نگاری بھی کی ، کتابیں بھی لکھیں ۔ کالم تو لوگ پڑھ لیتے ہیں۔کیا کتابیں پڑھنے کا بھی رحجان ہے؟‘‘
’’چونکہ زندگی کوجمیعت طالبات نے مشن کی آ گہی دے دی تھی تو چیزوں کوایک خاص زاویے سے دیکھنا شروع کردیا۔معاشرتی اصلاح کا بھی ایک جذبہ پروان چڑھا ہوا تھا اور قریبی حلقوں کا بھی اصرار تھا کہ میں کالم نگاری کی طرف آئوں.تویوں مضامین کالم میں ڈھل گئے۔
ئ میں میرا پانچواں بچہ بھی اسکول جانے لگ گیا تو مجھے تھوڑے فرصت کے اوقات میسر آئے میری سنجیدہ اور باضابطہ تحریر یں اس کے بعد ہی شروع ہوئیں .پانچ چھوٹے بچے جن میں سال دو سال کا فرق ہو تو اس ماں کے گھر میں تو خود بہ خود ایک نرسری بن جاتی ہے۔ قلم اٹھانے کی کہاں فرصت ملتی ہے۔ البتہ مطالعہ سے میرا ناتا کبھی نہیں ٹوٹا، 1997ئ جب جماعت اسلامی کی رکنیت اختیار کی تو مطالعہ کا شوق ذوق میں بدل گیا۔‘‘
’’اب تک کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں آپ کی؟‘‘
’’میری چار کتابیں ’’نوید فکر۔ احوال دیگر۔ دنیا میرے آگے ‘‘اور ایک ’’ذرا سا دل ‘‘ یہ میرے کالم کے مجموعے ہیں ۔کچھ کالم تو وقتی ردعمل ہوتے ہیں ،ملکی اور غیر ملکی یا بین الاقوامی حالات پراور کچھ کالم مستقل نوعیت کے ایشوز پر ہوتے ہیں ۔ میری بیشتر تحریریں اقدار و روایات کے گرد گھومتی ہیں۔
میری پانچویں کتاب ’’ازدواج مطہرات و بنات رسول ؐ ‘‘ ہے۔ یہ ان پاکیزہ ہستیوں کی سیرت کی ایک جھلک ہے۔ کسی ایک زوجہ محترمہ پر لکھا تھا خواتین میگزین لاہور میں پھر ایڈیٹرکا اصراربڑھتا چلا گیا کہ بہت اچھا فیڈ بیک آیا ہے ۔اس لیے مزید ان ہستیوں پر قلم اٹھائیں . اللہ کا کرم ہے کہ اس نے مجھے یہ سعادت بخشی ۔ کتاب کا پہلا ایڈیشن ختم ہو چکا ہے اور میرے پاس مسلسل فون آتے ہیں کہ یہ کتاب کہاں سے ملے گی ۔
آپ نے سوال کیا کہ کیا کتابیں پڑھنے کا رحجان اب بھی ہے تو کچھ عرصہ قبل تو یہ ایک روایتی سوال ہوا کرتا تھا ۔ مگر اب سوشل میڈیا پر لکھنے والوں کو یہ جاننا مشکل نہیں وہاں فوری ردعمل مل جاتا ہے۔ تو الحمدللہ نہ صرف پڑھی جاتی ہیں بلکہ آگے آگے شیئر بھی ہوتی ہیں ۔کبھی امریکہ تو کبھی یو کے اور کبھی چترال سے واپس مجھ تک . اور کبھی کبھی میں دکھی بھی ہو جاتی ہوں کہ تحریر کے نیچے نام کسی اور کا ہوتا ہے۔ لوگ اس کو ’’مسرقہ‘‘ نہیں سمجھتے۔‘‘
’’لگتا یہی ہے کہ نئی نسل پڑھائی کی طرف راغب نہیں ہے تو آپ کا لکھا ہوا کون پڑھتا ہے؟‘‘
’’نئی کے ساتھ پرانی نسل بھی ہے ۔ اس نسل کے بھی بہت حقوق ہیں. اور میں اب زیادہ تر فیس بک پر لکھتی ہوں توکمنٹس میں زیادہ تر لڑکیوں کے کمنٹس ہوتے ہیں۔ مطلب نوجوان لڑکیوں کے کمنٹس ہوتے ہیں وہ ان باکس میں بھی مجھ سے رابطہ کرتی ہیں کہ اس موضوع پر مزید لکھیں ۔ کچھ اپنی درد بھری کہانیاں سناتی ہیں۔ کچھ بتاتی ہیں کہ اس ایشو پر لکھیں۔ اس وقت تو تحریر پر یہ مصرعہ بھی صادق آتا ہے کہ.’’پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے۔‘‘
’’آپ کن موضوعات پر لیکچر دیتی ہیں؟‘‘
’’میرے موضوعات زیادہ تر حالات حاضرہ سے متعلق ہوتے ہیں۔ اگردرمیانہ کردار رکھتے ہیں تو آپ کو موضوعات تلاش نہیں کرنے پڑتے ۔ قرآن کی آیات روک روک کر کہتی ہیں کہ ’’ موضوع‘‘ تو میں ہوں۔ ‘‘یہی حال سیرت النبیؐ کا ہے۔ ہم ساری زندگی ان موضوعات کا احاطہ کرتے رہیں تو زندگی کم ہے اور ان موضوعات کی وسعت سمندروں کے برابر . البتہ کبھی یونیورسٹیز کی طالبات آپ کی مخاطب ہوتی ہیں یا عام خواتین تو الگ الگ بیانیہ درکار ہوتا ہے ان کی ذہنی استقامت کے مطابق ۔‘‘
’’آپ جماعت اسلامی کی سرگرم رکن ہیں آپ کو کبھی ایم این اے یا ایم پی اے کے ٹکٹ کی پیشکش ہوئی ؟‘‘
’’جماعت اسلامی کا مزاج یہ ہے کہ یہاں خود کو ’’منصب ‘‘ کے لیے کوئی پیش نہیں کرتا۔ ہم ناظم جماعت کے تحت ہوتے ہیں۔ یعنی انہیں ہمارے بارے میں ،ہماری صلاحیتوں کے بارے میں سب علم ہوتا ہے۔ یہاں کوئی نہیں کہتا کہ اس کو ٹکٹ کیوں دیا، مجھے کیوں نہیں دیا۔ پھر ہم متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخاب میں جاتے ہیں۔ تو اس تناسب پر خواتین کم ہی آپاتی ہیں۔ دوبار میرا نام قومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے کراچی سے اخبارات کی زینت بنا اور اسے شومئی قسمت ہی کہیے کہ یہاں الیکشن انجینرڈ ہوتے ہیں ۔‘‘
’’آپ اتنی مصروف رہتی ہیںکیا گھریلو ذمہ داریاں متاثر ہوتی ہیں ؟‘‘
’’اللہ نے چوبیس گھنٹے سب کو برابر تقسیم کیے ہیں۔ زندگی کا سب سے بڑا امتحان اپنے وقت کو کار آمد بنانا ہے ۔ کچھ خواتین گھر میں رہتے ہوئے بھی ’’خانگی ‘‘تقاضے نہیں نبھا پاتیں ۔ پاکستانی معاشرے میں بہت سی ایسی خواتین بھی ہوں گی جو خانگی تقاضوں کو آئیڈیل طریقے پر نبھاتی ہیں اور سماجی کردار بھی ادا کرتی ہیں۔ میں تو زندگی بھر اللہ کا شکر ادا کرتی رہی کہ بارہ گھنٹے کی ملازمت نہیں کرنا پڑتی ، گھر کے کام ہی آگے پیچھے کرنا پڑتے ہیں۔ ملک سے باہر ہوں یا شہر سے باہر ۔ اپنے خانگی تقاضے احسن طریقے سے نبھاتی ہوں کیونکہ اس کو نبھانا ہر عورت کی بنیاد ی ذمہ داری ہے۔
بچے چھوٹے تھے تو غیر حاضری کے دنوں کا کھانا پکا کر ٹیگ لگا کر رکھ کر جاتی تھی کہ ناشتہ ، کھانا سب تیار ہے فریزر میں ۔بچوں کے یونیفارم تک استری کر کے جاتی تھی اور میاں کے آفس کے کپڑے بھی . بچوں کی تربیت بھی ایسی کی کہ سب دیکھیں کہ ایک ’’مشنری ماں ‘‘کیسی ہوتی ہے ۔ بچے الحمدللہ کبھی زیادہ ڈیمانڈنگ نہیں رہے ،ایک دوسرے کے کام آتے رہتے ہیں۔تین بیٹیاں بھی دیں اللہ نے . تو میں کہتی ہوں جس گھر میں بیٹیاں ہوں وہاں رحمت ہی رحمت ہوتی ہے۔ میری غیرموجودگی میں بچیاں زیادہ فعال کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ ان کے تربیتی عمل کا بھی حصہ بن جاتا ہے۔‘‘
’’میاں صاحب کے بارے میں بھی بتائیے، کیا کرتے ہیں۔ کیا ان کا بھی مذہب کی طرف زیادہ رحجان ہے؟‘‘
’’شوہر مالیاتی اداروں سے وابستہ رہے۔ ماشائ اللہ حافظ قرآن ہیں اور تہجد گزار بھی ہیں۔ کووڈ کے دنوں میں مسجد جانے پر پابندی تھی۔ جمعہ کو حسب معمول تیار ہوتے اور گلی میں کھڑے ہو کر مسجد کو دیکھتے رہتے۔ شوہر سماجی سرکل رکھتے ہیں ۔خدمت کر کے اور لوگوں کے کام آ کر خوش ہوتے ہیں۔ مزاجاً جذباتی ہیں اور ان کے ٹھنڈے مزاج کے باعث گھر کا ماحول خوش گوار اور صحت مند رہتا ہے۔
میرے پانچویں بچے کی شادی اسی سال ہوئی ہے بیٹیاں ملک سے باہر ہیں جو کہ ہر ہفتے دستیاب ہوتی ہیں اور شوہر کے حوالے سے ایک دلچسپ بات بتانا چاہوں گی کہ
جب میری پہلی کتاب ’’نوید فکر‘‘ جو کہ دس برس قبل شائع ہوئی تھی تو اللہ بخشے جسارت کے سابق مدیر محترم اطہر ہاشمی بھائی کو ۔ وہ مجھ سے کہنے لگے۔ کتاب کا نام’’ نوید فکر‘‘ رکھ کر آپ نے یہ پیغام دیا ہے کہ آپ نوید صاحب کی فکر میں ہی گھلتی رہتی ہیں۔ اب نوید صاحب سے ملنا پڑے گا یہ جاننے کے لیے کہ آپ کو ان کی کتنی فکر ہے۔
’’سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے ان کی فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی کیونکہ یہ ہر وقت میری فکر اور سہولت کاری میں لگے رہتے ہیں اور خانگی امور میں ہاتھ بٹاتے ہوئے کبھی نہیں ہچکچاتے ۔‘‘
’’کن کن ملکوں میں جانے کا اتفاق ہوا.اور سیاست اور سیاحت کیا پسند ہے؟‘‘
’’سیاست تو ایک دینی تقاضا ہے۔ حضرات ابراہیم سے لے کر حضرت امام حسین تک نے نظام کی تبدیلی کا درس دیا۔ سیاحت کا موقع اب ملا ہے۔ جب خانگی تقاضے کچھ کم ہوئے یعنی بچوں کی شادیاں ہو گئیں۔
مجھے متحدہ امارات کے ملکوں میں جانے کا موقع ملا ۔ گزشتہ برس ترقی میں ’’کلنا مریم ‘‘کے تحت القدس تحریک کے تحت ایک بین الاقوامی فورم میں شرکت کی استنبول میں۔ آسٹریلیا کے شہروں سڈنی اور ملبورن جانے کا موقع ملا۔ وہاں اسلامی تنظیموں کے تحت مختلف فورمز پر بات کرنے کا موقع ملا۔
مارچ 2023ئ میں یو این کے اجلاس میں شرکت کی ، نیویارک دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ دنیا بھر کی چیدہ چیدہ سماجی شخصیات کو سننے دیکھنے اور ملنے کا موقع ملا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ ’’ بلاول بھٹو‘‘ سے بھی پاکستانی وفد کی اچھی ملاقات رہی۔ اسی سال امریکہ کی آٹھ ریاستوں میں جانے کا موقع بھی ملا ۔ چھ ماہ کیلیفورنیا قیام کے دوران۔‘‘
’’کبھی ٹی وی پہ آنے کا موقع ملا ؟‘‘
’’جب میں جامعتہ المحصنات کی پرنسپل تھی 2000ئ سے 2008ئ تک ۔ ایک مرتبہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے جامعہ آ کر دو قسطوں کا پروگرام ریکارڈ کیا۔ وہ بہت وائرل ہوا تھا۔ آج تک اس کی کلپس لوگ سوشل میڈیاپر شیئرکرتے ہیں۔ ایک ٹاک شو میں بھی شرکت کی تھی۔ ملک اور بیرون ملک آن لائن مختلف فورمز پر پروگرام کرنا معمول کی سرگرمیاں ہیں ۔‘‘
’’آپ نے اکنا کنونشن بالٹی مور میں شرکت کی تھی۔ یہ تجربہ آپ کا کیسا رہا؟‘‘
’’اکناکنونشن بالٹی مور میں 2021ئ کو مئی کے مہینے میں منعقد ہوا۔ جس میں 30ہزار افراد نے شرکت کی تھی ۔ اسی سال مجھے عمرے کی سعادت کا موقع بھی ملا تھا۔ امریکا میں اتنے مسلمانوں کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا خود ایک معنویت رکھتا ہے۔ کسی بین الاقوامی فورم سے ان کی اقدارو روایات سے آگہی اور بہت کچھ سیکھنے اور دیکھنے کا موقع ملا ۔ ان کا نظم و ضبط ، صفائی ستھرائی کا معیار اور دین سے وابستگی بہت متاثر کن ہے ۔‘‘
’’آپ کو کبھی کوئی ایوارڈ ملا؟‘‘
’’میں ادب کی کسی خاص صنف میں نہیں لکھتی۔لوگ جس کو کالم کہتے ہیں۔ اسے محض درد دل سمجھتی ہوں۔ بقول میر تقی میر۔’’ درد و غم کتنے جمع کیے تو دیوان کیا‘‘
خود کو کسی ایوارڈ کا مستحق نہیں سمجھتی ۔ البتہ زمانہ طالب علمی سے جب تحریری یا تقریری مقابلوں میں حصہ لیا ،ہمیشہ انعام پایا۔
میرا سب سے بڑا ایوارڈ میرے قاری کا مجھ سے رشتہ ہے چاہے میںہیوسٹن یا نیویارک میں ہوں یا ملبورن اور سڈنی یا ٹنڈو باگو یا دادو میں ۔ جب کوئی مجھ سے مل کر کہتا ہے کہ اسے میری تحریر اپنے دل کی آواز لگتی ہے تو میں شکر کے ساتھ آسمان کی سمت دیکھتی ہوں کہ جس رب نے قلم کی قسم کھائی اور قلم کے ذریعے علم سیکھایا ۔ اس کا کتنا شکر ادا کروں ۔‘‘
اور اس کے ساتھ ہی ہم نے شکریہ کے ساتھ افشاں نوید صاحبہ سے اجازت چاہی۔
٭٭


