فرح بخاری – شاہین رشید

انٹرویو 70

فرح بخاری کو لکھتے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا لیکن مختصر سی مدت میں انہوں نے اپنی شناخت بنالی ہے۔ فرح کا لکھنے کا اسلوب اور انداز مختلف ہے۔ آج کی تیز بھاگتی دوڑتی زندگی میں جہاں بہت سی چیزیں بدلی ہیں۔ مصنفین کی تحریروں میں بھی بدلاؤ آیاہے لیکن فرح آج بھی اسی دھیمے، پرسکون انداز میں لکھتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں ڈرامائی عنصر کم ہوتا ہے لیکن تاثر گہرا ہوتاہے۔ ’’بن پاکھی‘‘ ان کا ناول قارئین میں بے حد مقبول ہواہے۔

آج ہم آپ کی ملاقات فرح بخاری سے کروارہے ہیں۔

’’ کیسے مزاج ہیں؟‘‘

’’اللہ کا شکر ہے اور اس سے پہلے کہ میں آپ کے سوالات کے جواب دوں، میں کچھ کہنا چاہوں گی’’کہانی سوچنا، کردار گھڑنا، سچویشن بنا نا. پھر ان کرداروں سے اپنی مرضی کے ڈائیلاگز کہلوانا. یہ سب ایک ناول کا حصہ ہوتاہے اور لکھنے والا بہت لطف لیتے ہوئے ان مراحل سے گزرتا ہے لیکن ان ہی لکھنے والوں کو جب اپنی حقیقی زندگی کے متعلق بتانا پڑتاہے تو شاید سب سے زیادہ مشکل بھی یہی محسوس کرتے ہیں، کہاں سے شروع کریں، کیا کیا بتائیں، اور کیا پھر اس طرح بتا پائیں گے، شاہین صاحبہ نے انٹرویو کے لیے کہا تو خالی الذہنی سے یہی سوچا کہ کیا کہوں گی اپنے متعلق ؟ لیکن جب انہوں نے سوالات بھیجے تو نہ صرف سوچیں کھلنا شروع ہوگئیں بلکہ دل کے بہت قریب محسوس ہوئے ،البتہ قارئین سے پیشگی معذرت کہ شاید اس انٹرویو میں ناولز جیسی رنگارنگی نہ ہو۔‘‘

’’ؔآپ کا نام فرح بخاری ہے تو مہر بخاری، عالیہ بخاری اور تحریم بخاری سے کیا رشتہ ہے آپ کا؟‘‘

’’میرا مکمل نام فرح بانو بخاری‘‘ ہے اختصار کے لیے فرح بخاری کردیا اور جہاں تک باقی رائٹرز اور ہوسٹ کا میرے نام سے مماثلت کی بات ہے تو یہی کہہ سکتی ہوں کہ وہ سب میری لکھاری بہنیں ہیں اس کے علاوہ کوئی رشتہ نہیں ہے۔‘‘

’’کچھ ہی ماہ قبل آپ کے شوہر کا انتقال ہوا۔ ادارہ آپ کے غم میں شریک ہے۔ کچھ بتائیں کہ کیا ہوا تھا؟ پھر ان کے بعد زندگی میں کیا اتار چڑھاؤ آئے؟‘‘

’’ میرے شوہرکانام مظہر عباس ہے، ازدواجی زندگی کا دورانیہ انیس برس رہا، وہ رشتے میں میرے تایا زاد تھے، ہمارے دو بیٹے ہیں۔ اثیر حسن سترہ برس کا ہے اور زہیر علی نو سال کا ہے، شوہر کو کووڈ ہوا جس سے وہ جانبر نہ ہوسکے اور چھ ماہ قبل 12ستمبر کو وہ ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے گئے، انیس سالہ ساتھ میں انہیں ایک بہترین انسان پایا۔ وہ ایک بہت ہی متوازن شخصیت کے مالک تھے، بہادر، محنتی اور انتہا کے دیانت دار، گھر اور کام کے علاوہ تیسری کوئی جگہ ہی نہیں تھی جہاں وہ اپنا وقت ضائع کرتے، کھانے اور پہننے کے معاملے میں انتہا کے سادہ تھے، ان کے جانے کے بعد جب صحت کے کچھ مسائل پیدا ہوئے تو دوستوں نے مشورہ دیا کہ ان پر کچھ لکھو، کوئی افسانہ، کوئی ناولٹ تاکہ جمود ٹوٹے، تب ایک دن ٹائٹل دے کر خاکہ سا بنایا لیکن لکھا کچھ نہیں گیا، کیسے لکھ سکتی تھی، ابھی تو بے یقینی ہی ختم نہیں ہوئی۔

بیماری کی موت اگرچہ حادثہ نہیں کہلاتی لیکن میرے شوہر کی مدت بیماری کل پندرہ دن رہی۔ جس میں چھ سات دن یہی سمجھنے میں لگ گئے کہ انہیں ہوا کیاہے۔ پھر وہ باہمت اور بہادر اتنے تھے کہ ظاہر ہی نہ ہونے دیتے کہ اندر سے کتنی تکلیف میں ہیں۔ گھر سے جب آخری مرتبہ گئے تو عام انداز میں اپنے پیروںپر چل کر گئے جاتے وقت ایثر نے سہارا دینے کی کوشش کی تو اسے مسکراکر پیار کیا۔ اور یہ ان کے انتقال سے صرف چار دن پہلے کی بات ہے۔

پھیپھڑوں نے ساتھ چھوڑنے میں بہت جلدی کی۔ ہمارے لیے ان کی موت حادثے سے کم نہ تھی، دکھ کے اس موقع پر سب ہی اپنوں کا بہت ساتھ رہا۔ حالانکہ وبا ایسی تھی کہ اگر کوئی قریب نہ آتا تو شکوہ بھی نہ ہوتا، لیکن وینٹی لیٹر کا سن کر دوسرے شہروں میں رہنے والے بہن بھائی بھی فوراً آپہنچے اور کورونا وارڈ کے اندر تک عیادت کے لیے گئے اور ان کے آخری وقت میں ان کی تسلی کے لیے یقینا یہ کافی رہا ہوگا.

سسرال میں جیٹھ اور نندیں ہیں جو خود بھی صدمے سے دوچار تھے مگر میرا ساتھ بھی بہت دیا، میرے شوہر اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ان کا اچانک جانا سب کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا۔ یہاں کورونا کے حوالے سے ایک بات اپنے ذاتی تجربے سے شامل کرنا چاہوں گی کہ احتیاط اور ڈر میں معمولی سا فرق ہے ۔کورونا سے احتیاط ضرور کریں لیکن خوف محسو س نہ کریں، میرے شوہر کی تیمارداری اور عیادت کے دوران بہت سوں کا بہت قریبی واسطہ رہا لیکن جانا ایک اس نے تھا اور یہ قدرت کی طرف سے طے تھا۔ باقیوں کو کچھ نہیں ہونا تھا تو نہیں ہوا۔

مالی لحاظ سے کوئی پرابلم تو نہیں آئی، حضرت علی علیہ اسلام کا ایک قول ہے کہ ’’مالی مصیبت پر اللہ کا شکرادا کرنا چاہیے، کیونکہ یہ اللہ پاک کی طرف سے انسان پر آنے والی سب سے چھوٹی آزمائش ہے۔ مالی تنگی میرے لیے ان شائ اللہ کبھی پریشانی کا باعث نہیں بنے گی، یہ میرا یقین ہے ، میرے شوہر ایک محنتی انسان تھے۔ اپنے لیے کبھی نہیں سوچا لیکن بچوں کے لیے سوچتے ، جتنا کچھ بنایا شکر کرنے کے لیے کم نہیں۔‘‘

’’اللہ تعالیٰ آپ کو صبر دے اور آپ کسی لحاظ سے کبھی بھی پریشان نہ ہوں اور اپنے بچوں سے سکھ پائیں. ‘‘(آمین)

روایتی انٹرویو کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنا فیملی بیک گراؤنڈ بتائیں؟

میرا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے، پیدائش ، پرورش تعلیم سب وہیں پر ہوئی، میرے والد صاحب شعبہ تدریس سے وابستہ تھے اس وقت ریٹائرڈ زندگی گزاررہے ہیں، ہمارا تعلق بخاری سید فیملی سے ہے، ہم چھ بہن بھائی ہیں تین بہنیں اور تین بھائی میرا دوسرا نمبر ہے۔ میں نے اردو میں ماسٹرز کیاہے، میری شادی 2002میں ہوئی اور شادی کے فوراً بعد میں ’ یو اے ای‘ میں چلی گئی اور پھر دس برس وہیں گزاردیے۔

میں وطن واپسی ہوئی تب سے ڈیرہ اسماعیل کے نزدیکی شہر بھکر میں ہوں جو کہ میرا سسرالی شہر ہے۔ کچھ عرصہ پہلے والدین بھی یہیں شفٹ ہوگئے تھے۔ شاید یہ بھی موجودہ حالات میں قدرت کی ایک مدد ہے. ان دنوں والدین کے ساتھ ہوں. بھائی بہنوں، بھابیوں، دوستوں اور قریبی رشتے داروں سب کی مشکور ہوں. کسی موقع پر ان میں سے کسی نے نہ مایوس کیا اور نہ ہی میرا ساتھ چھوڑا۔ میری تاریخ پیدائش 9اگست اور میرے والد صاحب کا نام ریاض حسین انجم ہے اور میرے والدین تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے۔ ‘‘

’’بچپن کیسا گزرا. اور بہن بھائیوں سے تعلقات کیسے تھے؟‘‘

’’تعلقات بتانے سے پہلے آپ کو بتاناچاہوں گی کہ میرے والد صاحب فوٹو گرافر بھی ہیں، سیاح بھی ہیں سفر نامے بھی لکھے ہیں اور شعبے کے اعتبار سے استاد بھی رہ چکے ہیں. لیکن انہیں اپنی تخلیقات شائع کروانے کا کبھی خیال نہیں آیا کیونکہ شوق ہی نہیں تھا جو لکھتے رہے اپنے پاس رکھتے رہے۔ اب ہم نے انہیں فورس کیا تو اب ان کی کتاب ’’ زندہ رت کے ساحلوں پر ‘‘ منظر عام پر آتی ہے یہ سفر نامہ ہے۔ اور امی کے بارے میں بھی بتانا چاہوں گی کہ امی بھی ٹیچر کے عہدے پر فائز رہی ہیں۔ آج کل میرے پاس ہیں اور میں ہمیشہ سے جذباتی طورپر ان کے قریب رہی ہوں اور ان کے بغیر جب دس سال مجھے یو ای اے میں گزارنا پڑے تھے تو وہ دس سال بہت مشکل میں گزرے تھے۔ اور کبھی سوچا نہیں تھا کہ میں جتنا ان کے بارے میں سوچتی ہوں اور ان کے لیے لگاؤ محسوس کرتی ہوں تو نصیب میں ان کا ساتھ لکھا تھا۔ اب وہ ہی میرے پاس ہوتی ہیں۔ بہت ہی فرینڈلی ہیں. نرم دل اور خوش مزاج ہیں اور اسی لیے وہ خاندان میں بہت پسندیدہ شخصیت ہیں سب کی اور ہم ان بچوں میں شامل ہیں جو اپنی ماں پر رعب ڈالتے ہیں ، بات منواتے ہیں اور وہ بات مان بھی لیتی ہیں۔

اب آیے بہن بھائیوں کے تعلقات کی طرف . بچپن بہت خوب صورت گزرا. ہمارا اپنا ذاتی مکان تھا. ساتھ والا گھر اور ایک اسکول میری پھوپھو کا تھا۔ پھوپھو کی پانچ بیٹیاں اور ہم بہنیں. اسکول کی عمارت میں کھیلتے تھے۔ پھوپھو بھی ہیڈ مسٹرس تھیں گھر کے ماحول پر اس کے بہت اثرات تھے۔ ہم نے بچپن میں گڈے گڑیا کی شادیوں کے بجائے استاد اور شاگرد والے کھیل کھیلے. کزن کی سرخ سائیکل تھی جسے وہ اسکول وین بناکر باری باری ہمیں گراؤنڈ کا چکر لگواتی . اور ہم کبھی ٹیچر تو کبھی اسٹوڈنٹ بن کر بلیک بورڈ پر لکھائی کرتے رہتے. میں مزاجاً سب ہی بہن بھائیوں سے مختلف تھی. سنجیدہ مزاج تھی نٹ کھت شرارتی بالکل بھی نہیں تھی۔ بہن بھائیوں کی شرارت میں میرا نمبر آخری ہی ہوتا تھا۔ ابو سے مار البتہ برابر کی ہی پڑتی تھی۔ اب سوچتی ہوں کہ جب مار برابر کی پڑتی تھی تو بھلا شرارت ہی کرلیتی ۔ ، بہن بھائیوں سے تعلقات بہت دوستانہ رہے اور ہیں. اللہ نظر بد سے بچائے۔‘‘

’’پڑھائی میں کیسی تھیں، کبھی رپورٹ کارڈ میں تبدیلی کی؟‘‘

’’پڑھائی میں ایک ایوریج اسٹوڈنٹ تھی. اور میرا رزلٹ اتنا برا کبھی نہیں آیا کہ رپورٹ کارڈ بدلنا پڑا ہو۔ لیکن بہت زیادہ عمدہ بھی نہیں تھا۔ لیکن جب اپنی مرضی کے مضامین جیسے ڈرائنگ اور سائیکلولوجی پڑھے تب رزلٹ بھی شان دار آتا تھا. اسی لیے میں اپنے بچوں پر بھی کبھی اس چیز کا دباؤ نہیں ڈالتی کہ انہیں ہماری مرضی سے کچھ بنناہے۔ تعلیم بذات خود ایک اکتا دینے والا عمل ہے اگر وہ کسی اور کی مرضی کے مطابق ہو تو بہترین کی توقع کبھی نہیں کرنی چاہیے. بچوں کے رحجان کو مد نظر رکھنا والدین کی بنیادی ترجیح ہونی چاہیے۔‘‘

’’آپ کا لکھائی کی طرف رحجان. کیا گھر کا ماحول ادبی تھا؟‘‘

’’گھر کا ماحول والد صاحب کی وجہ سے ادبی قسم کا رہا. ابو جی بیک وقت جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا سفر نامہ نگار، آرٹسٹ، خطاط ، فوٹو گرافر، سیاح اور کالم نگار رہے ہیں وہ ماشائ اللہ ان لوگون میں سے ہیں جن کے پاس ہر شعبہ زندگی سے متعلق معلومات رہتی ہیں۔بچپن سے لے کر آج تک ہمیں جس معاملے میں کسی مدد کی ضرورت پڑی ہم سب نے پہلے انہی سے رجوع کیا۔ انہی کی طرف رخ کیا۔

مجھے لکھنے کا شوق بچپن سے ہی تھا. ابو جی بڑی باقاعدگی کے ساتھ بچوں کے میگزین لایا کرتے تھے۔ مطالعہ کا شوق بہت چھوٹی عمر سے تھا اور اسی عمر میں لکھنے کا شوق بھی پیدا ہوا. ابتدا میں اپنی عمر کے لحاظ سے بچوں کی کہانیاں لکھا کرتی تھی۔ لیکن لکھ کر چھپا بھی دیا کرتی تھی. شائع کروانے کی کبھی ہمت نہیں ہوئی. پہلا رومانوی گھریلو ناول سولہ سترہ کی عمر میں لکھا. لیکن وہ بھی کسی کو دکھائے بغیر ضائع کردیا. بلکہ میرے تین مکمل ناول بنا کہیں شائع ہوئے میں نے خود ہی یہ سوچ کر ضائع کردیے کہ یہ کہیں شائع نہیں ہوسکتے۔

’’پہلی تحریر کب اور کہاں شائع ہوئی؟ گھر والوں کا ردعمل؟‘‘

’’یہ بہت خوب صورت سوال آپ نے پوچھا اور اس سوال کے حوالے سے بہت سی خوب صورت یادیں ہیں. یہ 2008کی بات ہے تب تک میں اپنے کالج کی لکھی ہوئی تین کہانیاں ضائع کرچکی تھی اور بڑے عرصے سے دوبارہ کچھ لکھا بھی نہیں تھا۔ میں ان دونوں شارجہ میں تھی۔ جب ایک کہانی کا پلاٹ ذہن میں آیا تو میں نے ایک رجسٹر پرل لکھنا شروع کردیا۔

میرے شوہر نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ آخر میں کیا لکھتی رہتی ہوں میں نے بتایا کہ ایک ناول لکھ رہی ہوں۔ تب انہوں نے اصرا رکیا کہ جب اتنا وقت دے رہی ہو تو کہیں بھیج بھی دو. میں نے ان سے کہا کہ اگر ریجیکٹ ہوگئی تو مجھے بہت شرمندگی ہوگی۔ وہ بہت ہنسے اور کہنے لگے یہاں ہم دونوں کے علاوہ ہے ہی کون کہ جس سے شرمندگی ہوگی. پھر زبردستی مجھ سے کہانی لے لی اور اس کی فوٹو کاپیاں کرواکے ایک لفافے میں ڈال کر مجھ سے ایڈریس پوچھ کر پوسٹ کردیا۔ اتفاق کی بات کہ دو ماہ بعد میرا پاکستان آنا ہوا تو میں نے ا یک دن ادارے کو فون کرکے ڈرتے ڈرتے اپنے ناول کے بارے میں پوچھا انہوں نے میر انام اور ناول کا نام پوچھا اور پھر حیرت سے کہنے لگیں کہ آپ اب پوچھ رہی ہیں آپ کا ناول تو پچھلے مہینے ڈائجسٹ میں شائع بھی ہوچکاہے۔ اسی وقت بازا ر سے ڈائجسٹ منگوایا اور اپنا نام دیکھ کر مت پوچھیں کہ کیسے عجیب احساسات پیدا ہوئے۔ یہ بات ہے 2008کی میرے ناول کا نام ’’فصل گل‘‘ تھا۔ یہ ایک رومانوی ناول تھا بغیر کسی قطع برید کے مکمل شائع ہو اتھاپھر 2012میں ’’ندیا تم ساگر‘‘ لکھ کر پہلی بار ’’کرن‘‘ میں بھیجا اوروہ بھی فوراً لگ گیا۔ اگلے برس ’’تیرے دھیان کی تیز ہوا‘‘ ناولٹ لکھا وہ بھی شائع ہوگیا۔ پھر ’’حریم دل کے مکیں‘‘ بھیجا اس کے بعد بعد کچھ افسانے لکھے کرن کے لیے. اعتماد کافی بحال ہورہاتھا اپنے آپ پر.

مجھے یاد ہے کہ ایک بار ریحانہ امجد سے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اگر تم اسی طرح سالون میں ایک ناول لکھتی رہیں تو لوگ تمہیں کبھی پہچان نہیں پائیں گے۔ تب ہی پہلی بار قسط وار لکھنے کا سوچا اور کرن کے لیے ’’گل کہار‘‘ لکھا۔ جس کا رسپانس تو قع سے بڑھ کر ملا۔ شعاع کے لیے پہلی مرتبہ ’’شام خزاں طویل سہی‘‘ لکھا تھا اور کچھ افسانے اور ناولٹ بھی. حوصلہ شکنی کبھی نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی یہ سوچا کہ لکھنا چھوڑ دوں. ہاں ابھی موجودہ حالات میں پانچ ماہ تک کچھ نہیں لکھاگیا. اور اب بھی چند دن ہوئے کہ دوستوں وغیرہ کے دباؤ کی وجہ سے زبردستی خود کو مائل کررہی ہوں۔

’’تحریر کی دنیا سے وابستہ ہوئے آپ کو 14سال ہوگئے ہیں معاوضہ ملاتھا؟ اب تک کہاں کہاں چھپ چکی ہیں اور سب سے اچھا رسپانس کہاں سے ملا؟‘‘

’’جی تحریر کی دنیا سے وابستہ ہوئے 14سال ہوگئے ہیں اور مجھے یاد ہے کہ پہلا معاوضہ 3ہزار ملا تھا جس کی پارٹی کی تھی. بہت خوش کن احساس تھا۔ میں نے کرن اور شعاع میں سب سے زیادہ لکھا. اس کے بعد خواتین کے لیے لکھا۔

’’موبائل، اور انٹرنیٹ کے دور میں مطالعہ کی اہمیت کم ہوئی ہے یا زیادہ ہوگئی ہے ۔‘‘

’’مطالعہ میں کمی تو یقینا آئی ہے۔ ہمارے دور میں ہمارے پاس آپشنز کم تھے اس لیے مطالعہ کی اہمیت زیادہ تھی۔ اور آج کل پڑھنا کم تو ہوگیاہے لیکن ختم نہیں ہوا ہے. کیونکہ اگر ختم ہوجاتا تو ہم لکھنا چھوڑ چکے ہوتے. چیزیں اسی طرح ناپید ہوتی ہیں اور اپنی شکل بھی تبدیل کرتی ہیں۔ مجھے لگتاہے کہ ہماری ذمہ داری کچھ اور بھی بڑھ گئی ہے۔ مقابلے کی فضا میں محنت بھی زیادہ لگتی ہے۔ دعا اور امید ہے کہ کتب بینی کبھی زوال کا شکا رنہ ہو. آمین)‘‘

’’موضوعات کس طرح اور کب دماغ میں آتے ہیں؟‘‘

’’ موضوعات کے ذہن میں آنے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ موڈ اچھا ہو، موسم اچھا ہو، فرصت مل جائے تو لکھنے والے ذہن کو کردار کہانیاں اور پلاٹ خود بہ خود سوچنے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ سفر کے دوران میوزک سنتے ہوئے۔ شاعری، پڑھتے ہوئے بہت کچھ نیا ذہن میں آنے لگتاہے اور جہاں تک سنجیدہ موضوعات کی بات ہے تو ہاں آس پاس بکھری سچی کہانیاں پہلے سوچنے اور پھر اس سوچ کو کہانی میں ڈھالنے پر آمادہ کرتی ہیں۔‘‘

’’پلاٹ کب اور کہاں ذہن میں آتے ہیں؟‘‘

’’کچن میں تو نیا پلاٹ معلوم نہیں کون سا آیا. ہاں جب ایک ناول لکھ رہی ہوتی ہوں تو اس کے آگے کے سنیز میں اکثر کھانا بناتے ہوئے سوچتی رہتی ہوں۔ اور اگر کوئی ڈائیلاگ یا مکالمہ ذہن میں آنے لگے تو چولہے کی آنچ دھیمی کرکے فوراً لکھنے بیٹھ جاتی ہوں۔ کیونکہ کچھ دیر بعد لکھنا پڑجائے تو اسی مکالمے کی شکل کچھ اور ہوجاتی ہے۔ پھر میں بھلکڑ بھی بہت ہوں تو اکثر یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ کچھ دیر پہلے کیا سوچا تھا۔ ‘‘

’’آپ کی تحریروں میں قارئین عموماً کیا پسند کرتے ہیں؟‘‘

’’جتنا میں نے محسوس کیا ہے تو منظر نگاری اور رومانیت زیادہ پسند کی جاتی ہے۔ اکثر قارئین کی طرف سے یہ سننے کو ملتاہے کہ ہیرو کا کردار زیادہ مضبوط اور متاثر کن ہوتاہے۔ اکثر مجھ سے یہ بھی پوچھا جاتاہے کہ میں منظر نگاری پہ زیادہ دھیان کیوں دیتی ہوں۔ تو اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ ایک رائٹر اگر چاہے تو علاقے ، کلچر، رسم ورواج سے نظر بچاکر بھی کہانی مکمل تو کرلے گا لیکن اس سے ہماری وطن کی خوب صورتی، اس کے رنگارنگ کلچر سامنے آنے سے رہ جائیں گے۔ میری بہن شیر بانو کہتی ہے کہ ’’فرح تم کہانی کے خاکے اور کرداروں کا ٹوکرا سر پر رکھے کسی ایک شہر یا صوبے میں گھس جاتی ہو اور ان سب کو وہاں الٹ دیتی ہو. میرے خیال سے بالکل ٹھیک کہتی ہے کیونکہ جب ایک خاکہ میرے ذہن میں آتا ہے تو دوسرا خیالی ذہن میں یہی آتا ہے کہ قارئین کو اس بار کہاں کی سیر کرائی جائے۔

’’مقام پر پہنچنے کا کریڈٹ کس کو دیں گی؟ اور سسرال میں کون کون پسند کرتاہے؟‘‘

’’آج اگر میں اس مقام پر ہوں تو اس کا سارا کریڈت میرے شوہر کو ہی جاتاہے۔ میرے لکھنے کا شوق میرے باقی آدھے ادھورے رحجانات کی طرح کب کا کہیں کھوچکا ہوتا اگر میرے شوہر مجھے ان کو شائع کروانے کی تحریک نہ دلواتے۔ اور نہ صرف یہ کہ آغاز انہی کے ہاتھوں ہوا بلکہ چودہ سالوں میں انہوں نے کبھی میرے لکھنے پر کبھی ایک جملہ بھی اعتراض کا نہیں بولا. لکھنے کے معاملے میں مجھے ان کی مکمل سپورٹ حاصل تھی. اور میری ساری تو نہیں لیکن کچھ تحریریں انہوں نے پرھی تھیں۔’’ بن پاکھی‘‘ اور افسانہ ’’ضرورت‘‘ انہیں بہت پسند تھی۔

سسرال میرا بہت مختصر ہے سوائے ایک نند کے سب ہی دور رہتے ہیں۔ میری نند کی بیٹی کو بھی لکھنے کا شوق ہے اپنی لکھی ہر چیز مجھے دکھاتی ہے۔ میری نند ان کی بیٹی اور دو بہویں میری ہر کہانی بہت شوق سے پرھتی ہیں۔‘‘

’’ٹی وی سے دور کیوں ہیں؟‘‘

’’یہ سچ ہے کہ تی وی کے لیے میں نے کچھ نہیں لکھا. کچھ رائٹرز دوست بہت زیادہ اصرار کرتی ہیں بلکہ اب تو تھک کر تنگ بھی آچکی ہیں۔ لیکن مجھے لگتاہے بندہ بوجھ اتنا ہی اٹھائے جتنا سہہ سکے۔ اور اسکرپٹ رائٹنگ سے شاید میرا مزاج میل نہ کھاتا ہو کیونکہ مجھے آرام اور تسلی کے ماحول میں اپنی مرضی کے مطابق کام کرنا اچھا لگتاہے۔

اسکرپٹ رائٹنگ کا طریقہ میں دیکھ چکی ہوں کچھ قسطیں بھی لکھی تھیں۔ دراصل 2017میں ’’خزاں طویل سہی‘‘ پر ڈراما سیریل بنانے کی آفر آئی تھی۔ تب میں ایکسائیٹڈ بھی ہوئی تھی۔ کچھ دن کام بھی کیا. لیکن دوسروں کی ہدایت پر لکھنا مجھے مشکل لگا تھا۔ اور فی الحال میں نے یہی مزاج بنایا ہوا ہے کہ اگر قسمت میں لکھا ہے تو اپنے آپ کوئی سبب بن جائے گا ورنہ یہیں ٹھیک ہوں۔‘‘

’’آپ کی تحریروں میں آپ کی شخصیت کا کتنا عکس ہوتاہے؟ کہانیوں کے آئیڈیل جوڑے کہاں دیکھتی ہیں؟‘‘

’’ ہم جو لکھتے ہیں وہ سب ہماری شخصیت کا عکاس ہوتاہے میری کہانیوں میں دیہاتی زندگی خوب صورت علاقے، رومانیت اور محبت کا مثبت رنگ جھلکتاہے۔ معاشرے کی تلخی کو بس اس حد تک ہی دکھایا جانا چاہیے کہ اگر حالات سے مایوس اس کہانی کو پڑھے تو یہ سوچ کر کتاب بند نہ کرے کہ جب ان فرضی کہانیوں کے انجام اتنے برے ہیں تو حقیقی زندگی میں کیا ہوگا کہانیوں کے ہیپی اینڈ ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے پر اکساتے ہیں اس کی مثال آپ یوں لیجیے کہ اپنے آس پاس جب ہم کسی کو دکھی اور پریشان دیکھتے ہیں تو اس کا دل بہلانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ اپنا غم وقتی طورپر بھول جائے۔ تو ایک کہانی جب لاکھوں ہاتھوں تک پہنچتی ہے تو پڑھنے والے نجانے کس کیفیت سے گزررہے ہوتے ہیں۔

ایک اچھی خاصی خوش گوار کہانی بھی کسی مرہم سے کم نہیں ہوتی۔ باقی آئیڈیل کپل تو جی ہاں آپ نے بالکل صحیح کہا کہ کہا نیوں کی دنیا میں ہی ملتے ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ حقیقی دنیا کے ستائے ہوئے کپلز ان فرضی قصوں کو بہت شوق سے پڑھتے ہیں. اور میں نے کچھ کبھی نہیں دیکھا کہ وہ اپنی زندگیوں کا ان فرضی کرداروں سے موازنہ کرتے ہیں۔ کیونکہ ڈرامے، فلمز، ناولز، کہانیاں سب تفریح کے ذرائع ہیں.

ہر شخص اپنے فارغ وقت میں تفریح چاہتاہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ فلم ہو، ڈراما ہو یا کہانی پیش کرنے والا، اچھے میسیج کو ضرور مد نظر رکھے۔ کیونکہ میرے ہاتھ میں قلم ہے اور میں نے اس سے کچھ لکھ کر اپنے عوام تک پہنچاناہے۔ تو میرے اپنے ضمیر کی حد تک مطمئن ہونا ضروری ہے۔ تفریح بھی وہی قبول کی جاتی ہے جو ہمارے ماحول، معاشرے اور مذہب سے متصادم نہ ہو۔ ‘‘

’’کن موضوعات پر زیادہ لکھنے کا دل چاہتاہے۔ سنجیدی، مزاجیہ یا رومانوی. وغیرہ۔‘‘

’’مزاح تو شاید میں اچھا نہیں لکھ پاتی. اور رائٹرز مزاح لکھتی ہیں میں ان سے بہت متاثر ہوں۔ مجھے سنجیدہ موضوعات پسند ہیں۔ لیکن یہ سنجیدگی قارئین کو بور نہ کرے تو اس لیے رومانویت کا رنگ بھی شامل کرنا پڑتاہے تاکہ کہانی کو متوازن کیا جاسکے۔ اور سنجیدہ کے علاوہ مجھے دیہاتی کلچر پر لکھنا بھی بہت پسند ہے۔ اور رائٹر کو صرف وہی لکھنا چاہے جو اس کے اندر سے نکلے.

’’پٹھانوں کے دیہات ، سرائیکی کلچر اور چولستان کا شوق پورا کرچکی ہوں۔ اب پنجاب کے دیہات پر لکھنا ہے جس کا خاکہ بنالیاہے۔ ان شائ اللہ عنقریب شروع کروںگی۔ کراچی کی شہری زندگی اور تھر کا دیہی کلچر نزدیک سے تو نہیں دیکھے لیکن اندازہ ہے اور لکھنے کا شوق بھی ہے تو ان شائ اللہ جب بھی موقع ملا ضرور لکھوں گی۔‘‘

’’اور اب کچھ نجی سوال ،پہچانے جانے کا شوق ہے؟‘‘

’’جی کیوں نہیں. مجھے جب بھائی بہنوں، دوستوں وغیرہ سے کوئی آکر بتاتا ہے کہ ہم فلاں جگہ تمہارا ذکر کیا اور وہاں تمہارے کئی فین نکل آئے تو سن کر اچھا لگتاہے۔باقی میں خود کہیں اپنا تعارف کرواؤں تو لکھنے کا بطور خاص کبھی نہیں بتایا اس لیے میرے آس پاس کے بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ میں لکھتی ہوں۔‘‘

’’اور فارغ اوقات کے کیا مشاغل ہیں؟‘‘

’’پہلے بہت سے مشاغل ہوا کرتے تھے. لیکن اب کچھ عرصے سے صرف لکھنے کا مشغلہ باقی رہ گیا ہے۔ کیونکہ فرصت ہی اتنی میسر آتی ہے۔‘‘

’’اور گھریلو امور کے بارے میں بتائیں؟‘‘

’’گھریلو امور میں مجھے صفائی وغیرہ کے کام تو پسند ہیں لیکن کوکنگ کا زیادہ شوق نہیں ہے۔ سلائی کڑھائی سب آتی ہے. جب فرصت تھی تب یہ شوق پورے کیے تھے۔‘‘

’’اب تک کتنی کتابیں آچکی ہیں ۔ اور مزید کیا آنے والاہے؟‘‘

’’اب تک ’’گل کہسار‘‘ ، ’’بن پاکھی‘‘ ، ’’کنار خواب جو‘‘ وہ ’’نازنین‘‘ اور ابر مہربان (ناولٹ کا مجموعہ ہے) شائع ہوچکی ہیں اور آنے والوں میں ایک ناول ہے جو عنقریب قسط وار شائع ہونے والاہے۔‘‘

’’شوہر کے انتقال سے زندگی میں کیا تبدیلیاں آئیں؟‘‘

’’سب کچھ ہی تبدیل ہوگیاہے. ذمہ داریاں سب ہی’’ان ‘‘ پر تھیں۔ شادی سے پہلے جس طرح والدین گھر کا معاملہ دیکھتے ہیں اور بچے بے فکری اور آزاد زندگی گزارتے ہیں میرا مکمل انحصار بھی ہر معاملے میں انہی پر تھا۔ جہاں تک زندگی کی بات ہے تو یہی کہہ سکتی ہوں کہ پہلے زندگی پیاری لگتی تھی اب صرف ضروری لگتی ہے۔ اللہ پاک ہر مسلمان کو کڑے وقت سے محفوظ فرمائے۔‘‘

’’اور کچھ کہنا چاہیں گی؟‘‘

’’قارئین، ادارے اور لکھنے والی سب ہی بہنوں کے لیے بہت ساری دعائیں اور اپنے لیے نیک تمناؤں کی التجا، ’’امتل آپی‘‘ اور ’’شاہین رشید‘‘ کا خصوصی طورپر شکریہ۔ ‘‘

اور اس کے ساتھ ہی ہم نے فرح اجازت چاہی۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں