عنیزہ سید. خواتین کی پسندیدہ رائٹر. بہترین افسانہ نگار اور بہترین ڈراما نگار۔ کافی عرصے سے خواہش تھی کہ ان کا انٹرویو کروں پھر فرمائش بھی بہت تھی قارئین بہنوں کی۔ بس کچھ وجوہات کی بنا پر انٹرویو نہیں ہوسکا اس میں کوتاہی میری ہی تھی. خیر اس شمارے میں پڑھیے عنیزہ سید کو۔
’’کیسے مزاج ہیں؟‘‘
’’اللہ کا شکر ہے۔‘‘
’’مجھے بہت خوشی ہے کہ میں آج آپ کا انٹرویو کررہی ہوں. تو انٹرویو کے آغاز میں پہلے آپ اپنے بارے میں کچھ بتایئے؟‘‘
’’میرا تعلق سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ سے ہے۔ میری جائے پیدائش بھی ڈسکہ ہے۔ ہم تین بہنیں ہیں اور میرا نمبر آخری ہے۔ 2010ئ میں میری والدہ کا انتقال ہوا۔ امی انتہائی خوب صورت، ادیب دوست، فنکارانہ مزاج، خوش اخلاق، گھریلو خاتون تھیں۔ میں آج جو کچھ بھی ہوں، لکھنے کی جو صلاحیت میرے اندر پنپتی رہی اور جس کو اظہار کا ذریعہ بنا کر میں تھوڑا بہت نام بنا پائی، وہ یقینا میری امی کی تربیت اور ان کی طرف سے ورثے میں ملنے والے پڑھنے کے شوق کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اپنی امی پر میں لکھنے بیٹھوں یا بولنے بیٹھوں تو مجھے بہت سے صفحات درکار ہوں گے۔ مختصر یہ کہ میری امی میری رول ماڈل تھیں۔ آج بھی ہیں اور تادم مرگ رہیں گی۔
میرے والد الحمدللہ حیات ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ گو اب پریکٹس نہیں کرتے لیکن جب کرتے تھے تو اپنے علاقے کے نامور وکلائ میں ان کا شمار ہوا کرتا تھا۔ ابو بھی بے حد ادب دوست انسان ہیں۔ ہمارے گھر میں امی کی بنائی ہوئی لائبریری میں بہت سی کتابیں ابو لاتے تھے اور اسی لائبریری نے ہم تینوں بہنوں کو بہت بچپن میں ہی پڑھنے کی شوق میں مبتلا کردیا تھا۔ میں نے اپنی دونوں بڑی بہنوں کی موجودگی میں بڑے مزے کی زندگی گزاری۔ آزاد اور فکر و فاقے سے بے نیاز زندگی. دونوں کی شادی کے بعد مجھے پتا چلا کہ گھر کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں اور امی کے ساتھ مل کر انہیں کیسے نبھایا جاتا ہے۔
میرا نام عنیزہ میری نانی اماں نے رکھا۔ کراچی میں ہم جس فلیٹ میں رہتے تھے، اس کے ایک پورشن میں ایک ایرانی فیملی رہتی تھی۔ ان کی ایک بچی کا نام عنیزہ تھا۔ میری نانی اماں نے وہاں سے یہ نام کاپی کرکے مجھ پر پیسٹ کردیا. میرے والدین نے مجھے بہترین تعلیمی اداروں سے تعلیم دلوائی۔ میٹرک میں نے اپنے ہی شہر کے ہائی اسکول سے کیا اور اس کے بعد میرا داخلہ لاہور کالج فار وومن جو اب لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی بن چکا ہے، میں کروادیا۔ اور یہاں سے میں نے گریجویشن کیا۔
اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے فلسفے میں ماسٹرز کیا۔ میری خوش قسمتی رہی کہ میں نے اپنے زمانے کے بہترین اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔ ان میں مسز ارملہ سراج الدین، مس عارفہ سید صاحبہ اور مسز غزالہ عرفان خاص طور پر شامل ہیں۔ ماسٹرز کرنے کے بعد میری شادی ہوگئی اور ماشائ اللہ میری شادی کو پچیس سال ہوچکے ہیں۔ میرے شوہر میرے والد کی طرح وکیل ہیں۔ اس سال ہم نے اپنی شادی کی سلور جوبلی منائی ہے۔
میرے دو بچے ہیں۔ ایک بیٹی اور ایک بےٹا اور دونوں اپنی تعلیم مکمل کرچکے ہیں۔ بیٹی قرۃ العین نے نسٹ یونیورسٹی اسلام آباد سے انڈسٹریل ڈیزائن میں گریجویشن کیا ہے اور آج کل لاہور میں ایک ملٹی نیشنل ڈیزائنز کمپنی کے ساتھ کام کررہی ہے اور ساتھ ہی وہ اپنا بزنس بھی چلا رہی ہے۔ بےٹے عبد اللہ نے کامیسٹس یونیورسٹی سے سافٹ ویر انجینئرنگ کی ہے اور وہ بھی ایک سوئس سافٹ ویر ہائوس کے پاکستان آفس میں جاب کررہا ہے.ا ور ہاں. عنیزہ کے معنی بقول میری نانی کے ’’معصوم ہرنی‘‘ کے ہیں اور کچھ لغات میں ’’روشن‘‘ کے ہیں۔‘‘
’’بچپن کیسا گزرا؟ پڑھا کو تھیں، شرارتی تھیں یا گھر داری کا شوق ہے؟‘‘
’’بچپن میں ایک لاابالی، بے دھیان، خود میں مست رہنے و الی لڑکی تھی۔ کھیل کود کی بے حد شوقین تھی اور کھیل کود سے جو وقت بچ جاتا، وہ کتابیں اور رسالے پڑھتے گزرتا تھا۔ ہمارے گھر میں بہت سے پرچے باقاعدگی سے آتے تھے۔ جن میں تعلیم و تربیت، نونہال، بچوںکی دنیا، کھلونا، بچوں کا باغ شامل تھے اور ان کے علاوہ ماہنامہ حکایت، سیارہ ڈائجسٹ‘اردو ڈائجسٹ. پھر کرکٹ، ہاکی اور اسکوائش میگزین تک بھی چاٹ ڈالتی تھی۔ اخبار خواتین، حور، زیب النسائ، پاکیزہ‘ خواتین ڈائجسٹ امی باقاعدگی سے لیتی تھیں۔ وہ بھی پڑھنے کی عادت پڑگئی۔ امی کے پاس انگلینڈ سے ایک میگزین ’’وومن اینڈ ہوم‘‘ آیا کرتا تھا اور مجھے اس کی آمد کا انتظار امی سے بھی زیادہ ہوا کرتا تھا۔ ایک اور بہت پیارا پرچہ زمین با تصویربھی میرے بچپن کی بہت خوب صورت یادگار ہے۔ غرض مطالعہ کا شوق جنون کی حد تک تھا۔ امی ابو فیروز سنز لاہور سے شائع ہونے والے بچوں کے ناولز بھی خرید کر دیا کرتے تھے تو بس اس سلسلے میں موج ہی موج تھی۔ ان سب سے اگر کچھ ٹائم بچ جاتا تو اسکول کی پڑھائی کرلیتی تھی۔ میں کوئی پڑھاکو نہیں تھی لیکن چونکہ ذہن اچھا تھا تو سرسری پڑھنے پر بھی امتحان میں اچھے نمبر آجاتے تھے۔ کبھی کبھار تو کلاس میں پوزیشن بھی آجاتی تھی اور الحمدللہ تمام لاپروائیوں کے باوجود اپنے اسکول میں اساتذہ کی ہونہار اسٹوڈنٹ ہی کہلاتی تھی۔‘‘
’’کب ادراک ہواکہ میں کچھ لکھ سکتی ہوں اور سب سے پہلے کیا لکھا آپ نے . اور پھر باقاعدہ لکھنے کا آغاز کب سے ہوا؟‘‘
’’جیسا کہ میں نے بتایا کہ مطالعہ کا شوق تو بچپن سے ہی تھا۔ گھر میں آنے والے اخبارات کے بچوں کے صفحات بھی شوق سے پڑھتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں چھٹی یا ساتویں جماعت میں تھی تو انگریزی اخبار ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے بچوں کے صفحہ کے لےے ایک نظم ٹو ڈی ریڈ روز ان مائی گارڈن لکھ کر بھیج دی، جو اگلی ہی بار شائع بھی ہوگئی اور میرے لیے اس نظم کا شائع ہوجانا بہت بڑی بات تھی اور اس موقع پر ہی مجھے پتا چلا کہ جو میں سوچتی ہوں اس کو حوالہ قلم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہوں۔ اس کے بعد مختلف پرچوں میں خطوط، آرائ اور تبصرے بھجوانے کا سلسلہ جاری رہا۔
باقاعدہ کہانیاں لکھنے کا آغاز اس وقت ہوا جب میں سیکنڈ ایر کی طالبہ تھی۔ ایک روز ڈائجسٹ میں شائع شدہ ایک افسانہ پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ اس سے بہتر تو میں بھی لکھ سکتی ہوں. اچھا. مسئلہ یہ تھا کہ میں فطری طور پر ایک سست الوجود انسان تھی اور اب بھی ہوں۔ تو غالب امکان یہ تھا کہ اپنے بارے میں یہ سوچ لینے کے باوجود کہ میں لکھ سکتی ہوں۔ میں سستی کے مارے کبھی قلم نہ اٹھاتی لیکن پھر یہ خےال آیا کہ ڈائجسٹ میں ایک خیالی دنیا کے گھڑے ہوئے کرداروں کی کہانیاں ہی کیوں شائع ہوتی ہیں۔ پریکٹیکل لائف کے کردار جو ہمارے اردگرد ہی رہتے ہیں، ان کی کہانیاں کیوں نہیں لکھی جاتیں۔ تب اس خیال نے قلم بھی اٹھوایا اور کہانی بھی لکھوادی۔ اللہ کا نام لے کر ادارہ خواتین ڈائجسٹ میں بھیج دی۔ اگلے ماہ شعاع میں میری کہانی شائع ہوگئی۔ ایسی حوصلہ افزائی دیکھ کر قلم واپس ’’میان‘‘ میں جا ہی نہیں پایا۔ کہانیاں دماغ میں اترتی چلی گئیں اور قلم انہیں قلم بند کرتا چلا گیا۔‘‘
’’اب تک کیا کیا شائع ہوچکا ہے کتابی شکل میں اور پہلا معاوضہ کیا ملا تھا؟ اور کتنے سال ہوگئے لکھتے ہوئے؟‘‘
’’ابھی تک میرے پانچ ناول ’’شب گزیدہ‘‘ ، ’’دل من مسافر من‘‘ ، ’’دیار دل میں‘‘ ، ’’جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم‘‘ ، ’’شام شہر یاراں‘‘ شائع ہوچکے ہیں اور پانچ ہی مجموعے جو مختصر اور طویل کہانیوں پر مشتمل ہیں، مارکیٹ میں دستیاب ہیں اور پہلا معاوضہ دو سو روپے تھا جو شعاع میں افسانہ شائع ہونے پر ملا تھا اور اس وقت یہ معاوضہ ہفت اقلیم کی دولت سے کم نہیں لگا تھا اور میں اسُی کی آخری دہائی سے لکھ رہی ہوں لیکن وقت اور سالوں کے اعتبار سے میری تحریرں کی تعداد بہت کم ہے اور ایسا شاید اس لیے کہ جب تک کوئی کہانی تمام تر سیاق و سباق سے جم جانے کے بعد مجھے قائل نہ کرلے، میں لکھ نہیں پاتی۔ سو اتنی محدود تحریروں کے باوجود میرے قارئین کا میری تحریر کو پڑھنا، پسند کرنا اور اس پر اپنی رائے دینا ہی میرا ایوارڈ ہے۔ ویسے بھی ہمارے ہاں پاپولر فکشن رائٹرز کو ایوارڈ سے نوازے جانے کی کوئی خاص روایت نہیں ہے پھر بھی میں ایک ماہنامہ کی بے حد ممنون ہوں کہ رائٹرز ایوارڈز کے سلسلے میں انہوں نے متعدد بار مجھے بہترین رائٹر کے ایوارڈ سے نوازا۔‘‘
’’لکھنا آسان کام ہے کیا. اور آپ کے گھر میں سب سے زیادہ حوصلہ افزائی کس نے کی؟‘‘
’’لکھنا آسان تو بالکل بھی نہیں ہے۔ لکھاری کی تحریر کو اس کی تخلیق بھی کہا جاتا ہے۔ تو تخلیق کا عمل کبھی بھی آسان نہیں ہوسکتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک ماں درد سہہ کر بچے کو جنم دیتی ہے بالکل ویسے ہی لکھاری کے ذہن سے جو خیال تحریر کی شکل میں باہر نکلتا ہے اس کو بھی ایسے ہی جان جوکھوں کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے اور یقین جانیے میں یہ اب برائے بات نہیں کررہی، کوئی بھی جینئن لکھاری یقینا میری بات سے ضرور اتفاق کرلے گا۔ جب میری تحریریں منظر عام پر آنا شروع ہوئیں تو وہ لوگ جو میرے اردگرد رہتے تھے ان میں سے تو اکثر کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ وہ کہانیاں میں لکھتی ہوں۔ گھر میں میری امی بہت خوش ہوتی تھیں اور میری سب سے زیادہ حوصلہ افزائی بھی انہوں نے ہی کی۔ میری امی میرے لیے بہت بڑی انسپائریشن تھیں اور میری سب سے بڑی سپورٹر تھیں . اور جب میں انہیں خوش ہوتے دیکھتی تھی تو ہوائوں میں اڑنے لگتی تھی اور ان تحریروں کی اشاعت میرے لیے اس لیے بھی خوشی کا باعث تھی کہ میرے اس عمل سے میری امی خوش ہوتی تھیں اور یہ ہی میرے لیے سب سے بڑی اچیومنٹ تھی۔‘‘
’’کہانیاں گھڑنے کا شوق بچپن سے ہی تھا؟ آپ کے بچوں میں یا سسرال میں کسی کو شوق ہوا لکھنے کا؟‘‘
’’کہانیاں گھڑنے اور لکھنے کی صلاحیت مجھ میں پیدائشی طور پر ہی موجود تھی اور مجھے یاد ہے کہ مختلف چیزوں کے بارے میں ایک فرضی داستان میرے ذہن میں خودبخود بنتی چلی جاتی تھی، جس کا کبھی کبھار میں اظہار بھی کردیتی تھی. لیکن یہ خےال کہ میں لکھ سکتی ہوں، بہت بعد میں ذہن میں آیا۔ میری فیملی میں سب ہی مطالعہ کے شوقین ہیں لیکن لکھنے کی طرف کسی کا رجحان نہیں ہے۔ میرا بیٹا عبد اللہ بچپن میں چھوٹی موٹی کہانیاں اپنی ڈائری میں لکھا کرتا تھا۔ لیکن پھر تعلیمی سرگرمیوں میں زیادہ الجھ جانے کے بعد اس نے بھی یہ مشغلہ چھوڑ دیا۔‘‘
’’اب آجایئے ٹی وی کی طرف. کون لایا؟ پہلا ڈراما کون سا تھا؟‘‘
’’ڈراموں کی طرف میری توجہ سب سے پہلے میری دوست سائرہ نے دلوائی۔ انہوں نے مجھے اپنے پاس کراچی بلایا۔
ہم نے ایک کہانی جو میرے ایک شائع شدہ ناول پر بیس کررہی تھی۔فائنل بھی کرلی لیکن بدقسمتی سے ہم اس پر مزید کام نہیں کرسکے۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد ’’اے آروائی‘‘ کی کانٹینٹ ہیڈ حمیرا صفدر نے مجھ سے رابطہ کیا اور میرے ناول ’’شب آرزو کا عالم‘‘ پر مجھ سے بات کی۔ ہم نے کہانی ڈسکس کی اور پھر میں نے اس پر کام شروع کردیا۔
اے آر وائی کی اس وقت کی کانٹینٹ ٹیم اور اس کے ہیڈ علی عمران نے اس سلسلے میں میرے ساتھ بہت تعاون کیا کیونکہ یہ میرا اسکرپٹ تھا۔ یہ پروجیکٹ شب آرزو کا عالم کے نام سے سامنے آیا اور جس وقت میں یہ لکھ رہی تھی اسی دوران ’’اے آر وائی‘‘ کے ساتھ میرا دوسرا کانٹریکٹ ہوا۔ یہ اسکرپٹ میرے ناول ’’شام فراق اب نہ پوچھ‘‘کی کہانی پر لکھا جانا تھا۔ یہ ڈراما ’’تم سے مل کر‘‘ کے نام سے بنا اور الحمدللہ بہت کامیاب رہا۔‘‘
’’آپ کی کہانیاں آپ کا ذاتی مشاہدہ ہوتی ہیں یا ذہن میں پلاٹ آتے ہیں. اور کسی بھی کہانی کے لیے ڈائریکٹر کا کتنا کردار ہوتا ہے؟‘‘
’’میری زیادہ تر کہانیاں ذاتی مشاہدے کا نتیجہ ہیں۔ میری کہانیوں کے کردار ہمارے اردگرد ہی ہوتے ہیں اور یقینا میرے قارئین خود کو کہیں نہ کہیں ان کرداروں سے ریلیٹ کرسکتے ہیں. اسکرین پلے لکھنا تو یقینا رائٹر کا ہی کام ہے لیکن ڈرامے کی فائنل ایگزیکیوشن سے ہم ڈائریکٹر کی اہمیت کسی طرح بھی کم نہیں کرسکتے۔
رائٹر اپنا کام کرکے دے دیتا ہے، اس کے بعد ایک اچھا ڈائریکٹر ہی اس کہانی کو سمجھ کر آگے چلاتا ہے۔ ایک منجھے ہوے ڈائریکٹر کا کمال ہی یہ ہے کہ وہ رائٹر لکھے ہوئے کو اس کے پورے سیاق و سباق اور جذبات کے ساتھ اسکرین پر لے آئے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ڈراما صرف اچھا اسکرپٹ ہی نہیں چاہتا، ساتھ میں ایک زیرک ڈائریکٹر بھی مل جائے تو ڈراما کامیاب ہوسکتا ہے۔ بلکہ کبھی کبھی تو ایک اچھا ڈائریکٹر ایک ایوریج اسکرپٹ کو بھی اس طرح ڈرامے کی شکل میں ڈھال دیتا ہے کہ کمال ہوجاتا ہے۔‘‘
’’دیکھا گیا ہے کہ خواتین رائٹرز ہی خواتین کو مظلوم دکھاتی ہیں. کیوں؟ اور اب ہمارا ڈراما بہت بولڈ ہوگیا ہے کیا ایسا ہے؟‘‘
’’کسی حد تک خواتین رائٹرز خود پر بیتی کہانیاں لکھتی ہوں گی کیونکہ ہمارے ہاں خواتین کے مسائل مختلف طبقوں میں تقریباً ایک سے ہی ہوتے ہیں لیکن اگر اس بات کو جنرلائز کرکے دیکھا جائے تو میرا خیال ہے کہ خواتین اور ان کے مسائل کے بارے میں کسی مرد سے زیادہ خاتون کا مشاہدہ بہتر اور اسٹرونگ ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے مسائل پر اٹھا ایک خاتون رائٹر کا قلم زیادہ مضبوط لکھتا نظر آتا ہے۔ دیکھیں آج کل کی نسل کو آگاہی کے ذرائع گزشتہ سب نسلوں سے کہیں زیادہ دستیاب ہیں۔ وہ جس موضوع پر آگاہ ہونا چاہیں اس کی تفصیلات ہاتھ میںپکڑے گیجٹ سے صرف ایک کلک دور ہیں، ایسے میں ٹی وی پہ چلنے والا ڈراما اور اس کے بولڈ ٹاپک ان کے لیے نئے اور حیرت انگیز شاید نہ ہوں۔ ہاں ٹی وی انہیں بولڈ اسٹیپس کے نتائج سے بھی آگاہ کرسکتا ہے اور یہ کام گوگل شاید نہ کرپاتا ہو لیکن چونکہ ہمارے یہاں ڈراما ابھی تک تفریح کا ذریعہ ہی ہے اور فیملی کے افراد مل کر دیکھتے ہیں تو پھر احتیاط کی ضرورت ہے۔‘‘
’’ڈراموں میں مسائل کو سلجھانے کا ہنر سب رائٹرز کوآتا ہے. اصل زندگی میں کیا صورت حال ہوتی ہے؟‘‘
’’دیکھیں، بنیادی طور پر ڈراما یا ڈائجسٹ اسٹوریز مسائل کے ستائے ہوئے لوگ کے لیے ذہنی تفریح کا ذریعہ ہیں۔ یہ جہاں زندگی کے مسائل دکھاتے ہیں، وہاں اپنے ناظر یا قاری کی ذہنی تسکین کے لیے ان الجھے ہوئے مسائل کو سلجھتے ہوئے بھی اکھاتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسی سچویشنز کو دیکھ کر لوگوں کو اصل زندگی کے مسائل سلجھانے کا فارمولا بھی مل جاتا ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو تو ایک امید ضرور مل جاتی ہے کہ مسائل ہیں تو یہ سلجھ بھی سکتے ہیں۔‘‘
’’آپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لکھنا آسان کام نہیں ہے۔ آپ کے خیال میں کیا لکھنا آسان ہے۔ رومانس، روتی دھوتی عورتوں پر یا کامیڈی؟‘‘
’’اتفاق کی بات ہے کہ میں رومانس بہت کم لکھا ہے۔ میری پیاری دوست امتل کو بھی ہمیشہ مجھ سے یہ گلہ رہا ہے کہ میں رومانس لکھنے میں اتنی کنجوس کیوں ہوں۔ دوسری طرف میں نے روتی دھوتی عورتوں پر بھی کچھ خاص نہیں لکھا۔ میں نے زیادہ تر ایسی کہانیاں لکھیں جن میں رومانس کا ہلکا سا رنگ تو نظر آتا ہے لیکن یہ مرکزی نکتہ نہیں ہوتا۔ میری کہانیوں سے زیادہ میری کہانیوں کے کردار مضبوط ہوتے ہیں جب ہی پڑھنے اور دیکھنے میں کہانی کے عنوان سے زیادہ اس کے کردار جگہ بنارہے ہوتے ہیں۔ جہاں تک کامیڈی کا سوال ہے تو میں نے خاص طور پر تو کامیڈی نہیں لکھی البتہ میرے کردار کبھی کبھی کہانی کے اندر مزاحیہ جملے ضرور بولتے نظر آتے ہیں تو جناب لکھنا آسان نہیں ہے۔ یہ بات میں دوبارہ کہوں گی۔‘‘
’’کوئی تحریر جو دل سے لکھی مقبول نہ ہوسکی اور کس ڈرامے کی ریٹنگ زیادہ رہی. اور کیا انڈرپروڈکشن ہے؟‘‘
’’دیار دل‘‘ ، ’’شام شہریا راں‘‘ اور ’’روشن جگنو‘‘ اور ’’جل پریاں‘‘ ایسی تحریریں تھیں جو میں نے بہت دل سے لکھی تھیں خصوصاً ’’شام شہر یاراں‘‘ لیکن ان کو پذیرائی نہ مل سکی جس کی وہ مستحق تھیں. اور ڈراموں میں ’’تم سے مل کر‘‘ میرا ایک ایسا ڈراما تھا جس کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی اور وہ ریٹنگ چارٹ پر بھی پہلے تین نمبروں میں جگہ پاتا رہا اور جہاں تک انڈروپروڈکشن کی بات ہے تو فی الحال کوئی انڈرپروڈکشن نہیں ہے۔ تین چار اسکرپٹس البتہ مکمل ہونے کے بعد پروڈکشن پائپ لائن میں موجود ہیں۔‘‘
’’ایک اچھا رائٹر دیگر رائٹرز سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ آپ کو کون پسند ہیں؟‘‘
’’ہر اچھا قاری چند ادیبوں سے تو ضرور ہی متاثر ہوتا ہے اور میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہے مجھے ’’ارنسٹ ہیمنگوے‘‘ ، جین آسٹن‘‘ ، ’’فلورنس ایل بار گلے‘‘، ’’مارگریٹ مچل‘‘ ، ’’عزیز احمد‘‘ ، ’’قاضی عبد الستار‘‘ اور ’’قرۃ العین‘‘ کا طرز تحریر بہت متاثرکرتا ہے اور ان میں آخری الذکر کا میری تحریر پر اثر بھی نظر آتا ہے۔‘‘
’’کہتے ہیں اسکرپٹ کو لکھنے کا معاوضہ بہت اچھا ملتا ہے۔ ایسا ہے کیا؟‘‘
’’یقینا اسکرپٹ رائٹنگ ایک مضبوط ذریعہ آمدنی بن چکا ہے، جب ہی تو ڈائجسٹ کی وہ رائٹرز جو اسکرپٹ رائٹنگ کی طرف چلی گئی ہیں، واپس ڈائجسٹ کی طرف کم ہی نظر آتی ہیں؟‘‘
’’کچھ ذاتی سوال بھی ہوجائیں. مزاج کی کیسی ہیں اور کیسی تھیں؟‘‘
’’ایک زمانہ تھا کہ میرے مزاج میں تندی اور تیزی نظر آتی تھی۔ کسی کی غلط بات برداشت نہیں ہوتی تھی. لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طبیعت میں ٹھہرائو آتا چلا گیا۔ تحمل اور برداشت بھی مزاج کا حصہ بنتے چلے گئے۔ پتا نہیں ایسا ہوا کیسے مگر ہوگیا. اور شاید عمر اور تجربہ بڑھنے کے ساتھ، سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ میں اپنے والدین کے گھر میں سب سے چھوٹی تھی اور لاڈلی بھی تھی، شاید اسی لیے اپنی بات منوانا اور دوسروں کی کہی ذرا سی تلخ بات کو برداشت نہ کرنا مزاج کا حصہ تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب کسی کی کوئی بات بری بھی لگے تو میں اس پر فوری ردعمل نہیں دیتی بلکہ اکثر خاموش ہی رہتی ہوں۔
میرے گھر میں پھر بھی میری ہی چلتی ہے، میرے میاں مخدوم ابو ذر حسنین بخاری الحمدللہ میرے ساتھ بہت تعاون کرتے ہیں اور میری بات کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست بھی ہیں، اس لیے ہم ایک دوسرے سے ڈرتے نہیں ہیں۔ کئی معاملات پر اختلافات ہوجاتے ہیں مگر ہم اسے بڑی خوش اسلوبی سے سلجھا بھی لیتے ہیں. بچے البتہ اپنے ابا سے زیادہ مجھ سے ہی ڈرتے ہیں کیونکہ بچوں کے ابا نہ کسی بات پر ڈانٹتے ہیں نہ ہی منع کرتے ہیں۔
‘‘
’’ہوٹلنگ کرنا اور گھومنا پھرنا کیسا لگتا ہے، شوق ہے آپ کو؟‘‘
’’ہوٹلنگ بھی بہت اچھی لگتی ہے Food Vloggers یہ میرا اور میرے بےٹے کا مشترکہ شوق ہے۔ ہم یوٹیوب پر ’’فوڈ ولاگرز‘‘ کو فالو کرتے ہیں اور جہاں کہیں کوئی نئی اور انوکھی جگہ علم میں آتی ہے‘ اس کو مارک کرکے اس جگہ کے کھانوں کا ذائقہ چکھنے ضرور جاتے ہیں۔ جہاں تک پہننے اوڑھنے کے شوق کا سوال ہے تو فطری طور پر میں ایک سست انسان ہوں تو گھر میں آپ مجھے رف ٹف ہی دیکھیں گے لیکن ایسا بھی نہیں کہ سینس آف گڈ ڈریسنگ مجھ میں موجود نہیں۔ میرے وارڈ روب میں سیزن کے اچھے کپڑے مناسب تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ میچنگ جوتوں اور بیگز، میک اپ کے انتخاب پر وقت صرف کرتی ہوں اور اپنے حلقے میں باذوق خاتون کے طور پر جانی جاتی ہوں. اور مجھے گھومنا پھرنا اور نت نئی جگہیں دیکھنا اس لیے بہت پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں اس کے حکم کے مطابق گھومنے پھرنے سے اس کی نشانیاں ملتی ہیں اور یہ بالکل حقیقت ہے کہ قدرت کی نشانیاں اس کی بنائی دنیا میں گھوم پھر کر ہی دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔‘‘
’’ہوٹلنگ کا شوق ہے تو گھر داری کا کتنا شوق ہے اور پکانے کا کتنا شوق ہے؟‘‘
’’گھر داری سے مجھے بے حد لگائو ہے۔ میں ان خواتین میں شمار ہوتی ہوں جن کے لیے گھر اور گھر والے سب سے اہم ہوتے ہیں۔ لہٰذا میرے دن کا زیادہ تر حصہ کچن اور پھر گھر کو سجانے سنوارنے میں ہی گزرتا ہے ۔
مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب میرے میاں اور بچے گھر آنے پر اپنی ضرورت کی ہر چیز اپنے ٹھکانے پر اور اپنی پسند کی ہر چیز دستر خوان پر موجود دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ان کی یہ خوشی دیکھنے کے لیے میرے دن کا زیادہ تر حصہ اسی کے اہتمام میں گزر جاتا ہے۔‘‘
’’سیاست سے کتنا لگائو ہے؟‘‘
’’سیاست سے لگائو مجھے ورثے میں ملا ہے۔ میرے والدین اور ساس سسر سب ہی ماشائ اللہ تعلیم یافتہ اور باشعور شہری ہونے کے ناتے ملک کے مسائل اور معاملات پر گہری نظر رکھتے رہے اور ان سے ہی یہ شوق ہمیں منتقل ہوا۔ میرے والدین ہمیشہ سے ہی قائد اعظم سے انسیت کے سبب مسلم لیگ سے وابستہ رہے اور ابھی تک ایسا ہی چل رہا ہے۔‘‘
’’ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں گھروں میں پابندیاں بہت ہوتی ہیں، ابتدا میں جب آپ نے لکھنا شروع کیا تو یقینا رومانس یا کھل کر کوئی بات لکھنا آپ کے لیے مشکل ہوتا ہوگا؟
’’دراصل ہمارے ہاں بچوں خصوصاً بچیوں میں مذہبی اور اخلاقی حدود قیود کا تصور تربیت کے آغاز سے ہی ذہن نشین کرادیا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر ایک لڑکی کم عمری میں ہی قلم تھام کر کہانی لکھنے کا آغاز کرتی ہے تو رومانس لکھتے ہوئے اس کا قلم لڑکھڑائے گا اور لفظ بھی جھجک کا شکار ہوں گے اور یہ ایک فطری عمل ہے۔ لیکن جوں جوں وقت آگے بڑھتا ہے، تحریر اور شعور میں پختگی بڑھتی ہے تو یہ لڑکھڑاہٹ اور جھجک کسی حد تک کم ہوجاتی ہے۔ لیکن جس معاشرے میں رہتے ہوئے ہم پاپولر فکشن لکھ رہے ہیں، اس میں ہمارا ٹارگٹ ریڈر زیادہ تر ہائی اسکول یا پھر کالج کی طالبات ہی ہوتی ہیں لہٰذا کسی حد تک رومانس لکھنے اور رومانٹک فضا کری ایٹ کرتے ہوئے احتیاط کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھے جانے کی ضرورت رہنی چاہیے۔ میں ذاتی طور پر اس مقبول عام فارمولے کی قائل نہیں کہ ادب کسی مذہبی و اخلاقی حدود و قیود سے بالاتر ہونا چاہیے۔ معاشروں کے خمیر اٹھانے میں جو چیزیں شامل ہوتی ہیں ان میں سب سے اہم اجزا مذہب، اخلاقیات اور روایات ہی ہیں۔ان اجزائے تراکیبی کو نظر انداز کرنے سے نہ تو کسی معاشرے کی الگ شناخت بن جاتی ہے اور نہ ہی اس کے اندر پنپنے والے ادب کی۔‘‘
’’اور آخر میں کچھ کہنا چاہیں گی؟‘‘
’’بالکل. اور وہ یہ کہ گھر والوں کی حوصلہ افزائی ہی میرے قلم کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ الحمدللہ سب ہی میری تحریروں کو پڑھتے ہیں، رائے دیتے ہیں۔ ڈسکس کرتے ہیں جس سے مجھے خاصی راہنمائی ملتی ہے۔‘‘
اس کے ساتھ ہی ہم نے عنیزہ سید صاحبہ سے اجازت چاہی، اس شکریہ کے ساتھ کہ انہوں نے ہمیں ٹائم دیا۔
٭٭
اصلی نام؟
عالیہ علی۔
پیارکا نام؟
علی یا پھر صحیح نام لیتے ہیں عالیہ علی۔
تاریخ پیدائش؟
فروری 1989ئ۔
مادری زبان؟
اردو.مگر اردوبھی بولتے ہیں، پنجابی بھی۔ ملا جلا رجحان۔
فیملی ممبرز/ آپ کا نمبر؟
ہم سات بہنیں ہیں اور میں چھٹے نمبر کی ہوں۔ والدین نہیں ہیں۔
شادی/ بچے؟
نہ شادی نہ بچے. ہنستے ہوئے۔
تعلیمی قابلیت؟
بی کام۔
ٹی وی پر آمد؟
میں نے سب سے پہلے ایک کمرشل میں کام کیا تھا۔ ایک ٹیلکم پائوڈر کا. اور بس اتفاقاً آگئی تھی۔
بچپن کی کس عادت سے گھر والے پریشان ہوتے تھے؟
میں سویٹ لور ہوں تو بچپن میں چینی بہت کھاتی تھی تو امی ناراض ہوتی تھیں۔ مگر مجھے اپنی عادت بہت پیاری لگتی تھی۔
پہلی کمائی کس کے ہاتھ میں رکھی؟
پہلی کمائی پانچ سو روپے تھی اور ہم ہیں سات بہنیں۔ تین شادی شدہ ہیں تو ہم چاروں بہنوں نے اس پانچ سو روپے کی پارٹی کی تھی اور پیسے کسی کو نہیں دیے تھے۔
آپ کا سورج کب نکلتا ہے؟
الحمدللہ میں بہت صبح اٹھ جاتی ہوں۔ صبح کے وقت سے مجھے عشق ہے۔ یوگا کرنا، ایکسر سائز کرنا، واک پہ جانا، جم جانا مجھے بہت پسند ہے اور میرا یہ خیال ہے کہ جو صبح کے وقت نہیں اٹھتے، وہ بہت بدقسمت ہیں۔
صبح کیا نہ ملے تو صبح نہیں ہوتی؟
میں ڈنر پرسن نہیں ہوں مگر ناشتہ پرسن ہوں۔ صبح ایکسر سائز سے فارغ ہوکر ناشتہ ضرور کرتی ہوں اور جو مل جائے کھالیتی ہوں۔
پاکستان کے لیے کیا سوچتی ہیں؟
ہمارے ملک کے جتنے بھی حکمران ہیں، اپنی ذات کی لڑائی لڑرہے ہیں۔ عوام سے یہ صرف ووٹ لیتے ہیں، میں پاکستان کو بہت ترقی یافتہ دیکھنا چاہتی ہوں۔
سیاست میں کون پسند ہے؟
ایسا کوئی ہے تو نہیں مگر عمران خان اس لیے اچھا لگتا ہے کہ وہ بس اچھا لگتا ہے۔ کیا اس نے بھی ابھی تک کچھ نہیں۔
کس ملک کی شہریت کی خواہش ہے؟
کسی بھی ملک کی شہریت نہیں چاہیے۔ میرا پاکستان بہت خوب صورت ہے۔ ہم کسی سے کم نہیں۔
فینز ملتے ہیں تو آپ کا ردعمل؟
بہت اچھا لگتا ہے اور اس وقت تو بہت ہی اچھا لگتا ہے جب لوگ میرے ڈراموں کی اور میری پرفارمنس کی تعریف کرتے ہیں۔
اسپورٹس سے آپ کا لگائو۔ کون سا گیم پسند ہے؟
کچھ خاص لگائو نہیں ہے۔
زندگی سے کیا سیکھا؟
زندگی سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ زندگی بہت خوب صورت ہے، زندگی آپ کی نیت ہے، آپ کا کردار ہے۔ آپ کی شخصیت ہے۔ زندگی میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو زندگی سے پیار کریں۔
ایک نصیحت جو آپ کرنا چاہتی ہیں؟
جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ دنیا ہمارے بارے میں کیا کہے گی،یا کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا کہیں گے، تب آپ کچھ بھی نہیں کرسکتے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سچ کا ساتھ دیتا ہے۔ جھوٹ مت بولیں اور والدین کی خدمت کریں۔
پہلی بار کیمرے کا سامنا کیا تو؟
بہت نروس تھی. اتنی نروس تھی کہ ڈائیلاگ بھی بولنے نہیں آرہے تھے۔ بہت کپکپی طاری ہوئی تھی۔
کبھی ہجوم میں تنہائی محسوس ہوئی؟
نہیں، ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔
دل کی دھڑکن کب تیز ہوجاتی ہے؟
میں بہت حساس انسان ہوں، اپنے رشتوں کے بارے میں۔اگر میری کوئی بہن گھبرا کر فون کرے تو میرے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے کہ یا اللہ خیر ہو۔
مارننگ شو ہونے چاہئیں؟
بالکل ہونے چاہئیں۔ مگر ایسے جو نئی نسل کے کام آئیں، صرف شادی بیاہ، ناچ گانے اور میک اپ کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔ اس شو کو کاروبار نہ بنائیں۔
گھر میں سب سے زیادہ پیار کس سے ملا؟
اپنی بہنوں سے، ان کے بچوں سے، والدین سے۔ سب سے بہت پیار ملا۔ ہم تو جی حضوری والے لوگ ہیں۔ پیار لیتے بھی ہیں اور دیتے بھی ہیں۔
بیمار ہونے پر بیماری کو سیریس لیتی ہیں؟
سیریس تب لیتی ہوں جب بیماری تھوڑی لمبی ہوجائے ورنہ تو نہیں لیتی۔ نارمل ہی رہتی ہوں۔
بیمار ہونے پر شور مچاتی ہیں؟
نہیں، شور نہیں مچاتی۔ میرے بچپن کی بڑی خوب صورت بات ہے کہ میں جب بھی بیمار ہوتی تھی تو ظاہر ہے کہ بھوک کم ہوجاتی تھی اور امی مجھ سے پوچھتیں کہ کیا کھانا ہے تو میں کہتی تھی کہ ’’گول گپے‘‘ یا ’’دہی بھلے‘‘ تو آج بھی یہی حال ہے اور میں جب بیماری کے دو تین دن کے بعد گول گپے اور دہی بھلے کھالوں تو صحیح ہوجاتی ہوں۔
آپ کے ڈراموں کی تعداد؟
کافی لمبی فہرست ہے۔ آپ کو آرام سے بتائوں گی۔
رول آسانی سے کرلیتی ہےں؟
یہ منحصر ہے کہ سامنے کون ہے۔
ادب سے لگائو ہے، کس کو پڑھتی ہیں؟
پڑھتی کسی کو نہیں لیکن میں ’’قاسم علی شاہ‘‘ کو بہت زیادہ سنتی ہوں اور ان کو بہت فالو کرتی ہوں۔
کس شخصیت سے ملنے کی خواہش ہے؟
’’قاسم علی شاہ‘‘ سے۔ وہ بہت اچھے اور بہت نالج رکھنے والے انسان ہیں، وہ پڑھا لکھا بھائی ہے اور مجھے بہت پسند ہیں۔
اپنا کوئی فیصلہ جو غلط ثابت ہوا ہو؟
جی. دو تین بڑے فیصلے کرلیے تھے جو بہت برے طریقے سے غلط ثابت ہوئے۔
کچن سے لگائو؟
ہاں. بہت لگائو ہے۔ مگر کھانے کی حد تک. مگر کھانا بنا بھی لیتی ہوں اور بہت اچھا بناتی ہوں اور سب کچھ پکالیتی ہوں۔
ایک خواہش جس کے پورا ہونے تک زندہ رہنا چاہتی ہوں؟
ایک نہیں. میری ایک سے زیادہ خواہشات ہیں اور مرنے سے پہلے بھی ایک خواہش ہے جو صرف میرا اللہ جانتا ہے اور وہ مجھے مایوس نہیں کرے گا۔
کس کے لیے زندہ رہنا چاہتی ہیں؟
میں کسی کے لیے زندہ نہیں رہنا چاہتی، میں اپنے لیے زندہ رہنا چاہتی ہوں کیونکہ اللہ نے مجھے دنیا میں بھیجا ہے، اکیلا بھیجا ہے، اکیلا ہی بلائے گا۔
انسان کی زندگی کا مقصد؟
ہر انسان کو اپنے زندہ رہنے کا مقصد ڈھونڈنا چاہیے کہ اسے اللہ نے کیوں بنایا تو میں کوشش کروں گی کہ زندگی میں کوئی ایسا کام کروں جس کی وجہ سے لوگ مجھے یاد رکھیں۔
ایک نصیحت جو گرہ سے باندھ لی؟
جھوٹ نہیں بولنا چاہیے اور اپنے رزق، اپنی کمائی کو بانٹ کر کھانا چاہیے، ہماری امی ہمیں اسکول کے لیے دو لنچ بکس بنا کردیتی تھیں کہ ایک تم نے کھانا اور دوسرا کسی کے ساتھ بانٹ کے کھانا ہے۔
آپ کو نفرت ہے؟
نفرت کسی سے نہیں کرتی. کیونکہ میں درگزر کرنے والوں میں سے ہوں.
ڈنر پر گئیں مگر والٹ خالی؟ کیا کریں گی؟
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پیسے نہ ہوں۔ گھر سے نکلتے وقت پہلے پیسے ہی رکھتی ہوں۔
بچپن میںکس نے زیادہ مارا؟
امی سے مار پڑتی تھی، مگر ابو نے کبھی نہیں مارا۔ یا پھر ٹیچر سے مار پڑتی تھی۔
ڈاکٹر، حکیم، ہومیو پیتھک،کس پر یقین ہے؟
ڈاکٹر پر. کیوں کہ ان کی دوائیاں جلد اثر انداز ہوتی ہیں۔
رات گئے اچانک مہمان آجائیں تو؟
مہمانوں کا آنا بہت پسند ہے۔ کوئی کولیگ آجائے، بہن آجائے، بہت گرم جوشی سے ویلکم کرتی ہوں۔
ایر پورٹ گئیں اور پاسپورٹ بھول گئیں؟
نہیں، ایسا کبھی نہیں ہوا۔
محفل میں بیٹھ کر موبائل استعمال کرنے والوں کے لیے کیا کہیں گی؟
بالکل بھی پسند نہیں کرتی۔ نہ خود کرتی ہوں، نہ استعمال کرنے والوں کو یہ بات مجھے بہت ہی ’’نان پروفیشنل‘‘ لگتی ہے۔
موجودہ حکومت سے مطمئن ہیں؟
نہیں. ایمان داری سے کہوں گی کہ مطمئن نہیں ہوں۔
ملک سے باہر جاب کی آفر آئے تو؟
نہیں. بالکل نہیں۔ مجھے صرف اداکاری آتی ہے اور کچھ نہیں آتا۔ اللہ نہ کرے کہ مجھے جاب کرنی پڑے۔
غصے میں آپ کا ردعمل؟
کوشش کرتی ہوں کہ کسی سے بات نہ کروں، کیونکہ غصے کی حالت میں آپ بہت کچھ بلاسٹ کردیتے ہیں۔
ٹی وی کے ٹاک شو کے بہترین اینکر؟
فیصل قریشی، اقرار الحسن اور بھی کافی ہیں۔
نصیحت جو بری لگتی ہے؟
نصیحت مجھے کبھی بری نہیں لگتی۔ نصیحت کرنا تو اچھی بات ہے۔ زندگی میں کام آتی ہے۔
جوائنٹ اکائونٹ یا سنگل. کیا پسند ہے؟
دونوں ہی ٹھیک ہیں۔ مگر منحصر ہے کہ جوائنٹ اکائونٹ کس کے ساتھ ہے۔
ایک ڈیٹ جو بھول نہیں سکتیں؟
مجھے تاریخ یاد نہیں رہتی۔
کھانا. کوئی چیز جو کسی بھی وقت کھاسکتی ہیں؟
کھانا تو نہیں. لیکن کھجور پسند ہے اور کبھی بھی کھائی جاسکتی ہے اور اس کے فائدے بھی بہت ہیں۔ ہماری سوچ سے زیادہ۔
اپنی پرفارمنس میں کیا کمی نظر آتی ہے؟
یہی کہ ابھی مجھے بہت محنت کی ضرورت ہے، ابھی وہ نہیں کرپائی جو میں کرنا چاہتی ہوں۔
اپنا ڈراما دیکھ کر کیا سوچتی ہیں؟
میں کبھی بھی اپنے کام سے مطمئن نہیں ہوتی، اپنی غلطیاں نکالتی رہتی ہوں اور سیکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔
کس چینل پہ ریمورٹ رک جاتا ہے؟
کارٹون چینل پر یا جس چینل پر میرا ڈراما آرہا ہو۔
پہلی فلم جو سینما میں دیکھی؟
پہلی فلم ’’چوڑیاں‘‘ دیکھی تھی۔ صائمہ جی اور معمر رانا کی فلم تھی اور دوستوں کے ساتھ یہ فلم دیکھی تھی۔
کبھی ان کے ساتھ کام کرنے کا اتفاق ہوا؟
جی ہوا اور جب ان کے ساتھ کام کیا تو بہت اچھا لگا۔
کوکنگ لوور ہیں یا فوڈ لوور؟
ویسے تو کھانا زیادہ پسند ہے مگر جیسا کہ کہا کہ میں کوکنگ بھی بہت اچھی کرلیتی ہوں کیونکہ ہمارے گھر میں سب کو کھانا پکانا پڑتا ہے۔
کون سا رول کرنے کی خواہش ہے؟
کچھ ایسا جس میں درد ہو اور ہمارے معاشرے کی عکاسی ہوتی ہو۔
آپ کا ناقابل فراموش کردار؟
نہیں ابھی تک تو کوئی نہیں ہے۔
کوئی رول جو کرنے سے انکار کیا ہو؟
نہیں. منع نہیں کرتی لیکن یہ ضرور دیکھتی ہوں کہ اداکاری کا مارجن کتنا ہے۔
کس خاتون سیاست دان سے ملنے کی خواہش تھی؟
بے نظیر بھٹو سے مجھے ملنے کا بہت شوق تھا۔
مرد خوب صورت ہو یا کمائو ہو؟
دونوں خوبیاں ہوجائیں تو کیا ہی بات ہے۔
آپ کی فیوچر پلاننگ؟
اپنے آپ کو ایک بہترین انسان دیکھنا چاہتی ہوں۔
کھلی آنکھوں سے کون سا خواب بار بار دیکھتی ہیں؟
تھوڑی حقیقت پسند ہوں۔ معجزوں پر یقین رکھتی ہوں۔ خواب نہیں دیکھتی۔
پسندیدہ فوڈ اسٹریٹ؟
کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں جاکر اسپیشل کھانا کھائوں۔ لاہور فوڈ اسٹریٹ میںکئی بار کھانا کھایا کیونکہ لاہور لاہور ہے۔
اگر میک اپ ایجاد نہ ہوتا تو؟
تو ہم نہ کرتے. یاہو۔
شادی کیوں ضروری ہے؟
میاں بیوی کا رشتہ بہت خوب صورت ہوتا ہے اور یہ اللہ کا حکم بھی ہے اور شادی میں بہتری بھی ہے. ورنہ ضروری تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔
بی پی ہائی ہوجاتا ہے جب؟
تو کوشش کرتی ہوں کہ کسی سے بات نہ کروں اور پانی پیتی رہوں اور کسی کام میں مصروف ہوجاتی ہوں۔
اچھی بری خبر پہلے کسے سناتی ہیں؟
سب کو. گھر والے کہتے ہیں کہ تیری زندگی میں کچھ اچھا ہو یا برا ، جب تک تم سب کو بتا نہیں دیتیں تمہیں سکون نہیں آتا۔
اپنا کل سوچ کر اداسی ہوتی ہے، ہنسی آتی ہے یا انجوائے کرتی ہیں؟
کبھی اداس ہوجاتی ہوں، والدین کی کمی محسوس ہوتی ہے تو رونا بھی آتا ہے۔ اپنی بے وقوفیوں پہ ہنسی آتی ہے جو بچپن میں کی ہوتی ہیں اور لائف کو انجوائے بھی کرتی ہوں۔
آئینے کو کتنا وقت دیتی ہیں؟
شوٹ پہ ہوتی ہوں تو بہت، گھر پر ہوتی ہوں تو بالکل بھی نہیں۔
سب کو خوش کرنے میںاپنا دل ٹوٹ جاتا ہے؟
نہیں، ایساکبھی نہیں ہوا۔ دوسروں کو خوش کرکے مجھے بہت سکون ملتا ہے۔
خواتین رائٹرز میں آپ کی پسندیدہ رائٹرز؟
سرفہرست نزہت سمن ہیں۔ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل ان کا ’’بھروسا پیار تیرا‘‘ کیا جو نزہت سمن نے لکھا تھا۔ باقی بھی بہت اچھی ہیں۔
کسی تقریب میں جانے کے لیے تیاری میں کتنا وقت لیتی ہیں؟
میں بہت جلدی تیار ہوجاتی ہوں. کیونکہ تیار ہونے کی پریکٹس ہوگئی ہے، سارا دن یہی کام کرنا ہوتا ہے۔
شاپنگ کے لیے جاتی ہیں تو پہلے کس کا خیال آتا ہے؟
سب سے پہلے بھانجیوں کا خیال آتا ہے، پھر باجیوں کا اور دوسری بہنوں کا۔
کب ہوائوں میں اڑتا ہوا محسوس کرتی ہیں؟
جب میں کوئی اچھا اور نیکی کاکام کرتی ہوں تو بہت خوشی محسوس ہوتی ہے، وہ دن میری زندگی کا بہت خوب صورت دن ہوتا ہے۔
کبھی چھپ چھپ کر کسی کی باتیں سنیں؟
نہیں، کبھی نہیں. اور جب میں محسوس کرتی ہوں کہ کوئی پرائیوٹ بات کرنا چاہ رہا ہے تو میں وہاں سے یا تو اٹھ جاتی ہوں یا ہینڈ فری کانوں میں لگالیتی ہوں۔
کبھی تنہائی میں کسی کو یاد کرکے رونا آیا؟
بہت زیادہ. کیونکہ معلوم ہے کہ قیامت آجائے گی مگر جانے والے واپس نہیں آئیں گے۔ بہت روتی ہوں، بہت زیادہ۔
فلم، ڈراما اور کمرشلز کی تعداد؟
کافی ہے۔ ان شائ اللہ آپ کو بتادوں گی۔
اگر آپ کو کسی سلیبریٹی کا انٹرویو کرنے کو کہیں تو آپ کا پہلا انتخاب؟
بہت سارے ہیں اور بہت اچھے سے کرسکتی ہوں۔ قوی انکل کا کرنا چاہوں گی، وہ تو اکیڈمی ہیں ہماری۔
نیند کتنی پیاری ہے؟
بہت ہی پیاری۔ نیند آجائے تو دنیا کی ہر چیز سائیڈ پر کردیتی ہوں۔ نیند کے لیے کوئی کمپرومائز نہیں کرسکتی۔
نیند والا خواب جس نے بہت ڈسٹرب کیا ہو؟
کبھی کوئی ڈرائونا خواب آجائے تو. ورنہ تو کوئی خواب پریشان نہیں کرتا۔
بچت کس شکل میں کرتی ہیں؟
کسی بھی شکل میں نہیں۔ میرے پاس بچت ہو نہیں سکتی۔ بس سب کچھ مل بانٹ کر کھاپی لیتی ہوں۔
شادی کی رسموں میں پسندیدہ رسم؟
مہندی. مہندی کے خلاف بھی ہوں اور مہندی پسند بھی بہت ہے اور جہیز کے بھی خلاف ہوں۔ بیٹی بھی دو اور جہیز بھی.
ٹی وی کا کوئی ایسا پروگرام جو بند ہوجانا چاہیے؟
نہیں. میرا خیال ہے کہ ایسا کوئی پروگرام نہیں ہے۔
آج کی فکر زیادہ ہوتی ہے یا کل کی؟
کبھی آج کی بھی ہورہی ہوتی ہے اور کبھی کل کی بھی اور زیادہ تر کل کی فکر ہوتی ہے۔
زندگی کب تقسیم ہوجاتی ہے؟
بہت گہرا سوال ہے۔ الحمدللہ ابھی تک تو تقسیم نہیں ہوئی اور اللہ نہ کرے کہ تقسیم ہو۔
فیملی میں کون مزاج کا گرم ہے؟
کوئی نہیں۔ ہم سب بہت خوش مزاج، ملنسار اور جولی ہیں۔
کس عمر میں موبائل استعمال کرنے کی اجازت ملی؟
اجازت تو بہت لیٹ ملی، پی ٹی سی ایل پر ہی گزارا کرتی تھی۔ کچھ ہی سال یہی کوئی دو تین سال پہلے ملی۔
غصے میں پہلا لفظ؟
تیری تو. قہقہہ. آگے نہیں۔ یہ پیار سے بولتی ہوں۔
بدلہ لیتی ہیں؟
کبھی بھی نہیں. اور اللہ نہ کرے کہ ایسا کوئی قدم اٹھائوں۔ دنیا مکافات عمل ہے۔ جیسا کریں گے ویسا بھریں گے۔
کیا چیز نشے کی حد تک پسند ہے؟
نہیں، ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔
دل کی سنتی ہیں یا دماغ کی؟
دونوں کی۔ مشورہ کرنے کی عادت ہے تو میں مشورہ کرلیتی ہوں۔ دونوں سے۔
کیا چیز لیے بغیر گھر سے نہیں نکلتیں؟
موبائل فون۔ یہ تو ہمارا بے بی ہوگیا ہے۔ جتنا یہ ہمارے ساتھ گھومتا ہے، کوئی نہیں گھومتا ہوگا۔
اس مقام تک کس نے پہنچایا؟
میری محنت اورمیری بہنوں نے۔
اگر آپ کی شہرت کو زوال آجائے تو؟
ہر عروج کو زوال ہے۔ اللہ جب دے تو شکر ادا کرو اور جب نہ دے تب بھی شکر ادا کرو۔ بس مصیبت میں سب کچھ ہینڈل کرنا آنا چاہیے۔
٭٭


