قرۃ العین سکندر – شاہین رشید

انٹرویو 77

قرۃ العین سکندر کو لکھتے ہوئے بہت زیادہ عرصہ نہیں گزرا لیکن مختصر سی مدت میں انہوں نے جتنا لکھا ہے، بہت سے لکھنے والے ساری عمر گزار کر بھی اتنا نہیں لکھ پاتے۔ ان کی جتنی تحریریں شائع ہوئی ہیں۔ وہ اس سے کہیں زیادہ لکھ چکی ہیں اور بہت سی غیر مطبوعہ تحریریں یقینا ان کے پاس بھی محفوظ ہوں گی، ان کی لکھنے کی صلاحیت حیران کن ہے۔ ا س سے زیادہ حیرت کی بات ہے کہ بسیار نویسی نے ان کی تحریروں کے معیار کومتاثر نہیں کیاہے۔

اس ماہ ہم نے انٹرویو کے لیے قرۃ العین سکندر کا انتخاب کیا ہے۔

کیسے مزاج ہیںـ؟

الحمدللہ ۔

کیا مصروفیات ہیں آج کل ؟

مصروفیات کچھ یوں ہیں کہ میں آج کل ایک سلسلہ وار ناول لکھ رہی ہوں جو تصوف اور صوفی ازم سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ گھرداری، اور وہی روز وشب۔‘‘

’’فیملی بیک گراؤنڈ؟‘‘

’’میرا مکمل نام قرۃ العین سکندرجیسا کہ سب جانتے ہیں یہی میرا قلمی اور اصلی نام ہے۔ میرا نام میرے والد صاحب نے رکھا تھا تو گھر والوں نے کہا کہ یہ کیسا نام ہے؟ اتنا لمبا؟ قرۃ العین جن کانام ہوتاہے انہیں لوگ عینی کے نام سے پکارتے ہیں مگر میرے والد مجھے ’’مونا‘‘ کہہ کر پکارتے تھے اور سب گھر میں اسی نام سے پکارتے ہیں۔ گھر سے باہرکے لوگ مجھے ’’عینی‘‘ یا ’’قرت‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ کچھ پیار سے عینو، عنیم بھی پکارتے ہیں۔ یہ محبت ہے اورمجھے اس طرح سے پکارا جانا اچھا لگتا ہے۔

چودہ دسمبر کی ایک سرد سی صبح میں نے لاہور شہر میں جنم لیا۔ اس شہر میں ابتدائی تعلیم حاصل کی. یہ گلی کوچے میرے اپنے ہیں. مجھے شہر لاہور سے محبت ہے. یہ میرا شہر ہے۔

میرے والدین کا تعلق ملتان سے ہے اس لیے ہماری مادری زبان سرائیکی ہے۔ لیکن ابو جان امی کو پنجاب کے شہر لاہور لے آئے تھے تو اس لیے یہاں از سر نو ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ میرے والد صاحب ایک محنت کش انسان ہیں۔ انہوں نے زیرو سے اپنا کیریر اسٹارٹ کیا ۔ ایک اجنبی شہر میں شادی کے بعد اپنی بیوی کو لے کر آئے۔ سخت محنت کی اور یہ ان کی محنت کا ہی ثبوت ہے کہ ماشائ اللہ انہوں نے سب بچوں کو پڑھایا لکھایا۔ اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے۔

ہماری والدہ محترمہ نے ہماری تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ ان کے تمام بچے پڑھ لکھ کر قابل انسان بنیں، وہ ہمیں ایک مضبوط بنیاد دینے میں کامیاب رہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ آج ہم جو کچھ بھی ہیں اپنے والدین کی خصوصی توجہ کی بدولت ہیں تو غلط نہ ہوگا۔

ہم چھ بہن بھائی ہیں یعنی پانچ بہنیں اور ایک بھائی. میرا نمبر پانچواں ہے۔ ہم ساری بہنیں شادی شدہ ہیں۔ میں نے اسلامک اسٹیڈیز میں ماسٹرز کیاہے پنجاب یونیورسٹی سے۔ اس کے علاوہ فہم قرآن کو رس بھی کیاہے۔

’’بچپن کیسا گزرا. بھائی بہنوں کے تعلقات کیسے تھے؟

میرے بچپن کا دور بہت ہی سنہرا اوربے فکری والا تھا۔ ہم سب نے آپس میں خوش وخرم زندگی گزاری۔ پھر بہنیں بیاہی گئیں۔ بڑی بہن شادی کے بعد دوسرے ملک چلی گئیں اور باقی سب پاکستان میں ہیں۔ اپنے گھر میں خوشحال . میرا کوئی ادبی پس منظرنہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہ کہہ سکتی ہوں کہ میرے والد صاحب کی تاریخ پر گہری نظر رہی ہے، وہ تاریخی واقعات پوری جزئیات کے ساتھ بتایا کرتے ہیں۔ ان کے علم وفراست کی میں قائل ہوں۔ میری امی سادہ مزاج طبیعت کی مالک ہیں ، مہمان نواز ی کا شوق ہے۔ اگر یہ کہوں کہ میرے والدین سادہ طبیعت رکھتے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔

ہمارے گھر میں تعلیم کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پڑھائی کے وقت بڑھائی اور کھیل کے وقت کھیل کے فارمولے پر عمل کیاجاتاتھا۔ مجھے پڑھائی کا زیادہ شوق میٹرک کے بعد ہوا اس سے پہلے دلچسپی نہ لینے کی وجہ سے بڑی بہن سے ڈانٹ ڈپٹ سننی پڑتی تھی۔ ہم بہن بھائی دوسرے بچوں کی طرح شرارتی بھی تھے مگر امی جان کی ہم پر کڑی نگرانی ہوا کرتی تھی۔ اور جہاں امی کی نظر چوکتی وہاں بڑی بہن دھیان رکھاکرتی تھیں۔

ہم پانچ بہنیں ہیں مگر میرے والد صاحب نے ہمیں بہت محبت سے پالا۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں کبھی امی کی طبیعت خراب ہوتی تو ابو جان بہنوں کے اسکول یونیفارم پریس کرکے بالوں کی پونیاں بناکر اسکول روانہ کرتے تھے۔ مجھے نہیں یاد کہ ہمارے ابو نے ہمیں کبھی مارا ہو۔ مار تو دور کی بات ابو جان نے تو کبھی جھڑکا تک نہیں لیکن میری امی جان دبنگ خاتون ہیں اور ابھی تک ہیں جبکہ میں مان کے عہدے پر فائز ہوچکی ہوں ابھی بھی امی جان کا وہی رعب وبدبہ ہے۔

میرا بچپن بہت ہی معصومانہ انداز میں گزرا ہے۔ مگر مجھے گڑیوں سے کھیلنے کا جنون تھا۔ گڑیاکے کپڑے سیتی تھی۔ میری جو گڑیا پرانی ہوجاتی تھیں اسے میں نانی دادی کے عہدے پرفائز کردیتی اور ان کی جگہ نئی گڑیالے آتی تھی۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب ہم بہنوں نے گھر میں گڈے گڑیا کی شادی کی تھی تو امی جان نے اس شادی کے لیے مزے مزے کے پکوان بنائے تھے۔ بریانی اور دیگر چیزیں اور ہم نے اپنی پاکٹ منی سے ڈھیر ساری کینڈیز لی تھی۔ تب بے فکری تھیں۔ زندگی حسین تھی۔

’’بے فکری کی زندگی میں گھر کی ذمہ داریاں کب سنبھالیں؟‘‘

’’گھر کی ذمہ داریاں بھی جلدی ہی سنبھال لیں۔ امی جان نے باقاعدہ طورپر سب بہنوں کے ذمے کام لگارکھاتھا تاکہ ان میں احساس ذمہ داری پیدا ہو۔ میرے ذمہ ڈسٹنگ کاکام تھا۔ اس کے بعد کپڑے پریس کرنا تھا۔ شروع شروع میں آپی کے ساتھ مد دکرنا اور کھانا سرو کرنے میں مدد کرتی تھی۔ رفتہ رفتہ سارے کام خود بہ خود آتے چلے گئے اور جب مجھ سے بڑی ساری بہنوں کی شادیاں ہوگئیں تو میں امی کے مزید قریب ہوگئی۔

مجھے سرپرائز دینا اور لینا دونوں ہی بہت پسند ہیں۔ جب کبھی امی کہا کرتیں کہ آج میرا میٹھا کھانے کو دل کررہاہے میں چپکے سے کچن میں چلی جاتی اور کبھی بیسن کا حلوہ، کبھی سوجی کا حلوہ، کبھی دال کا حلوہ بناکر لے آتی تھی۔ امی حیران رہ جاتی تھیں اور جو چمک امی کے چہرے پر آتی تھی اس کی تو بات ہی الگ ہوا کرتی تھی۔ امی جان کے چہرے کی خوشی انمول ہوا کرتی تھی۔ گویا محبت کا اجرمل جاتا تھا۔ ‘‘

’’لڑکیاں جلدی میچور ہوجاتی ہیں آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘

آپ نے بالکل ٹھیک کہا کہ لڑکیاں جلدی بڑی بھی ہوجاتی ہیں اور میچور بھی لیکن میں فطرتاً لاپرواہ سی۔ خیالی دنیا کی باسی، لاابالی سی لڑکی تھی۔ مجھے اطراف کی سنجیدگی سے گھبراہٹ ہوا کرتی تھی۔ مجھے ہنسنا بولنا ا ور زندہ دلی سے جینا پسند تھا اور ہے۔ اس لاابالی فطرت وطبیعت کی وجہ سے میں میچور بہت دیر سے ہوئی۔ مجھے لگتاہے کہ میں میچور نہ ہوتی تو قلم سے اتنا پختہ ناتا نہ استوار ہوتا اور وہ کہتے ہیں نا کہ جو زندگی میں جتنا ہنستا ہے اسے اتنا ہی رونا پڑتا ہے، بہرحال زندگی دھوپ چھاؤں کا ہی نام ہے۔

اس شاہراہ زیست میں جہاں خلوص لٹانے والے ملتے ہیں وہیں پاؤں تلے کچلنے والوں اور زمین کھینچنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ بس پھر زندگی کے دھکے کھاکر انسان وقت کے ساتھ جینا سیکھ ہی لیتا ہے اور میں نے بھی سیکھ ہی لیا۔

بہن بھائیوں میں والدین کا چہیتا کون تھا؟

گھرمیں بڑی باجی ابو جان کی چہیتی رہیں اور دوسرے نمبر والی باجی امی جان کی اور بھائی کو اکلوتا ہونے کے و جہ سے ہمیشہ پروٹوکول ملا۔ اس دوران ہم بھی بڑھتے رہے اور یہ تو سچ ہے کہ والدین کی محبت شفقت کے بنا بچے رل جایا کرتے ہیں۔ ابو جان نے مجھے ہمیشہ سپورٹ کیا اور ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ مار تو صرف امی جان سے کھائی اور مجھے لگتاہے کہ والدین بچوں کی اصلاحکے لیے ہی مارتے یا سرزنش کیا کرتے ہیں زندگی کا رنگ ڈھنگ سکھاتے ہیں۔

’’لکھنے کا عمل کب شروع ہوا؟‘‘

’’ بچپن سے ہی مجھے ڈائجسٹ اور ناولز پڑھنے کا بھی بہت شوق تھا۔ لیکن پڑھائی کا ہرج نہ ہو اس لیے میری ماں ہم پر بلکہ مجھ پر سختی کیا کرتی رہتی تھیں۔ میرے بھائی لائبریری سے ناولز ایشو کرواکے لایا کرتے تھے۔ میں ان سے پہلے ہی وہ ناولز ختم کرلیا کرتی تھی۔ وہیں سے مجھے تحریک ملی اورمیرا مطالعہ وسیع ہوا۔ میں سمجھتی ہوں کہ جو جتنا اچھا قاری ہوگا وقت کے ساتھ ساتھ اپنے فطری شوق اور لگاؤ کے تحت اتناہی اچھا قلم کار بھی ہوگا۔

میں نے پہلی کہانی گدا گر کے نام سے لکھی، اس وقت میں ساتویں کلاس کی طالبہ تھی۔ میری باجی نے وہ کہانی پڑھی اور سب ہنسے کہ دیکھیں اس نے کہانی لکھی ہے۔ حوصلہ افزائی نہ ہونے کے باوجود میرا حوصلہ پست نہ ہوا۔ اور میں نے خاموشی سے لکھنا شروع کردیا۔

میٹرک تک میں شاعری بھی کرنے لگی۔ میں نے افسانہ لکھا تو سب نے کہا کہ ابھی اس کو دراز میں رکھ دو اور اپنی تعلیم پر توجہ دو اور میں نے ایسا ہی کیا اور جو کچھ لکھا کسی کو بتایا نہیں۔

اب یوں تھا کہ باقاعدہ طورپر کسی سے کچھ سیکھا نہ تھا۔ محض کتب کو گھول کر پیا تھا۔ اور میرے اعتماد کا عالم دیکھےے کہ کالج میں جاتے ہی میں نے ایک ناولٹ لکھا اور خواتین ڈائجسٹ میں بھیج دیا۔ میں نے نہ تو جوابی ایڈریس لکھا اور نہ ہی فون نمبر اور نہ ہی اپنا نام اور گھر میں سب کو کہہ دیاکہ اگلے ماہ خواتین ڈائجسٹ میں میری تحریر لگنے والی ہے۔ بھائی سے ڈائجسٹ منگوایا۔ مگر یہ کیا؟ میری تحریر تو چھپی ہی نہیں۔

دل ٹوٹ گیا مگر پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات عقل میں آئی کہ مدیران پہلے کوئی تحریر پڑھتے ہیں اور پھرکچھ وقت لگتاہے کہانی کی اشاعت میں۔ الحمدللہ پھر ایک وقت ایسا آیاکہ ادھر افسانہ کسی ادارے کو بھیجا ادھر اگلے ماہ شائع بھی ہوجاتا تھا اور اب بھی ایسا ہی ہے۔ یہ سب میرے پروردگار کا مجھ ناچیز پر خاص کرم اور احسان ہے۔

مجھے یاد ہے کہ جب گھر والوں کی طرف سے حوصلہ افزائی نہ ملی تو اپنے لکھنے کے بارے میں کسی کو بتاتی بھی نہیں تھی لیکن جب میرا پہلا افسانہ ’’ظلمت شب کی سحر‘‘ شائع ہوا تو سب نے بہت حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ لگتا ہی نہیں ہے کہ مصنفہ کی یہ پہلی تحریرہے۔ اتنا منجھا ہوا انداز تحریر ہے، الحمدللہ پہلا اعزا زیہ بھی ملا اور اعزازی کاپی بھی۔ اب تک میں پاکستان کے تمام معتبر اداروں میں لکھ چکی ہوں۔ ‘‘

’’ گھر والوں نے حوصلہ افزائی نہیںکی تو پھر کیسے ہمت بندھی اور اعتماد کے ساتھ اپنی تحریر کسی ادارے کو بھیجی؟‘‘

’’گھر والوں کی طرف سے حوصلہ ا فزائی نہ ہونے کے باوجود میں نے لکھنا نہیں چھوڑا پھر کیسے ہمت ہوئی تو اس کا جواب کچھ یوں ہے کہ 2016 میں، میں نے ایک افسانہ لکھا مگر افسانہ بھیجنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ بس لکھ کر اپنے پاس رکھنا تھا کہ اتفاق سے میری ہمسائی اس وقت آئی، جب میں لکھ رہی تھی اس نے پوچھا کہ آپ کیا لکھ رہی ہیں۔ میں نے یونہی جھجکتے ہوئے اسے بتایا کہ بس یونہی کبھی کبھار لکھ لیتی ہوں، وہ بندی ڈائجسٹ کی رسیا تھی اس نے مجھ سے اجازت لے کر وہ افسانہ پڑھنا شروع کردیا۔ اس کے بعد وہ بضد ہوگئی کہ مجھے اپنی تحریر کسی ادارے کو بھیجنا چاہیے۔ اسی کے اصرار پرمیں نے اپنی پہلی تحریر ڈائجسٹ میں بھیجی اور وہ دن اور آج کا دن یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

سچ کہوں تو مجھے کبھی کسی نے لکھنے سے منع نہیں کیا مگر کسی نے حوصلہ افزائی بھی نہیں کی۔

خیر . شروعات میں میں نے ایک ساتھ تین افسانے لکھ کربھیج دیے۔ کچھ عرصے کے بعد مجھے امتل آپی کی کال آئی تو انہوں نے میرے ایک افسانے کی بہت تعریف کی۔ اس وقت عنوان اور کہانی دونوں میرے ذہن سے محو ہوچکے تھے۔ میں نے بہت بے چینی سے اس تحریر کا انتظار کیا کہ کیا شائع ہوتاہے۔ اور کس تحریر پر آ پانے مجھے داددی تھی۔ جب افسانہ شائع ہوا تو اس کا عنوان ’’سودو زیاں کا حساب‘‘ وہ پڑھ کر میں ایک لمحے کے لیے یہ تک بھول گئی کہ یہ میری تحریرہے۔‘‘

’’موضوعات کے لیے بہت سوچنا پڑتا ہے کیا؟‘‘

’’میرے پاس الحمد للہ متنوع موضوعات ہیں لیکن شروع میں، میں نے گھریلو موضوعات پر لکھا۔ اس کے بعد انداز بدلا اور مزاح لکھا۔ قارئین کے خطوط سے اندازہ ہو اکہ انہیں میری تحریریں پسند آتی ہیں۔

مخصوص فکر کے لوگوں کی سوچ تھی کہ شاید میں مزید موضوعات پر نہیں لکھ سکتی۔ پھر میں نے جادو اور خوف پر بھی قسط وار ناول لکھا جسے سب نے بہت پسند کیا۔ اس کے بعد میرا دل چاہا کہ کچھ مار دھاڑ ایکشن لکھوں تو میں نے ’’ہارر‘‘ کے نام سے ناول لکھا۔ اس ناول کی منظر نگاری پر مجھے بہت ستائش ملی۔ پھر لوگوں نے سمجھا کہ شاید میں رومانٹک نہیں لکھ سکتی تو میں نے قلم کا رخ موڑا اور مکمل طورپر رومانوی ناول’’میرے سکندر‘‘ لکھا۔ میرے اللہ تعالیٰ کا مجھ پر خاص کرم ہے کہ میں جدھر قلم کارخ موڑ دیتی ہوں وہی فضابن جاتی ہے الحمد للہ۔ ‘‘

’’اب تک کتنے شاہکار شائع ہوچکے ہیں؟‘‘

’’اب تک میری چھ کتابیں آچکی ہیں۔ آخری کتاب ’’اباشی‘‘ جس کا موضوع پراسراریت پرمبنی ہے اسے بہت سراہاگیا۔میری جو کتابیں شائع ہوئی ہیں ان میں ’’میرا عتبار رکھنا‘‘ ،’’عشق پہچان‘‘، ’’سرفروش‘‘، ’’فصیل محبت‘‘ اور ’’اباشی‘‘ شامل ہیں۔ ’’میرے سکندر‘‘ اور ’’بارود‘‘ بھی ان شائ اللہ جلد مارکیٹ میں آجائیں گی۔

’’لکھنے کی صلاحیت خداداد ہوتی ہے۔ خوشی ہوتی ہے کہ میں ایک تخلیق کار ہوں؟‘‘

بہت خوشی ہوتی ہے۔ جب بچپن میں مجھے کتاب سے اتنی محبت تھی۔ قلم کا کریز تھا اور کاغذ کی مہک مجھے اپنی جانب مائل کرتی تھی تو یہ کیونکر ممکن نہ ہوتا کہ میں تخلیق کار نہ ہوتی۔ جب بھی کچھ لکھتی ہوں تو اپنے آپ کو تازہ دم محسو س کرتی ہوں تھکن کا احساس بالکل نہیں ہوتا۔ سچ کہوں تو میں اس درجہ زود و رنج واقع ہوئی ہوں کہ اگر قلم نہ اٹھاتی تو نہ جانے کب کی ریزہ ریزہ ہوکر بکھر چکی ہوتی۔ میری ہر آہ پر جب کوئی واہ کہتا ہے تو مجھے بہت حیرت ہوتی ہے اور جب مجھے اعزاز یہ ملنے لگا تو ایک دن میں نے سوچا کہ دکھوں کی بھی قیمت ہوا کرتی ہے۔ میرا اپنا ہی مقولہ ہے کہ جتنا بڑا درد اتنی ہی بڑی تخلیق. میرے جینے کا اصل محرک ہی لکھناہے، ہر تحریر کے بعد قارئین کی جانب سے ملنے والی داد اور پذیرائی کا کوئی بھی مول نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے اب میری خواہش ہے کہ کچھ ایسا اصلاحی ادب قارئین کو پیش کروں کہ وہ مجھے اچھے لفظوں میں یاد رکھیں۔

’’آپ کو اپنی تحریر میں سب سے اچھی بات کیا لگتی ہے؟ اور کس چیز پر زیادہ توجہ دیتی ہیں؟‘‘

’’آپ نے پوچھا کہ مجھے اپنی تحریر میں کیا بات اچھی لگتی ہے۔ تو آپ کوبتاؤں کہ مجھے منظر نگاری پر بہت توجہ دینی پڑتی ہے۔ لیکن ڈائیلاگ خود بخود ذہن میں آتے چلے جاتے ہیں۔ بس میرے اللہ کی دین ہے۔‘‘

’’پہلے تو کوئی حوصلہ افزائی نہیں کرتا تھا۔ اب کیا صورت حال ہے گھرمیں اور آپ کی سسرال میں؟‘‘

’’جی۔ اب تو سب ہی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ بہت زیادہ سراہتے بھی ہیں۔ اور میری تحریروں کو شوق سے پڑھتے بھی ہیں۔ میری سسرال میں میری ساس اور میری نندیں بہت پسند کرتی ہیں۔ میری ایک بڑی نند تو باقاعدہ اپنی رائے بھی دیتی ہیں۔ میری چھوٹی نند کو بھی پڑھنے کا بہت شوق ہے انہیں بھی میری تحریریں پسند آتی ہیں۔ اس طرح میری اپنی بہن ’’آصفہ‘‘ بھی مجھے ہمیشہ سپورٹ کرتی ہے اور میری تحریر پر دل کھول کر داد دیتی ہے۔ اور یوں میرا دل مزید بہت کچھ لکھنے کو چاہتا ہے۔

دوستوں میں میری دوست شازیہ نوید، جوکہ میری یونیورسٹی کی دوست ہے مجھے بہت سپورٹ کرتی ہے۔ اور لازمی اپنی رائے دیتی ہے۔ میری زیادہ تر دوست رائٹر خواتین ہی ہیں۔ نفیسہ سعید آپی کو تو سب ہی جانتے ہیں بہت محبت سے پیش آتی ہیں۔ اور مجھ پر اللہ کا خاص کرم ہے کہ میری سینئرز رائٹرز بھی میری تحریر کو سراہتی ہیں جیسے نگہت عبداللہ آپی، عنیزہ سید آپی، عالیہ بخاری آپی. یہ وہ نام ہیں جن کو پڑھ کر لکھناسیکھا۔ ان کی طر ف سے ستائش میرے لیے سند کا درجہ رکھتی ہے۔ میری دوست صائمہ نور اتنی زیادہ تعریف کرتی ہے کہ مجھے شرمندگی ہونے لگتی ہے۔ کیونکہ توقعات وابستہ ہوجاتی ہیں اور اانسان کو اس پر پورا اترنا پڑتاہے۔ اس معاملے میں اللہ نے میرا دامن محبتوں سے بھردیاہے۔ میری دوست فاطمہ شیرانی بھی تعریف کرنے والوں میں شامل ہیں۔‘‘

’’آپ ہوں یا دیگر رائٹرز۔ ’’لڑکیاں‘‘ بڑی پرفیکٹ دکھاتی ہیں۔ یعنی آئیڈیل، ایسا کیوں؟‘‘

’’کہانیوں کا ایک پہلو اصلاح کرنابھی ہوتا ہے۔ کہانیوں کے تمام کردار ظاہرہے زمینی ہوتے ہیں۔ تو ان میں اچھائیاں اوربرائیاں دونوں ہی پائی جاتی ہیں۔ اور چونکہ بعض اوقات اصلاح کرنا مقصود ہوتا ہے تو کسی کردار کوبرا بھی دکھایا جاتاہے۔ جہاں تک آئیڈیل بناکر پیش کرنے کی بات ہے تو میری کہانیوں میں ایسانہیں ہوتا ۔ حال ہی میں شائع ہونے والی میری مزاحیہ تحریر جس کا نام ’’جیا دل دیا‘‘ میں لڑکی کوبے حد پھوہڑ دکھایاگیاہے۔ اور کسی کہانی میں سگھڑ بھی، اسی طرح ضروری نہیں کہ ہر کہانی میں ساس نندوں کو ہی برابناکر پیش کیاجائے میری اپنی کسی کہانی میں بھابھی کے کردار میں کجی رکھی گئی۔ یہ سب کہانی کے کردار ہیں۔ جن میں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ اب تو خیر میں نے موضوعات ہی بدل دیے ہیں۔‘‘

’’کس موضوع پر لکھنے میں زیادہ مزہ آتاہے؟‘‘

’’اس کا جواب دینا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ موڈ پر منحصر ہے میں نے جب ٹھان لی کہ مجھے تھرلر ایکشن ناول لکھنا ہے تو بارود کے جہانگیر نے جنم لیا۔ جب چاہا کہ ایک غیرمرئی قوتوں کی مالک لڑکی پر لکھنا ہے تو اباشی منظر پر آگئی۔ اسی طرح مزاح لکھا تو جیا کا کردار تخلیق کیا اور درشہوار جیسا کردار جس پر جادو کرواکے اس پر زندگی کے دروازے تنگ کردیے گئے. یہ سب کردار لکھتے ہوئے مجھے بہت اچھا لگا اور یہ سب کردار میرے دل کے پاس ہیں اور الحمدللہ میں ہر طرح کے موضوعات پر لکھ لیتی ہوں۔ مجھے لگتاہے کہ سادہ عام فہم گھریلو کہانیاں لکھتے ہوئے مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ اور مجھے یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہورہی ہے کہ میری کتب پر یونیورسٹی میں مقالہ لکھا جارہا ہے۔ ‘‘

’’اچھا گڈ . کس کتاب پر؟‘‘

’’سرفروش‘‘ اور عشق ہیجاں پر اور الف کتاب عمیرہ احمد پیج پر ہزاروں اسکرپٹ میں میرا تیسری پوزیشن پر تھا۔

’’اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میںبتائیں، بچے کتنے ہیں اور شوہر کے انتقال کے بعد زندگی کیسی گزری؟‘‘

’’ازدواجی زندگی کے بارے میں کیابتاؤں۔ میری زندگی کا سب سے بڑا خوف ہی یہی تھا کہ میں اپنے مجازی خدا سکندر کو کہیں کھونہ دوں۔ پھر 2019 سات اپریل کو اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمیشہ کے لیے اس خوف سے آزاد کردیا۔ ‘‘

’’کیوں. ایسا کیوں خوف بیٹھا آپ کے اندر؟‘‘

’’شاید سکندر سے میری بے انتہا محبت کی وجہ سے. اور میں نے ان کے بعد یہ جانا کہ محبت کب مرتی ہے۔ نہیں مرتی . یہ تو ہمارے پیاروں کے جانے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے اور زیادہ شدت کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔ یہ محبت روح میں پنجے گاڑے رہتی ہے۔ کچھ روحیں عالم ارواح سے ایک دوسرے سے شناسا ہوتی ہیں سکندر اور میرا ساتھ بھی بالکل ایسا ہی تھا۔ جہاں لفظوں سے زیادہ خاموشی بولتی تھی۔ میری خواہش ہے کہ میں ان پر کتاب لکھوں اور اس

کتاب میں ان کے بارے میں اتنالکھوں اتنا لکھوں کہ ان کو جاننے کے لیے ہر ذی روح تڑپ اٹھے۔ ہاں مگر پھربھی کہیں کچھ ایسا ضرور ہو جو صرف میرے اور ان کے بیچ ہو۔ فقط ہمارے بیچ ہو۔

اور کیا ستم ہے کہ ہمارے پیارے ہمارے سامنے چلے جاتے ہیں اور ہم ان کو روک بھی نہیں سکتے۔ سکندر ماشائ اللہ بہ ظاہر صحت مند تھے۔ انہیں کسی بھی قسم کی کوئی بیماری نہیںتھی۔ مگر ہارٹ اٹیک ان کی جان لینے کا سبب بنا۔ میرے مجازی خدا کا قہقہہ اتنا پیارا ہوتاتھا اتنا خوب صورت ہوتا تھا کہ بے ساختہ ماشائ اللہ نکلتا تھا منہ سے۔ ان کے بعدمیں اور میرے بچے بکھر گئے. پھر. مجھے ادراک ہوا کہ میرے بچوں کو وہ دکھ نہیںجھیلنا چاہیے جو میں اکیلی جھیل رہی ہوں، میں ساری رات کبھی جاگتی کبھی سوتی۔ خواب میں مسلسل ملاقات کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بھی میرے اللہ تعالیٰ کا احسان ہے وہ نہ چاہے تو وہ مجھے خواب میں نہ ملیں۔

سکندر پانچ وقت کے نمازی تھے اور تسبیح ان کے ہاتھوں میں رہتی تھی۔ وہ آخری دنوں میں بہت کمزور ہوگئے تھے کہ زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتے تھے۔ مگر پھر بھی نماز ترک نہیں کی۔ سکندر سے میرا رشتہ اتنا گہرا تھا کہ میں ان کی آنکھ کا اشارہ سمجھ جاتی تھی۔ یہ ناتا بھی رب العالمین کی منشا تھی اور اس کے اس دنیا میں ٹوٹنے میں بھی اس کی رضا شامل ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی رضامیں راضی ہوں۔ وہ جنت میں ہمیں ایک دوسرے سے ملادے گا۔ ایک بات میں یہاں ضرو رکہنا چاہوں گی کہ اس مشکل وقت میں جہاں میرے خاندان ، میری فیملی نے میرا ساتھ دیا۔ وہیں ادب سے منسلک سب ساتھیوں نے، مدیران نے تعزیت کی، فون مسلسل بجتارہا۔

امتل آپی، روبینہ آپی، روبی آپی، عنیزہ سید، عالیہ بخاری، نگہت عبداللہ، فاخرہ جبین. سب نے بہت حوصلہ دیا اور یہ آپ سب کی محبت تھی کہ میں تنکا تنکا خود کو سمیٹ سکی۔ اور مجھے احساس ہوا کہ میں نے اتنے سال لکھ کر یہی پیار کمایاہے۔

اس مشکل وقت میں میرے ابو جان اور میرے بھائی نے میرا بھرپور ساتھ دیا اور وہی میری کفالت کررہے ہیں۔ کچھ دن پہلے ابو جان نے بھی ساتھ چھوڑ دیا وہ بھی سکند رکے پاس چلے گئے۔ سکندر کے بعد ابو جی کا زمینی آسرا تھا اب فقط اللہ تعالیٰ کا ہے۔ میری بڑی بہن نے میرے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھا وہ بنا کہے ان کے لیے بہت کچھ کرتی ہے۔

’’اللہ تعالیٰ آپ کو حوصلہ اور ہمت دے اور آپ اپنے بچوں کے سر پر سلامت رہے۔ فارغ اوقات میں کیا کرتی ہیں؟‘‘

’’فارغ اوقات میں پڑھتی ہوں یا پھر پرانے ڈرامے دیکھتی ہوں۔ بچوں کے ساتھ وقت گزارتی ہوں۔ میرے سب بچے ابھی چھوٹے چھوٹے ہیں، زیادہ تر وقت ان کی دیکھ بھال میں ہی صرف ہوتاہے۔ اور جو وقت ملتاہے میری کوشش ہوتی ہے کچھ لکھوں پڑھوں، مجھے میل رائٹرز کا انداز بیاں زیادہ پسند ہے۔ ایم اے راحت، انور علیگی، احمد اقبال ، محی الدین نواب ، محمود احمد مودی، ظاہر جاوید مغل صاحب کو زیادہ شوق سے پڑھتی ہوں۔ ‘‘

’’بہت شکریہ قرۃ العین آپ نے انٹرویو دیا اور آخرمیں کچھ کہنا چاہیں۔

’’میں ایک بار پھر سے امتل آپی اور آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے یاد رکھا۔

قرۃ العین سکندر کے ماشائ اللہ سے چاربچے ہیں۔ بڑابیٹا محمد قاسم ماشائ اللہ پندرہ سال کا ہے اور وہ 6thکلا س کا طالب علم ہے۔ دوسرے نمبر پربیٹی شائستہ سکندر جو دس سال کی ہے اور 4thکلاس کی طالبہ ہے پھر بیٹی فاطمہ سکندر کلاس ون میں ہے اورسب سے چھوٹی بیٹی جو کہ پانچ سال کی ہے۔ زینب سکندر وہ نرسری میں پڑھتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ہم نے قرۃ العین سکندر سے اجازت چاہی۔ اس شکریہ کے ساتھ کہ انہوں نے ہمیں وقت دیا۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں