جبیں چیمہ – شاہین رشید

انٹرویو 82

آج ہم آپ کی ملاقات جس شخصیت سے کرارہے ہیں۔ ان کا نام ہے جبیں چیمہ بہت اچھی مصنفہ تو ہیں ہی، اس کے ساتھ ساتھ نہایت بااخلاق اور شگفتہ مزاج بھی ہیں۔ انکساری ان کے مزاج کا حصہ ہے۔ قدرت نے انہیں ہر طرح سے نوازا ہے۔ اس کے باوجود غرور وتکبر انہیں چھوکر نہیں گزرا بہت خوش گفتار ہیں جتنا اچھا لکھتی ہیں، اتنا ہی اچھا بولتی ہیں۔ جب بھی فون پر بات ہوئی۔ بات سے بات نکلتی گئی۔ وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا۔ جبیں کی سب سے بڑی خوبی ان کی مثبت سوچ ہے۔ وہ لکھتے ہوئے مذہبی اور معاشرتی اقدار کو مد نظر رکھتی ہیں۔ خصوصاً دیہی زندگی پر بہت اچھا لکھتی ہیں۔ آیئے ملتے ہیں جبیں چیمہ سے ۔

’’ کیسے مزاج ہیں؟‘‘

’’الحمداللہ .!‘‘

’’اپنے اور اپنے فیملی بیک گراؤنڈ کے بارے میں بتایئے.؟‘‘

’’جی. ضرور. میرے والد چوہدری اسلم چیمہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہائش پذیر تھے۔ تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ میں یہ گاؤں تھا۔ وہ اپنے علاقے کے پہلے گریجویٹ تھے اور اس مسجد کے معماروں میں شامل تھے جس کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا ۔

’’کہ مسجد‘‘ تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

میرے والد اپنے علاقے کی جانی پہچانی شخصیت تھے۔ وہ اپنے علاقے کے دیگر زمین داروں سے بہت مختلف تھے۔ وہ ایک ایسے زمین دار تھے جن کا دل ایمان کی حرارت سے سرشار تھا. تو اس گھرانے میں میری پیدائش ہوئی۔ میرے والد تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن تھے۔ اس لیے دین اور ملت کی محبت میری گھٹی میں تھی۔

ہم پانچ بہن بھائی ہیں. میرے بڑے بھائی جسٹس افتخار احمد چیمہ ’’ جو ہائی کورٹ سے ریٹائرڈ ہوئے تو حامد ناصر چٹھہ کے مقابلے میں الیکشن لڑا اور 30ہزار وٹوں سے انہیں شکست دی وہ دس سال تک ’’ ایم این اے‘ ‘ رہے ۔ان کے دو بیٹے ہیں عثمان اور رضوان۔

ان کے بعد میری بڑی بہن ’’ باجی نسیم‘‘ ہیں جو کہ بیرسٹر ہیں اور ان کی ایک ہی بیٹی ہے سلمیٰ اور وہ بھی بیرسٹر ہے اور اس کے میاں بھی بیرسٹر ہیں۔ اور میری یہ بھانجی اپنی ایک بیٹی اور بیٹے کے ساتھ لندن میں ہی رہائش پذیر ہے۔

تیسرا نمبر میراہے۔ میں نے اسی چھوٹے سے گاؤں میں آنکھ کھولی جہاں میری شادی ہونے تک بجلی تک نہیں تھی۔ سڑکوں کانام ونشان تک نہ تھا۔ شہر تک رسائی کا ذریعہ ریل گاڑی تھی ۔ہائی اسکول چونکہ وزیرآباد میں تھا تو میں چھٹی جماعت سے روزانہ ایک میل پیدل چل کر گاڑی لیتی. اور واپسی پربھی گاڑی جو گاؤں سے ایک میل دور ’منظور والی ‘اسٹیشن پر رکتی تھی وہاں سے پیدل گھر آتی. گرمی ہو یا سردی یہ روز کا معمول تھا۔

کبھی کبھار ایسا ہوتا تھا کہ مجھے اسٹیشن تک چھوڑنے والی ’’ مائی‘‘ پیچھے رہ جاتی تھی میرے بیگ سمیت اور میں ٹرین میں بیٹھ کر اسکول چلی جاتی تھی۔ اور وہاں کلاس ٹیچر ہوم ورک کی کاپی چیک کرنے کے لیے مجھ سے مانگتیںتو سب ہنسنے لگتے تھے کہ یہ خود تو آگئی ہے مگربیک نہیں لائی.

خیر میں میٹرک کے بعد لاہور کالج چلی گئی. جہاں سے میں نے ’’ بی اے‘‘ کیا ایم ایم پولیٹیکل سائنس پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ اور پھر ایم اے کے فوراً بعد میری شادی ہوگئی۔

میرے میاں صاحب کا تعلق ’’پھرے والا‘‘ سے ہے جہاں ان کے والد کو کئی مربع زمین ملی تھی . وہ سرگودھا کو چھوڑ کر وہیں آباد ہوگئے تھے. یہ میرے بھائی جان کے دوست تھے۔ اور ان دنوں مانچسٹر یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کررہے تھے جبکہ میرے بھائی لندن میں بیرسٹری کی تعلیم حاصل کررہے تھے۔

میرے میاں صاحب کانام ڈاکٹر فیض احمد ہے. میٹرک، ایف ایس سی ، بی ایس آنرز اور ایم ایس سی میں گولڈ میڈلسٹ ہیں.

انہوںنے اندرون ملک اور بیرون ملک کی یونیورسٹیوں میں پڑھایا اور ان کے بہت سے پیپرز بھی شائع ہوئے۔ جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

ہماری شادی 1977میں ہوئی. ان دنوں یہ قائد اعظم یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔ باہر سے پی ایچ ڈی کرکے آئے تھے اور کافی ماڈرن خیالات کے تھے. شادی کے چند ماہ کے بعد ہی ہم لیبیا کے شہر طرابلس چلے گئے. وہاں ہم آٹھ سال رہے اور ہمارے تینوں بچے وہیں پیدا ہوئے ۔

ہمارا بڑا بیٹا سعد احمد ’’ فارن سروس‘‘ میں ہے۔ اور گزشتہ پانچ سال سے نیویارک میں ’’ یو این او‘‘ میں بطور کونسلر فرائض انجام دے رہاہے. بہت قابل ہے ہمارابیٹا! بہت محنتی اور لائق ہے۔ اس کے دو بیٹے ’’ حسین‘‘ اور ’’مصطفی‘‘ ہےں۔ اور ایک بیٹی ’’ ایمن‘‘ ہے۔

سعد کے بعد ’’ ملیحہ احمد‘‘ ہے جو ڈاکٹر ہے اور آج کل یونیورسٹی آف امریکہ سے ’’ نیفرد لوجی‘‘ میں فیلو شپ کررہی ہے۔ اس کے میاں وسیم سجاد کارڈیالوجسٹ ہیں اور بہت قابل ہیں۔ ان کی تین بیٹیاں ہیں۔ رانیہ وسیم، مومنہ وسیم، اور رحمائ وسیم . ان بچوں میں ہماری جان ہے.

میری بیٹی کے بعد میرا لاڈلا بیٹا اسامہ احمد تھا جو کہ تیس سال کی عمر میں چترال میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر تعینات تھا۔ تعیناتی سے کچھ ماہ پہلے ہم نے اس کی شادی کی. چترال کے ڈی سی ہاؤس میں اس نے اپنی بیٹی ’’ماہ رخ‘‘ کی ولادت کی خبر سنی۔ یہ واحد خوشی تھی جو اس نے اتنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر سنی۔

وہ چودہ ماہ وہاں ڈپٹی کمشنر رہا اور چودہ ماہ میں اس نے چودہ سالوں والاکام کیا۔ دن کو دن اور رات کو رات نہیں سمجھا۔ ٹوٹے پھوٹے راستوں پر چل کر بروقت لوگوں کو مد د پہنچانے پر لوگ حیران رہ جاتے۔ اس نے چترال کے لوگوں کے دل میں ایسا گھر کیا کہ وہ اسے اپنا محسن سمجھنے لگے۔ پھر ان ہی لوگوں کی فلاح کے لیے کسی ایمبیسی کے ساتھ ایک میٹنگ رکھی ہوئی تھی اور اس میٹنگ کے لیے آتے ہوئے ہماری بہت ہی پیاری بہو آمنہ اورمیرے جگر کا ٹکڑا ماہ رخ سمیت شہادت پائی ’’ایئر کریش‘‘ یہ وہ حادثہ ہے جس نے ہماری زندگی سے زندگی نچوڑ لی۔ (پی آئی اے کا حادثہ 2018اسی طیارے میں جنید جمشید بھی سفر کررہے تھے) جانے کیسے اب تک زندہ ہیں۔

میرے بعد میرے بھائی ڈاکٹر نثار احمد چیمہ ہیں جو ڈی جی ہیلتھ کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے اور آج کل ایم این اے ہیں۔ ان کی ایک بیٹی اور تین بیٹے ہیں۔

اور میرا سب سے چھوٹا بھائی ذوالفقار احمد چیمہ ہے جو آئی جی پولیس رہ چکاہے ایکسپریس اخبار میں بدھ کے دن کالم لکھتا ہے۔

اور . ہاں مجھے ایک بات یاد آئی کہ جب میں نے اسامہ کا رشتہ کرنا تھا تو کسی نے ایک بریگیڈیئر صاحب کی بیٹی کا بتایا ۔میری ان سے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں کی ہیں.؟ اور آپ کے بھائی کیا کرتے ہیں؟ تو میں نے بتایا کہ میرے بڑے بھائی ہائی کورٹ کے جج تھے، آج کل ایم این اے ہیں۔ دوسرے بھائی ڈی جی ہیلتھ ہیں اور تیسرے بھائی آئی جی پولیس ہیں۔ میرے میاں پی ایچ ڈی ہیں اور NUSTیونیورسٹی میں میتھس کے ٹیچر ہیں ۔میرے دونوں بیٹوں نے سی ایس ایس کیا ہواہے۔ اور بیٹی ڈاکٹر ہے۔ تو جواب آیا کہ ’’ بھئی ہم نہ توبڑے عہدوں کے رعب میں آتے ہیں اور نہ ہی ڈگریوں کے رعب میں آتے ہیں.‘‘ تو میں نے پوچھا۔ ’’ کہ اگر کسی کے پاس عہدہ ہے تو کیا وہ کسی کے پوچھنے پر بھی نہ بتائے کہ وہ کیا کرتا ہے۔‘‘

بات کسی پر رعب ڈالنے کی نہیں۔ بلکہ ہمیں زندگی کے اسٹیج پر جو کردار کرنے کے لیے دیے گئے انہوںنے یہ یہ وردیاں پہن رکھی تھیں۔ ورنہ جب گیا سکندر دنیا سے تو دونوں ہاتھ خالی تھے۔ یہ تھا ہمارا خاندانی بیک گراؤنڈ۔

میرے چھوٹے بھائی کی ساری زندگی انتہائی کٹھن اور مصروف گزری ۔جس علاقے میں گئے جرائم کو جھٹ سے نکال پھینکا۔ ایسے میں اپنے لیے وقت ہی نہیں ملا کہ کوئی آشیانہ بنتا جس میں رونق دنیا کا کوئی سامان ہوتا ۔ہمارے والدین اسی حسرت میں دنیا سے چلے گئے۔ میر ایہ بھائی قوم کا سرمایہ ہے۔ اللہ اسے سلامت رکھے۔

’’بہت تفصیل سے آپ نے بتایا۔بہت اچھا لگا۔ اب آیئے لکھنے کی طرف. کب سے لکھنا شروع کیا ۔ کس عمر سے؟‘‘

’’ مجھے بچپن سے ہی اردو لٹریچر سے بہت لگاؤ تھا۔ چھٹی جماعت میں تھی تو اے آر خاتون اور نسیم حجازی کو پڑھتی تھی بلکہ پڑھ چکی تھی۔ میری بڑی بہن آمنہ میرے لیے لائبریری سے کتابیں منگواتی تھیں میں ٹرین کے سفر میں یا ویٹنگ روم میں بیٹھ کر پڑھتی رہتی تھی۔ اس کے علاوہ ’’ ایم اسلم‘‘ کے ناول منگواتی تھی جس میں لیڈی ہملٹن کے جمپر کا اکثر ذکر ملتاہے۔ ’’ حور‘‘ اور ’’زیب النسائ ‘‘میں ٹرین کے سفر میں ہی پڑھ کر ختم کردیا کرتی تھی۔ ان رسالوں میں ایک رائٹر ’’ کشور عمر‘‘ بہت خوب صورت لکھا کرتی تھیں اور ان کی تحریروں میں کوئی نہ کوئی مقصد ضرور پوشیدہ ہوتاتھا اور مجھے ایسی ہی بامقصد تحریریں پسند تھیں۔ رومانس والی تحریریں پسند نہیں تھیں۔ ذرا اور بڑی ہوئی تو رضیہ بٹ کو پڑھا۔ ان کے ناولوں پر فلمیں بھی بنیں۔ مگر وہ صرف عشق ومحبت کے قصے تھے۔ کسی خاص مقصد کے تحت نہیں لکھے گئے تھے۔

وقت کے ساتھ ساتھ باقی ادیبوں کو بھی پڑھا جن میں خدیجہ مستور، حاجرہ مسرور ، احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد بانو قدسیہ سے لے کر عصمت چغتائی کو بھی پڑھا۔ منٹو اور بیدی اور کرشن چندر کو بھی پڑھا۔ مگر خود نہ ایسے افسانے لکھے اور اگر کچھ لکھا بھی تو آگے بھیجنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ساتویں آٹھویں جماعت سے لکھنا شروع کیا لیکن کسی کو بتایا نہیں حتیٰ کہ والدین کو بھی نہیں۔ ‘‘

’’ پھر. کب خیال آیا کہ لکھ کر چھپوانا بھی چاہیے؟‘‘

’’ ہاں مجھے یاد ہے کہ جب میں ایف اے میں تھی تو امتحان میں اردو کے پرچے میں’ آپ بیتی‘‘ لکھنے کو کہاگیا۔ میں نے ایک مظلوم لڑکی کی ایسی دردناک آپ بیتی لکھی کہ جس کی سوتیلی ماں اس کے سر پر ابلتا ہوا پانی ڈال دیتی ہے اور اس کے سر کی جلد کے ساتھ اس کے بال بھی اتر جاتے ہیں۔

تو مجھے یاد ہے کہ ’’ مس زاہدہ‘‘ میرا پرچہ سینے سے لگائے ہمارے چاروں سیکشنوں میں گئیں اور وہاں آپ بیتی پڑھ کر سنائی. میں تو امتحان دے کر اپنے گاؤں چلی گئی تھی۔ وہ مجھے ڈھونڈتی رہیں ۔جب میں ملی اورانہیں بتایا کہ یہ محض افسانہ تھا تو وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہ تھیں. اور یہی کہتی رہیں کہ ’’ صبر کرنا ہی ٹھیک ہے۔‘‘

خیر، جب میں ایم اے کی طالبہ تھی تو میں نے پہلا افسانہ لکھا اور خلاف معمول اسے میز پر ہی چھوڑ کر آگئی۔ تو میری دوست ڈاکٹر ام کلثوم جو کہ ’’پکار‘‘ میگزین کی ایڈیٹر تھیں انہوں نے میرا افسانہ اس میں چھاپ دیا.( یہ طالبات کا رسالہ ہے اور آج بھی یہ رسالہ اسلامی جمیعت طالبات نکالتی ہیں) اس کے بعد جو کچھ بھی لکھا ،اپنے لیے ہی لکھا. اور کبھی کہیں نہیں بھیجا. آپ کا یہ سوال کہ کب چھپوانے کا خیال آیا ۔ تو آج سے بیس اکیس سال پہلے ایک افسانہ لکھا اور ’’بتول‘‘ میگزین میں بھیجا ۔وہ شائع ہوگیا۔ اور پھر لکھنے کا سلسلہ چل نکلا۔‘‘

’’ پہلا ناول . رسپانس کیا ملا؟‘‘

’’ عمرا ںلنگھیاں‘‘ میرا پہلا ناول تھا اور یہ ایک ایسی بچی کی کہانی ہے جو اپنے ایک شاطر استاد کی باتوں میں آکر گھر والوں سے چوری نکاح کرلیتی ہے۔ گھر والے چونکہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں تو وہ اس کی شادی کی تاریخ مقرر کردیتے ہیں اور وہ مہندی والے دن گھر سے بھاگ جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کا درد ناک انجام ہوتاہے۔ یہ ناول میں نے نوعمر لڑکیوں کے لیے لکھا ۔ اور اس کو چھپوانے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس ناول کے چھپوانے میں میری دوست فرازنہ چیمہ کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہ اس وقت چھپا جب میں اسامہ، اس کی بیوی اور بچی کے بعد ڈپریشن کی حالت میں امریکہ میں اپنے بیٹے اور بیٹی کے پاس تھی اور وہیں مجھے اس ناول کی کاپیاں ملیں۔

اس کے بعد میں نے اپنے پیارے بیٹے ’’ اسامہ‘‘ شہید کی یادداشتیں لکھیں۔ ’’ اے میرے اسامہ‘‘ کے نام سے جو سراسر میرے ٹوٹے پھوٹے دل کے نوحے تھے۔ جو ہروقت اس کے لیے تڑپتا تھا اور سارا وقت میری آنکھوں میں اس کی یاد میں آنسو بہتے رہتے تھے۔ اس کتاب کو جس جس نے پڑھا وہ روئے بنا نہیں رہا۔ حتیٰ کہ جب میں نے یہ کتاب ’’امتل‘‘ کو بھیجی تو اس نے مدت تک اسے ہاتھ نہیں لگایا۔ اسے اتنا دکھ تھا۔

میری تیسری کتاب ’’ دوام زندگی‘‘ ہے، یہ میرے افسانوں کا مجموعہ ہے جو میں نے 2000سے 2018تک کے درمیان لکھے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے خواتین ڈائجسٹ میں ایک افسانہ لکھا۔ ’’ ایک تھی ریشم‘‘ وہ شائع ہوگیا۔ تو پھر میں نے میری آپا لکھا اور پھرا یک ناولٹ ’’ بہ نوک خارمی ‘‘ لکھا۔

’’ آپ نے خواتین ڈائجسٹ اور شعاع میں بہت کم لکھا ۔کیوں؟‘‘

’’ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ میں ’’ رومانس ‘‘ نہیں لکھ سکتی۔ دیگر رائٹرز کی جو تحریریں چھپتی ہیں وہ بڑی زبردست ہوتی ہیں۔ ڈائیلاگ بھی ہوتے ہیں اور بہت اچھے ہوتے ہیں ،مگر کیا کروں کہ میری فکر میری سوچ، امت مسلمہ سے ہٹتی ہی نہیں ہے ،خاص طورپر 9/11کے بعد مسلمانوں پر جو گزری، خواہ وہ افغانستان ہو شام ہو، عراق ہو، یمن ہو یا لیبیا۔ مجھے ان عورتوں اور بچوں کی تکلیفوں ،مظالم اور سخت دل مسلمانوں کی بے حسی اور چشم پوشی آٹھ آٹھ آنسو رلاتی ہے۔ میں نے کئی سال تک ان پر لکھا۔ ‘‘

’’ آج کل کس میگزین میں زیادہ لکھ رہی ہیں۔ اور آئیڈیاز کہاں سے لیتی ہیں؟‘‘

آج کل ’’ عفت ‘‘ میگزین میں ’’ مثالی ماں‘‘ کے عنوان سے میری کہانیاں مسلسل شائع ہورہی ہیں۔ اور آئیڈیاز کہاں سے آتے ہیں تو اخبار کی کوئی چھوٹی سی خبر، کوئی واقعہ، کسی سے سنی ہوئی کوئی بات . دل کو لگ جاتی ہے تو تخلیق کا عمل شروع ہوجاتاہے۔ اور آئیڈیا کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ اس کے لیے کوئی وقت یا کوئی جگہ مخصوص نہیں ہے۔ اور جب آئیڈیا آتا ہے تو چند دن اس پر سوچ بچار کرتی ہوں اور پھر لکھنا شروع کرتی ہوں. اور جو آئیڈیا ذہن میں آتا ہے تو پھر ماحول، کرداروں کے اور اس جگہ کے کلچر کو ذہن میں رکھ کر لکھنا شروع کرتی ہوں تو پھر لکھتی ہی چلی جاتی ہوں۔ ‘‘

’’ کوئی ایسی کہانی جس کے لیے آپ کاخیال تھا کہ بہت ہٹ ہوگی مگر نہیں ہوئی۔ اور عام سی کہانی ہٹ ہوگئی؟‘‘

’’ جی میرا خیال تھا کہ میرا ناول ’’میزان عدل ‘‘ بہت ہٹ ہوگا۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ شہری حلقوں کی طرف سے اسے وہ پذیرائی نہ ملی جس کی میں توقع کررہی تھی۔ جبکہ میرا ایک افسانہ ’’ مفلس قوم‘‘ جو میں نے بیٹھے بیٹھے ایک ہی نشست میں لکھ دیا ،وہ بہت پسند کیاگیا۔ ‘‘

’’ آپ نے بتایا تھا کہ آپ کے گھر والوں کو اب پتا چلاہے کہ آپ لکھتی ہیں تو ہمارے قارئین کو بھی بتایئے؟‘‘

’’ میں ساتویں آٹھویں جماعت سے لکھ رہی ہوں اور کسی کو نہیں بتایا تھاوالدین کو تو پتا ہی نہیں تھا کہ میں لکھ بھی سکتی ہوں کیونکہ میں اپنی تحریر یں چھپا کررکھتی تھی اوربھائیوں کو بھی ابھی چند سال پہلے ہی پتا چلا ہے کہ میں لکھ بھی سکتی ہوں۔ اور میں آپ کو ایک واقعہ سناتی ہوں کہ جب میری کتاب ’’ عمراں لنگھیاں‘‘ شائع ہوئی تھی اور پبلشر نے یہ کتاب میرے تینوں بھائیوں کوبھجوادی۔ میرے بڑے بھائی افتخار احمد چیمہ باہر اپنی حویلی میں بیٹھے تھے کہ انہیں کسی نے یہ کتاب پکڑائی۔ انہوں نے بھیجنے والے کانام دیکھا اور بیٹھے بیٹھے پوری کتاب پڑھ لی ۔موجودہ دور میں وہ بھی بچیوں کو بے راہ روی کا شکار ہوتے دیکھ رہے تھے۔ اس لیے انہیں یہ کتاب بے حد پسند آئی۔ انہوں نے میرے درمیان والے بھائی کو بتایا کہ سلیم منصور خالد ( پبلشر) نے بچیوں کے بارے میں بہت اچھی کتاب لکھی ہے تو بھائی نے ہنستے ہوئے کتاب سامنے رکھی اور کہا یہ ’’تو باجی جبیں نے لکھی ہے ‘‘تو وہ بہت حیران ہوئے ۔

اسی طرح میں نے چند دن پہلے اپنے ماموں زاد بھائی ڈاکٹر آفتاب احمد چیمہ کو ’’دوام زندگی ‘‘پڑھنے کے لیے دی تھی تو ان کا فون آیاکہ آپ لکھتی بھی ہیں؟ وہ بہت حیران ہوئے.میرے میاں اور بچوں نے کبھی بھی میری تحریروں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ لیکن اسامہ کے بعد وہ کہتے ہیں کہ ’’چلو امی کسی کام میں مصروف تو ہیں ‘‘ورنہ کہتے تھے کہ امی اب بس بھی کردیں ’’ عمرا ںلنگھیاں‘‘ تھک گئے یہ ناول پڑھتے پڑھتے اور یہ ختم ہی نہیں ہورہا ۔

اب تو میاں صاحب بھی ہر تحریر کو سراہنے لگے ہیں اور ’’ بڑی آپا‘‘ کا تو آئیڈیا ہی انہوں نے دیا تھا۔ میری کتاب دوام زندگی کے بارے میں چھوٹے بھائی نے ایکسپریس اخبار میں کالم بھی لکھا۔ اب میرے بچے میری تحریروں پر تنقید نہیں کرتے ۔پہلے سعد میرے پاس بیٹھ جاتا تھا میری کہانی کے پرخچے اڑانے۔ اب اسامہ کے بعد سب بہت سنجیدہ ہوگئے ہیں۔ رونق میلہ زندگی سے ختم ہوگیا ہے۔ ‘‘

’’رائٹرز میں کس کا انداز تحریر آپ کو پسند آیا؟‘‘

’’ مجھے ساجدہ حبیب کے انداز تحریر نے بہت متاثر کیا تھا اور کیا ہے. اب انہوںنے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔ میں ان کے طرز تحریر سے متاثر ضرور تھی مگر ان جیسا لکھ نہیں سکی کیونکہ کسی کو کاپی کرنابہت مشکل ہے۔ میرا اپنا ہی اندا زہے۔‘‘

’’روامانس کے بغیر نا صرف زندگی نامکمل ہے بلکہ تحریر بھی. آپ کہتی ہیں کہ میں رومانس لکھ نہیں سکتی۔ وجہ؟‘‘

’’ میرے خیال میں پیار کے مختلف انداز ہیں. ماں اور بچے کا پیار. دنیا کا سب سے انوکھا اور بے لوث پیار ہے۔ ایک پیار باپ اور بچے کا ہوتا ہے جس میں باپ بیٹوں سے زیادہ بیٹیوں سے کرتا ہے اور جب میں باپ کے پیار کے بارے میں لکھتی ہوں تو میری نظروں کے سامنے میرے والد ہوتے ہیں ،اور ایک رومانس ہے میاں بیوی کا جس کے سر پر یہ معاشرہ قائم ہے اور میرے خیال میں سب سے خوب صورت اور سچا اور کھرا رومانس میاں بیوی کا ہے. اور جب میں میاں بیوی کے رومینس کے بارے میں لکھتی ہوں تو آسانی سے لکھ لیتی ہوں کیونکہ میں نہ خود اور نہ ہی اپنے قاری کو کسی کے بیڈ روم میں لے جاتی ہوں اس لیے کہ مجھے پتا ہے کہ بہ حےثےت ایک مسلمان اور ادیبہ میری حدود کیا ہیں. کن باتوںکو بیان کرنے سے روکا گیا ہے اور کن باتوں کو میں کھول کھول کر بیان کرسکتی ہوں۔

مجھے اپنی کہانیوں میں میاں بیوی کا پیار دکھاتے ہوئے بے انتہا خوشی ہوتی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ کن باتوں سے شیطان جلتا ہے اورکن باتوں سے ’’رحمن‘‘ خوش ہوتا ہے۔ نچلے درجے کا رومانس نوجوان لڑکے اور لڑکی کا ہوتا ہے جس کو رحمن نا پسند اور شیطان پسند کرتا ہے۔ رحمن کا حکم ہے کہ کسی کو پسند کرتے ہو تو سیدھے سیدھے شادی کا پیغام دے دو اور شادی کرلو. جبکہ شیطان کہتا ہے کہ شادی میں کیا پڑا ہے، ذمہ داریاں، بچے. اصل مزا تو شادی کے بغیر ہے۔ فکر نہ فاقہ۔ ہاتھوں میں ہاتھ لیے نہروں کے کنارے بیٹھے رہو۔ عورتیں تعریفوں سے بہت جلد بے وقوف بن جاتی ہیں۔ میں اس تھرڈ کلاس رومانس پر یقین نہیں رکھتی۔ اگر کبھی لکھوں بھی تو عورت کو عبرت کا نشان بنادیتی ہوں۔

’’ آپ اتنالکھتی ہیں. کبھی معاوضہ ملا؟‘‘

’’الحمدللہ۔ میں نے ایک لفظ بھی معاوضے کے لیے نہیں لکھا۔ بلکہ جو کچھ لکھا ،وہ اللہ کے ہاں سے معاوضے کی امید پر لکھا۔ ڈراموں اور فلموں کے لیے نہیں لکھا بلکہ مجھے ان سب رائٹرز پر افسوس ہوتا ہے کہ جن کے ہاتھ میں قلم ہے اور وہ امت مسلمہ جو کرب ناک حالت سے گزر رہی ہے اس کے بارے میں نہیں لکھتیں ۔‘‘عام سے ڈرامے لکھ رہی ہیں. مجھے میری تحریر کا پہلا معاوضہ ’’امتل‘‘ نے بھجوایا تھا مزا بھی آیا اور میاں صاحب کو دکھایا اور کہا کہ ہم بھی کمائو ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اتنے ہی پیسے اور پکڑائے اور کہا کہ جائو اپنے لیے کچھ لے آئو۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ جیسے میں اپنے لیے لکھتی ہوں اور کبھی کبھی لگتا ہے کہ اپنی دوستوں کے لیے لکھتی ہوں.دوستوں کی چہکتی آوازیں مجھے بتاتی ہیں کہ میں نے کیسا لکھا تو دل بہت خوش ہوتا ہے۔‘‘

’’ٹی وی ڈراموں کی طرف کیوں نہیں آتیں آپ؟ اور بیٹے کے بارے میں لکھی گئی کتاب کو ڈرامائی تشکیل دینے کا خےال نہیں آیا؟‘‘

’’بیٹے کے لیے لکھی گئی کتاب میری ذاتی چیز ہے اورمیں نہیں چاہتی کہ اس پر ڈرامے بنیں نہ ہی فلمیں۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے بہت نوازا ہے۔ چترال میں جو پارک اسامہ نے بنوایا تھا، وہ اسی کے نام ہے۔ اسامہ کے نام پر ایک اکیڈمی ہے بحریہ کی جو کہ کافی بڑی ہے۔ ایک سرکاری زمین دی ہے کہ اس پر اسامہ کے نام کی بلڈنگ بنے گی۔ پشاور میں چارسدہ روڈ پر ایک بہت بڑا برج ہے، وہ اسامہ کے نام پر کردیا ہے۔ ایبٹ آباد کے ایک چوک کا نام اسامہ رکھ دیا گیا ہے۔ اس کے نام پر کافی کچھ سرکار نے دیا ہے۔

اسی طرح پی آئی اے نے بھی ہمیں کافی پیسے دیے ہیں۔ جو پیسے ہمیں اس کے ملے ہیں، اس کے لیے ہماری خواہش ہے کہ حکومت ہمیں ایسی جگہ دے جہاں ہم اس کے نام کا کلینک بنادیں۔

اب آئیںڈراموں کی طرف تومیں نہیں چاہتی کہ میری کسی بھی تحریر پر کوئی ڈرامہ بنے کیونکہ پڑھنے اور دیکھنے میں فرق ہوتا ہے اور میں کافی پرانے خیالات کی ہوں. اور اسلام سے ہٹ کر مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ نہ پیسہ ، نہ شہرت . کیونکہ ڈراموں میں جس طرح کا ماحول، لباس اور حرکات و سکنات دکھائی جاتی ہیں۔ وہ مجھے گوارا نہیں۔ اس لیے کہ حساب کتاب جب اللہ تعالیٰ کے یہاں ہوگا تو پوچھ گچھ تو سب کی ہوگی. میرا اعمال نامہ پہلے ہی بوجھل ہے، اسے مزید بوجھل نہیں کرنا چاہتی۔‘‘

’’آپ کے لکھنے کا بہترین وقت کون سا ہے؟‘‘

’’بہترین وقت وہ ہوتا ہے جب میں اکیلی ہوتی ہوں، سردی ہو یا گرمی. لائونج میں ہیٹر کے آگے قالین پر چادر بچھا کر اس پر جائے نماز بچھی رہتی ہے۔ سردی ہو تو ہیٹر چلالیتی ہوں، گرمی میں پنکھا. کبھی کبھار ٹیرس میں ہم میاں بیوی نہایت خاموشی کے ساتھ اپنا اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔‘‘

’’آپ نے گائوں میں جنم لیا. یاد تو آتا ہوگا؟‘‘

’’بالکل یاد ہے۔ ہمارا گائوں ندی کنارے تھا۔ جیسے دیگر گائوں ہوتے ہیں، گھر سے چند منٹوں کے فاصلے پر ہمارا کینوئوں کا باغ تھا اور میں نے اور میرے چھوٹے بھائیوں نے زندگی کے ابتدائی سال اسی باغ میں بھاگتے دوڑتے گزارے۔ ٹیوب ویل کی مخصوص آواز، ٹایلیوں کے گھنے درخت. سردیوں میں پرالی کے ڈھیر پر دھوپ میں بیٹھ کے گنے چوسنا اور دھان کی پکی فصل جیسے سارے کھیت سونے کے ہوں۔ مجھے ہریالی، بادل اور بارش بہت پسند ہیں۔ میں چاند نی راتوں، درختوں پھولوں اور پہاڑوں میں مدتوں رہ سکتی ہوں مگر اب ان پہاڑوں میں جانے کومیرا دل نہیں چاہتا کہ ان پہاڑوں میں میرا اسامہ کہیں کھوگیا ہے۔‘‘

’’فارغ اوقات میں کیا کرتی ہیں اور آپ مزاج کی کیسی ہیں؟‘‘

’’آج کل تو فارغ اوقات کو ترس گئی ہوں۔بہت سی چیزیں مکمل ہونے کے لیے پڑی ہیں۔ گھر کی صفائی ستھرائی کراتے کراتے گیارہ بج جاتے ہیں۔ اگر تو کھانا پکنے والا ہو تو جلدی سے وہ چڑھا دیتی ہوں اورجس دن کھانا پکا ہو اہواس دن عیش ہوتے ہیں۔پھر میں جلدی سے کاغذ قلم، پانی کا گلاس اور ٹیلی فون سنبھال کے اوپر ٹیرس کا رخ کرتی ہوں۔ اللہ کا حکم ہوتا ہے تو کچھ لکھ لیتی ہوں، ورنہ دور سڑک پر بھاگتی دوڑتی گاڑےوں کو دیکھتی رہتی ہوں جو زندگی کا پتا دیتی ہیں۔ یا پھر نیلے آسمان پر اڑتے ہوئے پرندے دیکھتی رہتی ہوں. اور کسی نہ کسی سوچ میں کھوئی رہتی ہوں۔

ظہر کی اذان کے ساتھ ہی ٹیرس سے اتر کر کھانا ٹیبل پر لگاتی ہوں اور ہم میاں بیوی کھانا کھاتے ہیں۔ کھانے سے قبل ظہر کی نماز کی ادائیگی کرتی ہوں اور ہم میاں بیوی کھانے سے فارغ ہوکر یا تو دھوپ میں بیٹھ جاتے ہیں یا پھر اپنی مخصوص جگہ پر ہیٹر کے سامنے بیٹھ کر کچھ نہ کچھ پڑھتی رہتی ہوں۔ میاں صاحب اپنی اسٹڈی میں پڑھائی لکھائی میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ وہ ایک مخصوص وقت پر چائے پینے کے عادی ہیں اور اکثر خود ہی بنا لیتے ہیں۔

سردیوں میں تو ظہر، عصر اور مغرب ایسے ہوتے ہیں جیسے کسی دوڑ میں حصہ لےا ہو۔ رات کو عشا کی نماز کے بعد جلدی سونے کی عادی ہوں۔ اللہ مہربان ہو تو نیند جلدی آجاتی ہے، ورنہ جانے والے کی یاد میں آنسو بہاتی رہتی ہوں ۔صبح فجر کی اذان سے پہلے ہی ہم دونوں اٹھ جاتے ہیں۔

آپ نے پوچھا کہ میرا مزاج کیسا ہے؟یہ تو کوئی دوسرا ہی بتا سکتا ہے کہ میں کیسی ہوں . ہاں یہ میں ضرورکہوں گی کہ میں نے بچوں کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ ان کو ابتدائی کلاسیں میں نے ہی پڑھائیں۔ اللہ سے جوڑنے کے لیے بھی مجھ سے جو ہوسکا، میں نے کیا. اور اپنے بچوں کو شروع سے لے کر آخر تک جو بات تواتر کے ساتھ بتائی وہ ان کے کردار کے بارے میں تھی. اور حرام و حلال رزق کے بارے میں۔

میری بیٹی اور بہو ماشائ اللہ دونوں ڈاکٹر ہیں۔ میری بیٹی نے ہمیشہ لمبی اور فل بازوئوں والی قمیص پہنی. اپنے لباس کا ہمیشہ خےال رکھا۔ اسی طرح میری بہو نے بھی امریکہ میں رہتے ہوئے ہمیشہ چادر لی۔ اور کبھی بے پردگی کے نزدیک نہیں گئی۔ میری نواسیاں اسکول میں دوپٹہ لے کر جاتی ہیں اور پانچ وقت کی نمازی ہیں ۔ان کو قرآن پاک ہم میاں بیوی نے پڑھایا۔ میں جس راستے پر چلی، اس سے پیچھے نہیں ہٹی، نہ اللہ کے دین پر کوئی سمجھوتا کیا۔

’’کھانے میں آپ کو کیا پسند ہے؟‘‘

’’جب تک شادی نہیں ہوئی تھی، تو کھانے میں بھی پسند ناپسند تھی۔ مگر شادی کے بعد تو پہلے سال پتا چلا کہ پوری گر میاں ٹنڈے، بھنڈیاں اور کریلے پکانے پڑیں گے تو دن میں تارے نظر آگئے۔ بھنڈی میں کبھی پیاز زیادہ تو کبھی پیاز کچی رہ جاتی تھی اور کریلے کبھی بغیر کڑواہٹ کے اور کبھی بہت ہی کڑوے بن جاتے تھے۔ وہ ایک مشکل سال تھا جو گزر گیا۔

اب تو مدت ہوگئی چولہا چکی کرتے ہوئے۔ الحمدللہ میں سب کچھ خود پکاتی ہوں۔ وہ چیزیں پکاتی ہوں جو میاں کو پسند ہیں۔ ہمارے گھر میں آج تک پائے، نہاری اور کوفتے نہےں بنے۔ کیوں کہ میاں صاحب نہیں کھاتے۔ میں کبھی کبھار باہر سے منگوالیتی ہوں۔ ویسے مجھے باہر کا کھانا زیادہ پسند نہیں ہے۔ مجھے اپنے گھر کا کھانا کسی بھی فائیو اسٹار ہوٹل سے زیادہ اچھا لگتا ہے۔

’’ اپنی کمائی کہاں خرچ کرتی ہیں؟‘‘

’’الحمدللہ۔ میری کوئی ذاتی کمائی نہیں ہے۔ میرے میاں نے مجھے گھر میں ملکہ بنا کر رکھا ہوا ہے۔ میں نے سیاہ کیا ،سفید کیا ، انہوں نے پوچھا نہیں۔ وہ ہر مہینے مجھے ایک مخصوص رقم پکڑا دیتے ہیں، میں نے نہ پیسوں کا تقاضا کیا نہ کسی بات پر ضد کی. نہ پیسوں کے معاملے میں کبھی لڑائی ہوئی۔ مجھے اچھے کپڑوں، جوتوں اور بیگز کا شوق ہے بلکہ تھا. میرے آدھے شوق اسامہ لے گیا آدھے عمر لے گئی۔‘‘

اس کے ساتھ ہی ہم نے جبیں چیمہ صاحبہ سے اجازت چاہی، اس شکریہ کے ساتھ کہ انہوں نے ہمیں وقت دیا۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں