نام ہی کافی ہے .بلاشبہ قانتہ رابعہ کے لیے یہ ہی کہا جا سکتا ہے ۔ ان کا نام ان کی پہچان ہے۔ ان کے بارے میں کچھ لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اب تک سینکڑوں افسانے، ناولٹ لکھے ہیں ۔ افسانوں کے درجن بھر سے زیادہ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ حج کا سفر نامہ بھی لکھ چکی ہیں اس کے علاوہ ان کے مختلف موضوعات پر مضامین کے مجموعے بھی آ چکے ہیں۔
قانتہ رابعہ کی امتیازی خصوصیت ان کی تحریروں کا مثبت پہلو ہے۔ وہ لکھتے ہوئے مذہبی اقدار کے ساتھ ساتھ معاشرتی اقدار کا بھی خیال رکھتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں خاص طور پر مذہبی پس منظر نظر آتا ہے۔ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ اتنا زیادہ لکھنے کے باوجود انہوں نے کبھی بھی حدود کو کراس نہیں کیا اور لکھتے ہوئے دین کے احکامات سے تجاوز نہیں کیا۔ اتنا زیادہ لکھنے والی مصنفہ کے لیے یہ بہت بڑی بات ہے۔ آج ہم قانتہ رابعہ سے آپ کی ملاقات کروا رہے ہیں۔
س: اپنا فیملی بیک گرائونڈ بتائیے۔
میں 13نومبر1963ئ کی درمیانی شب ضلع خانیوال اور اس وقت کے ضلع ملتان کے شہر جہانیاں میں حکیموں کے خاندان میں پیدا ہوئی .
میرے نانا جان حکیم محمد عبداللہ برصغیر کے بہت مشہور حکیم تھے ۔ فن خطابت میں بڑا نام تھا ان کا . اور حکمت کے آغاز ہی میں 1935ئ میں بذریعہ بحری جہاز جج کے لیے روانہ ہوئے۔ بندرہ گاہ پر ہی شاہ سعود کے خاص لوگ ملاقات کے لیے موجود تھے۔
پتا چلا کہ شاہ سعود کو خواب میں نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت ہوئی ہے اور حکم ملا ہے کہ حکیم الشفائ الملک آ رہے ہیں۔ ان کا بہترین استقبال کیا جائے۔
اس وقت بطور طبیب ان کی شروعات تھیں ۔ مگر نبی کریم کے دیے لقب کا حق ادا کیا کہ واقعی ان کے ہاتھ میں اللہ نے شفا رکھی تھی۔ نبض پہ ہاتھ رکھ کر مرض بتا دیتے تھے . اور یہ ایسا فن تھا کہ جب حج پر گئے تو بطور اعتراف ’’معلم امین عطاس‘‘ کی خوش دامن نے خانہ کعبہ کی کنجیاں جو اپنے داماد کو بھی نہیں دکھائی تھیں۔ میرے نانا ابو کے ہاتھ پر رکھ دیں۔
وہ ادیب تھے ، خطیب تھے ، مگر شاعر ہنگامی طور پر بنے تھے. وفات سے کچھ عرصہ قبل (2دسمبر 1974ئ) حج پر گئے تو ہر زیارت اور ہر موقع پر فی البدیہہ اشعاررواں ہوتے گئے۔ اللہ کے خاص منتخب بندوں میں سے تھے ۔ وفات سے ایک دن قبل نعت کہی ۔
میرا اس طرح سے حساب ہو
میرے لب پہ نعت جناب ہو
دسمبر کو لاہور سے میرے ماموں اپنے دوست زاہد غازی کے ہمراہ جو جامعہ کراچی کی یونین کے صدر تھے اچانک ملنے آئے۔ نانا ابو کے کچھ دوست بھی موجود تھے۔ چائے پلاتے ہوئے نعت سنانا شروع کی، سریلے شعر کا پہلا مصرعہ پڑھا ۔ سامنے کی طرف دیکھا۔ لمحاتی خاموشی کے بعد ’’ انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ کے الفاظ کے ساتھ ہی روح پرواز کرگئی۔ نانا کی بہن میری دادی تھیں، وہ بھی شاعرہ تھیں۔ ان کی بہنیں بھی فارسی میں شاعری کرتی تھیں۔ میرے ماموں بھی مشہور مصنف تھے اور میرے والد بھی صاحب کتاب تھے . ادب دوست ماحول کی وجہ سے مجھے بھی اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کا موقع ملا۔ ‘‘
’’آپ کا نام قانتہ رابعہ ہے ’’قانتہ ‘‘کا کیا مطلب ہے ، والدین کیا کرتے تھے ؟‘‘
’’میرا نام ’’قانتہ ‘‘ہے۔ نون کے نیچے ’’زیر‘‘ آتا ہے قرآن پاک میں بار بار ’’والقانتون والقانتات‘‘ آیا ہے. مطلب، فرماں برداری میں قائم رہنے والی ، دوسرا حصہ رابعہ ہے، یہ وضاحت کرتا ہے کہ میرا اپنے سات بہن بھائیوں میں ’’چوتھا‘‘ نمبر ہے۔ میری والدہ گھر داری میں ماہر اور درس و تدریس سے شغف رکھتی تھیں اور میری امی مطالعہ کی اتنی شوقین تھیں کہ جب ’’جہانیاں‘‘ میں بجلی کی سہولت نہیں تھی تو وہ چاندنی راتوں میں یا پھر لالٹین کی روشنی میں مطالعہ کرتی تھیں۔ نسیم حجازی کے سارے ناول انہوں نے اس وقت پڑھ لیے جب بچے ان کی گود میں تھے۔ گفتگو میں انہیں ملکہ حاصل تھا۔ ابا کی اپنی دکانیں تھیں ، اپنا کاروبار تھا۔ اور ان کی اپنی ایک لائبریری تھی جس میں ہزاروں کی تعداد میں کتابیں تھیں۔ ہر فن مولا اور درویش صفت انسان تھے ۔‘‘
’’آپ کی شادی ؟‘‘
’’جی میں شادی شدہ ہوں . 1989 ئ میں میری شادی ہوئی ۔ پانچ بچے ہیں ۔ چار بیٹیاں اور ایک بیٹا .بڑی بیٹی مومنہ اشتیاق میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ہے تین بچوں کی اماں بھی ہے۔ دوسری بیٹی مزنہ فاطمہ ایم فل بائیو کیمسٹری ہے تیسری بیٹی محسنہ مریم جس کی ایم ایس سی کے دوران ہی شادی ہو گئی۔ چھوٹی بیٹی ذروہ تحریم اور بیٹا محمد دائود عبداللہ زیر تعلیم ہیں ۔ میاں پروفیسر اشتیاق احمد حال ہی میں انیسویں گریڈ سے ریٹائر ہوئے ہیں وہ شعبہ سائیکلوجی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر تھے۔‘‘
’’بچپن کیسا گزرا؟‘‘
’’میرا بچپن بھی میرے نام اور خاندان کی طرح منفرد تھا۔ میرے نانا کی چار شادیاں ہوئی تھیں. اور یہ ایک دلچسپ داستان ہے۔ بتا اس لیے نہیں سکتی کہ یہ انٹرویو میرا ہے، میرے نانا کا نہیں ۔ بچپن میں سب ہی کھیل کھیلے ۔ ہمارے ایج گروپ میں چودہ پندرہ کزنز اور ہماری ایج کی خالائیں اور ماموں بھی تھے ، ان سب کے ساتھ مل کر ہم نے لڑکوں والے کھیل کھیلے اور لڑکوں نے ہمارے ساتھ لڑکیوں والے گیمز کھیلے .بچپن میں نہ ڈاکو تھے نہ چو ر . نہ عزتیں لوٹی جاتی تھیں.نہ اغوا برائے تاوان ہوتا تھا ۔ بچپن کا ہرلمحہ ، ہر کھیل خوب انجوائے کیا۔ البتہ سر شام گھر لوٹنے کی تلقین تھی اگر کبھی دیر ہو جاتی تو گھر پہنچنے تک ’’ذہن‘‘ کہانی بنانے میں مصروف رہتا ، جھوٹ بولنا آتا نہیں تھا اور سچ میں مار پڑنے کا اندیشہ ہوتا تھا ۔ تو نئی نئی کہانیاں ہی امی کو مطمئن کر سکتی تھیں اور یہی کہانی بنانے کے عمل کا آغاز تھا ۔ کون سی نئی بات ہو جو ہمیں مار سے بچا سکے ۔‘‘
’’لکھنے کا عمل کب سے شروع ہوا ؟ اور کیسے اندازہ ہوا کہ لکھنے کی صلاحیت ہے ؟‘‘
’’اس کا جواب تو 90فیصد لوگوں کے اس بے ساختہ تبصرے میں ہے کہ ہم آپ کو بچپن سے پڑھ رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ کراچی ’’حریم ادب کنوینشن‘‘ میں مجھے بہترین رائٹر کے ایوارڈ کے لیے مدعو کیا گیا تو ایوارڈ لینے کے بعد اسٹیج سے نیچے اتری تو ایک ستر بہتر سالہ خاتون نے آگے بڑھ کے مجھے کہا ’’بیٹا میں آپ کو بچپن سے پڑھتی آ رہی ہوں۔‘‘ تو سننے والوں کا قہقہہ اس پر بہترین ردعمل تھا۔ یہ محبتوں کا اظہار ہے .اور مجھے یہ بھی یاد ہے کہ نانا ابو فوت ہوئے تو میرے ابو جی جو نانا کے بھانجے بھی تھے نے ایک نظم ان کی یاد میں لکھی کہ ۔
کیسے تھے اچھے نانا
کیسے تھے پیارے نانا
جنت میں ان کو یارب
اچھا ملے ٹھکانہ
چونکہ نظم بچوں کی زبان میں تھی توابا جی نے میرے نام سے بچوں کے رسالہ ’’نور‘‘ میں بغرض اشاعت بھیج دی اوروہ نظم میرے نام سے شائع بھی ہوگئی۔ توجب اپنا نام شائع ہوئے دیکھا تو یقین کریں یہ خوشی اس آٹھ دس سالہ زندگی کی اچھوتی خوشی تھی۔ یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ میرا نام شائع ہوا ہے اور پھراس شوق نے فوری طور پرقلم اٹھانے پرمجبورکردیا۔ مگر باقاعدہ لکھنے کا آغاز کب ہوا اس سے پہلے میں یہ بتانا چاہوں گی کہ ہمارے گھرمیں بچپن سے ہی ’’بتول‘‘ اردوڈائجسٹ ، سیارہ ڈائجسٹ ، ایشیائ اور اسی طرح کے دیگر بہت سے رسائل و جرائد آتے تھے۔
والدین کودیکھ کرمجھے بھی پڑھنے اور لکھنے کا شوق ہوا . اورجب لکھنا شروع کیا توکہانی کس طرح لکھی جاتی ہے، ان سب باتوں سے نا آشنا تھی۔ لیکن پھر بھی نماز میں کن چیزوں کا دھیان رکھنا چاہیے کے موضوع پر ایک تحریر لکھ کر نور رسالے میں بھیج دی۔
پھرجسارت کے بچوں کے صفحہ کے ایڈیٹر جناب نیاز مدنی صاحب کو خط لکھا اور دلچسپ بات یہ کہ میرے چھوٹے سے ذہن میں یہ بات آئی کہ مدیر تو بہت معمر لوگ ہوتے ہیںئ ۔ میں نے انہیں چچا جان کہہ کر مخاطب کیا۔ اس پر ان کا ردعمل بھتیجی جان کہہ کر سامنے آیا۔
اورمجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ’’چچا‘‘ دکان سے واپس جاتے ہوئے اخبارلائے۔
’’قانتہ تمہارا خط چھپا ہے۔‘‘
میں نے کانپتے ہاتھوں سے اخبار تھاما۔ وہ لمحات جیسے صدیوں پرپھیل گئے تھے ۔ خط ڈھونڈا جواب پڑھا . خوشی، تتلی، جگنویہ سب محدود مفہوم رکھتے ہیں آنکھوں میں خوشی سے پانی جم سا گیا۔ میرا نام چھپا ہے۔ بالی عمریا جو تھی۔
’’اب آئیے اس بات پرکہ پہلی باضابطہ تحریرکب لکھی توپہلی باضابطہ تحریرجسارت کے ہی صفحے پرکہانی ’’صبح نو‘‘ اور ساتھ ہی افسانہ ’’اجالے کی کرن‘‘ اور مزاحیہ مضمون لکھ مارا، ماہنامہ بتول میں یہ دونوں تحریریں شائع ہوئیں۔ بعد ازاں مزاحیہ مضمون ’’اخبار خواتین‘‘ میں بھی شائع ہوا پہلا افسانہ اس وقت لکھا جب میں اسکول کی طالبہ تھی اور پہلا افسانہ میں ایک بے پردہ لڑکی کا باپردہ ہونے کی داستان پر مشتمل تھا ۔
اس کے بعد ’’بتول‘‘ کی مدیرہ سلمیٰ یاسمین نجمی کے علاوہ اصلاحی ادب سے وابستہ کچھ نام تھے مثلاً محترمہ نیر بانو . محترمہ بنت الاسلام صاحبہ نے مجھے قابو میں کر لیا۔ جلد ہی قلمی دوستی کے نام پرکراچی یونیورسٹی شعبۂ تاریخ کی ڈاکٹر نگار سجاد جو اس وقت نگار سلطانہ تھیں۔ محترمہ سمیعہ سالم اور راحت جو بہت اچھا لکھتی تھی (مگر قدرت نے اس کی زندگی مختصر لکھی تھی) اور حریم ادب کا پلیٹ فارم جس نے مجھے بنانے سنوارنے اور نکھارنے میں مدد دی ۔ بتول کی ادارت میں مجھے بہترین رہنما دوست ملے جنہوں نے میری انگلی پکڑ کر مجھے لکھنا سکھایا۔
پروفیسر فروغ احمد (مرحوم) مشہور نقاد تھے ان سے خط و کتابت نے بہت کچھ سکھایا .مجھے یہ مخلص لوگ ہردم تازہ رکھتے تھے خاص طور پر جہانیاں کا وہی جاگیردارانہ نظام جہاں لڑکیوں کا ہی نہیں لڑکوں کا بھی کالج جانا ان جاگیرداروں کی اولادوں کے راستے کی رکاوٹ تھا۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کی سہولت تھی۔ ہوسٹل جانے کی اجازت نہیں تھی۔ تو گھرمیں کیا کرتی سوائے مطالعہ اور لکھنے لکھانے کے.‘‘
’’گھر میں کتابیں لانے کا ذریعہ کون بنا ؟‘‘
’’میرے ماموں عبدالوحید سلیمانی لاہوراردو بازارمیں پبلشرتھے اورکرنل اشفاق حسین کی جنٹلمین سیریزکے علاوہ بھی بہت سی مشہورکتب شائع کر چکے تھے۔ تومیرے ماموں نے مجھ پر یہ عنایت کی ’’اردو بازار‘‘ یا اردو ادب میں جب کسی نئی کتاب کا اضافہ ہوتا تو اس کی ایک جلد مجھے فوری طور پر بھیج دیتے اور پھر اس پر تبصرہ بھی مانگتے . اور میری ہر اونگی بونگی تحریر پر خوب داد بھی دیتے تھے۔کلاسک ادب میں نے اپنی چچی’’رشیدہ قطب‘‘ جن کا تعلق لکھنئوسے تھا ان کی صحبت میں پڑھا، تاریخ میں شاید ہی کسی چچی بھتیجی کی اتنی دوستی ہوگی جتنی میری ان سے تھی۔ عصمت چغتائی اورشاہد احمد دہلوی کے قصے، قمر جلالوی کی شاعری، جوش کی یادوں کی بارات ‘‘ بہت کچھ زیر بحث آتا اورگھنٹوں بیت جاتے باتیں کرتے۔‘‘
’’ہرایک کو پڑھا.متاثرکس سے تھیں ؟‘‘
’’جس کو پڑھتی اسی سے متاثر ہو جاتی تھی۔ نشاط فاطمہ کا افسانہ ’’آنسو جو بہہ نہ سکے‘‘ پڑھا تو اگلے چار افسانے اسی انداز میں لکھ ڈالے۔ اگر کسی مزاح نگارکو پڑھا تو اسی کا رنگ چڑھ گیا ۔ ہاں جب ترقی پسند ادب کا مطالعہ شروع کیا اور ’’ڈگری کا عذاب‘‘، ’’وجود کی موت‘‘ جیسے افسانے لکھے تو پھر میری روحانی ماں محترمہ نیر بانو نے میری گرفت کی اور مجھے سمجھایا کہ ’’انتشار نہیں سکون‘‘ عمرکچی تھی۔ تحریر بھی کچی۔ مگر بات پہلے سے باندھ لی . یہ ان کی کوششوں اور دعائوں کا اثر ہے کہ پھر اپنا انداز بدلا اور پھر سب کچھ ہی بدل گیا . زندگی کا مفہوم سمجھ میں آ گیا۔‘‘
’’لڑکیاں جب ٹین ایج میں آتی ہیں توان میں بہت سی تبدیلیاں آتی ہیں۔ رومانس اچھا لگتا ہے . اس وقت کی عمرمیں کیا لکھنے کا دل چاہتا تھا؟‘‘
’’میرا خیال ہے کہ میں اردو ادب کی ایسی افسانہ نگار ہوں جس کی افسانوں کی بارہ کتابیں ، جس میں تین سو کے لگ بھگ افسانے اور ناولٹ ہیں ان میں کوئی ہیرو نہیں کوئی ہیروئن نہیں میرے کسی بھی افسانے یا ناولٹ میں کوئی رومانس نہیں ۔ یہ نہیں کہ میں رومانس کی قائل نہیں ہوں ۔ لیکن میں سمجھتی ہوں کہ رومانس سے ہٹ کر بھی بہت سے موضوعات ہیں جن پر لکھا جا سکتا ہے اور میں نے لکھا ہے ۔ میری تحریروں میں معاشرتی مسائل ہیں، اردگرد کی کہانیاں ہیں۔ میرے چاروں اطراف میں ہونے والے واقعات ہیں. اور میری تحریروں کی منفرد بات ان واقعات اورمسائل کا حل ’’قرآن‘‘ سے جڑنا ہے۔ میری زندگی اور میرا تعارف ہی قرآن ہے۔‘‘
میں اپنے شہر میںہفتہ وار قرآنی کلاسز لیتی رہی ہوں۔ میں اپنے اردگردکے حالات کو قرآن کے تناظر میں دیکھتی ہوں۔ اورمسائل کا حل اسی قرآن سے پیش کرتی ہوں۔ میرے پڑھنے والوں کا حلقہ ماشائ اللہ دن بہ دن بڑھ رہا ہے .اور میرے پڑھنے والے میری تحریرکو اتنا پہچانتے ہیں کہ میری تحریر میں شوہر نے بیوی کی چوڑیوں کو بھی محبت سے ہاتھ لگایا تو میرے قارئین چیخ پڑیں گےئ کہ یہ قانتہ کے تحریر نہیں ہے ۔ میں مختصر بلکہ مختصر ترین لکھتی ہوں۔ دو چار صفحات ہی بس ۔‘‘
’’پلاٹ کب ذہن میں آتا ہے ؟‘‘
’’میری زندگی قرآن مبلغ کی سی ہے اور ساری زندگی انہونیوں سے بھرپور گزری ہے .میں اگر یہ کہوں کہ میں نے ساری زندگی کبھی پلاٹ پر کہانی نہیں لکھی تو غلط نہ ہوگا۔ میں نے مکالمے نہیں سوچے میں نے آغاز یا اختتام پر لمحہ بھر بھی غور نہیں کیا تو یہ غلط نہ ہوگا ۔ بس چلتے پھرتے، کام کرتے درس دیتے۔ مہمانوں کی موجودگی میں ایک کلک ہوتا ہے اور میرے دماغ میں کہانی یا افسانے کا مکمل خاکہ موجود ہوتا ہے۔ اسی ایک لمحہ کو قابو کرنے کی صلاحیت بھی اللہ نے دی ہے، قلم ہاتھ میں لیتی ہوں تو کہانی مکمل کر کے قلم رکھتی ہوں ۔ میں نے کبھی دو قسطوں میں کہانی نہیں لکھی ہاں جب صحت تھی تو ایک قسط میں تین چار افسانے لکھے ہیں۔‘‘
’’منفرد انداز تو اعزازیہ بھی منفرد ہوتا ہو گا؟‘‘
’’اعزازیہ ڈائجسٹ کی طرف سے ملا ۔ مگر اعزازیہ کبھی بھی طلب نہیں کیا ۔ منفرد کا تو سوال ہی نہیں اور میرا جس گھرانے سے تعلق ہے، اس کی پہچان دین ہے. میں نے سورۃ قلم میں فلم کی حرمت کا پڑھا ہے، بچپن سے ہی ہمیں بتا دیا گیا کہ زندگی اللہ کے لیے وقف ہونی چاہیے. الحمدللہ ساری زندگی فی سبیل اللہ ہی لکھا۔ بتول ، عفت ، پکار، نور، ساتھی۔ خواتین ڈائجسٹ میں میرے تین سو سے زیادہ افسانے شائع ہوئے میرا قلم اگر اللہ کے دین میں اتنا سا مددگار ہو جائے تو یہ سعادت ہے میرے لیے۔‘‘
میں نے مفروضوں یا امکانات پرنہیں بلکہ زمینی حقائق اورانسانی مسائل پر لکھا ہے. اورہر مسئلہ کا حل خواہ وہ حق پر ہو یا ورثے کی تقسیم ۔ بے جوڑ شادیاں ہوں یا وقت کوضائع کرنا سب پرقرآن کے پیغام کی روشنی میں لکھا ۔ میں نے عشق نبی پر بہت افسانے لکھے ہیں اورایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں نعتیہ افسانے کی میں بانی ہوں۔‘‘
’’کبھی اپنی ہی تحریر پر رونا آیا ؟‘‘
’’عشق نبی پر جب بھی لکھا بہت روئی. اپنے اوپرطاری کرکے لکھنا بہت کربناک ہوتا ہے اور یہ کرب مجھے دن میں کئی باربھگتنا پڑتا ہے ۔ ’’کالی کملی والا‘‘، ’’پل صراط کے نیچے‘‘ اور ایسے ہی بہت سے افسانے ہیں جنہیں لکھتے ہوئے میں روئی ہاں۔ مسکرانے کا عمل مزاحیہ تحریروں میں جاری رہتا ہے۔‘‘
’’اب تک جو لکھا آپ نے، بتائیے ؟‘‘
’’میرے افسانوں کے بارہ مجموعے شائع ہوئے. بچوں کی بارہ کتابیں، کالموں کے دو مجموعے، ایک سفرنامہ، حج زہے مقدر کے علاوہ میرے لیکچرز بھی کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔ جن کی تعداد سات ہے اور الحمد للہ ہرکتاب کے دو سے زیادہ ایڈیشن شائع ہوتے ہیںئ مختلف یونیورسٹیز میں بچوں کی کتب اور دیگرتخلیقات پر کام ہو رہا ہے۔ افسانوں پر جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے ایم فل ہو چکا ہے . اور میرے لیے یہ اعزاز کسی ایوارڈ سے کم نہیں کہ میرا کام حکومتی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے.
میری بچوں کی کتابیں پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے مڈل اسکولز کی لائبریریوں کا حصہ ہیں، مجھے جو قارئین ملے وہ مجھے رسپانس دینے میں کنجوس نہیں ہیں۔ مجھے بے حد شرم محسوس ہو رہی ہے ’’میں‘‘ کا لفظ بار بار استعمال کرتے ہوئے۔ مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ میری زندگی تکون ہے یعنی قاف سے قانتہ قلم اور قرآن .تو جو محبت میری تحریر یا تقریر پر ملتی ہے دراصل وہ قرآن سے محبت ہے۔ اس کے خالق سے محبت ہے۔‘‘
’’آپ نے کہا کہ میں نے ہمیشہ فی سبیل اللہ ہی لکھا ۔ تو اگر قلم کو ذریعہ معاش بنانا پڑتا تو پھر ؟‘‘
’’قلم تو ذریعہ معاش کسی متعلقہ جاب سے بھی ہو سکتا تھا۔ الحمدللہ اس کی نوبت نہیں آئی۔ اللہ نے ہمیشہ اوپر والا ہاتھ ہی رکھا۔ اس وقت میں ’’عفت‘‘ ساتھی، بتول، پکار ‘‘ میں اور کئی دیگر رسائل میں لکھ رہی ہوں جہاں اعزازیہ کا تصور بھی نہیں ہے ۔ ایک مقامی کالج میں بھی میں نے پڑھایا ہے۔ مگر وہاں بھی پڑھائی کو ذریعہ معاش نہیں بنایا .وہاں میں نے تقریباً پانچ سال پڑھایا۔‘‘
’’گوگل میں آپ کا ذکر ہے .اچھا لگا تفصیلات پڑھ کر ، سوشل میڈیا سے پھر بھی دور نظر آتی ہیں۔ وجہ ؟‘‘
’’میں سوشل میڈیا سے بہت دور ہوں. آپ کہہ رہی ہیں کہ گوگل میں میرا نام موجود ہے تو ہو گا۔ مگر میں گوگل سرچ نہیں کرتی ۔ میری کوئی ویب سائڈ نہیں ہے ۔ انسٹا گرام پربیج نہیں بنایا .میں تو فیس بک پر بھی نہیں ہوں .ہاں میری سوشل زندگی واٹس ایپ what`s app سے شروع ہو کر واٹس ایپ پر ہی ختم ہوتی ہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ میری روٹین کیا ہے . اور میری روٹین آج کے دور سے ہٹ کر ہے۔
’’کچھ ہاتھ نہیں آتا بن آہ سحرگا ہی‘‘
کی قائل ہوں۔ سحرگاہی ہی میں گھر کے آدھے کام دھندے نپٹ جاتے ہیں۔
’’ٹی وی ڈراموں سے دوری بھی اسی وجہ سے کہ آپ مذہب کے بہت قریب ہیں؟‘‘
’’درحقیقت ٹی وی والوں کو اپنے ڈراموں کے لیے جس رومانس یا مرچ مسالے کی ضرورت ہے وہ میری تحریر میں نہیں .میری تحریریں بس اصلاح معاشرہ کے لیے ، دلوں کو جوڑنے کے لیے اور زندگی کی گتھیاں سلجھانے کے لیے ہیں . تو بھلا کون رابطہ کرے گا۔ ہاں برسوں پہلے ’’کالی کملی والا ‘‘ افسانہ لکھا تو ادھر ادھر سے پیغام ملے کہ اسے ڈراما ٹائز ہونا چاہیے۔ میرا جواب ایک ہی تھا ’’جوں کا توں‘‘ مقصدیت کے ساتھ اس لیے کہ شہرت سے اب کیا غرض اور دولت۔ اللہ نے قناعت وافردی ہے۔‘‘
’’قارئین نے توآپ کی تحریروں کوبہت پسند کیا. گھر والوں سے کتنی پذیرائی ملی ؟‘‘
’’میرے ابو، میرے ماموں اور میری چچی نے میری بہت حوصلہ افزائی کی . اگرچہ میرے ابو نے کبھی یہ نہیں کہا کہ تم بہت اچھا لکھتی ہو لیکن میری تحریر پڑھ کر ان کا چہرہ خوشی سے لال ہو جاتا تھا۔ لکھنے کے لیے ضروری تمام چیزیں مہیا کرتے تھے۔ چاہے وہ کاغذ قلم لانا ہو یا تحریریں بھیجنے کے لیے ڈاک کا خرچ میرے والد نے میری ہر ضرورت پوری کی۔‘‘
’’اور سسرال والوں نے ؟‘‘
’’میرا سسرال آئوٹ آف فیملی ہے اور ہمارا رشتہ دین کے تعلق کی بنا پرہی قائم ہوا۔ ہمارے یہاں دین اور لڑکے کی نمازوں کے بارے میں بھی پہلے پوچھا جاتا ہے۔ شادی کے بعد شروع میں کچھ وقت مشکلات کا سامنا کیا لیکن پھر اللہ نے بہت کرم کیا اور میرے شوہر نے میرے ساتھ بہت تعاون کیا بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ سب سے زیادہ تعاون ہی میرے شوہر نے کیا تو غلط نہ ہوگا۔ میرے لکھے کی فوٹوکاپی کروانا اسے سپرد ڈاک کرنا اور جب تحریر شائع ہو جائے تو رسائل و جرائد لا کر دینا بھی میرے میاں صاحب کا ہی کام ہے۔‘‘
’’آپ کے بچوں میں آپ کا اثر آیا ؟‘‘
’’کتاب پڑھنے کے جراثیم تو ساری اولاد میں ہےں اور لکھنے کے بھی ہیں ۔ بڑی بیٹی کو شعر و شاعری سے لگائو ہے دوسری بیٹی بھی بہت اچھا ادبی ذوق رکھتی ہے۔ لیکن اسکرین کے غلبے کے اس دور میں اب آہستہ آہستہ باقی بچے کتب کے بجائے اسکرین پر پڑھنا پسند کرتے ہیں. اور میری اس بات سے جان جاتی ہے۔ میں نے بہت سی عادات اپنے والدین سے لیں۔ والدین کا بہترین ادبی ذوق تھا ۔ میں نے بھی شادی سے قبل بہت پڑھا۔ جوکتاب ملی پڑھ کے ہی ہاتھوں سے نکلی ۔ ابا شب زندہ دار تھے متقی تھے، عالم با عمل تھے لیکن خشک مزاج نہیں تھے۔ انہیں مزاح میں شفیق الرحمن پسند تھا تو ہمیں گھول کے پلا دیا۔ ابو نے کسی مدرسے سے حفظ نہ کیا مگر ہر وقت قرآن کی تلاوت نے مکمل حفظ کی سعادت بخشی. انتقال ہوا تو انگلیاں ذکرکی حالت یعنی انگوٹھا تسبیح پکڑنے کے انداز میں تھا۔‘‘
’’اپنے آپ پر فخر ہوتا ہے ؟‘‘
’’کس بات پر؟. میں نے کہا نا کہ ہم تو رب کی طرف سے دہاڑی دار مزدور ہیں اورمزدوری ملنا بھی سعادت ہے میری مزدوری۔’’بول کراللہ کا پیغام پہنچانے اور لکھ کر تبلیغ کی لگ گئی ہے فخر تو نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔ گو کہ مجھے زندگی میں آئے دن ایسے لوگ ملتے ہیں جو مجھ سے والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہیں۔
’’آپ کے درس سے ہماری سوچ بدل گئی، ہماری زندگی با مقصد ہوگئی ہے۔
جیسے جملے سننے کو ملتے ہیں مگر آنکھیں شاید مسکراتی ہوں۔ مگر دل دھک دھک کرکے ’’ربنا تقبل منا‘‘ ہی دہائی دیتا ہے.
مجھے بہت سی نامور شخصیات نے ’’حرم‘‘ سے فون کیا کہ ’’ہم خانہ کعبہ میں بیٹھے آپ کا سفرنامہ حج زہے مقدر پڑھ رہے ہیں۔ اور آپ کے لیے دعاگو ہیں.‘‘
مجھے ایک شام ایک اجنبی خاتون ملنے آئیں کہ مجھے بس آپ کو دیکھنا ہے . خواب میں فلاںہستی کی زیارت ہوئی۔ حکم ہوا کہ فلاں شہرکی ’’قانتہ‘‘ سے ملو۔ وہ آپ کو آپ کے مسئلہ کا حل بتائیں گی۔ انہوں نے جس ہستی کی زیارت کا نام لیا۔ سن کر میرا وجود پانی پانی ہوگیا ۔ اتنی بڑی ہستی اور میں گناہ گار .میرا رواں رواں لرز ا تھا.
ایک دفعہ کینیڈا کے شہر’’وینکوور‘‘ سے فون آیا۔
’’میں ناہید بول رہی ہوں۔ بڑی مشکل سے آپ کا نمبر ملا ہے ’’شعاع‘‘ ڈائجسٹ سے آپ کا نمبر لیا ہے۔ آپ میری دوست بنیں گی۔ آپ کی والدہ کے بارے میں مضمون پڑھا تو میں اب روز ان کے ایصال ثواب کے لیے پڑھتی ہوں۔‘‘
اور پھر جب وہ پاکستان آئیں تو سینکڑوں میل کا سفرطے کرکے مجھ سے ملنے آئیں۔
مجھے یاد ہے کہ دوران حج روضہ رسول پر حاضری دی۔ رش بہت زیادہ تھا میری عربی نہ بولنے میں اچھی ہے اور نہ ہی سمجھنے میں . لیکن عربی کا ایک فقرہ بے ساختہ منہ سے نکلا تو ریاض الجنہ میں ڈیوٹی دینے والی عرب خواتین نے عقدت سے میرا ہاتھ پکڑ کے چوما اور روضہ رسول کی جالیوں کے پاس لا کھڑا کیا ۔ ’’صلو‘‘ درود پڑھوکہہ کرآگے بڑھ گئیں .
یہ سب میری زندگی کی پوٹلی کے قیمتی موتی ہیں۔ مجھے لوگوں سے جتنی محبت بلکہ عقیدت ملی ہے اس کا اظہار بھی نا ممکن ہے اور یہ مجھ پر اللہ کا فضل ہے۔ فبای آلائ ربکما تکذبان .
اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ ایک ریسرچ کے مطابق اردو میں مجھے ’’نعتیہ افسانہ‘‘ کی بانی قرار دیا گیا ہے اور یہ میرے لیے ایسا اعزاز ہے کہ اس کے سامنے دنیا کا ہر ایوارڈ ’’ریت کا رزق‘‘ ہے میری تحریروں سے قلب نبی ؐ اور عشق نبیؐ کی روحانی خوراک پڑھنے والوں کو ملتی ہے۔
خواتین تو خواتین ہیں، مجھے تو مرد قارئین کے تبصرے بھی موصول ہوتے ہیں۔ اور میری تحریریں عشق نبی ؐ کی آگ سلگاتی ہیں تو یہ بھی میرے لیے اعزاز ہے . اور چونکہ میرا تعلق ’’حریم ادب ‘‘سے ہے جوحلقہ خواتین جماعت اسلامی کا ادبی پلیٹ فارم ہے تو الحمد للہ کسی بھی رائیٹرکے لیے پلیٹ فارم میسر ہونا اور وہ بھی مثبت پیغام والا تو یہ بہت بڑا انعام ہے. اور اسی وجہ سے الحمد للہ میرے قارئین کا اچھا خاصا حلقہ ہے.حالانکہ میں ’’فیس بک‘‘ یا ٹوئیٹر پرنہیں ہوں۔ پھر بھی آج کے بچے بچیاں مجھے پڑھتے ہیں اور یہی میرا ٹارگٹ ہے۔
نوجوان نسل کو صحیح سوچ دینا اور قرآن سے جوڑے رکھنا ۔ باقی یہ کہ مسائل کہاں نہیں ہوتے ۔ دنیا تو ہے ہی قید خانہ۔ دارالعمل .آخرت کا دروازہ. جس نے اس گھاٹی کو آسانی سے پار کیا۔ ان شائ اللہ اگلے مراحل بھی آسان ہوتے چلے جائیں گے۔‘‘
’’عموماً خیال ہے کہ بہت مذہبی لوگ نہ صرف خشک مزاج ہوتے ہیں بلکہ دنیاوی ایکٹویٹی سے بھی دور ہوتے ہیں۔ جیسے سیاست اور دیگر ؟‘‘
’’لوگوں کا یہ خیال کہ مذہب سے وابستہ لوگ خشک ہوتے ہیں غلط ہے. الحمدللہ ہمارے خاندان میں حس مزاح کا لیول بہت ہی شان دار رہا ہے۔ سیاست ہمارا اوڑھنا بچھونا تھی۔ میرے ماموں حکیم احمد سعید سلیمانی ۔ جاوید ہاشمی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے ۔ خود بھی بلدیہ کے وائس چیئرمین رہے۔ مشرف کے دور میں ڈسٹرکٹ کونسلر رہے ۔ شادی کے فوراً بعد میرے میکے میں ایم این اے اور ایم پی اے کا انتقال ہوا تو ضمنی الیکشن کے لےے میاں نواز شریف سمیت تمام قیادت وہاں موجود تھی خواتین کی کمپیئن کے لیے ایم پی اے اور ایم این ایز، تہمینہ دولتانہ ، بشری رحمن ، سمیت بہت سی خواتین موجود تھیں۔
جہانیاں کی نمائندگی کے لیے میں ان کے ہمراہ تھی۔ جہانیاں سے جاتے جاتے تہمینہ دولتانہ نے مجھے اچھے عہدہ کی پیش کش کرتے ہوئے مسلم لیگ جوائن کرنے کوکہا۔ میں نے انکار کردیا۔ ظاہر ہے ہماری کمٹ منٹ ’’جماعت اسلامی‘‘ سے ہے۔ سو ہم ہنس دیے اور مسکرا بھی دیے۔
’’اور چلتے چلتے آخری سوال کہ اس انٹرویو کے ذریعے کچھ کہنا چاہیں گی؟‘‘
’’بس یہی کہنا چاہوں گی کہ یہ دنیا فانی ہے اور عارضی ہے جس میں ہم وقت بہت ضائع کرتے ہیں اور جتنا دکھ مجھے سنتوں کے ضیاع پر ہوتا ہے اور کسی بات پر نہیں ہوتا۔ سنتوں کو ہم نے صرف مدرسوں کی حد تک رکھا ہوا ہے یا پھر اس حد تک کہ دائیں ہاتھ سے کھالو اور جمعہ کو ناخن کاٹ لو۔ لیکن جلدی سونا‘ جلدی اٹھنا اور سب سے بڑی سنت جوجہاد کی ہے۔ ان چیزوں کو ہم نے اپنی زندگی سے نکال دیاہے۔ہم دنیا کی دل فریبیوں میں آگے آگے ہیں۔ پیغام یہی ہے کہ آنکھیں کھولیں‘ بصارت کے ساتھ۔بصیرت کے ساتھ اور دشمنوں کے وار کو پہچانیں۔‘‘
اور اس کے ساتھ ہی ہم نے ’’قانتہ رابعہ‘‘ سے اجازت چاہی شکریہ کے ساتھ کہ انہوں نے ہمارے ڈائجسٹ کے لیے انٹرویو دیا۔
٭٭


