اس ماہ آپ کی ملاقات گل ارباب سے کرارہے ہیں۔ گل ارباب کا شمار قارئین کی پسندیدہ مصنفین میں ہوتاہے۔ انہیں لکھتے ہوئے بہت عرصہ نہیں گزرا اس کے باوجود انہوں نے اپنی ایک پہچان بنالی ہے۔ گل ارباب کی کہانیوں کے کردار اسی معاشرے کے باسی ہوتے ہوئے بھی اس معاشرے سے تعلق نہیں رکھتے۔ وہ جن اعلا اقدار اور تہذیب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ اب خال خال ہی نظرآتی ہے۔
آیئے دیکھتے ہیں کہ گل ارباب نے ہمارے سوالوں کے کیا جواب دےے ہیں۔
’’ کیسے مزاج ہیں؟‘‘
’’ اللہ کا شکر ہے۔‘‘
’’ کچھ اپنے بارے میں بتائیں؟‘‘
’’ بالکل بتاؤں گی. مگر میں کچھ کہنا چاہتی ہوں آپ سے اور آپ کے ادارے سے ۔‘‘
’’ہوں.‘‘ اچھا. ضرور.
’’سب سے پہلے تو ادارے کی اور شاہین رشید صاحبہ آپ کی دل سے شکر گزار ہوں کہ مجھے اس قابل سمجھا. خواتین ڈائجسٹ ، شعاع اور کرن سے پہلے بہ حیثیت قاری، اور پھر بہ حیثیت لکھاری میری وابستگی کو برسوں بیت چکے ہیں. ادارے کے بڑے لوگوں سے خاص طورپر ’’امتل‘‘ آپا، روبینہ آپا، واصفہ سہیل صاحبہ اور شاہین رشید آپ سے دلی عقیدت اور پھر بھرپور محبت کا مضبوط اور میٹھا سا تعلق ہے۔ اور اس رشتے کی خوب صورتی کی وہ لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں جو برسوں سے اس رشتے کی سنہری ڈور میں بندھے ہوئے ہیں .
اپنے بارے میں بات کرنے کا موقع آئے تو میں اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتی ہوں۔ لوگ تو یونہی کہتے ہیں کہ اپنے بارے میں بات کرنامشکل ترین کام ہے۔ مجھے تو بہت مزہ آتا ہے اپنے بارے میں سب کچھ بتاکر. تو جناب حاضر ہیں گل کی گل افشانیاں۔‘‘
تو پھر گل بتایئے اپنے خوب صورت نام کا بیک گراؤنڈ ’’ارباب رحیم‘‘ سیاست دان سے اپنا رشتہ. اور فیملی بیگ گراؤنڈ.‘‘
’’پہلی بات تو یہ کہ میرا نام ’’گل ارباب‘‘ نہیں ہے۔ میرا اصلی نام’’فوزیہ آمنہ ارباب ‘‘ ہے. پشاور میں پیدا ہوئی اور یکم جولائی. میری تاریخ پیدائش ہے۔ ولدین کی پہلی اولاد ہوں۔ اور پہلی اولاد ’’پہلی محبت‘‘ جیسی ہوتی ہے۔ قیمتی، لادلی اور عزیز ترین۔ میں جب خیبرپختوانخوا کے تاریخی شہر پشاور میں پید اہوئی تو امی نے کہا کہ ’’فوزیہ‘‘ نام رکھنا ہے۔ ابو نے کہا کہ ’’آمنہ‘‘ اور یوں دونوں کے اتفاق رائے سے ’’فوزیہ آمنہ‘‘ رکھ دیاگیا۔
اور جناب ماشائ اللہ سے ’’ارباب ‘‘ فیملی پشاور کی ایک معزز فیملی ہے جس میں کافی ’’نامور سیاست دان موجود ہیں۔ اور اکثر لوگ سندھ سائیڈ کے بھی اور دیگر بھی آپ والا ہی سوال پوچھتے ہیں کہ ’’ارباب رحیم ‘‘ صاحب سے کیا تعلق ہے؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ ’’قسم لے لیں جو ان سے کوئی تعلق ہو. میں نے انہیں صرف ٹی وی اسکرین پر ہی دیکھاہے۔
اب بات کرتے ہیں ’’ گل‘‘ کی. ’’گل ‘‘ ہمارے یہاں پٹھانوں میں مقبول عام نام بھی ہے اور ایک طرح سے کئی رشتوں کو بھی یہ نام دیاجاتاہے۔ جیسے’’ پھوپھو‘‘ ،’’خالہ‘‘ ، ’’چچی‘‘ سب کو ’’بی بی گل‘‘ ، ’’خالہ گل‘‘ ، ’’ماہ گل‘‘،’’ شاہ گل‘‘ وغیرہ کہاجاتاہے ، اور میری کہانیوں کے کردار میں بھی’’گل‘‘ بہت استعمال ہوتاہے۔ ’’گل منا ‘‘،’’ گل پانڑا‘‘ ، ’’ گل جاناں‘‘ ، ’’ زرگل‘‘ اور خواتین کو چھوڑیں. ہمارے یہاں تو مرد حضرات کے نام بھی زیادہ تر گل پر ہی ہوتے ہیں. جیسے گل خان، گل شیر، گل ولی. یہاں تک کہ طوطی گل. شربت گل بھی ہوتے ہیں. (ہنستے ہوئے)
’’نام رکھنے کی ذمہ داری کس پر ہوتی ہے؟ والدین کے علاوہ؟‘‘
’’ والدین کی تو ہوتی ہی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں بلکہ سب کے یہاں نانی اور دادی کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے تو بہ صد احترما انہیں یہ ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے. تو وہ اپنے حساب سے سادگی میں اور محبت میں جو نام ذہن میں آتاہے وہ بول دیتی ہیں اور پھر وہ نام پتھر پر لکیر ہوجاتاہے۔
ا س پر ایک واقعہ آپ کو سناتی ہوں۔ یقینا آپ محظوظ ہوں گی. میری ایک دوست کی ’’ بیٹی‘‘ پیدا ہوئی۔ تو والدین نے اس کا نام ’’ سفینہ‘ رکھا ( کیونکہ بیٹی کے والد نیوی میں جاب کرتے تھے) دادی نے ’’ بہو بیٹے‘‘ کو ڈانٹا کہ یہ کیا نام رکھا ہے یہ تو ہندوستانی اداکاروں والا نام ہے۔
بچوں نے بہ صد احترام کہا کہ اماں آپ نام رکھ دیں۔تو دادی نے بچی کا نام ’’کرشمہ گل‘‘ رکھ دیا۔
سب نے کہا یہ تو ہندو نام ہے۔‘‘
تو فرمانے لگیں کرشمہ کے ساتھ گل رکھ کر مسلمان کرلیاہے۔
’’ میرا نک نیم ’’گل‘‘ ہے تو قلمی نام بھی یہی رکھ لیا۔ ہمارے یہاں معاشرتی اقدار کی پاسداری کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ صدیوں پرانی روایات کو بصد احترام سینے سے لگاکر رکھتے ہیں۔ سچ کہوں تو زندگی سے بھی زیادہ اہمیت رسم ورواج اور روایت کو حاصل ہے۔ اور ہمارے یہاں کی روایت یہ ہے کہ خواتین کی شکل وصورت اور آواز کے ساتھ نام کا بھی پردہ لازمی ہے۔ اس طرح پردہ بھی رہ گیا اور لکھنا لکھانا بھی جاری رہا۔
’’بہن بھائی. بچپن. تعلیم. شادی. ان کے بارے میں بتایئے؟‘‘
’’ہم ماشائ اللہ سات بہن بھائی ہیں۔ اور جیساکہ میں نے بتایا کہ میں گھر کی بڑی یعنی پہلی اولاد ہوں۔ میرے والد ایگرکلچر کے محکمے میں کام کرتے تھے جبکہ والدہ ہاؤس وائف ہیں۔
میرا بچپن بہت سخت دیہاتی ماحول میں گزرا۔ میں بہت ہی شرارتی بچی تھی۔ اور گڑیوں سے کھیلنے کے بجائے لڑکوں والے کھیل کھیلے ۔ جیسے ’’کنچے‘‘ کرکٹ ، فٹ بال، گلی ڈنڈا وغیرہ. گڑیوں کی شادیاں بھی کیں۔ مگر کم. میں نے لڑکوں کی طرح پتنگیں بھی اڑائی ہیں۔ اور اپنی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے والدین سے بہت ڈانٹ اور مار بھی کھائی۔
میں اکثر اپنے امی ابو سے کہتی ہوں کہ آپ نے مجھے بہت ’’کٹ‘‘ دی جبکہ دیگربہن بھائیوں نے مار ڈانٹ تو دور کی بات اس ذائقہ بھی نہیں چکھا ہوگا۔
تو امی کہتی ہیں کہ’’ تیرے جیسا شیطان اور شرارتی دوسرا کوئی نہیں تھا۔‘‘
دوسرے بہن بھائیوں پر میرا رعب تھا۔ میں اپنے سے دوسال چھوٹے بھائی کے لیے بھی ماں جیسی مہربان اور شفیق تھی۔ لیکن غلط بات پر چھڑی اٹھاکر دھنائی بھی خوب کرتی تھی. پڑھائی کا بہت شوق تھا۔ لیکن جیسا کہ ہمارے ہاں عموماً ہوتاہے کہ میٹرک کے بعد شادی ہوگئی۔ اس لیے پڑھنے کے حوالے سے سارے خواب ادھورے رہ گئے میں نے ہمت نہ ہاری مشکل ترین حالا ت میں بھی پرائیویٹ پڑھائی جاری رکھی اور . اور ماشائ اللہ میرے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔
’’لکھنے کے حوالے سے کچھ بتائیں. ڈائجسٹ پڑھنے کی اجازت کیسے ملی؟‘‘
’’لکھنے کے حوالے سے اگر پیچھے مڑ کر دیکھوں تو یاد کے دریچوں پر اک پل دستک دیتا ہے اور وہ پل ہے ’’ابو کا کہانیاں‘‘ سنانا۔ اور شاید لاشعور میں وہی بچپن کی کہانیاں محفوظ تھیں۔ اور ڈائجسٹ پڑھنے کی اجازت تو کسی سے نہیں مانگی بس خود ہی پڑھنا شروع کردیئے۔ یہی کوئی نو دس سال کی عمر سے ۔ ہوا یہ کہ ہمارے گاؤں میں چھوٹی چھوٹی ’’ہٹیاں ‘‘ ہوتی تھیں جس کے لیے لفافے بنانے کے لیے وہ لوگ ردی کاغذ لاتے اور گھر کی خواتین لفافے بناتی تھیں۔ ان ہی میں کچھ پھٹے پرانے ڈائجسٹ بھی ہوتے تھے۔ سب ہی ڈائجسٹوں کی ردی ہوتی تھی اور اس طرح ڈائجسٹوں سے میرا تعارف ہوا۔
میں ان دکانداروں کی بیٹیوں سے تھوڑے سے پیسوں کے عوض ڈائجسٹ لیتی اور پڑھ کر واپس کردیتی تھی۔
بس یہاں سے پڑھنے کاچسکا ایسا لگاکہ آج تک نہیںگیا۔ اردو ادب کو گھول کر پی لیاتھا میں نے. اور شاید بارہ سال کی عمر میں چھپ کر ایک کہانی بھی لکھ لی تھی۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب بچپن ہاتھ چھڑاکر جارہاہوتاہے اور جوانی ہاتھ بڑھارہی ہوتی ہے۔ سو بچپن اور جوانی کے سنگم پر میں نے لکھنا شروع یااو رپھر یہ سلسلہ چل ہی نکلا. نظمیں کہانیاں لکھ کر سہیلیوں کو پڑھنے کے لیے دیتی تھی۔ کچھ رسائل میں اور کچھ مقامی اخبارا ت میں کہانیاں بھیجیں جو کہ چھپتی رہیں۔
آزاد نظمیں میری پسندیدہ صنف ہے کیونکہ اس کا کینوس وسیع ہوتاہے چنانچہ آزاد نظمیں بھی بہت لکھیں۔ پھر نثر لکھ کر بھی رکھتی رہی کہ اوپر تلے بچوں کی پیدائش نے کچھ کرنے نہیں دیا۔ اندر کا خالی پن مجھے بے قرار رکھتا رہا۔ رات کو تکیے پر سر رکھتی تو کہانیاں میرے پاس آکر خود کو کھولنے لگتیں۔ تخلیقی جملے سرگوشیاں کرتے کہ ہمیں قرطاس پر سجادو، لیکن میں بچے کا فیڈر بناتے ہوئے یا پھر پیمپرز بدلتے انہیں کن اکھیوں سے دیکھتی تھی سب سے چھوٹی بیٹی ’’لیزا‘‘ کی پیدائش کے بعدمیں شدید ڈپریشن کا شکار ہوگئی۔ ماہر نفسیات کے پاس گئی تو انہوں نے کہا کہ آپ اپنے آپ کو اس کام میں مصرو ف کرلیں جس میں آپ کو خوشی ملتی ہے۔ لہٰذا لکھنے کا عمل دوبارہ شروع کیا کہ اسی میں میری خوشی تھی۔ اور لکھنے کا سلسلہ ان شائ اللہ سانسوں کی روانی تک رہے گا۔‘‘
’’ پہلی باقاعدہ تحریر کہاں شائع ہوئی اور معاوضہ کتنا ملا؟‘‘
’’ پہلی ادبی تحریر انڈیا کے ایک مشہور مجلے’’ ثالث‘‘ میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد مختلف پرچوں میں لکھتی رہی۔ تو میرا خود پر اعتماد بڑھنے لگا۔ کرن سے پہلا معاوضہ ملا تھا شاید گیارہ سو تھے۔ ان پیسوں سے میں نے بچوں کو سوپ پلادیا تھا۔ ‘‘
’’خواتین شعاع اور کرن میں آسانی سے جگہ بن گئی یا پاپڑ بیلنے پڑے؟‘‘
’’یہ ایک لمبی داستان ہے اور مجھے یہ بتاتے ہوئے کوئی شرمندگی نہیں ہوتی بلکہ میں اکثر رائٹرز سہیلیوں کے سامنے فخریہ اعتراف کرتی ہوں کہ میں دو سال تک اسی ادارے میں لکھ کر لکھ کر بھیجتی رہی اپنی کاوشیں لیکن کسی نہ کسی وجہ سے میری تحریر یں ریجیکٹ ہوتی رہیں۔ ادارے کے مزاج اور اصولوں کے مطابق لکھنے میں وقت لگا۔ میں سمجھتی ہوں کہ نئے لکھنے والوں کو پہلے یہ سیکھنا چاہیے کہ کس ڈائجسٹ میں کیسا لکھ کر بھیجنا ہے۔ ہر ڈائجسٹ کا اپنا ایک مزاج ہے۔ ہم جاسوسی ڈائجسٹ کے لیے خواتین ڈائجسٹ کے لیول کی کہانی لکھ کر بھیج دیں گے تو امتل آپا اور ان کی ٹیم یقینا اسے ریجکیٹ کرے گی۔ اور پھر ایک دن میرے خوابوں کو تعبیر ملی اور گل ارباب کی کہانی خواتین ، شعاع اور کرن میں شائع ہونے لگیں۔ میں بہت محنتی اور صبر کرنے والی بندی ہوں۔ جلدی ہمت نہیں ہارتی۔ اور شکر الحمداللہ اب تو ادارہ میری تحریریں چھاپ رہاہے۔ پوچھنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔
’’ آپ کی ہروئینز بڑی خوب صورت ہوتی ہیں۔ کیاآپ حسن پرست ہیں؟‘‘
’’ہاں. میری ہیروئن عموماً پٹھان ہوتی ہیں اس لیے نیلی یا سبز آنکھیں ، سنہری بال. سرخ وسفید رنگت، گلابی گال اور ہونٹوں پر کھلتے گلاب ضرور ہوتے ہیں۔ شاید مجھے ساری لڑکیاں ایسی ہی پیاری نظر آتی ہیں۔‘‘
’’آپ کی تحریر میں آپ کی اصل پہچان کیاہے۔ اور آپ کی مادری زبان ’ہند کو‘‘ ہے ۔ اپنی زبان میں کچھ لکھا؟‘‘
’’پاپولرفکشن ‘‘ اور ’’ادبی اسلوب‘‘ دونوں میری پہچان ہیں۔ دو ناولز کتابی شکل آچکے ہیں۔ اور مزید د و کتابیں عنقریب آنے والی ہیں جن میں ایک ادبی افسانوں کا مجموعہ ہے۔ اور دوسرا پاپولر فکشن پر مبنی ناول ہے۔ عالمی سطح پر افسانہ لکھنے کامقابلہ ہوا تھا۔ جس میں ساری دنیا سے لوگوں نے شرکت کی تھی۔ اور ججز تک یہ افسانے بغیر رائٹرز کے نام کے گئے تھے۔ دنیا بھر کے سینئر رائٹرز کے سو کے قریب انسانوں میں میر انمبر ’’تیسرا ‘‘ تھا جو میرے لیے بڑا اعزاز تھا۔ کہ پاپولر فنکشن کے ساتھ مجھے ادبی افسانے میں یہ مقام حاصل ہوا۔
اور آپ نے میری مادری زبان کی بات کی۔ تو جناب گندھارا ہند کو بورڈ سے حال ہی میں میں کتاب شائع ہوئی ہے جوکہ ’’ہند کو‘‘ سفر نامہ ہے اور اس طرح میں پہلی ہند کو سفر نامہ نگار خاتون کا اعزاز اپنے نام کراچکی ہوں۔ مادری زبان سے محبت کرنے والوں میں سے ہوں اس لیے یہ اعزاز بہت خوشی اور محبت سے سینے پر سجایا۔ ‘‘
’’ بہت خوب. ہر فیلڈ میں حسد کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ آپ کو کیسے لوگ ملے؟‘‘
’’ ہمیشہ بہت اچھے لوگ ملے۔ اور زیادہ تر تعریف ہی سننے کو ملی۔ ذات کے حوالے سے ایک دوست نے کہاتھا کہ اگر خود کشی کے لیے تیار بندہ ’’گل‘‘ سے دو گھڑی بات کرلے تو اسے زندگی سے محبت ہوجائے گی۔ تحریر کے حوالے سے بھی کافی اچھے الفاظ سننے کو ملے ہیں. اور کچھ لوگوں کا کہا ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتاہے۔ جب میری پسندیدہ رائٹر ’’اقبال بانو‘‘ آپا نے کہا کہ ’’ گل‘‘ تم تو کمال لکھتی ہو.جب ’’امتل‘‘ آپانے فون پر کہاکہ ’’گل ارباب ‘‘میں حیران ہوں کہ آپ پختون ہوکر اتنی اچھی اردو کیسے لکھ لیتی ہیں؟ لبنیٰ غزل، فارحہ ارشد، عنیزہ سید جیسی سینئر رائٹرز نے تعریفی جملے کہے تو بہت حیرت ہوئی۔ اور مجھے لگاکہ مجھے لکھتے رہنا چاہیے۔ اور قارئین کی ایک بڑی تعداد فیس بک ،میسنجروغیرہ پر اپنا رسپانس دیتی ہے اور جب کوئی قاری یہ کہتی ہے کہ گل آپ کی فلاح تحریر نے ہنسایا بھی اور رلایا بھی ،تب بہت خوش ہوجاتی ہوں۔
خاندان میں بھابھیاں، بہن وغیرہ خواتین، کرن اور شعاع اور بہت شوق سے پڑھتی ہیں. تو میری اصل مشہوری تو ان ڈائجسٹوں کی وجہ سے ہے ،ابو جی ڈائجسٹ خرید کر پڑھتے ہیں ،ناول اور ناولٹ پڑھ کر فون کرتے ہیں۔ پھر تعریف کرتے ہوئے اکثر ایک جملہ ضرو رکہتے ہیں کہ تمہارے پاس اس قدر ذخیرہ الفاظ کہاں سے آیاہے؟ میرے کرداروں کو ڈسکس کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ فلاں کردار نے تو بہت اداس کردیا. میری امی اخبارات کے اشتہارات تک پڑھ لیتی ہیں لیکن میری تحریر نہیں پڑھتیں۔ کہتی ہیں جب تمہارا ڈرامہ آئے گا تب وہ دیکھوںگی۔‘‘
’’تو پھر ڈرامہ کیوں نہیں لکھتیں؟‘‘
’’مجھے ڈراما لکھنے کا بہت شوق ہے اور اسکرپٹ رائٹنگ باقاعدہ سیکھی بھی ہے۔ اسکرین پلے اور پرنٹ میڈیا میں لکھنے کی ٹیکنکمیں بہت فرق ہے۔ ڈرامے کی لائن میں پہلی بار داخل ہونا مشکل ہے۔ لیکن اگر آپ میں صلاحیت ہے تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔ تو ان شائ اللہ جلد ہی وہ وقت آئے گا جس کا آپ سب کو بہت انتظار ہے۔‘‘
’’ گل آپ کے ناولز اور ناولٹ کے عنوان بہت منفرد ہوتے ہیں۔ اس کی کوئی خاص لاجک ہے؟‘‘
’’میرے لیے سب سے مشکل کام ’’عنوان‘‘ کا انتخاب ہوتاہے۔ اور اگر عنوان منفرد ہو تو قاری فوری طورپر متوجہ ہوتاہے۔ ایک بار روبینہ واجد سے فون پر بات ہوئی تو میں نے کہا کہ ایک ناولٹ لکھاہے جس کا عنوان ہے’’ سموسے کا سالن‘‘ وہ بولیں جلدی بھیجو اسی مہینے لگاؤں گی کہ عنوان بہت دلچسپ ہے یقینا کہانی بھی دلچسپ ہوگی۔ میں نے بھیجا اور وہ اسی ماہ لگ بھی گیا۔ میر اادبی افسانوں کا مجموعہ شائع ہورہاہے اس کا عنوان ’’دنداسہ‘‘ ہے جو مجھے بہت منفرد لگا۔ اور ہندو کو سفر نامہ کا عنوان ہے۔’’ تتلی تریل تے ترہمت (تتلی شبنم اور عورت)‘‘
’’آپ کے خیال میں پرنٹ میڈیا کی اہمیت کم ہوئی ہے یا ویسی ہی ہے جیسی پہلے تھی؟‘‘
’’ پرنٹ میڈیا آج بھی اہم ہے لوگ کہتے ہیں کہ ’’ کتاب سے محبت‘‘ کی یہ آخری صدی ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ جو والدین کتاب سے محبت کرتے ہیں ان کے بچوں کو وراثت میں یہ محبت ملتی ہے جو آگے ٹرانسفر ہوتی رہتی ہے۔ بے شک اہمیت پہلے سے کم ہو چکی ہے۔ لیکن اگر محبت باقی رہے تو اہمیت بھی بڑھتی رہے گی۔ مجھے تو نئے نکور ڈائجسٹ یا کتاب کی خوشبو آج بھی ہر خوشبو سے زیادہ اچھی لگتی ہے۔‘‘
’’ ادب کی کن شخصیات نے آپ کو بہت متاثر کیا؟‘‘
’’ پڑھنے کی ابتدا بچوں کی کہانیوں سے ہوئی. پھر ابن صفی کے عمران سیریز کا جادو سر چڑھ کر بولا. وہ ایک نشہ تھا۔ دیوانگی تھی۔ ردی والے ڈائجسٹوں کے علاوہ میرے اباجی کبھی کبھی ’’حکایت‘‘ اردو، سیارہ ڈائجسٹ اور سب رنگ ڈائجسٹ منگواتے تھے۔ ہمیں مردانہ ڈائجسٹوں کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن میں اور میر ابھائی چھپ کر یہ ڈائجسٹ بھی پڑھنے لگے۔ مجھے ان میں عالمی ادب کے تراجم پڑھنا اچھا لگتا تھا۔ شروعات میں، میں موپاساں، گورکی، لیو ٹالسٹائی اور چیخوف سے متعارف ہوئی۔ ان کی کہانیاں مجھے اچھی لگتی تھیں۔ سو اردو اور انگریزی ادب بھی خوب پڑھا۔ تارڑ صاحب مجھے بہت پسند ہیں ان کی ساری کتابیں پڑھ چکی ہوں۔‘‘
’’ بہت کچھ جان لیا آپ کے بارے میں. کچھ گھریلو اور نجی سوالات بھی ہوجائیں۔ مزاجاً کیسی ہیں؟ مصروفیات ، سیاست، اور امور خانہ داری؟‘‘
’’مزاج میں شوخی اور حساسیت ہے۔ میرا اسٹار کینسر ہے۔ اور تاریخ پیدائش لیڈی ڈیانا والی یعنی ’’ یکم جولائی‘‘ (سن وہ نہیں ہے )انسانیت کا درد میرے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو اہے۔ سوشل ورکر بھی ہوں اور خاتون کونسلر کا الیکشن بھی جیت چکی ہوں. لیکن اب سیاست سے دل اٹھ گیاہے۔ یہ میرے بس کی بات نہیں ہے. مصروفیات میں مطالعہ کرنا. آن لائن ونڈو شاپنگ کرنا. بچوں کے ساتھ وقت گزارنا۔ کیونکہ بچوں کے ابا اپنی جاب کی کی وجہ سے بچوں کوبھرپو ر توجہ نہیں دے سکتے۔
میں اب بھی بچوں کے رسائل میں کہانیاں لکھتی ہو اور لکھ کرچھوٹی بیٹی کو سناتی ہوں اور جو کہانی سن کر وہ ناک منہ نہ چڑھائے وہ فائنل کردیتی ہو۔ بہت سوشل ہوں دوست بہت ہیں۔ محفلیں جمانے کا شوق ہے گزشتہ دو سالوں سے مینگورہ سوات میں میاں صاحب کی پوسٹنگ ہے تو یہاں پاکستان بھر سے دوست احباب آتے ہیں تو پھر خوب گپ شپ رہتی ہے۔
آپ نے امور خانہ داری کے بارے میں پوچھا ہے تو یہ میں نہیں بلکہ سب ہی لوگ کہتے ہیں کہ میں انتہائی سگھڑ بندی ہوں۔ بچپن سے گھر کے کام کاج کےے ہیں۔ اور ماں کے ساتھ مل کر بہن بھائیوں کو سنبھالا ہے۔ شادی کے بعد بھی میرے سلیقے کے چرچے رہے ہیں سسرال میں۔ بہت مہمان نواز ہوں اس لیے آئے دن گھر میں دعوتیں ہوتی رہتی ہیں۔ پچاس ساٹھ لوگوں کا کھانا اکیلے بنالیتی ہوں۔ سلائی کڑھائی میں ڈپلومہ کیاہواہے۔ لکھنے کا وقت رات کو ملتاہے اور اکثر لکھتے لکھتے فجر ہوجاتی ہے۔ سیاحت کا شوق نہیں جنون ہے۔
چونکہ میرے میاں پولیس آفیسر ہیں تو ان کی پوسٹنگ مختلف علاقوں میں ہوتی رہتی ہے۔ اس طرح میرے شوق کی تسکین بھی ہوجاتی ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ ہم بھی جگہ جگہ گھومتے رہتے ہیں۔ نیا گھر، نیا شہر، نئے لوگ اور نئے کرداروں کے ساتھ۔ نئی کہانیاں بھی دریافت ہوتی رہتی ہیں۔ سوات ، مالاکنڈ، صوابی ، دیر، ایبٹ آباد ہر جگہ سے کئی داستانیں میرے ساتھ پشاور آتی ہیں اور میں سوچ کی زنبیل میں انہیں محفوظ کرتی رہتی ہوں۔ میں کئی ’’سفر نامے ‘‘ بھی لکھ چکی ہوں۔ پہاڑوں، دریاؤں، جنگلوں، میدانوں کی کہانیاں ، کاسنی، بنفشی ، زرد اور سفید جنگلی پھولوں کی کہانیاں. عورتوں کی روتی کرلاتی کہانیاں جن کا اختتام المیہ ہوتاہے لیکن میں ’’طربیہ‘‘ لکھتی ہوں۔ یہی تو فائدہ ہے کہانی کا ر ہونے کا۔ ‘‘
’’ آج کل کورونا کا ذکر نہ کرنا کورونا سے زیادتی والی بات ہوجائے گی۔ بہت خوف آتا ہے اس بیماری سے. آپ شکار ہوئیں اس کا؟‘‘
’’ میں نے اور پورے گھر نے کورونا وائرس سے اللہ کے کرم سے جنگ جیتی ہے۔ سارا گھر اس کا شکار ہوا تھا۔ لیکن میری حالت بہت خراب ہوگئی تھی۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ میں بستر پر رہی۔ سانسوں کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ پھپھڑوں کا انفیکشن اتنا پھیلا کہ دنیا کو حسرت بھری الوادعی نظروں سے بھی دیکھ لیاتھا اور یہ بڑی ہی عجیب سی کیفیت ہوتی ہے ۔ مانوس دنیا سے بچھڑنے اور نامانوس دنیا کی طرف روانگی کا یقین ہوجانے کے بعد بھی مہلت مل جانا آپ کو زندگی کے ناپائیدار ہونے اور اپنے اعمال کے خام ہونے کا احساس دلاتا ہے سب پیاروں کی دعاؤں سے اللہ نے نئی زندگی بخشی، شاید ا س نے مجھے موقع دینا تھا کہ میں اس کے بعد اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرسکوں۔ ان ہی دنوں کی صورت حال کو سپرد قرطاس کیاتھا۔
کورونا پر ذاتی تجربات پر مبنی تحریر لکھ کر خوتین بھیجی تو واصفہ جی نے کہا گل میں تو آپ کی تحریر پڑھ کر روتی رہی ہوں۔ اور ہم اتنا درد اپنے رسالے میں نہیں ڈال سکتے لوگ یہ سب پڑھ کر خوف زدہ بھی ہوں گے اور اداس بھی۔ بیماری کے دوران بہت سے جاہلانہ قسم کے رویے فیس کرنے پڑے۔ لیکن میرے لیے زندگی بہت اہم ہے۔ اس لیے اس کا صدقہ سمجھ کر نظر نداز کرتی رہی۔
’’ کس طرح کے لوگ پسند ہیں؟‘‘
’’کم گو لوگ پسند ہیں۔ جو تھوڑی تلے ہاتھ رکھے آنکھوں میں حیرانی بھرے میری باتیں غور سے سنتے رہےں اور درمیان درمیان میں کھلکھلاکر ہنس بھی دیں۔‘‘
’’ زندگی سے کیا سیکھا؟‘‘
’’عمر گنوا کر یہ راز پایا ہے
سب ہی رشتوں کی روح مایا ہے‘‘
’’یہ سیکھاہے‘‘
اس کے ساتھ ہی ہم نے ’’گل ارباب‘‘ صاحبہ سے اجازت چاہی ۔ اس شکرےے کے ساتھ کہ انہوں نے ہمیں وقت دیا۔
٭٭


