سائرہ رضا، ہماری مشہور معروف رائٹر، سب کو عزیز ہیں۔ اللہ انہیں سلامت رکھے. تقریباً دوڈھائی سال قبل ہم نے ان کا ایک تفصیلی انٹرویو کیاتھا جس میں ان کی ناول نگاری اور افسانہ نگار ی پر بات ہوئی تھی. اور آج ہم جو انٹرویو کررہے ہیں وہ ان کے ڈراموں کے حوالے سے ہے. ان دنوں ان کے دوسیریلز آن ایئر ہیں۔’’محبت داغ کی صورت‘‘ اور ’’میرے ہمسفر‘‘ جو کہ بہت پسند کیے جارہے ہیں۔
’’کیسے مزاج ہیں؟‘‘
’’اللہ کاشکر ہے ۔‘‘
’’آج کل آپ کے دو ڈرامہ سیریل بہت ہٹ جارہے ہیں جو ڈرامہ ہٹ نہیں ہوتاہے۔ اس کا کیا پیمانہ ہوتاہے۔ اسٹوری یا پھر ڈائریکشن؟‘‘
’’ایک اچھے ڈرامے کے لیے ٹیم ورک بہت ضروری ہے۔ نہ اسٹوری سے نہ ڈائریکٹر سے اور نہ ہی بھرپور پبلسٹی سے ڈرامے کی مقبولیت میں اضافہ ہوتاہے۔ یہ سب لوگ مل کر جب ایک ٹیم کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ‘متحد ہوکر کام کرتے ہیں تو ڈرامہ مقبول ہوتاہے اور میرا خیال ہے کہ ڈرامہ کس چینل سے آن ایرہے‘ اس سے بھی فرق پڑتا ہے۔ ‘‘
’’ڈرامے کی پرموشن کے دو طریقے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اچھا ڈرامہ ہے ‘لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں اور پھر دیگر لوگ اس کی تعریف سن کر اس ڈرامے کو دیکھتے ہیں اور دوسر اطریقہ یہ ہے کہ ڈرامے کی برائیاں شروع کردی جاتی ہیں ‘چاہے یہ حقیقت ہو یا نہ ہو۔ اور پھر برائی اتنی زیادہ وائرل کردی جاتی ہے کہ لوگ اسے دیکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ دیکھیں تو سہی اس میں کیاہے۔ اچھائی اور برائی دونوں لوگوں کو ڈرامے دیکھنے پر مجبور کردیتی ہے۔ پھر اداکاروں کی وجہ سے بھی ڈرامہ دیکھا جاتاہے۔‘‘
’’مجھے آپ کی اس بات سے اختلاف ہے کہ ڈرامہ کی برائیاں سن کر بھی لوگ ڈرامہ کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ میرے سامنے تو اگر کوئی کہے کہ فلاں ڈرامہ برا ہے تو میں تو کبھی بھی نہ دیکھوں؟‘‘
’’ہوسکتا ہے ایسا ہو۔ لیکن جہاں تک میری بات کا تعلق ہے تو میں نے ایسا ہی دیکھا ہے۔ اور میں یہ بھی کہوں گی کہ ڈرامہ پرموٹ کرنے کے لیے تو ایک علیحدہ انڈسٹری ہے جو ڈراما انڈسٹری سے ہٹ کرہے۔‘‘
’’سنا ہے کہ رائٹرز کے اسکرپٹ چوری ہوجاتے ہیں یا پھراس میں اتنی تبدیلیاں کردی جاتی ہیں کہ اصل کہانی دب کر رہ جاتی ہے. کیا ایسا ہے؟‘‘
’’اسکرپٹ چوری والی بات پر میں یہ ضرور کہوں گی کہ ایسا ہوتا ہوگا لیکن الحمداللہ میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ اور جہاں تک تبدیلیوں کی بات ہے تو جیو نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔ بلکہ تبرک کی طرح میرے اسکرپٹ کو لیا اور کچھ بھی تبدیل نہیں کیا. اور اے آر وائی اپنی مرضی کے بغیر ایک نقطہ بھی نہیں ڈالنے دیتا اس نے اپنی جو لائن اور لینتھ رکھی ہے ‘ رائٹر کو اس کے اوپر ہی چلنا ہوتاہے۔
اور جو رائٹرز چوری کا یا تبدیلی کا کہتے ہیں ہوسکتاہے کہ ان کے ساتھ ایسا ہوا ہو۔ مگر میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ مجھے تو بحیثیت رائٹر کے بہت زیادہ عزت ملی ہے ۔ اتنی کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ مجھے اس فیلڈ میں عزت واحترام اور مان سب کچھ ملا.‘‘
’’ڈراموں کے موضوعات کے بارے میں کیا کہیںگی؟ اور آج کل سازشوں والے ڈرامے بھی بہت ہورہے ہیں اس کے بارے میں بھی کچھ کہیں؟‘‘
’’شاید آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ’’بی بی سی ‘‘ جیسے بڑے ادارے نے ہمارے ڈراموں پر تبصرہ کرتے ہوئے پوری دنیا کے آگے یہ سوال رکھا کہ ’’کیاپاکستان میں آج بھی پھوپھی کے بیٹے سے شادی کرنے کا پریشر ہوتاہے۔‘‘
اور موضوعات کے حوالے سے آپ کو بتاؤں کہ آج کل میرا ایک ڈرامہ آن ایئر ہے۔ ’’محبت داغ کی صورت‘‘ اس کی کہانی بالکل حقیقت پر مبنی ہے۔ اس میں ،میں نے دکھایا ہے کہ لڑکا لڑکی کے نکاح کے بعد بھی رخصتی کے لیے ایک لمبا پریڈ مانگ لیاجاتاہے اب جن کا نکاح ہوا ہے ‘وہ قانونی طورپر میاں بیوی ہیں۔ میاں بیوی کا رشتہ بہت مضبوط ہوتاہے اور نکاح کے بعد دونوں میں ایک ریلیشن شپ بھی قائم ہوجاتاہے اور اس تعلق میں اگر بچہ پیدا ہوجائے تو وہ بچہ جائز ہوتے بھی ایک سوالیہ نشان بن جاتاہے۔
یہ میرے ڈرامے کی کہانی ہے مگر میں نے کہیں اس کہانی پر کسی کو بات کرتے ہوئے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ تو مجھے بہت افسوس ہوا ‘تعریف نہ سہی تنقید ہی کردیں۔
اور جہاں تک سازشوں والے ڈراموں کی بات ہے تومیں آپ کو ایک بات بتاتی ہوں کہ میری امی اور میری بھابھیاں فل سازش والے ڈرامے جو آج کل دو بڑے چینلز سے آن ایئر ہیں اتنے شوق سے دیکھتی ہیں کہ پلک بھی نہیں جھپکتیں. حتیٰ کہ میری امی نے میری بہن سے کہا کہ تم مجھے اس ٹائم فون نہیں کرنا ۔میں ڈرامہ دیکھ رہی ہوتی ہوں۔ ‘‘
حالانکہ امی کوئی ڈرامہ نہیں دیکھتیں لیکن ان دو ڈراموں کو دیکھا تو ان کے ساتھ جڑ گئیں. ایسا نہیں ہے کہ سب ڈرامے ہی ایسے ہوتے ہیں۔ بعض ڈرامے بہت اچھے ہوتے ہیں جیسے ’’بچھڑ گئے‘‘ جس کی کچھ اقساط میں نے دیکھی ہیں ۔ مگر لوگ اسے نہیں دیکھ رہے۔ انہیں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے ۔ اس ڈرامے سے.
وہ زمانے گزر گئے جب ہمارے بچپن میں ہمارے ماں باپ اشفاق احمد اور دیگر رائٹرز کے ڈرامے دیکھتے بھی تھے اور سمجھتے بھی تھے. مگر ہمیں جو چیز کھلائی گئی پلائی گئی‘ ہم اس کے عادی ہوگئے ہیں۔ ‘‘
’’اب میرے ہی دونوں ڈرامے جن میں ایک ڈرامہ ’’میرے ہمسفر‘‘ روایتی گھریلوکہانی ہے جس میں تھوڑی بہت سازشیں بھی ہیں جذبات بھی ہیں. میری کوشش ہے کہ اسے کافی حد تک نیچرل رکھوں. لیکن میرا ڈرامہ ’’محبت داغ کی صورت‘‘ جو سر سے پیر تک ایک انوکھی کہانی ہے اور امتل بھی اس بات کی گواہ ہیں کہ آج تک اس موضوع پر کسی نے نہیں لکھا. اور ٹیلی ویژن اسکرین پر بھی اس موضوع پر کوئی ڈرامہ نہیں دکھایاگیا۔ مجھے افسوس ہے کہ اس کو جتنی پذیرائی ملنی چاہیے تھی وہ نہیں ملی۔
’’میں جس رائٹر سے بھی انٹرویو کرتی ہوں‘ وہ یہی کہتے ہیں کہ الحمداللہ ہماری تحریروں کے ساتھ کوئی گڑ بڑ نہیں ہوئی۔ تو پھر یہ کون لوگ ہوتے ہیں جن کے ساتھ بہت کچھ ہوجاتاہے۔ گڑ بڑ سب کے ساتھ ہوتی ہے مگر کوئی بتانا پسند نہٰیں کرتا اور یہ بھی بتائیں کہ فنکار آپ سے رابطے میں رہتے ہیں؟‘‘
’’میں ایسا اس لیے کہہ رہی ہوں کہ میں نے جتنا کام کیاہے ‘وہ میرے ناولز پر ہوا ہے اور ناولز کو زیادہ چھیڑا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ وہ اپنا ایک مضبوط اسٹرکچر رکھتے ہیں. ‘‘
جو رائٹرز شکایت کرتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ وہ کس سینس میں کررہے ہوتے ہیں. ویسے میں نے ایسے قصے سنے ضرور ہیں . اور اس کی ایک چھوٹی سی مثال دوں کہ ایک رائٹر نے پنجاب کے بیک گراؤنڈ پر کہانی لکھی۔ اس کی چھ سات اقساط لکھیں اوروہ پاس بھی ہوگئیں۔ مگر اچانک چینل نے کہہ دیا کہ ہم نے پنجاب بیک گراؤنڈ کہانی نہیں چلانی بلکہ اردو بیک گرانڈ میں چلانی ہے جو پورے ملک میں سمجھی جائے۔ تو پھر اس رائٹر نے اپنی اقساط کی زبان وبیان کو تبدیل کیا اور اسے اردو بیک گراؤنڈ میں کردیا۔
تو اگر یہ تبدیلی ہے تو پھر اس طرح کی تبدیلیاں تو کرنی پڑتی ہیں ۔آپ نے فنکاروں کا پوچھا تو ویسے بات ہوجاتی ہے لیکن ڈراموں کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔ آپ نے یہ بات بھی بالکل ٹھیک کہی کہ فنکاروں کی اکثریت کو ڈرامہ رائٹرز کے نام معلوم نہیں ہوتے۔‘‘
’’سائرہ! آپ کے ڈرامے کافی ہٹ ہوتے ہیں تو ان کو دیکھ کر کسی فلم پروڈیوسر نے آپ سے رابطہ کیا؟‘‘
’’فلم کے لیے کسی نے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی میں نے اس بارے میں کبھی سوچا. کیونکہ ابھی جو زندگی میں چیزیں ہورہی ہیں ‘ان کے بارے میں بھی کبھی سوچا نہیں تھا. چونکہ انہوں نے ہونا تھا تو وہ ہوگئیں۔
قدرت کا جوبہائو ہے اس پر میں نے اپنے آپ کو چھوڑ دیا ہے‘ وہ مجھے جہاں لے کر چلی جائے گی۔ میں چلی جاؤں گی۔ کیونکہ مجھے لگتاہے کہ میری زندگی پر میرا کوئی اختیا رنہیں ہے جتنا مجھے لگتاہے۔ تو میں نے اپنے آپ کو ’’فطرت‘‘ پر چھوڑ ہوا ہے۔‘‘
’’اپنے ڈراموں سے آپ مطمئن ہیں؟
’’یہ بہت مشکل سوال ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ’’دل موم کا دیا ‘‘ بہت اچھا تھا تو میں بھی مطمئن ہوں. مجھے ’’گھمنڈ‘‘ کی کہانی بہت پسند تھی۔ بہت خوب صورت کہانی تھی۔ اسی طرح’’محبت داغ کی صورت‘‘ میرے دل کے بے تحاشا قریب ہے۔ بے تحاشا سے بھی زیادہ . اس کا ایک ایک جملہ دل کے قریب ہے۔
اور ’’میرے ہمسفر‘‘ بڑی محنت سے لکھی جانے والی کہانی ہے۔ اور اس سیریل میں دادی کا کردار لکھتے وقت میری ذہنی کیفیت کیا تھی بیان نہیں کرسکتی اور دادی کے کردار سے دیگر کردار خود بخود پیدا ہونے لگے۔ دادی کا ایک جملہ دوسروں کے جملوں کو بنیاد فراہم کرتاتھا۔ ‘‘
’’کبھی یہ خواہش ہوئی کہ فلاں ڈائریکٹر یا پروڈیوسر کے لیے کام کروں. مطلب لکھوں؟‘‘
’’یقینا جو اچھا کام کرتے ہیں ‘ہماری بھی خواہش ہوتی ہے کہ ہم ان کے ساتھ کام کریں. لیکن اگر آپ فنکاروں کی بات کریں تو مجھے بہت سخت شکایت ہے۔ گلہ ہے ، ملال ہے اس بات کا کہ بہت سے فنکاروں کی ایک لسٹ ہے جنہوں نے اپنے آپ کو مختلف ڈائریکٹر ‘پر وڈیوسر ز اور رائٹرز کے ساتھ جوڑ لیا ہے کہ ہمیں بس ان ہی کے لیے کام کرنا ہے.
تو ہوتا یہ ہے کہ پھر وہ نئے رائٹرز کے لیے کام نہیں کرتے تو میں اور میرے جیسے نئے رائٹرز اپنی انسلٹ محسوس کرتے ہیں۔ بہت سے فنکار ایسے ہیں جو کام کرنے سے صرف اس لیے انکار کردیتے ہیں کہ یہ نئے رائٹر ہیں ہم انہیں نہیں جانتے اس لیے ہم ان کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔
اور اب تو بہت سے فنکاروں کی شادیاں ہوگئی ہیں۔ کافی لوگ فلم کی طرف چلے گئے ہیں تو ہمیں وہ اچھے فنکار ہی نہیں ملتے جن کے لیے ہم چاہتے ہیں کہ یہ ہمارے ڈراموں میں کام کریں. تو بس ہمیں اور دیگر نئے رائٹرز کو بہت گلہ ہے۔‘‘
’’یہ سوال میں ضرور کرتی ہوں ڈرامہ رائٹرز سے کہ آپ اپنے ڈراموں میں تمام مسائل بڑی آسانی سے حل کرلیتی ہیں۔ اصلی زندگی میں ایسا ہوتاہے کیا؟‘‘
’’اس کا یہی جواب ہے کہ رئیل لائف کے مسائل ہم نہیں حل کرسکتے ‘ہم تو کوشش کرتے ہیں. لیکن کامیاب نہیں ہوتے۔ اللہ ہی چاہے گا تو حل ہوں گے ۔ہاں کوشش اور محنت سے کچھ چیزوں کو آپ اپنے حق میں ضرور کرسکتے ہیں۔ اور شاید یہ انسانی فطرت کی خوش فہمی یا خوش گمانی ہوتی ہے رائٹر کی کہ ہم چیزوںکو اچھا دکھاتے ہیں۔
اور چیزوں کو برا دکھاکر دیکھنے والے اور پڑھنے والے کا دل برا کرنا بھی ہمارا ہی کام ہے۔‘‘
’’کیا ہم ڈراموں میںا نڈین کلچر سے کچھ زیادہ ہی متاثر نہیں ہوگئے۔ پہلے دو رجیسے ڈرامے کیوں نہیں لکھے جارہے ؟‘‘
’’پہلے جیسے ڈرامے کیوں نہیں لکھے جارہے ۔ اس کا میں جواب دینا چاہوں گی۔ ضیائ دور اور ان سے بھی پہلے کے زمانے کے لیے ہم کہتے ہیں کہ میڈیا پر بڑی پابندی تھی. لیکن اس زمانے میں بہترین ڈرامہ پیش کیاگیا۔ ہم یعنی رائٹرز کسی بھی موضوع پر ڈرامہ لکھ سکتے تھے۔ تو پابندیاں پہلے نہیں تھیںپابندیاں اب ہیں۔
آج کل کے ڈراموں میں آپ صحافی کو ہیرو نہیں بناسکتے۔ پولیس والے کو نہیں دکھاسکتے۔ سیاست پر لکھنے کی اجازت نہیں ہے، سیاست دانوں پر نہیں لکھ سکتے۔ یعنی اس طرح کے جتنے بھی متنازع موضوعات ہیں ‘ان پر نہیں لکھ سکتے۔ اسمگلنگ پر نہیں لکھ سکتے ورنہ ایک زمانے میں کوئٹہ اور پشاور کے ڈرامے ان ہی موضوعات پر لکھے جاتے تھے۔
مگر اب جبکہ سارے اہم موضوعات پر پابندی لگادی ہے تو پھر رائٹرز کیا لکھیں۔ بس اب یہی کچھ بچا ہے جس میں ساس بہو اور گھر کے مسائل. لوگ ہم رائٹرز سے کہتے ہیں کہ آپ ساس بہو کے مسائل پر لکھتی ہیں تو ایک تو وجہ موضوعات کی کمی ہے اور دوسری یہ وہ سچائی ہے جو ہم لوگوں کو دکھانا چاہتے ہیں۔ ایک لڑکی اٹھارہ بیس سال والدین کے گھر سے بیاہ کر دوسرے گھر جاتی ہے وہاں ایک عورت اس کے ’’اٹھنے بیٹھنے بلکہ ہر طرح کی حرکات وسکنات پر نظر رکھتی ہے تو وہ لڑکی اس ماحول میں جو زندگی جی رہی ہوتی ہے وہ پھر اللہ ہی جانتا ہے۔
تو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ بیاہ کر آنے والی کی بھی کچھ خواہشات ہیں۔ اپنی ایک زندگی ہے۔ اسے جینے دیں. مجھے ڈراموں میں چٹیا پکڑ کر گھر سے نکالنے والے سین بالکل پسند نہیں اور مجھے شدید اعتراض ہے۔ لیکن ابھی ہمارے ہی خواتین ڈائجسٹ میں ایک لڑکی نے خط لکھا کہ میری ساس ‘نندوں اور جیٹھوں نے آدھی رات کو مجھے گھر سے نکال دیا ۔میرا شوہر دیکھتا رہا میں رات کے دو ڈھائی بجے ایک کونے میںجاکر کھڑی ہوگئی پھر تھوڑی دیر کے بعد میرا شوہر آیا اور کہنے لگا کہ تم چلی جاؤ مجھے معاف کردو کہ میں اپنی ماں کے آگے نہیں بول سکتا۔ ‘‘
تو میں یہ پڑھ کر دنگ رہ گئی کہ ہم تو ڈرامے میں یہ سب کچھ دکھاتے ہیں مگر حقیقی زندگی میں بھی یہ کچھ ہوتاہے۔
آپ کے اس سوال کے جواب میں کہ ہم انڈین سوپ سے متاثر ہوگئے ہیں۔ تو یہ سچ ہے کہ ہم نے ان سے ضرور اثر لیا ہے وہاں کی جو رنگیلی چمکیلی اسکرین ہوتی ہے ‘وہ ہمارے ناظرین کو اچھی لگتی ہے تو ہم نے بھی کوشش کی کہ ان کی طرح ہوجائیں تاکہ وہ ہماری طرف آئیں ۔ اب پتا نہیں اس میں ہم کتنے کامیاب ہوئے ہیں یا نہیں بھی ہوئے ہیں.
خیر. ہمارا ایک ڈرامہ چلتا تھا جس پر بہت جان ماری جاتی تھی کہ بہترین ہو. پھر سات بجے ایک ہلکا ڈرامہ چلتا تھا اور نو بجے ڈرامے کا کوئی تصور نہیں تھا اب ہمارے بڑے چینلز میں ڈور لگ گئی ہے کہ سات بجے کے لیے پھر آٹھ بجے کے لیے پھر نو بجے کے لیے بھی ڈرامہ چاہیے جبکہ کہانیاں ہمارے پاس محدود ہیں۔ آخر اب اتنی کہانیاں کہاں سے لائیں گے؟
مجھے لگتاہے کہ کچھ عرصے میں ہم سب خالی ہوجائیں گے پھر اس وقت سات بجے اور نو بجے کا کیا کریں گے؟ تو میں کہتی ہوں کہ ہمارے چینلز کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہے. یہ تو حقیقت ہے کہ عوام کو جو دکھائیں گے وہ دیکھ لیں گے اس لیے سات اور نو بجے کے سلاٹ کے بارے میں آپ سے سوچیں کہ کیا کرنا ہے۔
کوئز شورکھ لیں۔ کالج یونیورسٹیز کی ایکٹیو ٹیز رکھ لیں۔ فن وثقافت کے بارے میں کچھ کرلیں. پھر انٹرنیشنل دنیا کا پورا فارمیٹ ہمارے سامنے ہے۔ ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اور جب آپ اپنے پروگراموں میں ورائٹی رکھیں گے تو نہ صرف ناظرین اسے دیکھیںگے بلکہ مقابلے کی فضا بھی پیدا ہوجائے گی۔
رمضان المبارک میں گیمز شو کے نام پر ہم بڑی بڑی گاڑیاں دیتے ہیں تو جب آپ ذہنی آزمائش کے پروگرام کریں گے تو یقین کہ آڈینس ٹی وی اسکرین کے آگے بیٹھے گی ۔
’’ماشائ اللہ اتنا کچھ لکھ رہی ہیں. کچھ حاصل وصول بھی ہوا ہے کچھ پلاٹ لیے ‘گھر لیا. یا کچھ بھی نہیں؟‘‘
’’ایسا نہیں ہے کہ کچھ حاصل نہیں ہوا۔ میں نے گھر بنایا۔ بس بنالیا ایک سرچھپانے کا آسرا سفید پوشی کے ساتھ۔ ہم دونوں میاں بیوی نے محنت کی گاڑی کے دو پہیوں کی طرح اور گھر بنایا۔ انتھک محنت کی. مجھ میں اور ایک محنت کش عورت میں کوئی فرق نہیں۔‘‘
’’بچپن پر ایک نظر دوڑائیں تو مالی اعتبار سے کیسا پاتی ہیں۔ وہ وقت اچھا تھا یا یہ وقت ؟‘‘
بچپن سفید پوشی کا تھا۔ مڈل کلاس گھرانہ تھا امی گورنمنٹ اسکول ٹیچر تھیں اور ابو ٹیکسٹائل ڈیزائنرتھے مگر ان کے ساتھ یہ ٹریجڈی ہوئی کہ نوجوانی میں ہی وہ بینائی سے محروم ہوگئے۔ جس کی وجہ سے وہ کام نہیں کرپاتے تھے تو پھر ایسے حالات میں امی کی ہی ساری کوشش اور ذمہ داریاں تھیں۔جو انہوں نے احسن طریقے سے پوری کیں. لیکن اس زمانے میں پیسے کی زیادہ اہمیت نہیں تھی اور نہ ہی ضرورت ،جتنی ضرورت آج ہے۔ ہمیں کبھی احساس نہیں ہوا تھا کہ ہم نے کیا کھایا ہے کیا پہناہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ گزرجانے والا وقت زیادہ بہتر لگتاہے۔ مگر میں پھر بھی کہوں گی کہ گزرا زمانہ خاصا بہتر تھا۔ ‘‘
’’ڈائجسٹ کے حوالے سے بتائیں کہ کون پسند ہیں اور ڈرامے کون سے شوق سے دیکھتی ہیں؟‘‘
’’ڈرامے تو میں وہ دیکھتی ہوں جو مجھے اپنی طرف کھینچ لیں۔اور جہاں تک ڈائجسٹ کی بات ہے مجھے ہر رائٹر کی کہانی پسند ہے .مجھے سمیرا حمید کی تحریریں پسند ہیں’’ایمل رضا کی کہانی کومیں نے سانس روک کر پڑھا۔ نمرہ احمد مجھے پسند ہیں ان کی کہانی آج کل پڑھ رہی ہوں. نعیمہ ناز کو بہت دلچسپی سے پڑھتی ہوں اور نئے لکھنے والوں کو میرا ایک پیغام ہے کہ تمہیں کوئی پڑھ رہا ہے یا نہیں لیکن سائرہ رضا تمہیں ضرور پڑھتی ہے اور پسند بھی کرتی ہے اور مجھے ہر کہانی میں لکھنے والے کی تخلیقی صلاحیتیں نظر آجاتی ہیں کہ یہ آگے چلے گی یا نہیں۔
مجھے ہر رائٹر اچھا لگتا ہے کسی کو برا نہیں کہتی۔میں رشک کرتی ہوں اور اتنا کرتی ہوں کہ کہیں وہ ’’حسد‘‘ کو چھولے تو پھر میں استغفار پڑھ لیتی ہوں۔‘‘
’’اسکرپٹ رائٹنگ سیکھی آپ نے۔کیا بات ہے کہ ڈائجسٹ سے دور ہوگئی ہیں-‘‘
’’اسکرپٹ رائٹنگ کہیں سے سیکھی نہیں.جب میں پہلی مرتبہ گئی تھی تو میں نے بتادیا تھا کہ مجھے اسکرپٹ لکھنا نہیں آتا تو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے آپ باآسانی کرسکتی ہیں.میں نے اسکرپٹ لکھے مگر مجھے ابھی بھی لگتا ہے کہ بہت چیزیں سیکھنے والی ہیں ۔
میںنے اپنی ہی غلطیوںسے اسکرپٹ لکھنا سیکھا ہے۔ 2018 سے لے کر یعنی تین سالوں میں میں نے صرف اسکرپٹ ہی لکھے. اور میں نے خود کے ساتھ یہ زیادتی کی کہ میں ڈائجسٹ کو زیادہ ٹائم نہیں دے سکی .جس کی وجہ یہ تھی کہ مجھ پر اسکرپٹ کا اتنا پریشر پڑگیا کہ دماغ میں جو تخلیقی صلاحیت تھی اور ناول جو مجھے کھینچتا تھا کہ آئو مجھے لکھو ‘وہ جو ہاتھوں میں خارش ہونے لگتی تھی وہ کہیں’’مس‘‘ ہوگئی پتا نہیں کہاں چلی گئی۔وہ دل چاہنا نکل گیا۔کہانیاں دماغ میں آتی رہیں وہ ٹوٹتی رہیں اور ضائع ہوتی رہیں۔
’’چلیں‘ بہت باتیں ہوگئیں.کچھ اپنے بارے میں بتائیں کہ سگھڑ ہیں یا نہیں۔
’’سگھڑ ہوں یا نہیں یہ تو میرے قریب رہنے والے یا مجھے جاننے والے ہی بتائیںگے۔گھر کے سارے کام میں خود کرتی ہوں۔ہوٹلنگ کا شوق مجھے بالکل نہیں ہے۔میرے گھر میں دو ہی صورتوں میں کھانا باہر سے آتا ہے۔ گھر میں کوئی بیمار ہو یا پھر گیس نہ آرہی ہو۔یا پھر گھر سے باہر کہیں گئے ہوئے ہیں اور کھانے کا ٹائم ہوگیا ہے تو کھانا باہر کھالیتے ہیں۔‘‘
’’کیا پسند ہے کھانے میں۔چٹوری ہیں؟-
’’میں بے حد سادہ خوراک کھاتی ہوں۔اتنی سادہ جتنا سفید کاغذ ‘میں تو سوکھی روٹی پھیکے دہی کے ساتھ بھی بڑے مزے سے کھاتی ہوں۔چائے کاکپ مجھے ہر وقت چاہیے ۔میں نے اپنی اب تک کی زندگی میں پیزا شاید تین سے چاربار ہی کھایا ہوگا۔
آئس کریم مل جائے تو کھالیتی ہوں نہ ملے تو کوئی بات نہیں۔چاکلیٹ کا بھی کوئی خاص شوق نہیں۔البتہ مولیاں اور گاجریں کھانے کا شوق ہے‘گاجریں میں کلو کلو کے حساب سے کھاجاتی ہوں‘یعنی میں کام کررہی ہوں اور گاجریں کاٹ کے رکھی ہوئی ہیں تو میں چاٹ مسالا لگا کر کھاتی رہتی ہوں.چٹوری نہیں ہوں۔کھانے میں دیسی چیزیں پسند ہیں۔ ٹریولنگ کا شوق اب نہیں ہے۔ہاں ذہنی طور پر اتنی پرسکون ہوجائوں تو شاید کہیں نکل جائوں۔
میرا ایک چھوٹا سا پرابلم ہے کہ روڈپر جو ٹریفک کارش ہوتا ہے ‘اس سے مسئلہ ہوتا ہے ۔میں اگر گاڑی میں بیٹھی ہوں تو گاڑی کو مستقل چلنا چاہیے۔ اور اب تو یہ صورت حال ہے کہ سگنل پر رکی ہوئی گاڑی بھی مجھ سے برداشت نہیں ہوتی .گھر سے نکلنا ہو تو ایسے وقت میں نکلتی ہوں جب روڈ پر ٹریفک کارش نہ ہو-
اور اس کے ساتھ ہی ہم نے سائرہ رضا صاحبہ سے اجازت چاہی۔اس شکریے کے ساتھ کہ انہوں نے ہمیں وقت دیا-
٭٭


