راحت اور راحت – عروج عالم

افسانے 72

اس نے پر امید لیکن بے چین نگاہوں سے لیڈی ڈاکٹر کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے پہلو بدلا۔

وہ اپنے وقت سے پہلے ہی آ گئی تھی۔اس کے دائیں طرف بیٹھی عورت اپنے دو ڈھائی سالہ بچے کو بیگ سے کچھ کھانے کو نکال کردے رہی تھی اور بڑی محبت سے اسے بہلا رہی تھی، دوسری طرف ایک نوجوان جوڑا چہروں پر خوش گوار سی مسکراہٹ لیے مستقبل کے حسین سپنے بٓن رہا تھا کوئی کوئی جملہ اس کے کانوں میں پڑ رہا تھا۔

ذراسا دور ایک اور عورت مطمئن سی بیٹھی تھی۔اس منظر سے نظریں ہٹا کر اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔خوش نما قطار در قطارسرو کے اونچے درخت پوری شان سے ایستادہ تھے۔یہ بے ثمر درخت اسے اپنے جیسے لگے۔اس نے بے چین ہو کریہاں سے بھی نگاہیں ہٹائیں اور دوبارہ ڈاکٹر کے کمرے کے دروازے پر کسی امید کے ساتھ ٹکا دیں۔تبھی نرس کی آواز اس کے کانوں میں پڑی، وہ اپنا بیگ سنبھالتے ہوئے اٹھی، ڈاکٹر کے سامنے جا کر بیٹھی اور اپنی فائل ڈاکٹر کے سامنے رکھ کر ملتجی نظروں سے ڈاکٹر کو دیکھنے لگی۔

جیسے اس کے غم کو مداوا اوراس کی بے قراری کو قرار کی نوید آج یہیں سے ملنے والی ہے۔اجلے سفید اوورآل میں ملبوس شفیق سی ڈاکٹر نے اس کی ساری رپورٹس دیکھیں اور کہا’’ یہ کچھ طاقت کی دوائیں لکھ رہی ہوں یہ استعمال کریں ،خوش رہنے کی کوشش کریں دماغ پر کسی چیز کو سوار نہ کریں اور صبر کے ساتھ انتظار کریں۔‘‘

’’لیکن ڈاکٹر صاحبہ۔‘‘

’’بی بی !آپ کی سب رپورٹس بالکل نارمل ہیں آپ کو کسی علاج کی ضرورت نہیں۔ اللہ سے دعا کریں بس۔‘‘

بوجھل قدموں کے ساتھ وہ گھر پہنچی۔صحن میں بیٹھے اسکول کا کام کرتے بچوں پر نظر ڈالی اور کمرے میں چلی گئی جہاں ابھی ابھی اس کا شوہر طارق کام سے آیا تھا۔اور اس کے سامنے جاتے ہی جیسے اس کے صبر کا بندھن ٹوٹ گیا اور وہ بلک کر رو پڑی۔ ’’ڈاکٹر کہتی ہے تمہاری سب رپورٹیں ٹھیک ہیں تم بس انتظار کرو۔ ‘‘

طارق اس غم کو پچھلے کئی سالوں سے سہہ رہا تھا۔وہ بھی دل ہی دل میں امید لگائے کسی خوش خبری کے انتظار میں اذیت کے کانٹے چن رہا تھا۔ہر نا امیدی کے بعد وہ صبر کے بہلاوے کی سل سینے پر رکھ کر رہ جاتا۔طارق اس کے ساتھ مل کر اپنے اور اس کے سب ٹیسٹ وغیرہ کروا چکا تھا اور جانتا تھا کہ ہر نیا ڈاکٹر یہی کہتا ہے کہ صبر کے ساتھ انتظار کرو اس لیے آج بھی وہ بس تسلی دے کر رہ گیا۔

٭٭٭

راحت کے ساس سسر کاپانچ سال پہلے روڈ ایکسیڈنٹ میں اس وقت انتقال ہو گیا تھا، جب ان کی شادی کو بہ مشکل دو ہی سال ہوئے تھے۔

طارق سے چھوٹے تین بہن بھائیوں اور کاروبار کی ساری ذمہ داری طارق پر آگئی۔ خدا کی قدرت طارق اور چھوٹے بہن بھائیوں میں بارہ سال کا وقفہ تھا۔طارق کی پیدائش کے بعد گیارہ سال تک ناامیدی رہی ،اس کے بعد اللہ کی مہربانی ہوئی ایک بیٹا ہوا اور تین اور پانچ سال کے وقفے سے ایک بیٹا اور بیٹی اور ہوئے۔طارق کی شادی والدین نے کم عمری میں کر دی۔

والدین کی وفات کے بعد، کاروبار تو طارق نے سنبھال لیا اوربہن بھائی گھر میں موجود پرانی ماما کے حوالے ہو گئے تھے۔۔ والدین کی وفات کے وقت طارق خود تو نوجوان تھا ہی بہن بھائی بھی چھوٹے ہی تھے۔اس کے گھر کا ماحول بظاہر بہت پرسکون تھا بچے سلجھے ہوئے تھے اور حتی الوسع کوشش کرتے کہ بھابھی کو پریشان نہ کریں۔ اسے کوئی مسئلہ نہ تھا۔ وہ بس اپنی ذات میں الجھی الجھی رہتی، اپنے بچے نہ ہونے کی وجہ سے اسے کوئی خوشی خوشی نہ لگتی۔ابھی اندر آتے ہوئے تینوں بچے اسے صحن میں نظر آئے تھے، پر وہ پاس سے گزر کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔ اور اب بلک بلک کر روتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ خدایاکب تک صبر کروں ؟میرے دامن دل سے لپٹی یہ خواہش کب پوری ہوگی ؟میری آنکھوں میں بسا یہ حسین منظر کہ ایک پیارا سا بچہ میری گود میں ہوکب حقیقت کا روپ دھارے گا ؟ کب آخرکب ؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہ تھا۔

وہ بھی عام ہی دنوں سا ،ایک اداس دن تھا جب طارق کی خالہ بچوں سے ملنے آئیں۔

وہ اکثر ہی بچوں کی خیریت دریافت کرنے آیا کرتی تھیں۔ اس دن بھی وہ آئیں لڑکوں کو لاڈ پیار کیا ،ردا کو کافی دیر ساتھ لگائے رکھا وہ انہیں کچھ کمزور اور چپ چپ سی لگی۔ وہ ردا کے بے رونق چہرے پر نظریں جمائے نہ جانے کیا سوچ رہی تھیں۔

اتنے میں راحت چائے اور لوازمات لے آئی ۔ ’’لیں خالہ چائے پیئں‘‘ خالہ نے ہاتھ بڑھا کر چائے کا کپ پکڑا۔ راحت خالہ کے ہاتھ کے بنے کھانے سنبھال کر رکھ آئی تھی جو وہ آتے ہوئے لانا نہ بھولتیں۔

ردا ان کے لائے تحفے کھول کھول کر دیکھ رہی تھی۔ خالہ نے ہمیشہ ان سب کے ساتھ پیار کا سلوک رکھا تھا۔چائے پیتے پیتے خالہ نے اس کا حال پوچھا ،اس نے خالی نظروں سے انہیں اور پھر اپنی گود کو دیکھا نظریں جھکا لیں اور سرد آہ بھر کر چپ رہی۔

خالہ بن کہے سمجھ گئیں۔ادھر ادھر کی باتوں کے دوران ہی دھیرے سے بولیں ۔’’راحت !ہم جس خوشی کی تلاش میں ہوتے ہیں، وہ ایک حسین منظر کا روپ دھار کر ہماری نظروں میں بس جاتی ہے اور اس سے پرے ہٹ کرکوئی اور منظرچاہے کتنا ہی دل فریب کیوں نہ ہو ہماری توجہ کا مرکز نہیں بن پاتا۔۔ کیونکہ ہمیں پھر اور کچھ دکھتا ہی نہیں۔۔۔ گھر کا آنگن پھولوں سے بھرا ہوتا ہے لیکن ہمیں بس ہماری مرضی کا پھول چاہئے ہوتا ہے۔ اس پھول کی تلاش میں ہماری بے توجہی سے گھر آنگن میں مہکتے پھول بے شک کملا جائیں ہمیں تو بس ہماری مرضی پوری کرنی ہوتی ہے اپنی خواہش کی تکمیل چاہئے ہوتی ہے۔‘‘ پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ ان کے لہجے میں کرب اور دکھ کو محسوس کر کہ راحت کو جھرجھری آگئی اورشاید یہ وہی لمحہ تھا جب کوئی بے چین دل محض اپنی قوت ارادی سے سکون کی راہ اختیار کرنے پر آمادہ ہوتا ہے۔

وہ سمجھ گئی تھی کہ خالہ بچوں کے ساتھ اس کے سردمہر رویے کی وجہ سے دکھی ہیں۔خالہ بہت جہاندیدہ اور بردبار تھیں وہ نرمی سے اس سے بات کرتی رہیں۔ اس نے دل ہی دل میں کچھ ارادہ کیا اور کہا ۔’’خالہ آپ کو آئندہ مجھ سے شکایت نہ ہوگی۔‘‘

آہستہ آہستہ اس نے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا شروع کیا اور ان کے کاموں کو اپنی ذمہ داری سمجھنا شروع کر دیا ،اپنی آنکھوں میں بسے اپنے پسندیدہ منظر کی اوٹ سے دنیا کے حسین رنگ دیکھنے شروع کر دیے۔

پھر اسے ردا اور دونوں دیوروں کے چھوٹے موٹے کام کرنااچھا لگنے لگا۔اس کی تڑپتی ممتا کو جیسے چین آنے لگا۔ اسے اور کیا چاہئے تھا۔وقت گزرتا رہا۔ دونوں دیوروں کو پڑھا لکھا کر ردا کا اچھی جگہ دیکھ کر رشتہ طے کر دیا۔

وہ سب کی نظروں میں سرخرو ہو گئی تھی۔

راحت صحیح معنوں میں سب ہی کے لیے باعث راحت بن کر جی رہی تھی ۔

اور ہاں ایک خاص بات یہ کہ جب راحت نے اپنا دل ،ان بن ماں باپ کے بچوں کے ساتھ لگایا اور اپنی خواہش کو بھولنے میں نہیں پر دبانے میں کامیاب ہوگئی تو اس پا ک ذات نے بھی مہربانی کرنے میں بہت دیر نہیں کی ۔ کچھ عرصہ کے بعد اللہ نے آگے پیچھے اسے دو بچوں سے نوازا اس کی گود خالی نہ رہی اور وہ حسین منظر حقیقت بن ہی گیا۔

٭٭٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں