نیا سال . سمیرا حمید

افسانے 70

نیا سال، نئی امید، نیا یقین ،کہتے ہیں ہر دس سال میں انسان بدل جاتا ہے۔ اس کی کیفیت، اس کی خواہشیں اور اس کی ضرورتیں، تبدیل ہوجاتی ہیں۔ ہم بچے ہیں، ہمیں کھلونے چاہئیں۔ ہم بڑے ہوچکے ہیں، ہمیں، گھر،پیسہ کامیابی چاہیے۔

ہم زندگی میں آگے بڑھ چکے ہیں، سکون چاہیے،اچھی صحت اور تھوڑی قدر دانی چاہیے۔ زندگی کے ساتھ بدلنا، اور حالات کے مطابق ایڈجسٹ ہونا، انسان کا انسان ہوتا ہے۔

لیکن ایک چیز کی تبدیلی مجھے بہت تکلیف دیتی ہے، اور وہ ہے انسان کا اندر سے مردہ ہوجانا۔

ہم کتابوں میں پھول رکھتے ہیں، ایسے مرجھائے ہوئے پھول بھی پسند کرتے ہیں۔

لیکن مجھے مرجھائے ہوئے چہرے اداس کردیتے ہیں۔ ٹوٹے ہوئے خوابوں کو پھر سے جوڑا نہ جائے ،تو میں دکھی ہوجاتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ چاہے کچھ ہوجائے لیکن دل پھول کی طرح کھلے رہیں۔

ایک خاتون سے ملاقات ہوئی،کم عمری میں ان کی شادی ہوچکی تھی، فورٹی پلس تھیں کہ دادی بن گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’’ اب اور کیا کرنا ہے جی کر۔ اب بس موت کاانتظار ہے۔‘‘

مجھے اچھا نہیں لگا۔ ہماری زندگیوں کے سارے کام نپٹ جائیں گے تو ہم موت کاانتظار کرنے لگیں گے، انسان کیا صرف کاموں کے لیے جیتا ہے؟انسان، انسان ہے، مزدور نہیں۔ شادی، اولاد، پھر ان کی اولاد.ایسے زندگی ختم؟

زندگی تو اتنی خاص ہے کہ یہ بیرونی حالات کے ساتھ سانس ضرور لیتی ہے لیکن دھڑکتی یہ انسان کی روح کے ساتھ ہے۔ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ نانی دادی بن چکی ہیں، بیوہ ہوچکی ہیں، شادی ناکام رہی، اکیلے بچے پال رہی ہیں، تو بس آپ کی زندگی ختم ہوگئی۔ آپ بچوں کے لیے جی رہی ہیں، لیکن اپنے لیے مرچکی ہیں۔ جبکہ آپ کو اپنے لیے سب سے پہلے جینا ہے۔

موت کی تیاری کی جاتی ہے، انتظار نہیں۔ اور تیاری بھی زندگی کے ساتھ کی جاتی ہے۔ زندہ دلی کے ساتھ۔ کسی نے بڑی پیاری بات کہی ہے کہ کو’’شش کریں کہ جب موت آپ کے پاس آئے، تو اسے آپ زندہ ملیں۔‘‘

یہ باتیں کہنے کا مقصد ہے،کہ آپ عمر کے کسی بھی حصے میں ہیں، زندگی کے کسی بھی مقام پر ہیں، خود کو زندگی سے ریٹائرڈ نہ کریں۔ جسم کی عمر ہوتی ہے، وہ جوان اور بوڑھا ہوتا ہے، روح کی نہیں ہوتی۔ جتنا روح کو زندگی کے قریب رکھیں گے وہ اتنا ہی مہکے گی۔

دوسری بات جو میں کہنا چاہتی ہوں کہ زندگی میں کوئی نہ کوئی مقصد ضرور رکھیں۔ میں سمجھتی ہوں مقصد ہمیں زندگی کی قوت دیتا ہے۔ وہ مقصد گھر کو جنت بنانے کا ہو، اولاد کی تربیت کا، پڑھنے لکھنے کا، یا پھر انسانیت کے لیے کچھ کرنے کا۔ معمول کی ذمہ داریوں کے علاوہ ایک ٹارگٹ ضرور سیٹ کریں۔ پھر اس ٹارگٹ کے حصول کے لیے کوشش کریں۔

ایک کتاب کو ہر حال میں اپنے ساتھ رکھیں۔ کتابیں ضرور پڑھیں۔ میں چاہتی ہوں آپ دنیا میں کہیں بھی رہیں، کہیں بھی جائیں،آپ علم میں پیچھے نہ ہوں۔ کچھ نہ کچھ سیکھتے رہیں۔ کسی کام کو معمولی نہ سمجھیں۔ کام کرنے کا انداز کام کو بادشاہ بنادیتا ہے۔ وہ سوئی دھاگے سے رومال پر پھول کاڑھنا ہی کیوں نہ ہو۔ عمر کے کسی بھی حصے کو غیر اہم نہ جانیں کہ اب کیا فائدہ۔

مصر میں ساٹھ ستر سالہ عورتیں تاریخی کھدائیوں کو سپروائز کررہی ہیں۔ ترکی میں جس گائیڈ کی عمر جتنی زیادہ ہوتی ہے، اس کی اتنی ڈیمانڈ ہوتی ہے۔ سیاح بڑی عمر کے گائیڈ ہائیر کرنا پسند کرتے ہیں کہ ان کی معلومات اور تجربہ زیادہ ہے۔ عمر کا بڑھنا انسان کو ناکارہ نہیں بناتا۔ تجربات انسان کو کندن کرتے ہیں۔ آپ کندن ہیں، خود کو کوئلہ نہ سمجھیں۔

عمرے کے دوران مدینے سے مکہ واپسی پر مجھے ایک خاتون عائشہ ملیں۔ ان کا تعلق گائوں سے تھا۔ ہم نے کافی باتیں کیں۔ وہ شوہر کی وفات کے بعد وراثت میں ملنے والا زمین کا ٹکڑا بیچ کر عمرہ کرنے آئی تھیں۔ جو پیسے بچ گئے تھے، ان سے بچوں کے لیے چیزیں خریدلی تھیں۔

’’اور آپ نے اپنے لیے کیا لیا ہے؟‘‘

’’میں نے ان پیسوں میں سے صرف ایک آئس کریم لے کرکھائی ہے۔‘‘

ان کے بچوں کے بھی بچے تھے، بہت بڑا خاندان تھا۔ تمام عمر شوہر نے کبھی ہتھیلی پر دو پیسے نہیں رکھے تھے۔ وہ ہاتھ پھیلانے سے شرم کرتی تھیں۔ پھر گائوں کے گھر میں چھوٹی سی دکان کھول لی۔ اپنی ضرورت وہاں سے پوری کرتی رہیں۔ اولاد ہوئی،جوان ہوئی، لیکن اپنے لیے وہ دکان سے کماتی رہیں۔ کسی اولاد سے کچھ نہیں لیا۔ اولاد نے بھی نہیں دیا۔ بیٹا اتنی استطاعت رکھتا تھا کہ ماں کے حصے کی زمین خریدلی۔ لیکن ماں کو عمرے کے لیے پیسے نہیں دیے۔ وہ تاعمر اپنی غیرت کے سائے میں رہیں۔ ہاتھ پھیلایا تو اللہ کے آگے ،اور اللہ نے انہیں اپنے گھر بلایا تو ان ہی کے حصے سے۔ جو اللہ کی طرف سے ان کے لیے طے تھا۔ اللہ نے اس غیرت مند بندے کو اپنے گھر بلاکر اعزاز دیا۔

اپنی زندگی کی کہانی سناتے ہوئے وہ کئی بار روئیں۔ ان کی آنکھیں ہمیشہ نم رہنے والی آنکھیں تھیں۔گیلی اور دکھی۔ مجھے جب جب وہ یاد آتی ہیں، ان کایہ جملہ کانوں میں گونجنے لگتا ہے۔

’’میں نے صرف ایک آئس کریم لے کر کھائی ہے۔‘‘

میں نے صفا مروہ میں اللہ سے دعا کی تھی کہ مجھے اپنے ان تین بندوں سے ملوادیں، جو آپ کو عزیز ہیں۔ ماں جی عائشہ، انہی تین میں سے ایک تھیں۔ مجھے تب بھی یقین تھا، مجھے آج بھی یقین ہے۔

ہماری یہ مائیں.یہ عام عورتیں تو نہیں ہیں.

جیسے سائرہ رضا کی والدہ۔اگر وہ اپنی استطاعت کو اتنے اعلا مقام تک نہ لے جاتیں تو ان کے خاندان کی کہانی مختلف ہوتی۔

ان خواتین نے اپنا آپ قربان کرکے اپنی نسلوں کے بیڑے پار لگائے ہیں۔ یہ عورتیں اللہ کو عزیز نہیں ہوں گی تو کون ہوں گی۔

ہمیں اپنی خواتین کو ساس بہو، نند، بھابھی کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے، ان کی شخصیت کے آئینے میں دیکھنا چاہیے۔ان کی قربانیوں کی قدر کرنی چاہیے۔

ماں جی عائشہ جیسی خواتین سے میں یہ درخواست کرتی ہوں، اپنے لیے صرف آئس کریم نہ لیں، وہ گرم شال بھی لے لیں جو آپ کو پسند ہے اور آپ اسے بچوں کی فیس میں ٹال رہی ہیں۔ بیٹیوں کا جہیز جمع کررہی ہیں، ضرور کریں، لیکن وہ سوٹ خرید لیں، جسے کئی بار مارکیٹ میں دیکھ کر چھوڑ آئی ہیں۔ وہ سونے کی چین ہے یا بندے، اسے خرید لائیں اسے پہن لیں۔

شاید آپ پہاڑوں پر جانا چاہتی ہیں، سمندر دیکھنا چاہتی ہیں، لیکن کبھی اتنے پیسے جمع نہیں ہوئے، کبھی فرصت نہیں ملی۔ لیکن گھوم آئیں۔ اپنا دل نہ ماریں۔آپ کی اولاد کا آپ پر حق ہے، کچھ حقوق خونی رشتوں کے بھی ہیں، لیکن ان سب سے کہیں پہلے آپ کا خود پر بھی حق ہے۔ ہم کہتے ہیں، ہم سب کے حقوق کے بارے میں سوال ہوں گے۔ ضرور ہوں گے۔ لیکن ہم سے ہمارے حق کا سوال بھی تو ہوگا۔

اپنا حق خود کو ادا کردیں.

اپنا حق خود ہی غصب نہ کریں.

اس نئے سال میں،اپنے لیے نئی خوشیوں کا اہتمام ضرور کریں۔اگر اندر کہیں زندگی مردہ ہوچکی ہے تو اسے زندہ کرنے کی کوشش کریں۔

میری طرف سے آپ سب کو نیا سال اور زندگی کی ہر ساعت مبارک!

٭٭٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں