ارمان رہ گئے – حمیرا نوشین

افسانے 64

لکھ: ’’خالہ جبین بمع اہل وعیال، ‘‘ اماں نے عینک درست کرتے ہوئے معمر کو کارڈز لکھوانے شروع کیے۔

’’لکھ دیا اماں!‘‘ اس نے لکھا ہوا کارڈ ایک سائیڈ پر رکھا اور دوسرا کارڈ اٹھایا۔

’’اماں!‘‘ تائی سروری کو تو جلدی کارڈ بھیج دینا حیدرآباد سے خانیوال کا سفر بھی لمباہے اورکچھ تیاری بھی تو کرنی ہوگی شادی کی۔‘‘ چھنو نے اماں کو یاد دہانی کروائی۔

’’ دفع کر تائی، سروری لے کے کیاآئے گی شادی میں ۔ ہمیں ہی بھگتنا پڑ جائے گا اسے ،ساتھ میں دو چار پوتا پوتی کو لٹکا لائی تو کونڈا کردیں گے ہمارا تو۔‘‘

’’ہاں اماں !ٹھیک کہتی ہو، پلنگ پر پڑی پڑی حکم چلائے جائیں گی اور پان کا خرچا الگ کروائیں گی۔‘‘

’’اے بیٹا! جلدی سے بنارسی تمباکو کا سا نچی پان بنواکر لائیو، سرچکرارہاہے ۔طبیعت بڑی بوجھل ہورہی ہے۔ گلوری منہ میں رکھوں تو کچھ طبیعت سدھرے ۔پورے ساٹھ پان بنواکر چلی تھی گھر سے ٹرین میں یونہی اپنا چاندی کاپاندان کھولا۔ پورے ڈبے میں پان کی دل فریب مہک سب کے نتھنے مہکاگئی۔

’’کیا مرد، کیا عورت سب ہی نے للچائی نظروں سے ایسے دیکھا کہ منہ میں رکھا پان چبانا مشکل ہوگیا۔ میں نے بھی سارے پان ندیدوں میں بانٹ دیے۔ نظر میں آئے پان کھاکر مجھے اپنی طبیعت تھوڑی خراب کرنی تھی۔‘‘عمار نے ہو بہو تائی سروری کی پوپلے منہ کے ساتھ نقل اتاری تو سب کی بھونڈی ہنسی سے فضا گونج اٹھی۔

’’حالاں کہ تمہاری تائی تو وہ بخیل ہستی ہے جو کسی کو اپنا بخار بھی نہ دے۔ ساٹھ پان تو اس نے اپنی زندگی میں نہ کھائے ہوں گے۔ ایک پان کو چٹکی چٹکی کھاتے ہفتہ نکال دیتی ہے۔ ‘‘اماں نے تائی سروری کے مزید گن گنوائے تو سب نے ان کی تائید میں اپنی موٹی گردنیں پورے زور سے ہلائیں۔

’’چل اب ماموں شرف کا کارڈ بھی لکھ دے ، سگا نہیں ہے تو کیا ہوا؟ سگوں سے بڑھ کر چاہتاہے تمہیں۔ بہن سمجھ کر ہمیشہ ہر موقع پر کھڑا رہاہے تو اس موقع پر کیسے بھول جاؤں میں اس کو۔‘‘ ماموں زاد کی محبت امڈ کر آئی۔

’’اماں! رشتے داروں کے کارڈ تو مکمل ہوگئے۔ اب ذرا محلے والوں کی طرف آجاؤ۔‘‘

’’ہاں بھئی ۔محلے والوں کا تو پہلا حق ہے ان کو بھلا میں کیسے چھوڑ سکتی ہوں۔‘‘ انگلیوں پر محلے داروں کو گننے لگیں کہ کس کس کو بلاناہے۔

’’ابھی تک کارڈ لکھنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا؟ یہاں پیٹ میں چوہے دوڑ دوڑ کر بے دم کر رہے ہیں۔ خدا کے لیے اٹھ کر کچھ شکم میری کا سامان بھی کرلو۔‘‘

کاشی اماں کے پاس آکر دھم سے گرا تو وہ اسپرنگ والے صوفے کی وجہ سے اچھل پڑیں اور اسے خشمگیں نگاہوں سے گھورتے ہوئے بولیں۔

’’ایک دن پیٹ پوجا نہ کی تو کچھ نہیں ہوگا۔ اگر پھر بھی اتنی ہی بھوک ستارہی ہے تو جانا صر بیکری والے سے دو کریم رول پکڑ لا اور دودھ کے ساتھ کھالے۔ ‘‘انہوں نے اسے اپنے پاس سے اٹھاکر باہر کی طرف دھکیلا اور پھر کارڈز کی طرف متوجہ ہوگئیں۔

’’اماں! ذرا جلدی بولو، ایمان سے میری تو کمر بھی تختہ ہوگئی ۔لکھتے لکتے انگلیاں بھی دکھنے لگیں۔ اتنی دیر تو میں بھی امتحانی کمرے میں نہیں بیٹھا جتنی دیر سے میں اس حبس زدہ کمرے میں بیٹھا کارڈ لکھ رہا ہوں۔‘‘ معمر کارڈز پکڑے پکڑے اماں کی گود میں لیٹ گیا۔

’’ لو تم تو لکھتے لکھتے تھک گئے اور ہم تمہیں دیکھ دیکھ کر ہی اکڑ گئے ہیں، چھنو پر جھنجلاہٹ سوار تھی کیونکہ اس کے پسندیدہ ڈرامے کا ٹائم ہوچکاتھا مگر اماں کا حکم تھا کہ یہاں سے کوئی نہیں ہلے گا جب تک کارڈ مکمل نہ لکھ لیے جائیں ، کیا پتا دماغ میں کوئی ضروری نام لکھنے سے رہ جائے تو ان میں سے کوئی یاد تو کروادے گا۔

’’اے زیادہ چلانے کی ضرورت نہیں۔ ڈرامے کی آگ لگ رہی ہے تو جا دفع ہو،جاکے دیکھ اپنی پرکٹی سفید پاؤڈر میں لتھڑی چٹی کبوتریوں کو، یہ عمار ہے ناں میرا بچہ دماغ کا تیز، اس سے پوچھ لوں گی اگر کوئی نام ذہن سے نکل بھی گیا تو۔‘‘

عمار اپنی تعریف سن کر مزید پھیل کر بیٹھ گیا اور چھنو قلانچیں بھرتی ہوئی ساتھ والے کمرے میں دوڑ گئی۔

اماں پھر سے معمر کو نام لکھوانے لگیں۔

’’اکرام کباڑیے کا نام بمع فیملی لکھ دے، ہے تو بے چارا کباڑیا پر دل کا بڑا سخی ہے جتنا اس کے گھر والے کھاکے جائیںگے ،اس سے چار گنا زیادہ دے کے جائیں گے۔‘‘

’’اماں!جلدی جلدی بولو، اب تو پنسل بھی جواب دینے لگی ہے پھیکا پھیکا سا لکھ رہی ہے۔‘‘

’’ہاں بس اب اپنی یہ گلی میں وہ جو لمبا سا لڑکا رہتاہے . ارے وہی جو دفتر میں کام کرتاہے۔ یے ے ے ے . لمبی سی کار ہے جس کے پاس، اماں نے نام یاد نہ آنے پر عمار کی طرف دیکھا۔

’’نور عالم، عمارنے فوراً اماں کا مطلوبہ نام زبان سے ادا کیا۔

’’ہاں وہی نور عالم! انہوں نے محبت سے عمار کے لبوترے سر پر اپنا سیاہی مائل ہاتھ پھیرا۔

’’اماں!ان سے تو ہماری کوئی سلام دعا نہیں ہے ،ان کو تو رہنے ہی دو۔ ویسے بھی وہ اچھے خاصے پڑھے لکھے ہیں۔ ہمارے عجیب الخلقت خاندان کو دیکھ کر وہ کیا سوچیں گے؟ ‘‘معمر نے نام لکھنے سے صاف انکار کردیا۔

’’اے میں کہہ رہی ہوں لکھ۔ اس کی بیوی سے سلام دعا ہے میری۔ ایک دو مرتبہ گلی سے گزرتے ہوئے اس نے مجھے سلام بھی کی ا ور اپنے گھر آنے کی دعوت بھی دی ہے۔ اتنا . بڑا گھر ہے اس کا تو دل بھی بڑا ہی ہوگا ناں۔‘‘

وہ اس کے ٹائلوں والے گھر سے کچھ زیادہ ہی متاثر لگ رہی تھیں۔

’’لو بھئی اماں! میرا کام تو ختم، ایمان سے اب تو نیند بھی آنکھوں میں بھر گئی ہے۔‘‘ اس نے انگڑائی کے ساتھ ہی بڑی سی جمائی بھی لی مگر اگلے ہی پل اس کے انگڑائی لیتے بازو فضامیں ہی رہ گئے۔ اماں نے بھی صوفہ چھوڑا اور اپنے بھاری بھرکم وجود کو سنبھالتی باہر تخت کی طرف بھاگیں۔ جہاں منور حسین سرجھکائے شکست خوردہ سے بیٹھے تھے۔

’’کیا ہوا منور حسین! ٹھیک تو ہو؟ ‘‘ مگر ادھر گمبھیر خاموشی تھی۔

’’اے کچھ تو بتاؤ۔ یوں منہ لٹکاکر بیٹھ گئے میرا تو دل ہولائے دے رہے ہو۔ ‘‘ اماں بھی وہیں تخت پر بیٹھ گئیں۔

چھنو بھی ادھورا ڈرامہ چھوڑ کر منور حسین کے قدموں میں بیٹھ گئی اور منور حسن چھنو کے سر پر ہاتھ رکھ کر رندھی آوازمیں بولے۔

’’مجھے معاف کردینا میری بیٹی! تجھے اب چند جوڑوں اور معمولی جہیز میں ہی اس گھر سے رخصت ہونا گا۔‘‘

’’کیا اول فول بولے جارہے ہو، کیا سٹھیاگئے ہو؟ سیدھی طرح اصل بات کی طرف کیوں نہیں آتے۔‘‘

اماں نے جھنجلاکر ان کے ناتواں کندھے پرہاتھ مارا تو ان کی ہڈیوں کے چٹخنے کی آواز واضح سنائی دی۔ باقی سب بھی منہ کھولے کچھ نہ سمجھنے والے اندا ز میں ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔

’’وہ . وہ . ‘‘ منور حسن ہکلائے۔

’’ہاں. ہاں بولو۔‘‘ اماں نے ان کے خضاب لگے بالوں پر ہاتھ پھیر کر حوصلہ دیا اور پانی کا گلاس ان کے کپکپاتے لبوں سے لگایا جو عمار ان کی حالت کے پیش نظر لے آیاتھا۔

پانی پی کر کچھ حالت تو سنبھلی تھی مگر آواز ابھی بھی کانپ رہی تھی۔ مگر صورت حال سے سب کو آگاہ کرنا بھی لازمی تھا۔

وہ . ہاجرہ بیگم ! انیسہ سلطانہ نے شادی سے انکار کردیاہے۔‘‘ خبر سناکر وہ چور سے بن گئے۔

’’کیا.‘‘ الفاظ تھے یا بم، ہاجرہ بیگم کو غش آگیا۔

چھنو اپنے میلے دوپٹے کو منہ میں پھنساکر دبی آواز سے رونے لگی۔ عماراور بلو کے چہروں پر بھی یہ خبر سن کر مرونی چھاگئی مگر اماں کی حالت دیکھتے ہوئے انہیں جلدی سے ان ہی کے لہسن پیاز کی بساندھ میں رچے دوپٹے سے ہوا دینے لگے۔ چلو بھر پانی ان کے منہ میں ٹپکایا تو انہوں نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں اور بھرائی ہوئی آوازمیں منور حسین سے مخاطب ہوئیں ۔

’’ پر منور حسین !انکار کی کوئی وجہ بھی تو بتائی ہوگی اس نے۔‘‘

’’ہاں۔‘‘ منور حسین نے سرد آہ بھری۔

’’وجہ سن کر ہی تو میرے پاؤں تلے سے زمین سرک گئی۔‘‘

’’اے اب بتا بھی چکو، نہیں ہورہا صبر مجھ سے۔‘‘ انہوں نے ا پنا سینہ مسلا۔

’’دو دن پہلے ہارٹ اٹیک ہوا ہے اسے ۔ کل ہی اسپتال سے گھر آئی ہے۔ آج اس نے مجھے فون کرکے بلایا۔ کہنے لگی میری زندگی کا کوئی بھروسانہیں میں میں تمہیں دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتی۔ میں نہیں چاہتی کہ تم شادی کے چند دن یا چند ماہ بعد ہی رنڈوے ہوجاؤ۔ میں تمہارے جیسے مخلص شخص کو یہ دکھ ہر گز نہیں دوں گی۔‘‘

منور حسین یہ بات بتاتے ہوئے تقریباً رورہی دیے اور اماں ان کا تو یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔‘‘

’’ہائے یہ کیا ہوا؟‘‘

لاکھوں کی جائیداد کی اکلوتی وارث انیسہ سلطانہ منور حسین کی دور پرے کی رشتہ دار تھیں۔بھاری بھرکم ہونے کے باعث رشتہ ہی نہ ہوسکا جو آتا انکار کرکے چلا جاتا اور شادی کی عمر نکلتی چلی گئی۔

ماں باپ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد وہ اس مکان میں بالکل تنہا رہ گئیں۔ سرکاری اسکول میں نوکری کرتی ہزاروں کمارہی تھیں۔ ابھی ریٹائرمنٹ لے کر لاکھوں روپے کی مالک بنی تھیں۔ سنا تھا جوانی میں منور حسین پر بڑی آس لگائے بیٹھی تھیں اور اسی آس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاجرہ بیگم نے ا پنے شوہر منور حسین کا رشتہ انیسہ سلطانہ کے سامنے رکھا تو وہ بھی کچھ پس وپیش کے بعد مان گئیں کہ تنہا رہتے رہتے وہ بھی اوب گئی تھیں اب اپنی زندگی کے باقی ماندہ ایام وہ بھرے پرے گھر میں گزارنا چاہتی تھیں۔

ہاجرہ بیگم نے ان کو شیشے میں ایسا اتارا کہ وہ منور حسین کی سادگی اور پر خلوص رویہ دیکھ کر آنے والے دونوں کے تصور سے ہی کھلی کھلی رہنے لگیں مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ہاجرہ بیگم کا یہ خواب کہ دو کمروں کے گھر سے انیسہ کے بڑے سے پختہ وخوب صورت مکان میں شفٹ ہوجائیں گے ، بیٹی خوب جہیز لے کر رخصت ہوگی اور انیسہ کی ساری کمائی میرے بیٹوں کے کام آئے گی۔ ان کے تو دن ہی پھر جائیں گے۔

بڑی دور کی سوچی تھی ، انہوں نے تو ،اپنے شوہر میں بٹوارہ بھی اسی بنیاد پر برداشت کرنے کی ٹھان لی تھی۔ یہ کڑوی گولی نگلنے کا فیصلہ اپنے بچوں کے خواب پورے کرنے کے لیے کیاتھامگر سارے خواب چکنا چور ہوگئے۔

انیسہ کے انکار کی خبر سن کر وہ اس شعر کی تفسیر بنی ہوئی تھیں۔

قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند

دو چار ہاتھ جب لب بام رہ گیا

٭٭٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں