’’یہ سوٹ تو میں لوں گی۔‘‘جویریہ نے سادہ مگر نفیس، پیازی رنگ کا جوڑا اپنے لیے منتخب کیا۔چچازاد علینہ کے بیٹے کا عقیقہ تھا۔وہ وہیں تو اسے بھی مدعو کیا گیا تھا۔
’’آپ یہ سبز لے لیں، پنک میرا فیورٹ ہے۔‘‘ رئیسہ نے جوڑا تقریباً اس کے ہاتھ سے جھپٹ لیااور شاپنگ بیگز اٹھائے اندر کی طرف بڑھ گئی۔
اس کا دل بے پناہ دکھ سے بھر گیا۔ ماضی میں گزرے واقعات اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے۔
’’مناہل کے سسرال والے جہیز لینے کے حق میں نہیں ہیں۔‘‘ شام کی چائے پہ صالحہ خاتون نے بات چھیڑی۔ مناہل اور اس کا منگیتر عدنان دونوں ڈاکٹر تھے۔ آج کل ان کی شادی کی بات چل رہی تھی۔
’’یہ تو ان کا بڑا پن ہے مگر ہم اپنی بیٹی کو خالی ہاتھ تو رخصت نہیں کریں گے۔‘‘اس کے سسر، جاوید صاحب نے اپنی رائے کااظہار کیا۔
’’بابا!مجھے آپ سب سے شادی کا گفٹ کلینک چاہیے۔‘‘
مناہل نے جاوید صاحب کے کندھے سے لگ کر فرمائش کی اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔ گویا کلینک نہ ہوا جھگی ہوگئی، کبھی بھی کہیں بھی ڈال لو۔
’’میری بیٹی جو کہے گی، وہی ملے گا۔‘‘ انہوں نے شفقت بھر ے انداز میں اس کا سر تھپکا۔ باقی سب خاموش بیٹھے بس مسکرارہے تھے۔
جو یریہ نے اپنے کمرے میں آکر کلینک کو زیادہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ تو فراز نے اسے جھڑک دیا۔
’’ایک ہی بہن ہے اتنا تو کیا جاسکتا ہے اس
کے لیے۔‘‘
جویریہ بھڑک گئی۔
’’اذلان بھی ایک ہی ہے، اس کے لیے کیا جمع کررکھا ہے آپ نے ؟آپ کے بھائیوں کے بچے ہمارے اکلوتے بیٹے سے زیادہ جائیدادیں سنبھالے بیٹھے ہوں گے۔‘‘
اس نے کمبل جھاڑتے ہوے یوں زور سے جھٹکا کہ کمبل اچھل کر دور جاپڑا۔
’’جوائنٹ اکائونٹ استعمال ہوگا اور اذلان کی فکر مت کرو۔ ہمارے بیٹے کے نصیب میں جو ہوگا اسے مل جائے گا۔ کوئی کچھ نہیں چھین رہا۔‘‘
فراز کمبل درست کرتے کروٹ لے کر سوگئے۔
’’کچھ بچے گا تو چھینا بھی جائے گا۔‘‘ وہ سوچ کر رہ گئی۔
٭٭٭
’’کیوں دھکا دیا؟چوٹ لگ جاتی تو؟‘‘، ویک اینڈ تھا۔ ڈرائنگ روم میں کارٹون دیکھتے عمار سے اذلان نے ریموٹ لینا چاہا۔
عمار نے دھکا دیا اور وہ میز سے ٹکرا کرگر پڑا۔ صالحہ خاتون اور مناہل بھی موجود تھیں۔
اس نے آئو دیکھا نہ تائو، عمار کے تھپڑ لگادیا۔ صالحہ خاتون اور مناہل دم بخود جبکہ دونوں بچے کانپ کر رہ گئے۔
’’تمہیں شرم نہیں آئی عمارپہ ہاتھ اٹھاتے؟‘‘ رات کو فراز نے ناگوار انداز میں اسے ٹوکا۔
وہ نئے سرے سے شرمندگی میں گھر گئی۔ وہ اپنے آپ سے نظریں نہیں ملاپارہی تھی۔ اچھی بھلی سمجھ دار ہوکر ایسی اوچھی حرکت کر بیٹھی تھی۔ دس سال اولاد کی محرومی کا دکھ جھیلا تھا۔ سسرال نے روایتی مشکلات کھڑی نہ کی تھیں مگر وہ اپنے اس مشکل وقت میںتنہا ضرور تھی۔
دونوں دیور اور ان کی بیویاں سرکاری افسر تھے۔ ان کے تو ٹھاٹ ہی الگ تھے۔چھٹیاں اور ویک اینڈز گھر سے باہر گزارتے، ہوٹلنگ کرتے، دعوتیں اڑاتے، وہ ساس کے ساتھ گھر رہ جاتی۔
فراز جاوید صاحب کے ساتھ کاروبار سنبھالتے تھے، جہاں کسی چھٹی، کسی تفریح کا کوئی چانس نہ تھا۔ وہ رات کے ایک بجے واپس آتے اور نیند کو پیارے ہوجاتے۔ وہ کڑھتی رہتی۔
اذلان کی پیدائش کے بعد وہ بہت مطمئن اور مصروف ہوگئی تھی۔ میکے جاتی بہت خاطر مدارت ہوتی، ماں، بہنیں، بھائی بھابھی صدقے واری جاتے۔ چھوٹے بڑے سب اذلان کے آگے پیچھے پھرتے۔ جبکہ سسرال میں محمود وایاز سب برابر تھے۔
وہ لاشعوری طور پر اذلان کے لیے محبت اور توجہ زیادہ چاہتی تھی۔ اسے باقی بچوں کی طرح روکا اور ڈانٹا، ٹوکا جاتا تو اسے بے حد برا لگتا، وہ تو اذلان کو پھولوں کی چھڑی سے چھونے کی بھی روادارنہ تھی۔
’’رشتے میں بڑی ہو تو ظرف بھی بڑا کرلو۔‘‘
وہ جیسے اس کی خاموشی سے تھک کر، اکتاکر افسوس سے بولے۔
کشیدہ حالات اور مشترکہ سرد خاموشی سے گھبراکر وہ میکے چلی آئی تھی۔ ڈیڑھ ماہ سے اوپر ہوچلا تھا مگر ابھی تک چپ نہ ٹوٹی تھی۔
فراز نے ایک بار بھی کال نہ کی تھی۔ دادا، دادی،پھپھو میں سے کسی نے اذلان کی خیریت دریافت کی تھی اور نہ ہی لوٹ آنے کا کہا تھا۔
’’بہت بڑا ظرف ہے تمہاری ساس کا، کسی یتیم کو اولاد کی طرح پالنا اور اپنی اولاد کے باوجود اسے اولاد کا درجہ دیے رکھنا۔‘‘
علینہ کے بیٹے کے عقیقے پہ خاتون نے کہا جو صالحہ بیگم کی جاننے والی تھیں۔
’’کس کی بات کررہی ہیں آنٹی؟‘‘جویریہ نے حیران پریشان ہوکر ان سے سوال کیا۔
’’تمہیں نہیں معلوم؟فراز کو اڈاپٹ کیا گیا تھا، تمہاری طرح تمہاری ساس کے ہاں بھی دس برس تک اولاد نہیں ہوئی تھی۔‘‘
وہ اس انکشاف پر ہل کر رہ گئی۔ گھر آکر ماں سے سوال کیا، ان کے نزدیک یہ بات اہم ہی نہ تھی۔
’’اولاد ہونے اور اولاد کی طرح ہونے کا فرق دکھتا نہیں بس محسوس ہوتا ہے۔‘‘
وہ پندرہ برس سے اس فرق کو خود سمجھنے اور سمجھانے سے قاصر تھی۔موازنہ کرتی، مشاہدہ کرتی، محتاط رویہ اور انداز.ان دیکھا فاصلہ تھا جو فراز اور باقی بہن بھائیوں کے بیچ تھا۔ کبھی اس فاصلے کی وجہ عمروں کا فرق، کبھی دیوروں کا نوکری پیشہ ہونا لگتا۔
ستم تو یہ تھا کہ اس نے اپنے میاں کا آئی کارڈ کبھی اٹھاکر نہ دیکھا تھا۔ سسرال میں بات اس قدر پرانی اور عام تھی کہ کبھی ذکر ہی نہیں ہوا تھا۔
٭٭٭
’’کوئی ضرورت نہیں لینے جانے کی، کچھ دن عقل ٹھکانے آنے دو۔‘‘ فراز نے کراچی جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو صالحہ خاتون نے غصے سے ٹوک دیا۔
’’میں نے عمیر اور مریم سے ذکر نہیں کیا، عمار کو بھی سمجھایا کہ ماما بابا کو نہ بتائے، مگر یہ کوئی اتنی چھوٹی بات تو نہیں۔‘‘ وہ سر جھکائے سنتے رہے۔
’’اذلان کو بخار ہے۔‘‘ وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں اپنے جانے کی وجہ بتارہے تھے کہ وہ اذلان کی طرف سے فکر مند ہیں۔
’’مرنہیں جائے گا اگر چند روز مزید ننھیال میں گزارلے گا تو۔‘‘ ایک تیر تھا جو فراز کے دل کے آر پار ہوگیا۔
وہ خاموش رہے، انہیں پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔ مگر ایف ایس سی کے بعد دکان سنبھالنا پڑی تھی کہ اب ایک شاپنگ مال میں بدل گئی تھی۔ جب عمیر، طارق اور مناہل پڑھائی میں مصروف،بے فکر زندگی جی رہے تھے جبکہ وہ بڑے بیٹے کے فرائض نبھارہے تھے۔
شادی عمیر اور طارق کے ساتھ ہی پینتیس سال کی عمر میںہوئی تھی۔ شادی کے د س سال بعد اذلان پیدا ہوا تو عمیر اور طارق کی دیکھا دیکھی اذلان کا کمرہ سیٹ کرنا چاہتے تھے، جاوید صاحب نے ٹوک دیا۔ ماہانہ منافع سب کے اکائونٹ میں ٹرانسفر نہیں ہوا تھا۔
وہ رات کو جلدی گھر جانا چاہتے تھے مگر جاوید صاحب نے بتایا کہ وہ اس پر راضی نہیں۔ان کی قربانیاں انہیں جویریہ کے سامنے جواب دہ بناتیں ، وہ پہلے اپنے لیے لڑتی تھی۔ اب اذلان کے لیے جھگڑا کرتی تھی، اسے لگتا اس کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔
فراز اپنی اولاد کا سوچے بغیر بہن بھائیوں پہ لٹا رہے ہیں جبکہ درحقیقت وہ صرف کیئرٹیکر تھے۔سب کی طرح منافع ان کے اکائونٹ میں ٹرانسفر ہوتا۔ کچھ دن بعد کسی پے منٹ کے لیے خرچ ہوجاتا۔
عمیر اور طارق کمرشل پلاٹ دیکھ رہے تھے۔ اپنے اپنے گھر بنواچکے تھے مگر ان کے اکائونٹ میں چند لاکھ جمع تھے۔ دنیا جاوید صاحب کے ظرف کی داد دیتی کہ لے پالک کو کاروبار کا مالک بنارکھا ہے جبکہ ان کی شخصیت اس قدر مسخ ہوچکی تھی کہ وہ بیوی اور بیٹے کے حق میںبولنے سے قاصر تھے۔
’’تمہاری بیوی کون سے مطالبات پورا کرنا چاہتی ہے جو بچوں سے بیر باندھ لیا ہے۔‘‘ لنچ بریک میں جاوید صاحب نے انہیں کہا۔چند روز قبل ہی جویریہ اور اذلان گھر لوٹے تھے۔
’’یار!اسے لے کر شفٹ ہوجائو کہیں۔‘‘ وہ فیصلہ کرچکے تھے مگر وجہ جویرہ کے رویے کو بنانا چاہ رہے تھے۔
’’منافع تمہیں ملتا رہا ہے، کاروبار تو بٹ نہیں سکتا، ادھر کام کرتے رہنا اور تنخواہ لیتے رہنا۔‘‘فراز یہ سن کر خاک ہوگئے۔ وہ اس گھر میں پناہ گزین تھے۔اب مزید پناہ سے ہاتھ اٹھایا جارہا تھا۔
’’مناہل کی شادی تک رک جائو، بہن کو تو رخصت کرکے جائو.‘‘نفسیاتی حملے کا اثر زائل کرنے کے لیے انہوں نے جذباتی وار کردیا۔ وہ کراہ کر رہ گئے۔
٭٭٭
’’اداس ہیں؟‘‘ نئی بنی کالونی میں تیس لاکھ ایڈوانس ادائیگی کرکے وہ اس فلیٹ میں شفٹ ہوچکے تھے۔ باقی قسطوں میں رقم ادا کرنا تھی۔ گھر سے آتے وہ اپنے کمرے کا سامان ہی اٹھا لائے تھے بس.بیڈ روم کے علاوہ پورا فلیٹ خالی پڑا تھا۔ چپ بیٹھے فراز کو دیکھ کر اس نے پوچھا۔پچھلے تین روز سے وہ یونہی ادا س اور خاموش تھے۔
’’نیا بنا ہے سب کچھ، سیٹ ہونے میںوقت لگے گا۔‘‘ انہوں نے الگ ہی بات کردی۔انہیں احساسِ زیاں ستارہا تھا۔بیٹا پانچ برس کا اور وہ خود پچاس برس کے ہوچکے تھے۔
’’میں آپ کے ساتھ ہوں فراز۔‘ اسے اور کچھ نہ سوجھا تو اپنے ناتواں ہاتھوں سے ان کا ہاتھ تھاما۔
’’تم ہی تو ساتھ ہو۔‘‘ انہوں نے اداسی بھری مسکراہٹ سے اس کے ساتھ کو سراہا۔
’’اذلان بہت چھوٹا ہے۔‘‘ ادھر آتے جاتے اذلان پہ نظر پڑی تو کسی خیال کے تحت بولے۔وہ شاید اس تنکے کی تلاش میںتھے جو ڈوبنے والے کا سہارا بنتا ہے۔
’’ہاں، مگر آپ کی طرح سمجھ دار اور ذمہ دار ہے،‘‘ اس نے ننگے فرش پہ کتابیں لیے بیٹھے ا ذلان کی طرف اشارہ کیا۔
’’اولاد بانٹنے کی شے نہیں ہوتی۔ مگر کبھی مجبوری میں تو کبھی رشتہ داروں کی محبت میںبانٹ دی جاتی ہے یہ سوچے بناکہ جب بے اولاد جوڑے کی بے اولاد ہونے کی مجبوری اور غرض مٹتی ہے تو سب بدل جاتا ہے۔‘‘
٭٭٭٭٭٭


