دبیر ایک بار پھر شوہر سے ناراض ہو کر میکے آ بیٹھی تھی۔ اسد صاحب اس صورتحال سے سخت رنجیدہ تھے۔ وہ اپنی نازوں پلی بیٹی کی آنکھ میں ایک آنسو نہیں دیکھ سکتے تھے اور دبیر اس وقت زار و قطار رو رہی تھی۔
’’میں فہمیدہ سے بات کروں گاآخر کس بنیاد پر دائم ہر مہینے تمہیں یوں بے اعتباری کی سند پکڑا کر میکے روانہ کر دیتا ہے ۔‘‘
انہوں نے دبیر کو ساتھ لگاتے ہوئے اس کو اور ساتھ خود کوتسلی دی۔ دبیر کی شادی چھ ماہ پہلے اپنی چھوٹی پھپھو کے اکلوتے صاحبزادے سے ہونا قرارپائی تھی۔ لڑکا لڑکی راضی تو کیا کرے گا قاضی والی صورت حال میں شادی ہوئی تھی لیکن نہ جانے کیوں شادی کے چند ہفتوں بعد ہی سب کچھ بگڑنے لگا اور شادی کے ٹھیک ایک ماہ دس دن بعد پہلی بار وہ روتی دھوتی میکے آئی تھی اور اب یہ سلسلہ بتدریج ہر مہینے ملنے والی تنخواہ کی طرح جاری تھا۔اسد صاحب نے فہمیدہ بیگم سے دوٹوک بات کرنے کا فیصلہ کیا اور فوراً بہن کو فون ملایا۔
’’بھائی جان میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔ سچ پوچھیں تو میں دائم کے ساتھ ساتھ دبیر سے بھی سخت خفا ہوں۔ ہزاروں بار پوچھ چکی ہوں ،کیا مسئلہ ہے۔ آخر تم دونوں میں میکے جانے کے بجائے مجھے بتاؤ۔ میں تمہاری ساس نہیں ماں بھی ہوں۔ لیکن مجال ہے یہ ایک لفظ بھی مجھے بتائے۔ یہ مجھے بتائے تو دائم کے کان کھینچوں۔ دبیر کی بھی غلطی ہوئی تو میں ماں بن کر اس کے بھی کان کھینچ لوں گی۔ لیکن یہ دونوں اپنے کمرے میں ہی کھچڑی پکاتے رہتے ہیں۔ میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ بھائی جان آپ دبیر سے پوچھ کر مجھے بتائیں آخر ہر چند دن بعد کس بات پہ اتنی شدت سے لڑنے لگتے ۔‘‘
فہمیدہ بیگم کی بات سن کر اسد صاحب مزید پریشان ہو گئے۔ دبیر انہیں بھی لڑائی کی وجہ نہیں بتاتی تھی۔ بس روتی جاتی اور ان کا دل مٹھی میں بند ہو جاتا۔اس وقت مہرین انہیں شدت سے یاد آنے لگی۔ نہ جانے کیسی برکت تھی اس کے ہاتھوں میں ،سارے جھمیلے جھٹ سے نپٹا دیا کرتی۔ ماں کی زندگی میں تو کبھی انہوں نے بیٹیوں
کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھے تھے۔ایک برس قبل جب مہرین کا انتقال ہوا ،انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یوں ہر پل ہر کام میں وہ اس طرح مہرین کو یاد کریں گے۔ ماں کے جانے کے بعد انہوں نے
بھرپور کوشش کی کہ عبیر اور دبیر کو ماں کی کمی محسوس ہونے نہ دیں۔ لیکن اس موقعے پہ انہیں مہرین کی کمی بہت زیادہ سے بھی کچھ زیادہ محسوس ہوتی تھی۔
’’واقعی بیٹیاں ماں کے زیادہ قریب ہوتی ہیں اسی لئے تو سب دکھ درد ماں کی گود میں رکھ کر بھول جاتی ہیں۔‘‘
اسد صاحب نے روتی ہوئی دبیر کی طرف دیکھ کر بے
چارگی سے سوچا۔دبیر بچپن سے ہی فہمیدہ کے قریب تھی اس لئے انہوں نے بڑی بہن کو دبیر کا رشتہ مانگنے پر منع کر دیا اور انہیں عبیر کا ہاتھ تھما دیا۔ عبیر اپنے گھر میں بہت خوش تھی۔ دونوں کی شادی اکٹھی ہوئی تھی۔ ان چھ ماہ میں عبیر ہمیشہ ہنستی مسکراتی اور دبیر ہمیشہ روتی دھوتی آئی تھی۔اسد صاحب آج اس معمے کو ہر حال میں حل کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے عبیر کو فون کرکے بلا لیا۔جو وجہ عبیر کے ذریعے ان تک پہنچی اس وجہ نے ان کے رونگٹے کھڑے کر دیے۔
دائم بہت شکی ہے۔ ہر دوسرے دن اسے کسی نہ کسی بات پہ مجھ پہ شک ہو جاتا ہے۔ابھی کل ایک رانگ نمبرسے کال آنے پر اس نے میرے کردار کو رگید کے رکھ دیا۔ میں ایسے انسان کے ساتھ نہیں رہ سکتی کہہ کر پھر سے رونے لگی۔اچانک دبیر اٹھ کر باپ کے پاس آئی اور محبت سے ان کے گلے میں بانہیں ڈال کربولی
’’ہمارے بابا تو ایسے نہیں ہیں عبیر !انہوں نے تو ماما پر کبھی شک نہیں کیا۔‘‘
دبیرکے کہنے پر نئے سرے سے مہرین کی محبت ان کے دل میں جنم لینے لگی۔ اس نے کبھی
بچیوں کے سامنے ان کا وقار کم نہیں ہونے دیا۔ ہمیشہ ان کا بھرم رکھا۔’’اچھا تو یہ میرا قرض ہے جو میری بیٹی بیس سال بعد اتار رہی ہے۔ ‘‘انہوں نے کرسی
کی پشت سے سر لگا کر آنکھیں موند لیںاور ماضی کے راستوں سے ہوتے ہوئے مہرین تک جا پہنچے۔
مہرین ان کی شریکِ سفر جس نے آنکھ بند ہونے تک ان سے وفاداری نبھائی۔زندگی کب زیادہ مشکل لگتی ہے؟ محبت کے بغیر یا پھر اعتبار کے۔
’’آخر تم ہر وقت کس کے خیالوں میں کھوئی رہتی ہو؟‘‘اسد نے اپنے دھیان میں بیٹھی پالک کے پتوں کو سمیٹتی مہرین پہ طنز کیا تو وہ چونک کر خالی نظروں سے شوہر کی طرف دیکھنے لگی۔ جو اس پہ اس قدر شک کرتا تھا کہ اس کی خاموشی کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔
’’میں سوچ رہی ہوں پالک آلو میں پکاؤں یا پھر چکن میں۔” مہرین نے بھی اسی کے انداز میں طنزیہ جواب دیا۔ اسد شوہر ہونے سے پہلے اس کی پھپھو کا بیٹا تھا۔ اس کی پوری زندگی اسد کے سامنے گزری تھی لیکن جب اس کے لئے اسد کا رشتہ آیا تو اس ماموں کے بیٹے موحد کا رشتہ بھی آیا تھا بس اتنی سی بات کو وجہ بنا کر اسد اس پہ شک کرتا تھا۔
’’تمہارا دل تو موحد سے شادی کرنے کو کرتا ہو گا نا آخر مجھ سے اچھی پوسٹ پہ جو تھا۔ ‘‘اسد نے ایک اور طنز کا تیر چھوڑا۔ مہرین بنا کوئی جواب دیے سب کچھ سمیٹ کر کچن میں چلی آئی۔
جب اس کا رشتہ اسد سے جڑا موحد واقعی اچھی پوسٹ پر تھا لیکن واجد صاحب نے اونچی پوسٹ پہ اپنے بھتیجے کو فوقیت دی اور اس کی شادی اسد سے ہو گئی۔ وہ اپنی شادی پہ خوش تھی۔ کیونکہ وہ ارینج میرج کی قائل تھی۔ اس نے ماں باپ کے فیصلے پہ دل سے سر تسلیم خم کیا تھا۔ لیکن ماموں کا رشتہ مانگنا ہی اس کے لیے جان کاوبال بن گیا تھا۔ شادی کے پہلے دن سے ہی اسد نے اس پہ شک کرنا شروع کر دیا تھا۔
مکلاوے پہ ماموں کی فیملی کو دیکھ کر اسد حد سے زیادہ بدگمان ہو گیا تھااور بغیر کھانا کھائے آفس کے کام کا بہانا کر کے مہرین کو چھوڑ کر گھر چلاآیا۔
اس کے گھر آتے ہی پہلی پابندی ماموں کے گھر جانے پہ لگائی اور جہاں کہیں موحد کے آنے کا گمان بھی ہوتا ،وہاں مہرین کے جانے پر پابندی ہوتی۔ مہرین نے شادی کے شروع دنوں میں اس شک کے پتھر پہ محبت کی بوندیں برسانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔ آخر اس نے اسد کو اس کے حال پہ چھوڑ دیا اور اسد کی بے اعتباری کے ساتھ زندگی گزارنے لگی۔
اللُہ تعالیٰ نے اسے دو بیٹیوں سے نوازا بیر اور عبیر میں تو اسد کی جان تھی۔تمام عمر عورت کو بے اعتباری کی تصویر سمجھنے والا اب بیٹیوں کی تصویروں میں اعتبار کا رنگ بھرنے لگا تھا۔ مہرین ان ہی رنگوں کو دیکھ کر خوش ہو لیتی وقت گزرتا گیا۔جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتی بچیوں کے رشتے آنے لگے۔ اسد کی دونوں بہنیں دبیر کے رشتے کی خواہش مند تھیں۔ اور وہ اس پذیرائی پہ پھولے نہیں سما رہا تھا۔بہت سوچ بچار کے بعد قرعہ فال دائم کے نام نکلا کیونکہ سب سے پہلے فہمیدہ بیگم نے دبیر کے لیے رشتہ مانگا تھا۔ بیوی کے لیے آنے والے ایک رشتے کی وجہ سے انہوں نے ساری زندگی اس کو بے اعتباری دی اور بیٹیوں کے لیے آنے والے رشتوں کوان کا اچھا نصیب سمجھنے والا اسد بھول گیا تھا کہ دنیا میں صرف ایک ہی اسد نہیں۔ بیوی کے معاملے میں بہت سارے مرد اسد کی طرح ہی سوچتے ہیں۔ مہرین جتنا ظرف ہر عورت کے پاس شاید ہی ہو۔ کیونکہ شک مضبوط سے مضبوط رشتے کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اور ہر عورت کھوکھلے رشتے کو تاعمر نبھانے کی سکت نہیں رکھتی۔ وہ بے اعتباری کے چند لفظوں میں ہی رشتہ ہار بیٹھتی ہے۔ اور اس معاملے میں دبیر بالکل اپنی ماں پہ نہیں گئی تھی۔ اس میں صبر کا مادہ بہت کم تھا۔ ایک طرح سے دبیر کی بھی بات ٹھیک تھی۔ شک کے ساتھ زندگی گزارنا اور وہ بھی تب جب عورت وفادار ہو ،بے حد مشکل ہو جاتی ہے۔
دبیر نے بارہا شوہر کو یقین دلانے کی کوشش کی لیکن ناکام ٹہری اس لیے شک کی زنجیروں سے آزاد ہونا چاہتی تھی۔
بیٹی کا فیصلہ سن کر اسد صاحب کا دل دہل گیا انہوں نے سارا لحاظ بالائے طاق رکھ کر دائم کو خود سمجھانے کا فیصلہ کیا اور اپنے ماضی کی کتاب کو پرت در پرت کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ دائم حیرت کی تصویر بنا اپنے اس ماموں جان کو دیکھ رہا تھا۔ جن کی بے مثال ازدواجی زندگی کی دھوم پورے خاندان میں تھی در حقیقت مہرین کی وجہ سے تھی۔
’’ میں یہ سب اس لیے نہیں کہہ رہا کہ دبیر میری بیٹی ہے۔ بلکہ اس لیے کہہ رہا ہوں۔ میں ایک اور اسد اور مہرین نہیں دیکھنا چاہتا۔ عورت کو محبت سے زیادہ اعتبار کی خواہش ہوتی ہے۔دبیر بہت بے صبری ہے۔ اسے مہرین کی طرح شاید تمہارا بھرم رکھنا نہ آئے اس لیے اپنے رشتے کو بچانے کے لئے تمہیں بھی اس کا ساتھ دینا ہو گا۔ تمہارا شک تم دونوں کی خوشیاں کھا رہا ہے دائم ایک بار اس پہ اعتبار کر کے دیکھو تو سہی شک کی بنجر زمین پر اعتبار کے پھول کِھلنے لگیں گے۔‘‘
اسد صاحب اپنی بات پوری کر کے گہرے گہرے سانس لینے لگے۔
ماموں کا سانس پھولتا دیکھ کر دائم دوڑ کر ان کے پاس آیا اور ان کا ہاتھ تھام کر محبت اور یقین سے بولا ،میں اسد نہیں بنوں گا۔ میں اپنے رشتے کی آبیاری اعتبار اور محبت سے کروں گا۔ ‘‘اسد صاحب چلتے چلتے کھڑکی تک آئے اور مسکرا کر چاند کے بالکل ساتھ چمکتے روشن ستارے کو محبت سے دیکھا اور ریشمی پردے برابر کر دیے ۔
مہرین جب بھی خوش ہوتی تھی تو کھڑکی سے جھانکتے چاند ستاروں کو دیکھ کر یونہی
مسکرایا کرتی تھی۔
٭٭٭٭٭٭


