اے۔ٹی۔ایم . فرحانہ منہاز

افسانے 73

ناشتے کے جھوٹے برتن جلدی جلدی دھوکر دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتی وہ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی اوپرآگئی ،ساتھ والی دیوار پر ایک اسٹیپ ویسے ہی بنایا ہوا تھا تاکہ اس پر چڑھ کر دیوار کے اس پار دیکھا جاسکے۔

روحا نے جلدی سے اس پر پائوں رکھ کر چھوٹا سا سیمنٹ کا کنکر سامنے والے گھر کے لوہے کے دروازے پر مارا تقریباً دو منٹ بعد بھابھی اوپر آگئیں۔

’’بھابھی! آج چلنا ہے میرے ساتھ۔ پہلے بینک جائیں گے پھر ہاسپٹل جانا ہے۔‘‘روحا پرجوش انداز میں اپنا آج کا منصوبہ بنارہی تھی۔

روحا نے کہیں بھی جانا ہوتا وہ فاطمہ بھابھی کے ساتھ ہی جاتی میکہ تو اس کا دوسرے شہر میں تھا۔ یہ تو ارسل کے تایا کی بہو تھی۔ جن سے روحا کی خوب بنتی۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر شاپنگ نہیں کرتیں۔

روحا کی اپنی بھی دونندیں تھیں لیکن فاطمہ بھابھی نے ارسل کے کراچی جانے کے بعد اس کا بہت خیال رکھا۔ اس لیے وہ بھابھی کے بہت قریب ہوگئی۔ ان کے بغیر کوئی کام نہ کرتی۔

’’اچھا آج ہاسپٹل جانا تھا۔ چلو ٹھیک ہے۔ میں ایک گھنٹے تک کام وغیرہ ختم کرکے آتی ہوں۔‘‘ فاطمہ بھابھی واپس جانے لگیں۔

’’ہاں اور بینک بھی جانا ہے۔‘‘ پیچھے سے روحا نے ہلکی لیکن محتاط انداز میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے فاطمہ بھابھی کو آواز دی۔

’’بھابھی !میں خود ہی آپ کی طرف آجائوں

گی۔‘‘ تو فاطمہ مسکراتے ہوئے نیچے چلی گئیں۔

روحا نیچے آکراپنے کپڑے نکالنے لگی۔

روحا کے ہاں ابو بکر کی پیدائش ہوئی تو ارسل کو کراچی میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے جاب آفر ہوئی جو ارسل کے گھریلو حالات میں خوش آئند ثابت ہوئی۔ اب پھر وہ امید سے تھی تقریباً تیسرا مہینہ چل رہا تھا۔ ارسل جو پیسے بھیجتا وہ گھر کی ضروریات میں لگ جاتے روحا کی ساس اسے کچھ بھی نہ دیتیں۔

ابو بکر کی دفعہ تو اس کی شادی کے پہلے کے بیس سال کی طاقت اور کھایا کام آگیا لیکن اس بار ڈاکٹر نے تاکید کی کہ پھل دودھ، گوشت کا استعمال زیادہ کرو۔ کمزوری بہت ہے۔

اب ارسل کو بھی فکر تھی کیونکہ وہ اتنی دور ہے جبکہ ابو بکر کی دفعہ بھی روحا کچھ خاص کھاتی پیتی نہ تھی۔

٭٭٭

میں اے ٹی ایم کارڈ لاہور،کراچی جیسے شہروں میں تو خوب چلتا تھا لیکن اس کے چھوٹے سے شہر میں چیدہ چیدہ لوگوں کے پاس تھا۔

اس بار ارسل جاتے ہوئے اسے یہ کارڈ تھماگیا۔ ساتھ میں اسے اور ابو بکر کو بازار لے جاکر سمجھا آیا جیسے ہی نوٹ مشین سے باہر نکلے۔ ابو بکر مارے جوش سے تالیاں بجانے اور اچھلنے لگا۔

روحا کا بھی سارا دھیان مسرت سے ابو بکر کی خوشی کی طرف تھا۔ خیرروحا نے جلدی سے کام سمیٹا اور تیار ہونے لگی۔ا رسل نے کہا کہ گھر میںابھی کسی کو نہ بتائے مناسب وقت پر بتادیں گے۔

ارسل سے چھوٹا احمداور اس کے بیوی بچے بھی ساتھ ہی رہتے تھے لیکن وہ گھر میں آٹا اور گیس کے بل کے علاوہ کچھ نہ دیتے ،بڑا ہونے کے ناتے سارے اخراجات شادی بیاہ، خوشی غمی آنا جانا، سب ارسل کے کندھوں پر تھا۔

الگ سے بیوی کو دینے کا رواج ان کے خاندان میں نہ تھا۔ اے ٹی ایم کارڈ ایک سیکریٹ تھا جو دونوں میاں بیوی کے درمیان پچھلے ایک ماہ سے تھا۔

روحا نے میرون رنگ کا سوئس لان کا سوٹ پہنا۔ ابو بکر کو دادی کے پاس چھوڑ کر ہاسپٹل جانا ہے۔ اس لیے بچے کا وہاں کیا کام۔ پرس اٹھایا اور تایا ابو کی طرف آگئی۔

فاطمہ بھابھی چائے بنارہی تھیں۔ اس نے تائی جان کو سلام کیا اور آنکھوں ہی آنکھوں سے بھابھی کو نکلنے کا اشارہ کیا۔

فاطمہ نے تائی جان کو چائے پکڑائی چادر لی اور باہر آگئیں۔دونوں خوش گپیاں کرتی بینک پہنچ گئیں۔

آج کا دن بہت خوب صورت تھا پہلی دفعہ بینک آئی تھیں وہ دونوں بلکہ ان کے خاندان میں ارسل کے چچا کے تین بیٹے اور تایا ابو کے چار بیٹے خود ارسل سے چھوٹے دو بھائی سب کزنز شادی شدہ تھے لیکن ان کے گھروں میں بڑے ہی سب ضروریات پوری کرتے۔

فاطمہ بھابھی بھی بہت خوش تھیں کیونکہ حارث بھائی تو شہر میں ہی کام کرتے تھے اس لیے فاطمہ کے لیے بھی یہ نیا ایڈونچر تھا۔ دونوں خوش خوش بینک کے باہر والے چھوٹے سے کیبن میں داخل ہوگئیں جہاں روحا ارسل کے ساتھ چودہ دن پہلے تھی۔ ویسے تو اس ون بائی ڈیڑھ میٹر کے کمرہ میں صرف ایک بندہ ہی جاتا لیکن فاطمہ بھابھی کو بھی دیکھنا تھا کہ نوٹ کیسے باہر آتے ہیں اور ویسے بھی روحا اکیلے تو کبھی نہ جاتی۔

روحا نے پرس سے خوب صورت سا کارڈ نکالا۔

’’بھئی جس سے پیسے برآمد ہوں اس سے خوب صورت کوئی چیز ہوسکتی ہے۔

روحا نے کارڈ مشین کے ایک لمبے سے سوراخ میں ڈالا۔ کل سے رٹو طوطے کی طرح دہرائے گئے پاس ورڈ ٹائپ کرنے لگی۔فاطمہ بھابھی پاس کھڑے مسکراتے ہوئے دیکھتی رہیں۔

دونوں ہی اپنے آپ کو بہت اسمارٹ، ویل ایجوکیٹڈ سی لڑکیاں تصور کررہی تھیں کیونکہ یہ کام تو روحا کی کزنز میں کسی نے نہ کیا تھا نہ خاندان کی کوئی لڑکی ابھی تک بینک گئی تھی خوش ہونا تو بنتا تھا۔

اس کے خاندان کی سب ہی لڑکیوں کے سمپل بی اے کے بعد بیاہ ہوگئے تھے وہ ہانڈی روٹی کرنے والی ٹائپنگ مشین کے پاس کھڑی ہوائوں میں اڑ رہی تھی۔پاس ورڈ ٹائپ کرنے کے پانچ سیکنڈ بعد ہی نوٹ برآمد ہوجاتے لیکن یہ کیا ایک منٹ دو منٹ چار منٹ۔

روحا نے گھبرا کر کارڈ کھینچنا چاہا لیکن کارڈ لمبے سے سوراخ میں جکڑا رہا۔

’’یہ کیا ہوا بھابھی؟‘‘دونوں پریشان ہوگئیں۔ ’’نمبر تو صحیح ملائے ہیں۔‘‘

اس نے پھر کارڈ کھینچا۔

’’اللہ کرے ارسل کا فون آجائے میرے پاس تو بیلنس نہیں ہے‘‘وہ پریشان ہوئی۔

بھابھی کا موبائل گھر میں تھا۔

دوپہر کا وقت تھا شکر ہے باہر کوئی طلب گار نہ تھا مشین کے استعمال کا ،روحا اور بھابھی باہر بیٹھے کارڈ کو صورت حال بتانے لگی۔

’’دیکھیے میم مجھے اندر جانے کی اجازت تو نہیں لیکن آپ کے ساتھ کوئی مرد نہیں ہے۔ چلیں دیکھتا ہوں۔‘‘

اندر آتے ہی گارڈ کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔

٭٭٭

روحا نے نوٹوں کی برآمدی والے سوراخ میں اپنا اے ٹی ایم کارڈ پھنسایاہوا تھا۔

’’واللہ!یہ کیا کیا؟میم۔‘‘

روحا تو روحا فاطمہ بھی پریشان ہوگئیں۔ وہ تو گھر میں بھی کسی کو نہیں بتاسکتی تھیں۔ ارسل نے سختی سے منع کیا تھا۔

گارڈ بینک سے ہوکر آیا تو ان سے کہا کہ۔

’’آپ اندر چلی جائیں منیجر صاحب سے بات کریں۔ سامنے سیدھے ہاتھ میں تیسرا منیجر صاحب کا کیبن ہے۔‘‘ گارڈ انکل نے دروازہ کھولتے ہوئے سمجھایا۔

وہ بھابھی کا ہاتھ پکڑ کر اندر چلی گئی۔ دوسرا کوئی وقت ہوتا تو وہ سرشاری سے بینک میں داخل ہوتی کیونکہ بینک کا ایجوکیٹڈ سا ماحول اسے بہت پسند تھا مگر اس وقت لینے کے دینے پڑے ہوئے تھے۔

دونوں بچارا سا منہ بنائے مطلوبہ کیبن میں داخل ہوئی سلام منہ میں ہی رہ گیا۔

منیجر صاحب کے ساتھ شکیل بھائی ارسل کے چچازاد بیٹھے ہوئے تھے۔ منیجر صاحب تو نوٹ پیڈ پر پیشہ وارانہ انداز میں لکھتے ہوئے سرخم کرتے سلام کا جواب دینے لگے جبکہ شکیل بھائی حیرت کے سمندر سے نکلتے اپنے گھر کی خواتین کو بینک میںبلکہ منیجر صاحب کے روم میں دیکھتے رہ گئے۔

اف ساری انہونیاں آج ہی ہونی تھیں۔

روحا نے دل میں سوچا ،بھابھی نے جلدی سے منیجر صاحب پلس شکیل بھائی کو بتایا کہ کارڈ مشین میں پھنس گیا ہے۔تو شکیل بھائی کی حیرانی مسکراہٹ میں تبدیل ہوگئی۔

’’اب قریشی صاحب سے ان کا تعارف کرواہی دوں۔‘‘ شکیل بھائی تعارف کروانے لگے۔ دل ہی دل میں ان کو حماقتوں کی سردار کا لقب دیا۔

فاطمہ بھابھی تو خاندان سے باہر کی تھیں جبکہ روحا ارسل اور شکیل کی پھوپھو کی بیٹی تھی اور ان کے خاندان کی لڑکیاں بونگیاں نہ ماریں تو جگ مارے والی مثال تھیں۔قریشی صاحب جلدی سے اپنی کرسی سے اٹھے کہ مشین کو ایکٹو کروائے۔ پاس ورڈ کا پروسیجر مکمل تھا۔ کارڈ کے پیچھے پیسے بھی سسٹم سے چلے گئے تھے۔

یہ ابھی قریشی صاحب کے ورکر نے بتایا اکائونٹ سے نوٹ نکل چکے ہیں اب مشین سے کارڈ احسن طریقے سے نکال کر نوٹ ریسیو کرنے ہیں۔

لیکن یہ سارا کام قریشی صاحب نے بینک کے اندر سے ہی کرنا تھا۔ مشین کو بند کردیا گیا۔

شکیل کرنسی ایکسچینج میں کام کرتا تھا اس کو اپنے آفس جانے کی جلدی تھی جونہی مشین کو ہاتھ لگایا لائٹ چلی گئی۔ 2007ئ میں لائٹ بلا وجہ ہی چلی جاتی اور جرنیٹر وغیرہ بھی اتنی جلدی عمل میں نہ آئے۔

٭٭٭

قریشی صاحب نے شکیل سے کہا۔

’’آپ محترم خواتین کو گھر بھیج دیں۔ پیسے تو اب شام کو ملیںگے آپ ایسا کریں کارڈ نکال کر ان کو دے دیں۔‘‘

کارڈ بجلی کے جانے تک تقریباً نکل چکا تھا۔ وہ انٹر کام پر اپنے ورکرز کو سمجھانے لگے اور شکیل بھائی سے کہا کہ ’’آفس کلو ز ہونے کے بعد لے جانا پیسے۔‘‘ وہ قریشی صاحب سے مصافحہ کرنے کے بعد باہر نکل گئے۔ شکیل نے روحا اور بھابھی کو رکشا کرواکر دیا۔ خود اپنے آفس چلا گیا۔ اب ہاسپٹل کیا جانا تھا نہ ہی اس کا وقت رہا اور پیسے بھی مشین میں پھنس چکے تھے۔

روحا اے ۔ٹی ۔ایم کارڈ لے کر درود شریف کا ورد کرتی گھر آگئی۔

تب ہی ارسل کی کال بھی آگئی۔ روحا نے شرمندہ سی کال اٹینڈ کی۔ ارسل کی غصے سے بھری آواز ابھری۔

’’جب تمہیں کچھ بتایا جائے تو غور سے سنتی کیوں نہیں۔‘‘

روحا خاموش رہی۔ بیلنس روحا کا ختم تھا شکیل بھائی کا نہیں۔ ارسل ڈانٹ رہے تھے روحا یاد کررہی تھی کہ کیسے ابو بکر تالیاں پیٹتا اسے اپنی طرف متوجہ کررہا تھا۔

’’اب شکیل بھائی شام کو پیسے دینے آئیں گے کیا کروں۔‘‘روحا روہانسی ہوئی.کچھ نہ کرنا. ارسل نے کچھ کو لبا کھینچا۔ لیکن ارسل کا دماغ اب کچھ ٹھنڈا ہوگیا تھا۔

ان کے خاندان کی ایک خاص بات تھی کہ سب کزنز آپس میں بھائیوں سے بھی زیادہ پیار کرتے۔ اور ان کے سیکرٹ سیکرٹ ہی رہتے۔ شکیل بھائی تو ویسے بھی ارسل کا بہت پیارا دوست تھا۔

پھر کیا قارئین.اگلے ماہ ارسل کراچی سے آیا تو روحا سے اے۔ٹی ۔ایم کارڈ لے کر اپنے چھوٹے بھائی کو دے دیا۔ ارسل کو یہ ایڈونچر کچھ خاص پسند نہ آیا لیکن آپ کو کیسا لگا بتایے گا ضرور۔

٭٭٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں