بھولا ہوا رستہ – دانیہ سمیع

افسانے 71

’’ارے مسز زمان، آپ بھی کیسی باتیں کرتی ہیں یہ بھی کوئی بات ہے بھلا۔ اس میں تکلف کیسا۔ میں ابھی اپنی مشین بند کردیتا ہوں پھر آپ آرام سے اپنا پانی کھینچ لیجیے گا۔‘‘

سرمد نے دانت نکالتے ہوئے کہا تو اس کے پیچھے کھڑی روبی دانت پیس کر رہ گئی۔

مسز زمان اپنے ناز دکھاکر جاچکی تھیں ان کاکام ہوچکاتھا۔

’’ یہ آپ نے کیا کردیا ابھی تو ہمارا ٹینک خالی ہے دو گھنٹے بعدتو پانی چلا جائے گا۔‘‘

’’کمال کرتی ہو روبی! تم بھی ایک بندہ خود چل کر ہمارے دروازے پر آیاہے اب اسے خالی ہاتھ لوٹا دیتا۔‘‘

سرمد نے روائتی سی مسکراہٹ چہرے پر بکھیری اور مشین کا بٹن آف کردیا۔

’’ستیا ناس ہو تیرا ناز . پتا نہیں میرے میاں پر کیا جادو کررکھاہے جب بھی آتی ہے کام کرواکر ہی جاتی ہے۔‘‘

روبی دل ہی دل میں جلتی بھنتی کمرے میں چلی آئی تھی ،اگر پانی نہ آیا تو پھر سے تین ساڑھے تین ہزار خرچ ہوں گے پانی کی ٹنکی منگوانے میں اوپر سے پانی والے کے نخرے ہزار ۔

اسے اب بھی یاد تھا شادی کے بعد سرمد کتنا دیوانے وار اسے چاہتا تھا۔ پر وقت کے ساتھ ساتھ بدل سا گیا اور اب تو باقاعدہ مسز زمان کے ناز اٹھاتا تھا۔

٭٭٭

’’پتا نہیں سرمد کو کیا ہوگیا ہے۔ محلے بھر کی خواتین کی جی حضوری میں لگے رہتے ہیں۔ ‘‘

روبی نے اپنی دیرینہ سہیلی بشریٰ سے گلہ کیاتھا۔

’’روبی! ان مردوں کا یہی ہے۔ ہمارے میاں کو دیکھ لو نوکرانی کے پیچھے پیچھے گھومتے ہیں۔‘‘

بشریٰ کا اپنا ہی دکھڑا تھا۔

’’شکر کہ سرمد کا ٹیسٹ اب ایسا بھی گیا گزرا نہیں ہے۔‘‘روبی کو احساس تفاخر نے آگھیرا۔

’’جانے بھی دو روبی!, ابھی اس نوکرانی کو نکال باہر کروں گی ،پر تم کیا اپنے میاں کو مریخ پر لے کر جاؤ گی بی بی جہاں جاؤ گی۔ عورت ذات تو ملے گی ہی ۔ ‘‘

دونوں سہیلیوں کے دکھ مشترک تھے دونوں نے اپنی اپنی کہی اور فون بند ہوگیا۔

سرمد سے پیار محبت کی شادی تو نہ ہوئی تھی لیکن شادی کے بعد دونوں میں پیار محبت اتنا بڑھا کہ اس نے سرمد سے الگ گھر کا مطالبہ کیا اور سرمد نے فوراً ہاں کردی۔ ثریا خالہ بری طرح چڑ گئی تھیں۔ ان کے بڑے دونوں شادی شدہ بیٹے ان کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ایسے میں سرمد کی فیملی کی گنجائش مشکل ہی تھی لہٰذا ثریا خالہ نے کچھ تردد کے بعد سب سے چھوٹے اور لاڈلے بیٹے کو علیحدہ ہونے کی اجازت دے ہی دی۔

روبی اور سرمد اپنی الگ چھوٹی سی جنت میں بہت خوش تھے۔ سال بھر میں ہی روبی نے ایک چاند سے بیٹے کو جنم دیا اور پھر ایک بیٹی یوں ان کاگھر خوشیوں کا گہوارا بن گیا ہیپی فیملی۔

٭٭٭

نہال اب اسکول جانے لگا تھا اور شزا گھٹنوں چلنے لگی تھی ،روبی دن بھر گھر کے کاموں میں الجھی رہتی۔ اس کا کومل سا وجود خاصا پھیل گیا تھا۔ اوپر سے مہنگائی کا رونا، پانی بجلی کا مسئلہ الگ ،رہی سہی کسر گیس نے پوری کردی کوئی ایک مسئلہ ہو تو۔

’’ ارے روبی ،میری بیلٹ کہا رکھی ہے۔

سرمد کمرے میں چیزیں کھنگال رہا تھا۔ روبی کچن میں مصرو ف تھی اور دروازے پر زور دار ستک ہوئی۔

’’ابے کون ہے کان پھاڑے گا کیا۔‘‘

سرمد کمرے سے جلا بھنا دروازے کی جانب بڑھا۔

’’ ارے آپ، آپ برابر والے گھر میں ابھی نئی شفٹ ہوئی ہیں ناں۔‘‘

اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہی مسکراہٹ تھی۔ اب وہ نئی کرایہ دار سے خوب باتیں بنارہاتھا۔ روبی جل گئی۔

ایسا پہلی بار نہ تھا، سرمد اب خواتین سے باتیں بنانے میں ماہر ہوچکا تھا۔ لیکن یہ نئی پڑوسن کچھ زیادہ ہی رنگ برنگی تھی۔

’’سچ کہتی ہوں روبی !یہ ناز کچھ ٹھیک نہیں لگتی تمہارے میاں سے تو اس کی بڑی دوستی ہوگئی ہے۔ برا نہ ماننا تم میری چھوٹی بہنوں کی طرح ہو۔ بس اسی لیے بتانے آگئی۔ ‘‘

’’پر وہ تو شادی شدہ ہے ناں۔ ‘‘

روبی افروز آپا کے اس انکشاف پر بھونچکا رہ گئی تھی۔

’’ اے بی بی! کیسی شادی ہمیں کیا پتا مجھ سے تو اس کی اماں کہہ رہی تھی کہ ان کا داماد کو وڈ میں لڑھک گیا تھا۔‘‘

’’ تو کیا سرمد۔‘‘ وہ رو دینے کو تھی۔

’’ ارے بی بی ،آدمیوں کی عادت ادھر ادھر منہ مارنے کی ہوتی ہے بس تم خیال رکھو۔‘‘

افروز آپا تو چلی گئیں پر روبی ہلکان ہوتی رہی۔

کل ان کی شادی کی ساتویں سال گرہ تھی اس نے بڑے اہتمام سے سارے انتظامات کیے تھے۔ سرمد کی پسند کاکا سنی جوڑا زیب تن کیا۔ بالوں میں گجرے لگائے۔ا سے یقین تھا کہ سرمد ہرسال کی طرح اس سال بھی راستے سے کیک لیتا آئے گا۔ ہونٹوں پر لپ اسٹک کی دوسری تہہ بھی جمالی ،پر سرمد نہ آیا حیرت انگیز طورپر آج وہ لیٹ تھا اس کا میسیج آیاتھا۔ روبی کا دل پھوٹ پھوٹ رونے کو چاہا۔ ایسے میں شازیہ کا فون آگیا۔ ادھر ادھر کی باتیں کیں تو دل کا غم کچھ کم ہوا۔

’’کیا آج تمہاری شادی کی سالگرہ تھی روبی۔‘‘

اس کے بتانے پر شازیہ ششدررہ گئی تو روبی کے آنسو رک نہ پائے ۔

’’ برا نہ مانو روبی! میری تو مجبوری ہے اپنا فلیٹ ہے پر تم تو بڑے آرام سے گھر بدل سکتی ہو۔ چھوڑو یہ گھر، سو جھنجھٹ ہیں اور پھر وہ تمہاری چپکو پڑوسن۔ ‘‘

’’ چپکوتو سرمد بھی ہوگئے ہیں، اب تو دل ڈرتا ہی رہتاہے کہ کہیں یہ دونوں کوئی چاند نہ چڑھادیں۔‘‘

اس نے پھر سے اپنا دکھڑارویا پر اب افروز آپا کی گواہی بھی اس میں شامل تھی۔ شازیہ کچھ دیر خاموش رہی پھر بولی۔

’’ میری مانو تو اپنی سسرال لوٹ جاؤ۔‘‘

’’مطلب؟‘‘

’’اے بہن ،سیدھا سا مطلب ہے اگر تمہاری سوکن نصیب میں لکھی ہوگی تو آجائے گی پر روز روز کے اس خوف سے تو نجات ملے گی ناں۔‘‘

شازیہ تو جیسے پہلیاں بجھوارہی تھی۔ سب سے پہلی وہ ہی تو تھی جس نے الگ گھر کی اسے مبارک باد دی تھی اور اب اس کا یہ نیا بیان سمجھ ہی نہ پائی۔

’’کھل کر کر بولو شازیہ۔ ‘‘

’’اماں اور بڑے بھائیوں اور جوان بھتیجے، بھتیجوں کے ڈر سے یا لحاظ جو کہہ لو باز رہے گا سرمد۔ اب یہاں کوئی پوچھنے والاہے نہیں کہ میاں کب آئے کب جاؤ گے ،کہاں جارہے ہو اور یہ ناز جیسی پر کالہ سے بھی نجات ملے گی۔ خرچے کی تنگی بھی ختم، بچوں کا بھی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ‘‘

اس نے تو کبھی اس زاویے سے سوچا ہی نہ تھا۔ شازیہ کے کہنے پر ذہن ذرا روشن ہوا ثریا خالہ غیر تو نہ تھی اس کی سگی خالہ تھیں۔

سب سے بڑے اسرار بھائی نے اوپر اپنا نیا فلور بنوالیاتھا ،دونوں بھائی اپنے بچوں کے ساتھ آرام سے رہ رہے تھے اور وہ ہیپی فیملی بناتے بناتے کہاں سے کہاں آن پہنچی تھی۔

سرمد کے بائیک کا ہارن سنائی دیا تو اس نے فون آف کردیا۔

٭٭٭

’’ؔدماغ تو درست ہے تمہارا؟ ‘’‘

سرمد نے کپ میز پر پٹخا، اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔

’’بالکل درست ہے ،آپ کی ہی بات مانی ہے کب سے کہہ رہے تھے کہ خرچے بڑھتے جارہے ہیں بچوں کی اسکولنگ کا مسئلہ بھی تو ہے۔ تو بس میں نے خالہ جی کو کہہ دیا ۔ وہ تو بہت خوش ہیں اپنے پوتا پوتی کو اپنے ساتھ کھلانا چاہتی ہیں۔ میں نے فوراً پاشا بھائی سے بھی کہہ دیا کہ ہمار اایڈوانس تیار رکھیں۔ ہم گھر چھوڑ رہے ہیں۔ ٹھیک کیا ناں۔‘‘

’’مجھ سے مشورہ تو کرتی کم عقل عورت۔ ‘‘

اس نے تھوک نگلا ۔ مانا کہ اس سے کل رات بہت بڑی بھول گئی تھی۔ وہ اپنی ہی شادی کی سالگرہ بھول بیٹھا تھا پر اس بھول کی اتنی بڑا سزا ،ناز کا دلکش سراپا اس کے اردگرد لہرایا۔

’’ اب کررہی ہوں ،خالہ کہہ رہی تھیں کہ صبح ہی جنید اور حالم آجائیں گے۔ سامان کو سمیٹنا آسان تو نہیں پھر آپ کو بھی تو آفس سے چھٹی لینا مشکل ہوگا ناں۔ بچے بھی بہت خوش ہیں۔ا ٓپ کوئی ٹینشن نہ لیں ابھی پورے دس دن ہیں ناں۔‘‘

حالم اور جنید اسرار بھائی کے بیٹے خیر سے یونی ورسٹی میں پڑھتے تھے اور نہال اور شزا کو بہت پیار کرتے تھے۔ ثریا خالہ کے گھر دونوں بچے جیسے کھلونوں کی مانند تھے جنہیں ہر کوئی پیار کرنا چاہتا تھا۔ وہ ہی پیار جیسے وہ گزشتہ چھ سات برسوں سے ٹھکراتی آئی تھی ،پر اب نہیں اس نے فیصلہ کرلیاتھا وہ سب کچھ برداشت کرسکتی تھی پر کسی اور عورت کی جانب اپنے شوہر کا رجحان اس کی بس حد تھی۔

’’ نہیں ٹینشن کیسی، اب تم سب کچھ کرہی چکی ہو تو میں کیا کہوں۔ تمہار اگھر ہے۔‘‘سرمد کی آواز جیسے کسی گہرے کنویں سے نکلی تھی ، اسی دم دروازے پر مخصوص دستک ہوئی۔

’’ ارے ناز ہوگی۔‘‘

روبی نے سرمد کو یاد دلایا جس کے منہ پر بارہ بج رہے تھے۔

’’جاؤ تم جاکر دیکھو مجھے ابھی ضروری فائل دیکھنی ہے پھر آفس کے لیے نکلنا ہے۔‘‘

سرمد نے مرے مرے لہجے میں کہا اور اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔ روبی دھیمے سے مسکراتی بیرونی دروازے کی جانب بڑھی ،آج اس کے دل میں کوئی ڈر کوئی خوف نہ تھا، اس نے اپنے پشتے مضبوط کرنے شروع کردیے تھے سیلاب چڑھنے سے پہلے۔

٭٭٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں