یہ کیا بنا لیا بھئی .بھنڈی کیا ایسے بنتی ہے۔”
کشور بیگم نے سالن کے ڈونگے سے ڈھکن اٹھاتے ہوئے عائشہ (بڑی بہو)کی طرف یوں دیکھا جیسے سارا قصور اسی کا ہو۔
نہیں اماں !آ ج کھانا میں نے نہیں سدرہ نے بنایا ہے۔ “
دل میں تو وہ خوش تھی ،اس کی پسند کا بھنڈی گوشت بنا تھا مسالے والالیکن ساس کو جتانا بھی ضروری تھا کہ دیکھ لیں ہم نے تو آ پ کی حکم عدولی نہ کی لیکن اب ہو رہی ہے۔
تم نے اسے بتایا نہیں اس گھر میں جو بھی سالن بنتا ہے وہ شوربے والا بنتا ہے۔”
وہ جو سارا ملبہ نئی آ نے والی دلہن پر ڈال کر پتلی گلی سے نکلنے والی تھی کشور بیگم نے اسے بڑی مہارت سے عین نکڑ سے جا پکڑا۔
ایسا سالن ہم نہیں کھاتے اور ذرا تیل تو دیکھو لگتا ہے دریا ہی بہا دیا ہے۔ “
ساس کی بات سن کر، بے چاری سدرہ کا سانس رک گیا تھا ،وہ کھلی آنکھوں سے اچھے بھلے سالن کا پوسٹ مارٹم ہوتا دیکھ رہی تھی ،گھبرا کر کبھی بڑی بھابھی عائشہ کی طرف دیکھتی پھر ساس کی طرف ،کیا پتا کہاں سے کیا الزام سننے کو مل جائے تب ہی اس نے سنا شہباز انکل ( سسر )بول پڑے تھے ۔
وہ تو اس گھر میں نئی آ ئی ہے ،اس گھر کے طور طریقے تو تمہیں ہی سکھانے پڑیں گے۔اسے کیا خبر ہم کس طرح کا کھانا پسند کرتے ہیں ،کتنی نمک مرچ
ڈالنی چاہیے ،یہ ساری باتیں تو وہ آ ہستہ آ ہستہ ہی سیکھے گی۔”
شکر ہے کوئی تو تھا جو اس کی زبان بے زبان کا ترجمان بنا تھا ۔
’’لیکن ابا جی وہ میں.وہ.”
سسر کے سامنے عائشہ کے بھی بریک فیل ہوگئے تھے، اب وہ کیا بتاتی کہ اس نے جان بوجھ کر اسے اپنی پسند کا کھانا بنانے کا مشورہ دیا تھا۔
بھابھی !نمک مرچ کتنا ڈالوں۔ “
اس بے چاری نے تو پکانے سے پہلے اس سے پوچھا تھا۔
جتنا تمہارا جی چاہتا ہے دبا کر ،نمک مر چ زیرہ گرم مصالحہ سوکھا دھنیا ڈالو۔”
میدان صاف دیکھ کر اس نے نئی بہو کو اپنی مرضی کا مشورہ دے ڈالا تھا۔
اور آ ئل؟”
اسے لگا تیل کا بھی پوچھ لے، کہیں تری والا سالن ریجیکٹ ہی نہ ہو جائے۔
ارے رنگ روغن تو سالن کا حسن بڑھاتا ہے آ ئل بھی دبا کر ڈالو اور سنو سبزی کو پانی مت لگانا، سبزی تو آ ئل میں ہی بھونی جائے تو مزا دیتی ہے۔”
اب اس مظلوم کو کیا پتا تھا وہ اپنی پسند کا بھنڈی گوشت بنوا رہی تھی سا س سسر کی پسند کا نہیں۔
وہ. وہ. کیا لگا رکھی ہے ؟ تمہاری تو دلی مراد پوری ہو گئی ،مسالے والا بھنڈی گوشت تو تم کھانا چاہتی تھیں اب ہمارا کیا ہے ہم بیمار بندے چاہے کھانا کھائیں نہ کھائیں ۔۔تمہاری بلا سے ۔”
کشور بیگم کو سب پتا تھا یہ ساری کار ستانی عائشہ کی تھی جو جان بوجھ کر شوربے والے سالن پر منہ بنا لیتی تھی۔
اماں !یہ کیا بات ہے ہر چیز میں پانی ڈالنا ضروری ہوتا ہے دال ہے تو اس میں پانی، گوشت بناؤ تو اس میں پانی ،یہاں تک مچھلی میں بھی پانی. پانی. پانی اس گھر میں تو ہر وقت سیلاب ہی آ یا رہتا ہے۔”
عائشہ کی جان جاتی تھی شوربے سے۔جتنا وہ شوربے والے سالن سے چڑتی ،اتنا ہی کشور بیگم روز شوربے والا سالن بنوا لیتیں۔
تم نے وہ نظم نہیں سنی
مچھلی جل کی رانی ہے
جیون اس کا پانی ہے
ہاتھ لگاؤ تو ڈر جائے گی
باہر نکالو تو مر جائے گی
اس سے ثابت ہوا کہ پانی زندگی ہے مچھلی کے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی۔”
وہ یہ نہ کہتیں ہم بزرگ معدے کے مریض ہیں۔ ان کی صحت کا خیال رکھنا چاہیے بس پانی کی افادیت سمجھا دیتیں جو اس کی سمجھ میں نہ آتی تھی۔
مر تو ویسے بھی جائے گی جب اس پر بالٹی بھر کر پانی ڈال دیا جائے تو تیر تیر کر اس کا حشر نشر ہو جائے گا۔‘‘
وہ کھانا بناتے ہوئے ٹھنڈی آ ہیں بھر کر رہ جاتی۔
وہ سوچتی کبھی کسی روز تو اس کی بھی حکومت ہو گی اور اپنے دور حکومت میں وہ سب سے پہلے پانی والے سالن پر بین لگائے گی۔
اپنے گھر میں، میں مسالہ والا سالن بنایا کروں گی “
اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات وہ امتیاز (شوہر) کو ہی سنا سکتی تھی۔
اچھا بھئی ہم بھی دیکھیں گے تم کیسا مسالے دار سالن بناتی ہو۔خود بناتی ہو یا بہو سے بنواتی ہو۔ہو سکتا ہے تمہاری بہو کو ویسا سالن پسند نہ ہو ہر کسی کی اپنی پسند ہوتی ہے۔”
امتیاز حقیقت پسند انسان تھا، اماں ابا کے سامنے بولتا نہیں تھا لیکن کسی کی دل آزاری بھی نہیں کرتا تھا۔نہ بے جا کسی پر حکم چلاتا تھا اس کا خیال تھا جو جس کے دل میں آ تا ہے اسے ویسا جینے کا حق ہے لیکن اماں ابا کے سامنے یہ بات کہنے کی جرات نہیں رکھتا تھا ،اسی بات کا عائشہ کو گلہ رہتا۔
امتیاز صاحب !آ پ کبھی تو اپنی اماں کے سامنے میری بات کی تائید کر دیا کریں “
وہ گلہ کرتی تو وہ موبائل سے نظر اٹھا کر کہتا۔
’ؔ’کیوں تمہارا کیا خیال ہے ،میں بزرگوں کی نافرمانی کروں۔اماں ابا معدے کے مریض ہیں، شوربے والا کھانا ان کی صحت کے لیے اچھا ہے بھاری پن محسوس نہیں ہوتا۔”
بات تو اس کی کسی حد تک صحیح تھی جو ابھی عائشہ کی سمجھ میں نہیں آ سکتی تھی۔
یہ بھی سارے ڈرامے ہیں ان کا مقصد یہ باور کروانا ہے کہ گھر ہمارا ہے تو مرضی بھی ہماری ہی چلے گی، میں کہہ دیتی ہوں امتیاز، جب میرا بھی گھر ہو گا تو وہاں میری مرضی چلے گی سمجھے آ پ۔”
اب اسے سنانے سے کیا ہونا تھا ،یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ اس کے گھر میں اسی کی مرضی چلنے والی تھی ،اس بات کا امتیاز کیا جواب دیتا چپ چاپ سر جھکا کر رہ جاتا وہ تو اس وقت بھی مظلوم عوام کا کردار ادا کررہاتھا اس وقت بھی عوام الناس ہی رہنے والاتھا ،اسے تو ترقی نہ ملنے والی تھی آ ج گھر کی وزیراعظم اگر اماں تھیں تو ان کی جگہ کل کو عائشہ نے سنبھالنی تھی۔
پھر خیر سے وہ وقت بھی آ گیا ،کل جہاں کھڑے ہو کر عائشہ سا س سے بات کرتی تھی وہاں اس کی بہو کھڑی بول رہی تھی۔
آنٹی !سبزی میں پانی کون ڈا لتا ہے آ پ تو گوبھی میں بھی گلاس بھر کر پانی ڈالتی ہیں، ایسی شوربے والی سبزی ہم سے نہیں کھائی جاتی۔”
اب ہانیہ ( بہو) کو شوربے والی سبزی سے چڑ تھی اور عائشہ اسے گھور کر جواب دے رہی تھی۔
اے لڑکی ،ہم دونوں میاں بیوی ٹھہرے معدے کے مریض اور منہ میں گنتی کے دانت بچے ہیں ،ڈاکٹر نے کہا ہے اگر کچھ روز اور جینا ہے تو ہلکی نمک مرچ کے ساتھ شوربے والا سالن کھاؤ۔”
لیکن آنٹی !ایسا سالن ہم سے تو نہیں کھایا جاتا۔ کوئی ضروری ہے ہر چیز میں پانی ڈالا جائے۔”
وہ اپنی پسند کا اظہار کرتی تو اس وقت عائشہ کے اندر کشور بیگم کی روح آ ن سماتی۔
یہ میرا گھر ہے لڑکی! اور یہاں میری مرضی چلے گی سمجھیں ،تم چپ چاپ کھانا بناؤ جسے کھانا ہے وہ کھائے ورنہ اپنے لیے کچھ الگ سے آرڈر کر لے۔”
ساس کا جواب سن کر وہ فہد (شوہر ) کی طرف دیکھتی کہ وہ کچھ بولتا ہے لیکن وہ باپ کی طرح سر جھکا کر موبائل میں کچھ اور غرق ہو جاتا۔
ہاں امتیاز صاحب اب ضرور عائشہ کو دیکھ کر مسکرا دیتے تھے۔
واہ. واہ.بیوی! اب لگ رہی ہو تم بالکل میری اماں۔ “
ہاں تو یہ میرا گھر ہے تو مرضی بھی تو میری ہی چلے گی نا۔”
عائشہ کو ساس کا جملہ یاد آ تا تب امتیاز کی مسکراہٹ اور گہری ہو جاتی۔
لیکن بیگم !میری اماں کو کاپی کرتے کرتے تم ایک بات تو بھول ہی گئی ہو کہ کل تک جس شوربے والے سالن سے تمہیں چڑ تھی ،آ ج اسی سالن کا تم خود آ رڈر دے رہی ہوتی ہو۔”
امتیاز کے یاد دلانے پر اسے یاد آ تا کہ بات تو ٹھیک تھی ،کہیں ساس کو کاپی کرتے کرتے وہ اپنا آ پ بہت پیچھے تو نہیں چھوڑ آ ئی تھی لیکن امتیاز صاحب خوب جانتے تھے یہ وقت وقت کے ذائقے تھے کل ان کی اماں جہاں کھڑی تھیں ،آ ج اس ذائقے میں عائشہ رنگی گئی تھی۔
٭٭٭٭٭٭


