یہ سرخ والا اور سبز والا ٹھیک رہے گا۔”سامنے پھیلے زنانہ سوٹوں میں سے دو کی طرف فراز صاحب نے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔”ٹھیک ہے ابا جان!” ریحان نے اثبات میں سر ہلایا۔”
’’اور پیسے کتنے دینے ہیں؟” آسیہ بیگم کے سوال پر زینش نے چونک کر ان کی جانب دیکھا۔
فراز صاحب اب پیسوں کے بارے میں بتا رہے تھے۔جبکہ وہ حیرت سے سامنے بیٹھے تینوں نفوس کو دیکھ رہی تھی۔ اسے یہ سب بہت عجیب محسوس ہورہاتھا۔
٭٭٭
آسیہ بیگم اور فراز صاحب کے تین بیٹے تھے۔ زینش ان کے چھوٹے اور لاڈلے بیٹے ریحان کی دلہن بن کر اس گھر میں آئی تھی۔ان کی بڑی دونوں بہوں الگ رہتی تھیں۔زینش بہت خوش تھی۔ ریحان بہت محبت کرنے والا شوہر ثابت ہوا تھا اس کی ساس آسیہ بیگم بھی ایک نرم مزاج کم گو سی خاتون تھیں۔ ابتدائی دنوں میں دونوں بڑی بھابیاں اکثر چکر لگاتی تھیں۔ایک دن بڑی بھابھی نے پوچھا۔
کیسا لگ رہا ہے؟”
’’سب بہت اچھا لگ رہا ہے۔ امی جی اور ریحان بہت اچھے ہیں۔‘‘
اور ابوجی؟‘‘وہ’’ بھی اچھے ہیں۔”اس کے جواب پر دونوں معنی خیزی سے ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر ہنس دیں تو وہ تعجب سے انہیں دیکھ رہ گئی۔
٭٭٭
ایک ماہ تک لاڈ اٹھوانے کے بعد اس نے بصد اصرار کچن میں قدم رکھ دیا۔آہستہ آہستہ اسے گھر کے ماحول کا اندازہ ہوا تو اسے عجیب سا لگا ۔اس احساس کی ابتدا اس دن ہوئی جب وہ کچن میں کام کر رہی تھی کہ اس نے آواز سنی۔
کیا کر رہی ہو؟” اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے اپنے سسر کو کھڑے پایا۔ وہ اپنی ساس کی امید کیے بیٹھی تھی ۔سسر کو دیکھ کر چپ رہ گئی۔وہ آگے بڑھے اور پتیلے کا ڈھکن اٹھا کراس میں جھانکا۔
ہممم !گھی زیادہ ڈال دیا ہے تم نے۔ اتنا گھی صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔”
وہ اب چمچے سے اوپر تیرتا گھی اتار رہے تھے۔ زینش مارے مروت کے خاموش کھڑی رہی مگر اسے بہت عجیب لگا۔
٭٭٭
جلد ہی اس کی سمجھ میں آگیا کہ پورے گھر پہ اس کے سسر فراز صاحب کا غلبہ تھا۔ فراز صاحب اپنے زمانے کے ڈرائیور تھے جیسے ہی بڑے بیٹے نے قد بت نکالا اور گھر کی ذمہ داری سنبھالی انہوں نے از خود ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔اتنے سالوں سے گھر میں رہ رہ کر ان میں زنانہ سی عادات سمو گئی تھیں۔ہر بات پرروکنا ٹوکنا،نظر رکھنا، مشورے دینا۔یہاں تک کہ گھر میں کیا پکنا،کیا لانا ہے،شادی اور دیگر تقریبات میں کیا دینا دلانا ہے، ہر بات کا فیصلہ وہ کرتے تھے۔
اس نے اپنے گھر میں یہ سب کب دیکھا تھا، اس کے بابا بیرونی معاملات طے کرتے تھے تو گھر کے معاملات اس کی والدہ کی نگرانی میں ہوتے۔ دونوں نے کبھی ایک دوسرے کے معاملات میں دخل نہیں دیا تھا۔
بابا کہا کرتے تھے کہ”عورتوں کے معاملات عورتیں ہی جانیں۔‘‘
اور اماں کہا کرتی تھیں کہ” بیرونی معاملات مرد ہی بہتر جانتے ہیں۔”
یہی وجہ تھی کہ ان کی زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی۔مگر یہاں معاملہ الٹ تھا۔اس نے بڑے سبھاؤ اور محتاط انداز میں اپنی الجھن کا ذکر ریحان سے کیا تو وہ بولے۔
ہاں ایسا ہی ہے مگر وہ بڑے ہیں انہیں کیا کہا جا سکتا ہے۔”
اسے زیادہ حیرت اپنی ساس پر ہوتی تھی کہ وہ بغیر جھنجھلاہٹ کے ان کی ہاں میں ہاں ملائے جاتیں۔
زینش کو اپنا آپ اپنے گھر میں ہی قید اور جکڑا ہوا محسوس ہونے لگا تھا۔نہ وہ اپنی مرضی سے کھا سکتی تھی نہ پکا سکتی تھی۔اسے گھر کوسنوارنے سجانے کا بہت شوق تھا مگر یہاں بھی وہ دل مسوس کر رہ جاتی کیوں کہ فراز صاحب ہر جگہ آموجود ہوتے۔ زینش کی ساس خاصی خوب صورت تھیں ،ان کی خوبصورتی اس عمر میں بھی واضح تھی مگر قبول صورت فراز صاحب ہر وقت خود کو نک سک سے تیار رکھنے کی وجہ سے ان سے زیادہ خوبصورت نظر آتے تھے۔
وہ اندر ہی اندر ان سے خائف رہنے لگی تھی۔ ریحان دیکھ رہا تھا کہ زینش کے چہرے کی شادابی پہ تفکر کے سائے غالب آتے جا رہے ہیں۔ وہ بے چین سی دکھائی دیتی تھی مگر منہ سے کچھ نہیں کہتی تھی۔ اسے اب سمجھ میں آیا تھا کہ دونوں بھائیوں کے خاموشی سے الگ ہونے کے فیصلے میں کیا حکمت پوشیدہ تھی۔ مگر وہ چھوٹا بیٹا تھا دور یا الگ ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا سو وہ زینش کو ہی باتوں سے حوصلہ دلاتا اور اس میں کامیاب بھی رہتا کہ زینش خود بھی صلح جو اور مثبت سوچ رکھنے والی لڑکی تھی۔
٭٭٭
اسی شش و پنج میں دن گزر رہے تھے۔ آج اس کا دل بھر بھر آرہا تھا۔نماز ظہر ادا کرکے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو بے اختیار رو دی۔ اپنا حال دل اللہ کو سنا کر اسے اپنا آپ ہلکا پھلکا محسوس ہو رہاتھا۔
شام کو ہی فراز صاحب کے دوست چلے آئے تھے۔ زینش چائے بنانے کچن میں چلی گئی اور لوازمات تیار کرنے لگی۔ان کے دوست عمرے پہ جا رہے تھے۔ وہ کافی خوش مزاج تھے۔ انہوں نے اس کے سسر کے برعکس زینش کے ہاتھ کی بنی چائے کی تعریف کی تھی اور شاباش بھی دی جس سے زینش کھل اٹھی تھی۔
’’بھائی عمرے کا ارادہ تو ہے ہی ،ساتھ میں اپنے پوتے سے بھی مل آؤں گا ۔بڑے دن ہو گئے ہیں اس سے ملے ہوئے۔(ان کے بہو بیٹا سعودیہ میں رہتے تھے) فراز تمہارے پاس میں ایک خاص مقصد سے آیا ہوں۔تمہیں تو پتا ہی ہے میرے ماشائ اللہ دو اسٹور ہیں،میں نے سب دوستوں سے بات کی لیکن کوئی بھی یہ ذمہ داری اٹھانے کے قابل نہیں ہے۔‘‘
’’مجھے تم سے زیادہ قابل اعتبار کوئی نہیں نظر آتا،سومیں تم سے دوستانہ گزارش کرتا ہوں کہ دو ماہ تک میری امانت سنبھال لو۔‘‘
ان کی اس بات پر کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
’’ابا جان دیکھ لیں آپ کی دوستی کا سوال ہے۔” اس خاموشی کو ریحان کے پر مزاح جملے نے توڑا۔
فراز صاحب خوش گوار موڈ میں تھے سو مان گئے۔تھوڑے ہی دن بعد شاہد صاحب عمرے پر روانہ ہو گئے۔
اگلی صبح فراز صاحب نک سک سے تیار ہو کر کام پہ چلے گئے۔وہ شام گئے تک لوٹے تو ریحان اور ان سب نے ان کے چہرے کے تاثرات جانچنے چاہے۔ان کے تاثرات معتدل پاکر ریحان نے پوچھا۔
کیسا گزرا آپ کادن؟”
’’ہاں اچھا تھا۔”
انہوں نے جواب دیا۔”کل جائیں گے؟” اس نے پوچھا۔
ہاں جاؤں گا۔” اور ان کو مزید جانے کے لیے رضامند دیکھ کر ان سب نے دل ہی دل میں شکر اداکیا۔اور حقیقی خوشی تو زینش کو ہوئی تھی۔ان کی غیر موجودگی میں وہ خود کو آزاد اور کھلا محسوس کر رہی تھی، نہ کوئی روک ٹوک اورنہ ہی کسی کے مستقل نظر رکھے جانے کا احساس۔
وہ جو اپنی ساس سے شکوہ کناں رہتی تھی۔ اب ان سے تعلقات بحال ہوگئے تھے۔وہ فطرتا نرم مزاج سی خاتون تھیں۔ زینش کاموں سے فارغ ہو کر ان کے پاس جا بیٹھتی۔جلد ہی دونوں گھل مل گئیں۔ایسے ہی دو ماہ کا عرصہ گزر گیا۔
٭٭٭
شاہد صاحب کی واپسی کا اعلان اسے اداسی میں مبتلا کیے جا رہا تھا۔ایک بار پھر سے وہی شب وروز ،پھر وہی منظر۔
جلد ہی وہ واپس آگئے۔ اپنی اسی خوش مزاجی سمیت وہ ایک بار پھر آموجود تھے۔وہ ان کے لیے خریدے گئے تحفے تحائف لائے تھے۔
یار بہت اچھا کام سنبھالا تم نے تو۔ میں تو کہتا ہوں گھر پہ فارغ ہی رہتے ہو کیوں نہ پکا پکا مجھے جوائن کر لو۔”وہ فراز صاحب سے گویا ہوئے۔
بس کرو یار!تمہیں انگلی کیا پکڑائی تم تو ہاتھ پکڑنے پرہی آگئے۔”فراز صاحب نے جواب دیا۔
اس عمر میں اپنے بڈھے دوست کا ہاتھ نہیں پکڑوں گا تو کس کا پکڑوں گا۔”وہ پر مزاح انداز میں بولے۔
تم میری آزادی سلب کرنے کی سازش کر رہے ہو۔”فراز صاحب بھی خوش گوار موڈ میں تھے۔
پھر انہوں نے سوچ کر بتاؤں گا کہہ کربات سمیٹ دی۔ ریحان نے صورت حال اپنے بڑے بھائیوں کے سامنے رکھی۔ وہ بھی مسئلے سے واقف تھے سو ریحان کی مدد کو آپہنچے۔ان سب کے اصرار پرفراز صاحب نے ہتھیار ڈال دیے۔
اسٹورپہ کام ملازموں کی نگرانی کرنا اور حساب کتاب پہ نظر رکھنے کا ہی تو تھا جو ان کا من پسند مشغلہ تھا۔ انہیں اس میں مزہ آنے لگا تھا۔وہ باہر نکلے تو ان کا زنانہ خول بھی ٹوٹنے لگا تھا۔گھر سے باہر دلچسپیاں نظر آنے لگی تھیں۔گھر میں روک ٹوک کی فرصت ہی نہیں ملتی تھی۔
انہوں نے شاہد صاحب کی بدولت نئے نئے دوست بنا لیے تھے۔ ان کی عادت و اطوار میں واضح فرق آنے لگا تھا۔خصوصی طور پر شاہد صاحب کی کمپنی نے ان پر کافی اچھا اثر ڈالا تھا۔
زینش بیٹا!ذرا آج اپنے ہاتھ کی مزے دار سی چائے تو پلاؤ۔”انہوں نے کہا تو زینش نے حیرت سے ان کی جانب دیکھا۔وہ کمرے میں ریحان کے پاس آکر بولی۔
کیا یہ واقعی ابا جان ہیں۔”ریحان اسے دیکھ کر مسکرا دیا۔
یہ انکل کی کمپنی کا اثر ہے کہ ابا جان میں اتنی تبدیلی آگئی ہے۔اللہ نے کسی بھی قسم کی بدمزگی سے بچا لیا اور یہ بھی کہ میری بیگم کی توانائی ضائع ہونے سے بچ گئی۔”آخری جملہ اس نے زینش کی جانب جھک کر ادا کیا تھا۔
وہ کیسے؟” اس نے اچنبھے سے پوچھا۔
وہ ایسے کہ جو توانائی آپ تفکر و تدبر اور جلنے کڑھنے میں خرچ کرتی تھیں۔اب کسی نیک کام میں خرچ ہوگی۔”
اس کے جواب پر وہ بے اختیار ہنستی چلی گئی۔اور ریحان کو یوں محسوس ہوا جیسے چاروں طرف قوس قزح بکھرتی چلی گئی ہو۔
٭٭٭٭٭٭


