خوشبو کی زبان – سمیراحمید

افسانے 66

الزبتھ بلیک ویل دنیا کی پہلی خاتون تھی جو ڈاکٹر بنی تھی۔

ایک عام لیڈی سے، لیڈی ڈاکٹر بننے کا سفر ہرگز آسان نہ تھا۔ایک واقعہ نے اس کی زندگی بدل دی اور اس نے ٹھان لی کہ وہ ڈاکٹر بن کر رہے گی۔ الزبتھ ایک غریب گھر سے تھی، پیٹ بھرنے کے لیے اسے ٹیچر بننا پڑا۔اس دوران اس کی ایک سہیلی بیمار پڑ گئی۔

ان دنوں پردے کا رواج تھا۔ عورتیں، مرد ڈاکٹر سے علاج کرانے کے بجائے بیمار رہنا پسند کرتی تھیں۔سہیلی کی بیماری اور تکلیف بڑھتی چلی گئی۔الزبتھ لیڈی ڈاکٹر کی تلاش میں ماری ماری پھرنے لگی مگر ناکامی ہوئی۔ان حالات نے الزبتھ کا ذہن متاثر کیااور اس نے ڈاکٹر بننے کا ارادہ کر لیا۔ وہ سمجھ گئی کہ اس کی منزل ا سکول کی ٹیچنگ نہیں بلکہ میڈیکل کالج ہے۔

وہ برطانیہ سے تھی،ڈاکٹر بننے کے لیے امریکا گئی، جہاں جد وجہد کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وہ درخواست لے کر جس جس میڈیکل کالج میں گئی، اسے داخلہ دینے سے انکار کر دیا گیا کیونکہ قانون کے مطابق عورتیں ڈاکٹرنہیں بن سکتی تھیں۔ اسے اپنے عورت ہونے کا احسا س شدت سے ہوا۔ایک طرف علاج سے محروم بیمار سہیلی، دوسر ی طرف ڈاکٹر بننے سے محرومی۔

الزبتھ درخواست پر درخواست دیتی رہی، اسے انکار پر انکار ملتا رہا۔بالآخر اس نے جنیوا کالج میں اپنا مقدمہ پیش کیا۔کالج انتظامیہ نے ازراہ

مذاق کہہ دیا کہ

’’اگرکلاس کے مرد طالب علم اس کے حق میں ووٹ دے دیں گے تواسے کالج میں داخلہ مل جائے گا۔‘‘

یہ بھی انکار ہی تھا لیکن دوسرے انداز میں۔

کالج کے مرد طالب علموں سے ووٹ لیے گئے اور تمام ووٹ الزبتھ کے حق میں نکلے۔یہ ووٹنگ ان سب کے لیے تفریح سے زیادہ نہیں تھی۔ ایک طرف الزبتھ جس نے امریکا کا کوئی کالج نہیں چھوڑا تھا جس کا دروازہ نہ کھٹکایا ہو ، دوسری طرف کالج جو مذاقاً ووٹنگ کروا رہا تھا۔

وہ کسی کو یہ سمجھا نہیں سکی کہ وہ شوق کے تحت نہیں ضرورت کے لیے ڈاکٹر بن رہی ہے تاکہ عورتیں اس کی سہیلی جیسی تکلیف سے نہ گزریں۔الزبتھ نے دنیا کی پہلی لیڈی ڈاکٹر بن کر دنیا کی باقی عورتوں کے لیے ڈاکٹر بننے کی راہ کھول دی۔ورنہ شاید آج بھی یہ راستہ خواتین کے لیے بند رہتا۔

جیسے خواتین جسمانی بیماریوں میں تنہائی کا شکار رہی ہیں،ویسے ہی خواتین جذباتی بیماریوں میں بھی گھٹن کا شکار رہی ہیں۔احساسات کی گھٹن، نارسائی کی تکلیف،ناقدری کا عذاب اور چپ کی مشقت۔ بتائیے کیا انسان صرف جسمانی تکلیفوں کی ہی دوا چاہتا ہے؟ کیااس دل کو ان کہے غموں کی دوا مطلوب نہیں ہوتی؟

دو عورتیں دو صورتوں میں بڑی جلدی سہیلیاں بن جاتی ہیں۔ ان کے خواب ایک جیسے ہوں، یا ان کے درد ایک جیسے ہوں۔یہ خواب، یہ درد، خواتین ڈائجسٹ کے صفحوں پر بکھرے ملے تو پڑھنے والی آنکھ، دھڑکنے والے دل سکھی سہیلی بن گئے۔پاکستان میں ان خواتین کو ’’ قلم اور کہانی‘‘تھما دینے کی ابتدائ خواتین ڈائجسٹ سے ہوئی۔یہاں یہ بند راستہ ’’خواتین ڈائجسٹ‘‘ نے کھولا۔

ٹراسکی کہتا ہے :

’’اگر تم حالات کو تبدیل کرنا چاہتے ہو تو ان حالات کو ایک عورت کی نظر سے دیکھو۔ ‘‘

عورت کی یہ نظر کہانیوں میں دکھائی دی، سنائی دی۔ہم نے تا ج و تخت کی بغاوتیں سنیں،لیکن گھر کو جنت بنانے کی مشقتوں سے ناآشنا رہے۔

منو بھائی ایک بہت ہی پیاری بات بتاتے ہیں ۔ کہتے ہیں ’’ایک عورت میرے پاس آئی اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں ، بے چاری روتی رہی ہو گی۔اس نے کہا ’’بچے کی گمشدگی کی خبر دینی ہے۔‘‘

’’ چھ سال کا ہے، محمد انور نام ہے۔‘‘

’’ کپڑے کیسے پہنے ہوئے ہیں؟‘‘

’’ نیلے رنگ کی قمیص، ہوائی چپل، اور شلوار سفید تھی مگر اب تو میلی ہو گئی ہو گی۔‘‘

مزید کہتے ہیں۔

’’اس عورت کی بات سے میرے ذہن میں ایک عجیب سی سوچ آئی کہ اگر اس بچے کا باپ ہوتا تو سفید شلوار ہی لکھواتا۔لیکن ماں چونکہ روز دھلی ہوئی شلوار پہناتی ہو گی تو اسے احساس ہے کہ اب میلی ہو گئی ہو گی۔ اس لیے اگر بہن بھی ہوتی تو یہی کہتی۔اس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ عورت اور طرح سے سوچتی ہے۔ اس بات نے مجھے ایک نیا احساس دیا کہ چیزوں کو اور حالات کو عورت کی نگاہ سے دیکھنا بہت اہم ہے۔‘‘(منو بھائی)

عورت کی نگاہ، حسا س نگاہ ہے۔محبت سے لبریز نگاہ ہے۔ہم عورتوں نے لکھا، ہم عورتوں نے پڑھا۔ہمارے خواب ملتے تھے ورنہ درد مشترکہ تھے، ایسے لکھتے پڑھتے ہم ایک ہو گئے۔کچھ گتھیاں سلجھیں، کچھ سوجھ بوجھ ملی۔ زندگی کا بوجھ کچھ تو کم ہوا۔

ایک خط نے دوسرے خط سے تعلق بنایا۔میں نے آپ کو جانا، آپ نے مجھے جانا۔جو خواتین کبھی اپنے گھروں، اپنے گائوں سے باہر نہیں نکلی تھیں،انہیں کہانیوں کے ذریعے نیا جہان مل گیا۔جن خواتین کو اپنی خوشیاں بانٹے کے لیے کوئی نہیں ملتا،انہیں بہنوں کی محفل میں ان خوشیوں کو دوبالا کرنے کا ٹھکانا مل گیا۔

ان کہانیوں پر طنز کیے جاتے رہے کہ یہ حقیقت سے دور لے جاتی ہیں، خوابوں میں بھٹکاتی ہیں۔ اتنی ترقی یافتہ دنیامیں یہ کتنی غلط بات ہے کہ کہانیاں صرف اس لیے نہ پڑھنے دی جائیں کہ وہ آنکھوں میں خواب جگا دیتی ہیں۔کیا دو چار خواب دیکھنے کے لیے بھی ووٹوں کی ضرورت درپیش رہے گی؟

ہر گز نہیں.خاص کر ان آنکھوں کو جو حساس نگاہ رکھتی ہیں، اور ان لفظوں کو جو خوشبو کی زبان بولتی ہیں۔

٭٭٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں