لمحہ – زینب ظفر

افسانے 76

’’اماں.! نزہت آرہی ہے ۔ سنا اماں؟ میری جیٹھائی نزہت ۔ اماں وہی نزہت جس کے در پہ میںاپنے بیٹے کے لےے رشتہ مانگنے گئی تو اس نے کہا تھا’’ اپنی اوقات میںرہ نادرہ. کہاںتیرا بیٹا ‘کہاں میری شہزادی۔ ےو نے یہ سوچا بھی کےسے‘ارے ماں بیٹا جاکر ایک بار آئےنہ ہی دےکھ لیتے۔ اور نہیں تو اپنے ماچس جتنے گھر پہ ہی نظر ڈال لی ہوتی ۔ تو میری کوٹھی تک آنے کی تیری جرات ہی نہ ہوتی۔‘‘

میںاپنے کمرے میں نوٹس بنارہی تھی اور امی کی آواز مجھے برح طرح ڈسٹرب کےے جارہی تھی۔ ان کی تیز جوشیلی آواز تھمی تو میں نے نانی اماں کی پر سکون آواز سنی۔

’’آ کیوںرہی ہے وہ؟‘‘ نانی صحن میں قرآن کی تلاوت کررہی تھیں۔

کھڑکی سے میںنے انہیں قرآن چوم کر رحل پہ رکھتے دےکھا۔ اماں پاس ہی بیٹھ گئیں۔

’’ہونہہ. کیوںکہ جس اونچے گھر میں اس نے بیٹی کو بیاہا تھا ۔ انہوںنے بھی نزہت کو اوقات یاد دلادی۔جھگڑے کہاں نہیں ہوتے۔ لیکن انہوںنے تو جھٹ طلاق ہی دے ڈالی اور بیٹی کو نزہت کے در پہ پھینک گئے۔ اب اسے قدر آئی میرے شریف بیٹے کی اور میری۔‘‘ اماں کا لہجہ بتا رہا تھاکہ وہ دل میں بہت کچھ رکھے بیٹھی تھیں نانی بھی سمجھ گئیں، پیار سے بولیں۔

’’رفعت اچھی اور نیک لڑکی ہے نادرہ. اگر تیرے بیٹے کی خواہش کا وسیلہ بن رہا ہے تو دےکھ. پرانے ادھار چکانے مت بیٹھ جانا. اسے.‘‘مگر امی نے جملہ کاٹ دیاتھا۔

’’چکائوں گی ۔ آج تو گن گن کے بدلے چکائوں گی اماں. اےسے بھگوبھگو کر ماروں گی جوتے کہ نزہت ساری رات کروٹےں بدلے گی. آئےنے میں اسے اس کا بدصورت چہرہ دکھائوںگی میں۔ کانوںکوہاتھ لگائے گی میرے زہر بھرے طعنے سن کر ۔ میں اس کے گھر سے روتے ہوئے نکلی تھی۔ آج میرے گھر سے روتے ہوئے جائے گی وہ۔‘‘

امی ہانپتے ہوئے بولے گئیں۔ نانی سخت ناراضی کے ساتھ انہیں دےکھ رہی تھیں۔تب ہی امی کی نظر ان کے قرآن پر پڑی۔ انہوںنے کتاب مقدس اٹھالی اور بولیں۔

’’اماں !یہ وہ ابا والا قرآن ہے نا۔ میں لے لوں؟‘‘نانی نے ان سے قرآن لے کر سنجیدگی سے کہا۔

’’یہ میرے شوہر کی نشانی ہے ۔ یہ اسے شاہ فیصل مرحوم نے دیا تھا۔ جب شاہ فیصل ’’اسلامی سربراہی کانفرنس‘‘ پہ پاکستان تشریف لائے تھے ۔ اس نے انہیںسلام کیا تھا اور تسبیح پیش کی تھی ۔ جس پر انہوںنے اپنی گاڑی سے یہ قرآن نکال کر اسے دیا تھا۔ اس کا حق دار میں صرف اسے بنائوںگی . جس کا دل صاف ہوگا. میں نے تیری یہ تربیت نہیںکی تھی نادرہ. بڑوں کا احترام سکھایا تھا. صلہ رحمی سکھائی تھی اور تو.‘‘

امی کا چہرہ میں نے اےک لمحے کے لےے متغیر ہوتے دےکھا مگر.

’’نہیں اماں۔ نزہت کی طبیعت صاف کرنے سے مجھے آج کوئی نہیں روک سکتا،آپ کی تربیت بھی نہیں‘‘۔اور یہ وہ وقت تھا جب اطلاعی گھنٹی بجی . اور پھردروازہ دھکیل کر نزہت تائی اندر داخل ہوگئیں۔ لےکن ہماری توقعات کے برعکس وہ ایک اجڑی ہوئی عورت تھیں۔ اور . جس کے ہاتھ جڑے ہوئے تھے جب بولیںتو آواز بھیگی ہوئی تھی۔

’’لو. آج میں تم سے اپنی بیٹی کی خوشیوںکی بھیک مانگنے آئی ہوں نادرہ. لو آج خوب ذلیل کر. آج تو ایک لفظ دل میں نہ رکھنا. آج سارے بدلے لے لو. لےکن تمہیںاللہ کا واسطہ. پھر اس کے بعد میری عرضی قبول کرلینا‘‘

جب تک ہم تینوں ان تک پہنچتیں۔ وہ روتے ہوئے بولے گئیں اور ہکا بکا رہ گئیں جب امی نے ان کے ہاتھ تھامے۔

’’نہیں بھابھی. ذلیل ہوں آپ کے دشمن۔‘‘

امی کی آواز کی نمی نے مجھے ٹھٹھکا دیا۔ مگر نانی مسکرادیں۔

’’آپ بڑی ہیں. ہم چھوٹے. بڑے جھڑک ہی دیا کرتے ہیں۔‘‘امی کا انتقام؟ وہ ان کی شیخیاں ؟۔ یا خدا وہ برا لمحہ آنے سے پہلے ہی کےسے ٹل گیا۔ وہ تائی کے ہاتھ پکڑ کر بول رہی تھیں۔ دونوںہی رو رہی تھیں۔

’’آپ نے پہلے پہل ایک ماںکی طرح گھر داری سکھائی مجھے۔ بچوںکی بیماریوں پہ میرے ساتھ جاگیں. مشکل وقت میں رقم قرض دی. بس ایک رشتہ ہی نہیں دیا نا. تو وہ تو آپ کا حق تھا جسے مرضی دیں۔‘‘

’’میری نادرہ.‘‘

’’ بھابھی جان‘‘

اور دونوں آپس میں لپٹ گئی تھیں ۔میںحیران کھڑی تھی اور نانی نے ان کے الگ ہونے پر اپنا قرآن آگے کیا۔

’’لو نادرہ. اپنی امانت. اپنا حق سنبھالو بیٹی!‘‘

اور امی کی آنکھوںمیں قرآن تھامتے ہوئے آنسو آگئے تھے ۔

٭٭٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں