’’امی ! ذکیہ بھابھی مجھ سے بہت کھنچی کھنچی سی رہتی ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ بظاہر تو ہماری کبھی لڑائی بھی نہیں ہوئی۔ آپ کی اور تائی امی کی تو اتنی بنتی ہے پر میری جٹھانی تو اتنی کم بات کرتی ہیں۔ ہماری تو شادیاں بھی ساتھ ساتھ ہوئی ہیں ۔‘‘
’’بس بیٹا! سب کا اپنا اپنا مزاج ہوتا ہے اپنی عادتیں ہوتی ہیں۔ چلو خیر ! یہ چیری کا ڈبہ لے جانا۔ ابو لائے تھے تمہارے لیے ۔‘‘انہوں نے کہا۔
’’آئو تمہیں اریبہ کے کپڑے دکھائوں اتنی پیاری پیاری فراکیں لائی ہوں۔ کلر اتنے پیارے ہیں۔ دل چاہ رہا تھا۔ سارے کپڑے لے لوں اپنی نواسی کے لیے۔ دوچار دن میں آئوں گی تمہاری طرف ۔‘‘
’’ہاں ! ساس کے سامنے دیجیے گا۔ بڑا مزہ آتا ہے۔ جب وہ ذکیہ بھابھی کو سناتی ہیں کہ ثمرہ کے امی ، ابو نے یہ دیا۔ ثمرہ کے گھر سے یہ آیا ہے۔ سچی ! میرا تو سر بلند ہو جاتا ہے فخر سے اللہ میرا میکا سلامت رکھے۔(آمین)
بس بیٹا! سسرال والے مان لیں ، یہی بہت ہے ۔ بیٹی کو تو ساری عمر دینا ہوتا ہے۔ پھر تم تو ہماری اکلوتی اولاد ہو تمہارا نہیں کریں گی تو پھر کس کا کریں گے۔‘‘
٭٭٭
آج ثمرہ کے گھر جانا تھا۔ وہ صبح سے تیاری کر رہی تھیں۔ لان کے دوسوٹ اپنے لیے لائی تھیں سلنے میں ہی نہیں آ رہے تھے۔ سوچا نواسی کے گرمیوں کے کپڑوں کے ساتھ ثمرہ کو بھی دے دوں ، سلوالے گی۔ داماد کا بھی ایک سوٹ شادی میں آئی پہنائونی میں سے نکل آیا۔ اب کیا اچھا لگتا بیٹی اور نواسی کو دوں اور داماد کو نہ دوں۔
پھر شام میں مٹھائی ، فروٹ لے کر بیٹی کے ہاں پہنچیں۔ دینے دلانے سے کم از کم یہ تو ہوتا ہے کہ سسرال والے سیدھے منہ بات تو کر لیتے ہیں۔
سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ لیکن ہمارا معاشرہ بڑی تیزی سے اسی طرف جا رہا ہے۔ جہاں بیٹی والے کچھ بھی دے دیں۔ کچھ بھی کر لیں۔ سسرال والوں کی توقعات پر پورے ہی نہیں اترتے اور کی چاہت ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔
آج کل بیٹوں کی مائیں بھی نہ جانے کس ڈگر پر چل پڑی ہیں کہ بس بیٹوں کا فائدہ ہو۔ بہوئوں کو درپردہ سنا سنا کر دوسروں کی مثالیں دے دے کر مانگا جاتا ہے۔ یہ سب کر کے ساسیں بہوئوں کی نظروں میں گر جاتی ہیں۔ بہوویں بھی کیا کریں ماں ، باپ سے دکھ سکھ کرتی ہیں۔ بے چارے ماں باپ ، بیٹی کو بسانے اور سکون کے لیے دیتے دلاتے ہیں اپنی اوقات سے بڑھ کر ۔ کہ ساسوں کے منہ بند ہو جائیں۔
اس سب میں ساسوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بیٹے سسرالی کی طرف ہو جاتے ہیں۔ جو دیتا ہے وہ وصولنا بھی خوب جانتا ہے۔ جب ساسیں نظروں میں گرجاتی ہیں۔ تو بس پھر انہیں برداشت کیا جاتا ہے۔ خدمت تو بہت دور کی بات ہوتی ہے۔ نہ ہی بیٹے احساس کرتے ہیں۔ آخر میں وہی بہوویں خدمت کرتی ہیں ،جن کا میکہ کمزور ہو یا جو خدمت کا فارمولا لے کر سسرال آئی ہوں۔ ایک بہت بڑی وجہ انسانیت اور خوف خدا بھی ہوتا ہے۔
دے دلا کر بیٹی اور نواسی کو پیار کیا اور خدا حافظ کہہ کر دروازے تک پہنچیں تو ذکیہ سامنے سے آ رہی تھی۔ روکھا پھیکا سا سلام کیا اور چلی گئی۔
’’صحیح کہتی ہے ثمرہ ، ذکیہ بہت لیے دیے رہتی ہے۔‘‘
٭٭٭
’’زرینہ اس مہینے یہ دوسرا ہزار کا نوٹ ہے جو تم ایڈوانس لے رہی۔ ہو تنخواہ میں پھر بچے گا کیا جو لو گی۔ تم تو ہمیشہ مہینے کے مہینے ہی پیسے لیتی تھیں خیریت تو ہے ؟کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتائو۔ میں مدد کر سکی تو ضرور کروں گی۔ ‘‘
’’کیا بتائوں باجی ! جب سے بیٹی کی شادی کی ہے۔ بہت پریشان ہوں۔‘‘
’’ایسی کیا پریشانی ہے۔‘‘
’’باجی ! جہاں بیٹی بیاہی ہے۔ وہ دو بہوویں ساتھ بیاہ کر لائی ہے۔ بڑی بہو کے ابا کا اینٹوں کا کام ہے۔ چلتاہوا کام ہے۔ شادی بھی دھوم دھام سے کی تھی۔ بیٹی کو دینا دلانا بھی خوب کرتے ہیں۔ میری بیٹی کی تو زندگی عذاب کر دی ہے اس کی ساس نے۔ بڑی بہو کے گھر سے جب کچھ آتا ہے۔ ساس چھوٹی بہو کو بٹھا کر خوب سناتی ہیں۔ میاں بھی کانوں کا کچا ہے ۔ بجائے ماں کو سمجھائے ۔ بیوی کو ہی سناتا ہے۔
بیٹی تو بسانی ہے باجی۔ ہر مہینے دینے دلانے کی وجہ سے تنخواہ ایڈوانس لینی پڑ جاتی ہے۔پورا مہینہ کیسے گزارتی ہوں میرا اللہ جانتا ہے۔ کھینچ تان کر گزارا کرتی ہوں۔ پتا نہیں باجی ! کیا ملتا ہے لوگوں کو دکھاوا کر کے۔ اگر بتا کر دکھا کر نہ دیں بس ویسے ہی اپنی بیٹی کو دے دیں ،تو کم از کم دوسروں کی بیٹیاں تو سکون سے رہیں گی۔ کوئی سوچتا ہی نہیں بس اپنی واہ واہ ہو جائے۔ بھلے دوسروں کی بیٹیاں دکھ اٹھائیں۔ چلتی ہوں باجی ! بازار جائوں گی پھر بیٹی کے گھرجائوں گی دیرہوجائے گی ۔‘‘
ذرینہ کی باتیں سن کر آگاہی کے کئی دروازے کھلتے چلے گئے۔ ذہن میں ثمرہ کی جٹھانی کا بجھا بجھا چہرہ آگیا۔کہیں میری وجہ سے دوسروں کی بیٹیاں دکھ میں تو نہیں۔ بے اختیار آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
جانے انجانے میں کہیں معاشرے کے بگاڑ کا سبب میں تو نہیں۔ میں تو اپنی نواسی اور بیٹی کو دے رہی ہوں۔ پھر دکھاوا کیسا۔ وہ پہنے اوڑھے اور بتانے کی بھی کیا ضرورت ہے۔ اب کی بار ثمرہ آئی تو اسے بھی سمجھائوں گی۔ اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے ۔
کیا فائدہ ایسی واہ واہ کا جو دوسروں کے لیے تکلیف کا سبب ہو اور اللہ کی مخلوق کو دکھ دینے والے سے اللہ کبھی خوش نہیں ہوتا۔
٭٭٭٭٭٭


