آنگن کی چڑیا . ثوبیہ زمان

افسانے 73

’’سامی آپا !ذرا دیکھو تو میری چڑیا کھانا نہیں کھا رہی۔‘‘گڈو نے چڑیا کے چھوٹے سے بچے کو ہاتھ پر اٹھایا تو اس کی گردن ایک طرف کو ڈھلک گئی۔

’’ہائے یہ تو مر گئی ۔‘‘ عافیہ نے چڑیا کو دیکھ کر چیخ ماری۔

’’کیا تھا اگر اس کی ماں اس کو واپس گھونسلے میں رکھ لیتی تو .مرگئی میری چھوٹی سی چڑیا۔‘‘

گڈو نے حسرت اور دکھ سے روشن دان میں بنے ہوئے گھونسلے کو دیکھا جس میں چڑیا پھدک پھدک کر اپنے دوسرے چھوٹے بچے کے منہ میں دانہ ڈال رہی تھی۔

’’ہاں تو ، تیری چڑیا کو کس نے کہا تھا کہ ذرا سی آنکھ کھلتے ہی اپنے گھونسلے سے چھلانگ لگا دے۔‘‘ عافیہ چمک کر بولی۔

اور سامیہ جو پچھلے پانچ دن سے ایک ادھیڑ بن کا شکار تھی اور کسی فیصلے پر نہیں پہنچ پا رہی تھی ،وہ چڑیا کے ننھے سے بچے کے مردہ وجود پر نظر جمائے جیسے کسی فیصلے پر پہنچ گئی تھی۔

٭٭٭

اوپر تلے کی پانچ بیٹیوں میں سامیہ سب سے بڑی تھی، چھ سالہ گڈو پانچ بیٹیوں کے بعد بڑی منتوں مرادوں سے انوار حسین کے گھر پیدا ہوا تھا۔ اس کی بیوی شکیلہ تو جیسے گڈو کی پیدائش کے بعد نئے سرے سے جی اٹھی تھی۔

انوار حسین محنت مزدوری کرکے ،کسی نہ کسی طرح آٹھ افراد کے گھرانے کی دو وقت کی روٹی پوری کر رہا تھا۔ جہاں گڈو کو اپنے بڑھاپے کے سہارے کے طور پر دیکھ کر شکیلہ آسودہ ہو جاتی تھی، وہیں لڑکیوں کے سرو کی طرح بڑھتے قد شکیلہ کو نئی فکروں میں مبتلا کر دیتے۔

٭٭٭

سب سے بڑی سا میہ کو ابھی سترہواں سن ہی لگا تھا۔ اس نے قد اور رنگ روپ میں اپنی ماں شکیلہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔آئینہ اسے بتاتا تھا کہ وہ جھونپڑی میں رہنے کے لیے نہیں بنی بلکہ وہ تو کسی محل کی شہزادی دکھائی دیتی تھی۔ ایک ایسی شہزادی جسے اپنے خوابوں کے شہزادے کا انتظار ہوتا ہے اور پھر ایک دن اس کی زندگی میں ایک شہزادہ آ ہی گیا۔

نوید اسلام ، اپنے ماں ، باپ کی اکلوتی اولاد تھا۔ محلے میں سب سے شان دار گھراور روپے پیسے کی ریل پیل تھی ۔گلابی ٹائیلوں والے بڑے سے گھر سے جب سفید گاڑی میں ،خواجہ صاحب کا دوبئی پلٹ ، اونچا ،لمبا ، خوبرو بیٹا گھر سے نکلتا تو کتنی ہی لڑکیاں، اس کے راستے میں اپنا دل نچھاور کرنے کو تیار ہوتیں۔

لیکن اس کی آنکھیں سامیہ کو ہمیشہ یہی یقین دلاتیں کہ وہ صرف اسی کا طلب گار ہے۔ سامیہ کے کچی عمر کے بلیک اینڈوائٹ خوابوں میں جیسے اچانک ہزاروں رنگ بھرگئے تھے ۔وہ اپنے آپ کو ۔پنجرے میں بند چڑیا محسوس کرنے لگی تھی ۔ یوں جیسے کہ نئی نئی جوانی کے ساتھ اسے نئے پنکھ لگ گئے ہوں۔ وہ کھل کر نیلے آسمانوں میں اڑنا چاہتی تھی۔

سامیہ کی آنکھوں سے چھلکتے خوابوں نے شکیلہ کی راتوں کی نیند اڑا دی تھی۔ شکیلہ ہرہرآہٹ پر چونک جاتی۔ آخر قدرت کو اس کی بے قراری پر رحم آ ہی گیا۔ انوار حسین کی بڑی بہن خدیجہ نے ،اپنے بیٹے ذیشان کے لیے سامیہ کا ہاتھ مانگا تھا۔

اس رات بہت دن بعد شکیلہ سکون کی نیند سوئی تھی اور اس رات پہلی بار ،سامیہ نے گڈو کے ہاتھ بھیجے ہوئے نوید اسلام کے موبائل میں سم ڈال کر نوید سے اپنے ماں باپ کے ہاتھ رشتہ بھیجنے کو کہا تھا ۔ نوید نے سنہری وعدوں کی زنجیر سامیہ کے ہاتھ میں پکڑا کر فون بند کر دیا تھا۔

٭٭٭

’’سامیہ ! میرے اماں ، ابا اس رشتے کے لیے کبھی نہیں مانیں گے۔‘‘ نوید نے آخر چند دن بعد سامیہ کو ہری جھنڈی دکھا دی تھی۔

سامیہ کا دل ڈوب کے ابھرا۔

’’ایسا کیسے ہو سکتا ہے نوید ! میں اب تمہارے علاوہ کسی اورکے ساتھ زندگی گزارنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ میںمرجائوں گی لیکن تمہارے علاوہ کسی اور سے شادی نہیں کروں گی۔‘‘سامیہ اپنے دل اور آنسوئوں پر اختیار کھو بیٹھی تھی۔

’’اچھافکر نہ کرو، میں کچھ سوچتا ہوں۔‘‘

نوید نے سامیہ کو تسلی دی۔

٭٭٭

’’دیکھوسامیہ !اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔‘‘ نوید نے سامیہ کو رسان سے سمجھایا۔

’’لیکن میں گھر والوں کی مرضی کے خلاف جا کر تم سے کورٹ میرج کیسے کر سکتی ہوں۔‘‘

سامیہ کشمکش میں تھی۔

’’دیکھو سامیہ ! میں نے جو تھا ، جیسا تھا۔ تمہارے سامنے سب کھول کر رکھ دیا ہے ،اب فیصلہ تمہیں کرنا ہے۔ تمہارے گھر والے اور وہ کنگلا ذیشان ،یا پھر میرا ساتھ اور ایک بہترین مستقبل۔ اب میں تمہیں فون نہیں کروں گا ۔ آئندہ جمعہ تک کا وقت ہے تمہارے پاس مجھے سوچ سمجھ کر اپنے فیصلے سے آگاہ کر دینا۔ ‘‘

٭٭٭

برآمدے کے روشن دار میں چڑیوں نے گھونسلے بنا رکھے تھے ۔صبح سے شام تک چوں چوں کرکے شور مچائے رکھتیں۔ اماں نے کئی بار انہیں اڑایا پھر لوٹ آتی تھیں۔ چڑیوں کے گھونسلے میں چھوٹے چھوٹے بچوں کا اضافہ ہوا تو شور کچھ اور بڑھ گیا۔ سارا دن بچے چوں چوں کا شور مچائے رکھتے اور چڑے میاں اور چڑیا بی بی ،چونچ میں دانہ دبا کر ادھر ادھر پھدکتے رہتے۔

دونوں بچوں میں سے جو ذرا بڑا تھا، ذرا آنکھیں کھلیں تو شاید گھونسلے سے باہر کی دنیا کو دیکھنے کے لیے کنارے تک آ گیا ۔

بچہ ذرا اور بڑھا تو تھوڑا اور آگے آنے کی وجہ سے گھونسلے سے گرگیا تھا۔ سامیہ نے چھوٹے ، چھوٹے پروں والے چڑیا کے بچے کو نیچے گرا دیکھا تو اٹھا کر ،واپس گھونسلے میں رکھ دیا لیکن کچھ دیر بعد وہ پھر زمین پر پڑا تھا۔ گڈو تو پہلے بھی اسے واپس رکھنے پر راضی نہیں تھا، اس نے دوبارہ بچے کو گھونسلے میں رکھنے سے انکار کر دیا۔ گڈو سے نظر بچاکر سامیہ نے بچہ پھر سے گھونسلے میں رکھ دیا تھا ۔ مگر کچھ دیر بعد وہ پھر زمین پر تھا اور پھر جب تیسری بار ،گھونسلے میں رکھنے کے بعد بچہ پھر سے زمین پر گرا تو کچھ زخمی بھی ہوگیا۔ سامیہ کو اب چڑیا پر غصہ آ گیا۔ کیونکہ اس نے چڑیا کو خو دبچے کو گھونسلے سے باہر دھکیلتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔

’’آخر کیا مسئلہ ہے اس چڑیا کے ساتھ یہ جان بوجھ کر اپنے بچے کوباربار باہر کیوں گرا رہی ہے؟‘‘

سامیہ نے جھنجھلا کر سبزی بناتی ہوئی اماں کی طرف دیکھا۔

’’ار ے بیٹا ! یہ چڑیاں تو ایسی ہی ہوتی ہیں۔ دانہ دانہ چونچ میں اکٹھا کر کے ،اپنے بچوں کو کھلا کر پالتی ہیں، اور تب تک پالتی رہتی ہیں ،جب تک بچے خود سے کھانا ڈھونڈ کر کھانے کے لائق نہیں ہو جاتے۔ جب وہ خود اپنا آپ پالنے کے قابل ہو جاتے ہیںتو خوشی خوشی ،بچوں کو روانہ کر دیتی ہیں اور اگر کوئی بچہ دانہ دنکا چگنے کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی گھونسلے سے گر جائے ،تو پھر اسے واپس اپنے گھونسلے میں نہیں رکھتیں۔ یعنی اپنی مرضی اور وقت سے پہلے گھر چھوڑنے والے بچے پر اپنی محبت اور گھر کا دروازہ بند کر دیتی ہیں۔‘‘

اماں نے پالک کاٹتے ہوئے تفصیل سے بتایا۔

’’اور باہر گرنے والے بچے کا کیا ہوتا ہے ؟‘‘سامیہ نے تجسس سے پوچھا۔

’’جو اس کا حال ہو رہا ہے۔‘‘ اماں نے چڑیا کے بچے کی طرف اشارہ کیا۔

بچے کی ایک ٹانگ شاید ٹوٹ گئی تھی ۔گڈو نے دوا لگائی اور کافی دیر سے اسے چونچ کھول کردانے کھلانے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن بچہ آنکھیں موندے نڈھال پڑا تھا۔

’’لڑکیاں بھی تواپنے بابل کے آنگن کی چڑیاں ہی ہوتی ہیں۔‘‘

سامیہ کویوں لگا کہ جیسے چڑیاکا چھوٹا بچہ وہ خود ہے ،جواونچی اڑان اور کھلے آسمان کے شوق میں، اپنی محفوظ چھت اورماں باپ کی محبت بھی گنوا بیٹھا تھا۔کتنی دیرسے نڈھال پڑے بچے کوجب گڈو نے ہاتھ پراٹھایا ،تواس کی گردن ایک طرف کولڑھک گئی اورسامیہ ،جوپچھلے پانچ دن سے کشمکش میں تھی جیسے کسی صحیح نتیجے پرپہنچ گئی تھی۔

وہ اب کمرے میں جاکرموبائل سے سم نکال رہی تھی ۔گڈوچڑیاکے بچے کودفنانے گیا تھا۔ اس کے آتے ہی سامیہ کویہ موبائل نوید اسلام کو واپس بھجوانا تھا۔

٭٭٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں