ایک کہانی بڑی پرانی . صدف

افسانے 66

صبح سے اب تک بلا مبالغہ چھ مسلسل پیریڈ تھے۔ بغیر کسی بریک کے ،بیچ میں پندرہ منٹ کی رخصت ملی اس میں کینٹین سے سینڈوچ لے لیا اور ابھی ختم ہی کیا تھا کہ دوبارہ سے بیل بج گئی۔ صبح کی تروتازگی اس وقت کے اضمحلال میں بدل گئی اور تھکاوٹ سی تھی ،اس پر گرمی کی شدت اف جون کا آغاز ہے اور چھٹیاں ہونے میں کم از کم بارہ دن مزید۔

آج شاید سیلری ملے کیونکہ تین تاریخ ہے چپل بھی ٹوٹنے والی ہے اور کپڑے بھی سارے پرانے ہو گئے ،اب سیلری ملے تو جوگرز لینے ہیں چاہے کہ گرمی ہو یا سردی ہر موسم میں چل جاتے ہیں۔

دسویں کلاس کی اردو نثراب شاعر حضرات کی زندگی اور حالات زندگی کے متعلق تھی ، کورس چھ مہینوں میں ختم کروا لیتی تھی اگلے چند ماہ چھٹیوں کے ہوتے تھے اور بعد میں ریویژن ہو جاتی اس کی کلاس کا رزلٹ اعلا ہوتا تھا۔

ادھرالطاف حسین حالی کے حالات زندگی پر تبصرہ مکمل ہوا ادھر آفس میٹنگ کا بلاوا آ گیا۔ میٹنگ میں ٹیچرز کی پچھلی کوتاہیوں کو دہرایا گیا اور کچھ نئی حکمت عملی اور تراکیب تعلیم و تدریس سکھائی گئیں۔

آخر میں فرداً فرداً ہر ٹیچر کی کارکردگی زیر بحث آئی اور غیر متوقع طور پر اس کی ،یعنی عصمہ معیز کی کارکردگی کی بنائ پر سیلری میں پورے پندرہ سو کا اضافہ ہو گیا۔ عصمہ حیرت کے بعد اب خوشی کے زیر اثر تھی اور وہیں بیٹھے بیٹھے سیلری سلپ پر دستخط کرنے کے بعد تنخواہ کے خاکی لفافے ان کو دے دیئے گئے ایک دم بائیس ہزار سے ساڑھے تئیس ہزار روپے ،پرس کا

وزن بڑھا ہے۔

عصمہ نے گرمی کی شدت کو کم ہوتا محسوس کیا تھا ایک دم توانائی کا احساس ہوا تھا اور ساتھ اسکول اور انتظامیہ کے لیے اچھے احساسات بیدار ہوئے پھر راستے سے جاتے ہوئے چمن کے پاس مارکیٹ سے چپل لے لیے سستی میں مل گئی۔

سیل میں سے جوگرز تھوڑے مہنگے تھے مگر ضروری تھے ،لان کے تھری پیس سوٹ کے بجائے کاٹن اور لان کے دو ٹو پیس لے لیے اور ایک تھری پیس اگلی تنخواہ پر لینے کا ارادہ باندھ لیا ،پھر سامنے دیکھا تو سیل وہ بھی لان کے سوٹ پر ایک کی قیمت میں دو واہ مزہ ہی آ گیا اور ابھی دکان میں قدم رکھا ہی تھا کہ سیل فون کی رنگ ٹون بج اٹھی۔

یہ موبائل بھی بھائی جان اس سال قطر سے لائے تھے ،فون معیز کا تھا جو آفس سے اسفند کی پیرنٹس ٹیچر میٹنگ میں شرکت کے لیے جلدی آ گئے تھے۔

اسکول معیز کے آفس سے نزدیک تھا۔ ان سے ہی ریکوئیسٹ کی تھی وہ خود چلے جائیں چھٹیوں سے پہلے کہ یہ کچھ دن بڑے بزی تھے ،پھر مہینے کی شروع کی تاریخیں سارا کچھ نئے سرے سے سمجھنا ہوتا ہے ٹائم ٹیبل ، اسٹڈی اسکیم اگر کوئی ترمیم کر دے تو۔

معیز کی اگلی بات نے ہاتھ پائوں پھلا دیئے اسفند کو اسکول میں تیز بخار ہو گیا۔ کچھ تھوڑا سا ٹمپریچر تو تھا کل رات کو پھر کھانا کھلا کر پینا ڈول کھلائی تھی۔ بچہ بارہ سال کا تو ہو گیا ہے۔ شاید اسی لیے اب سیرپ پینے سے افاقہ نہ ہوا تھا۔

اسی افراتفری میں رکشہ روکا اورمیں کپڑے کے شاپر رکشے کی سیٹ پر رکھے ،رکشے کے دونوں دروازے بند تھے لہذا ڈبوں کے باہر گرنے کا امکان ختم ہو گیا تھا۔

اسفند کو بخار تھا اور بے سدھ پڑا تھا ڈاکٹر نے ایک انجکشن دے دیا اور تھوڑی دیر میں ٹھنڈے پانی کی پٹیوں سے اب بچہ ہوش میں تھا ،ساری دوپہر ہسپتال میں گزری نرس اچھی تھی ڈرپ لگا کر گئی تو پھر بار بار چکر لگا کے دیکھتی رہی کہ ڈرپ کی سوئی نہ ہل جائے رگ نہ سوجے اس کو دو سو روپے دیئے اتنا خیال آج کل وہ بھی یونہی کوئی کم ہی کرتا ہے۔

دوپہر کو معیز کینٹین سے ماش کی دال اور تندور کی روٹیاں لے آئے کیونکہ ہسپتال کی کینٹین تھی تو ہر چیز میں مسالے کم تھے مگر تھی مزے دار صبح سے ایک سینڈوچ کے سوا کچھ نہیں کھایا تھا وہ بھی اسکول سے لیا۔ پورے پچیس روپے کا ایک وہ نوشیئر ہے میری سیلری میں کٹی اور اب پنتیس سو روپے خرچ ہو گئے ۔تین ہزار کے تو صرف جوگرز ہوئے اور دو ہزار کے دو ٹو پیس دس ہزار تو ٹھکانے لگ گئے۔

ابھی پورا مہینہ پڑا ہے روز کا کرایہ پھر کبھی کبھار پھل اور گوشت اور کبھی بچت ہو تو برگر، پیزا وغیرہ بھی۔

خود معیز کی تنخواہ سے تو مہینے بھر کی گروسری اور بجلی گیس کے بل ،وائی فائی اور کیبل کا خرچ اس کے علاوہ وہ بھی کبھی عصمہ کے پاس کچھ فالتو پیسے ہوں تو دے دیتی اور اکثر معیز ہی دیتے ہاں بھئی شوق بھی تو میرا ہے دل تو کرتا ہے ڈش لگوالوں ۔

خود عصمہ کو بھی پرانے گانے پسند تھے اور ڈرامے اور نئے نئے کوکنگ شو معیز کی کب کی رکی پروموشن اگلے ہفتے ہونے والی تھی اگلے چار دن بڑی مصروفیت میں گزرے۔

اسفند کا بخار اب ٹھیک تھا۔ معیز کو پرو موشن سے پہلے دوستوں کی دعوت کرنا تھی اور عصمہ نے سارا انتظام کر کے رکھ دیا ، شامی کباب ، میکرونی ، سبزی چکن ، مٹر پلائو کولڈ ڈرنک اور فروٹ یہ سارا پیسہ خرچ کرنا معیز کی ذمہ داری تھی پر عصمہ کو اٹھانی پڑی۔

رات سارا کام ختم کرکے کئی چیزیں فریز کر دیں۔ دوسرے دن شام کی دعوت تھی ساڑھے سات بجے تک سب تیار کرنا تھا، بھنا قیمہ اور سبزیاں چکن وغیرہ تیار کرکے ڈبوں میں فریز کر دیا اورجب ڈائننگ روم میں سب کو پہنچا دیا تو خودتھکاوٹ سے چور تھی۔

وہ معیز کے دوستوں کے سامنے کبھی نہیں گئی تھی۔ باہر سے باتوں کی آواز آ رہی تھی وہ رات عشائ کی نماز کے بعد اگلے دن کے لیکچر کی تیاری کرنے لگ گئی۔

حاجرہ مسرور کی کہانی ’’ایک کہانی بڑی پرانی‘‘ بڑی حد تک اس کی زندگی سے مماثلت رکھتی تھی عورت چاہے کسی دور کی ہو قربانی اسی کو دینی ہے اور کچھ تو اکثر مردوں کی خود غرضی کا شکار ہو جاتی ہیں۔

پر چلیں ،اللہ شکر گزاری کو پسند کرتا ہے مرد کی ناشکری کرنا کوئی انصاف تو نہیں ،آ خر زندگی میں رونق اور سکون اپنے شوہر سے ہی ہوتا ہے اللہ ہر ایک کے سکون کو قائم رکھے تشکر نے دامن تھاما اور دل ٹھہر گیا زندگی میں سکون تھا اور وہ شکر گزار بندی۔

پھر اگلے کچھ ماہ چھٹیوں کے تھے۔ گھر میں آرام کیا اور اگلے مہینے کی پہلی تاریخ کو پھر تنخواہ مل گئی۔ خاکی لفافے کو ہاتھ میں لے کر دیکھا پرس میں رکھا دل اسی خوشی اور جوش میں تھا اس دفعہ اسفند کو کیرم دلانا ہے اور ریکٹ اور اپنے لیے سوچ ہی رہی تھی کہ معیز کا فون آ گیا فون پر لکھا تھا ’’معیز کالنگ‘‘۔

٭٭٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں