سردیوں کا موسم آتے ہی پاکستان کے گھروں میں ایک عام منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ کسی بچے کو تیز بخار اور کھانسی ہے، کسی خاتون کا گلا خراب ہے، کسی بزرگ کو سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے، جبکہ بعض افراد کئی دن تک جسمانی درد، تھکن اور نزلے سے پریشان رہتے ہیں۔ اکثر ان تمام بیماریوں کو عام زکام یا فلو سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سردیوں میں مختلف اقسام کے وائرس ایک ساتھ گردش کرتے ہیں اور ان میں سے بعض صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس بیماری کو ہم عام فلو سمجھ کر چند دن آرام کرنے سے ٹھیک ہونے کی امید رکھتے ہیں، وہ بعض اوقات پھیپھڑوں کے انفیکشن، نمونیا، سانس کی ناکامی اور دیگر سنگین پیچیدگیوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
پاکستان میں خصوصاً دسمبر سے فروری کے دوران انفلوئنزا اور دیگر سانس کے وائرس زیادہ سرگرم ہوسکتے ہیں۔ کراچی جیسے نسبتاً معتدل موسم والے شہر بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں، کیونکہ وائرس صرف شدید سرد علاقوں میں نہیں پھیلتے بلکہ متاثرہ افراد کے رابطے، بند کمروں، اسکولوں، دفاتر اور گھریلو اجتماعات کے ذریعے بھی منتقل ہوتے ہیں۔
اس مضمون میں ہم جانیں گے کہ دنیا میں فلو کی کتنی اقسام ہیں، پاکستان میں کون سے وائرس اہم ہیں، خواتین اور لڑکیوں کو کن حالات میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے اور گھر میں فلو کے مریض کی دیکھ بھال کیسے کی جائے۔
فلو کیا ہے اور سردیوں میں اس کے پھیلنے کی وجہ کیا ہے؟
فلو کو طبی زبان میں انفلوئنزا (Influenza) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک متعدی سانس کی بیماری ہے جو انفلوئنزا وائرس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ وائرس ناک، گلے اور پھیپھڑوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
جب کوئی متاثرہ شخص کھانستا، چھینکتا، بات کرتا یا سانس خارج کرتا ہے تو وائرس والے باریک ذرات ہوا میں پھیل سکتے ہیں۔ قریب موجود افراد انہیں سانس کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کرسکتے ہیں۔ آلودہ ہاتھوں سے ناک، منہ یا آنکھوں کو چھونا بھی انفیکشن کی منتقلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
سردیوں میں لوگ زیادہ وقت بند کمروں میں گزارتے ہیں، کھڑکیاں کم کھولی جاتی ہیں اور گھروں، اسکولوں، بازاروں اور دفاتر میں لوگوں کا ایک دوسرے سے قریبی رابطہ بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح وائرس کو ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچنے کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ صرف ٹھنڈی ہوا میں نکلنے سے انفلوئنزا نہیں ہوتا۔ بیماری کے لیے وائرس سے متاثر ہونا ضروری ہے۔ تاہم سرد موسم میں وائرس کی گردش، ہوا میں نمی اور لوگوں کے طرزِ زندگی میں تبدیلی اس کے پھیلاؤ کو متاثر کرسکتی ہے۔
دنیا میں فلو کی چار بنیادی اقسام کون سی ہیں؟
طبی سائنس کے مطابق انفلوئنزا وائرس کی چار بنیادی اقسام ہیں جنہیں Influenza A، B، C اور D کہا جاتا ہے۔ ان میں سے A اور B انسانوں میں موسمی فلو کی وباؤں کی بنیادی وجہ ہیں۔
انفلوئنزا اے (Influenza A): یہ فلو کی اہم اور نسبتاً زیادہ تشویش ناک اقسام میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی مختلف ذیلی اقسام ہیں جنہیں وائرس کی سطح پر موجود پروٹینز کی بنیاد پر H اور N کے ناموں سے شناخت کیا جاتا ہے۔ انسانوں میں اس وقت اہم گردش کرنے والی اقسام H1N1 اور H3N2 ہیں۔ یہی وائرس بعض اوقات بڑی وباؤں کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
انفلوئنزا بی (Influenza B): یہ بھی انسانوں میں موسمی فلو کا سبب بنتا ہے۔ اس کی بیماری بچوں، نوجوانوں اور بالغ افراد کو متاثر کرسکتی ہے۔ یہ وائرس A کی طرح H اور N ذیلی اقسام میں تقسیم نہیں ہوتا بلکہ اس کی مختلف نسبی اقسام (Lineages) ہوتی ہیں۔ Influenza B کو معمولی سمجھنا درست نہیں، کیونکہ بعض مریضوں میں یہ بھی شدید بیماری پیدا کرسکتا ہے۔
انفلوئنزا سی (Influenza C): یہ نسبتاً کم پایا جاتا ہے اور عموماً ہلکی سانس کی بیماری کا سبب بنتا ہے۔ اس سے بڑی موسمی وبائیں عام طور پر پیدا نہیں ہوتیں۔
انفلوئنزا ڈی (Influenza D): یہ بنیادی طور پر مویشیوں، خصوصاً گائے اور دیگر جانوروں کو متاثر کرتا ہے۔ موجودہ شواہد کے مطابق یہ انسانوں میں معمول کی بیماری کا تسلیم شدہ سبب نہیں ہے۔
اس لیے جب کوئی شخص H1N1 یا H3N2 کا نام سنتا ہے تو اسے سمجھنا چاہیے کہ یہ انفلوئنزا اے کی ذیلی اقسام ہیں، الگ بنیادی وائرس کی اقسام نہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی انفلوئنزا سے متعلق معلومات۔
H1N1، H3N2 اور سوائن فلو میں کیا فرق ہے؟
H1N1 کو ماضی میں سوائن فلو (Swine Flu) کے نام سے بھی شہرت ملی تھی۔ 2009 میں اس وائرس نے عالمی وبا کی شکل اختیار کی تھی۔ اس کے بعد اس کی ایک تبدیل شدہ انسانی قسم، A(H1N1)pdm09، موسمی انفلوئنزا وائرس کے طور پر گردش کرتی رہی۔
H3N2 بھی انفلوئنزا اے کی ایک اہم قسم ہے۔ بعض موسموں میں اس کی سرگرمی بڑھ جاتی ہے اور یہ خصوصاً بزرگ افراد، چھوٹے بچوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں کے مریضوں میں شدید پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ انفلوئنزا وائرس مسلسل اپنی جینیاتی ساخت میں تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے پچھلے سال فلو ہونے کے باوجود اگلے سال دوبارہ انفیکشن ہوسکتا ہے۔ اس عمل کو وائرس کی ارتقائی تبدیلی (Viral Evolution) کہا جاتا ہے۔
2025–26 کے موسم میں H3N2 کے ایک نئے جینیاتی ذیلی گروپ، Subclade K، کی عالمی سطح پر نشاندہی ہوئی تھی۔ پاکستان کی وزارتِ صحت نے دسمبر 2025 میں H3N2 سے متعلق خصوصی احتیاطی ہدایات بھی جاری کی تھیں۔ پاکستان کی وزارتِ صحت کا دسمبر 2025 کا انفلوئنزا ایڈوائزری۔
کیا ہر سردی کا فلو انفلوئنزا ہی ہوتا ہے؟ دیگر وائرس بھی جان لیوا ہوسکتے ہیں
یہ وہ معلومات ہیں جن سے بہت سے لوگ واقف نہیں۔ ہر نزلہ، زکام، کھانسی اور بخار انفلوئنزا نہیں ہوتا۔ سردیوں میں کئی دوسرے وائرس بھی سانس کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
RSV (Respiratory Syncytial Virus): یہ وائرس خصوصاً نومولود بچوں اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے اہم خطرہ ہے۔ اس سے ناک بہنا، کھانسی، بخار اور سانس لینے میں دشواری ہوسکتی ہے۔ بعض بچوں میں یہ برونکائیولائٹس (Bronchiolitis) کا سبب بنتا ہے، جس میں پھیپھڑوں کی چھوٹی سانس کی نالیاں متاثر ہوجاتی ہیں۔ بزرگ افراد اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد بھی اس سے شدید بیمار ہوسکتے ہیں۔
رائنو وائرس (Rhinovirus): عام نزلہ زکام کی سب سے معروف وجوہات میں سے ایک ہے۔ اس میں ناک بہنا، چھینکیں، گلے میں خراش اور ناک بند ہونے کی علامات عام ہیں۔ عموماً یہ انفلوئنزا کے مقابلے میں ہلکی بیماری پیدا کرتا ہے۔
کورونا وائرس (Coronavirus): کورونا وائرس خاندان میں کئی وائرس شامل ہیں۔ کچھ عام زکام کا سبب بنتے ہیں جبکہ SARS-CoV-2 کووڈ 19 کا باعث بنتا ہے۔ اس کی علامات فلو سے ملتی جلتی ہوسکتی ہیں، اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر دونوں میں فرق کرنا ہمیشہ ممکن نہیں۔
ہیومن میٹاپنیو مو وائرس (Human Metapneumovirus یا HMPV): یہ ایک ایسا وائرس ہے جس کے بارے میں عام لوگوں میں آگاہی نسبتاً کم ہے۔ یہ کھانسی، بخار، ناک بند ہونے اور سانس کی تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔ چھوٹے بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعت والے افراد میں اس کے اثرات زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔
ایڈینو وائرس (Adenovirus): یہ وائرس سانس کی بیماری کے علاوہ آنکھوں کے انفیکشن، گلے کی سوزش اور بعض اوقات معدے کی تکالیف کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
پیراینفلوئنزا وائرس (Parainfluenza): یہ خاص طور پر بچوں میں کروپ (Croup) نامی بیماری کا سبب بن سکتا ہے، جس میں بھونکنے جیسی کھانسی اور سانس لیتے وقت غیر معمولی آواز پیدا ہوسکتی ہے۔
ان تمام وائرس کی اہمیت اس لیے ہے کہ مریض کو بظاہر فلو جیسی علامات ہوتی ہیں، لیکن علاج اور احتیاط کی ضروریات مختلف ہوسکتی ہیں۔
پاکستان میں سردیوں کے دوران کون سا فلو زیادہ اہم ہے؟
پاکستان میں انفلوئنزا کی سرگرمی ہر سال یکساں نہیں رہتی۔ کسی موسم میں H1N1 زیادہ گردش کرسکتا ہے تو کسی موسم میں H3N2 یا انفلوئنزا بی کے کیسز سامنے آسکتے ہیں۔
پاکستان میں 2022 سے 2025 تک کیے گئے سانس کے وائرسوں کے ایک تحقیقی جائزے میں 11,451 نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔ ان میں 855 نمونے انفلوئنزا کے لیے مثبت تھے۔ مثبت انفلوئنزا نمونوں میں تقریباً 45 فیصد H1N1، 35 فیصد H3N2 اور 20 فیصد انفلوئنزا بی کے تھے۔ اس تحقیق میں دسمبر سے فروری کے دوران انفلوئنزا کی سرگرمی زیادہ دیکھی گئی۔ پاکستان میں 2022–2025 کے دوران سانس کے وائرسوں کی جینیاتی اور وبائی تحقیق۔
ایک اور اہم تحقیق میں اسلام آباد کے ایک اسپتال میں 2025–26 کے موسم سرما کے دوران 170 مریضوں کے نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں 24.1 فیصد میں انفلوئنزا اے کی تصدیق ہوئی، جبکہ اس مخصوص تحقیق میں انفلوئنزا بی نہیں ملا۔ 11 سے 20 سال کی عمر کے افراد میں انفلوئنزا کا بوجھ زیادہ دیکھا گیا اور H3N2 کے مختلف جینیاتی ذیلی گروپ بھی شناخت ہوئے۔ یہ ایک محدود اسپتال پر مبنی تحقیق تھی، اس لیے اسے پورے پاکستان کی شرح نہیں سمجھنا چاہیے۔ پاکستان میں 2025–26 کے H3N2 وائرس پر تحقیقی مطالعہ۔
اس تحقیق سے ایک اہم پیغام ملتا ہے کہ صرف بزرگ افراد ہی نہیں بلکہ نوجوان لڑکیاں، طالبات اور کام کرنے والی خواتین بھی انفلوئنزا سے متاثر ہوسکتی ہیں۔
خواتین اور لڑکیوں کو فلو کا خطرہ کس عمر میں زیادہ ہوتا ہے؟
فلو کسی بھی عمر میں ہوسکتا ہے، لیکن بعض عمر کے گروپوں میں اس کے سنگین اثرات کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
پانچ سال سے کم عمر بچوں، خصوصاً دو سال سے کم عمر بچوں میں فلو کی پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ نومولود اور کم عمر بچوں میں بخار، پانی کی کمی، سانس کی دشواری اور نمونیا کے امکانات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
11 سے 20 سال کی لڑکیاں اسکول، کالج، یونیورسٹی، ٹیوشن سینٹرز اور عوامی مقامات پر زیادہ وقت گزارتی ہیں۔ قریبی رابطے کی وجہ سے ان میں وائرس کی منتقلی کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم یہ ضروری نہیں کہ لڑکیوں میں حیاتیاتی طور پر فلو کا خطرہ لڑکوں سے زیادہ ہو۔
20 سے 40 سال کی خواتین میں گھریلو ذمہ داریاں، ملازمت، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر افراد سے قریبی رابطہ انفیکشن کے امکانات بڑھا سکتے ہیں۔
حاملہ خواتین کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ حمل کے دوران جسم کے مدافعتی نظام اور سانس و قلبی نظام میں قدرتی تبدیلیاں آتی ہیں، جس سے انفلوئنزا کی شدید پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے حمل کے کسی بھی مرحلے میں فلو کی علامات کو معمولی نہ سمجھیں۔
50 سال کے بعد، اور خصوصاً 65 سال سے زیادہ عمر میں، فلو سے نمونیا اور اسپتال میں داخلے کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔ ذیابیطس، دمہ، دل کی بیماری، گردوں کے مسائل اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والی خواتین بھی زیادہ خطرے میں ہوتی ہیں۔
فلو کی علامات کیسے پہچانیں؟
انفلوئنزا کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کی علامات اکثر اچانک شروع ہوتی ہیں۔ صبح انسان بالکل ٹھیک محسوس کررہا ہوتا ہے لیکن شام تک تیز بخار، جسم میں شدید درد اور تھکن محسوس ہوسکتی ہے۔
اس کی عام علامات میں بخار، سردی لگنا، خشک کھانسی، گلے میں درد، سر درد، پٹھوں اور جوڑوں میں درد، ناک بہنا، چھینکیں اور غیر معمولی کمزوری شامل ہیں۔ بعض بچوں میں قے اور دست بھی ہوسکتے ہیں۔
عام نزلہ زکام میں اکثر ناک بہنا، چھینکیں اور گلے کی خراش نمایاں ہوتی ہیں، جبکہ انفلوئنزا میں بخار، جسمانی درد اور اچانک شدید تھکن زیادہ نمایاں ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ فرق ہر مریض میں یکساں نہیں ہوتا۔
بعض مریضوں میں بخار ختم ہونے کے بعد بھی کھانسی اور کمزوری دو ہفتے یا اس سے زیادہ عرصہ رہ سکتی ہے۔ اگر علامات شدید ہوں یا مریض کا تعلق زیادہ خطرے والے گروپ سے ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
فلو سے بچاؤ کے لیے ویکسین کتنی ضروری ہے؟
فلو سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طبی طریقہ موسمی انفلوئنزا ویکسین ہے۔ یہ ویکسین ہر سال اپ ڈیٹ کی جاتی ہے کیونکہ انفلوئنزا وائرس مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
خصوصاً حاملہ خواتین، 65 سال سے زائد عمر کے افراد، دائمی بیماریوں کے مریض، صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اور دیگر زیادہ خطرے والے گروپس کو سالانہ ویکسین کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
حمل کے دوران مناسب موسمی انفلوئنزا ویکسین عموماً تجویز کی جاتی ہے اور یہ ماں کے ساتھ پیدا ہونے کے بعد ابتدائی عرصے میں بچے کو بھی کچھ تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔ حاملہ خواتین کے لیے ویکسین کی مناسب قسم کا انتخاب ڈاکٹر کے مشورے سے ہونا چاہیے۔
ویکسین لگوانے کے بعد جسم میں حفاظتی مدافعت پیدا ہونے میں تقریباً دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ ویکسین ہر قسم کے نزلے، زکام یا دوسرے سانس کے وائرس سے تحفظ نہیں دیتی، لیکن انفلوئنزا اور اس کی شدید پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
گھر میں فلو کے مریض کی دیکھ بھال کیسے کریں؟
اگر گھر میں کسی خاتون، بچے یا بزرگ کو فلو ہوجائے تو سب سے پہلے اسے مناسب آرام دیں۔ مریض کو دوسروں سے حتی الامکان الگ کمرے میں رکھیں، خصوصاً گھر میں نومولود بچے، حاملہ خواتین اور بزرگ موجود ہوں تو زیادہ احتیاط کریں۔
پانی، سوپ اور دیگر مناسب مشروبات دیتے رہیں۔ بخار یا جسمانی درد کے لیے ڈاکٹر یا فارماسسٹ کے مشورے سے مناسب دوا استعمال کریں۔ بچوں کو اسپرین ہرگز نہ دیں، کیونکہ وائرل بیماری کے دوران اس سے ایک نایاب مگر خطرناک بیماری، Reye’s syndrome، کا خطرہ ہوسکتا ہے۔
ناک بند ہونے کی صورت میں سادہ سیلائن ناک کے قطرے مددگار ہوسکتے ہیں۔ ایک سال سے زیادہ عمر کے بچوں اور بالغ افراد میں شہد کھانسی کو آرام پہنچانے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن ایک سال سے کم عمر بچے کو شہد نہیں دینا چاہیے۔
گھر کے کمروں میں تازہ ہوا کی آمدورفت برقرار رکھیں۔ مریض کے استعمال کی اشیا الگ رکھیں اور ہاتھ باقاعدگی سے دھوئیں۔ بیمار فرد کے قریب جاتے وقت مناسب ماسک استعمال کریں۔
اینٹی بائیوٹکس وائرس کے خلاف کام نہیں کرتیں، اس لیے فلو میں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹک شروع نہ کریں۔
فلو کی کون سی علامات خطرناک ہیں؟
اگر مریض کو سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، ہونٹوں کا نیلا پڑنا، بے ہوشی، شدید غنودگی، دورہ، پانی کی شدید کمی یا مسلسل بگڑتی ہوئی حالت محسوس ہو تو فوراً اسپتال جائیں۔
بچوں میں تیز یا مشکل سانس، پسلیوں کا اندر کی طرف کھنچنا، دودھ نہ پینا، پیشاب کم آنا اور غیر معمولی سستی خطرے کی علامات ہیں۔ تین ماہ سے کم عمر بچے کو 38 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ بخار ہو تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
حاملہ خواتین، بزرگوں اور دائمی بیماریوں کے مریضوں کو علامات شروع ہوتے ہی ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ بعض مریضوں کو ڈاکٹر اینٹی وائرل دوا، مثلاً اوسیلٹامیویر (Oseltamivir)، تجویز کرسکتے ہیں۔ یہ دوا عام طور پر علامات شروع ہونے کے پہلے 48 گھنٹوں میں زیادہ فائدہ دیتی ہے، لیکن شدید بیمار یا زیادہ خطرے والے مریضوں میں اس کے لیے اس مدت کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
اس موسم سرما میں اپنی اور خاندان کی صحت محفوظ رکھیں
سردیوں میں فلو سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ خواتین اپنی صحت کو نظر انداز نہ کریں۔ مناسب نیند، متوازن غذا، پانی کا استعمال، صفائی، تازہ ہوا اور ضرورت کے مطابق موسمی ویکسین صحت کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
خاص طور پر پاکستانی ماؤں کو چاہیے کہ بچوں کے بخار اور کھانسی کو ہمیشہ عام موسم کی تبدیلی نہ سمجھیں۔ اسی طرح نوجوان لڑکیاں امتحانات، کالج اور ملازمت کی مصروفیات میں بیماری کے باوجود خود کو آرام سے محروم نہ رکھیں۔
یاد رکھیں، فلو صرف چند دن کی کھانسی اور نزلے کا نام نہیں۔ بعض افراد کے لیے یہ ایک سنگین طبی مسئلہ بن سکتا ہے۔ بروقت شناخت، درست علاج اور احتیاطی تدابیر سے نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پورے خاندان کی صحت محفوظ رکھی جاسکتی ہے۔
اس سردی میں گرم کپڑوں کے ساتھ اپنی صحت کا خیال بھی رکھیں، کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔









