سردیوں میں جلد خشک، بال بے رونق اور ہونٹ کیوں پھٹنے لگتے ہیں؟ خواتین کی خوبصورتی متاثر کرنے والی 5 حیرت انگیز وجوہات اور سائنسی حل

سردیوں میں جلد خشک، بال بے رونق اور ہونٹ کیوں پھٹنے لگتے ہیں؟ خواتین کی خوبصورتی متاثر کرنے والی 5 حیرت انگیز وجوہات اور سائنسی حل 73

سردیوں کا موسم جہاں گرم کپڑوں، دھوپ، خشک میوہ جات اور مزیدار کھانوں کی خوشیاں لے کر آتا ہے، وہیں بہت سی خواتین کے لیے جلد کی خشکی، چہرے پر کھنچاؤ، ہونٹوں کے پھٹنے، بالوں کے جھڑنے اور چہرے پر خارش جیسے مسائل بھی شروع ہوجاتے ہیں۔ اکثر خواتین موسم بدلتے ہی مہنگے فیشل، کریمیں، ہیئر ماسک اور بیوٹی ٹریٹمنٹس استعمال کرنا شروع کردیتی ہیں، لیکن حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ ان مسائل کی بنیادی وجہ صرف خوبصورتی کی مصنوعات کی کمی نہیں بلکہ جسم کی قدرتی حفاظتی تہہ میں آنے والی تبدیلیاں بھی ہوسکتی ہیں۔

پاکستان میں کراچی کی خشک اور گرد آلود ہوائیں، لاہور اور اسلام آباد کی سردی و دھند، گھروں میں ہیٹر کا استعمال، گرم پانی سے بار بار نہانا اور برتن و کپڑے دھونے کے لیے مسلسل پانی اور صابن استعمال کرنا جلد اور بالوں کی صحت کو متاثر کرسکتا ہے۔

طبی تحقیق کے مطابق سرد اور کم نمی والی ہوا جلد سے پانی کے اخراج کو بڑھاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جلد کی قدرتی حفاظتی تہہ کمزور ہونے لگتی ہے اور خشکی، خارش، سرخی اور باریک دراڑیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ سردیوں میں خواتین کی خوبصورتی متاثر ہونے کی پانچ اہم وجوہات کیا ہیں اور ان سے بچنے کے لیے کون سی سائنسی طور پر مفید تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔

1۔ سردیوں میں جلد کی قدرتی نمی کیوں ختم ہوجاتی ہے؟

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ سردیوں میں چہرہ دھونے کے فوراً بعد جلد کھنچنے لگتی ہے، ہاتھوں پر سفید خشکی دکھائی دینے لگتی ہے اور ٹانگوں یا بازوؤں پر خارش ہونے لگتی ہے؟ اس کی بنیادی وجہ جلد کی بیرونی حفاظتی تہہ (Skin Barrier) کا متاثر ہونا ہے۔

ہماری جلد کی سب سے بیرونی تہہ پانی کو محفوظ رکھنے اور بیرونی جراثیم، الرجی پیدا کرنے والے مادوں اور نقصان دہ عناصر سے تحفظ فراہم کرنے کا کام کرتی ہے۔ اس تہہ میں قدرتی چکنائی، سیرامائڈز اور دوسرے اجزا موجود ہوتے ہیں جو جلد میں نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

سردیوں میں ہوا میں نمی کم ہوجاتی ہے، جبکہ گرم پانی سے بار بار نہانے اور سخت صابن استعمال کرنے سے جلد کی قدرتی چکنائی متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً جلد اپنی نمی تیزی سے کھونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض خواتین کی جلد پر باریک لکیریں زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہیں اور میک اپ بھی ہموار نظر نہیں آتا۔

پاکستانی خواتین کے لیے ایک خاص مسئلہ یہ بھی ہے کہ گھر کے کاموں کے دوران بار بار ہاتھ دھونا، برتن صاف کرنا، کپڑے دھونا اور ڈٹرجنٹ استعمال کرنا ہاتھوں کی جلد کو مزید خشک کرسکتا ہے۔

اس مسئلے سے بچنے کے لیے نہانے کے فوراً بعد جلد کو مکمل خشک کرنے کے بجائے نرم تولیے سے آہستہ آہستہ تھپتھپا کر خشک کریں اور جلد قدرے نم ہو تو موئسچرائزر لگائیں۔ ایسی کریم منتخب کریں جس میں گلیسرین، سیرامائڈز، ہائیلورونک ایسڈ یا پیٹرولیم جیلی جیسے اجزا شامل ہوں۔ خشک جلد کے لیے ہلکے لوشن کے مقابلے میں گاڑھی کریم یا مرہم زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے۔

چہرہ دھونے کے لیے نرم اور خوشبو سے پاک کلینزر استعمال کریں۔ بہت زیادہ اسکربنگ، بار بار فیشل اور سخت کیمیکل والے بیوٹی پراڈکٹس سے گریز کریں۔ دن کے وقت سن اسکرین بھی استعمال کریں کیونکہ سردیوں میں بھی الٹرا وائلٹ شعاعیں جلد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

2۔ سردیوں میں بال زیادہ کیوں جھڑتے ہیں؟ کیا یہ وٹامن کی کمی ہے؟

سردیوں میں بہت سی خواتین شکایت کرتی ہیں کہ کنگھی کرتے وقت، سر دھوتے ہوئے یا تکیے پر پہلے سے زیادہ بال نظر آتے ہیں۔ اکثر اس کا ذمہ دار موسم کو قرار دیا جاتا ہے، لیکن بال جھڑنے کی اصل وجہ جاننا زیادہ ضروری ہے۔

بالوں کا ایک قدرتی دورانیہ ہوتا ہے جس میں کچھ بال بڑھتے ہیں، کچھ آرام کی حالت میں رہتے ہیں اور پھر قدرتی طور پر جھڑ کر نئے بالوں کے لیے جگہ بناتے ہیں۔ روزانہ تقریباً 50 سے 100 بالوں کا جھڑنا عام بات ہوسکتی ہے۔ تاہم اگر معمول سے نمایاں زیادہ بال گرنے لگیں تو اسے ضرورت سے زیادہ بال جھڑنا (Telogen Effluvium) کہا جاسکتا ہے۔

اس کیفیت کی وجوہات میں شدید ذہنی دباؤ، بخار، بیماری، آپریشن، بچے کی پیدائش، تیزی سے وزن کم کرنا، ناکافی غذائیت اور آئرن کی کمی شامل ہیں۔ بعض اوقات کسی بیماری یا شدید ذہنی دباؤ کے دو سے تین ماہ بعد بال جھڑنے کا مسئلہ نمایاں ہوتا ہے۔

پاکستانی خواتین میں آئرن کی کمی ایک اہم قابلِ توجہ مسئلہ ہے، خصوصاً ان خواتین میں جنہیں ماہواری کے دوران زیادہ خون آتا ہے، جو حمل یا دودھ پلانے کے مرحلے سے گزر رہی ہوں یا جن کی غذا میں آئرن مناسب مقدار میں موجود نہ ہو۔ آئرن کی کمی کے علاوہ تھائرائیڈ کی خرابی بھی بالوں کے جھڑنے اور خشکی کا سبب بن سکتی ہے۔

بالوں کی صحت کے لیے دالیں، چنے، گوشت، انڈے، مچھلی، پالک اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذائیں استعمال کریں۔ آئرن والی غذاؤں کے ساتھ وٹامن سی سے بھرپور کینو، امرود یا لیموں کا استعمال آئرن کے جذب میں مدد دیتا ہے۔

بالوں کو بہت گرم پانی سے دھونے، مسلسل ہیئر ڈرائر، اسٹریٹنر اور سخت کیمیکل والے ہیئر کلرز کے استعمال سے گریز کریں۔ گیلے بالوں کو زور سے کنگھی نہ کریں اور بالوں کو بہت زیادہ کھینچ کر باندھنے سے بھی بچیں۔

اگر بال مسلسل زیادہ جھڑ رہے ہوں، مانگ چوڑی ہوتی جارہی ہو، سر پر خالی دھبے بن رہے ہوں یا بالوں کی موٹائی تیزی سے کم ہورہی ہو تو جلد کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ضرورت کے مطابق ڈاکٹر خون کی کمی، آئرن اسٹورز اور تھائرائیڈ کے ٹیسٹ تجویز کرسکتا ہے۔ بغیر ٹیسٹ کے آئرن، بایوٹن یا وٹامنز کے سپلیمنٹس شروع کرنا مناسب نہیں۔

3۔ سردیوں میں ہونٹ پھٹنے اور چہرے کی جلد کھنچنے کی اصل وجہ کیا ہے؟

ہونٹوں کی جلد چہرے کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں زیادہ نازک ہوتی ہے اور اس میں قدرتی چکنائی پیدا کرنے والے غدود موجود نہیں ہوتے۔ اسی لیے سرد ہوا، کم نمی اور پانی کی کمی سے ہونٹ جلد خشک ہونے لگتے ہیں۔

بعض خواتین بار بار زبان پھیر کر ہونٹوں کو گیلا کرتی ہیں، لیکن یہ عادت مسئلے کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ تھوک خشک ہونے کے بعد ہونٹوں سے مزید نمی ختم ہوجاتی ہے، جس سے دراڑیں اور جلن پیدا ہوسکتی ہیں۔

خوشبو دار لپ بام، دارچینی، پودینہ، مینتھول اور بعض ذائقہ دار لپ اسٹکس بھی حساس ہونٹوں میں جلن یا الرجی پیدا کرسکتے ہیں۔

ہونٹوں کی حفاظت کے لیے سادہ پیٹرولیم جیلی یا خوشبو سے پاک لپ بام دن میں کئی مرتبہ لگائیں، خصوصاً سونے سے پہلے۔ باہر نکلتے وقت SPF 30 والا لپ بام استعمال کرنا بھی مفید ہے۔ ہونٹوں کی خشک جلد کو دانتوں یا انگلیوں سے کھینچ کر نہ اتاریں۔

چہرے پر کھنچاؤ محسوس ہو تو بار بار فیس واش کرنے کے بجائے نرم کلینزر استعمال کریں۔ موئسچرائزر لگانے کے بعد جلد کو مناسب وقت دیں تاکہ اس کی حفاظتی تہہ بحال ہوسکے۔ یاد رکھیں کہ زیادہ مصنوعات لگانا ہمیشہ بہتر نتائج نہیں دیتا۔

4۔ سردیوں میں چہرے پر سرخی، خارش اور دانے کیوں نکلتے ہیں؟

کچھ خواتین کی جلد سردیوں میں اچانک سرخ، حساس اور خارش زدہ ہوجاتی ہے۔ بعض کے چہرے پر چھوٹے دانے نکلتے ہیں جبکہ کچھ خواتین کو گالوں، ناک اور پیشانی پر مسلسل سرخی محسوس ہوتی ہے۔ ان علامات کو صرف عام خشکی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اس کی ایک ممکنہ وجہ ایکزیما (Eczema) ہے۔ اس کیفیت میں جلد خشک، خارش زدہ، سرخ یا سوزش کا شکار ہوسکتی ہے۔ سرد موسم، سخت صابن، خوشبو دار کریمیں اور گرم پانی اس کی علامات بڑھا سکتے ہیں۔

دوسری کیفیت روزیشیا (Rosacea) ہے، جس میں خصوصاً چہرے کے درمیان والے حصے، گالوں اور ناک پر سرخی نمایاں ہوسکتی ہے۔ بعض افراد میں چھوٹے دانے بھی نکلتے ہیں۔ سردی، اچانک درجہ حرارت کی تبدیلی، دھوپ، گرم مشروبات اور تیز مصالحے بعض مریضوں میں علامات کو بڑھا سکتے ہیں۔

تیسری ممکنہ وجہ کانٹیکٹ ڈرماٹائٹس (Contact Dermatitis) ہے، جو کسی صابن، پرفیوم، فیشل کریم، ہیئر ڈائی یا دوسرے مادے سے الرجی یا جلد میں جلن کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔

اگر کسی نئی کریم یا فیشل کے بعد خارش، جلن یا سرخی شروع ہوجائے تو اس پراڈکٹ کا استعمال روک دیں۔ حساس جلد کے لیے خوشبو سے پاک اور نرم مصنوعات منتخب کریں۔ ایک وقت میں بہت سی نئی مصنوعات استعمال کرنے کے بجائے ایک ایک پراڈکٹ متعارف کروائیں تاکہ ردعمل کی وجہ معلوم ہوسکے۔

اگر سرخی برقرار رہے، جلد سے پانی یا پیپ نکلے، درد ہو، آنکھوں میں جلن یا سرخی پیدا ہو یا مسئلہ بڑھتا جائے تو ماہرِ جلد سے معائنہ کروائیں۔ خود سے اسٹیرائڈ کریمیں استعمال نہ کریں، خصوصاً چہرے پر، کیونکہ غلط استعمال جلد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

5۔ گرم پانی سے روزانہ نہانے کے حیرت انگیز نقصانات

سردیوں میں گرم پانی سے نہانا سکون اور آرام کا احساس دیتا ہے، لیکن بہت زیادہ گرم پانی اور طویل وقت تک نہانا جلد اور بالوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

جلد پر موجود قدرتی چکنائی ایک حفاظتی تہہ بناتی ہے جو پانی کو جلد کے اندر محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ بہت گرم پانی اس قدرتی چکنائی کو کم کرسکتا ہے۔ نتیجتاً جلد خشک، کھردری اور خارش زدہ ہونے لگتی ہے۔

یہ مسئلہ ان خواتین میں زیادہ ہوسکتا ہے جو روزانہ طویل وقت تک گرم پانی سے نہاتی ہیں، بار بار صابن استعمال کرتی ہیں یا نہانے کے بعد موئسچرائزر نہیں لگاتیں۔

بالوں کو بھی بہت گرم پانی سے دھونا خشکی اور کھوپڑی میں جلن بڑھا سکتا ہے، خصوصاً اگر پہلے سے خشکی یا حساسیت موجود ہو۔ تاہم بال جھڑنے کی ہر کیفیت کو گرم پانی سے منسوب کرنا درست نہیں۔

ماہرین جلد کی حفاظت کے لیے نیم گرم پانی سے تقریباً پانچ سے دس منٹ کا مختصر غسل تجویز کرتے ہیں۔ نہانے کے بعد جلد کو زور سے رگڑنے کے بجائے نرم تولیے سے خشک کریں اور فوراً موئسچرائزر لگائیں۔ بالوں کو مناسب درجہ حرارت کے پانی سے دھوئیں اور کھوپڑی کی صفائی کے لیے اپنی جلد کے مطابق نرم شیمپو منتخب کریں۔

پاکستانی خواتین کے لیے سردیوں کا آسان بیوٹی اور ہیلتھ روٹین

سردیوں میں خوبصورت اور صحت مند جلد برقرار رکھنے کے لیے مہنگی مصنوعات خریدنا ضروری نہیں۔ اصل اہمیت مستقل اور مناسب نگہداشت کی ہے۔ صبح چہرہ نرم کلینزر سے صاف کریں، موئسچرائزر لگائیں اور سن اسکرین استعمال کریں۔ دن کے دوران ہاتھ دھونے کے بعد ہینڈ کریم لگائیں اور ہونٹوں کو خشک ہونے سے بچائیں۔

رات کو سونے سے پہلے چہرے سے میک اپ صاف کریں، موئسچرائزر لگائیں اور ہونٹوں پر پیٹرولیم جیلی استعمال کریں۔ بالوں کو ضرورت کے مطابق دھوئیں، کھوپڑی کی صفائی برقرار رکھیں اور متوازن غذا کو معمول بنائیں۔

اپنی خوراک میں انڈے، دالیں، مچھلی، دہی، دودھ، موسمی سبزیاں، پھل، اخروٹ اور بادام مناسب مقدار میں شامل کریں۔ پانی بھی باقاعدگی سے پیتی رہیں، کیونکہ سردیوں میں پیاس کم لگنے کے باوجود جسم کو پانی کی ضرورت رہتی ہے۔

اگر جلد کی خشکی مسلسل برقرار رہے، خارش نیند متاثر کرے، جلد میں گہری دراڑیں پڑ جائیں، بال غیر معمولی طور پر جھڑنے لگیں یا چہرے کی سرخی ختم نہ ہو تو اسے صرف موسمی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔

یاد رکھیں، خوبصورتی کا تعلق صرف چمکتی ہوئی جلد یا گھنے بالوں سے نہیں بلکہ صحت مند جسم، متوازن غذا اور درست نگہداشت سے بھی ہے۔ اس موسمِ سرما میں اپنی جلد اور بالوں کو موسمی تبدیلیوں کے مطابق توجہ دیں، کیونکہ مناسب احتیاط ہی قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں