سردیوں کا موسم جہاں گرم چائے، خشک میوہ جات، کینو، مالٹے اور مزیدار سوپ سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے، وہیں یہ خواتین کی صحت کے لیے کئی پوشیدہ مسائل بھی پیدا کرسکتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بعض اوقات جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کا تعلق صرف سردی سے نہیں بلکہ دھوپ کی کمی، غذائی عدم توازن، پانی کم پینے، نیند کے معمولات اور ہارمونز سے بھی ہوتا ہے۔
پاکستان میں بہت سی خواتین گھر، بچوں، ملازمت اور دیگر ذمہ داریوں میں مصروف رہتی ہیں۔ نتیجتاً وہ اپنی غذائیت، دھوپ، پانی اور جسمانی سرگرمی پر مناسب توجہ نہیں دے پاتیں۔ اس کا اثر ہڈیوں، پٹھوں، جلد، بالوں، مدافعتی نظام اور ذہنی صحت پر پڑسکتا ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ سردیوں میں خواتین کے جسم میں کون سی حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، ان کی اصل وجوہات کیا ہیں اور روزمرہ زندگی میں کن احتیاطی تدابیر سے صحت بہتر رکھی جاسکتی ہے۔
وٹامن ڈی کی کمی: پاکستانی خواتین کے لیے ایک خاموش مسئلہ
وٹامن ڈی کو عام طور پر ہڈیوں کی مضبوطی سے جوڑا جاتا ہے، لیکن اس کا کردار صرف ہڈیوں تک محدود نہیں۔ یہ جسم میں کیلشیم اور فاسفورس کے جذب، پٹھوں کے معمول کے افعال اور مدافعتی نظام کی کارکردگی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان جیسے دھوپ والے ملک میں بھی خواتین میں وٹامن ڈی کی کمی عام دیکھی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دھوپ کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کو مناسب مقدار میں وٹامن ڈی مل رہا ہے۔ پردے، گھر کے اندر زیادہ وقت گزارنا، مکمل جسم ڈھانپنے والے کپڑے، جلد کی رنگت، عمر اور غذا بھی وٹامن ڈی کی تیاری پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
سردیوں میں دن چھوٹے ہونے، دھوپ میں کم وقت گزارنے اور گھر سے باہر نکلنے میں کمی کے باعث بعض خواتین میں اس کمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کی علامات میں پٹھوں کی کمزوری، ہڈیوں میں درد اور تھکاوٹ شامل ہوسکتی ہیں، تاہم یہ علامات صرف وٹامن ڈی کی کمی کی مخصوص نشانیاں نہیں ہیں۔
اس سے بچاؤ کے لیے مناسب وقت میں دھوپ حاصل کریں، مچھلی، انڈے کی زردی اور وٹامن ڈی سے افزودہ دودھ جیسی غذائیں استعمال کریں۔ اگر کمی کا شبہ ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے 25-hydroxy vitamin D ٹیسٹ کروایا جاسکتا ہے۔ وٹامن ڈی کے زیادہ مقدار والے سپلیمنٹس خود سے استعمال نہ کریں، کیونکہ ضرورت سے زیادہ مقدار بھی نقصان دہ ہوسکتی ہے۔
سردیوں کے پانچ پھل: خواتین کے جسم کے لیے قدرتی غذائی خزانہ
سردیوں میں دستیاب موسمی پھل صرف ذائقے کے لیے نہیں بلکہ وٹامنز، معدنیات، فائبر اور قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس کا بہترین ذریعہ بھی ہیں۔
کینو اور مالٹا وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں، جو جسم میں کولیجن بنانے، جلد کی صحت اور مدافعتی نظام کے معمول کے افعال میں مدد دیتا ہے۔ امرود بھی وٹامن سی کا بہترین ذریعہ ہے اور اس میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر رکھنے اور قبض سے بچاؤ میں مددگار ہوتا ہے۔
انار میں پولی فینولز اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹ مرکبات پائے جاتے ہیں، جو جسم کے خلیات کو آکسیڈیٹو نقصان سے تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ سیب میں فائبر، خصوصاً پیکٹن، موجود ہوتا ہے جو آنتوں کی صحت کے لیے مفید ہے۔ اسی طرح ناشپاتی بھی پانی اور فائبر کا اچھا ذریعہ ہے۔
پاکستانی خواتین کے لیے بہتر ہے کہ روزانہ مختلف موسمی پھلوں کو اپنی خوراک میں شامل کریں۔ پھلوں کا تازہ اور ثابت حالت میں استعمال جوس کے مقابلے میں زیادہ فائبر فراہم کرتا ہے۔ ذیابیطس کی مریض خواتین بھی عموماً مناسب مقدار میں ثابت پھل استعمال کرسکتی ہیں، لیکن مقدار اور غذائی منصوبہ اپنے ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت کے مشورے سے طے کریں۔
سردیوں میں پیاس کم لگنے کے باوجود پانی کی کمی کیوں ہوجاتی ہے؟
سردیوں میں خواتین کی ایک عام غلطی پانی کم پینا ہے۔ گرمیوں میں پسینہ اور پیاس پانی پینے کی یاد دلاتے رہتے ہیں، لیکن سردیوں میں پیاس کا احساس کم ہوسکتا ہے۔ اس کے باوجود جسم سانس، پیشاب اور دیگر قدرتی افعال کے ذریعے مسلسل پانی خارج کرتا رہتا ہے۔
پانی کی کمی (Dehydration) سے سر درد، چکر، تھکاوٹ، منہ خشک ہونا، پیشاب کا گہرا پیلا رنگ اور قبض جیسی شکایات پیدا ہوسکتی ہیں۔ خصوصاً وہ خواتین جو چائے اور کافی زیادہ پیتی ہیں لیکن سادہ پانی کم استعمال کرتی ہیں، انہیں اپنی روزانہ کی سیال ضروریات پر توجہ دینی چاہیے۔
پاکستانی گھروں میں سردیوں کے دوران چائے، کافی اور گرم مشروبات کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ اگرچہ چائے اور کافی بھی جسم کو کچھ پانی فراہم کرتے ہیں، لیکن انہیں سادہ پانی کا مکمل متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
اپنے دن کا آغاز پانی کے ایک گلاس سے کریں، کھانے کے درمیان مناسب مقدار میں پانی پئیں اور سوپ، دودھ اور پانی سے بھرپور پھلوں کو خوراک میں شامل کریں۔ پیشاب کا ہلکا زرد رنگ عموماً مناسب ہائیڈریشن کی ایک مفید علامت ہے، اگرچہ بعض وٹامنز اور ادویات بھی اس کے رنگ کو بدل سکتی ہیں۔
گردوں کی بیماری، دل کی کمزوری یا ایسی کیفیت جس میں پانی محدود کرنے کی ہدایت ہو، اس صورت میں پانی کی مقدار ڈاکٹر کے مشورے سے طے کریں۔
nhs.uk+2
کیا سردیوں میں یخنی، سوپ اور گرم مشروبات واقعی قوتِ مدافعت بڑھاتے ہیں؟
سردیوں میں پاکستانی گھروں میں مرغی کی یخنی، سبزیوں کا سوپ، دال کا شوربہ، ادرک والی چائے اور گرم دودھ کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ یہ غذائیں جسم کو حرارت، پانی اور بعض ضروری غذائی اجزا فراہم کرسکتی ہیں، لیکن یہ سمجھنا درست نہیں کہ کوئی ایک سوپ یا مشروب قوتِ مدافعت کو فوراً مضبوط کردیتا ہے۔
مرغی کی یخنی میں موجود پروٹین اور پانی جسم کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ اگر اس میں گاجر، پالک، ٹماٹر، لہسن اور دیگر سبزیاں شامل کی جائیں تو وٹامنز، معدنیات اور فائبر بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔ دال کا سوپ پودوں سے حاصل ہونے والے پروٹین اور فائبر کا اچھا ذریعہ ہے۔
ادرک اور دارچینی جیسے مصالحوں میں قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں، لیکن ان کے استعمال کو نزلہ، زکام یا انفیکشن کا یقینی علاج سمجھنا سائنسی طور پر درست نہیں۔ اسی طرح شہد گلے کی خراش اور کھانسی میں وقتی سکون دے سکتا ہے، لیکن وائرس کو ختم نہیں کرتا۔
خواتین کے لیے بہتر ہے کہ سوپ گھر میں تازہ اجزا سے تیار کریں، نمک اور چکنائی کم رکھیں اور تیار شدہ پیکٹ سوپ کا زیادہ استعمال نہ کریں۔ متوازن غذا، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی اور ضروری ویکسین قوتِ مدافعت کی صحت مند کارکردگی کے لیے زیادہ اہم ہیں۔
World Health Organization+1
سردیوں میں خواتین کو بار بار نزلہ، زکام اور انفیکشن کیوں ہوتا ہے؟
سردیوں میں نزلہ، زکام اور گلے کی خراش کی شکایات عام ہوجاتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ سرد ہوا نہیں بلکہ مختلف وائرس ہیں جو سانس کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہوتے ہیں۔
سرد موسم میں لوگ زیادہ وقت بند کمروں میں گزارتے ہیں، کھڑکیاں کم کھولتے ہیں اور ایک دوسرے کے قریب بیٹھتے ہیں۔ اس طرح وائرس کے پھیلنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ انفلوئنزا، رائنو وائرس اور دیگر سانس کے وائرس مختلف موسمی انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔
گھر میں بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی خواتین اکثر بیمار بچوں کے قریب رہتی ہیں، جس سے انہیں بھی انفیکشن منتقل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ناک بہنا، چھینکیں، گلے میں خراش، کھانسی، ہلکا بخار اور جسم میں درد عام علامات ہیں۔
بچاؤ کے لیے ہاتھ صابن سے دھوئیں، کھانستے یا چھینکتے وقت منہ ڈھانپیں، بیمار افراد کے ساتھ قریبی رابطہ محدود رکھیں اور کمرے میں ہوا کی مناسب آمدورفت برقرار رکھیں۔ فلو کی ویکسین کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں، خصوصاً حاملہ خواتین، بزرگ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد۔
ایک اہم غلط فہمی یہ ہے کہ ہر نزلے میں اینٹی بائیوٹک کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام زکام وائرس سے ہوتا ہے، اس لیے اینٹی بائیوٹک اس کا علاج نہیں کرتی۔ خود سے اینٹی بائیوٹک استعمال کرنا نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے۔
CDC+2
سردیوں کی دھوپ خواتین کے جسم میں کون سے حیرت انگیز کام کرتی ہے؟
دھوپ صرف سردی سے بچنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی جسم کی حیاتیاتی گھڑی، نیند اور وٹامن ڈی کی تیاری سے بھی تعلق رکھتی ہے۔
جب سورج کی مخصوص بالائے بنفشی شعاعیں (UVB) جلد پر پڑتی ہیں تو جسم قدرتی طور پر وٹامن ڈی بناتا ہے۔ یہ وٹامن کیلشیم جذب کرنے اور ہڈیوں کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس لیے وہ خواتین جو زیادہ وقت بند کمروں میں گزارتی ہیں یا جنہیں مناسب دھوپ نہیں ملتی، ان میں وٹامن ڈی کی کمی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
صبح اور دن کی قدرتی روشنی آنکھوں کے ذریعے دماغ کے اس نظام کو بھی سگنل دیتی ہے جو جسم کی اندرونی گھڑی کو منظم کرتا ہے۔ اس سے بیداری، نیند کے اوقات اور موڈ پر اثر پڑ سکتا ہے۔
کراچی سمیت پاکستان کے بیشتر شہروں میں سردیوں کی دھوپ سے فائدہ اٹھانے کے لیے مناسب وقت میں باہر چہل قدمی یا کچھ وقت کھلی جگہ پر گزارنا مفید ہوسکتا ہے۔ تاہم شیشے کے پیچھے بیٹھنے سے وٹامن ڈی نہیں بنتا، کیونکہ شیشہ UVB شعاعوں کو روک دیتا ہے۔
دھوپ حاصل کرتے ہوئے جلد کو تیز UV شعاعوں سے محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ کسی ایک مقررہ وقت کو ہر خاتون کے لیے وٹامن ڈی حاصل کرنے کا یقینی نسخہ نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ جلد کی رنگت، عمر، موسم اور فضائی آلودگی سے نتائج بدل سکتے ہیں۔
Health Professional Fact Sheet+1
سردیوں میں زیادہ نیند آنے کی سائنسی وجوہات کیا ہیں؟
کیا آپ نے محسوس کیا ہے کہ سردیوں میں صبح بستر سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہے، دن میں نیند آتی ہے اور شام ہوتے ہی سستی محسوس ہونے لگتی ہے؟ اس کی ایک وجہ دن کی روشنی کے دورانیے میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
انسانی جسم میں میلاٹونن (Melatonin) نامی ہارمون نیند اور بیداری کے معمولات کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اندھیرا بڑھنے پر اس ہارمون کی پیداوار بڑھتی ہے، جس سے نیند آنے کا احساس ہوتا ہے۔ سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں طویل ہونے سے بعض افراد کی نیند اور جسمانی گھڑی متاثر ہوسکتی ہے۔
خاص طور پر طالبات، ملازمت پیشہ خواتین اور رات دیر تک موبائل استعمال کرنے والی خواتین میں نیند کا معمول خراب ہوسکتا ہے۔
اس مسئلے سے بچنے کے لیے روزانہ ایک مقررہ وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت اپنائیں، صبح قدرتی روشنی میں وقت گزاریں اور سونے سے پہلے موبائل اور ٹی وی کا استعمال محدود کریں۔ اگر مناسب نیند کے باوجود مسلسل تھکاوٹ ہو تو خون کی کمی، تھائرائیڈ اور دیگر طبی وجوہات کی جانچ بھی ضروری ہوسکتی ہے۔
PMC+1
بعض خواتین کے ہاتھ اور پاؤں ہر وقت برف کی طرح ٹھنڈے کیوں رہتے ہیں؟
سردیوں میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہونا عام بات ہے، لیکن بعض خواتین کو گرم کمرے میں بیٹھے ہوئے بھی انگلیوں اور پاؤں میں شدید سردی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی کئی طبی وجوہات ہوسکتی ہیں۔
ایک اہم وجہ خون کی کمی (Anaemia) ہے۔ جسم میں آئرن کی کمی سے ہیموگلوبن کم ہوسکتا ہے، جس کے باعث تھکاوٹ، کمزوری، سانس پھولنے اور سردی زیادہ محسوس ہونے جیسی علامات سامنے آسکتی ہیں۔ ماہواری میں زیادہ خون ضائع ہونے والی خواتین میں آئرن کی کمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دوسری وجہ تھائرائیڈ ہارمون کی کمی (Hypothyroidism) ہوسکتی ہے۔ اس میں جسم کا میٹابولزم سست ہونے سے مسلسل سردی محسوس ہونا، وزن بڑھنا، قبض، خشک جلد اور بال جھڑنے جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔
ایک اور دلچسپ کیفیت ریناؤڈز فینومینن (Raynaud’s Phenomenon) ہے۔ اس میں سردی یا ذہنی دباؤ کے دوران انگلیوں کی باریک شریانیں عارضی طور پر سکڑ جاتی ہیں۔ نتیجتاً انگلیاں سفید یا نیلی پڑ سکتی ہیں اور بعد میں سرخ ہونے کے ساتھ درد، سن ہونا یا سوئیاں چبھنے جیسا احساس پیدا ہوسکتا ہے۔
اگر یہ کیفیت بار بار ہو تو اسے معمولی سردی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ ڈاکٹر کے مشورے سے CBC، Ferritin اور TSH جیسے ٹیسٹ کروائے جاسکتے ہیں۔ ہاتھ پاؤں گرم رکھیں، اچانک درجہ حرارت کی تبدیلی سے بچیں اور تمباکو نوشی سے دور رہیں۔
NHS+1
سردیوں میں خواتین کے جوڑوں اور پٹھوں کا درد کیوں بڑھ جاتا ہے؟
بہت سی خواتین خصوصاً 40 سال سے زائد عمر میں شکایت کرتی ہیں کہ سردیوں میں گھٹنوں، کمر، گردن، کندھوں اور انگلیوں کے جوڑوں میں درد بڑھ جاتا ہے۔
اس کی ایک وجہ سرد موسم میں جسمانی سرگرمی کم ہوجانا ہے۔ جب خواتین زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتی ہیں تو پٹھوں میں اکڑن پیدا ہوسکتی ہے اور جوڑوں کی حرکت محدود محسوس ہوسکتی ہے۔ پہلے سے گٹھیا (Arthritis) یا اوسٹیو آرتھرائٹس میں مبتلا افراد کو بھی بعض اوقات موسم کی تبدیلی کے دوران درد زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ سردی ہر شخص میں جوڑوں کی بیماری پیدا نہیں کرتی اور نہ ہی یہ ثابت ہے کہ سرد موسم لازماً جوڑوں کو مستقل نقصان پہنچاتا ہے۔
بچاؤ کے لیے روزانہ ہلکی ورزش، چہل قدمی، اسٹریچنگ اور مناسب گرم لباس استعمال کریں۔ جسم کو ایک ہی پوزیشن میں طویل وقت تک نہ رکھیں۔ کیلشیم اور وٹامن ڈی والی غذاؤں کا استعمال کریں اور اگر درد مسلسل رہے تو طبی معائنہ کروائیں۔
خصوصاً اگر کسی جوڑ میں اچانک شدید سوجن، سرخی، غیر معمولی گرمی یا بخار ہو تو ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں۔
Arthritis Foundation+1
سردیوں کی اداسی یا ونٹر ڈپریشن: کیا موسم واقعی ذہنی صحت بدل دیتا ہے؟
سردیوں میں بعض خواتین کو بلاوجہ اداسی، تنہائی، سستی، چڑچڑاپن اور کسی کام میں دلچسپی نہ ہونے کی شکایت ہوتی ہے۔ کچھ خواتین زیادہ سونا، میٹھی چیزیں کھانے کی خواہش اور لوگوں سے ملنے جلنے سے گریز بھی محسوس کرتی ہیں۔
اس کی ایک ممکنہ طبی وجہ سیزنل ایفیکٹو ڈس آرڈر (Seasonal Affective Disorder) ہے، جسے ونٹر ڈپریشن بھی کہا جاتا ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے مطابق یہ ڈپریشن کی ایک ایسی قسم ہے جس میں علامات مخصوص موسم، خصوصاً خزاں اور سردیوں میں ظاہر ہوتی ہیں اور موسم بدلنے کے ساتھ بہتر ہوسکتی ہیں۔ خواتین میں اس کیفیت کی تشخیص مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔
اس کے ممکنہ اسباب میں دن کی روشنی میں کمی، جسمانی گھڑی میں تبدیلی اور سیروٹونن و میلاٹونن جیسے دماغی کیمیائی نظاموں کا کردار شامل ہے۔ تاہم اس کی مکمل وجوہات پر ابھی تحقیق جاری ہے۔
پاکستانی خواتین کے لیے یہ مسئلہ اس وقت زیادہ پیچیدہ ہوسکتا ہے جب گھریلو ذمہ داریاں، بچوں کی دیکھ بھال، معاشی دباؤ اور سماجی تنہائی پہلے سے ذہنی تھکن کا باعث بن رہے ہوں۔
اس کیفیت سے بچاؤ اور بہتری کے لیے قدرتی روشنی میں وقت گزاریں، روزانہ چہل قدمی کریں، خاندان اور دوستوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھیں اور نیند کا معمول بہتر بنائیں۔ اگر اداسی، دلچسپی ختم ہونے، غیر معمولی تھکاوٹ یا نیند اور بھوک میں تبدیلی کی علامات دو ہفتے یا اس سے زیادہ برقرار رہیں اور روزمرہ زندگی متاثر ہو تو ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
بعض مریضوں کے لیے سائیکوتھراپی، روشنی سے علاج (Light Therapy) یا ادویات کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ علاج کا انتخاب ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔
National Institute of Mental Health (NIMH)+1
سردیوں میں خواتین اپنی صحت کا خصوصی خیال کیسے رکھیں؟
سردیوں میں صحت مند رہنے کا بہترین طریقہ کسی ایک مہنگے سپلیمنٹ، خاص مشروب یا گھریلو نسخے پر انحصار کرنا نہیں بلکہ متوازن طرزِ زندگی اپنانا ہے۔ پاکستانی خواتین کو اپنی روزمرہ غذا میں موسمی پھل، سبزیاں، دالیں، انڈے، دودھ، مچھلی اور مناسب پروٹین شامل کرنا چاہیے۔
روزانہ مناسب مقدار میں پانی پئیں، دھوپ اور قدرتی روشنی سے فائدہ اٹھائیں، جسمانی سرگرمی جاری رکھیں اور سات سے نو گھنٹے کی نیند لینے کی کوشش کریں۔ اگر مسلسل تھکاوٹ، بالوں کا غیر معمولی جھڑنا، ہاتھ پاؤں کا بہت زیادہ ٹھنڈا رہنا، ہڈیوں میں درد یا ذہنی اداسی محسوس ہو تو اسے صرف سرد موسم کا اثر سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔
یاد رکھیں، سردیوں میں صحت مند رہنے کا راز جسم کی ضروریات کو سمجھنے، بروقت علامات پہچاننے اور بیماری کو بڑھنے سے پہلے طبی رہنمائی حاصل کرنے میں پوشیدہ ہے۔









