کیا آپ جانتی ہیں کہ سردیوں کی ٹھنڈی ہوا صرف جلد، ہڈیوں اور جوڑوں کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ یہ دل اور دماغ کی خون کی شریانوں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان بن سکتی ہے؟ اکثر خواتین سمجھتی ہیں کہ دل کا دورہ یا فالج صرف عمر رسیدہ افراد کو ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سرد موسم میں کم عمر افراد، درمیانی عمر کی خواتین اور پہلے سے بلڈ پریشر یا ذیابیطس کی مریض خواتین بھی زیادہ خطرے سے دوچار ہوسکتی ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سردی کے موسم میں ہمارا جسم خود کو گرم رکھنے کے لیے ایسے قدرتی دفاعی اقدامات کرتا ہے جو بعض حالات میں دل پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ خون کی شریانیں سکڑنے لگتی ہیں، بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے، دل کو خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اور بعض افراد میں خون جمنے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔
پاکستان میں سردیوں کے دوران خصوصاً کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور دیگر شہروں میں درجہ حرارت میں تبدیلی، فضائی آلودگی، دھند، غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی میں کمی اور سرد موسم میں دیر تک گھروں میں رہنے کی عادت صحت کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ سردیوں میں دل کے دورے، فالج اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے، جسم کے اندر کون سی حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور پاکستانی خواتین اپنی اور اپنے خاندان کی صحت کی حفاظت کیسے کرسکتی ہیں۔
سردی پڑتے ہی خون کی نالیاں سکڑنے کیوں لگتی ہیں؟
انسانی جسم کا ایک قدرتی نظام ہے جو درجہ حرارت کو معمول پر رکھنے کے لیے کام کرتا ہے۔ جب جسم کو ٹھنڈ محسوس ہوتی ہے تو خون کی باریک نالیاں، خصوصاً جلد اور ہاتھ پاؤں کے قریب موجود شریانیں، سکڑنے لگتی ہیں۔ اس عمل کو طبی زبان میں ویسوکنسٹرکشن (Vasoconstriction) کہا جاتا ہے۔
اس عمل کا مقصد جسم کی حرارت کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے، لیکن اس کا ایک دوسرا اثر بھی سامنے آتا ہے۔ جب خون کی نالیاں سکڑتی ہیں تو خون کے بہاؤ کے لیے مزاحمت بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر اوپر جاسکتا ہے۔
یہ کیفیت ان خواتین کے لیے زیادہ تشویش ناک ہوسکتی ہے جنہیں پہلے ہی ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول، موٹاپے یا دل کی بیماری کا سامنا ہو۔
بعض اوقات ایک صحت مند نظر آنے والی خاتون بھی سرد موسم میں بلڈ پریشر میں اچانک اضافے کا تجربہ کرسکتی ہے۔ اسی لیے سردیوں میں بلڈ پریشر کی نگرانی کو معمولی بات سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
سردیوں میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ کیوں بڑھ جاتا ہے؟
دل کو مسلسل خون اور آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب درجہ حرارت کم ہوتا ہے تو دل کو جسم کے مختلف حصوں تک خون پہنچانے کے لیے نسبتاً زیادہ محنت کرنا پڑسکتی ہے۔ خون کی شریانوں کے سکڑنے سے دل پر دباؤ بڑھتا ہے اور بعض افراد میں دل کے پٹھوں کو آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے۔
اس کے علاوہ سردیوں میں بعض لوگوں کی جسمانی سرگرمیاں کم ہوجاتی ہیں، چکنائی اور کیلوریز سے بھرپور غذاؤں کا استعمال بڑھ جاتا ہے اور وزن میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ تمام عوامل پہلے سے موجود قلبی خطرات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
ایک اور اہم وجہ خون جمنے کے نظام میں موسمی تبدیلیاں ہیں۔ کچھ تحقیقات میں سرد موسم کے دوران خون کے پلیٹ لیٹس کی سرگرمی اور خون جمنے کے بعض عوامل میں اضافے کے شواہد ملے ہیں۔ اگر کسی شخص کی شریانوں میں پہلے سے چکنائی کی تہہ (Plaque) موجود ہو تو اس تہہ کے پھٹنے اور خون کا لوتھڑا بننے سے دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔
یاد رکھیں، سردی بذاتِ خود ہر شخص میں دل کا دورہ نہیں ڈالتی، لیکن پہلے سے موجود بیماریوں اور خطرے کے عوامل کے ساتھ مل کر اس کا امکان بڑھا سکتی ہے۔
فالج کا خطرہ: سردیوں میں دماغ کی شریانوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
فالج (Stroke) ایک ایسی خطرناک کیفیت ہے جس میں دماغ کے کسی حصے کو خون اور آکسیجن کی فراہمی اچانک بند ہوجاتی ہے یا دماغ کی کوئی شریان پھٹ جاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں دماغی خلیات متاثر ہونے لگتے ہیں اور بروقت علاج نہ ملنے پر مستقل معذوری یا موت واقع ہوسکتی ہے۔
سرد موسم میں بلڈ پریشر بڑھنے، خون کی شریانوں پر دباؤ اور خون جمنے کے عمل میں تبدیلیوں کی وجہ سے فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جنہیں پہلے سے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کی بے ترتیبی یا شریانوں کی بیماری ہو، انہیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
2026 میں شائع ہونے والے ورلڈ اسٹروک آرگنائزیشن کے ایک سائنسی بیان میں درجہ حرارت اور فالج کے تعلق پر 97 تحقیقی مطالعات کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق سردی اور درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی بلڈ پریشر، خون جمنے کے رجحان اور خون کی شریانوں کی اندرونی سطح پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ اس سے دماغی شریانوں کے متاثر ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
Sage Journals+1
فالج کی ایک خطرناک بات یہ ہے کہ اس کی علامات اچانک ظاہر ہوسکتی ہیں۔ چہرے کا ایک طرف ڈھلک جانا، ایک بازو یا ٹانگ میں اچانک کمزوری، بولنے میں دشواری، الفاظ سمجھنے میں مشکل، نظر کا متاثر ہونا یا توازن کھو دینا اس کی اہم علامات ہیں۔
اگر کسی خاتون یا گھر کے فرد میں یہ علامات ظاہر ہوں تو انتظار نہ کریں۔ فوراً ایمرجنسی طبی امداد حاصل کریں، چاہے کچھ دیر بعد علامات خود ہی ختم کیوں نہ ہوجائیں۔ عارضی علامات بھی منی اسٹروک (TIA) کی نشانی ہوسکتی ہیں، جو مستقبل میں بڑے فالج کا انتباہ ہے۔
خواتین میں دل کے دورے کی علامات مردوں سے مختلف کیوں ہوسکتی ہیں؟
ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ دل کا دورہ پڑنے پر ہمیشہ سینے میں شدید درد ہوتا ہے اور مریض فوراً سمجھ جاتا ہے کہ اسے دل کی بیماری لاحق ہوگئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خواتین میں بھی سینے میں دباؤ یا درد عام علامت ہے، لیکن بعض خواتین میں اس کے ساتھ دوسری غیر معمولی علامات زیادہ نمایاں ہوسکتی ہیں۔
مثلاً اچانک غیر معمولی تھکاوٹ، سانس لینے میں دشواری، متلی، قے، ٹھنڈے پسینے، کمر یا جبڑے میں درد، کندھوں میں دباؤ، چکر اور معدے کے اوپری حصے میں تکلیف محسوس ہوسکتی ہے۔
پاکستانی خواتین اکثر گھر کے کام، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر ذمہ داریوں میں مصروف رہتی ہیں۔ بعض اوقات وہ سینے یا کمر کی تکلیف کو گیس، تیزابیت، تھکن یا موسم کی تبدیلی سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہیں۔ یہی تاخیر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
اگر سینے میں دباؤ، سانس کی تنگی، ٹھنڈے پسینے یا غیر معمولی کمزوری جیسی علامات ظاہر ہوں تو اسے محض گیس یا معدے کی خرابی سمجھ کر گھر پر علاج نہ کریں۔ فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
World Health Organization+2
کس عمر میں دل کے دورے اور فالج کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟
دل اور دماغ کی شریانوں کی بیماریاں صرف بڑھاپے کا مسئلہ نہیں ہیں۔ ان کی بنیاد کئی سال پہلے ہی بن سکتی ہے، جبکہ علامات کسی بھی عمر میں ظاہر ہوسکتی ہیں۔
عمومی طور پر 40 سال کے بعد ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے خطرات پر زیادہ توجہ دینا ضروری ہوجاتا ہے۔ 50 سال کے بعد یہ خطرات مزید اہمیت اختیار کرتے ہیں، خصوصاً خواتین میں سن یاس (Menopause) کے بعد۔
سن یاس کے دوران ایسٹروجن ہارمون کی سطح کم ہوجاتی ہے۔ یہ ہارمون زندگی کے تولیدی دور میں خون کی شریانوں کی صحت اور جسم کے میٹابولزم پر مثبت اثرات رکھتا ہے۔ سن یاس کے بعد بعض خواتین میں کولیسٹرول کی سطح، جسمانی چربی، بلڈ پریشر اور قلبی بیماریوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ ایسٹروجن کی کمی ہی دل کی بیماری کی واحد وجہ ہے۔
60 سے 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں سرد موسم کے دوران خصوصی احتیاط ضروری ہے۔ اس عمر میں شریانوں کی سختی، دل کی کمزوری، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر پہلے سے موجود ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
البتہ نوجوان خواتین بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ حمل کے دوران ہائی بلڈ پریشر، پری ایکلیمپسیا، حمل کے بعد بعض قلبی مسائل، سگریٹ نوشی، موٹاپا، خاندانی تاریخ اور ذیابیطس کم عمر میں بھی خطرات بڑھا سکتے ہیں۔
سردیوں میں ہائی بلڈ پریشر خاموش خطرہ کیسے بن جاتا ہے؟
ہائی بلڈ پریشر کو خاموش قاتل (Silent Killer) کہا جاتا ہے کیونکہ اکثر مریضوں کو اس کی موجودگی کا احساس نہیں ہوتا۔ بعض افراد کا بلڈ پریشر کافی زیادہ ہونے کے باوجود انہیں کوئی واضح علامت محسوس نہیں ہوتی۔
سردیوں میں خون کی نالیوں کے سکڑنے اور جسم کے اعصابی نظام کی سرگرمی بڑھنے سے بلڈ پریشر اوپر جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ نمکین غذاؤں، اچار، پاپڑ، نمکو، پراٹھوں، تلی ہوئی اشیا اور جسمانی سرگرمی میں کمی کا بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
پاکستانی گھروں میں سردیوں کے دوران یخنی، نہاری، پائے، حلیم، گوشت کے سالن، نمکین خشک میوہ جات اور دیگر روایتی کھانوں کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ یہ غذائیں لازماً نقصان دہ نہیں، لیکن ان میں نمک، گھی اور سیر شدہ چکنائی کی مقدار زیادہ ہونے سے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے مسائل پیدا یا خراب ہوسکتے ہیں۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بلڈ پریشر کی دوا خود سے کم یا زیادہ کرنا، سردیوں میں دوا چھوڑ دینا یا صرف سر درد ہونے پر بلڈ پریشر چیک کرنا درست طریقہ نہیں۔ دوا کا استعمال ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق جاری رکھیں۔
2026 کی نئی تحقیق کیا بتاتی ہے؟
اپریل 2026 میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے درجہ حرارت اور قلبی صحت کے تعلق پر ایک اہم سائنسی بیان شائع کیا۔ اس میں بتایا گیا کہ صرف شدید سردی ہی نہیں بلکہ غیر موزوں درجہ حرارت کی مختلف صورتیں دل کے دورے، فالج، دل کی ناکامی، بے ترتیب دھڑکن اور اچانک قلبی موت کے خطرات سے منسلک ہوسکتی ہیں۔
اس تحقیق میں ایک اہم پہلو یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ موسمی اثرات ہر شخص پر یکساں نہیں ہوتے۔ عمر، پہلے سے موجود بیماریاں، رہائش، گھر میں مناسب گرمائش، معاشی حالات اور موسم کی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت بھی خطرے پر اثر انداز ہوتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف درجہ حرارت کا ایک مخصوص عدد ہی خطرے کا پیمانہ نہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں بھی اچانک سردی، گرم گھر سے ٹھنڈے ماحول میں نکلنا اور سردی کے دوران طویل وقت باہر گزارنا حساس افراد کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔
PubMed+2
پاکستانی خواتین کے لیے سردیوں میں دل اور دماغ کی حفاظت کے مؤثر طریقے
سردیوں میں بیماریوں سے بچنے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ اپنی روزمرہ زندگی میں بہت بڑی تبدیلیاں کریں۔ چند سادہ مگر مستقل عادات دل، دماغ اور خون کی شریانوں کی صحت بہتر رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
جسم کو مناسب گرم رکھیں: صبح سویرے اور رات کے وقت درجہ حرارت نسبتاً کم ہوسکتا ہے۔ باہر نکلتے وقت گرم کپڑے پہنیں، سر، گردن، ہاتھ اور پاؤں کو مناسب طور پر ڈھانپیں۔ خصوصاً بزرگ خواتین، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی مریض خواتین کو اچانک سردی میں نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔ بہت ٹھنڈے ماحول سے گرم جگہ اور گرم جگہ سے اچانک ٹھنڈے ماحول میں جانے سے بھی حتی الامکان بچیں۔
صبح کی سیر کا وقت سمجھ داری سے منتخب کریں: سردیوں میں فجر کے فوراً بعد شدید سردی اور دھند کے دوران واک کرنا ہر شخص کے لیے مناسب نہیں۔ اگر آپ کو ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری یا سانس کا مسئلہ ہے تو دھوپ نکلنے کے بعد نسبتاً گرم وقت میں چہل قدمی کریں۔ ابتدا میں آہستہ چلیں اور جسم کو ورزش کے لیے تیار ہونے کا وقت دیں۔ ہفتے میں تقریباً 150 منٹ معتدل جسمانی سرگرمی صحت مند بالغ افراد کے لیے ایک عمومی ہدف ہے، لیکن دل کے مریض اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
نمک کا استعمال کم کریں: پاکستانی کھانوں میں نمک کا استعمال اکثر ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے۔ اچار، چٹنی، نمکو، پاپڑ، پراسیسڈ گوشت، پیکٹ والے سوپ اور نمکین اسنیکس میں سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوسکتی ہے۔ ان کا استعمال محدود رکھیں۔ کھانے میں ذائقہ بڑھانے کے لیے لیموں، دھنیا، پودینہ، ادرک اور دیگر قدرتی مصالحے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
دل دوست غذا اپنائیں: سردیوں میں گاجر، پالک، میتھی، شلجم، مولی، بند گوبھی، مالٹا، کینو، سیب اور امرود جیسی موسمی غذائیں استعمال کریں۔ دالیں، چنے، لوبیا، مچھلی، مناسب مقدار میں خشک میوہ جات اور ثابت اناج کو خوراک کا حصہ بنائیں۔ گھی، بناسپتی، تلی ہوئی اشیا اور زیادہ چکنائی والے گوشت کا استعمال محدود رکھیں۔
پانی پینا نہ بھولیں: سردیوں میں پیاس نسبتاً کم محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جسم کو پانی کی ضرورت نہیں رہتی۔ مناسب مقدار میں پانی پیتے رہیں۔ خصوصاً بزرگ خواتین اور وہ افراد جو پیشاب آور ادویات استعمال کرتے ہیں، اپنے ڈاکٹر سے پانی کی مناسب مقدار کے بارے میں مشورہ کریں۔
نیند اور ذہنی دباؤ کا خیال رکھیں: مسلسل ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور بے ترتیبی سے جسم کے ہارمونز اور بلڈ پریشر متاثر ہوسکتے ہیں۔ روزانہ مناسب نیند، ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمی اور ذہنی سکون کے لیے وقت نکالیں۔
خواتین کو کن طبی ٹیسٹوں پر توجہ دینی چاہیے؟
صحت مند رہنے کے لیے صرف علامات کا انتظار کرنا مناسب نہیں۔ خصوصاً 40 سال کے بعد خواتین کو اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کی باقاعدہ جانچ کروانی چاہیے۔
اگر خاندان میں والدین یا بہن بھائیوں کو کم عمر میں دل کا دورہ یا فالج ہوا ہو تو ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔ بعض افراد میں موروثی کولیسٹرول، خصوصاً ایل ڈی ایل (LDL) کی سطح زیادہ ہونے کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ ضرورت کے مطابق ڈاکٹر ای سی جی (ECG)، HbA1c، لپڈ پروفائل یا دیگر ٹیسٹ تجویز کرسکتے ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر کی مریض خواتین گھر میں ڈیجیٹل بلڈ پریشر مشین رکھ سکتی ہیں۔ پیمائش سے پہلے پانچ منٹ آرام کریں، کرسی پر سیدھا بیٹھیں، پاؤں زمین پر رکھیں اور بازو کو دل کی سطح پر سہارا دیں۔ ایک ہی ریڈنگ کی بنیاد پر پریشان ہونے کے بجائے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق مختلف اوقات کی ریڈنگز کا ریکارڈ رکھیں۔
اگر بلڈ پریشر 180/120 یا اس سے زیادہ آئے تو کم از کم ایک منٹ بعد دوبارہ چیک کریں۔ اگر اتنا ہی زیادہ رہے اور ساتھ سینے میں درد، سانس کی دشواری، کمزوری، نظر میں تبدیلی یا بولنے میں مشکل ہو تو فوراً ایمرجنسی مدد حاصل کریں۔ ایسی علامات نہ بھی ہوں تو فوری طبی رابطہ ضروری ہے۔
فضائی آلودگی اور سردیوں کی دھند بھی دل کے لیے خطرہ ہیں
پاکستان کے بڑے شہروں میں سردیوں کے دوران اسموگ اور فضائی آلودگی ایک اہم مسئلہ بن جاتی ہے۔ ہوا میں موجود باریک ذرات (PM2.5) سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر پھیپھڑوں اور قلبی نظام کو متاثر کرسکتے ہیں۔
تحقیقی شواہد کے مطابق فضائی آلودگی خون کی شریانوں میں سوزش، آکسیڈیٹو اسٹریس اور خون کی نالیوں کے اندرونی نظام کی خرابی سے منسلک ہے۔ اس لیے دل کے مریضوں، بزرگ خواتین، حاملہ خواتین اور ہائی بلڈ پریشر کی مریضوں کو اسموگ کے دوران غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔
اگر ہوا کا معیار خراب ہو تو گھر میں رہیں، کھڑکیاں مناسب وقت پر بند رکھیں اور باہر نکلنا ضروری ہو تو اچھی کوالٹی کا فٹ ہونے والا N95 ماسک استعمال کریں۔ اسموگ میں کھلے میدانوں میں سخت ورزش کرنا بھی مناسب نہیں۔
کن علامات میں فوری اسپتال جانا ضروری ہے؟
دل کے دورے اور فالج میں وقت انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر سینے میں دباؤ یا درد، سانس کی اچانک دشواری، ٹھنڈے پسینے، بے ہوشی یا غیر معمولی کمزوری محسوس ہو تو فوراً ایمرجنسی طبی امداد حاصل کریں۔
اسی طرح چہرے کا ایک طرف ڈھلکنا، بازو میں اچانک کمزوری اور بولنے میں دشواری فالج کی اہم علامات ہیں۔ ان علامات کو پہچاننے کے لیے انگریزی میں FAST کا اصول استعمال کیا جاتا ہے، جس میں چہرے، بازو، گفتگو اور فوری طبی مدد پر توجہ دی جاتی ہے۔
پاکستان میں ایسی صورت حال میں ریسکیو 1122 یا دستیاب مقامی ایمبولینس سروس سے رابطہ کریں۔ مریض کو خود گاڑی چلا کر اسپتال جانے نہ دیں اور علامات شروع ہونے کا وقت یاد رکھیں۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر اسپرین یا بلڈ پریشر کی اضافی دوا نہ دیں، کیونکہ فالج کی بعض اقسام میں خون کی شریان پھٹنے کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔
کیا سردیوں میں دل کے دورے اور فالج سے مکمل بچاؤ ممکن ہے؟
ہر بیماری سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دی جاسکتی، لیکن مناسب احتیاط سے خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خواتین اپنی صحت کو گھر کی ذمہ داریوں کے مقابلے میں کم اہم نہ سمجھیں۔
اپنے بلڈ پریشر اور شوگر کو قابو میں رکھیں، کولیسٹرول کی جانچ کروائیں، وزن مناسب رکھیں، روزانہ جسمانی سرگرمی جاری رکھیں اور متوازن غذا استعمال کریں۔ اگر ڈاکٹر نے دل، بلڈ پریشر یا کولیسٹرول کی دوا تجویز کی ہے تو موسم بدلنے کے باوجود اسے اپنی مرضی سے بند نہ کریں۔
یاد رکھیں کہ دل کی بیماری ہمیشہ اچانک شروع نہیں ہوتی۔ کئی مرتبہ اس کی بنیاد برسوں پہلے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موروثی کولیسٹرول اور غیر صحت مند طرزِ زندگی کی وجہ سے پڑ چکی ہوتی ہے۔ سرد موسم بعض افراد میں اسی پوشیدہ خطرے کو نمایاں کرسکتا ہے۔
اس موسمِ سرما میں اپنے لیے بھی وقت نکالیں، کیونکہ آپ کی صحت صرف آپ کی اپنی نہیں بلکہ پورے خاندان کی خوش حالی سے جڑی ہوئی ہے۔









