سردیوں میں خواتین، لڑکیوں اور بچوں میں اینزائٹی اور ڈپریشن کیوں بڑھ سکتا ہے؟ دونوں بیماریوں میں فرق، اقسام، علامات اور بچاؤ کی مکمل رہنمائی

سردیوں میں خواتین، لڑکیوں اور بچوں میں اینزائٹی اور ڈپریشن کیوں بڑھ سکتا ہے؟ دونوں بیماریوں میں فرق، اقسام، علامات اور بچاؤ کی مکمل رہنمائی 74

کیا سردیوں میں آپ کو بھی بلاوجہ اداسی، گھبراہٹ، دل کی بے چینی، تنہائی، تھکن یا ہر وقت پریشان رہنے کا احساس ہوتا ہے؟ کیا کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دل تو کچھ کرنا چاہتا ہے لیکن جسم میں ہمت نہیں، نیند پوری ہونے کے باوجود تھکاوٹ رہتی ہے اور چھوٹی چھوٹی باتیں بھی ذہنی دباؤ کا سبب بن جاتی ہیں؟

اگر ایسا ہے تو ضروری نہیں کہ یہ صرف سرد موسم کا اثر یا عام سستی ہو۔ بعض اوقات یہ اینزائٹی (Anxiety) یا ڈپریشن (Depression) کی ابتدائی علامات ہوسکتی ہیں۔

ذہنی صحت کے مسائل دنیا بھر میں تیزی سے توجہ حاصل کررہے ہیں، لیکن پاکستان جیسے معاشروں میں خواتین اور لڑکیوں کی ذہنی کیفیت اکثر گھریلو ذمہ داریوں، معاشرتی دباؤ، مالی مشکلات اور خاندانی توقعات کے درمیان نظر انداز ہوجاتی ہے۔ بہت سی خواتین اپنی پریشانی کو کمزوری، حساس طبیعت یا قسمت کا معاملہ سمجھ کر خاموش رہتی ہیں، حالانکہ اینزائٹی اور ڈپریشن حقیقی طبی مسائل ہیں جن کی شناخت اور علاج ممکن ہے۔

سردیوں میں دن چھوٹے ہوجاتے ہیں، دھوپ کم ملتی ہے، جسمانی سرگرمی محدود ہوسکتی ہے اور بعض افراد کے سونے جاگنے کے معمولات متاثر ہوتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں خاص طور پر ان لوگوں کی ذہنی کیفیت پر اثر انداز ہوسکتی ہیں جو پہلے ہی ذہنی دباؤ، نیند کی خرابی یا ڈپریشن کا سامنا کررہے ہوں۔

اس مضمون میں ہم جانیں گے کہ اینزائٹی اور ڈپریشن میں بنیادی فرق کیا ہے، ان کی مختلف اقسام کون سی ہیں، سردیوں میں ان کی علامات کیوں نمایاں ہوسکتی ہیں، پاکستانی خواتین اور بچوں کو کن مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور ذہنی صحت کی حفاظت کیسے کی جاسکتی ہے۔

اینزائٹی اور ڈپریشن میں بنیادی فرق کیا ہے؟

اینزائٹی اور ڈپریشن دونوں ذہنی صحت کے مسائل ہیں، لیکن ان کی بنیادی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ اینزائٹی میں انسان کو مستقبل کے بارے میں مسلسل خوف، اندیشے اور بے چینی رہتی ہے، جبکہ ڈپریشن میں اداسی، ناامیدی، دلچسپی ختم ہوجانا اور زندگی کی سرگرمیوں سے دوری نمایاں ہوتی ہے۔

مثلاً ایک خاتون کو مسلسل یہ خوف رہتا ہے کہ بچوں کے ساتھ کوئی حادثہ نہ ہوجائے، شوہر کی ملازمت ختم نہ ہوجائے، گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے یا کوئی بری خبر نہ آجائے۔ یہ کیفیت اینزائٹی کی طرف اشارہ کرسکتی ہے۔

اس کے برعکس اگر اسی خاتون کو کئی ہفتوں تک کسی کام میں دلچسپی نہ رہے، خوشی محسوس نہ ہو، لوگوں سے ملنے کا دل نہ چاہے، ہر وقت تھکاوٹ اور ناامیدی رہے تو یہ ڈپریشن کی علامات ہوسکتی ہیں۔

بعض افراد میں دونوں مسائل ایک ساتھ بھی موجود ہوتے ہیں۔ مسلسل اینزائٹی انسان کو ذہنی طور پر تھکا سکتی ہے اور وقت کے ساتھ ڈپریشن کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح ڈپریشن کے مریض میں مستقبل کے بارے میں خوف اور گھبراہٹ بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

World Health Organization+1

اینزائٹی (Anxiety) کی مختلف اقسام اور ان کی علامات

اینزائٹی صرف پریشان ہونے یا کسی بات سے ڈرنے کا نام نہیں۔ اس کی کئی طبی اقسام ہیں اور ہر قسم میں علامات مختلف ہوسکتی ہیں۔

جنرلائزڈ اینزائٹی ڈس آرڈر (Generalized Anxiety Disorder) میں انسان کو روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر معاملے میں ضرورت سے زیادہ فکر رہتی ہے۔ گھر، بچوں، صحت، پیسوں، ملازمت اور مستقبل کے بارے میں مسلسل سوچنا، دل کی دھڑکن تیز ہونا، پٹھوں میں کھنچاؤ، بے خوابی اور ذہن کو پرسکون نہ کر پانا اس کی عام علامات ہیں۔

پینک ڈس آرڈر (Panic Disorder) میں اچانک شدید خوف یا گھبراہٹ کا دورہ پڑتا ہے۔ دل تیزی سے دھڑکتا ہے، سانس رکنے کا احساس ہوتا ہے، پسینہ آتا ہے، چکر محسوس ہوتے ہیں اور بعض اوقات مریض کو لگتا ہے کہ اسے دل کا دورہ پڑنے والا ہے یا وہ مر جائے گا۔ یہ دورے بعض اوقات کسی واضح وجہ کے بغیر بھی آسکتے ہیں۔

سوشل اینزائٹی (Social Anxiety Disorder) میں لوگوں کے سامنے بات کرنے، محفل میں جانے، نئے افراد سے ملنے یا تنقید کا سامنا کرنے کا شدید خوف ہوتا ہے۔ بعض لڑکیاں کلاس میں سوال پوچھنے، تقریر کرنے یا دوسروں کے سامنے کھانا کھانے سے بھی گھبراتی ہیں۔

فوبیا (Specific Phobia) میں کسی خاص چیز یا صورت حال سے غیر معمولی خوف پیدا ہوتا ہے، مثلاً بلندی، اندھیرا، بند جگہ، خون، انجیکشن یا کسی مخصوص جانور کا خوف۔

سیپریشن اینزائٹی (Separation Anxiety) میں کسی قریبی عزیز، والدین یا شریکِ حیات سے دور ہونے کا شدید خوف رہتا ہے۔ یہ مسئلہ بچوں میں بھی ہوسکتا ہے اور بعض بالغ افراد میں بھی پایا جاتا ہے۔

ڈپریشن کی مختلف اقسام: ہر اداسی ڈپریشن نہیں ہوتی

ڈپریشن کی شناخت کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عام اداسی اور طبی ڈپریشن ایک جیسی چیزیں نہیں ہیں۔ کسی عزیز کی وفات، ناکامی، گھریلو پریشانی یا رشتے میں اختلاف کے بعد اداس ہونا ایک قدرتی انسانی ردعمل ہے۔ لیکن جب اداسی طویل ہوجائے، دلچسپی ختم ہوجائے اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو طبی معائنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

میجر ڈپریسیو ڈس آرڈر (Major Depressive Disorder) میں مسلسل اداسی، ناامیدی، دلچسپی کا خاتمہ، نیند اور بھوک میں تبدیلی، تھکاوٹ اور خود کو بے کار سمجھنے جیسی علامات کم از کم دو ہفتے تک موجود رہتی ہیں اور روزمرہ زندگی متاثر کرتی ہیں۔

پرسیسٹنٹ ڈپریسیو ڈس آرڈر (Persistent Depressive Disorder) میں اداسی اور کم مزاجی نسبتاً طویل عرصے تک رہتی ہے، عموماً بالغوں میں کم از کم دو سال۔ بعض خواتین اسے اپنی طبیعت کا حصہ سمجھنے لگتی ہیں، حالانکہ اس کا علاج ممکن ہے۔

سیزنل ایفیکٹو ڈس آرڈر (Seasonal Affective Disorder) یا موسمی ڈپریشن ایک ایسی کیفیت ہے جس میں مخصوص موسم کے ساتھ ڈپریشن کی علامات بار بار ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کی عام قسم سردیوں میں سامنے آتی ہے، جب دن چھوٹے اور قدرتی روشنی کم ہوجاتی ہے۔

پوسٹ پارٹم ڈپریشن (Postpartum Depression) بچے کی پیدائش کے بعد ماں میں پیدا ہونے والا ڈپریشن ہے۔ اس میں ماں کو شدید اداسی، بے چینی، احساسِ جرم، بچے سے جذباتی تعلق قائم کرنے میں دشواری اور روزمرہ کاموں میں دلچسپی کی کمی ہوسکتی ہے۔ یہ عام بیبی بلوز سے مختلف اور زیادہ سنجیدہ کیفیت ہے۔

خواتین میں ماہواری سے پہلے شدید جذباتی اور ذہنی علامات کو پری مینسٹرول ڈسفورک ڈس آرڈر (PMDD) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح سن یاس کے قریب بعض خواتین میں ڈپریشن اور اینزائٹی کی علامات نمایاں ہوسکتی ہیں۔

ایک اہم وضاحت یہ ہے کہ بائی پولر ڈس آرڈر (Bipolar Disorder) میں ڈپریشن کے ساتھ غیر معمولی طور پر بلند موڈ، بہت زیادہ توانائی یا غیر معمولی سرگرمی کے دور بھی آتے ہیں۔ یہ عام ڈپریشن سے مختلف بیماری ہے اور اس کا علاج بھی مختلف ہوسکتا ہے۔

National Institute of Mental Health (NIMH)+2

سردیوں میں اینزائٹی اور ڈپریشن کیوں بڑھ سکتے ہیں؟

سردیوں میں ذہنی کیفیت میں تبدیلی کی ایک اہم وجہ قدرتی روشنی میں کمی ہے۔ سورج کی روشنی جسم کی اندرونی گھڑی (Circadian Rhythm) کو منظم کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ روشنی میں تبدیلی سے نیند اور جاگنے کے نظام اور میلاٹونن اور سیروٹونن جیسے کیمیائی نظام متاثر ہوسکتے ہیں۔

سردیوں میں بعض افراد دیر تک سوتے ہیں، صبح اٹھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، میٹھی اور نشاستہ دار غذاؤں کی طلب بڑھ جاتی ہے اور سماجی سرگرمیوں سے دور رہنے لگتے ہیں۔ یہ علامات خصوصاً ونٹر پیٹرن سیزنل ڈپریشن میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

تاہم ہر شخص کو سردیوں میں ڈپریشن نہیں ہوتا اور نہ ہی موسم کی ہر اداسی کوئی ذہنی بیماری ہے۔ سردیوں کے اثرات کے ساتھ پہلے سے موجود ذہنی مسائل، خاندانی حالات اور جسمانی صحت بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

National Institute of Mental Health (NIMH)+1

پاکستان میں سردیوں کا تجربہ بھی ہر علاقے میں مختلف ہے۔ کراچی میں سردی نسبتاً کم اور دن کی روشنی عموماً زیادہ دستیاب ہوتی ہے، جبکہ اسلام آباد، مری، گلگت بلتستان، کشمیر اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں سردی، دھند اور مختصر دنوں کا اثر زیادہ محسوس ہوسکتا ہے۔ پنجاب کے بعض شہروں میں اسموگ اور فضائی آلودگی بھی باہر نکلنے اور جسمانی سرگرمی کو محدود کرسکتی ہے۔

پاکستانی خواتین کے لیے ایک اور اہم مسئلہ معاشرتی اور گھریلو دباؤ ہے۔ بچوں کی تعلیم، مہنگائی، گھر کے اخراجات، ازدواجی اختلافات، ملازمت، سسرالی تعلقات، سماجی تنہائی اور ذاتی ضروریات کو مسلسل نظر انداز کرنا ذہنی دباؤ میں اضافہ کرسکتا ہے۔ یہ عوامل صرف سردیوں تک محدود نہیں، لیکن موسم کی تبدیلی کے ساتھ ان کے اثرات زیادہ محسوس ہوسکتے ہیں۔

پاکستان میں خواتین اور لڑکیاں زیادہ متاثر کیوں ہوسکتی ہیں؟

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق خواتین میں اینزائٹی اور ڈپریشن مردوں کے مقابلے میں زیادہ عام ہیں۔ اس کی وجوہات میں حیاتیاتی، ہارمونل، نفسیاتی اور سماجی عوامل شامل ہیں۔

World Health Organization+1

پاکستان میں 25 ستمبر 2026 کو BMJ Public Health میں شائع ہونے والے پہلے قومی سطح کے نمائندہ نفسیاتی صحت کے سروے میں 17,773 بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق تقریباً 32.3 فیصد بالغ شرکاء میں کسی نہ کسی قسم کی قابلِ تشخیص ذہنی یا رویے سے متعلق بیماری موجود تھی۔ ذہنی صحت کے مسائل کا تعلق خواتین، 40 سال سے زائد عمر، شہری رہائش، کم تعلیم، کم آمدنی اور گھریلو خاتون یا بے روزگار ہونے سمیت کئی سماجی عوامل سے بھی دیکھا گیا۔

اس تحقیق کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل صرف امیر، غریب، پڑھی لکھی یا ان پڑھ خواتین تک محدود نہیں۔ یہ ہر طبقے میں ہوسکتے ہیں، البتہ حالات اور علاج تک رسائی مختلف ہوسکتی ہے۔

BMJ Public Health

عمر کے لحاظ سے بلوغت اور نوجوانی میں ہارمونز، تعلیمی دباؤ، جسمانی تبدیلیاں، خود اعتمادی اور سماجی قبولیت کے مسائل ذہنی صحت کو متاثر کرسکتے ہیں۔ 20 سے 40 سال کی خواتین میں شادی، حمل، بچوں کی پرورش، ملازمت اور گھریلو ذمہ داریاں اہم عوامل ہوسکتے ہیں۔ 40 سال کے بعد سن یاس، تنہائی، بچوں کا گھر سے دور ہونا، شریکِ حیات کی بیماری یا معاشی عدم تحفظ ذہنی دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔

یہ عمر کی حدود کوئی قطعی اصول نہیں؛ اینزائٹی اور ڈپریشن کسی بھی عمر میں ہوسکتے ہیں۔

کیا بچے بھی سردیوں میں اینزائٹی اور ڈپریشن کا شکار ہوسکتے ہیں؟

جی ہاں، بچے اور نوعمر لڑکے لڑکیاں بھی ان مسائل سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ بچوں میں ڈپریشن ہمیشہ خاموش اداسی کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا۔ بعض بچے چڑچڑے ہوجاتے ہیں، غصہ کرتے ہیں، اسکول جانے سے انکار کرتے ہیں، دوستوں سے دور رہتے ہیں یا پڑھائی میں اچانک دلچسپی کھو دیتے ہیں۔

اینزائٹی کے شکار بچے بار بار والدین سے یقین دہانی مانگ سکتے ہیں، اکیلے سونے سے ڈر سکتے ہیں، امتحان سے پہلے شدید گھبرا سکتے ہیں یا پیٹ درد اور سر درد کی شکایت کرسکتے ہیں۔

والدین کو بچوں کی بات سننی چاہیے، ان کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے اور ہر وقت موبائل یا پڑھائی کو ہی ان کی پریشانی کی وجہ قرار نہیں دینا چاہیے۔ اگر علامات برقرار رہیں اور تعلیم، نیند یا سماجی زندگی متاثر ہو تو بچوں کے ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

World Health Organization+1

اینزائٹی اور ڈپریشن سے بچاؤ اور ذہنی صحت بہتر بنانے کے طریقے

ذہنی صحت کی حفاظت کے لیے سب سے پہلے روزمرہ زندگی میں توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔ سردیوں میں صبح یا دوپہر کے وقت مناسب دھوپ میں کچھ وقت گزاریں، بشرطیکہ موسم اور فضائی معیار مناسب ہو۔ روزانہ چہل قدمی، ہلکی ورزش اور جسمانی سرگرمی دماغی صحت اور نیند کے لیے مفید ہیں۔

غذا میں انڈے، مچھلی، دودھ، دہی، دالیں، سبزیاں، پھل، اخروٹ اور بادام شامل کریں۔ کیفین یعنی چائے، کافی اور انرجی ڈرنکس کا ضرورت سے زیادہ استعمال کم کریں، خصوصاً شام اور رات کے وقت۔ وٹامن ڈی، آئرن یا دیگر سپلیمنٹس صرف ضرورت اور طبی مشورے کے مطابق استعمال کریں۔

نیند کا باقاعدہ معمول بنائیں۔ روزانہ تقریباً سات سے نو گھنٹے کی نیند بالغ افراد کے لیے مناسب ہوتی ہے، جبکہ بچوں اور نوعمر افراد کو عموماً اس سے زیادہ نیند درکار ہوتی ہے۔

اپنے جذبات کو دبانے کے بجائے کسی قابلِ اعتماد فرد سے بات کریں۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنی پسند، آرام، دوستوں اور ذاتی دلچسپیوں کے لیے بھی وقت نکالیں۔ بچوں کے ساتھ روزانہ کچھ وقت گزاریں اور ان کی باتوں کو سنجیدگی سے سنیں۔

اینزائٹی اور ڈپریشن کا علاج کیسے ہوتا ہے؟

اینزائٹی اور ڈپریشن قابلِ علاج مسائل ہیں۔ علاج کا انتخاب علامات کی شدت، بیماری کی قسم، مریض کی عمر اور طبی تاریخ کے مطابق کیا جاتا ہے۔

کاؤنسلنگ اور سائیکوتھراپی (Psychotherapy) میں کاگنیٹو بیہیویئرل تھراپی (CBT) ایک مؤثر طریقہ ہے۔ اس میں مریض کو منفی سوچ، غیر ضروری خوف اور نقصان دہ ذہنی رویوں کو پہچاننے اور تبدیل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

بعض مریضوں کو ڈاکٹر اینٹی ڈپریسنٹ یا اینٹی اینزائٹی ادویات تجویز کرسکتے ہیں۔ یہ ادویات خود سے شروع، بند یا تبدیل نہیں کرنی چاہئیں۔ خاص طور پر حمل، دودھ پلانے اور بچوں کے علاج میں ماہر ڈاکٹر کی نگرانی ضروری ہے۔

موسمی ڈپریشن کے بعض مریضوں میں ڈاکٹر کی نگرانی میں لائٹ تھراپی بھی استعمال کی جاتی ہے۔ اس میں مخصوص روشن لائٹ باکس کے ذریعے روزانہ مقررہ وقت روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ عام گھر کی لائٹ یا دھوپ اس کا لازماً متبادل نہیں۔ بائی پولر ڈس آرڈر کے شبہے میں لائٹ تھراپی بھی خصوصی طبی مشورے کے بغیر شروع نہیں کرنی چاہیے۔

کن علامات میں فوری طبی مدد حاصل کرنی چاہیے؟

اگر کسی خاتون یا بچے کو مسلسل ناامیدی، زندگی سے بے زاری، خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات یا خودکشی کے خیالات آنے لگیں تو اسے معمولی پریشانی نہ سمجھیں۔ فوری طور پر ماہرِ نفسیات یا ایمرجنسی طبی مدد حاصل کریں۔ اگر خود کو نقصان پہنچانے کا فوری خطرہ ہو تو متاثرہ شخص کو اکیلا نہ چھوڑیں اور خطرناک اشیا سے دور محفوظ جگہ پر رکھیں۔

اسی طرح اگر گھبراہٹ کے ساتھ سینے میں درد، شدید سانس کی دشواری یا بے ہوشی ہو تو اسے صرف اینزائٹی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں؛ فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔

آخری بات: ذہنی صحت بھی جسمانی صحت جتنی اہم ہے

اینزائٹی اور ڈپریشن کوئی شرمندگی، کمزوری یا کردار کی خرابی نہیں بلکہ طبی مسائل ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں خواتین اکثر اپنے دکھ اور پریشانی کو چھپاتی رہتی ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ لوگ انہیں کمزور، ناشکری یا غیر معمولی سمجھیں گے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک ماں، بیٹی، بہن، بیوی یا ملازمت پیشہ خاتون کو بھی ذہنی سکون، جذباتی تحفظ اور اپنی صحت پر توجہ دینے کا پورا حق ہے۔

سردیوں میں اگر آپ خود یا اپنے گھر کے کسی فرد میں مسلسل اداسی، بے چینی، نیند کی خرابی یا رویے میں غیر معمولی تبدیلی محسوس کریں تو اسے موسم کا معمولی اثر سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ بروقت پہچان، گھر والوں کا تعاون اور درست طبی رہنمائی زندگی کو دوبارہ خوش گوار بنا سکتی ہے۔

یاد رکھیے، صحت مند ذہن ہی صحت مند خاندان اور خوش حال معاشرے کی بنیاد ہے۔

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں