خط بھجوانے کے لیے پتا۔ خواتین ڈائجسٹ۔ 37۔ اردو بازار کراچی۔
ناہید اسماعیل .کراچی
اپنے پیارے رسالے کی سالگرہ ہم سب کو مبارک ۔ آپ سب کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مجھے الفاظ نہیں ملتے۔ کام بہت سے ادارے کرتے ہیں، یقینا محنت بھی کرتے ہوں گے لیکن محنت کے ساتھ اپنے قارئین کو جو محبت، انسیت ، خلوص و اپنائیت، اور عزت و قدر اس ادارے نے بخشی ،وہ آپ ہی کا طرہ امتیاز ہے جس طرح آپ لوگ ہم قارئین کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں وہ میں نے کہیں نہیں دیکھی۔ سچ کہوں جب آپ ہمارے تبصرے کی تعریف کرتی ہیں مجھے ڈبل خوشی ہوتی ہے ۔
ایک تو یہ کہ میرا تبصرہ آپ نے پسند کیا اور دوسری اس سے بھی بڑی خوشی یہ کہ یہ میری کامیابی نہیں بلکہ یہ آپ کی کامیابی ہے کیونکہ ہمیں تو نقطوں اور حرفوں کو جوڑنے کا فن آپ نے سکھایا سوچ اور خیالات کو الفاظ کا پیراہن دینا آپ نے سکھایا اپنے بات کہنے اور اپنے جذبات و احساسات بیان کرنے کا ایک بہترین اور مضبوط پلیٹ فارم آپ نے مہیا کیا۔
یہ واحد ادارہ ہے جس نے بولڈ موضوعات پر بھی تحریروں کا معیار ایسا اعلا رکھا کہ کسی ایک بھی تحریر کے ستھرے پن پر کسی کو سوال اٹھانے کی معمولی سی بھی گنجائش نہیں مل سکی۔
تحریروں میں چھپی اصلاح و اسباق اور ایسی تربیت جس نے نجانے کتنے ڈوبتوں کو سہارا دیا، جانے کتنوں کے ریزہ ریزہ ہوتے حوصلے چٹان بنائے نجانے کتنے درست فیصلے کروا کے زندگی سہل بنائی۔ نہ جانے کتنوں کی تاریک راہیں روشن کیں۔ ہر مشکل میں کوئی نہ کوئی تحریر مشعل راہ بنی کچھ نہ کچھ ایسا یاد آیا کہ دل سنبھل گیا ٹھہر گیا۔ اپنی اقدارپر کاربند رہنا سیکھا۔رشتوں کی اہمیت ،انہیں جوڑنے کا ہنر یہیں سے سیکھا زندگی کے سب ہی رخ۔ انسان کی نفسیات ،اس کے کردار و عادات کے سبھی پہلوئوں سے ہمیں آپ ہی نے روشناس کرایا۔
ایک طرف دینی معلومات فراہم کر کے ہمارے باطن سنوارنے کی سعی کی تو دوسری طرف ظاہر سنوارنا بھی آپ نے سکھایا ۔ ہم نے بہترین پکوان ، سلائی کڑھائی ، گھر یلومعاملات میں سلیقہ مندی اور سگھڑپن کی تربیت بھی اس ادارے کے رسالوں سے حاصل کی ۔دنیا بھر کے ملکوں اور شہروں کی سیاحت اور معلومات بھی ہمیں یہیں سے ملیں ۔
اس ادارے کے سربراہان اور تمام اراکین کے لیے میرے جو احساس اور جذبات ہیں، میرے دل سے جو دعائیں آپ سب کے لیے نکلتی ہیں، انہیں الفاظ میں بیان کرنے سے میں مکمل طور پر قاصر ہوں اور اوپر لکھے یہ چند الفاظ بے حد ناکافی ہیں۔ میں آپ کی کتنی احسان مند اور ممنون ہوں بیان نہیں کر سکتی۔
پیاری آپی ادارے کے بارے میں جتنا لکھا، سب شامل کیجئے گا۔
ابتہال کی قسط اس ماہ غائب ہے ارے جناب ابھی تو ابتدا ہے ابھی سے چھٹیاں نہیں دے سکتے ہم۔ بازی کدہ میں بڑی تیزی سے بازیاں پلٹتی نظر آ رہی ہیں سنیعہ کی تحریر کی تیز رفتاری مجھے بہت پسند ہے دیکھیں سنیعہ راحین کے مرنے کا آپ کو کوئی ثواب نہیں ملے گا البتہ اس کے بچ جانے پر ہم معصوموں کی دعائیں ضرور ملیں گی سو دعائیں حاصل کرنے پر غور کریں پلیز۔
ہم پر کیا الزام سجے گا اف کتنا خوب صورت اور موزوں ترین عنوان ہے اس کہانی کی دلکشی نے دنیا و مافیہا سے بے خبر کیا ، مسفرہ اور اکثم کو پڑھتے ہوئے ہم ان دونوں کرداروں کا موازنہ کرتے رہے کہ کون زیادہ بے غرض ، بے لوث اور حساس تھا ؟ اس خوب صورت تحریر کا اینڈ بھی اسی کی طرح خوب صورت تھا۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے بچپن میں بے شمار کہانیوں کا آغاز اس جملے سے ہوا کرتا تھا ، عنوان پہلی بار دیکھا دلچسپ ہونے کے ساتھ خوب صورت بھی لگا ۔ کہانی کہتے کہتے فرح بخاری بڑے غیر محسوس انداز میں سمجھا گئیں کہ ہمارے اطراف لوگ خواہ اپنے ہوں یا غیر ، کبھی کبھار غلط نہیں بھی ہوتے بس یوں ہوتا ہے کچھ چیزوں کچھ باتوں اور کچھ کاموں کا وقت ہوتا ہے جسے ہم سمجھ نہیں پاتے ۔
تم میری دنیا ہو عنبرین ابدال کی تحریر بہت اچھی لگی اپنوں کی بے حسی ، اور لالچ کی داستان۔ طاہرہ بیگم کی موت نے کہانی کا اختتام افسردہ سا محسوس کروایا۔
ہمیشہ بامقصد لکھنے والے مصنفین کی لسٹ میں قانتہ رابعہ کا نام سر فہرست ہے۔ ان کی تحریر پڑھتے پڑھتے ایک دم کچھ کلک سا ہوتا ہے ارے یہ کیا سمجھا اور سکھا دیا۔
ہاجرہ ریحان بہت خوب ۔ تعلق کی رسوائی میں باجی کی بد دیانتی اس پر ڈھٹائی دنگ کر گئی۔ تبسم نے انہیں زبردست آئینہ دکھایا۔
عقیلہ ہاشمی کا افسانہ اچھا لگا لیکن ہمیں ساس ہی سیر بھی لگیں اور سوا سیر بھی۔ معافیہ شہباز نے اپنی تحریر میں خوب موٹیویٹ کیا ۔ بہنیںجب بھائیوں سے اپنا شرعی حصہ مانگ لیں تو یوں سمجھیں رشتوں میں وہ دراڑ پڑتی ہے جسے کوئی پاٹ نہیں سکتا۔
اس تحریر میں مجھے جو بات سب سے اچھی لگی وہ نوشابہ کا اپنی ماں کو ساتھ رکھنے کا فیصلہ تھا۔ راشدہ سے طویل لکھنے کی فرمائش ہے بتائیں نا کب پوری ہو گی۔
ریحان ناظم سے باتیں اچھی لگیں مگر موصوف نے اپنی بیگم کا نام تک نہ لیا جبکہ بیگم ان سے زیادہ مشہور و معروف ہیں۔ عنبرین ابدال کے پورے انٹرویو میں ایک بات بہت نمایاں تھی وہ ہے ان کی سادہ مزاجی جو ان کی شخصیت کو اور بھی متاثر کن بناتی ہے۔
روٹیاں اچھی بنانے والی بات پر مجھے بے اختیار رخ چودھری یاد آئیں۔ انہوں نے بھی اپنے انٹرویومیں بتایا تھا کہ وہ روٹی اچھی بنا لیتی ہیں۔ سمیرا سلیم کا باورچی خانہ اچھا لگا۔
زرینہ خانم کی ڈائری پسند آئی اس ماہ ڈائری محض ایک صفحے پر تھی جبکہ شاعری سے لگائو کے سبب ہمیں زیادہ صفحات کی خواہش ہوتی ہے رنگا رنگ پھول تمام ہی اچھا لگا۔ بیاض اس ماہ غائب ہے۔
باصرسلطان کی غزل اور خالد معین کی نظم بہت خوب ہیں۔ بیوٹی بکس میں ہر ماہ کی طرح اس دفعہ بھی مفید مشورے دیے گئے خصوصاً وزن کم کرنے کا نسخہ جو ہم نے اپنی ایک چہیتی کو لازمی فارورڈ کرنا ہے۔ نفسیاتی الجھنیں میں بہنوں کے مسائل کچھ حیران کر گئے دوسری بہن کا مسئلہ مکمل وقوفی بھرا ہے البتہ پہلی بہن کی شادی کا مسئلہ اہم ضرور ہے لیکن اس سے تنگ آ کر وہ جو کر رہی ہیں اس پر حیرانی ہوئی۔ بہرحال عدنان بھیا نے مناسب ترین مشوروں سے نوازا۔ اب عمل کر لیں تو ان کے ہی حق میں بھلا ہو گا۔
بہنوں کی محفل میں سب سے پہلے آپ کا جواب پڑھا آپ کی حوصلہ افزائی پر دل سے ممنون ہوں ،آپی !سچ میں جب جب کچھ اچھا تبصرہ کیا وہ لفظ لفظ آپ لوگوں سے سیکھا ہوا ہے۔فرخندہ سلیم نے کیا خوب تبصرہ کیااور تمام ماڈلز کی کیا ہی درگت بناتی ہیں صدف ناصر نے بڑا زبردست تبصرہ کیا اکثر تحریروں پر میرے بھی وہی خیالات ہیں جو ان کے ہیں۔ لائبہ فواد نے بہت خوب صورت خط لکھا کاش میں بھی ایسا لکھ سکوں۔پلیز خطوط کی تعداد اور صفحات بڑھانے پر غور کریں۔ آپی آپ لوگوں نے رسالے کی قیمت بڑھانے کی اطلاع اتنی انکساری سے دی کہ میں آپ لوگوں کی سادگی پر بے ساختہ مسکرا دی۔ کیونکہ باقی تمام اداروں سے ابھی بھی قیمت کم ہی ہے۔ یقین کریں ہمارے رسالے قیمت میں سب سے کم اور معیار میں سب سے اعلا بلکہ اعلا ترین ہیں۔ اور یہ کوئی لفاظی نہیں بلکہ حقیقت ہے۔
ج: پیاری ناہید !ہمیں اچھا نہیں لگتا کہ اپنے پرچوں میں اپنی تعریف کے پل باندھے جائیں ۔ اس لیے ہم تعریف کا حصہ ایڈٹ کر دیتے ہیں لیکن آپ نے اتنے خوب صورت الفاظ میں تعریف کی کہ پڑھ کر پلکیں نم اور دل خوش ہو گیا۔ اور ایک جملہ بھی ایڈٹ کرنے کو جی نہیں چاہا ۔ آپ نے ہماری کوششوں کو سراہا خوشی کی بات ہے لیکن آپ نے کہانیوں میں چھپے پیغام کو سمجھا۔ ہمارے مقصد کو جانا یہ ہمارے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔
فرخندہ سلیم . ملتان
خواتین ڈائجسٹ کا سالگرہ نمبر اپنی روایتی دلکشی اور رعنائیوں کے ساتھ ہمارے موٹے اور گورے ہاتھوں میں ہے ۔
جہاں تک سلسلوں کی بات ہے تو انفرادی اور اجتماعی طور پر تمام سلسلے ہمیشہ کی طرح دلچسپ تھے۔ اسی طرح خطوط کے سلسلے میں اپنا طویل سالانہ تبصرہ دیکھ کر بہت اچھا لگا جیسے کہا جائے ’’جا جی لے زندگی ۔‘‘ اس بار میری دلی خواہش تھی کہ تمام قارئین کو یاد رکھوں جس کے لیے میں نے خوب محنت کی، پورے بارہ مہینوں کے شماروں کا مطالعہ کیا اور ایک ایک نام نوٹ کیا تاکہ کسی کو یہ شکایت نہ ہووے کہ نظر انداز کیا گیا ہے۔
اس بار سالگرہ کی خوشی میں تین مکمل ناول شامل کیے گئے تھے اور یہی اس شمارے کی پسندیدگی کی بڑی وجہ بنی۔ شاہین رشید نے عنبرین ابدال کا جو انٹرویو لیا وہ کافی دلچسپ تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی تحریریں پڑھ کر گمان ہوتا تھا کہ وہ کافی تجربہ کار اور طویل عرصے سے شادی شدہ خاتون ہوں گی لیکن انٹرویو پڑھ کر ان کی کم عمری کا اندازہ ہوا۔ اگرچہ انٹرویو میں تھوڑا بچکانہ پن محسوس ہوا لیکن ان کی شخصیت کے بارے میں جان کر اچھا لگا۔
حسنی حسین کا قسط وار ناول اس بار شمارے میں شامل نہیں تھا جس کی کمی محسوس ہوئی۔ یہ ناول اپنی انفرادیت کی وجہ سے میرا پسندیدہ ترین ناول بنتا جا رہا ہے ۔
اگرافسانوں کی بات کی جائے تو مجموعی طور پر تمام ہی افسانے بہترین، سبق آموز اور دلچسپ تھے۔ ہر افسانہ اپنے اندر ایک خاص پیغام لیے ہوئے تھا جو ہماری معاشرتی اصلاح کے لیے ضروری ہے۔
سنیعہ عمیر کی کہانیاں مجھے پہلے بھی بہت متاثر کرتی رہی ہیں اور اس بار کی تحریر بھی اپنی مثال آپ ہے۔ سنیعہ عمیرنے جس طرح فواد اور راحین کے کرداروں کی تشکیل کی ہے اور خاص طور پر بیماری کے حوالے سے جوپلاٹ تیار کیا ہے ، وہ قابل ستائش ہے۔
عنبرین ابدال کا ناول ایک عام سی فیملی کہانی نہیں بلکہ جذبات سے بھری ہوئی کہانی تھی جو دل کو چھو گئی۔ کہانی ایک میٹھے اور سکون والے انجام پر ختم ہوتی ہے۔
’’ہم پر کیا الزام سجے گا‘‘ ایک جذباتی اور سوچنے پر مجبور کرنے والی کہانی ہے جس میں رشتوں ، فیصلوں اور احساس جرم کو بہت خوب صورتی سے دکھایا گیا ہے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک خوب صورت اور ہلکی پھلکی رومانوی کہانی جس میں قاری کو لفظوں کے ذریعے یونان کے شہر سینٹورینی کی سیر کرائی گئی۔ منظر نگاری اتنی دلکش ہے کہ ہر منظر آنکھوں کے سامنے گھومتا محسوس ہوا ۔ فرح بخاری نے مختلف مناظر اور جذبات کو بہت خوب صورتی سے بیان کیا ہے
ج:پیاری فرخندہ ! اس بار آپ تبصرہ میں قدرے سنجیدہ اور زیادہ سمجھ دار نظر آئیں ۔(اب یہ نہ پوچھ لیجئے گا کہ پہلے سمجھ دار نہیں تھی ؟ تو ہم نے پہلے ہی بتا دیا زیادہ سمجھ دار .زور کس پر ہوا زیادہ پر۔)
رائے دہی کے لیے شکریہ! آپ کی ہمت کو داد دیتے ہیں کہ اتنی جلدی دونوں شمارے پڑھ کر طویل خط لکھے۔
صدف ناصر .گوجرانوالہ
اپریل کا سالگرہ نمبر خوب صورت سے سرورق کے ساتھ اچھا لگ رہا ہے۔
’’کہنی سننی‘‘ بہت ہی پسند آئی۔ کیونکہ اس میں ہم قارئین کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ (ہاہاہا)
’’کرن کرن روشنی ‘‘ تہہ دل سے شکریہ ۔ نفل نماز جگہ بدل کر پڑھنے کے متعلق معلومات سب کو پہنچائی۔
’’فقیر بن کر‘‘ سدا بہار شاعری ، ریحان ناظم کو منہ چڑا کر آگے نکل گئے۔ ہاہاہا احمد علی اکبر اور نعمان اعجاز سے ملاقات کا انتظار ہے۔ سالگرہ سروے اچھا رہا۔
فرخندہ سلیم کا پورے سال کے شماروں پرتبصرہ خوب مزیدار رہا۔ ناہید اسماعیل کی طویل اور سلمیٰ مسرت کی مختصر شرکت بھی اچھی لگی۔ علشمہ ، ثروت اور لائبہ فواد کی پہلی پہلی آمد بھی خوشگوار رہی۔ بہت سی قاری بہنیں چپ کی بکل مارے بیٹھی ہیں۔ کاش واپس آجائیں۔ رضوانہ ، ریحانہ وقاص ، ریحانہ چوہدری ، صائمہ گل ، گوشی سب ہی مصروفیات کو پیاری ہو گئیں ۔
’’بازی کدہ ‘‘کی طرف بے چینی سے بڑھے۔ اف ! کیا کیا بازیاں لگا دیں ’’فواد‘‘ صاحب نے راحین سے شادی بھی اور باقی سب مراعات بھی حاصل ہو گئیں۔
’’ہم پر کیا الزام‘‘ مسفرہ اور اکشم کے ساتھ سبک رو سا بہت اچھا لگا۔ مسفرہ حق پر تھی خود کے لیے اچھا چاہنا بری بات تو نہیں ۔
مزہ تو اسٹوری میں تب آیا جب مسفرہ نے ناظمہ کو اتنی کھری کھری سنادیں کہ پھر کبھی وہ بول نہ پاتی مگر ڈھیٹ عورت شادی پر بھی بولنے سے باز نہ آئی۔
’’ایک دفعہ کا ذکر ہے‘‘فرح بخاری نے بڑی فنٹاسٹک تحریر اسٹارٹ کی۔ یونان ، فیری کا سفر آئی لینڈ بھنور حتی کہ گہرا نیلا سمندر سبھی کچھ بذات خود محسوس کیا سب۔ مگر برا تو تب لگا جب لپکتے جھپکتے ہی تحریر اختتام پذیر ہو گئی۔ ہنسی خوشی رہنا ہی تھا پر کچھ حمزہ کے بارے میں تو بتاتیں لے کر ہمیں دونوں کے میسجز پر ہی ٹرخا دیا۔ اینڈ بالکل ادھورا رہا۔ افسانوں کی طرف بڑھے تو ’’کھلی آنکھ کا خواب ‘‘ معافیہ شہباز سب سے بہترین افسانہ لگا۔
عقیلہ ہاشمی کا ’’سواسیر‘‘دوسرے نمبر پر رہا۔ تحریر بہت ہی دلچسپ اور سبق آموز بھی ہے۔ اکلوتی نند کی آمد پر تینوں بھابھیوں کی کچن کانفرنس مزا دے گئی۔ پر غلط نہیں تھی۔ ہم بھی اکلوتی نند کے یونہی ستائے ہوئے ہیں۔
’’آواز پلٹ کر آتی ہے‘‘ بہت اچھا لکھا قانتہ رابعہ نے ہمیشہ کی طرح۔ ’’لفظوں کی مار‘‘ نے تھوڑا الجھا دیا۔ ناہید اسماعیل کے تبصرے میں الجھن کا سرا ملے گا۔
’’تعلق کی رسوائی ‘‘ سب سے مزے کے اینڈ کے ساتھ ملاحظہ ہوئی۔ ہاجرہ ریحان ویل ڈن آپ کی تحریریں ہمیشہ دوبار پڑھ کر سمجھ میں آتی ہیں ۔ یہ تحریر سادہ اور آسان فہم تھی۔ (ہاہاہا) آپ پیچیدہ لکھتی ہیں۔
مستقل سلسلے شمارے کی رونق ہیں۔ ’’باصر سلطان کاظمی‘‘ کی غزل دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی۔ ناصر کاظمی بہت یاد آئے۔
دل تو میرا اداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
’’خاتون کی ڈائری‘‘ پڑھی عالیہ خان اور حنا گل کا انتخاب بہت بہت اچھا لگا اور اداس بھی ،اقبال عظیم کی یہ شاندار غزل پہلی دفعہ پوری پڑھنے کو ملی ہے۔ ورنہ ہمیشہ ایک آدھ شعر۔
’’موسم کے پکوان ‘‘ کی قبولی بریانی اچھی نہیں لگی۔ پنجاب میں یہ چنے کی دال کی کھچڑی کہلاتی ہے۔ بریانی تو بس بیف ، چکن اور مٹن کی ہی بھاتی ہے۔
’’نفسیاتی ازدواجی الجھنیں‘‘ پڑھ کر ہنسی بھی آ گئی ، بے وقوف بہنوں پر اور دکھ بھی ہوا۔ البتہ عدنان بھائی کو شاباش دی ۔ بہت اچھے مشورے اور جوابات دیئے ہیں۔
ج: پیاری صدف !اس بار دونوں شماروں میں آپ کاتبصرہ شامل ہے ۔اتنی جلدی پرچے پڑھ کر دونوں شماروں میں تفصیلی تبصرہ کرنا واقعی کمال ہے ، بہت شکریہ ۔
سعدیہ . جہلم شہر
میں ساتویں جماعت سے آپ کا پرچہ پڑھ رہی ہوں ،اب میرا بیٹا بھی ساتویں میں ہے میرے ابو مرحوم نے کبھی بھی ہمیں خواتین ڈائجسٹ پڑھنے سے منع نہیں کیا تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا پر ایف اے سے آگے نہ پڑھ سکی۔
شادی کے بعد میرے شوہر نے بھی خواتین پڑھنے سے منع نہیں کیا بلکہ مجھے خود لا کر دیتے تھے ۔ شادی کے آٹھ سال بعد اچانک ان کا انتقال ہو گیا۔ اگر خواتین نہ ہوتا تو میں پاگل ہو جاتی، آپ جانتی ہیں کہ شوہر کے بعد ایک بیوہ کا کیا حشر ہوتا ہے مگر اللہ نے ہمت دی ہے، اب ان کو گئے چھ سال ہو گئے ہیں۔ آپ سب میرے لیے دعا کرنا کہ اللہ میرے بچوں کو نیک کرے ۔ان کو اچھا انسان بنائے۔ آمین
پرچے کی کیا ہی تعریف کروں ہر تحریر دل کے قریب ہوتی ہے۔ ہر کہانی میں سبق ہوتا ہے۔
ابتہال کی تو کیا ہی بات ہے۔ بازی کدہ بھی بہت اچھا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ خلوص اور پیسہ میں سے کون جیتتا ہے۔
احادیث کی روشنی میں ہمارے لیے بہت اچھا راستہ ہے۔ اگر ان پر سب عمل کر لیں تو دنیا کے سب کام اچھے ہوں۔ نفسیاتی الجھنوں میں عدنان بھائی کے مشورے ہمیشہ اچھے ہوتے ہیں۔
ج: عزیز بہن !شادی کے صرف آٹھ سال بعد بیوگی بلاشبہ بہت بڑا صدمہ ہے ۔اللہ تعالیٰ آپ کو صبر دے اور آپ کے بچوں کو دین اور دنیا کی تمام نعمتوں سے سرفراز کرے۔ آمین
آپ خواتین ڈائجسٹ کی پرانی قاری ہیں یہ جان کر دلی مسرت ہوئی ۔ خواتین ڈائجسٹ کے قارئین آج بھی اس سے رشتہ استواررکھے ہوئے ہیں۔ بہت شکریہ ۔ اب باقاعدگی سے شرکت کرتی رہیے گا۔
صائمہ علی نے اسلام آباد سے لکھا ہے
بازی کدہ اچھی رفتار سے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کسی کسی جگہ کچھ بو ریت محسوس ہوئی مگر ’’اوور آل ‘‘ خوب صورت ناول ہے۔ راحین کے والد کا کردار کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کبھی ان میں ایک ولن کی جھلک آتی ہے کبھی انتہائی مہربان انسان کی۔ چلیں آخری قسط میں پتا چل ہی جائے گا۔
سواسیر اور تعلق کی رسوائی دونوں ہی گھریلو کہانیاں پسند آئیں۔ مگر سب سے خوب صورت تحریر معافیہ شہبازکی کھلی آنکھ کا خواب تھی یہ ایک پر اثراور حوصلہ دینے والی تحریر تھی ۔ مکمل ناول میں مجھے تو فرح بخاری کا ناول ایک دفعہ کا ذکر ہے اچھا لگا۔
پوچھنا یہ تھا کہ ایک کہانی بھیجی تھی اماں کا گڈا جو آپ نے کہا تھا کہ قابل اشاعت ہے۔
ج: پیاری صائمہ !کہانیوں کی اشاعت فوری نہیں ہوتی ۔ تھوڑا وقت لگتا ہے۔اس ماہ آپ کی کہانی شامل ہے۔ آپ کی کہانی اماں کا گڈا آئندہ ماہ شامل ہو گی۔ دوسری کہانیاں ابھی پڑھیں ۔
نہیں خواتین ڈائجسٹ آپ کو پسند آیا تہہ دل سے شکریہ ۔
مریم لشکری . کراچی
اپریل کا شمارہ سالگرہ نمبر تھا اور ماشائ اللہ سے پرفیکٹ تھا۔
کہنی سننی میںقیمت کا اضافہ تھا جو کہ بالکل جائز ہے اس کمر توڑ مہنگائی میں۔ ستاروں کی رہگزر پر سروے کے سوالات پڑھ کے وہ وقت یاد آیا جب ہم نے اماں سے چھپ کے چھٹی جماعت میں خواتین ڈائجسٹ، شعاع اور کرن پڑھنا شروع کیا تھا۔
سب قارئین کے جوابات دلچسپ تھے مسرت حسن اور فرخندہ سلیم کے جوابات زیادہ پسند آئے۔
عنبرین ابدال سے ملاقات بہت پسند آئی۔ مصنفین سے ملاقات بہترین سلسلہ ہے۔ ہمارے نام میں فرخندہ سلیم کا تبصرہ زبردست تھا اور آپ نے جو سب قاری بہنوں کے نام میں ہمارا نام مریم لاشاری لکھا جب کہ ہم مریم لشکری ہیں۔
سنیعہ عمیر کا بازی کدہ بہت پسند آ رہا ہے فواد کا کردار اتنے نا مساعدحالات میں مثبت سوچتا ہے ۔
مکمل ناول میں آسیہ رئیس نے بہت اچھا لکھا ناظمہ جیسے لوگ دنیا میں بھرے پڑے ہیں اکثم اور مسفرہ جیسے لوگ تو آٹے میں نمک کی طرح ہیں۔
مگر کوئی اپنا جان سے پیارا لا پتا ہو جائے پھر انسان حویز اور طاہرہ بیگم کی طرح ساری زندگی اذیت میں گزارتے ہیں اور حویز اور طاہرہ بیگم نے آخر میں تکلیف دہ انتظار کے بعد اپنے عزیز رشتوں کے گھنائونے روپ بھی دیکھ لیے۔
فرح بخاری کا ناول پڑھنے میں بہت مزہ آیا ۔ فرح بخاری زبردست منظر نگاری کرتی ہیں۔ افسانے بھی سارے پسند آئے مگر معافیہ شہباز کا ’’کھلی آنکھوں کا خواب‘‘ بازی لے گیا۔
ج: پیاری مریم !سالگرہ نمبر آپ کو پسند آیا یہ جان کر خوشی ہوئی ۔ آپ کے افسانے ابھی پڑھے نہیں گئے۔
ایلف ملک نے سیالکوٹ سے لکھا ہے
میں اسکول کے وقت سے ایک خاموش قاری ہوں لیکن آج میری بات کرنے کی وجہ میری لکھی ہوئی ایک کہانی ہے۔ کہانی کے طویل ہونے کے باعث میں بھیجنے میں ہچکچاہت کا شکار ہوں۔
ج: پیاری ایلف! آپ نے کہانی لکھ لی ہے تو ہمت کر کے بھجوا بھی دیں اگر اچھی کہانی ہے تو ضرور شائع ہو گی۔ ہمارے ہاں صفحات کی قید نہیں۔ کم ہوں یا زیادہ کہانی اچھی ہونا شرط ہے ۔
نصرت جبیں . خوشاب
اس مرتبہ کا خواتین کا شمارہ چنے اور گندم کی فصل کی کٹائی کے موقع پر موصول ہوا اگرچہ ہم خواتین پہلے دور کی طرح کٹائی میں شامل نہیں ہوتیں لیکن ایک طرح سے اسی کا حصہ بن جاتی ہیں کیونکہ کٹائی کرنے والے مزدوروں کا کھانا بنانا ، چائے تیار کرنا اور ساتھ ٹھنڈی ٹھار لسی تیار کرنا بھی گھر کی خواتین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سوان تھکن کے دنوں میں ماہنامہ خواتین کی آمد نے کام کا بوجھ محسوس نہیں ہونے دیا۔
اس مرتبہ ہمارے نام میں فرخندہ سلیم سال بھر میں لکھنے والی بہنوں کو ایک چھت تلے یوں اکٹھا کرنے میں کامیاب رہیں کہ پہلی مرتبہ مجھے اپنے آس پاس رائٹر کھڑی نظر آئیں اور اتنی گہرائی اور باریک بینی پر وہ واقعی داد کی مستحق ہیں۔
افسانوں میں آواز پلٹ کر آتی ہے میں شبانہ نا جانے کیوں گائوں کے ماحول سے بیزار نظر آئیں بھئی گائوں کا ماحول تو پرسکون اور مزے والا ہوتا ہے میں جب بھی اپنے گائوں کی گلیوں سے گزروں تو رشتوں کے ہجوم میں گھر جاتی ہوں۔
میری بہن ، دھی ، پھپھو ، خالا ، آپی ، باجی ، مامی اور نہ جانے کتنے راہ چلتے لوگ اس محبت بھرے انداز سے حال پوچھتے ہیں کہ اپنے تھلوچی ہونے پر فخر ہوتا ہے اور سوچتی ہوں کہ ہم دیہاتی لوگ ابھی بھی ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں رشتوں کا تقدس قائم ہے۔ حصول علم کے لیے میں مختلف شہروں میں رہی تو وہاں پر محبت اور پیار کی ان سوغاتوں سے فیض یاب ہونے کا موقع کم ہی ملا۔
’’ایک دفعہ کا ذکر ہے‘‘ میں فرح بخاری نے فیری کا جو ذکر کیا اور اس کے اندر جو منظر کشی کی وہ واقعی دلچسپی سے بھرپور تھی آخر آٹھ ماہ کی خاموشی سلینہ اور حمزہ کو ملانے میں کامیاب ہو گئی۔
’’کھلی آنکھ کے خواب ‘‘سے رائٹر نے نوشابہ کو بے چاری کی چھاپ سے کامیابی کے ساتھ نکالا ’’تم میری دنیا ہو ‘‘ عنبرین ابدال کا ناول بہترین تھا۔ ’’ستاروں کی راہ گزر‘‘ پر مشتمل سروے ایک اچھا سلسلہ ہے مگر اس میں بعض بہنوں کے سروے بہت زیادہ طویل شائع کیے جاتے ہیں۔
ج: پیاری نصرت !آپ لوگوں کی محنت و مشقت قابل قدر ہی نہیں قابل داد بھی ہے ۔ اتنی گرمی میں فصل کاٹنا شدید مشقت طلب کام ہے لیکن آپ خواتین کا کام بھی کچھ کم نہیں ہے۔ اتنے سارے لوگوں کے لیے چائے ، کھانا ، لسی تیار کرنا ۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو سلامت رکھے۔ (آمین)
اتنی مصروفیت سے وقت نکال کر خط لکھا۔ بہت شکریہ ۔
رضوانہ فاروقی. حافظ آباد
خواتین باقاعدگی سے پڑھتی ہوں۔ تو بہت مزہ آتا ہے کہ ہر کوئی اپنی دلچسپیاں اور واقعات شیئر کرتی ہیں۔ تو میرا بھی جی چاہا کہ آپ کی اس دلچسپ محفل میں شرکت کروں۔
بچپن سے مطالعہ کی عادت والدین سے ملی کہ میرے والد جرنلسٹ تھے اور والدہ ادیبہ تھیں بچپن میں ایک دو مرتبہ تعلیم و تربیت میں خط اور کہانی لکھی۔ جو کہ چھپی بھی تھی۔ مگر اس کے بعد تعلیمی سرگرمیاں اور پتا نہیں کیا کیا مصروفیات تھیں کہ نہ لکھ سکی۔
والدہ کلاسک ادب سے تعلق رکھتی تھیں مگر میرے والد کی وفات کے بعد جب وہ جاب میں آئیں۔ تو پھر سب چھوٹ گیا۔ یاد رہا تو صرف اپنے بچوں کی پرورش اور ان کی تعلیم و تربیت۔
زندگی کی کہانیاں تو چلتی رہیں گی۔ مگر آج میں اتنی خوش تھی اور چاہاکہ آپ سے دل کا حال بیان کروں ۔ شرکت کا موقع مل گیا۔ تو ان شائ اللہ گوشی جمال کی طرح لکھا کروں گی۔ میں ان کے خطوط پڑھ کر ہی متاثرہوئی ہوں۔ اور مجھے لگا کہ لکھنا تو آسان ہے۔ بس پہلا قدم اٹھانا چاہیے اور میرا یہ پہلا قدم میری پہلی پوتی ’’مارب ‘‘ کی وجہ سے ہے۔ کہ اس نے ساڑھے تین سال کی عمر میں اسکول جانا شروع کیا ہے۔
میرا بیٹا ایئرفورس میں ہے۔ اور آج کل ملیر کینٹ میں پوسٹڈ ہے ۔ اور وہیں پی اے ایف کے اسکول میں جانا شروع کیا ہے۔
خواتین اور شعاع سے تعلق 1976سے ہے۔ کہ جب یہ شائع ہونا شروع ہوا تھا۔ وہ دن اور آج کا دن یہ تعلق نہیں ٹوٹا۔ہم تینوں بہنیں پڑھتی ہیںابھی بھی۔ چاہے پورا ماہ لگ جائے۔
نویں جماعت سے پڑھنا شروع کیا تو گھر سے کوئی ڈانٹ نہیں پڑی بلکہ حوصلہ افزائی ہی ہوئی تھی۔ ہاں یہ ضرور تھا۔ کہ والد صاحب نسیم حجازی کے ناول پڑھنے کو کہتے تھے مگر امی کی طرف سے دوسرے ناول پڑھنے کی بھی اجازت تھی۔
فروری کے شمارے میں قانتہ رابعہ صاحبہ نے جو ناول پہ تبصرہ لکھا۔ تو بہت متاثر ہوئی ہوں ’’چار آدمی ‘‘ تو فوراً آرڈر کرنے کا سوچا۔ اور اپنی بھانجی سے کروا بھی لیا۔ نیا سلسلہ وار ناول ’’ابتہال ‘‘ بہت دلچسپ ہے اور بہت مدت کے بعد ایسا ہوا کہ میں نے ایک نشست میں پوری قسط پڑھ لی۔ اور بہت خوش ہوئی۔ آسیہ رئیس خان کا جب پتا چلا کہ وہ انڈیا سے شرکت کرتی ہیں۔ تو سمجھ میں آیا کہ ان کی تحریر میں ماحول کا بہت اثر ہے۔
ہمارے شہر میں اکثر رسالہ دس تاریخ تک ملتا ہے۔ تو ہر بار کسی نہ کسی سلسلے میں شامل ہونے کو جی چاہتا ہے۔ مگر
’’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ‘‘
پہلا خط بھی طویل ہوتا جا رہا ہے۔ تو اپنا تعارف کرواتی چلوں۔ پنجاب کے شہر حافظ آباد سے تعلق ہے۔ جو کہ سٹی آف رائس ہے۔ ایم اے اردو کیا ہے۔ اور ٹیچر رہی ہوں ۔اب دو سال سے ریٹائر ڈ زندگی گزار رہی ہوں۔ ڈائری کی حد تک لکھنے لکھانے کا شوق آج بھی رکھتی ہوں۔
ج: پیاری رضوانہ !کراچی آئیں توہم سے ضرور ملیں ۔ہمیں آپ سے مل کر خوشی ہو گی۔ ہمارے پرچوں کی ابتدا سے آپ ہمارے ساتھ ہیں اور آپ کا یہ تعلق آج بھی برقرار ہے ،ہمارے لیے یہ بات بہت قابل قدر ہے۔ آپ جیسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہے کہ ہم یہ چراغ روشن رکھے ہوئے ہیں۔
ریحانہ چوہدری مدوکے رندہیرباگڑیاںحصیل سمبڑیال ضلع سیالکوٹ
مزے کی بات بتائوں 12اپریل کو میرے بھانجے ظاہر آفتاب کی شادی تھی ،بارات شادیوال سے بڈیانہ جا رہی تھی۔ راستے میں ہم بھی شامل بارات ہوگئے۔ لگ بھگ دو گھنٹے کے سفرکے بعد میرج ہال پہنچے تو آدھا گھنٹہ تو بینڈ والے اپنا جنون پورا کرتے رہے۔ آخرکار رستہ روکنے کی رسم ہوئی تو ہال کے اندر داخل ہوئے۔
تھوڑی ہی دیر گزری ہو گی کہ دولہا کی بڑی بہن یعنی میری بھانجی صبا آفتاب حواس باختہ انداز میں ہر ایک سے اپنی ساس کے بارے میں پوچھتی پائی گئی۔ کچھ دیر پہلے وہ اور آپا جی دونوں ہال کی ایک سائیڈ پہ نماز ادا کر رہی تھیں۔ خیرکچھ دیر کے بعد دیکھا تو موصوفہ ہال کے داخلی دروازے میں نمودار ہوتی نظر آئیں تو سب نے کلمہ شکر ادا کیا۔
پتا چلا کہ محترمہ قریبی نرسری سے پودے خریدنے چلی گئی تھیں ۔ خیر یہ تو ہوا بارات کا قصہ ،اتوار کو بارات تھی تو ولیمہ منگل کو رکھا گیا اب میری باجی شمع نورین اور بھانجی ثنائ آفتاب نے پرزور اصرار کیا کہ سارہ اور نور کو بھی ساتھ لے کرآنا تو نور کے لیے تو معذرت کی کہ اس کا پیپر تھا بی ایڈ کا لہٰذا اس کو سمبڑیال ہائی اسکول ڈراپ کیا پھر گجرات کی طرف گامزن ہو گئے ۔ہم نے رامتلائی کے راستے شادیوال روڈ پہ گاڑی ڈال لی اور زندگی کا سب سے غلط فیصلہ کیا۔ رستہ اتنا خراب کہ مت پوچھئے ۔ پانچ منٹ کا سفر پینتالیس منٹ میں ہوا جب ہم ہال میں پہنچے تو مردانے ہال میں کھانا شروع ہوچکا تھا۔ ایک تو گجرات والی سائیڈ پہ یہ برا اصول ہے کہ پہلے مرد کھانا کھاتے ہیں بعد میں عورتوں کو دیا جاتا ہے۔ کھانا بہت لذیذ تھا ۔ کھا کر دولہا اور دلہن کو سلامیاں دیں ماشائ اللہ دونوں بہت پیارے لگ رہے تھے۔
اب جناب 16اپریل کو مابدولت کا پائوں رپٹ گیا اور ہم زمین بوس ہو گئے۔ پائوں پہ سخت چوٹ لگی، ارسلان گھر پہ نہیں تھا ارجمند نے اپنے صاحب بہادر کو بتایا تو وہ اسی وقت گاڑی میں آ پہنچے کہ پائوں کا ایکسرے کروالیتے ہیں رات کے آٹھ بج رہے تھے آندھی اور طوفان کے ساتھ بارش بھی شروع ہو گئی۔ میں بہت روکا کہ کل چلے جائیں گے مگر وہ بچے ہی کیا جو بات مان جائیں۔ سیالکوٹ گئے پائوں کے تین ایکسرے کروانے پہ اللہ کا شکرادا کیا کہ کوئی سیریس مسئلہ نہیں تھا بس موچ ہی سمجھ لیں مگر ڈاکٹر نے آٹھ دن بیڈ ریسٹ تجویز کیا ۔ سو اب میں ہوں اور میرے ڈائجسٹ ۔
سرورق نے تو دل موہ لیا۔ سرورق دیکھ کر شمارے کے بہت خاص ہونے کا اندازہ ہو گیا۔ سب سے پہلے خطوط کی محفل کی طرف دوڑ لگائی اپنا خط ڈھونڈا مگر ندارد۔ لیکن میں شکوہ نہیں کروں گی کہ فرخندہ سلیم کا خط تو ایک شاہکار خط تھا وہ اسے کیسے ایڈٹ کرتیں۔ آپ اور ناہید مجھے یاد کر لیتی ہیں ۔اور صدف آپ تو مجھے بہت ہی یاد آتی ہیں جب جب میں گوجرانوالہ جاتی ہوں ایسے ہی لاہور جائوں تو جڑانوالہ کا بورڈ دیکھ کر کوثر خالد اب بھی یاد آتی ہیں۔ رضوانہ وقاص پائوں میں تکلیف ہوئی تو آپ یاد آئیں اور آپ کی صحت یابی کے لیے ہر وقت دعائیں نکلتی ہیں۔ ناہید اسماعیل اور صدف ناصر کے خطوط لا جواب تھے۔
پیاری واصفہ سادہ لوح گائوں کے لوگ آپ کی حیدر آبادی قبولی بریانی کو چنے کی دال کی کھچڑی سمجھ کے ہی بنا اور کھا لیتے ہیں مگر ہمیں پسند بہت ہے۔
(ستاروں کی راہگزر پر) سب سے پہلے ان سے ملاقات ہوئی۔ آگے بڑھے تو کیا دیکھا کہ فرخندہ سلیم کے الفاظ جگمگا رہے تھے۔ عنبرین ابدال سے ملاقات روٹین سے ہٹ کر بے ساختہ جوابات بہت اچھے لگے۔ (بازی کدہ) بازی لے گیا ۔
یہ کہانی محبت کے معجزوں کی کہانی ہے۔ بے لوث جذبوں کی کہانی ہے۔ مگر اتنی جلدی اس کا اختتام ؟ شاید اس کی خوب صورتی کا راز اسی میں ہو گا۔
عقیلہ ہاشمی کا افسانہ (سواسیر) ۔ معاشرتی ناہمواریوں کی داستان ۔ ہاجرہ ریحان کا افسانہ (تعلق کی رسوائی)سگے رشتوں کی سوتیلی واردات ، فرح بخاری کا ناول (ایک دفعہ کا ذکر ہے۔)پڑھ کر یوں محسوس ہوا جیسے کوئی فلم دیکھ رہے ہوں۔
(کھلی آنکھ کا خواب) معافیہ شہباز کا افسانہ جو اپنوں کی بے رخی کا ایک اور انداز لیے اپنا آپ منوا کر سالگرہ نمبر کی زینت بنا ۔ خوب صورت تحریر تھا۔ عنبرین ابدال کا مکمل ناول (تم میری دنیا ہو)سالگرہ نمبر کی سب سے زیادہ دل گداز تحریر ٹھہرا ہے۔ ویلڈن عنبرین ابدال ۔ ’’اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ‘‘راشدہ رفعت کا مختصر سا افسانہ (لفظوں کی مار) پروین کی چھٹی سے شروع ہو کر پروین پہ ہی جا ختم ہوا۔
باصر سلطان کاظمی کی غزل کے پہلے شعر نے ہی واہ واہ پہ مجبور کر دیا۔ ادارے کی طرف سے نفسیاتی الجھنوں کے جو حل بتائے جاتے ہیں وہ بہت صائب ہوتے ہیں۔ ابتہال کی کمی ایسے محسوس ہوئی جیسے بریانی میں نمک تھوڑا کم رہ گیا ہو۔
آپ کو بتائوں بیڈ پہ بیٹھنا بہت ہی مشکل کام ہے مگر وہ ریحانہ چوہدری ہی کیا جو اتنی سی چوٹ سے پریشان ہو جائے۔ میں نے حرا بیٹی سے سلائی مشین بیڈ پہ رکھوا کر اپنی نواسی سمیعہ کا لان کا بہت ہی پیارا سوٹ سلائی کیا ہے۔
ج: پیاری ریحانہ !پائوں کی تکلیف کے باوجودآپ نے اتنا پیارا اور طویل لکھا۔ اور کپڑے بھی سلائی کیے۔ماشائ اللہ بہت باہمت ہیں آپ ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے۔ آپ جیسی قارئین ہمارا حوصلہ ہیں۔
معصومہ مہناز. ضلع بھکر مورانی
جلدی سے فہرست پر نظریں دوڑائیں مگر دل جیسے ایک دم ٹھہر سا گیا ۔ پرچے کی جان ’’ابتہال ‘‘ کہیں نظر نہ آیا۔
ایک بار نہیں ، کئی بار ورق گردانی کی یہ سوچ کر کہ شاید ایڈیٹنگ کی کوئی غلطی ہو گئی ہو۔ مگر ہر بار یہی سچ سامنے آیا کہ ابتہال واقعی غیر حاضر تھا۔
دل بہت بجھ سا گیا۔ اب اگلے ماہ کا انتظار اور بھی بھاری لگنے لگا۔
’’بازی کدہ‘‘ بھی اپنی جگہ کمال تھا ’’ اشکوں کے موتیوں کے خزانے بہالیے۔
پلیز پلیز پلیز سنیعہ آپی !اب آخری قسط میں راحین کو مت ماریے گا۔ پہلے ہی ’’ مالا ‘‘ اور ’’اجالا ‘‘ کی موت کا صدمہ دل میں لیے بیٹھے ہیں۔ ہم اب اپنے ہیرو فواد کو یوں تڑپتا ہوا دیکھنے کی ہمت نہیں رہی۔
ج: پیاری معصومہ !آپ فکر نہ کریں ۔ راحین زندہ ہے۔ حسنہ حسین علالت کی وجہ سے قسط نہ لکھ سکیں اس ماہ قسط شامل ہے۔
٭٭


