خط بھجوانے کے لیے پتا۔ خواتین ڈائجسٹ۔ 37۔ اردو بازار کراچی۔
رضوانہ وقاص.کرلاں ہری پور
خواتین ہنستا مسکراتا۔ گیارہ تاریخ کو ملا۔ ماڈل کے کپڑے اچھے لگے۔ سادہ سے ،میں خوو اب سادہ ہی کپڑے پہنتی ہوں۔ویسے مجھے شوخ رنگ پسند آتے ہیں۔ ماڈل بال ہوئے ہی اچھی لگتی۔جیسے ہی دیکھنے لگی تو سب سے پہلے نظر پڑی۔ناولٹ۔ سعد کی شادی ،ارے یہ کیا میرے سعد بھائی کی تو شادی ہی نہیں ہوئی ۔سعد کا کراچی سے فون آیا۔ اسے بتایا کہ تمہارے نام کی کہانی آئی ہے۔ میں تو دعا رکتی ہوں اللہ پاک سے کہ اللہ جی جلد از جلد میرے سعد بھائی کی شادی ہوجائے۔’’ابتہال‘‘ پڑھی اتنی بے صبری سے انتظار تھا اس کا۔ لیکن پہلے ہی سر میں درد تھا اور ہی ہوگیا۔ کیوں ابتہال اور اس کے ماں کے ساتھ اتنا برا سلوک کیوں۔ جو برا کرتے ہیں ان کو سزا دیں نا۔ ابتہال کی ماں۔چوری قبول نہ کرے۔ دل ربا سخت زہر لگی اپنے شوہر کو ہی مروادیا۔ کچھ نہیں ہونا چاہئیں۔ شاہزل کو۔ یہ کہانی بہت ہی الجھی ہوئی ہے۔’’چارہ گر دعا کرنا‘‘ بہت اچھا لکھا آپ نے عنبرین ابدال۔کہ دوسروں کی قسمت پر رشک کرنے سے۔ اپنی قسمت جیسی ہے اس پر شکر ادا کرنا۔ ’’حساب کتاب‘‘ بہت اچھا لکھا لبنیٰ آصف نے۔ کدھر غائب ہوئی تھیں آپ۔’’بانٹ‘‘یہ ہی ہم نے سنا ہے اپنی دادی اماں سے کہ ایک دوسرے کو چیزیں دینے سے برکت ہوتی ہے۔’’کرن کرن روشنی‘‘ بہت ہی اچھی باتیں۔ سبحان اللہ۔
جنید خان کو پڑھا۔ اچھا لگا ان کا انٹرویو ساتھ میں بیوی بچوں کی بھی تصویریں لگایا کریں ۔ سیما مناف سے ملاقات بھی اچھی لگی۔ جس طرح سیما مناف کی تصویر کے نیچے لکھا ہوا ہے فیملی کا اس طرح باقیوں کے ساتھ بھی لکھا کریں۔ شکریہ ۔خط تو ضرور سب کے پڑھتی ہوں۔’’شام سے پہلے آنا۔‘‘ نیلوفر کے لیے دل اداس ہوتا ہے یہ محبت بھی کیا چیز ہے کہیں کا نہیں چھوڑتی اور جس سے ہوجائے نا دل کرتا ہے اس کی طرف ہمارے سوا کوئی نہ دیکھے۔یہ ہی حال ہے میرے دل کا۔ میں پہلے سب کچھ برداشت کرلیتی تھی لیکن اب اپنے شوہر کا فون نہ آئے۔ٹائم نہ دیں۔ ناراض ہوجاتی ہوں لڑپڑتی ہوں کہ میرے علاوہ وہ بھی کسی اور کی طرف نہ دیکھے۔نہ بولے یہ دل ہے ہی ایسا ،نیلوفر کو تیمور ملنا چاہئیں۔ یہ کہانی بہت اچھی لگتی ہے۔’’آپ کا باورچی خانہ‘‘ عائشہ مری کا پڑھا۔ بہن کو مسالوں کے لیے آواز دینے سے اچھاہے۔آپ ڈبوں پر لکھ کر رکھ دیں۔ مجھے میری امی بولتی ہیں کہ کام نہیں کرتی ہو۔ لیکن مشورے اچھے دیتی ہو۔ میں اپنی کتابیں نہیں خراب کرتی۔ ما شائ اللہ ما شائ اللہ میرے بیٹے احمد نے نویں کلاس۔ اے گریڈ سے پاس کی۔ اب دعا کرتی ہوں کہ دسویں کلاس بھی اسی طرح اچھے نمبروں سے پاس کرلے۔آمین
پیاری رضوانہ!اچھے نمبروں سے کامیاب ہونے پر ہماری طرف سے احمد کو مبارک باد اور دعائیں آپ اپنے بیٹے کی ساری خوشیاں دیکھیں اللہ تعالیٰ آپ کوشفائے کلی سے نوازے۔آمین
معصومہ مہناز.ضلع بھکرمورانی
سب سے پہلے سرِ ورق پر موجود پیاری سی ماڈل گلابی اور سفید رنگ کے امتزاج میں خوب جچ رہی تھی۔ ایک چھوٹی سی درخواست تھی۔ چونکہ اس ماہ جشن آزادی تھا، تو اگر ماڈل کے لباس کا رنگ سبز کردیتے یا عنوان پر جشن’’آزادی ‘‘مبارک لکھ دیتے تو رسالے کی مناسبت اور بھی نکھر جاتی۔ آپ نے عید الاضحی والے ماہ میںبھی عنوان پر عید مبارک نہیں لکھا تھا۔ بہر حال، کوئی بڑی بات نہیں، یہ محض میری ذاتی رائے ہے، ممکن ہے آپ اس سے متفق نہ ہوں۔
تمام بہنوں کے خطوط بہت اچھے تھے، کئی خطوط پڑھے اور خوب لطف آیا۔ پیاری ریحانہ جی اور پیاری بہن ثمین صداقت، آپ دونوں کو سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔ آپ کی سالگرہ ستمبر میں ہے نا؟
شام’’سے پہلے‘‘ آنا اتنا خوب صورت ناول ہے کہ ہم ہر ہر کردار کے ساتھ کبھی رو رہے ہوتے ہیں تو کبھی مسکرارہے ہوتے ہیں۔ کہانی بہت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے، اور یہی چیز اسے مزید دلچسپ بنا رہی ہے۔ اس قسط میں رافع کا ایک اور چہرہ بھی سامنے آیا۔
پھر آئی ابتہال کی باری۔ ابتہال تو اپنی مثال آپ ہے۔ کہانی میں کرداروں کی بھرمار ہے، لیکن کمال یہ ہے کہ ہر کردار اپنی جگہ منفرد اور جاندار ہے۔ ابتہال پڑھتے ہوئے پتا ہی نہیں چلتا کہ کب ایک نئی دنیا میں کھوجاتے ہیں۔ شاہ زل کبیر کی موت کا بہت دکھ ہوا، لیکن میری چھٹی حس کہہ رہی ہے کہ شاہ زل زندہ ہے۔ دلربا زہر لگ رہی ہے۔ میرال نے ابتہال کے لیے پہلی بار جو مضبوط موقف اختیار کیا، وہ بہت اچھا لگا۔
’ نقش برآب‘ اپنے نام ہی کی وجہ سے شروع سے پسند آیا۔ ویسے آسیہ جی کے ناولوں کے نام ہمیشہ بہت خوب صورت اور منفرد ہوتے ہیں۔ کہانی بھی بہت پسند آئی اور اس میں خاصی دلچسپی بنی رہی۔
پھر آئی خزاں’’کے آخری دن تھے۔‘‘ بہت اچھی کہانی تھی۔بسما کا کردار بہت خوب صورتی سے تراشا گیا تھا، مجھے تو بہت پسند آیا۔ اب آتے ہیں اپنی پسندیدہ صنف،ناولٹ کی طرف۔ اس بار ایک نہیں بلکہ دو دو ناولٹ پڑھنے کو ملے، جو یقینا خوش گوار بات تھی پہلے۔
چارہ گر، دعا کرنا پڑھا۔ بہت پسند آیا۔ حقیقت پر مبنی کہانی تھی۔ اکثر ہم لوگ ظاہری چمک دمک سے متاثر ہوجاتے ہیں اور بیٹیوں کی زندگیاں تباہ کربیٹھتے ہیں۔ آخر میں شہر یار کا بدلنا اور اپنی غلطی کا احساس ہونا اچھا لگا۔ البتہ اختتام پر رفتار کچھ زیادہ تیز محسوس ہوئی۔
اس بار جویریہ حیدر ملغانی کا ناولٹ ’’سعد‘‘کی ‘‘شادی بھی پڑھنے کو ملا۔ بہت اچھی کہانی تھی اور پڑھ کر واقعی لطف آیا۔ ماریہ کا کردار مجھے خاص طور پر پسند آیا۔
ہم لوگوں نے رسم ورواج کو اس قدر اہمیت دے دی ہے کہ بعض اوقات نکاح جیسی آسان اور خوب صورت چیز بھی مشکل بنا بیٹھتے ہیں۔ ناولٹ نے اس مسئلے کو اچھے انداز میں اجاگر کیا۔
اب آتے ہیں افسانوں کی طرف۔
راشدہ رفعت کا افسانہ پل کا فیصلہ بہت اچھا لگا۔ بہو کو بروقت بات سمجھ میں آگئی۔ نجمہ کا کردار بھی پسند آیا۔
دل گمشدہ تو قانتہ رابعہ آپی نے ہر گھر کی کہانی لکھ ڈالی۔ جب امی دور گئیں تو بچوں کو احساس ہوا ماں کا یہ احساس بہت خوب صورتی سے پیش کیا گیا۔
تیری’’تحریر کا رنگ‘‘ بھی اچھا افسانہ تھا۔’’بانٹ‘‘ پڑھتے ہوئے آنکھیں نم ہو گئیں۔ ساس کا کردار بہت اچھا تھا۔
ہم، تم اور ساون پڑھ کر کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی۔ افسانہ بہت پسند آیا اور اپنے اثر میں دیر تک رکھے رہا
’’تخلیق ‘‘ بھی ہر گھر کی کہانی محسوس ہوئی۔ معصوم بچوں کو اسی طرح رگڑا جاتا ہے،اور یہ چیز مجھے شروع ہی سے بہت عجیب لگتی رہی ہے۔ افسانے نے اسی رویے کو خوب صورت انداز میں سامنے رکھا۔
’’حساب کتاب‘‘ بھی ایک اصلاحی افسانہ تھا۔ آج کل تو یہ باقاعدہ رجحان بن چکا ہے کہ ایک بار لباس پہن لیا تو کسی دوسری تقریب میں دوبارہ پہننا عیب سمجھا جاتا ہے۔ عدنان بھائی نفسیاتی و ازدواجی حوالے سے بہت معقول مشورے دیتے ہیں۔
پیاری معصومہ!آپ نے ہماری محفل میں شرکت کی۔ اس کے لیے شکریہ۔
ناہید اسماعیل.کراچی
یوم آزادی قریب ہے۔اور اس آزادی کا حصول بے پناہ اور بے مثال قربانیوں کے بعد ممکن ہوا مگر وطن عزیز کے حالات دیکھ کر لگتا ہے ہم نے اس آزادی کی قدر نہیں کی۔
ٹائٹل پسند آیا۔ کہنی سننی میں قیام پاکستان کے حوالے سے باتیں دل کو چھو گئیں۔ کرن کرن روشنی کا سلسلہ ہمیشہ کی طرح ہماری معلومات میں اضافہ کرگیا۔ ناولوں میں پہلے ابتہال کی طرف بڑھے کہ پچھلی قسط کا اختتام نہایت پر تجسس موڑ پر ہوا تھا۔ دل ربا اور فیضان اپنے مقصد میں کامیاب ہوکر بھی ناکام ہوتے نظر آئے کہ قدرت کو شاہ زل کی زندگی مقصود ہے۔بے شک کردار بہت ہیں لیکن ہر کردار کی کہانی لاجواب اور تجسس سے بھرپور ہے یوں سمجھیں کہ اس ناول کو پڑھتے وقت دل ودماغ پوری یکسوئی مانگنے پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔ پھر بھی ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ ہیثم کی کہانی حال کا قصہ ہے یا ماضی کا؟کیونکہ وہ قید قصر جلال میں ہے اور ہالہ کو روحانی اشارے گرد یزی ہائوس سے ملتے ہیں۔ شام سے پہلے آنا نے بھی اپنے دلکش حصار میں پوری طرح جکڑا ہوا ہے۔ نسیم بہت بری لگ رہی ہے۔ اور نیلی پری کی ہمیں فکر ہے کہ تیمور ماں کی بات پر کیا رد عمل دینے والا ہے۔
’’خزاں کے آخری دن ‘‘ بہت اچھی تحریر تھی۔ وہاج نے جب سندس پر اپنا الزام تھوپاتب سندس بے بس اور بے اختیار تھی مگر جب وقت نے اسے وہاج سے بدلہ لینے کا موقع دیا تب بھی اس نے بدلے کا اختیار اور حق رکھنے کے باوجود وہاج کو معاف کرکے اعلا ظرفی کا ثبوت دیا جو عورت ہی کا خاصہ ہے۔ وہاج چند دنوں کی آزمائش نہ سہہ سکا یہ اور بات ہے کہ قدرت نے اسے اس آزمائش کی صورت میں اپنے گناہ کی تلافی کی مہلت دی تھی مزید اچھا یہ ہوا کہ اس نے قدرت کے اشارے کو سمجھ لیا۔ اس سب میں بسمہ کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو آغاز سے انجام تک مثبت رہا۔
نقش برآب آسیہ رئیس کی ایک اور خوب صورت اور حسب سابق بامقصد تحریر ایک بہترین میسج بڑے خوب صورت انداز میں انہو ں نے قارئین تک پہنچایا ۔ اس مصروف دور میں جہاں دو منٹ کی ملاقات میں انسان بنا سوچے مقابل کو جج کرلیتا ہے چاہے وہ ججمنت غلط ہی کیوں نہ ہو اسی مصروف زندگی میں کچھ خلفان جیسے بھی ہوتے ہیں جو جاننے کی جستجو میں الجھی ڈور کا سرا پکڑنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
سعد کی شادی ایک ہلکی پھلکی موڈ فریشر تحریر جس کے ذریعے قاری کو یہ سمجھایا گیا کہ بے جا نمود ونمائش کی خواہش میں زندگی کے قیمتی پل ضائع نہ کریں زندگی ان فضولیات کے بغیر سہل بھی ہے اور مکمل بھی۔ اور جناب سادگی کا اپنا ہی حسن ہوتا ہے جو اس تحریر میں بخوبی نظر آیا۔ اسی طرح عنبرین ابدال کی تحریر چارہ گر دعا کرنا بھی ایک با مقصد تحریر تھی لوگ کہتے ہیں کہ بیٹیوں کی شادی بہت سوچ سمجھ اور چھان بین کر کرنی چاہیے لیکن جب نصیب میں کچھ غلط ہونا لکھا ہو تب تمام سمجھ داری اور چھان بین دھری کی دھری رہ جاتی ہے پھر ایسے فیصلے سر زد ہوتے ہیں جیسا مومل کے گھر والوں نے اس کی شادی کے لیے کیا۔ سسرال والوں کی عیاری، مکاری اور ڈھٹائی قابل نفرین تھی خود شہریار نے بھی دھوکے اور جھوٹ کی بنیاد پر گھر بسایا اس پر بھی مومل نے موہوم سی امید کے سہارے شہریار کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرلیا۔
افسانوں کی لسٹ میں پورے سات عدد افسانے دیکھ کر خوشی ہوئی۔ جبکہ ہم یہ بھی کہتے رہتے ہیں کی دو افسانے کم کرکے بہنوں کی محفل کے صفحات بڑھادیں اور سچی یہ زیادہ اچھا ہوگا۔ قانتہ رابعہ نے نئی نسل کے ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی، آج کل ہر طبقے کے بچوں میں یہ عادتیں پائی جاتی ہیں اور والدین کہیں بالکل بے بس اور کہیں ان عادتوں پر فخر کرتے نظر آتے ہیں۔ راشدہ رفعت نے پل کا فیصلہ میں زندگی کی حقیقی تصویر پیش کی ،والدین کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد ان کی نظروں کے سامنے باہمی محبت واتفاق سے رہے لیکن بچے اپنے اختلافات میں سب سے پہلے انہی ہستیوں کو امتحان میں ڈال کر انہیں اذیت دینے کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔ ضد وانا کو پس پشت ڈال کر غلطیوں کو نظر انداز اور در گزر کرنا، کتنے ہی گہرے سبق اس مختصر تحریر میں پوشیدہ تھے۔ ویلڈن راشدہ جی۔
عشرہ مومن کا افسانہ اچھا لگا ۔حمیرا شفیع نے اپنی تحریر میں بڑے سہل انداز میں ورکنگ لیڈی کی ٹف روٹین،مشکلات اور مسائل بتاگئیں پر سچ تو یہ ہے کہ ’’تخلیق‘‘ ایک حقیقی اور آگاہی سے پر تحریر تھی پرانے زمانوں کی کیا بات کریں دور حاضر میں بھی نرم ونازک اور ناتواں جانوں پر ایسے تشدد طریقے آزماکر نجانے کتنے معصوموں کو معذوری کا شکار کردیا جاتا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ اپنی جہالت اور کم علمی کی خبر تک نہیں ہوپاتی۔ عنبرین اعجاز کا مزاحیہ سا افسانہ اچھا لگا ویسے راحیلہ تبسم اتنی بری بھی نہ تھیں جب ہی تحریر کے رنگ ان پر وقتی ہی چڑھتے تھے لبنیٰ آصف نے کیا خوب پیغام دیا بے شک نیکی چھوٹی سی ہی ہو ۔
عائشہ مری کا باورچی خانہ سلیقہ مندی کا شاہکار نظر آیا اور ٹپس بھی انہوں نے بہت اچھی دیں۔ موسم کے پکوان میں چکن کیچپ کی ریسپی ضرور ٹرائی کرنی ہے۔ باقی ڈشز بھی اچھی ہیں۔ ڈائری ساری بہنوں کی اچھی لگی لیکن حمدہ خان اور صوفیہ معین کی بہت اچھی لگی۔ بیاض اس بار پھیکی سی لگی۔ بیوٹی بکس کے مشورے اور نسخے ہمیشہ ہی مفید ہوتے ہیں۔نظم اور غزل دونوں دل کو چھو گئیں۔ رنگا رنگ پھول میں ثبوت بے گناہی اور چشم پوشی اچھے لگے۔ نفسیاتی الجھنیں میں مسز عین کے مسئلے پر بہت دکھ ہوا اللہ ان کے لیے آسانیاں کرے،آمین۔
سیما مناف سے ملاقات کا دوسرا حصہ بھی بہت اچھا لگا ما شائ اللہ قابلیت میں ہماری رائٹرز کا کوئی ثانی نہیں اس پر گھریلو امور میں بھی سگھڑ اور سلیقہ مند، آخری سطور میں شنو آپی کی معذرت پڑھ کر ان پر بے حد پیار آیا۔ آپی ان سے ہمارا آئی لو یو کہہ دیں ہاہاہا۔
اپنی پیاری محفل میں پہنچے تو پیاری صدف ناصر۔فرخندہ سلیم اور ریحانہ چوہدری ی بہت کمی محسوس ہوئی۔ ویسے ہماری ریحانہ چوہدری اب پکی اور اچھی رائٹر بن چکی ہیں ما شا اللہ بہت اچھا لکھ رہی ہیں۔ جویریہ حیدر ملغانی کا خط اور تبصرہ خصوصاً راحت جبیں کے انداز تحریر کے بارے میں انہوں نے سو فیصد درست لکھا۔ مصباح نذیر کی دہائیاں پلس باتیں مزے کی لگیں۔ رضوانہ وقاص، سلمی مسرت، نصرت جبیں ورضوانہ فاروقی کے تبصرے اچھے لگے، صائمہ علی اور معصومہ مہناز کے تبصرے بہت خوب رہے۔ عابدہ سید کا خط اچھا لگا ام ہادیہ اور جہلم کی سعدیہ کے لیے دلی دعائیں۔ زرینہ خانم اتنا اچھا تبصرہ کرتی ہیں لیکن اس بار صرف تین سطور۔ کوثر مصطفی کا تبصرہ بھی مختصر ترین تھا۔ پر اپنی رائے دیتے ہیں اسی طرح خطوط پر بھی دیتے ہیں اگر لمبے لمبے پیغامات ہوں تو وہ مناسب نہیں لیکن تبصروں پر تبصرہ شامل کرنے میں حرج نہیں۔طبیعت کچھ ناساز چل رہی تھی اب بہتر ہے ایسے میں ہم نے پورے کا پورا تبصرہ دوائوں کی غنودگی میں کیا۔
پیاری ناہید!اللہ تعالیٰ آپ کو اور ہم کو شفائے کلی عطا فرمائے آمین اپنا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ ڈاکٹر نے ذہن کو پرسکون رکھنے کے لیے دوا دی ہے۔ ذہن تو کیا پر سکون ہوتا۔ یادداشت پر بہت برا اثر پڑا ہے۔
صبا تحریم.اوکارہ
خرید کر پڑھنے کا بھی موقع نہ مل سکا۔ والدہ کی طبیعت ناسازرہی گردے کی پتھری کافی بڑی ہوچکی تھی۔ ڈاکٹر نے تو تین سال پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لیزر سے مسئلہ حل ہوگا نجانے کیوں ہم لوگوں کی باتوں پہ یقین کرکے دیسی ٹوٹکے کرتے رہے اور کچھ فرق نہ پڑا بالآخر لیزر سے ہی مسئلہ حل ہوا لیکن خاصا وقت لگا۔
مجھے زندگی اب ہیری پوٹر کی فلم کی طرح لگنے لگی ہے ہر نئے موڑ پر نیا چیلنج میرا منتظر ہوتا ہے۔ ماضی کے عجیب وغریب واقعات اور حالات نے ذہن پہ کافی اثر ڈالا اب اثر اتنا شدید ہوگا معلوم نہیں تھا لیکن خواتین ڈائجسٹ پڑھ کر اثر کم ہونے لگتا ہے ہاہاہا ایک بار تو یوں ہی محسوس ہوتا ہے کہ انسان اپنی زندگی سے کوسوں دور جاچکا ہے اور اس میں کمال رائٹرز اور ادارے دونوں کا ہے۔ جنہوں نے سالوں سے اپنے معیار کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
خیر اب چلتے ہیں شکوے شکایتوں کی طرف تو پچھلے سال فروری اور دسمبر میں ،میں نے اپنے دو ناول بھیجے تھے لیکن پتا چلا کہ ابھی تک پڑھے نہیں گئے۔ یہ ہنسی دردوالی ہنسی ہے۔
’’با صر صر‘‘اور‘‘ایک دھن محبت کی‘‘دونوں بڑی محبت سے لکھے تھے خاصی کر’’ ایک دھن محبت کی‘‘ ناول میں خاص ریسرچ کرنی پڑی جب میں 70,s کے مشہور زمانہ سنگریو کے پاپ سنگر تھے اور اسکاٹ لینڈ70’s میں کیسا دکھتا تھا بہت محنت سے لکھا گیا ناول تھا۔
بچپن کی کتنی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں جب دوروپے والی گوند ملے جھنڈیاں دھاگوں پہ چپکایا کرتے تھے اور جب گوند ختم ہوجاتی تو آٹے کی لئی بناکر لگادیا کرتے تھے۔ اللہ گواہ ہے کہ آٹے کی لئی سے زیادہ اچھی گوند دنیا میں کوئی نہیں پتھر کی طرح جم جایا کرتی تھی دو روپے والی گوند سے ہزار گنا بہتر تھی ہاہاہا۔ اور پھر چودہ اگست گزر جانے کے بعد جھنڈیوں کو احتیاط سے اتارنا کہ کہیں پائوں کے نیچے نہ آجائیں۔
سلمیٰ مسرت…اسلام آباد
السلام علیکم، کہنی سننی سے سب متفق ہوں گے کہ پاکستان بننا کتنا ضروری تھا لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم نے آزادی کی قدر نہیں کی اسپیشلی تیسری نسل سے بہت غلطیاں ہوئی ہیں ،ہم نوجوانوں کی وہ تربیت نہیں کرسکے جو کہ ہمارے بزرگوں نے کی تھی۔ دوسرے موبائلز اور سوشل میڈیا نے ساری کسر پوری کردی۔
ابن انشائ کے سارے کالم چاہے بار بار پڑھے ہوں ہر بار پڑھنے میں مزا آتا ہے اور لگتا ہے پہلی بار پڑھ رہے ہیں اللہ ان کے درجات بند کرے۔آمین۔
میری بھی بہنوں کی طرح یہی رائے ہے کہ انٹرویو صرف رائیٹرز کے دیا کریں شوبز کا سلسلہ ختم کردیں سیما مناف سے انٹرویو اچھا لگا۔ ان کے ڈرامے اور افسانے اچھے ہوتے ہیں خود بھی ایک باوقار خاتون ہیں اللہ خوش رکھے۔ حمیرا شفیع کی واپسی افسانوں میں اچھی لگی اس بار ساون کے ساتھ آئیں لیکن مجھے ان کا شعاع والا افسانہ زیادہ اچھا لگا ہے راشدہ رفعت کا ’’پل کا فیصلہ ‘‘ اور لبنیٰ آصف کا ’’حساب کتاب‘‘ یہ ہمارے اردگرد کے بلکہ ہمارے گھروں کے تمام مسائل ہیں ،یہ مثبت رویوں والے افسانے ہماری تربیت کرتے ہیں۔ میرے پاس ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں لیکن لکھنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ اس لیے کوشش کرتی ہوں کہ خطوط اور سروے کے ذریعے اپنا پیغام دے دوں میں آپ کو وہ طریقہ بتارہی ہوں کہ ضرورت والی چیزوں میں سے صدقہ کیسے کرنا ہے گھر میں جو گروسری اکٹھی آتی ہے میں اس میں سے ہر چیز تھوڑی مقدار میں علیحدہ کرکے شاپرز بنالیتی ہوں جو اپنی کام والی کے ساتھ مزید آس پڑوس میں ضرورت مندوں کو آپ دے سکتے ہیں میں اپنے فینسی سوٹ اور عائشہ ماہا آمنہ کے بھی قیمتی کپڑے جوتے اسی طرح بانٹ دیتی ہوں بلکہ ہم تو بچوں کے کھلونے جو قابل استعمال ہوں وہ بھی دے دیتے ہیں تو اس طریقے سے الحمد للہ ہمارے گھر میں آپ کو کوئی فالتو چیز نظر نہیں آئے گی۔ اب اپنی محفل کی بات ہوجائے اس بار جو محبت آپ سب بہنوں نے دی ہے اس کے جواب میں آپ سب کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا ۔آپ سب کو اللہ تعالیٰ صحت تندرستی کے ساتھ خوش رکھے آمین۔
ڈائری اس بار حمدہ خان،ناہید ،شہلا اعجاز سب کی عمدہ تھی ریحانہ چوہدری کی ڈائری نے سچ مچ مجھے رلادیا۔
عائشہ مری کا باورچی خانہ بھی عمدہ تھا آپ کی ٹپس میری آزمودہ ہیں نفسیاتی الجھنیں بھی میں باقاعدگی سے پڑھتی ہوں۔
رضوانہ فاروقی.حافظ آباد
اس مرتبہ بہت خوشی ہوئی کہ 6اگست کو دونوں رسالے ہاتھ میں آگئے۔ مگر اپنے ساتھ مہمان بھی لے کر آئے تھے۔ پہلے بڑی بہن فیملی کے ساتھ آئیں۔ اور دو دن رہ کر چلی گئیں۔ اور پھر ہماری بیٹی ڈاکٹر شفق اپنے بچوں سمیت ایک ہفتہ رہنے آئی۔ گھر میں خوب رونق رہی۔ اب ہم گھر میں بس تین لوگ رہتے ہیں۔ میں، بھائی اور بھابھی۔ بڑا بیٹا بچوں سمیت کراچی اور چھوٹا بیٹا عمان۔ تو یوں ہم جب زیادہ تنہائی محسوس کرتے ہیں۔ تو پھر شفق اور اس کے بچے ہی اس کا درماں بنتے ہیں۔
فاطمہ اور آمنہ تو بہت ہی پیاری بچیاں ہیں ۔گھر گھر وندہ فاطمہ اتنا پیارا کھیلتی ہے۔ اور جب آمنہ ساتھ ہو تو ماما بیٹا کھیلتی ہیں۔ عبداللہ بڑا بیٹا نسبتاً سنجیدہ اور فٹ بال کا شوقین ہے۔ اور کھلاڑی بھی۔
ان کی نانو کچن میں فرمائشیں پوری کرتی ہیں گھر میں ہر وقت نانا ابو نانا ،ابو کی آوازیں ہوتی ہیں۔اور نانا ابو نمازوں کے ساتھ ساتھ کھلونوں کی فرمائشوں میں گھن چکر۔ اور باقی بچی میں اور شفق تو ہم کبھی گپ شپ اور کبھی پڑھائی۔ وہ اپنی پڑھائی میں اور میں اپنے رسالے میں مگن۔
سادہ سی ماڈل گلابی رنگ میں اچھی لگ رہی تھی کہنی سننی، اور کرن کرن خوشبو بہت اچھی رہیں۔ سیما مناف صاحبہ بقیہ ملاقات اچھی رہی۔ سادہ مزاج سی ،گھریلو مزاج اور بہت اچھا لکھنے والی۔ انٹرویو پڑھ کر مزا آیا۔
ماہ جولائی کی ابتہال کی قسط کافی تھرلنگ رہی۔ تو سب سے پہلے اسے پڑھا کہ چوری پکڑنے کے بعد کے اثرات کیا رہے۔ قسط پڑھتے ہوئے اتنے منظر بدلتے ہیں۔ اور اتنے کردار ہیں۔ کہ مجھے ہر بازگزشتہ خلاصہ پڑھنا پڑتا ہے۔ مجھے اس مرتبہ تھوڑا تھوڑا ہیری پوٹر کا ٹچ آرہا تھا، تاشا اور پھر ابتہال کا چیزوں کو چھوٹا اور راکان کی مسٹری مزہ تو آرہا لیکن مجھے تو میثم کے مناظر سے بھی خوف ہے حسنہ حسین آپ بہت اچھا لکھ رہی ہیں۔ ایک پل کے لیے آنکھ ادھر ادھر نہیں ہوتی۔ اور راحت جبیں صاحبہ کا’’شام سے پہلے آنا، بھی اچھا ہے ۔فیملی کی تفصیلات۔ وہ بھی بہت اچھی لگ رہی ہیں۔ مٹھو اور نیلی پری معصوم سے پنچھی ہیں۔
اس مرتبہ افسانے کا فی تعداد میں تھے۔ میں پہلے افسانے ہی پڑھتی ہوں مگر اس مرتبہ ناولز کے بعد پڑھے ہیں۔ قانتہ رابعہ کی تحریر ہمیشہ کی طرح سبق آموز رہی اور نئی نسل کی پسند پر مائوں کا پریشان ہونا۔اب تو گھر گھر کی کہانی ہے۔
’’چارہ گر دعا کرنا‘‘ بھی اچھا موضوع تھا۔ کہ ماں باپ تو اچھا رشتہ دیکھ کر ہی بیٹی بیاہتے ہیں۔اور مقدر کی بند مٹھی توپھر بعد میں کھلتی ہے۔ اور پھر بیٹی کو نباہنا پڑتا ہے۔ ’’بانٹ‘‘ ہم تم اور ساون‘‘ اچھے رہے ہیں۔ اور’’تخلیق‘‘افسانہ پڑھ کر پہلے تو بہت ہنسی آئی۔ کہ ہمارے معاشرے میں ایسا ہی ہے۔ اور پھر خاص طور پر ہمارے گھر میں۔ ہمارا پوتا ابراہیم پچھلے اگست میں پیدا ہوا۔ تو کوئی بیس پچیس دن وہ ہمارے پاس مطلب ددھیال میں رہا۔ تو اب جو بھی آرہا تھا۔ نت نئی تراکیب گول سر بنانے کے لیے۔ ادھر سے ماتھا دبائیں۔ اس طرح سے سر کو باندھ کے دبائو۔اور اوپر والے ہونٹ بھی دبائیں۔ تو خیر ہم نے سنی سب کی اور مانی بس اپنی حد تک۔ اور پھر ایک دن ابراہیم کی نا نو نے مجھے ایک ویڈیو بھیج دی کہ دیکھیں ڈاکٹر سرد بانے سے منع کرتے ہیں۔ یہ نقصانات ہوتے ہیں۔ بچہ سیدھا سر کیے پڑا رہے۔ تو چھ ماہ میں سر گول ہوجاتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ان کی اماں گول ہوچکی تھی۔ اب اس کا سر بہت اچھا گول بن گیا ہے۔ کہ جب اس کی پہلی ٹنڈ کروائی۔ تو حجام نے بھی کہہ دیا۔ کہ سر بڑا اچھا بنا ہے۔ تو الحمدللہ۔
آسیہ رئیس خان کا نقش برآب بہت اچھا تھا اور شکر ہے۔ کہ اسے اللہ نے خدمتوں کا اچھا صلہ دے دیا۔ میں بھی ایسی ہی تھی۔ مگر مجھے صلہ اس طرح کا نہیں ملا۔ بلکہ میں تو مجسم شعر ہوں کہ
لڑکھڑاکے گرے ہم تو کوئی آگے نہ بڑھا
لوگ گرتے تھے تو ہم تھام لیا کرتے تھے
اور ہاں جی سعد کی شادی پڑھ کر مزا آیا کہ واقعی مائیں اکثر اپنی خواہشات اور معیار کے مطابق رشتہ ڈھونڈتے اس کی عمر گزار دیتی ہیں۔ سعد نے بہت اچھا کیا جو فوراً شادی بالآخر کرلی۔
’’حساب کتاب۔‘‘ اور پل کا فیصلہ بہت سبق آموز تھا۔ واقعی ہمارے پاس اتنے جوڑے ہیں۔اور پھر بھی فنکشن کے لیے نئے چاہئیں۔ میری بھابھی کی بہت اچھی عادت ہے کہ جب وہ دو سوٹ سلواتی ہیں۔ تو ساتھ ہی دو سوٹ دے بھی دیتی ہیں اس طرح ان کی الماری بیلنس رہتی ہے۔ میں چونکہ ٹیچر تھی تو کپڑے سنبھال کے پہنتی ہوں میں بھی دیتی رہتی ہوں۔
میں اور بھابھی ہم ایک دوسرے کے کپڑے پہن لیتی ہیں تو کام چل جاتاہے۔
دوسرا ناول نہیں پڑھا جاسکا۔ اب فرصت سے پڑھوں گی۔ اور تحریر کا رنگ ’’مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔
اس مرتبہ شمارے میں چند ایک غلطیاں ہیں۔
۔’’آپ کا باورچی خانہ‘‘ فہرست میں سلمیٰ مسرت کا نام تھا ۔جبکہ اس مرتبہ عائشہ مری کا لکھا تھا ۔مجھے بھی اس طرح احساس ہوا کہ خط میں ان کے باورچی خانہ کی تعریف کی گئی تھی۔ تو میں نے کہا کہ یہ تو اس شمارے میں ہے۔ تو تعریف پہلے ہوگئی ہے۔
۔آپ نے مجھے اسلام آباد پہنچادیا تھا۔ میں تو ویسے خوش ہوگئی۔ کہ اللہ کرے گل شیر کی پوسٹنگ اسلام آباد ہی ہوجائے۔ مطلب مجھے تو لکھا ہوا خوش آئند لگا۔ کیونکہ ابھی کراچی والے ہمیں وہاں آنے کا موقع نہیں دے رہے۔ ابھی تک اسے بڑا گھر نہیں ملا۔
نفسیاتی الجھنوں میں مسز عین کراچی سے مسئلہ پڑھا تو بہت دکھ ہوا۔ میرا اپنی بہن کو مشورہ ہے۔ کہ آپ اپنی پنشن میں سے ایک میڈ صبح سے شام رکھیں۔جو آپ کو ناشتہ سے لے کر کپڑے وغیرہ استری کرے۔ آپ کے چھوٹے چھوٹے کام کرے۔ گھر میں تو بہو نے بچوں کے لیے اور گھر داری کے لیے علیحدہ سے ملازمہ رکھی ہوگی۔
خود کو مضبوط رکھیں ۔اور میری بہن حالات کو اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ بہو بیٹے اور بچوں سے پیار کریں لیکن بہو کو سوار نہ کریں۔
میں بھی ریٹائرد ہوں۔ خیر میرے گھر کیا خاندان والے بھی بہت اچھے ہیں۔ کام والیاں بھی بہت خیال رکھتی ہیں۔ میری وہ بہن اپنے پیسے خود پر خرچ کریں۔
پیاری رضوانہ!آپ کے خط پر کیا تبصرہ کریں۔ ہم تو آپ کی لکھائی دیکھ کر ہی خوش ہوجاتے ہیں لگتا ہے کہ آپ بہت سلجھی ہوئی اور سلیقہ مند ہیں سب کو خوش رکھنا اور خود بھی خوش رہنا۔
٭٭


