ساون برسے خوشیوں کے سنگ – فاخرہ جبیں

ساون برسے خوشیوں کے سنگ - فاخرہ جبیں 2

سیاہ گھور بادل آناً فاناً آسمان پر چھاتے چلے گئے تھے اور گھڑی بھر میں ایسا کھل کر برسے تھے کہ ریلوے اسٹیشن سے نکل کر ٹیکسی اسٹیڈ تک پہنچتے پہنچتے نو روز پوری طرح بھیگ چکا تھا، اس پر تقریباً خالی ٹیکسی اسٹینڈ اور اِکُا دکُا ٹیکسی ڈرائیوروں کی طرف سے مکمل انکار نے اسے مزید جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر دیا تھا۔ گھر یہاں سے کچھ زیادہ دور نہیں تھا اور سفر کی تھکاوٹ ایسی بھرپور تھی کہ فوری طور پر گھر پہنچنے اور بستر پر گر جانے کی شدید خواہش کے زیر اثر وہ کہیں رک کر بارش تھم جانے کا انتظار بھی نہیں کر سکتا تھا، سو منہ میں بڑبڑاتے ہوئے وہ پیدل ہی گھر کی طرف روانہ ہوگیا تھا۔

کیچڑ، پھسلن، اس پر دھائیں دھائیں برستی بارش جس کا نمکین، بدذائقہ پانی زبردستی منہ میں گھسا چلا جارہا تھا۔ آنکھوں میں جلن الگ ہونے لگی تھی۔ پندرہ بیس منٹ کے پیدل مارچ میں اس نے گیلے اور مزید وزنی ہوتے سفری بیگ کو پچیس مرتبہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کیا تھا۔ کبھی اسے سر پہ رکھا تھا اور کبھی بازوئوں میں بھرا تھا۔ خدا خدا کر کے گھر کا دروازہ نظر آیا تھا۔ سو فوراً ہی نو روز اندر گھس گیا تھا۔ نیم تاریک ڈیوڑھی میں چھپا چھپ پانی اڑاتے وہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا تھا۔ بارش اگر دو گھنٹے برستی تھی تو یہ سال خوردہ ڈیوڑھی دو دن تک برستی رہتی تھی۔ وسیع و عریض صحن میںسلیمان اور ارسلان بھائی کے بچوں نے خوب اودھم مچایا ہوا تھا۔

اسے دیکھ کر ’’چاچو، چاچو۔‘‘ کے ایسے فلک شگاف نعرے لگائے کہ اس کی آمد کی اطلاع گھر کے کونے کونے تک پہنچ گئی تھی اور پھر ایسی تھر تھلی مچی تھی کہ کچن میں پکوڑوں کے لےے بیسن گھولتی سدرہ نے مارے حیرت اور خوشی کے سارا بیسن زمین پر الٹ دیا تھا۔ چھوٹے چچا کی شہلا لپکی تو معیز اس کے نیچے اور انیقہ اوپر تھی۔ تائی اماں الگ دہائیاں دے رہی تھیں۔

’’ارے! پہلے مجھے تو اس سے ملنے دو۔‘‘

اور معلوم نہیں نوروز کا حوصلہ جواب دے گیا تھا یا سامنے کے ہجوم اور پیچھے سے ہونے والی متوقع یلغار نے اسے حواس باختہ کر دیا تھا، لپک جھپک لمبے لمبے ڈگ بھرتا برآمدے کی طرف بڑھا تو صحن میں ہی پائوں پھسلا بلکہ پھسلتا چلا گیا اور اس سے پہلے کہ وہ خوب لمبا ہو کر صحن میں پڑا ہوتا، اظفر نے بروقت اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔

’’ارے ارے یار! آنے کی اطلاع تو دی ہوتی۔ ہم خود تجھے لینے اسٹیشن پہنچ جاتے۔‘‘

اظفر کے عقب سے جھانکتے بے قرار چہروں پہ نگاہ پڑتے ہی اس نے اظفر کو ایک طرف دھکیلا اور آگے بڑھ گیا۔ اپنے بھیگے حلےے کے باعث وہ خاصی دور سے تعظیماً تائی اماں کے سامنے جھکا تھا مگر تائی اماں نے پروا نہ کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرح اسے اپنے بازوئوں کے گھیرے میں لے لیا تھا۔ گھر کے ہر فرد کا تقریباً یہ ہی حال تھا۔

خوشی سے معمور چہرے، ہنستے کھلکھلاتے، بے فکری، شوخی، ادھر اَدھر کی چھیڑ چھاڑ۔

’’کیا واقعی یہ سب لوگ میری آمد پر اتنے ہی خوش ہیں جتنے نظر آرہے ہیں۔‘‘ وہ سمجھ نہیں پایا، بس یونہی بے زار سا بیٹھا ایک ایک کا چہرہ تکتا رہا تب ہی رشنا گرم گرم پکوڑوں کی پلیٹ لے کر بھاگی چلی آئی تھی اس کے پیچھے چائے کا مگ تھامے سویرا تھی، اس کی اکلوتی بہن۔

’’نوروز بھائی! یہ صرف آپ کے لےے ہیں۔‘‘ رشنا نے پلیٹ اس کی طرف بڑھائی اور اگلے چند لمحوں میں صرف پلیٹ ہی اس کے ہاتھ میں آئی تھی کہ ندیدوں اور چٹوروں کی پوری فوج اس وقت اس کے گرد جمع تھی۔

’’شرم تو نہیں آتی تم لوگوں کو، نوروز بھائی اتنی دور سے آئے ہیں۔‘‘

سویرا نے خاص طور پر اظفر، معیز اور مہران کو شرم دلانی چاہی تھی مگر وہ سب کے سب بے غیرت بنے مسکراتے رہے اور ڈھیٹ بنے پکوڑے اڑاتے رہے۔ اظفر نے البتہ تھوڑی غیرت دکھاتے ہوئے ادھ کھایا پکوڑا اس کی طر ف بڑھایا تھا، مگر عین اسی وقت رشنا دوسری پلیٹ ہاتھ میں لےے آگئی تھی۔ ساتھ ہی ایک عدد کفگیر بھی تھام رکھا تھا جوکہ ظاہر ہے حفظ ماتقدم کے طور پر لے کر آئی تھی۔

تب ہی نوروز کو احساس ہوا، سویرا اس کے کاندھے پر جھکی نہ جانے کیا منمنا رہی تھی۔ اس نے توجہ دینے کی کوشش کی، مگر بھانت بھانت کی آوازوں میں سوائے من من کے کچھ پلُے نہیں پڑا تھا۔

اظفر کے چھت پھاڑ قسم کے قہقہے، معیز اور زوار کی دھینگا مشتی، تائی اماں کی ڈانٹ پھٹکار، کچن سے رشنا اور سدرہ کی چیخ و پکار، اس پر اس کے اپنے بالوں سے ٹپ ٹپ گرتا ہوا پانی، بارش میں بھیگے کپڑے اور چپچپاہٹ کا احساس۔

’’افوہ کیا مصیبت ہے؟ میں کچھ سن نہیں پا رہا۔ تم کیا کہہ رہی ہو۔ دو منٹ صبر کرلو۔‘‘

جھنجھلاہٹ کے شدید احساس کے زیر اثر اس نے تپ کر کہا تھا، سویرا چند لمحے شکایتی نظروں سے اسے دیکھتی رہی پھر اس کا دبوچا ہوا بازو ایک جھٹکے سے چھوڑا اور دھپ دھپ کرتی کمرے میں غائب ہوگئی۔

’’افوہ۔‘‘ کوفت کا احساس بڑھتا چلا گیا تو وہ ایک دم اٹھ کھڑا ہوا۔

’’کہاں۔۔۔‘‘ سب کی نظریں بے اختیار اس کی طرف اٹھ گئی تھیں۔

’’بہت الجھن ہورہی ہے، میں ذرا چینج کرلوں۔‘‘ وہ کہہ کر تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔ کمرا جوں کا توں تھا، ایک دم صاف ستھرا۔

اس نے وارڈ روب سے دھلے دھلائے کپڑے نکالتے ہوئے دل ہی دل میں حساب لگایا۔ وہ پورے ڈیڑھ ماہ بعد گھر واپس آیا تھا اور اس کمرے کی لش لش کرتی حالت بتا رہی تھی کہ اس کی غیر موجودگی میں بھی گھر کے لوگ اس کے خیال سے غافل نہیں رہتے۔ وہ خود کو ان محبتوں کا مقروض تصور کرتے ہوئے غسل خانے میں چلا گیا تھا۔ نہاتے ہی سفر کا میل کچیل اور آدھی تکان اتر گئی تھی۔ تولےے سے گیلے بال رگڑتے ہوئے وہ ڈریسنگ روم کے سامنے آکھڑا ہوا تھا جب عقب میں دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی تھی۔ چند ثانےے بعد آئینے میں اظفر کا عکس ابھر اتھا۔

’’نہا لےے، ابا جان نیچے بلا رہے ہیں تمہیں۔ ہاں اگر تم آرام کرنا چاہو تو میں ان سے کہہ دیتا ہوں۔‘‘

’’نہیں۔۔۔ میں آرہا ہوں۔‘‘

اس نے کنگھے سے بال بناتے ہوئے کہا تو اظفر اثبات میں سر ہلاتا واپس پلٹ گیا تھا۔ کنگھا میز پر رکھنے کے بعد اس نے سلیپر نکال کر پہنے اور آستین کے بٹن بند کرتا ہوا کھڑکی تک آیا۔ بارش اگرچہ ابھی بھی ہو رہی تھی مگر اس میں پہلے کی سی شدت نہ تھی۔ چند لمحے اس بے موسم کی بارش کو تکتے رہنے کے بعد وہ پلٹا تھا۔ کمرے کا پرسکون ماحول اس کے تھکے ہوئے اعصاب کو تھپکیاں دے رہا تھا اور اسے ڈر تھا کہ اگر کچھ دیر وہ مزید یہاں ٹھہرا تو ہوسکتا ہے، سب کچھ بھول بھال کر بیڈپہ گر جائے جبکہ تایا ابا نیچے بڑی شدت سے اس کا انتظار کر رہے تھے، سو وہ سر جھٹک کر نیچے دروازہ کھولتا ہوا زینے کی طرف آگیا تھا۔ نیچے اب قدرے سکون تھا۔ تایا ابا حسب معمول ٹی وی کھولے بیٹھے تھے۔ تائی اماں بے زار سا چہرے لےے تایا ابا پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھیں۔ رشنا اور انیقہ کوئی میگزین کھولے اس پر جھکی ہوئی تھیں۔ تایا ابا ان کی سرگوشیوں اور ہنسی کی دبی دبی آوازوں سے ڈسٹرب ہوکر بغیر کچھ کہے انہیں گھور رہے تھے۔

’’آئو، آئو نوروز میاں! کہاں رہ گئے تھے بھئی؟‘‘ اس پر نگاہ پڑتے ہی انہوں نے بشاش انداز میں کہتے ہوئے بازو پھیلائے تو وہ ان کے اٹھنے سے پیشتر ہی جھک کر ان کے سینے سے لگ گیا تھا۔ ’’جیتے رہو، آئو ادھر بیٹھو۔‘‘ انہوں نے ٹی وی بند کرتے ہوئے ریموٹ میز پر رکھا اور پھر پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔

’’اصولاً تو اس وقت تمہیں آرام کرنا چاہےے تھا۔ مگر بھائی صاحب کی طرف سے فکر ہورہی تھی۔ سوچا، ان کی خیریت معلوم کرلوں۔‘‘ تایا ابا نے کہا تو وہ رسمی سی مسکراہٹ کے ساتھ ’’کوئی بات نہیں۔‘‘ کہتا ہوا انہیں تفصیل سے بتانے لگا تھا۔

٭٭٭

ڈیڑھ ماہ قبل اسے اپنے عزیز دوست وہاب کی شادی میں شرکت کے لےے وہاڑی جانا تھا۔ تایا ابا کو معلوم ہوا تو وہ اپنی اسٹڈی ٹیبل سے اٹھ کر اس کے پاس آبیٹھے تھے۔

’’نوروز! جارہے ہو تو ذرا ہمارے بھائی میاں کی خبر بھی لیتے آنا، ہمشیرہ محترمہ حیات تھیں تو آنا جانا لگا رہتا تھا۔ اب تو پندرہ برس بیت چلے انہیں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ادھر بھائی میاں کی زندگی مشکل میں پڑی، ادھر ہم دنیا کے دھندوں میں ایسا پھنسے کہ وہ جو مہینوں بعد ایک دوسرے کی خبر لیتے تھے، اس سے بھی گئے، تم سن رہے ہو ناں نو روز! ضرور جانا ان کی طرف۔‘‘

وہ اٹھ کر دوبارہ اسٹڈی ٹیبل کی طرف بڑھے۔ کاغذ نکال کر دو چار سطریں گھسیٹیں اور پھر کاغذ تہ کر کے اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ ایڈریس خود انہیں بھی ٹھیک طرح سے یاد نہیں تھا، ٹوٹا پھوٹا راستہ سمجھا دیا۔

نوروز نے جھنجھلاتے ہوئے دل ہی دل میں ٹھان لی تھی کہ اطمینان سے ولیمہ کھا کر واپسی کی راہ لے گا اور کہہ دے گا، گھر نہیں مل سکا۔

مہندی، بارات اور ولیمہ۔ وہاڑی میں اس کا صرف تین دن رکنے کا پروگرام تھا مگر حواس پہلے دن ہی ٹھکانے لگ گئے تھے جب وہ اچھی خاصی گرمی میں بذریعہ ٹرین وہاڑی پہنچا اور پہلی فرصت میں ہی وہاب پر پل پڑا۔

’’کیا ضرورت تھی تمہیں۔ اس موسم میں شادی کروانے کی۔ منگیتر کہیں بھاگی جارہی تھی یا تو خود اس دارفانی سے کوچ کرنے والا تھا۔‘‘نوروز غصُے کا اظہار کرتا رہا اور وہاب شادی کی خوشی میں مزے سے دانت نکالتا رہا۔

’’زمانہ بدل گیا مگر ایک میرا یار نوروز جہانگیر خود کو نہ بدل سکا۔ ویسا ہی چڑچڑا، ویسا ہی بددماغ اور ذرا سا بے وقوف۔ بات بات پر جلنا کڑھنا، تیری پرانی عادت ہے۔ اسی لےے تو کھایا پیا لگتا نہیں۔‘‘ وہاب نے ایک زوردار دھپ اس کے لگاتے ہوئے سرتاپا اس کا جائزہ لیا۔

لمبا قد، دبلی پتلی جسامت، سانولی رنگت اور چہرے پہ ہمہ وقت نظر آتی بے زار کن کیفیت جو شاذ و نادر ہی خوشگواریت میں بدلتی تھی اور یہ خوشگواریت اس کے چہرے پہ کتنی اجنبی سی لگتی تھی۔ یوں جیسے کسی خزاں رسیدہ ٹنڈ منڈ درخت پر کوئی بے موسم کاپھل کھل اٹھا ہو۔

وہ اس قدر بے ہودہ القابات پر ناراض سا منہ پھلائے بیٹھا تھا جب مہندی کی رسم کا بلاوا آیا۔ وہاب سب کچھ بھول بھال کر خوشی سے اچھلتا سب سے پہلے لپکا تھا۔ اس کے بقیہ دوست پیچھے سے آوازیں لگا لگا کر اسے غیرت دلانے کی ناکام کوشش کرتے رہے مگر وہ ان کو منہ چڑاتا خود ہی جاکر سجی سجائی کرسی پہ جا بیٹھا تھا۔

یہ اور بات کہ مہندی کی رسم کرتے ہوئے اس کے سسرال والوں نے اس کی وہ درگت بنائی تھی کہ وہ دردناک چیخ و پکار کے ساتھ بیسیوں بار اٹھ کر وہاں سے بھاگا تھا۔ اور بیسیوں بار ہی اسے پکڑ کر واپس لا بٹھایا گیا تھا۔ اس موقع پر بڑی بوڑھیوں کے سوگوار اور لمبی لمبی سروں والے گیت سن کر نوجوان لڑکیاں مہندی کی رسم کا بائیکاٹ کرنے کا پروگرام بنا رہی تھیں کہ بزرگ خواتین کی وجہ سے ان کے تمام تیار کردہ گانوں کا ستیاناس ہوگیا تھا۔ وہ تو شکر ہوا کہ گاتے گاتے ان کے سانس پھول گئے، رگیں تن گئیں۔تب صورت حال سے فائدہ اٹھا کر ان بڑی بوڑھیوں کو پکڑ کر ان کی نشستوں پر بٹھایا گیا اور نوجوان لڑکیوں کو اپنے فن کے اظہار کا موقع مل گیا دنیا جہان کے گانوں کے ساتھ ساتھ وہاب کا حلیہ بھی اس بے دردی سے بگاڑا گیا تھا کہ یاران وہاب نے اسی وقت کان پکڑ کر شادی کروانے سے توبہ کرلی تھی اور غالباً اسی توبہ نے لڑکیوں کومزید اکسادیا تھا۔

’’بھائی صاحبان نے شادی سے توبہ کرلی ہے۔ تو پھر کیوں نہ آج ہی دل کے سب ارمان پورے کر لےے جائیں۔ چلو بہنو! دل کی سب حسرتیں پوری کرلو۔‘‘

کسی ایک من چلی نے بہنوں کو للکارا تھا اور پھر بدتہذیب بہنوں نے بھائیوں کو تیل میں ڈبونا اور مہندی میں دفن کرنا شروع کر دیا تھا اور بے حد شرافت کا مظاہرہ کرتا۔ ایک کونے میں دبکا نوروز ان سب کی خراب حالت پر ہنستے ہنستے بے حال ہوگیا۔ تب ہی ایک محترمہ کی نظر اس پر پڑ گئی۔ وہ اپنی ہنسی کو بریک لگاتا وہاں سے کھسکنے ہی والا تھا جب پوری فوج ظفر موج اس کے سر پہ آن کھڑی ہوئی تھی۔

’’دیکھیں جی، اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔‘‘ وہ گڑبڑاگیا تھا۔

’’اجی تو ہم نے کب کہا کہ وہاب کی شادی میں آپ کا کوئی قصور ہے۔‘‘

’’مم میرا مطلب ہے، میں بہت دور سے آیا ہوں اور آپ کو بتادوں کہ میں اس قسم کے مذاق بالکل پسند نہیں کرتا۔‘‘ اس نے دانستہ تیوریاں ڈال کر خود کو بہت سنجیدہ و رنجیدہ ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی مگر مخالفین پر اس کا بالکل الٹ اثر ہوا تھا۔

’’اس قسم کے مذاق پسند نہیں تو پھر کس قسم کے مذاق پسند ہیں آپ کو اور بائی دا وے، ہمیں بھی تو معلوم ہو آپ کتنی دور سے آئے ہیں۔‘‘ سبز لہنگے والی نے آنکھیں نچاتے ہوئے پوچھا تو جواب سرخ سوٹ والی نے دیا تھا۔

’’میرا خیال ہے، کوہ قاف سے آئے ہیں۔‘‘

’’کوہ قاف میں یا تو جن ہوتے ہیں یا پریاں۔‘‘ ان کا تعلق کس مخلوق سے ہے۔‘‘ زرد پشواز والی خود کو معصوم ثابت کرنے پر تلی ہوئی تھی۔

’’پری زاد تو یہ ہونے سے رہے، دوسری مخلوق کے جانشین ہی لگ رہے ہیں۔‘‘ کسی نے اندازہ لگایا تھا اور اس کے ساتھ ہی نسوانی قہقہے محفل کو کشت زعفران بنا گئے تھے۔

’’دیکھےے، اب آپ بد تمیزی کر رہی ہیں۔‘‘ اس نے غصہ دکھانا چاہا۔

’’کیا؟ بدتمیزی، بدتمیزی تو ہم اب دکھائیں گے آپ کو۔‘‘ کوئی غصے سے چیخ کر بولی تھی۔

رنگ برنگے زرتار پہناووں سے جہاں اس کی آنکھیں چندھیا گئی تھیں وہاں ظالم تیکھے نقوش کی قاتل ادائوں اور تیغ صفت قہقہوں نے ہوش و حواس بھی معطل کر دےے تھے اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے بچائو کا کوئی معقول طریقہ سوچتا، کتنے ہی نازک ہاتھ ایک ساتھ اس کی طرف بڑھے تھے اور لمحوں میں اس کا وہ حلیہ بنا گئے تھے کہ شرمندگی سے اپنا چہرہ چھپاتا وہ اس محفل سے ہی نہیں گھر سے بھی باہر نکل گیا تھا۔

’’آخر ضرورت ہی کیا تھا یہاں آنے کی، چلو آہی گئے تو کیا ضرورت تھی رسم مہندی میں شرکت کرنے کی۔ معلوم تھا وہاں اس کمینے وہاب کا سارا خاندان جمع ہوگا اور اس کا خاندان ظاہر ہے ویسا ہی ہوسکتا ہے جیسا کہ ہونا چاہےے، کسی اچھی توقع کی امید؟ توبہ کیجےے انسانیت تو نام کو نہیں۔‘‘

وہ با آواز بلند ان کو کوستا، بڑبڑاتا یونہی کشادہ گلیوں میں مارچ کرتا رہا ار پھر دل کی بھڑاس خوب اچھی طرح نکال کر الیکٹرک پول کی زرد مردہ روشنی میں کسی مکان کے پختہ تھڑے پہ بیٹھ کر اپنے چہرے اور گردن سے ابٹن چھڑانے لگا، بالوں میں ہاتھ پھیرا تو شدید چپچپاہٹ کا احساس ہوا۔

’’بدبختوں نے تیل بھی جی بھر کے انڈیلا ہے۔‘‘ اس نے دانت پیستے ہوئے گردن اونچی کر کے دیکھا۔ وہاب کے گھر کی تیسری منزل پہ جلتی روشنیاں یہاں سے بخوبی دکھائی دے رہی تھیں۔ بلکہ اسے تو وہ چیخم دھاڑ، شور شرابا بھی بخوبی سنائی دے رہا تھا جو اس وقت وہاں بپا تھا یا شاید کان ہی بج رہے تھے۔ اس نے زور زور سے دونوں کانوں کو کھجا کر گویا ان کی کارکردگی بحال کی اور اپنے ارد گرد پھیلے رات کے سناٹے کو محسوس کرنے لگا تھا۔

رات کا دوسرا پہر چل رہا تھا۔ ہوا میں قدرے ٹھنڈک سی آگئی تھی اور کسی گھر میں لگے نازبو کی مہک پورے ماحول میں رچی بسی ہوئی تھی۔ پول کی نیم جان سی روشنی کے گرد منڈلاتے کئی پروانے ابتر حالت میں اس کے آس پاس گر رہے تھے۔ اس نے یونہی اطراف میں دیکھتے ہوئے قمیص کا دامن اٹھا کر ایک بار پھر اپنے چہرے کو رگڑا۔ تب ہی سڑک کے پار ایک گھر کے سامنے لگے پیپل کے تین درخت ایک قطار میں کھڑے تھے۔ وہ چونکا تھا بہت بری طرح، بلکہ ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

پیپل کے تین درخت ایک ہی قطار میں، اس کے عین سامنے سیمنٹ کے تھڑے والا سرخ دروازوں والا گھر ’’ثمینہ پھوپھو اور اسماعیل پھوپھا کا گھر۔‘‘ وہ بجلی کی سی تیزی سے پلٹا تھا اور ایک لمحے کے لےے ساکت رہ گیا تھا۔ وہ سیمنٹ کے بنے ہوئے تھڑے پہ بیٹھا تھا جو جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا تھا اور اس کے سامنے دو دروازے تھے۔ سرخ رنگ کے دروازے، دائیں طرف کا دروازہ صحن میں کھلتا تھا۔ بائیں طرف کا ڈرائنگ روم میں اور ان کے درمیان بڑی سی جالی کی کھڑکی تھی جس کے ذریعے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر باہر کا منظر بخوبی دیکھا جاسکتا تھا اور یہیں سے پھوپھو سبزی، فروٹ والے کو آواز دے کر روکا کرتی تھیں اور یہ سب باتیں اسے کسی نے نہیں بتائی تھیں۔ بس شعور کی سطح پر ایک کے بعد ایک نقش ابھرتا چلا گیا۔

وہ اس وقت پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا جب تایا ابا کے ساتھ پہلی اور شاید آخری مرتبہ ثمینہ پھوپھو کے ہاں آیا تھا۔ وہ غالباً اس وقت بیمار تھیں۔ اس لےے بہت زرد اور پژمردہ دکھائی دے رہی تھیں۔ نوروز کو دیکھتے ہی انہوں نے بے تابی سے اسے گود میں لے لیا تھا اور جب آنسوئوں کے بڑے بڑے قطرے ایک تواتر سے ان کی آنکھوں سے بہنے لگے تھے تو وہ ہراساں سا ہوکر ان کی گود سے اتر کر تایا جان کے پہلو میں بیٹھ گیا تھا۔ جب سے امی فوت ہوئی تھیں تب سے وہ بہت حساس اور زود رنج سا ہوگیا تھا۔ خود اسے بہت کم رونا آتاتھا مگر جب بہت سے دوسرے لوگ اسے پیار کرتے ہوئے وہ خوامخواہ ہی آنسو بہانے لگتے تھے تو اسے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔سینے پر بے تحاشا بوجھ پڑ جاتا تو پھر وہ کئی کئی دن تک بالکل گم صم ہو کر رہ جایا کرتا تھا اور اس وقت پھوپھو کو روتے دیکھ کر اس کا دل چاہا تھا کہ وہ اس سوگوار ماحول سے بہت دور چلا جائے۔

’’یوں رو رو کر خود کو ہلکان مت کرو ثمینہ! اب قسمت کے لکھے کو کون بدل سکتا ہے۔‘‘ تایا ابا نے انہیں تسلی دینی چاہی تھی۔

’’کیسے نہ روئوں بھیا؟ بھابھی بیگم کو تو خدا نے ہم سے چھین لیا تھا۔ مگر بھائی صاحب پرائی عورت سے دل لگاتے ہوئے انہیں نوروز اور سویرا کے متعلق تو سوچنا چاہےے تھا۔ اب یہ بے چارے کہاں در در کی ٹھوکریں کھاتے پھریں گے۔‘‘ ان کے رونے میں شدت آگئی تھی۔

’’خدا نہ کرے ثمینہ! جو یہ در در کی ٹھوکریں کھائیں۔ میں ہوں ناں بھابھی بیگم کو ہمیشہ چھوٹی بہن سمجھا تھا۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہیں، تو ان دونوں کو ان کی نشانی سمجھ کر سینے سے لگالوں گا۔ تم دیکھ لینا ثمینہ! نوروز میرے لےے سلیمان، ارسلان اور اظفر سے بڑھ کر ہوگا۔ سویرا کو کبھی سدرہ سے کمتر جانوں تو جو چاہے سزا سنا دینا۔‘‘

تایا ابا نجانے کن باتوں میں الجھ گئے تھے۔ وہ اکتایا اکتایا سا اٹھ کر باہر چلا آیا، دھلا دھلا صحن یہاں سے وہاں تک بالکل خالی تھا۔ وہ داہنی دیوار کے ساتھ بنی کیاری کے پاس آ بیٹھا۔ جہاں نہایت باریک سبز پتوں والی بیل کاسنی اور گلابی رنگ کے پھولوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ چند لمحے پھولوں سے چھیڑ خانی کرتا رہا پھر کونے میں لگے لیموں کے پیڑ کا جائزہ لینے لگا۔ تب ہی کسی بچے کے رونے کی آواز کانوں میں پڑی تو بری طرح چونک گیا۔

’’یہ کون ہوسکتا ہے؟‘‘ وہ دبے دبے پائوں اٹھاتا دوسرے کمرے کی طرف آگیا اور وہاں سفید فراک میں ملبوس بچی کو بری طرح روتے دیکھ کر وہ گھبرا سا گیا تھا۔ وہ تقریباً سویرا جتنی ہی تھی اور اسی کی طرح چیخ چیخ کر رو رہی تھی۔ تب ہی نوروز کے پیچھے ہلکا سا کھٹکا ہوا، اس نے پلـٹ کر دیکھا پھوپھو ستا ستا چہرہ لےے کمرے میں داخل ہورہی تھیں۔

’’نوروز! ادھر کیوں کھڑے ہو بیٹا! یہاں آکر بیٹھو نا۔‘‘

پھوپھو نے ایک الماری کھول کر اس میں سے بسکٹ اور بہت سی ٹافیاں نکال کر اس کے سامنے رکھ دی تھیں اور خود اس بچی کو بہلانے لگی تھیں نو روز تایا ابا کے ساتھ صرف دو دن وہاں رکا تھا اور دو دنوں میں اسماعیل پھوپھا نے اسے بہت سیر کروائی تھی۔ گھر آتا تو پھوپھو خاطر مدارات پر کمر بستہ ہوجاتیں۔ تایا ابا ٹوکتے رہتے۔

’’تم بیمار ہو ثمینہ! ہم صرف تمہیں دیکھنے، تم سے باتیں کرنے آئے ہیں خوامخواہ خود کو ہلکان مت کرو۔‘‘ اور جواباً ثمینہ پھوپھو ہولے ہولے مسکراتی رہی تھیں۔

’’آپ کون سا روز روز آتے ہیں بھیا! اور اب آئے ہیں تو جی چاہتا ہے، اگلی پچھلی ساری کسریں نکال دوں۔‘‘

’’بس کام کی مصروفیت۔۔۔ مگر تم مطمئن رہو۔ آئندہ آتا جاتا رہوں گا۔‘‘

تایا ابا نے دل سے کہا تھا مگر آئندہ آنے جانے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ بس ایک بار جانا پڑا تھا انہیں، جب ثمینہ پھوپھو کے انتقال کی خبر آئی تھی۔ چھوٹی چچی گھر میں بچوں کے پاس رہیں، باقی سب بڑے وہاں پہنچ گئے تھے اور وہاں سے واپس آنے کے بعد اس نے تایا ابا کو بہت مضمحل اور تائی اماں کو بے قراری سے روتے دیکھا تھا۔

’’ارے الو کی دم! تو یہاں کھڑا ہے، لا حول ولا قوۃ اور ادھر میں پورے شہر میں تجھے ڈھونڈتا پھر رہا ہوں۔‘‘

کمر پر لگنے والی کراری سی دھپ نے ڈھیلے ڈھالے کھڑے نوروز کو کئی قدم آگے لڑھکا دیا تھا۔ بے اختیار ہی سنبھلتے ہوئے اس نے پلٹ کر دیکھا وہاب خشمگیں نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا۔

’’کون سا خزانہ دفن ہے ان بند دروازوں کے پیچھے جو آدھی رات کو یہاں کھڑے چلُہ کاٹ رہے ہو۔‘‘

’’بکواس نہیں کرو یار!‘‘ وہ جھینپ سا گیا۔

’’ٹھیک ہے نہیں کرتا مگر یہ تو بتائو، یہ کیا حرکت کی ہے تم نے قسم خدا کی، شرمندہ کروا دیا سب کے سامنے۔ بھئی اس قسم کی تقریبات میں تو ایسے ہزار موقع آتے ہیں، تم کیا ہر دفعہ یونہی گھر سے بھاگ نکلو گے اور جانتے ہو پیچھے ہم لوگ کس قدر پریشان تھے۔ سارا گھر چھان مارا اور پھر دیوانوں کی طرح ان سڑکوں، گلیوں میں بھاگتا پھرا کہ کہیں میرا یار اجنبی شہر میں کھو گیا تو میری تو شادی بیچ میں ہی رہ جائے گی۔‘‘

وہاب ناراضی سے بولتا رہا اور نوروز غائب دماغی سے سنتا رہا۔ ذہن در حقیقت ان بند کواڑوں کے پیچھے بکھری یادوں کو سمیٹ رہا تھا۔

’’اب چلتے ہو یا چلُے کا وقت ابھی باقی ہے۔‘‘ نو روز نے پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا، ناراضی سے پھولا ہوا منہ بالکل غبارے کی طرح، تیل میں بھیگے بال ماتھے سے چپکے ہوئے تھے، ملگجا لباس جگہ جگہ مہندی سے رنگا ہوا۔۔۔ پیروں میںدو رنگی چپل۔۔۔ وہ واقعی بہت پریشانی میں گھر سے نکلا تھا، نوروز نے ایک طویل سانس لے کر پلٹ کر دیکھا۔ سرخ دروازے پر نیم پلیٹ لگی ہوئی تھی اس نے آگے بڑھ کر آنکھیں سکیڑیں۔

’’اسماعیل حسن B iv 698 ‘‘ زیر لب پڑھ کر دل ہی دل میں دہراتا وہاب کی طرف پلٹا۔

’’یہ میرے پھوپھا جان کا گھر ہے۔‘‘ وہ وہاب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلنے لگا۔

’’ہیں کیا واقعی؟‘‘ وہاب ٹھٹکا تھا۔

’’ہاں۔‘‘

’’کمال ہے، مجھے تو علم ہی نہیں تھا ورنہ اسماعیل صاحب سے تو میں اچھی طرح واقف ہوں۔ بہت ہی بھلے انسان ہیں۔‘‘ وہاب اس سے ان کے متعلق باتیں کرنے لگا تھا اور یونہی چلتے چلتے وہ وہاب کے گھر تک پہنچ گئے تھے۔ گھر میں داخل ہونے سے پہلے اس نے رک کر وہاب سے معذرت کرنی چاہی تو وہ سر جھٹک کر رہ گیا۔

’’غصہ تو وہ کرے جسے تمہاری عادت کا علم نہ ہو اور میں تو اچھی طرح جانتا ہوں۔ بات بعد میں ہوتی ہے موصوف خفا پہلے ہوجاتے ہیں۔‘‘

وہاب نے اسے اندر دھکیلا تو وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا آیا تھا۔ مگر وہ تو وہاب تھا، اس کی رگ رگ سے واقف، یوں ظاہر کر گیا تھا جیسے مسئلہ ہی کوئی نہ ہو، باقی سب نے البتہ اس کا خوب ریکارڈ لگایا تھا۔

’’بھئی، وہاب کے دوستوں سے چائے پانی کاپوچھ لو مگر ذرا خیال سے مزاج بہت نازک ہےں۔‘‘

’’خبردار! سب لوگ تمیز کے دائرے میں رہیں ورنہ لوگ گھر سے بھاگ نکلیں گے۔‘‘

’’وہاب بھائی! ہم ذرا شرارت کے موڈ میں ہیں۔ دیکھ لیجےے مزاج یار برہم تو نہیں۔۔۔؟‘‘

ہر کسی نے اپنے اپنے انداز میں اس پر طنز کیا تھا۔ وہاب کی گھوریوں نے اکثریت کو خاموش تو کروادیا تھا مگر وہ کچھ مزید چپ ہوگیا تھا۔ بچپن کے اندوہناک حادثات نے اس کی شخصیت میں نجانے کیسے خلا پیدا کر دےے تھے کہ جو بھرنے میں ہی نہ آتے تھے۔

پہلے ماں کی تکلیف دہ بیماری کے بعد موت پھر باپ کی دوسری شادی اور پھر اس کی موت، رشتہ داریا،ںہمدردیاں، ترحم بھری نظریں، مصنوعی دلاسے، جھوٹی تسلیاں وہ سب سے چھپ کر اندر ہی اندر سمٹتا چلا گیا۔

اور اب کبھی کبھی اس کا دل چاہتا تھا وہ بھی عام لوگوں میں گَھل مل کر بیٹھے، چھوٹی چھوٹی بے تکی باتوں پر بے ہنگم قہقہے لگائے۔ چیخے دھاڑے کبھی خوش ہو، تو اچھل اچھل کر اپنی خوشی کا بے ساختہ اظہار کرے، کبھی ناراض ہو تو واضح طور پر دکھائی دے مگر ایسا کبھی نہیں ہوا تھا، خوشی ہو یا غم غصہ،پریشانی تھکان ہو یا کام کرنے کی دھن۔

وہ ہر کیفیت میں بس ایک سا ہی دکھائی دیتا تھا۔

الجھا الجھا، کھویا کھویا، گم صم۔

جذبات اس کے اندر سر پٹختے رہتے کسی ڈوبتے مسافر کی طرح جو باوجود کوشش کے سطح آب پر نہ ابھر سکتا ہو۔

دل کے موسم بدلتے رہتے مگر چہرے کے بھلے سے نقوش میں بس ایک ہی کیفیت سمائی رہتی تھی، وہی اکتاہٹ بھری بے زاری جسے دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ اس دنیا سے، اس کے لوگوں سے، اس کے شب و روز اور صبح و شام کے دھندوں سے بچ کر کہیں دور بھاگ جانا چاہتا ہو مگراس کے باوجود وہ ہر کام کرتا ہوا نظر آتا۔ ہر وہ کام جو اس گھر میں کوئی دوسرا فرد نہیں کرتا تھا، وہ نوروز کو کرنا پڑتا تھا اور وہ کیا کرتا تھا۔

بغیر کسی جھجک کے، بغیر ہچکچاہٹ کے، کسی روبوٹ کی طرح۔

اور کبھی کبھی سویرا بہت حیرت سے اس سے پوچھا کرتی تھی۔

’’نوروز بھائی! آپ تھکتے نہیں؟‘‘ اور وہ ایک خاموش سی نگاہ اس پر ڈال کر بغیر کوئی جواب دےے پھر سے کسی کام میں مشغول ہوجاتا تھا۔

اور خود اسے کئی بار اپنا آپ ایک ایسے گلیشئر کی مانند لگا کرتا تھا جس پر سورج کی شعاعیں اپنی تمامتر تمازت کے ساتھ حملہ آور ہوئی ہوں۔ اندر سے سب پانی بن کر بہہ نکلا ہو، مگر بظاہر کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی ہو۔

یا پھر وہ زمین کا ایک ایسا بنجر ٹکڑا بن چکا تھا جس پر تمام موسم بہت شدتوں کے ساتھ وارد ہوئے ہوں مگر اس کی سطح پر کوئی پھول اگا ہو نہ کسی کونپل نے سر اٹھایا ہو۔ بس نچلی کسی تہ میں کوئی سبزہ سا پھوٹ نکلا ہو زندگی ہر روپ میں اس کی روح پر برسی تھی مگر اس کے منجمد ٹھہرے ہوئے اعصاب پر اثر انداز نہ ہوسکی تھی۔

وہ خوش ہوتا تھا مگر مسکراہٹ اس کے لبوں پر نہ پھیلتی تھی، اس کا دل دکھ سے بھر جاتا مگر آنکھ آنسوئوں سے نا آشنا رہتی، کبھی بہت غصہ آتا تو ماتھے پہ چند ایک تیوریوں کا اضافہ ہوجاتا اور بس، وہ اپنے تاثرات کے اظہار اور اپنی کیفیتوں کے بیان کے سلسلے میں خود کو قطعی طور پر بے بس محسوس کرتا تھا۔

وہ سب کی سنتا تھا مگر اپنی کہنا اس کے لےے بے حد دشوار تھا۔

اور وہاب کی شادی میں اس پر طنز کرنے والے اس کی گہری خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے خود بخود چپ کر گئے تھے۔

٭٭٭

بارات کی واپسی کا وقت سات بجے کا تھا۔ مگر وہ لوگ نو، ساڑھے نو بجے گھر پہنچے تھے۔ دلہن کی آمد پر سب لوگوں میں ہلچل سی مچی ہوئی تھی۔ نجانے کون کون سی رسمیں ادا کی جارہی تھیں۔ وہاب اپنے کزنز میں پھنسا بیٹھا تھا۔ خوب ہنسی مذاق ہورہا تھا پورے دن کی بھاگ دوڑ کے بعد بھی سب لوگ اتنے فریش نظر آرہے تھے جتنے صبح روانگی سے قبل تھے۔ ان ہنستے کھلکھلاتے لوگوں کے درمیان اسے اپنا وجود بہت بے معنی سا لگ رہا تھا۔ سو وہ اٹھ کر باہر لان میں چلا آیا، یہاں مرد حضرات کرسیاں ڈالے بیٹھے تھے۔ ان لوگوں کا فی الحال سونے کا کوئی ارادہ نہیں لگ رہا تھا۔ جبکہ اس کا تھکن، نیند اور بھوک کے مارے برا حال ہورہا تھا۔

کل رات بھی شور اور ہنگامے کے باعث وہ ٹھیک طرح سے سو نہیں پایا تھا۔ سو وہ وہاب کے کسی کزن سے کہتا ہوا باہر نکل آیا تھا۔ اس کا رخ سیدھا اسماعیل پھوپھا کے گھر کی طرف تھا۔ وہ آج کی رات پرسکون اور بھرپور نیند لینا چاہتا تھا تاکہ اگلی صبح ولیمے میں شرکت کے بعد واپسی کا سفر اختیار کر سکے۔

اسماعیل پھوپھا کے گھر کے قریب پہنچ کر اس نے کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھا۔ دس بج رہے تھے۔ سرخ دروازوں کے دوسری جانب مکمل خاموشی تھی۔ا س چھوٹے سے آنگن کے مکین بہت جلد سو جانے کے عادی تھے۔ چند لمحے تذبذب کے بعد اس نے ڈور بیل پہ ہاتھ رکھ دیا تھا۔ تیسری بیل پر دروازے کے پیچھے قدموں کی آہٹ سنائی دی تھی۔ اس نے جیب میں رکھے کاغذ کو تھپتھپا کر اس کی موجودگی کا یقین کیا اور پھر منتظر نگاہیں دروازے پر جمادیں۔

دروازہ کھلنے کے بعد جو شخص سامنے آیا تھا، اس پر گزرتے وقت نے اگر چہ بہت سی نشانیاں چھوڑ دی تھیں، مگر اس کے باوجود وہ بخوبی انہیں پہچان گیا تھا۔

’’کون ہو میاں؟‘‘ انہوں نے بغور اسے دیکھتے ہوئے خمار آلود لہجے میں استفسار کیا تھا۔ اس نے تعارف کروانے کے بجائے تایا ابا کا دیا ہوا خط ان کی طرف بڑھا دیا تھا وہ خط لے کر چند لمحوں کے لےے دروازے کے پیچھے غائب ہوگئے تھے اور جب واپس پلٹے تو ان کا جوش و خروش دیدنی تھا۔

’’نوروز میاں! حد کرتے ہو تم بھی۔ دن کی روشنی میں کیوں نہ آئے؟ اب تو میں تمہیں ٹھیک طرح سے دیکھ بھی نہیں پارہا۔‘‘ انہوں نے بازو سے پکڑ کر اسے اندر کھینچا اور تاریکی سے نکال کر ایک دم روشنی میں لاکھڑا کیا تھا۔

’’ماشائ اللہ، بہت بڑے ہوگئے ہو مگر میں تمہارے بچپن کی شبیہ ابھی بھی تم میں دیکھ رہا ہوں۔‘‘

انہوں نے بغور اسے دیکھا تو وہ جھینپ سا گیا تھا۔ پھوپھا جان اسے لےے کمرے میں چلے آئے تھے۔ صحن کے عین وسط میں دو چارپائیاں بچھی تھیں۔ ایک چارپائی خالی تھی دوسری پر چادر میں لپٹا وجود محو خواب تھا۔ وہ نظریں جھکائے قریب سے گزر گیا۔ پھوپھا جان اسے کمرے میں بٹھا کر خود باہر نکل گئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد واپس آئے۔

’’نوروز بیٹا! کھانا تو کھائو گے نا۔۔۔؟‘‘ انہوں نے پوچھا ۔

’’جی نہیں۔ کھا کر آیا ہوں۔‘‘ وہ جی ہاں کہتے کہتے نجانے کیوں جھجک سا گیا تھا حالانکہ حقیقت تو یہ تھی کہ آج دوپہر میں اس نے چائے کا کپ اور ایک آدھ پیٹز لے کر ہی کام چلایا تھا اور ڈنر کی نوبت ابھی تک آئی ہی نہیں تھی۔

’’اچھا، اچھا نایاب بیٹی! چائے بنالو۔ چائے تو پیو گے نا۔۔۔؟ انہوں نے پہلی بار آواز لگائی پھر خوش دلی سے اس سے مخاطب ہوئے۔

وہ بس ہلکا سا مسکرا کر رہ گیا تھا۔ پھر کچھ دیر یونہی باتوں کا دور چلا پھوپھا جان اس سے ایک ایک کے متعلق پوچھتے رہے۔

’’پھوپھا جان! آپ بہت بوڑھے ہوگئے ہیں۔‘‘ اس نے اچانک کہا تو وہ ذرا سا چونکے تھے اور پھر مسکرا دےے تھے۔

’’تم بھی تو جوان ہوگئے ہو میاں۔‘‘ انہوں نے جیسے گزرے ہوئے وقت کا احساس دلانا چاہا تھا۔ ’’وقت کی چاپ سنائی نہیں دیتی بیٹا! دبے پائوں گزرتا ہے۔ ہم کو احساس ہی نہیں ہوپاتا اور جب ہوتا ہے تو ہی معلوم پڑتا ہے کہ ہم تو اپنے پیچھے کئی زمانے چھوڑ آئے اور میں تو اسی دن بوڑھا ہوگیا تھا جس دن تمہاری پھوپھو مجھے تنہا چھوڑ گئی تھی۔‘‘ ان کے ناتواں سے لہجے میں ہلکی سی اداسی در آئی تھی۔

’’ان کے بغیر زندگی جینا کچھ اتنا آسان نہیں تھا بیٹا۔‘‘

ان کی افسردگی کو محسوس کرتے ہوئے خود اس کا دل بھی بھر آیا تھا۔ نجانے کتنے لمحے چپ کی قید میں پھڑپھڑاتے ہوئے گزر گئے۔ پھوپھا جان کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے تھے۔ چونکے تو اس وقت جب کہیں قریب ہی برتنوں کی کھنک سنائی دی۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا وہ دروازے میں ہی کھڑی تھی۔ اس کی جھجک کو محسوس کر کے وہ غیر ارادی طور پر نظریں اپنے ہاتھوں پہ جما گیا تھا۔

’’آجائو نایاب!‘‘ پھوپھا جان نے پکارا تو وہ اندر چلی آئی۔

’’یہ تمہارے جہانگیر ماموں کا بیٹا ہے۔‘‘ انہوں نے غالباً تعارف کروانا چاہا تھا۔

’’جی ہاں، آپ مجھے بتا چکے ہیں ابا۔‘‘ اس کے قدرے لاپروا سے انداز پر پھوپھا جان ذرا مسکرا دےے تھے۔

’’یہ نایاب ہے۔ کافی چھوٹی تھی جب تم نے اسے دیکھا، کیوں نوروز؟‘‘

’’جی، جی بالکل۔‘‘ اس نے ذرا کی ذرا اس کی طرف دیکھا اور پھر اپنی طرف بڑھا چائے کا کپ تھام لیا۔

’’نایاب! نوروز کے لےے صحن میں ہی بستر لگادو۔‘‘

’’جی۔‘‘ وہ ستے ستے سے لہجے میں کہتی باہر نکل گئی۔ اسے شاید نیند سے اٹھنا اچھا نہیں لگا تھا، اسی لےے پورے صحن میں سٹر پٹر پھر رہی تھی۔ وہ شرمندہ سا ہو کر رہ گیا۔

’’میرا خیال ہے، مجھے صبح آنا چاہےے تھا۔‘‘

’’نہیں۔۔۔ کیوں؟ ارے بھئی، تمہارا اپنا گھر ہے، اچھا یہ دہی بڑے لو، شام کو بنائے تھے۔‘‘

انہوں نے پرخلوص انداز میں اصرار کیا اور یوں آدھی رات تک وہ دہی بڑے، بسکٹ اور چائے کے ساتھ پیٹ پوجا کرنے کے بعد باتوں میں مصروف رہا۔ آخر پھوپھا جان کو ہی خیال آیا تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے ان کے برابر چارپائی پہ لیٹتے ہوئے اسے بے تحاشا تھکن کا احساس ہوا تھا اور اسی تھکن کے زیر اثر بہت جلد وہ گہری نیند میں تھا۔

اور پھر رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب کسی نے اسے بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ اس قدر مدہوش تھا کہ چند لمحے یہ سب اسے محض ایک خواب سا محسوس ہورہا تھا۔ مگر پھر یک دم ہی حواس بے دار ہوئے۔ اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں اور اس کے اوپر جھکا سایا اس سے کئی قدم دور ہٹ گیا تھا۔ وہ ہڑبڑا کر سیدھا ہو بیٹھا۔ سامنے کھڑی لڑکی اس سے نجانے کیا کہہ رہی تھی۔ چند ثانےے کے لےے اس کا ذہن سمجھ ہی نہ پایا کہ وہ اس وقت کہاں ہے؟ سامنے کھڑی لڑکی کون ہے؟

مگر پھر ایک جھماکا سا ہوا۔ اسے خیال آیا، وہ رات پھوپھا جان کے گھر آیا تھا۔

’’جلدی کیجےے نا، آپ اٹھ کیوں نہیں رہے؟ دیکھےے، ابا جان کو کیا ہوگیا ہے؟‘‘ وہ متوحش سی کھڑی تھی۔

’’کیا ہوا؟ کہاں ہیں پھوپھا جان؟‘‘ وہ بجلی کی سی تیزی سے چارپائی سے نیچے اتر آیا تھا اور پھر یونہی ننگے پائوں ڈگ بھرتا اس کے ساتھ کمرے تک چلا آیا تھا۔ جہاں پھوپھا جان سینے پہ ہاتھ رکھے درد کی شدت سے بے حال ہوئے پڑے تھے۔

’’ارے پھوپھا جان! کیا ہوا؟‘‘ اس نے فوراً انہیں کندھوں سے پکڑ کر سیدھا کرنے کی کوشش کی مگر وہ نڈھال ہوتے ہوئے بار بار گود میں رکھے تکےے پہ جھکے جارہے تھے۔

’’پہلے تو معمولی سا درد ہورہا تھا جب ابا نے مجھے جگایا۔ میں نے پانی پلایا، چائے بنا کر دی مگر۔۔۔‘‘ نایاب جیسے رونے کو تھی، چائے کاکپ جوں کا توں بھرا ہوا میز پہ پڑا تھا۔ وہ دونوں نجانے کب سے جاگ رہے تھے اور اسے خبر ہی نہ ہوسکی، وہ دل ہی دل میں شرمندہ ہونے لگا۔

’’کیا پہلے بھی ایسا ہوا کبھی۔۔۔؟‘‘

’’نہیں۔ پہلے تو کبھی نہیں ہوا۔ ہے نا ابا جان؟‘‘ وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے فوراً پھوپھا جان سے تصدیق کروانے لگی۔

’’آس پاس کوئی ڈاکٹر؟‘‘ پھوپھا جان کی بگڑتی حالت کے پیش نظر وہ خاصا پریشان ہوگیا تھا۔ ظاہری حالت صاف صاف ہارٹ اٹیک کی طرف اشارا کر رہی تھی۔

’’نہیں۔ بس ایک کلینک ہے مگر وہ تو رات نو بجے کے بعد بند ہوتا ہے۔ آپ ایسا کریں، ہمسائے سے احسان انکل کو بلا دیں، پلیز جلدی کریں۔‘‘ وہ پھوپھا جان کا ہاتھ پکڑے بیٹھی تھی۔

نوروز فوراً باہر کو لپکا۔ کوئی پانچویں گھنٹی پر احسان صاحب خاصے خوفناک تیوروں کے ساتھ باہر آئے مگر صورت حال سنتے ہی اس کے ساتھ بھاگے چلے آئے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی نایاب کی چیخ و پکار نے اس کے پائوں کی مٹی چھڑا دی تھی۔ عجلت میں کمرے تک پہنچتے پہنچتے وہ نجانے کن کن چیزوں سے ٹکراتا آیا تھا۔ پھوپھا جان چارپائی پہ آڑے ترچھے انداز میں پڑے تھے، اور نایاب نے رو رو کر اپنی حالت خراب کر لی تھی۔ وہ دم بخود سے انداز میں اپنی جگہ کھڑا رہ گیا تھا۔ یوں لگا ماضی کا کوئی بے رحم لمحہ نکل کر سامنے آکھڑا ہوا ہے۔

’’ارے یہ صرف بے ہوش ہیں، نایاب بیٹی! سنبھالو خود کو۔۔۔‘‘ احسان صاحب پھوپھا جان کی نبض پر ہاتھ رکھے کہہ رہے تھے۔ نایاب بے یقینی سے انہیں دیکھنے لگی۔

’’انہیں ہاسپٹل لے جانا ہوگا، میں گاڑی نکالتا ہوں۔‘‘ احسان صاحب اس کے قریب سے گزرتے چلے گئے تب اس کی ساکت وجود میں جنبش ہوئی۔ وہ آگے بڑھا۔ نایاب باپ کا ہاتھ دیوانہ وار چومتے ہوئے ابھی بھی روئے چلی جارہی تھی۔ اس نے پھوپھا جان کو سیدھا کر کے لٹایا اور جب تک احسان صاحب نے گاڑی نکالی۔ وہ نایاب کی مدد سے انہیں باہر لے آیا تھا۔ پچھلی سیٹ پر انہیں لٹا کر وہ باہر نکلا تو نایاب ساتھ جانے کو تیار کھڑی تھی۔

’’اس وقت آپ کا جانا مناسب نہیں۔ یوں بھی گھر کھلاپڑا ہے۔ ہمسائے سے کسی خاتون کو بلا لیجےے۔ ہم ابھی واپس آجائیں گے۔‘‘

’’مگر۔‘‘ نایاب تڑپ کر اس کے پیچھے بھاگی مگر وہ گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔ احسان صاحب نے گاڑی اسٹارٹ کی اور پھر آگے ہی آگے بڑھاتے چلے گئے۔ وہ گم صم سی اندھیرے میں کھڑی رہی اور جب گاڑی نظروں سے اوجھل ہوگئی، تب وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔

وہ ڈاکٹر سے مل کر واپس آیا تو احسان صاحب گردن کندھے پر گرائے اونگھ رہے تھے۔اس کے پکارنے پر ہڑبڑا کر سیدھے ہو بیٹھے۔

’’کیا کہا ڈاکٹر نے۔۔۔؟‘‘

’’وہی ہارٹ اٹیک، خاصا شدید تھا مگر اللہ کا شکر، جان بچ گئی۔‘‘ وہ ان کے قریب بیٹھ گیا۔پھوپھا جان کو آئی سی یو میں رکھا گیا تھا۔ وہ بس انہیں دور سے ہی دیکھ سکا تھا۔

احسان صاحب اس سے مکمل تعارف حاصل کرنے لگے تھے۔ وہ خاصے بھلے انسان تھے۔ آتے ہوئے عقل مندی کی کہ اپنے ساتھ کچھ رقم لیتے آئے۔ مختلف ٹیسٹوں سے لے کر ادویات اور فیس جمع کرانے کے لےے ابھی تک وہی رقم کام آرہی تھی۔ پھر وہ لوگ نہ جانے کتنی دیر تک یونہی بیٹھے رہے۔ رات کی سیاہی صبح کے اجالے میں بدلتی چلی گئی۔ رات کی تھکے تھکے چہروں والی نرسیں اور وارڈ بوائے نظر نہیں آرہے تھے۔ ان کی جگہ فریش چہروں نے لے لی تھی۔ ہاسپٹل کی صفائی ستھرائی ہونے لگی۔ فنائل کی ناگوار مہک پورے ماحول پر حاوی ہوگئی تھی۔ نقاہت زدہ، بیمار لوگ امید و بیم کی کیفیت میں ہر آنے والے ڈاکٹر کا ہاتھ تھام لیتے تھے اور ستے ستے چہروں والے ان کے لواحقین پرہیزی کھانوں کا بندوبست کر رہے تھے۔

چائے ناشتے کا دور چل نکلا تو احسان صاحب بصد اصرار اسے اپنے ساتھ لے کر ایک چھوٹے سے ہوٹل پہ آگئے تھے۔ مگر ہاسپٹل کے ماحول نے طبیعت پر ایسا برا اثر ڈالا تھا کہ وہ بمشکل چائے کا کپ ہی پی سکا تھا۔ وہاں سے فارغ ہوئے تو احسان صاحب نے واپسی کا ارادہ کر لیاجانے سے پہلے اسے ڈھیر ساری تسلیوں کے ساتھ ایک چٹ پر اپنا فون نمبر لکھ کر دے گئے تھے۔

’’جب بھی ضرورت پڑے فوراً فون کر دینا۔ میں گھر پہ ہوں نہ ہوں میرا بیٹا وہیں ہوگا فوراً چلا آئے گا۔ میں جا کر نایاب بیٹی کو تسلی دیتا ہوں بہت فکر مند ہوگی۔‘‘ احسان صاحب چلے گئے اور وہ ہاسپٹل کی سرد دیواروں سے ٹیک لگائے اس تمام صورت حال پر غور کرتا رہا۔

شام کو احسان صاحب دوبارہ چلے آئے۔ وہ آفس سے سیدھے ادھر ہی آگئے تھے۔

’’نایاب صبح ہاسپٹل آنے کی ضد کر رہی تھی۔ میں نے شام کا کہہ کر ٹال دیا تھا۔ فی الحال وہ ان سے مل بھی نہیں سکتی۔ خوامخواہ باپ کو اس حال میں دیکھ کر خود کو ہلکان کرتی رہتی ٹھیک کیا نا میں نے؟‘‘ انہوں نے رائے لینی چاہی تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

رات وہیں ہاسپٹل میں ہی گزری اور جیسی گزری تھی بس وہی جانتا تھا۔ کراہتے سسکتے مریضوں کو دیکھ کر اس کا دل ہولتا رہا۔ ادویات کی ناگوار بو سے جی الٹنے لگا۔ صبح ہوئی تو بے آرامی اور نیند کی کمی کی وجہ سے اسے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ نرس سے سر درد کی دو گولیاں لے کر وہ ہاسپٹل سے یوں بھاگا تھا جیسے کسی قیدی کو بمشکل رہائی ملی ہو۔ ہوٹل سے آدھی ڈبل روٹی کھانے کے بعد اس نے وہ گولیاں چائے کے ساتھ نگلیں اور منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار کر خود کو ذہنی طور پر پَرسکون کرتا ہوا ہاسپٹل واپس آیا تو وہاب اپنے ایک کزن کے ساتھ اس کا منتظر تھا۔ حسب توقع وہ اسے دیکھتے ہی گلہ کرنے لگا تھا۔

’’یار! تم سے اس قدر بے گانگی کی توقع نہیں تھی۔ کم از کم ایک فون ہی کر دیتے، انسان کو ہزار قسم کی ضرورتیں پڑتی ہیں ایسے موقعوں پر، میں نہ سہی میرا کوئی دوست ہی ادھر تمہارے پاس رک جاتا۔ بہرحال اب بتائو، انکل کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘

’’خطرے سے باہر ہیں، جلد ہی وارڈ میں شفٹ کر دیں گے۔‘‘ اس نے مختصراً بتایا۔

’’ٹھیک ہے، ابھی ہیں ہم لوگ ادھر، تم گھر جائو اور ذرا اپنا حلیہ ٹھیک ٹھاک کرلو۔ کچھ دیر آرام۔‘‘

’’نہیں۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ تم کہو ولیمے کی تقریب کیسی رہی؟‘‘ نوروز نے دانستہ اس کا دھیان اپنی طرف سے ہٹایا۔

’’بہت اچھی۔ گھر ابھی بھی مہمانوں سے بھرا پڑا ہے۔ آج سسرال میں دعوت ہے۔‘‘

’’اوہ پھر تو بڑی شدت سے تمہارا انتظار ہورہا ہوگا۔ ایسا ہے کہ ابھی تو احسان صاحب آجائیں گے۔ اس لےے تم لوگ آرام سے گھر جائو۔ ضرورت پڑی تو میں تمہیں بلوالوں گا۔‘‘

’’شیور۔‘‘ وہاب کو غالباً خود بھی جانے کی جلدی تھی۔

’’ہاں، ہاں۔‘‘ نوروز نے اطمینان دلایا تو وہ جلد ہی روانہ ہوگیا۔ وہ غیر شعوری طور پر احسان صاحب کا انتظار کرتا رہا۔ مگر وہ نہ آئے اس دوران وہ کئی بار ڈاکٹر سے مل کر پھوپھا جان کی خیریت کی اطلاع لیتا رہا ایک بار انہیںدیکھنے کی اجازت بھی مل گئی تھی۔ وہ چند لمحے انہیں دیکھتا رہا۔ ان کی رنگت کافی زرد ہوگئی تھی اور نقاہت بے ہوشی کے عالم میں بھی چہرے سے عیاں تھی۔ شام کو احسان صاحب آئے۔ صبح نہ آنے پر معذرت کی اور پھر اسے زبردستی گھر بھجوا دیا۔

’’میں آج رات ادھر رکتا ہوں۔ تم اطمینان سے صبح چلے آنا۔‘‘

انہوں نے اپنائیت کا مظاہرہ کیا۔ وہ ٹیکسی کے ذریعے گھر پہنچا تو نایاب اس وقت گھر میں اکیلی تھی۔ اسے دیکھتے ہی پھٹ پڑی تھی۔

’’کیا سمجھ رکھا ہے آپ نے اپنے آپ کو۔ کل سے میری جان عذاب میں ہے اور آپ میں سے کسی کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ مجھے میرے باپ کے پاس لے جائیں۔ میں ان کی بیٹی ہوں، اتنا حق تو رکھتی ہوں نا کہ جا کر ان کی تیمارداری کر سکوں، دیکھ سکوں کہ وہ کس حال میں ہیں، ایک ایک گھڑی جس طرح میں نے کل سے گزاری ہے، وہ صرف میں ہی جانتی ہوں اور آپ لوگ اتنے بے حس ہیں کہ دوسروں کے احساسات و جذبات کی کوئی پرواہی نہیں۔ ان کی حالت ٹھیک ہے یا بگڑ رہی ہے۔ میں ہر حال میں ان کے پاس رہنا چاہتی ہوں۔ میرا دل کٹنے لگتا ہے یہ سوچ کر کہ وہ آنکھیں کھولتے ہوں گے تو میں ان کے سامنے موجود نہیں ہوں گی۔ وہ کچھ کہیں گے اور میں سن نہیں پائوں گی، وہ اتنی دیر تک کبھی مجھ سے دورنہیں رہے، کبھی بھی نہیں۔‘‘

وہ زار و قطار رو رہی تھی۔ نوروز بیچ صحن میں کھڑا چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔

’’اگر ساتھ لے جاتا تو محترمہ وہاں بھی یہ کچھ کرتیں۔‘‘ اس کی اس قدر جذباتیت پر وہ چڑ سا گیا تھا۔ دل ہی دل میں سوچا مگر جب بولا تو لہجہ نرمی لےے ہوئے تھا۔

’’آپ زیادہ فکر مند نہ ہوں، وہ ٹھیک ہیں۔ صبح میں آپ کو لے چلوں گا۔‘‘ الفاظ کے معاملے میں وہ ہمیشہ سے کنجوس تھا۔ اب بھی ساری تسلی اس کے لہجے میں تھی۔

’’صبح۔۔۔؟‘‘ اس نے روتے روتے سر اٹھایا۔ ’’آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے، آپ کا خیال میں میں صبح تک انتظار کر لوں گی، کبھی نہیں اگر آپ نے نہیں جانا تو میں خود چلی جائوں گی۔ حد ہوتی ہے کسی چیز کی۔ ایک وہ احسان انکل ہیں۔‘‘

وہ احسان انکل کو کہنے لگی تھی۔ اس نے ایک نظر اس پر ڈالی پھر تار پہ لٹکتا تولیہ کھینچ کر باتھ روم میں گھس گیا۔ نہا دھو کر باہر نکلا تو وہ گھٹنوں میں منہ دےے بیٹھی تھی۔ وہ اسے نظر انداز کرتا ہوا کچن میں چلا آیا نایاب نے اس کے قدموں کی آواز سنی نہیں یا پھر سن کر بھی انجان بنی بیٹھی رہی تھی۔ وہ مختلف پتیلیوں کے ڈھکن اٹھا کر دیکھتا رہا۔ سب کی سب خالی، دھلی دھلائی۔

’’کیا چاہےے؟‘‘ وہ عقب میں آکر روٹھے روٹھے سے انداز میں پوچھ رہی تھی۔

’’کچھ نہیں۔‘‘ وہ جان چکا تھا۔ اس نے کھانا تیار نہیں کیا۔ اس لےے خوامخواہ اسے تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا، یونہی جا کر کمرے میں لیٹ گیا۔ بازار سے کھانا لانے کی اس نے خود میں ہمت نہیں پائی تھی۔ کئی دنوں کی بے آرامی کے بعد پرسکون سے ماحول میں لیٹا تو آنکھیں خود بخود بند ہونے لگی تھیں۔

نیند کے معاملے میں یوں بھی بہت کچا تھا۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد نایاب کمرے میں آئی تو وہ گہری نیند میں تھا۔ وہ کچھ دیر تذبذب کے عالم میں کھڑی رہی پھر جگائے بغیر باہر نکل گئی۔ چند منٹ یونہی پورے صحن میں ٹہلتی رہی مگر دل کو قرار کہاں۔۔۔؟

آسمان کے کنارے سیاہ پڑنے لگے۔ آنگن میں ہلکی ہلکی تاریکی اتر آئی۔ تب وہ مجبوراً ایک بار پھر اس کے سر پہ آکھڑی ہوئی۔ کئی آوازیں دینے کے بعد بھی اس پر کوئی اثر نہ ہوا تو وہ کافی جھجکتے ہوئے اس کا بازو ہلانے لگی۔ تب اس نے کسمساتے ہوئے ذرا سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور پھر غائب دماغی سے دیکھتا چلا گیا۔

’’وہ۔۔۔ اٹھ جائےے۔۔۔ رات ہورہی ہے۔‘‘

وہ جزبز سی ہوکر بولی۔

تب وہ ہلکا سا چونکا اور سست سے انداز میں اٹھ بیٹھا۔ نایاب ٹرے میں کھانا لگا کر لے آئی، تب بھی کسل مندی سے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں بالوں میں پھنسائے بیٹھا تھا۔ اس نے ہلکے سے کھٹکے کے ساتھ ٹرے میز پر رکھی تو وہ سر اٹھا کر وال کلاک پر وقت دیکھنے لگا۔ سات بجنے میں بس کچھ ہی منٹ باقی تھے۔ گویا وہ دو گھنٹے سوتا رہا تھا۔ اس مختصر مگر بھرپور نیند نے اس کے اعصاب کو کافی پرسکون کر دیا تھا۔

انگلیوں سے بال سنوارتا وہ باہر چلا آیا۔ نایاب چپ چاپ کچن میں بیٹھی تھی۔ کسی گہری سوچ میں غلطاں۔

’’آپ کھانا کھالیں پھر چلتے ہیںہاسپٹل۔‘‘ نوروز نے گھڑی بھر کے لےے کچن کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا اور پھر اس کے جواب کا انتظار کےے بغیر نل کے پاس آکر آنکھوں پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارنے لگا۔ اس کے کھانا کھانے تک نایاب یونہی کچن سے صحن تک چکراتی رہی۔ وہ کھانا کھا کر اٹھا تو نایاب نے لپک کر اپنی چادر اٹھائی مگر وہ دو منٹ رکنے کا کہہ کر باہر نکل گیا۔

واپس آیا تو اس کا سفری بیگ اس کے ہاتھ میں تھا۔ جس میں سے شلوار قمیص نکال کر وہ باتھ روم میں گھس گیا تھا۔ خدا خدا کر کے اس نے نایاب کو چلنے کا اشارا کیا تو وہ طویل سانس لے کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ ہاسپٹل میں احسان صاحب انہیں دیکھ کر کافی حیران ہوئے تھے۔ ان کا ارادہ رات ادھر ہی رکنے کا تھا مگر اس نے شکریہ کے ساتھ انہیں گھر لوٹا دیا ان کی اتنی مدد ہی اسے بہت محسوس ہوئی تھی۔

نایاب احسان صاحب کے اصرار کے باوجود واپس جانے پر تیار نہیں ہوئی تھی او وہ رات اس نے جاگ کر اور روتے ہوئے گزاری تھی حتیٰ کہ نوروز اس کی ان مسلسل سسکیوں سے چڑتا اس سے کچھ فاصلے پر ٹہلتا رہا تھا اگلی صبح پھوپھا جان کو وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ نایاب نے انہیں دیکھ کر جو بچوں کی طرح رونا شروع کیا تو پھر ڈاکٹر اور نرسوں کی ڈانٹ سننے کے بعد ہی چپ ہوئی تھی۔

٭٭٭

پھوپھا جان پہلے سے کافی بہتر تھے۔ مگر ان کی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ واپسی کا ارادہ کرتا سو تمام صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے اس نے تایا ابا کو فون کھڑکا دیا تھا۔ انہوں نے اسے وہیں رکنے کی تاکید کی اور پھر پہلی فرصت میں خود بھی وہاں چلے آئے۔

پھوپھا جان کو ان کی آمد سے ایک روز قبل ہی گھر شفٹ کیا تھا۔ جس وقت وہ گھر میں داخل ہوئے نوروز انہیں سہارا دے کر صحن میں چہل قدمی کروا رہا تھا۔ تایا ابا بہت بے قراری سے ان سے ملے تھے۔ نجانے کیوںپھوپھا جان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

’’بھائی میاں کہتے تھے۔ سمجھتے نہیں تھے ورنہ بہن کے رخصت ہوجانے کے بعد یوں ہم سے منہ نہ موڑتے۔‘‘ انہوں نے شکوہ کیا تھا۔

’’کئی بار دل چاہا ملنے کو، دیکھنے کو مگر فرصت نصیب کہاں؟‘‘ وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے تھے۔ نایاب چائے بنانے چلی گئی۔ نوروز دوائیاں لانے کے لےے باہر نکل گیا۔

’’دیہاتی لوگ تھے، شہر میں نئے نئے آکر بسے تھے۔ مکر و فریب کی دنیا میں جینے کا ڈھنگ نہیں آتا تھا۔ اس ہنر کو سیکھتے سیکھتے خود کو بھی بھلائے بیٹھے تھے۔ قدم جمانے کو زمین مل گئی تھی، مقام نہیں ملتا تھا۔ آج اپنا آپ کھو کر نام کمایا ہے۔ ایسے میں بہت کچھ چھن گیا۔ دوست احباب، رشتے دار، ان کے ساتھ بیتے ہوئے وقت کی یادیں تک چھن گئیں ہاں اب وقت ہاتھوں سے پھسلتا جارہا ہے تو زیاں کا احساس ہونے لگا ہے۔ جبھی تو بھاگا چلا آیا ہوں اپنی تمام کوتاہیوں کی معافی مانگنے۔‘‘ تایا ابا کے ہونٹوں پر مجروح سی مسکراہٹ تھی۔

’’شرمندہ مت کرو، یہ بتائو بچے کیا کرتے ہیں؟ اب تو ماشائ اللہ تمہارا بوجھ بانٹ رہے ہوں گے۔‘‘ پھوپھا جان نے پوچھا تھا۔

’’ہاں اللہ انہیں زندگی دے۔ سب ہی بہت نیک اور سعادت مند ہیں۔ سب سے بڑے سلیمان کی تو تعلیم سے فارغ ہوتے ہی شادی کر دی تھی دو بچوں کے بعد بہو اس دنیا سے چل بسی۔ وہ ایسا بھاگا یہاں سے کہ پلٹ کر نہیں دیکھا امریکہ میں ہوتا ہے۔ بچے دونوں یہیں ہیں، فون پر باپ سے بات کرتے ہیں تو واپسی پر زور دیتے ہیں اور مجھے لگتا ہے، وہ ان کی پکار پر ایک نہ ایک دن لوٹ ہی آئے گا۔ اس سے چھوٹا ارسلان ہے تمہاری بھابھی اپنی بھانجی نیلوفر کو بیاہ کر لائی ہیں اس کے لےے،ایک بیٹا ہے ان دونوں کا پھر سدرہ ہے اس کی منگنی کی بات چیت چل رہی ہے۔ اس سے چھوٹا اظفر اور نوروز پھر سویرا۔‘‘

تایا ابا دھیرے دھیرے سب کے بارے میں بتاتے رہے۔ نوروز کے نام پر پھوپھا جان کی آنکھیں چمک سی گئی تھیں۔

’’نوروز بہت اچھا انسان ہے۔ اگر اس روز یہ نہ ہوتا تو۔‘‘ پھوپھا جان جھرجھری سی لے کر رہ گئے تھے۔

’’ایک لمحے کے لےے تو مجھے یہی لگا تھا کہ میں اب کبھی سانس نہیں لے پائوں گا مگر نایاب وہ جیسے میری بے ہوشی میں بھی مجھے پکارتی رہی تھی۔ اس کی آواز مجھے دھیرے دھیرے زندگی کی طرف کھینچ لائی تھی اور پھر نوروز کی شب و روز کی خدمت۔۔۔ ان ہی چند دنوں نے مجھے احساس دلایاہے بختیار کہ لوگ بیٹوں کے لےے دعائیں کیوں مانگتے ہیں، ہاسپٹل میں گزارے بہت کٹھن لمحات میں بھی میرا دل و دماغ اپنی بیٹی کی طرف اٹکا رہا تھا، اس کا کوئی بھائی ہوتا تو کیا تب بھی میں اتنا ہی بے قرار ہوتا؟ ہر گز نہیں۔ اگر میرا کوئی بیٹا ہوتا تو میں بڑے آرام سے مرجاتا۔ یہ سوچ کر کہ میری بیٹی کے سر پہ کوئی مضبوط ہاتھ موجود ہے مگر اب۔۔۔ اب تو یہ نایاب مجھے سکون سے مرنے بھی نہیں دے گی۔‘‘ وہ بہت ٹوٹے پھوٹے سے لہجے میں بول رہے تھے۔

’’خدا نہ کرے بھائی میاں! آپ کی عمر لمبی ہو، ایسی باتیں آپ جیسے زندہ دل انسان کو قطعاً زیب نہیں دیتیں۔‘‘ تایا ابا نے انہیں تسلی دینی چاہی۔

’’تم بہت خوش قسمت ہو بختیار! تم لڑکھڑا کر گرنے بھی لگو تو چار کڑیل جوان تمہیں تھامنے کے لےے آگے بڑھ آئیں گے۔ خدا جانے اس نے مجھے اس نعمت سے محروم کیوں رکھا؟‘‘

’’اس کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے بھائی میاں! آپ شکوہ کر کے گناہ گار مت ہوں اور یوں بھی عورت کے تحفظ کے لےے باپ، بھائی کے علاوہ بھی کئی رشتے ہوتے ہیں۔‘‘ تایا ابا کی بات پر پھوپھا جان نے قدرے چونک کر انہیں دیکھا تھا۔

’’جی ہاں شادی، آپ نایاب کی شادی کر دیجےے۔ شوہر سے بڑھ کر کوئی مضبوط پناہ گاہ اس کے لےے نہیں ہوسکتی۔‘‘

’’ہاں مگر۔‘‘ پھوپھا جان کچھ کہنے جارہے تھے، مگر دروازے سے داخل ہوتی نایاب کو دیکھ کر چپ ہو رہے۔

نایاب چائے رکھ کر باہر نکل گئی تھی۔ تایا ابا نے کوئی بات کہنے کے لےے بھائی میاں کی طرف دیکھا مگر وہ کہیں اور متوجہ تھے۔ ان کی نظروں کے تعاقب میں تایا ابا کی نگاہوں نے صحن تک سفر کیا تھا۔ ان کے عین سامنے نوروز اور نایاب کھڑے تھے۔ نوروز دوائیاں اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کچھ سمجھا رہا تھا جسے پوری توجہ سے سنتے ہوئے نایاب بار بار اثبات میں سر ہلا رہی تھی۔ اپنی بات ختم کر کے نوروز دو قدم آگے بڑھا تھا جب نایاب نے اسے پکارا اور کسی چیز کے متعلق پوچھنے لگی۔ اس نے قدرے جھک کر اس کی بات سنی اور پھر مختصراً کچھ کہہ کر کمرے کی طرف آنے لگا۔

تایا ابا نے نظروں کا زاویہ بدل کر دیکھا۔ پھوپھا جان کی آنکھوں میں عجیب سی حسرت دکھائی دے رہی تھی۔ تایا ابا نے جیسے بہت کچھ سمجھ کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی تھی اور کسی گہری سوچ میں گم ہوگئے تھے۔ کمرے میں داخل ہوتے نوروز نے ان دونوں کو اپنی اپنی جگہ خاموش اور سوچ میں ڈوبے دیکھا تو وہ بھی ڈھیلے ڈھالے انداز میں ایک کرسی سنبھال کر بیٹھ گیا۔

٭٭٭

اگلی صبح تایا ابا نے واپس جانے کا ارادہ کر لیا۔ جانے سے پہلے وہ کچھ دیر کے لےے پھوپھا جان کے کمرے میں گھسے رہے۔ نجانے کیا کیا باتیں ہوئیں، نوروز نے بس اتنا دیکھا کہ پھوپھا جان کے چہرے پہ مسرتوں کا آبشار سا پھوٹا ہوا ہے۔ اس سے پہلے اتنا خوش اور مطمئن انہوں نے کسی لمحے نہیں دیکھا تھا وہ بار بار تایا ابا کا ہاتھ تھام کر ممنونیت کا اظہار کر رہے تھے یوں لگ رہا تھا جیسے مارے خوشی کے ابھی رو دیں گے۔ کافی دیر بعد تایا ابا کمرے سے باہر نکلے، نایاب کو خوب پیار کیا۔ جاتے ہوئے زبردستی کچھ پیسے اس کے ہاتھ میں تھمائے۔

’’اب تم میری بیٹی بن گئی ہو۔‘‘ لہجہ حد درجہ معنی خیز تھا۔ نوروز نے توجہ نہیں دی۔ نایاب چونک پڑی تھی۔ وہ انہیں اسٹیشن تک چھوڑنے کے لےے نکلا تو کچھ دور تک وہ یونہی پیدل ہی چلتے رہے۔ اس نے دیکھا تایا ابا اس سے کچھ کہنے کے لےے بے چین دکھائی دے رہے ہیں مگر کہہ نہیں پارہے وہ ان کی بے چینی کو محسوس کرتا رہا مگر کھوجنا مناسب نہیں سمجھا، یہاں تک کہ وہ لوگ اسٹیشن پہنچ گئے، تب تایا ابا نے رک کر گھڑی بھر کے لےے بغور اسے دیکھا۔

وہ پہلے سے کچھ کمزور دکھائی دے رہا تھا۔ ملگجا سا سرمئی سوٹ اور شیو نجانے کتنے دنوں سے نہیں بنوائی تھی۔ انہیں بے اختیار ہی اس پر پیار آگیا۔ وہ دیکھ چکے تھے کہ یہاں اسے آرام کے لےے بالکل بھی وقت نہیں ملتا۔

’’اگر اظفر میں ذرا سا بھی احساس ذمہ داری ہوتا تو میں کل ہی اسے یہاں بھجوادیتا مگر تم تو جانتے ہو، وہ کتنا لاپروا ہے۔ بھائی میاں کو ٹھیک کرنے کے بجائے خدانا خواستہ دوبارہ بیمار کر دے گا۔ انہیں ایک بہت ذمہ دار انسان کی ضرورت ہے جو کہ میرے خیال میں تم سے بڑھ کر کوئی نہیں۔‘‘

تایا ابا کے ستائشی انداز نے اسے خوامخواہ اِدھر اَدھر جھانکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ تب ہی انہوں نے بھاری رقم کا لفافہ اس کے ہاتھ میں دیا تھا۔

’’یہ کچھ روپے رکھ لو، بھائی میاں کی خوراک کا خاص خیال رکھنا۔ پنشن کے سوا آمدنی کا اور ذریعہ ہی کیا ہے۔ بھائی میاں کو اس لےے نہیں دےے کہ وہ خوامخواہ خود کو چھوٹا محسوس کرنے لگتے۔‘‘

اس نے دل ہی دل میں ہزار شکر کرتے ہوئے وہ لفافہ ان کے ہاتھ سے لے لیا تھا کہ گھر کی حالت اس سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ جمع پونجی سے ہاسپٹل کے اخراجات ہی پورے ہوئے تھے۔ کچھ رقم احسان صاحب لگا چکے تھے۔ اس کی جیب میں موجود رقم تو بس اِدھر اَدھر کے کرایوں میں ہی صرف ہوگئی تھی۔ تایا ابا نے احساس نہ کیا ہوتا تو نجانے مزید کتنی مشکل ہوتی۔ اس نے تشکرانہ نگاہوں سے انہیں دیکھتے ہوئے لفافہ جیب میں رکھ لیا تھا اور پھر انہیں ٹرین میں سوار کرا کے وہ گھر پلٹا تو گوشت سبزی اور پھلوں سے لدا ہوا تھا۔

’’پھوپھا جان کو دوا پلادی؟‘‘ اس نے سارے شاپرز میز پہ رکھتے ہوئے برتن دھوتی نایاب سے پوچھا۔

’’جی ہاں۔‘‘ اس کے جواب پر وہ سر ہلاتا باہر نکل آیا۔ پھوپھا جان کے کمرے میں جھانک کر دیکھا۔ وہ غالباً سو رہے تھے۔ نوروز پلٹ کر صحن میں بچھی چارپائی پر آلیٹا۔ ایک بازو موڑ کر سر کے نیچے رکھتے ہوئے وہ آسمان پر نجانے کیا کھوج رہا تھا۔ کچن میں سبزی بناتی نایاب کھڑکی کی جالیوں سے متواتر اسے دیکھتی رہی تھی۔

عام سا لباس پہننے والا، عام سے خدوخال رکھنے والا یہ عام سا شخص مگر درحقیقت اس کے لےے کتنا خاص۔۔۔ یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔

اور پھر ڈیڑھ ماہ بعد جب اس نے واپسی کا قصد کیا تو پھوپھا جان نے بخوشی اسے جانے کی اجازت دے دی تھی۔ وہ مکمل طور پر رو بہ صحت دکھائی دیتے تھے سو اسے مزید یہاں رکنے کا کوئی جواز نہیں نظر آرہا تھا اور اس ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں اس نے پھوپھا جان کی اتنی خدمت کی تھی کہ اب وہ اسے دعائیں دیتے نہ تھکتے تھے۔

مقررہ وقت پر ڈاکٹر کے پاس لے جانا۔ ہر صبح ہلکی پھلکی واک کروانا، اپنے ہاتھوں سے کھلانا۔ غرض اس نے وہ سب کچھ کر لیا تھا ان کے لےے جو ان کا سگا بیٹا کر سکتا تھا اور بالآخر وہ ان کی بے تحاشا دعائیں سمیٹے واپس اپنے شہر آن پہنچا تھا۔

٭٭٭

’’ارے اب جان چھوڑےے اس کی۔ باتیں تو بعد میں بھی ہوتی رہیں گی پہلے بچے کو کچھ کھاپی کر آرام تو کر لینے دیں۔‘‘ تائی اماں اس کے بارے میں یونہی فکر مند ہوجایا کرتی تھیں اب تیسرے چوتھے چکر میں بھی تایا ابا کو اس سے باتوں میں محو پایا تو کہے بغیر نہ رہ سکیں تایا ابا نے ان کی بات سن کر چونکتے ہوئے وقت دیکھا تو تاسف سے سر ہلا کر رہ گئے۔

’’اوہو بھئی، میں نے تو خیال ہی نہیں کیا جائو نوروز بیٹا! تم جا کر آرام کرو۔‘‘

’’اب کیا آرام کرے گا۔ کھانا بس تیار ہے لڑکیاں میز پہ لگا رہی ہیں۔ کھا کر ہی سوجائے گا۔‘‘

تائی اماں نے اسے اٹھنے سے منع کر دیا تھا۔ تب ہی رشنا نے آکر کھانا لگنے کی اطلاع دی تو سب اٹھ کر ڈائننگ ٹیبل پہ آگئے جہاں حسبِ معمول اچھا خاصا شور اور ہنگامہ ہورہا تھا۔ اظفر یا معیز کی موجودگی میں خاموشی یا سکون کا تصور ہی محال تھا۔

وہ اپنی مخصوص سیٹ سنبھال کر بیٹھ گیا۔ چاولوں پر ایک، دو کباب رکھتے ہوئے اس کی ذہنی رو بھٹک کر پھوپھا جان کے گھر تک جا پہنچی تھی وہاں ایسی کوئی عیاشی ممکن نہیں تھی۔ کھانا کسی بھی وقت کا ہو، سلاد، چٹنی یا رائتہ جیسے لوازمات سے عاری ہوتا تھا۔ کبھی بہت ہواتو میٹھے کے نام پر حلوہ یا سویاں پک جاتی تھیں۔ ورنہ عموماً دال روٹی، سبزی روٹی ہی چلتی تھی۔ دودھ صرف چائے کے لےے آتا تھا۔ ان باپ بیٹی نے محدود آمدنی کے پیش نظر ضروریات بھی بہت محدود کر لی تھیں۔ جبکہ یہاں ڈائننگ ٹیبل پر عام دنوں میں بھی دنیا کی ہر نعمت موجود ہوتی تھی۔ سدرہ اور انیقہ کو کھانا پکانے کا بہت شوق تھا سو آئے دن انہیں نت نئے کھانے کھانے کو ملتے رہتے تھے۔ پھر جوائنٹ فیملی سسٹم تھا۔ ہر ایک کی الگ پسند و ناپسند جس سے نمٹنے کے لےے سدرہ نے سب کی متفقہ رائے سے ایک ہفتہ وار مینیو کا چارٹ بنا رکھا تھا۔ ایک وقت میں دو تین افراد کی پسند کی ڈشز بنتیں تو ڈائننگ ٹیبل بھر جاتی تھی۔ یہ اہتمام البتہ صرف رات کے کھانے پر ہی کیا جاتا تھا۔ دوپہر کے وقت اکثریت اپنے آفس، یونیورسٹی یا کالجز سے ہی لنچ لے لیا کرتی تھی، جو باقی رہ جاتے تھے، ان کے لےے فریزر میں محفوظ بچا کھچا کام آجاتا تھا۔

وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھا جب اظفر نے اس کے کہنی ماری، وہ اس حرکت کے لےے بالکل بھی تیار نہ تھا، سو چمچہ ہاتھ سے چھوٹ کر زور دار آواز کے ساتھ پلیٹ میں جا گرا تھا۔ سب کی نظریں بیک وقت اس کی طرف اٹھ گئیں تو وہ خجل سا ہو کر اظفر کو گھورنے لگا جو اب نہایت لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھانے میں منہمک تھا۔ اس نے سر جھٹک کر دوبارہ چمچہ اٹھا لیا۔

’’یار! یہ اپنی سویرا اتنی پیٹو لگتی تو نہیں مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ اس نے پانچواں کباب اٹھاکر پلیٹ میں رکھا ہے۔‘‘ اظفر نے غالباً چھٹے کباب کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے سرگوشی کی تھی۔

اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا، سویرا ایک کباب پلیٹ میں رکھے اسے یونہی کانٹے سے گول گول گھما رہی تھی۔ چہرے پر ناراضی کے تاثرات نمایاں تھے۔ وہ ایک بار پھر سوچ میں پڑ گیا کہ سویرا شام کو اس سے کس بات پر ناراض ہوئی تھی۔

’’نوروز! کھانا کھاچکے ہو تو جائو، جا کر آرام کرو۔‘‘

اس گھر میں اس وقت تک ڈائننگ ٹیبل سے اٹھنے کا رواج نہ تھا جب تک آخری فرد بھی کھانے سے فارغ نہ ہولے تائی اماں نے اسے ساکت بیٹھے دیکھا تو اس کی بے آرامی کے خیال سے کہہ اٹھیں۔ وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے چند گھونٹ پانی پی کر سب سے معذرت کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔ سویرا نے اسے اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تو بجھ کر رہ گئی۔

وہ کتنی دیر سے منتظر تھی کہ نوروز اس سے کوئی بات کرے اور وہ فوراً اپنی ناراضی بَھلا کر اس کو بتائے کہ اس ڈیڑھ ماہ میں اس نے اسے کتنا مس کیا تھا۔ لیکن نوروز کبھی بھی اس کی امیدوں پر پورا نہیں اترا تھا۔ آج اس کی اس حرکت نے سویرا کو رات گئے تک افسردہ کےے رکھا تھا۔

٭٭٭

اگلی صبح وہ اٹھا تو بیسیوں کام تھے جواس کی غیر حاضری کی وجہ سے رکے ہوئے تھے۔ بجلی کا بل دو ماہ سے جمع نہیں ہوا تھا۔ ٹیلی فون ایک ہفتے سے ڈیڈ ہوا پڑا تھا اور کسی نے اسے ٹھیک کروانے کی زحمت نہیں کی تھی۔ سلیمان بھائی کے ٹیپو اور عنیزہ کی فیس ابھی تک جمع نہیں کروائی گئی تھی۔ نیلو بھابھی اسے ناشتا دینے کے ساتھے ساتھ کاموں کی فہرست بھی بتاتی چلی گئیں تو ناشتے سے فارغ ہوتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

دوپہر تک شدید خواری کے بعد وہ ان تینوں کاموں کو نمٹا چکا تو گھر جانے کو دل ہی نہیں چاہا، وہ سیدھا خالہ نصرت کی طرف چلا آیا وہ اس کی امی کی خالہ زاد بہن تھیں۔ اپنی محبت اور بے پایاں خلوص کے عظیم الشان مظاہروں سے وہ نوروز کو اپنی طرف اس حد تک مائل کر چکی تھیں کہ وہ اپنے گھر کے سوا کہیں اور جانا پسند کرتا تھا تو وہ واحد خالہ نصرت کا گھر ہی تھا۔

دروازہ کھلا ہوا تھا، وہ موٹر سائیکل لے کر سیدھا اندر چلا آیا۔ کچن میں مصروف صائمہ نے کھٹکے کی آواز پر کچن سے نکل کر جھانکا اور پھر خوشگوار حیرت چہرے پر سجائے باہر نکل آئی۔

’’نوروز! تم کب آئے؟‘‘

’’ابھی ابھی، تمہارے سامنے ہی آیا ہوں۔‘‘ وہ اس کے ہشاش بشاش لہجے کو بطور خاص محسو س کرتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

’’تم سمجھے نہیں۔ میں نے سنا تھا، تم وہاڑی گئے ہوئے تھے وہاں سے کب واپس آئے؟‘‘ وہ اس کے پیچھے پیچھے کمرے تک آئی اور پنکھے کا بٹن دباتے ہوئے پوچھنے لگی۔

’’کل شام۔ لائٹ مت جلانا۔‘‘ اس نے صائمہ کو دوسرے بٹن کی طرف ہاتھ بڑھاتے دیکھا تو فوراً ٹوک دیا۔ وہ باہر تیز دھوپ سے آیا تھا اور کمرے کی نیم تاریکی جلتی آنکھوں کو بہت بھلی لگ رہی تھی، صائمہ اس سے پھوپھا جان کی طبیعت کے متعلق پوچھنے لگی۔ وہ مختصراً بتاتا رہا۔

پھر اِدھر اَدھر کی باتیں شروع ہوگئیں۔ صائمہ غالباً وہ واحد لڑکی تھی جو اپنی کوشش سے اسے بولتے رہنے پر مجبور کر دیا کرتی تھی ورنہ اس نے تو بس خود کو صرف سننے تک ہی محدود کر چھوڑا تھا اور خالہ نصرت اس کی اس عادت سے بے حد نالاں رہتی تھیں۔

’’اے لڑکے! کیا گونگے کا گَڑ کھائے رہتے ہو، جس کا دل چاہتا ہے تمہیں سنانے بیٹھ جاتا ہے۔ کبھی کھری کھری کبھی جلی کٹی اور کبھی رام کہانی۔‘‘

’’کھانا کھائو گے نا؟‘‘ صائمہ نے اٹھتے ہوئے پوچھا۔

’’بنانے جارہی ہو؟‘‘

’’نہیں بس دو چار پھلکے ڈالوں گی۔‘‘ وہ مسکراتی ہوئی باہر چلی گئی اور نوروز اس کے متعلق سوچتا رہ گیا۔ صائمہ کو اس نے ہمیشہ بہت مخلص پایا تھا۔ وہ بہت خوش مزاج لڑکی تھی ہر کسی کا دل جیتنے والی۔ لیکن شادی اس کو راس نہیں آئی تھی۔ محض چھ ماہ بعد نجانے کیا ہوا کہ وہ ایک بار پھر بیوہ ماں کی دہلیز پر آبیٹھی اور اب دو سال ہونے کو آئے تھے وہ بظاہر یونہی ہنستی مسکراتی دکھائی دیتی تھی یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مگر خالہ نصرت کے بعد صرف نوروز تھا جو اس کی آنکھوں کے رنگ پہچانتا تھا۔

پہلے وہ ہنستی تھی تو اس کی آنکھیں اس کی بھرپور مسکراہٹ کا ساتھ دیتی تھیں اور اب وہ مسکراتی تھی تو اس کی آنکھیں جھلملا سی جاتی تھیں۔

اداسی اور مایوسی کے مدھم رنگ اس لمحے بہت گہرے ہوجایا کرتے تھے اور یہ بات نوروز کو ہمیشہ بہت دکھی کر دیا کرتی تھی، اس کا دل چاہتا تھا وہ صائمہ کو ٹوک دے۔

’’تم مسکرایا مت کرو، یہ مسکراہٹ تمہارے غم سے زیادہ اذیت ناک ہے۔‘‘

مگر وہ کچھ نہ کہہ پاتا بس سوچتا رہ جاتا، ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ پھر سے ان ہونٹوں پر پہلے والی جان دار سی مسکراہٹ سجا دے، ان جھلملاتی آنکھوں میں زندگی کی روشنی بھر دے اور وہ پہلے والی صائمہ بن جائے جو کھلکھلا کر ہنستی تھی تو زندگی کا مفہوم سمجھ میں آنے لگتا تھا۔

’’اے سوگئے ہو کیا؟‘‘ صائمہ نے اسے پکارا تو وہ آنکھوں سے بازو ہٹاتا اٹھ بیٹھا۔

’’صائمہ! تمہارے شوہر نے تم سے دوبارہ ملنے کی کبھی کوشش نہیں کی؟‘‘

اس قدر اچانک سوال پر صائمہ چند لمحے کے لےے چپ رہ گئی تھی۔ نو روز کو بھی اپنی جلد بازی پر شرمندگی ہونے لگی۔ صائمہ نے جواب نہیں دیا تو وہ اصرار کےے بغیر کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا۔ ایک طویل خاموشی ان دونوں کے درمیان حائل ہوگئی تھی۔ صائمہ دیوار کے سہارے کھڑی ہاتھ کی لکیروں کو کھوج رہی تھی وہ چھوٹے چھوٹے نوالے منہ میں ڈال کر چبانے لگا۔

’’ابھی کچھ روز پہلے وہ آیا تھا۔‘‘ صائمہ کی آواز بہت دھیمی تھی۔

’’کون۔۔۔؟‘‘ اس نے بے ساختہ پوچھا مگر پھر خود ہی سمجھ گیا۔

’’کیا واقعی؟‘‘اس نے پلٹ کر بے یقینی سے صائمہ کا چہرہ دیکھا، وہ اضطراری حالت میں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخارہی تھی۔ اس کے پوچھنے پر بس ہلکا سا اثبات میں سر ہلایا تھا۔

’’کیا کہہ کر گیا ہے؟‘‘ اس کے بے تابانہ استفسار پر صائمہ کی ایک دوسرے میں پیوست انگلیوں میں لرزش سی اتر آئی تھی۔

’’وہ کچھ کہنے نہیں آیا تھا۔‘‘

’’پھر؟‘‘

’’کچھ کاغذات دینے آیا تھا۔‘‘ صائمہ کی آواز رندھ گئی تھی، نوروز کا ہاتھ ایک لمحے کے لےے ساکت ہوگیا۔

’’کیسے کاغذات؟‘‘ اسے کچھ کچھ انداز ہوچلا تھا۔

’’طل۔۔ طلاق کے۔۔ طلاق کے کاغذات۔ اس نے مجھے ہمیشہ کے لےے چھوڑ دیا نوروز! ہمیشہ کے لےے۔ ایک ایسے جرم کی سزا ملی مجھے جو میرا تھا ہی نہیں، کوئی قصور نہیں تھا میرا، کوئی بھی نہیں۔‘‘

وہ ایک دم پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی اور نوروز ہونق بنا اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کس ردِ عمل کا اظہار کرے۔

اس نام نہاد بندھن کے ختم ہوجانے پر اسے مبارکباد دے یا اس کی آس، امید کا آخری در بند ہوجانے پر اظہارِ افسوس کرے۔ وہ یونہی الجھا الجھا سا بیٹھا لفظ جوڑتا رہا۔ حرف گنتا رہا۔ جملے ترتیب دیتا رہا مگر چپ کا بے زبان خنجر اس کے ہونٹوں پر آتے جملوں کو کاٹتا چلا گیا۔ لفظوں کی دھجیاں اڑا دیں اور خاموشی کے لہجے میں تسلی، دلاسے، حوصلے کا نوحہ گانے لگا۔ گھڑی کی سوئیاں ہر ٹک کے بعد ایک عذاب لمحہ کائنات کی گود میں گراتی چلی گئیں۔

نجانے کتنا وقت بیت گیا۔ صائمہ روتے روتے نڈھال ہوگئی۔ اس کی ہچکیاں سسکیوں کا روپ دھار گئیں اور سسکیاں صبر کے سانچے میں ڈھل گئیں۔ پھر وہ دبے پائوں کمرے سے باہر نکل گئی نوروز نے ایک طویل سانس لے کر اسے باہر جاتے دیکھا پھر نجانے کب سے ہاتھ میں پکڑا نوالہ پلیٹ میں رکھا اور ٹرے کھسکا کر باہر نکل آیا۔ صائمہ اسے کہیں نظر نہیں آئی تھی وہ موٹر سائیکل لے کر گھر سے باہر نکل گیا اور اس شام وہ بے مقصد ہی موٹر سائیکل پر بیٹھا شہر کی ویران سڑکیں ناپتا رہا تھا۔

٭٭٭

دنیا کا تماشا دیکھ لیا

غمگین سی ہے بے تاب سی ہے

امید یہاں اک وہم سی ہے

تسکین یہاں اک خواب سی ہے

دنیا میں خوشی کا نام نہیں

دنیا میں خوشی نایاب سی ہے

’’یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔‘‘تائی اماں کے کہے گئے ایک ہی جملے نے اس کے اپنے فیصلے کی دھجیاں اڑا دی تھیں، وہ کتنی ہی دیر بے یقین نگاہوں سے انہیں دیکھتا رہا۔ کتنی مشکل سے اس نے زندگی میں شاید پہلی مرتبہ صرف اپنی ذات کے لےے ایک فیصلہ کیا تھا مگر اسے بھی صرف ایک ہی جملے سے رد کر دیا گیا تھا۔

’’تمہارے تایا اباتمہارے لےے نایاب کو مانگ چکے ہیں۔‘‘

’’مجھ سے پوچھے بغیر۔۔۔؟‘‘

’’کیا پوچھنا چاہےے تھا۔۔۔؟‘‘ تائی اماں کی آنکھوں میں سوال ابھرا تھا اور وہ سر جھکا کر رہ گیا تھا۔

’’تم نے پہلے کبھی صائمہ کے متعلق ذکر ہی نہیں کیا نوروز! ورنہ ہم اس کے بارے میں ضرور سوچتے۔‘‘ تائی اماں کا نرم لہجہ آج اسے بہت بے رحم لگا تھا۔

’’اب بھی تو سوچا جاسکتا ہے تائی اماں! یہ فیصلہ ابھی اس مقام تک نہیں پہنچا جہاں اس میں ترمیم کرنا ممکن نہ رہا ہو۔‘‘

اس کی دھیمی سی آواز پر انہوں نے بری طرح چونک کر اسے دیکھا۔ ایک لمحے کے لےے وہ انہیں بہت بدلا ہوا دکھائی دیا تھا۔ ہمیشہ ہر بات پر چپ چاپ سر جھکا دینے والے نوروز کی اتنی سی حجُت نے بھی ان کے دل کو دہلا دیا تھا۔ اسی لےے وہ رات کو قدرے پریشانی کے عالم میں تایا ابا سے بات کےے بغیر نہ رہ سکی تھیں۔

’’بات کہاں تک جا پہنچی ہے، میں نہیں جانتی لیکن بہتر ہوتا کہ اس کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ کرنے سے پہلے آپ اس کی رائے معلوم کر لیتے۔ وہ بہت بجھا بجھا سا لگ رہا تھا۔‘‘ تائی اماں کے کہنے پر تایا ابا نے عینک کے موٹے عدسوں کے پیچھے سے بغور انہیں دیکھا۔

’’کچھ کہا اس نے؟‘‘

’’آپ کو بتایا نا، میں نے، وہ صائمہ کا ہاتھ تھامنا چاہتا تھا۔‘‘ تائی اماں نے قدرے چڑ کر کہا۔

’’یہ تو اس وقت چاہتا ہوگا نا، جب تک اسے نایاب کے متعلق علم نہیں ہوگا۔ اب کیا چاہتا ہے؟‘‘

’’وہ اب بھی یہ ہی چاہتا ہے۔‘‘ تائی اماں نے نظریں چرا کر جواب دیا تو تایا ابا سیدھے ہو بیٹھے تھے۔

’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ جواباً تائی اماں خاموش رہی تھیں۔

’’نہیں، نہیں، بہت فرق ہے ان دونوں میں اور پھر میں بھائی میاں کو زبان دے چکا ہوں، تم سمجھا دینا اسے بلکہ صبح میں خود اس سے بات کروں گا۔‘‘

وہ کافی پریشان ہوگئے تھے اور اسی پریشانی کے سبب وہ صبح سویرے ہی اس کے کمرے میں جا پہنچے تھے۔ وہ اس وقت فوٹو اسٹوڈیو جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ تایا ابا سے نظریں ملیں تو فوراً نظریں چَرا گیا۔

’’برخوردار! بیٹھو ذرا، تم سے کچھ بات کرنی ہے۔‘‘ تایا ابا کے اس قدر سنجیدہ لہجے پر وہ دل ہی دل میں قدرے گھبرا سا گیا تھا۔

’’تم جانتے ہو، صائمہ کو طلاق کیوں ہوئی ہے؟‘‘ وہ اس کے عین سامنے بیٹھے پوچھ رہے تھے۔ نوروز نے آہستگی سے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔

’’ہوں، کیوں شادی کرنا چاہتے ہو اس سے؟ محبت کرتے ہو یا محض ہمدردی؟‘‘ اسے تایا ابا سے اس صاف گوئی کی امید قطعاً نہ تھی۔ یونہی چپ سادھے بیٹھا رہا۔

’’صائمہ تم سے سات آٹھ سال بڑی ہے۔ میرا خیال ہے، وہ اپنے بارے میں تم سے زیادہ بہتر سوچ سکتی ہے۔‘‘ وہ ایک لمحے توقف کے بعد دوبارہ گویا ہوئے تھے۔

’’کیا اس فیصلے میں صائمہ کی مرضی بھی شامل ہے؟‘‘

اس کا سر ایک مرتبہ پھر نفی میں ہل گیا تھا۔

’’وہ ایک سمجھ دار لڑکی ہے۔ لیکن تمہارے لےے قطعی نامناسب۔ بہتر ہوگا، تم ذہنی طور پر اپنے آپ کو نایاب کے لےے تیار کرلو۔‘‘

وہ کہہ کر چند لمحے اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھتے رہے اور جب وہ کچھ نہیں بولا تو وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئے تھے۔ وہ ان کے جانے کے بعد بھی اسی زاوےے میں بیٹھا رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اسے احساس ہوا کہ شاید وہ رو رہا ہے۔ اس نے اپنے ہاتھ سے آنسو صاف کرنے چاہے مگر انگلیوں کی پوریں جوں کی توں خشک واپس آگئیں۔

اس نے بڑی حسرت سے اپنے سامنے لگے آئینے میں اپنی بنجر آنکھوں کو کھوجا۔ مگر سب کے سب آنسو دل پر ہی گرتے رہے۔ پیاسی آنکھ کو سیراب ہونے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔

٭٭٭

وہ نیلو فر بھابھی کو میکے چھوڑ کر واپس آرہا تھا۔ جب وقت دیکھا۔ کالج کی چھٹی کا وقت ہوچکا تھا۔ رشنا اور سویرا کو ہمیشہ یہ ہی شکایت رہتی تھی کہ شیری بھائی اپنے آفس کے لنچ ٹائم میں انہیں لینے کے لےے آتے تھے۔ لہٰذا انہیں آدھا گھنٹہ انتظار کی کوفت اٹھانی پڑتی تھی۔ کالج چونکہ یہاں سے بے حد نزدیک تھا، سو اس نے موٹر سائیکل کا رخ موڑ دیا۔ جس وقت وہ گیٹ کے سامنے پہنچا۔ چھٹی ہوچکی تھی۔ لڑکیاں دھڑا دھڑ باہر نکل رہی تھیں۔

وہ شدید رش میں سے ہوتا گیٹ کے عین سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ شدید گرمی اور پسینے کی وجہ سے وہاں ٹھہرنا کافی دشوار لگ رہا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا اگر چند منٹ تک رشنا یا سویرا میں سے کسی نے اسے نہ دیکھا تو وہ مزید نہیں رکے گا۔ ماتھے پہ بہتی پسینے کی دھاریں اپنی آستین سے صاف کرتے ہوئے اس نے بڑی مایوسی سے گیٹ کی طرف دیکھا۔ تب ہی سویرا گیٹ سے باہر نکلتی دکھائی دی۔اس نے اپنا آدھا چہرہ دوپٹے سے ڈھانپ رکھا تھا۔ اور غالباً گرمی کی وجہ سے دوپٹہ پیشانی سے آگے سرکا رکھا تھا۔ اس نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے موٹر سائیکل ذرا سی آگے بڑھائی تاکہ سویرا اسے دیکھ سکے مگر اگلے ہی لمحے اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی تھی جب ہ تیز تیز قدم اٹھاتی اس سے کافی فاصلے پر کھڑی سفید کرولا میں جا بیٹھی تھی۔ وہ ہکا بکا سا اس گاڑی کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اس گاڑی میں بیٹھا لڑکا قطعی اجنبی تھا۔

’’کہیں مجھے دھوکا تو نہیں ہوا؟‘‘ بات ناقابلِ یقین سی تھی۔ سو سب سے پہلا خیال یہی آیا تھا۔ مگر اس خیال پر بھی یقین کرنا کچھ ایسا آسان تھوڑی تھا۔ وہ سویرا تھی اس کی سگی بہن اسے پہچاننے میں وہ غلطی نہیں کر سکتا تھا۔ عجیب شش و پنج کی کیفیت میں اس نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کر لی تھی۔ روانہ ہونے سے ایک لمحہ قبل تک وہ گیٹ کی طرف دیکھتا رہا تھا۔

’’ہوسکتا ہے وہ دونوں۔‘‘ اس کے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ بری طرح شرمندہ ہوگیا تھا۔ یہ بات تو اس نے سوچی ہی نہیں تھی کہ اگر وہ سویرا تھی تو لامحالہ رشنا کو بھی اس کے ساتھ ہی نکلنا تھا کیونکہ وہ دونوں اکٹھی ہی واپس گھر آتی تھں۔

’’اور ظاہر ہے، وہ دونوں اس وقت ہی کالج سے باہر نکلتی ہوں گی جب شیری بھائی کے آنے کا وقت ہوتا ہوگا۔‘‘

وہ خود پر لعنت بھیجتا گھر آگیا تھا۔ واش بیسن پر منہ ہاتھ دھوتے ہوئے اس نے سدرہ سے کھانا لانے کو کہا اور پھر ڈائننگ ٹیبل پر آبیٹھا اور ابھی وہ چند لقمے ہی لے پایا تھا جب پچھلے برآمدے میں کھلنے والا دروازہ کھول کر رشنا اندر چلی آئی۔

’’نوروز بھائی! کیا کھا رہے ہیں آپ؟ مجھے تو خود بڑی بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ وہ اس کے سامنے بیٹھی سدرہ کو آوازیں لگا رہی تھی۔

’’تم آج کالج نہیں گئیں؟‘‘ نوالہ اس کے حلق میں پھنسنے لگا تھا۔

’’نہیں۔ آج زیادہ تر کلاسز نہیں ہونی تھیں۔ سو میں نے چھٹی کر لی۔‘‘ ذرا سی روٹی توڑ کر وہ اپنے میاں مٹھو کو کھلانے لگی تھی جو ہمہ وقت اس کے کاندھے پر سوار رہتا تھا۔

’’اور سویرا؟‘‘

’’وہ تو گئی ہوئی ہے۔‘‘

’’کتنے بجے واپس آجاتے ہو تم لوگ۔۔۔؟‘‘ اس کا دل انجانے خدشوں کے بوجھ تلے دبا جارہا تھا۔

’’عموماً دو بجے لیکن آج سویرا کا پریکٹیکل تھا۔ وہ غالباً تین بجے واپس آئے گی۔‘‘

نوروز کے ہاتھ سے نوالہ چھوٹ کر پلیٹ میں آگرا تھا۔ وہ ٹکر ٹکر رشنا کی شکل دیکھے گیا۔

کچھ دیر پہلے کا منظر آنکھوں کے سامنے گھوم سا گیا تھا۔ کھانا چھوڑ کر گھر سے باہر نکل آیا۔ رشنا نے ایک نظر اسے جاتے ہوئے دیکھا اور پھر کندھے اچکا کر کھانا اپنی طرف کھسکاتے ہوئے کھانے میں مشغول ہوگئی۔

وہ یونہی غائب دماغی سے تپتی سڑکوں پر چلتا ہوا خالہ نصرت کے گھر کی طرف آنکلا لیکن دروازے پر کئی لمحے کھڑے رہنے کے باوجود وہ اندر جانے کا حوصلہ نہیں کر سکا تھا۔ تب ہی ایک دم سے کواڑ کھل گئے تھے۔ صائمہ اس کے عین سامنے کھڑی تھی۔ وہ سٹپٹا سا گیا۔

’’باہر ہی سے لوٹ جانے کا ارادہ ہے۔۔۔؟‘‘

’’تمہیں کیسے معلوم ہوا، میں باہر کھڑا ہوں۔۔۔؟‘‘ وہ حیران تھا۔

’’مجھے صرف یہ احساس ہوا تھا کہ باہر کوئی کھڑا ہے، تم ہو گے، یہ مجھے معلوم نہیں تھا۔ اندر آجائو۔‘‘

وہ صاف گوئی سے کہتی ہوئی دروازہ کھلا چھوڑ کر واپس پلٹ گئی ۔ خالہ نصرت آج گھر پر ہی تھیں۔ اسے دیکھتے ہی ان کا چہرہ کھل اٹھا تھا۔

’’کہاں رہے اتنے دن؟‘‘

’’بس کچھ مصروفیت رہی۔‘‘ اس نے یونہی ٹالنا چاہا۔

’’اے ہاں، وہ تو میں جانتی ہوں، یہ بختیار ہائوس کے لوگوں نے کبھی تمہیں انسان تھوڑی سمجھا ہے۔ کبھی اس کام کے لےے بھاگے جارہے ہو تو کبھی اس کام کے لےے۔ کاٹھ کا الو سمجھ رکھا ہے انہوں نے تمہیں۔ خود ان کے اپنے بیٹے تو بڑے مزے میں ہیں۔ کوئی دفتروں میں بیٹھے ہیں تو کوئی پڑھنے کے بہانے عیش کرتے پھر رہے ہیں۔‘‘ خالہ نصرت کی وہی ازلی باتیں جو وہ بچپن سے سنتا چلا آرہا تھا۔ جو کبھی حرف بحرف سچ معلوم ہوتیں اور کبھی سراسر جھوٹ۔ لیکن اس وقت وہ ان کی طرف زیادہ توجہ نہیں دے پایا تھا۔ ذہن کی سوئی کسی اور ہی جگہ اٹکی ہوئی تھی۔ صائمہ جزبز سی ہو کر ماں کی باتیں سنتی رہی۔

’’تمہاری ماں زندہ ہوتی تو میں دیکھتی کہ کون تمہاری اس سادگی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اپنے کلیجے میں چھپا کر رکھتی تھی تمہیں۔ ایسے سرخ و سفید ہوا کرتے تھے تم، کیا بتائوں اور اب تو رنگت جھلس گئی ہے تمہاری ان لوگوں کی چاکری کر کر کے، خدا ہی سمجھے ان لوگوں کو، بچوں کی یتیمی سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘‘

’’خدا کا واسطہ ہے امی! بس کریں۔ ایسا بھی ظلم کا کوئی پہاڑ نہیں ٹوٹا ہوا اس پر۔‘‘ صائمہ نے ماں کو خاموش نہ ہوتے دیکھا تو جھنجھلا کر ٹوک گئی۔

’’لو بھئی، میں نے کچھ غلط کہا کیا؟ کیوں نوروز؟‘‘ انہوں نے چپ بیٹھے نوروز کا بازو ہلایا۔ تو وہ چونک کر ان کا منہ دیکھنے لگا۔

’’مجھ سے کچھ کہا آپ نے۔۔۔؟‘‘ اس کے بالکل انجان لہجے پر وہ بری طرح چڑ گئیں۔

’’نہیں، ان دیواروں سے بک بک کر رہی تھی گھنٹہ بھر سے۔‘‘ وہ بد دل سی ہو کر وہاں سے اٹھ گئیں۔

’’خیریت تو ہے۔ کچھ پریشان لگ رہے ہو۔‘‘ صائمہ نے استفسار کیا تو وہ چند لمحے غائب دماغی سے اسے دیکھنے کے بعد اٹھ کھڑا ہوا۔

’’چلتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا تو صائمہ نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی بس چپ چاپ اسے دروازے سے باہر نکلتا دیکھتی رہی۔

وہ گھر لوٹا تو یہاں کا منظر ہی عجیب تھا۔ تائی اماں اور چھوٹی چچی سمیت سب ہی لوگ لائونج میں موجود تھے۔ بڑی سی پرات بیچ میں رکھے وہ لوگ گلے پھاڑ پھاڑ کر گیت گانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کی نظریں ساری محفل پر سے پھسلتی ہوئی سویرا پر جا کر ٹک گئی تھیں جو معیز سے نہ جانے کس بات پر جھگڑ رہی تھی۔

تب ہی اظفر کی نگاہ اس پرپڑی تو اس نے فوراً گانا بدل دیا۔

میرے بھیا کی جائے گی بارات

میں ڈھول بجائوں گا

وہ بری طرح تالیاں پیٹ رہا تھا۔

’’افوہ اظفر کے بچے! اس وقت تو تم خود پھٹے ہوئے ڈھول کی طرح بج رہے ہو۔ اس لےے بہتر ہے، اپنا منہ بند رکھو۔‘‘ سدرہ نے اسے سختی سے جھڑک دیا۔

’’میں اپنا منہ بند رکھوں تاکہ تم اپنی بطخ جیسی آواز سے ہمارے کانوں میں خراشیں ڈال سکو ہر گز نہیں۔‘‘ اظفر نے صاف انکار کر دیا تھا۔ اس کی اس درجہ بدتمیزی پر سدرہ نے پرات اپنی طرف کھینچ لی تھی۔

’’یہ لوگ اس قابل ہیں ہی نہیں کہ انہیں اپنے ساتھ محفل میں شریک کیا جائے۔ بھگائو ان کمبختوںکو۔‘‘

شہلا نے نعرہ لگایا تھا اور اس کے ساتھ ہی دونوں طرف سے کشن پھینکے جانے کا مقابلہ شروع ہوگیا تھا۔ وہ چند لمحے اس دنگا فساد کو دیکھتا رہا۔ پھر سویرا کو آواز دے کر چائے لانے کا کہہ کر اپنے کمرے میں آگیا۔ سویرا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کچن میں بھاگ گئی۔ تھوڑی دیر میں ہی وہ چائے لے کر اس کے کمرے میں موجود تھی۔

’’تمہاری پڑھائی کیسی جارہی ہے؟‘‘

’’بہت اچھی۔‘‘ سویرا بھائی کے التفات کی ہمیشہ ہی منتظر رہتی تھی اب بھی بڑی خوش دلی سے جواب دیا تھا۔

’’آج میں تمہیں لینے کے لےے کالج گیا تھا۔‘‘ اس نے سویرا کے چہرے کوجانچتی نگاہوں سے دیکھا۔

’’مجھے لینے کالج کس وقت؟‘‘ وہ بھرپور حیرت سے پوچھ رہی تھی۔ نوروز کو ایک لمحے کے لےے اس کے چہرے کی رنگت بدلتی محسوس ہوئی تھی۔

’’یہ ہی کوئی ڈیڑھ بجے۔‘‘

’’اوہو۔ آپ نے مجھے بتایا ہوتا تو میں پریکٹیکل مس کر کے اسی وقت آپ کے ساتھ آجاتی۔‘‘ اسے جیسے بہت افسوس ہوا تھا اس کے ساتھ نہ آنے پر۔

’’کیوں؟‘‘

’’اس لےے کہ پریکٹیکل تو ہفتے میں تین بار ہوتا ہے۔ کل بھی کر سکتی تھی مگر آپ تو کل مجھے لینے نہیں آسکتے نا؟‘‘

’’اور اگر میں کل تمہیں لینے آجائوں تو؟‘‘ وہ ابھی تک اسے صرف کھوج رہا تھا۔

’’کیا واقعی آپ میرے لےے اتنا کر سکتے ہیں؟‘‘ وہ حسرت آمیز لہجے میں بولی تو نوروز خود سے شرمندہ ہو کر رہ گیا تھا۔ اسے یوں خاموش ہوتا دیکھ کر سویرا سر جھٹکتی ہوئی اس کے سامنے بیٹھ گئی۔

’’نوروز بھائی! آپ کو پتا ہے تائی اماں آپ کی شادی کی تاریخ پکی کرنے والی ہیں۔‘‘ وہ بڑی خوشی سے اطلاع دے رہی تھی۔ نوروز کے لےے چائے کا گھونٹ بھرنا دشوار ہوگیا ۔

’’آپ نے تو دیکھا ہوا ہے نا بھابھی کو؟ کیسی ہیں وہ؟ غصے کی تیز نہ ہوئیں تو میری ان سے سب سے زیادہ دوستی ہوگی۔ میری سگی والی بھابھی ہوں گی نا! ویسے تو نیلو بھابھی بھی مجھے بہت اچھی لگتی ہیں۔ آپ نے بتایا نہیں بھائی! وہ دیکھنے میں کیسی لگتی ہیں؟‘‘ سویرا کے لہجے سے اشتیاق جھلک رہا تھا۔

’’سویرا! میرے سر میں بہت درد ہے۔ تم جائو اب۔‘‘

اس کے بے حد اکتائے ہوئے انداز پر سویرا کا چہرہ خفت سے سرخ پڑ گیا تھا۔ وہ ہمیشہ یونہی کرتا تھا، اپنے آپ میں الجھ کر سامنے والے کے احساسات و جذبات کی اس کو پرواہی نہ رہتی تھی۔ سویرا تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے سے باہر آگئی۔ لائونج میں جانے سے پہلے اس نے اپنی آنسوئوں سے لبالب بھری آنکھوں کو دوپٹے سے رگڑا مگر نجانے کیوں آنسو بہتے چلے گئے تھے۔

٭٭٭

تیز چلچلاتی دھوپ میں اظفر اور مہران بائیک پر یونیورسٹی سے واپس آئے تو دونوں ہی تیورائے ہوئے تھے۔ آنکھیں بمشکل اتنی کھول رکھی تھی کہ راستہ نظر آجائے۔ اس پر گھر میں ایسا ہولناک سنُاٹا طاری تھا کہ وہ حیران و پریشان رہ گئے تھے۔

’’یہ فوجیں کہیں مٹر گشت کرنے تو نہیں گئیں۔‘‘ اظفر نے خیال ظاہر کیا۔

’’نہیں بھئی، گرمیوں میں مٹر گوشت کہاں پکتا ہے؟‘‘مہران کو غالباً زیادہ ہی گرمی لگی تھی۔ اظفر نے مشکوک انداز سے اسے دیکھا اور پھر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا گرمیوں میں گھر کی سب سے ٹھنڈی جگہ لائونج ہوا کرتی تھی کیونکہ چاروں طرف کمرے تھے نیز اے سی بھی ادھر ہی لگا ہوا تھا۔ سو وہ دونوں سیدھے وہیں چلے آئے۔

’’شیری بھیا کے مزے ہیں، بھئی گاڑی میں آتے ہیں۔ گاڑی میں جاتے ہیں۔‘‘ اظفر نہایت ڈھیلے ڈھالے انداز میں صوفے پر گرا۔ اگلے ہی لمحے تیز چیخوں سے لائونج گونج اٹھا تھا۔

’’کون بدتمیز ہے یہ؟‘‘ یہ چھوٹی چچی کی آواز تھی۔ اظفر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر دیکھنے لگا، جدھر سے آواز آرہی تھی، معلوم ہوا اس صوفے پر چھوٹی چچی اونگھ رہی تھیں جس پر اظفر نے بیٹھنے کی کوشش کی تھی۔

باہر دھوپ سے آنے کی وجہ سے ابھی تک آنکھیں کمرے کی تاریکی سے مانوس نہیں ہوئی تھیں۔ لائیٹ بھی بند تھی۔ دوسرے صوفے کا جائزہ لینے لگا، مبادا وہاں بھی کوئی اونگھ رہا ہو۔

’’اب اسٹیچو بن کر کیوں کھڑے ہو؟ وہ سامنے والا صوفہ خالی ہے، وہاں بیٹھ جائو۔‘‘ اندھیرے میں ان کے عقب سے سدرہ کی آواز ابھری تو وہ اچھل پڑے۔

’’اور ہاں ذرا خیال سے، قالین پر انیقہ محوِ استراحت ہے۔ اسے مت کچل دینا۔‘‘

’’لاحول و لاقوۃ! آخر سب لوگ یہیں کیوں دفن، میرا مطلب یہیں کیوں استراحت فرما رہے ہیں اور اتنی ہدایات دینے سے تو بہتر ہوتا اگر تم اٹھ کر لائیٹ جلادیتیں۔‘‘ مہران چڑ کر بولا تھا۔

’’اوہ سوری۔ میں سمجھی آپ کو علم ہوگا کہ آپ کی دائیں طرف موجود دیوار پر سوئچ بورڈ لگا ہوا ہے۔‘‘ اس نے شان بے نیازی سے جتایا۔

’’افوہ چل یار! اپنے کمرے میں ہی چلتے ہیں۔‘‘

’’کمرے میں چلتے نہیں کمرے میں جلتے ہیں۔ اس وقت سورج کی شعاعیں سیدھی آپ کے کمرے کا طواف کرتی ہیں۔‘‘ مہران نے گویا اسے اطلاع دی۔

’’کھانا کھائو گے؟‘‘ سدرہ نے ہانک لگائی تھی۔

’’نہیں، اب اتنی گرمی میں بھلا کون کھانا کھائے۔‘‘

’’ہائیں! یہ کیا بات ہوئی بھلا؟‘‘ سدرہ نے حیرت کااظہار کیا مگر اظفر جواب دےے بغیر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ انہیں گئے ہوئے بمشکل پندرہ بیس منٹ ہوئے ہوں گے جب عجیب بے ہنگم چیخ و پکار نے لائونج میں موجود سب افراد کو ہڑبڑا کر اٹھنے پر مجبور کر دیا تھا۔

’’یا اللہ خیر! یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ تائی اماں حواس باختہ سی ہو کر لائونج میں چاروں طرف گھوم گئی تھیں۔ کسی کے بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ قیامت کا سا شور اور ہنگامہ کدھر ہورہا ہے۔ آخر شہلا کی نشاندہی پر سب کی دوڑ پچھلے لان کی طرف لگ گئی تھی۔ جیسے ہی برآمدے کا دروازہ کھول کر وہ اندھا دھند باہر کی طرف نکلیں ویسے ہی چھپاک کی آواز سے کوئی چیز ان پر آگری تھی۔ فلک شگاف چیخیں خود بخود ان کے حلق سے نکلتی چلی گئی تھیں۔ نکلتی رہی تھیں اور پھر ایک دم خاموشی چھا گئی تھی۔ وہ اپنی خمار آلود آنکھیں جھپکاتی۔ منہ پھاڑے ایک دوسرے کو رنگین پانی میں شرابور ہوتے دیکھ رہی تھیں۔

’’گرمی بہت ہورہی تھی، بزرگوں سے سنا ہے، دوسروں پر رنگ دار پانی پھینکنے کے بعد جتنی گالیاں پڑیں گی، اتنی ہی زیادہ بارش برسے گی۔ اب براہِ مہربانی آپ لوگ کورس میں گالیاں دینا شروع کر دیں۔‘‘

اظفر بہت سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ وہ سب چند لمحے اپنے سرخ سرخ آنکھوں سے اسے گھورتی رہیں اور پھر جیسے ہی ان کے ہاتھ اپنی اپنی چپلوں کی طرف بڑھے۔ اظفر نے آگے آگے دوڑ لگا دی تھی۔

شام کو وہ دونوں باقی سب بچوں کو ساتھ لےے پچھلی دیوار پر چڑھے بیٹھے تھے اور اپنی اپنی چوٹوں کو سہلاتے ہوئے کسی بد دماغ آدمی کی آمد کے منتظر تھے تاکہ اس پر پانی پھینک کر گالیاں سننے کافرض پورا کیا جاسکے۔ گھر والوں نے تو گالی تو ایک بھی نہیں دی تھی بس چپلوں سے تواضع کی تھی اور ظاہر ہے چپلوں کی تواضع سے تو بارش ہونے سے رہی تھی۔ وہ تو اڑتے اڑتے خبر بزرگوں تک جا پہنچی جس کے بعد شیری بھائی نے منت سماجت اور ارسل بھائی نے ڈانٹ ڈپٹ کا سہارا لے کر بالآخر انہیں نیچے اتار ہی لیا تھا ورنہ ہوسکتا تھا بجائے گالیوں کے ان کی تجہیز و تکفین کا ہی انتظام کرنا پڑجاتا۔

٭٭٭

تایا ابا، تائی اماں، چھوٹی چچی اور سدرہ کے ساتھ جا کر شادی کی تاریخ طے کر آئے تھے کہ پھوپھا جان اپنی گری ہوئی صحت کے سبب بار بار اصرار کر رہے تھے۔ شادی میں ابھی ایک مہینہ باقی تھا مگر لڑکیوں نے ڈھولک ابھی سے منگوالی تھی۔ ساری دوپہر برباد کرنے کے بعد رات کو پھر ڈھولک کی شامت آجاتی تھی۔ ایسے میں نوروز اپنا زیادہ وقت گھر سے باہر گزارنے کی ہی کوشش کرتا تھا۔ اس روز بھی وہ اپنے فوٹو اسٹوڈیو میں بیٹھا تھا جو اس نے شوقیہ ہی کھولا تھا ااور اب اس کی آمدنی کا ذریعہ بھی تھا جب اظفر وہاں چلا آیا۔

’’گھر جارہا تھا، سوچا تمہیں بھی ساتھ لے لوں۔ اکٹھے چلتے ہیں۔‘‘ اظفر نے کہا تو وہ اپنے ساتھ کرنے والے لڑکے کو ہدایت دیتا ہوا اس کے ساتھ ہی باہر نکل آیا تھا۔

گلابی شام میں بازار کی رونق بڑھتی ہی جارہی تھی۔ اظفراپنی ہی گپیں ہانکتا رہا، کچھ اس نے سنیں کچھ اپنی سوچ میں کھو کر نظر انداز کر گیا۔ گھر پہنچے تو تائی اماں اور چھوٹی چچی زور و شور سے باتوں میں مگن تھیں۔ لڑکیاں ادھر اَدھر مصروف تھیں۔

’’خیریت بھئی، آج ڈھولکی کا پروگرام کینسل ہوگیا کیا؟‘‘ اظفر نے اندر داخل ہوتے ہی شور مچانا شروع کر دیا تھا۔

’’کھانا تیار ہونے میں ابھی کچھ دیر ہے مہمان آگئے تو بچیاں ان کی تواضع میں مصروف ہوگئیں۔‘‘

’’ہائیں! کون سے مہمان آگئے تھے؟‘‘ وہ دونوں وہیں ان کے پاس بیٹھ گئے تھے۔ اظفر کے اشتیاق پر تائی اماں اپنی باتیں چھوڑ کر ان کی طرف متوجہ ہوگئیں اور پھر بطور خاص نوروز کو بتانے لگیں۔

’’کوئی اجنبی لوگ تھے۔ کم از کم ہمارے رشتہ داروں یا جاننے والوں میں سے نہ تھے۔ سویرا کے رشتے کی بات کر رہے تھے۔ اے صفیہ! مجھے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ بالکل غیر لوگ، ہماری سویرا ان کی نظر میں آئی کیسے؟‘‘ تائی اماں الجھی الجھی سی لگ رہی تھیں۔ نوروز کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لےے کار میں بیٹھے اس نوجوان کا چہرہ گھوم گیا تھا۔

’’سویرا کی کسی دوست وغیرہ کے توسط سے تو نہیں آئے یہ لوگ؟‘‘ وہ کچھ سوچ کر بولا تھا۔

’’انہوں نے کسی کا نام تو نہیں لیا بس مبہم سی بات کر رہے تھے۔‘‘

’’آپ نے کیا کہا اماں؟‘‘ اظفر نے یونہی پوچھا تھا، مگر تائی اماں اسے یوں گھورنے لگی تھیں جیسے اس کی ذہنی حالت پر شبہ ہو۔ ’’ارے کہنا کیا ہے؟ماشائ اللہ سے گھر بھرا پڑا ہے لڑکوں سے ایک سے ایک لائق فائق اور فرمانبردار بچہ موجود ہے خاندان میں، ہم بھلا کیوں اپنی بچی پرائے گھر میں بھیجیں۔‘‘

ان کے استحقاق بھرے قطعی لہجے پر اظفر کھسیانی ہنسی ہنس کر رہ گیا تھا۔ جبکہ نوروز نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔ اگلے ایک دو روز تک ڈھولک کا شور سننے میں نہیں آیا، تائی اماں نے ایک دو بار تذکرہ کیا کہ سویرا کی طبیعت ٹھیک نہیں اور ان کی بات سنتے ہی اس کا ذہن نئی کہانیاں بنانے لگتا تھا۔ اسی ٹینشن میں وہ سویرا کی طبیعت کا پوچھنے اس کے کمرے تک بھی نہیں جاسکا تھا۔

شادی میں پندرہ روز باقی تھے جب گائوں سے بڑی چچی کی آمدبھی ہوگئی۔ ان کے آنے سے شادی کے ہنگاموں میں مزید اضافہ ہوگیا تھا، وہ خاصی زندہ دل خاتون تھیں۔ محفل کو کشتِ زعفران بنا دینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ سلجھے ہوئے ذہین و فطین شیری بھیا اور نازک سی انیقہ کو دیکھ کر وہ بارہا حیرت کا اظہار کرتی رہیں۔

’’ارے آپا! ذرا دیکھو تو یہ میرے بچے لگ ہی نہیں رہے، کیسی اچھی قسمت ہے میری، اپلے تھاپتے تھاپتے سسرال میں آئی تھی۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا، میری اولاد اتنا پڑھ لکھ جائے گی اور یہ شیری کو دیکھو ذرا عینک لگا کر کیسا ماسٹر لگنے لگتا ہے۔‘‘ ان کی باتیں سن کر شیری بھیا جھینپتے اور باقی مسکراتے رہے۔

’’مجھ سے ملنے بھی تو نہیں آتے یہ۔ دل کیسا ترستا رہتا ہے ان کو دیکھنے کے لےے۔ پچھلے سال آئے تھے یہ دونوں بہن بھائی اور اب میں آئی ہوں۔‘‘ وہ انیقہ کے بال سنوارتے ہوئے شکوہ کر رہی تھیں۔

’’بس بہن! اولاد کی بہتری کے لےے والدین کو بہت کچھ سہنا پڑتا ہے۔‘‘

تائی اماں کے کہنے پر بڑی چچی نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ پھر بڑی چچی کی ایماپر ہی سب لوگ مایوں کی رسم ادا کرنے پر راضی ہوگئے تھے ورنہ نوروز نے کہہ رکھا تھا کہ ابھی سے یہ کھڑا ک پھیلانے کی ضرورت نہیں۔

’’ارے لڑکوں کا کیا ہے، شرم کے مارے کہہ دیتے ہیں ایسی باتیں۔‘‘

بڑی چچی اس کی بات چٹکیوں میں اڑا گئی تھیں۔ پھر اسی شام اظفر اور مہران نوروز کو کھینچ کھانچ کر اس کے کمرے سے باہر نکال لائے تھے چوکی پہ بٹھا کر مایوں کی رسم دا کی گئی، ڈھولک کی تھاپ اور نسوانی قہقہوں سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ نوروز نے کنپٹیوں پر تیل کی بہتی دھاریں محسوس کیں تو اسے بے اختیار وہاب یاد آگیااور اس کے ساتھ ہی وہ رات جب اس نے سرخ دروازوں پر لکھے ہوئے B-4 کو ذہن نشین کیا تھا۔ مایوں کی رسم ادا کرنے کے بعد یہاں بھی طوفانِ بدتمیزی کا آغاز ہوگیا تھا۔ نہ نہ کرتے بھی وہ ایک دوسرے کی درگت بنانے پر تل گئے تھے اور جب خوب کھیل تماشے کے بعد وہ لوگ دولہا کی ہیئت کزائی دیکھنے کے لےے اس کی طرف متوجہ ہوئے تو معلوم ہوا کہ دولہا صاحب وہاں سے غائب ہوچکے تھے۔

٭٭٭

کمال ہے بھئی، یہ لوگ تو ہماری سویرا کے پیچھے ہی پڑ گئے ہیں؟‘‘ تائی اماں فکر مند سے لہجے میں کہتی ہوئی پچھلے برآمدے میں بچھے تخت پر آبیٹھی تھیں، مسالے صاف کرتی ہوئی چھوٹی چچی نے سر اٹھا کر دیکھا۔

’’خیریت تو ہے؟‘‘

’’ہاں ہے تو خیریت۔۔۔ اے نیلو! بیٹا ذرا بھاگ کر میرے لےے ایک کپ چائے کا کہہ آئو کسی سے۔‘‘

انہوں نے کنپٹیاں دباتے ہوئے کہا تو ٹیپو کو بڑے انہماک سے ہوم ورک کرواتی نیلو فر فوراً ہی اٹھ گئی تھی۔

’’وہی لوگ دوبارہ آئے بیٹھے ہیں۔ وہ تو شکر ہوا، اظفر کے ابا موجود تھے اب خود ہی نبٹ لیں گے۔‘‘

’’تو اس میں اتنا پریشان ہونے کی کیا بات ہے آپا؟ جس گھر میں بیری ہو، وہاں پتھر تو آتے ہی ہیں۔ ہماری نہیں مرضی تو وہ کیا کر لیں گے۔ ٹال دیجےے انہیں کہہ دیں کہ ہمارے ہاں خاندان سے باہر رشتے نہیں کےے جاتے۔‘‘ چھوٹی چچی نے خاصے تعجب سے انہیں دیکھا تھا۔ جس پر تائی اماں رازدارانہ انداز میں ان کے قریب کھسک آئیں۔

’’دیکھو، صرف تم سے بات کر رہی ہوں۔ یہ عورت اور اس کی بیٹیاں اس رشتے پر کچھ زیادہ راضی نظر نہیں آتیں۔ عجیب کترایا کترایا سا انداز ہے ان کا، ایک آدھ بار اپنے بیٹے کا نام بھی لیا ہے کہ اس کی وجہ سے انہیں دوبارہ یہاں آنا پڑا ہے بس ایک یہ ہی بات کھٹک گئی ہے مجھے۔ اظفر کے ابا کو سمجھا آئی ہوں کہ ہمیں پرائے لوگوں سے رشتہ داریاں نہیں بنانی لہٰذا کوئی نہ کوئی بہانا کر کے چلتا کریں۔‘‘

’’یہ تو اچھا کیا آپ نے۔ خیر اب فکر مند نہ ہوں۔ بھائی صاحب کو بات کرنے کا طریقہ سلیقہ آتا ہے، خود ہی مناسب طریقے سے ٹال دیں گے انہیں۔ یہ لیجےے نیلو چائے لے آئی ہے۔ آپ سکون سے چائے پئیں۔‘‘ چھوٹی چچی نے نیلو کو آتے دیکھا تو بڑے سبھائو سے بات بدل گئیں۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ نیلو پر اعتبار نہیں کر سکتی تھیں لیکن بعض معاملات وہ صرف آپس تک ہی محدود رکھنے کی عادی تھیں۔ یہ بھی ایک ایسا ہی معاملہ تھا۔

٭٭٭

’’ہم ماں بیٹی بھی کیسے نصیب لے کر آئی ہیں اس دنیا میں۔ ماں بیوہ اور بیٹی طلاق یافتہ۔ تم زندگی کے ایک نئے سفر کا آغاز کرنے جارہے ہو۔ ان مبارک ساعتوں میں ہم اس لےے تمہاری طرف نہیں آتے کہ کہیں ہم تیرہ بختوں کا سایہ تمہاری خوشیوں پر نہ پڑجائے ہم نہیں چاہتے کہ ہم کسی محفل میں جائیں اور لوگ ہمیں منحوس سمجھتے ہوئے ایک کونے میں بٹھا دیں۔ یہ سب میرے لےے نیا ضرور ہے مگر عجیب نہیں۔ اپنے بچپن میں میں نے کئی بار اپنی ماں کو اس صورتِ حال کا سامنا کرتے ہوئے دیکھا تھا اور مجھے اندازہ تھا کہ میرا مقدر مجھ سے ایک چیز چھینے گا تو اس کے ساتھ ہزار باتوں سے خود مجھے دست بردار ہونا پڑے گا مجھے علم تھا کہ اللہ مجھے صرف ایک دکھ دے گا اور اس کے ساتھ ہزاروں غم میرے اپنوں کی دین ہوں گے۔ سو تم مجھ سے شکوہ مت کرو، میں اپنے گھر میں بیٹھ کر بھی تمہاری خوشیوں کو شیئر کر سکتی ہوں۔‘‘

’’خوشیاں۔‘‘ وہ زیرِ لب دہراتا ہوا اپنے دل میں اس لفظ کو کھوجنے لگا۔

وہ دونوں ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر سیڑھیوں پر بیٹھے تھے۔ دن بھر کی جلتی بلتی کائنات رات کے آغاز میں ٹھنڈی پڑ چکی تھی، ہوا کے جھونکوں میں قدرے تیزی تھی اور صحن کی داہنی دیوار کے ساتھ لگے شہتوت کے درخت اس ہوا کے زور پر ہولے ہولے جھومنے لگتے تھے۔ آسمان پر ادھورا چاند ہولے ہولے مغرب کی سمت سرک رہا تھا۔ صائمہ کا آدھا وجود اس ادھورے چاند کی نیم جان سی چاندنی کی زد میں تھا اور خود وہ مکمل طور پر اندھیرے میں بیٹھا تھا۔

’’امی کو تمہاری شادی کی خبر سن کر کافی دھچکا لگا تھا۔ اگر تم پہلے سے انہیں اطلاع دے دیتے تو۔۔۔‘‘ وہ بات نا مکمل کر چھوڑ کر خوامخواہ ہی سر جھٹک کر مسکرا دی تھی۔

’’وہ ایک بار پھر مجھے ایسے راستے پر چلتے ہوئے دیکھنا چاہتی تھیں جس کے درمیان میں پہنچ کر مجھے واپسی کا سفر طے کرنا پڑتا اور واپسی کا سفر بعض اوقات بہت اذیت ناک ہوتا ہے نوروز۔‘‘ اس کی آواز میں نمی سی گھل گئی تو وہ بے اختیا راٹھ کھڑا ہوا تھا۔

’’تم اب جائو، امی اٹھ گئیں تو ان کی باتوں میں تمہیں دیر ہوجائے گی۔‘‘ وہ اس کی طرف سے رخ موڑے کھڑی تھی، وہ دھیرے دھیرے سیڑھیاں اترتا بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

’’اور ہاں کوشش کرنا کہ اب تم یہاں زیادہ نہ آئو یہ تمہارے حق میں بھی بہتر ہوگا اور میرے حق میں بھی۔‘‘

صائمہ کا لہجہ مضبوط تھا۔ اس کے دل سے خون کا ایک قطرہ درد بن کر نکلا اور پورے وجود میں سرایت کر گیا۔ اس نے قدم اٹھا کر دہلیز کے پار رکھا تو پھرپلٹ کر نہیں دیکھا۔

میں بھول جائوں تمہیں یہ ہی مناسب ہے

مگر بھلانا بھی چاہوں تو کس طرح بھولوں

کہ تم تو پھر بھی حقیقت ہو کوئی خواب نہیں

یہاں تو دل کا یہ عالم ہے کیا کہوں کم بخت

بھلا سکا نہ یہ وہ سلسلہ جو تھا ہی نہیں

وہ اک خیال جو آواز تک گیا ہی نہیں

وہ ایک بات جو میں کہہ نہیں سکا تم سے

وہ ایک ربط جو ہم میں کبھی رہا ہی نہیں

مجھے ہے یاد وہ سب جو کبھی ہوا ہی نہیں

اگر یہ حال ہے دل کا تو کوئی سمجھائے

تمہیں بھلانا بھی چاہوں تو کس طرح بھولوں

کہ تم تو پھر حقیقت ہو، کوئی خواب نہیں

گھر نزدیک آگیا تھا، ڈھولک کی آواز یہاں تک سنائی دے رہی تھی۔ وہ بہت آہستگی سے گیٹ کھول کر گھر میں داخل ہوگیا تھا۔

٭٭٭

رات آدھی سے زیادہ بیت گئی تھی مگر نیند آنکھوں سے ایسی غائب ہوئی تھی کہ بار بار کروٹیں بدلنے کے بعد وہ جیسے تھک کر اٹھ بیٹھا تھا۔ باقی سب لوگ تھوڑی دیر پہلے ہی ڈھولک پیٹ کر، گلے پھاڑ پھاڑ کر گانے کے بعد تھک ہار کر سونے کے لےے گئے تھے۔ جوں جوں شادی کا دن نزدیک آتا جارہا تھا ان لوگوں کا جوش و خروش بڑھتا ہی جارہا تھا۔ آج بھی انہوں نے شام ہی سے خوب ہنگامہ کر رکھا تھا۔ وہ اسٹوڈیو سے واپس آیا تو محفل اپنے عروج پر تھی۔ چھوٹی چچی اور تائی اماں دوپٹوں پر گوٹا لگا رہی تھیں۔ سدرہ سلائی مشین سنبھالے بیٹھی تھی اور ڈھولک بد قسمتی سے معیز اور مہران کے ہتھے چڑھ گئی تھی اور تو اور ارسل بھائی بھی اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کر نجانے کیسے یہاں آبیٹھے تھے۔ سویرا کو پتانہیں کیا ہوا تھا وہ گھٹنوں میں منہ دےے صوفے میں دھنسی بیٹھی تھی۔

’’ارے دولہا میاں! کبھی دو گھڑی ہمارے پاس بھی بیٹھ جایا کرو۔‘‘

بڑی چچی نے اسے اپنے کمرے کی طرف جاتا دیکھ کر آواز لگائی تو وہ پلٹ کر وہیں آبیٹھا۔ بڑی چچی اس سے ایک دو باتیں کرنے کے بعد دوبارہ تائی اماں سے مختلف رسومات کو ڈسکس کرنے لگی تھیں۔ وہ یونہی بے دلی سے وہاں بیٹھا رہا۔

’’ارے ہوا کچھ نہیں۔ کل سے ایک ہی ضد پکڑ رکھی ہے کہ شادی پر پانچ جوڑے بنوائوں گی۔ ارے سب نے چار چار جوڑے بنوائے ہیں۔ اس کو پانچواں بنا دیا تو باقی بھی مائوں کے سر ہوجائیں گی۔‘‘

تائی اماں کی جھنجھلائی ہوئی آواز پر وہ اپنے خیالوں سے چونکا۔ سویرا کے انداز نشست میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ ارسل بھائی جو جب سے اس کی ناراضگی کی وجہ پوچھ رہے تھے۔ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے برابر جا بیٹھے تھے اور اب اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لےے بڑی محبت سے اس سے پوچھ رہے تھے۔ وہ بھیگی پلکیں لےے، قالین پر نظریں جمائے بالکل ایک ضدی بچی کی طرح لگ رہی تھی۔ چہرے پر ناراضی کے تمام اثرات موجود تھے۔

’’تو ٹھیک ہے بھئی اگر ایک سوٹ کے بدلے ہماری گڑیا کے چہرے پہ مسکراہٹ آسکتی ہے تو ہمیں یہ سودا مہنگا نہیں۔‘‘ ارسل بھائی نے سر جھٹکا اور جیب سے والٹ نکال کر ہزار ہزار کے کئی نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھادےے۔

’’یہ لو اور بہت ہی زبردست سا سوٹ ہونا چاہےے، جسے پہن کر ہماری گڑیا بالکل شہزادی لگنے لگے۔‘‘ ارسل بھائی اسے ہمیشہ کسی ننھی بچی کی طرح ہی ٹریٹ کیا کرتے تھے۔ سویرا پیسے تھامنے کے بجائے چہرہ موڑ کر بغور انہیں دیکھنے لگی تھی۔

’’ارے بھئی، لو نا۔‘‘ شفقت، محبت ان کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ لہجے سے بھی چھلک رہی تھی۔ سویرا نے ہاتھ بڑھا کر وہ پیسے لے لےے تھے۔ پھر نوروز کی طرف دیکھا اور ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ چند لمحے اسے دیکھتی ہی رہی تھی۔ بہت عجیب سا انداز تھا، اس کا شکوہ کرتا ہوا۔ کچھ جتاتا ہوا۔

’’شاید سویرا کی خواہش تھی کہ ارسل بھائی کی جگہ میں۔‘‘ اس نے نظروں کا زاویہ بدلتے ہوئے سوچا، عین اسی لمحے سویرا اٹھی تھی اور بھاگتی ہوئی لائونج سے باہر نکل گئی تھی نوروز کو ایک لمحے کے لےے افسوس ہوا۔

’’چلو کوئی بات نہیں، کل اسے اپنے ساتھ بازار لے جائوں گا۔ اپنی مرضی سے جو خریدنا چاہے گی، لے دوں گا۔‘‘

اس نے دل ہی دل میں ارادہ باندھا، خود کو تسلی دی اور سونے کی نیت سے اوپر چلا آیا تھا۔ مگر اس شور میں نیند کا آنا محال تھا۔ وہ یونہی کانوں پہ تکیہ رکھے لیٹا رہا تھا۔ اور اب جب ہر طرف سکون پھیل گیا تھا تو نیند آنکھوں سے غائب ہو چکی تھی۔ اس نے کمرے سے باہر نکل کر لائونج میں جھانکا۔ ہر چیز جوں کی توں پڑی تھی۔ عین وسط میں پھٹی ہوئی ڈھولکی، سدرہ کی سلائی مشین، صوفوں پر بکھرے رنگین کپڑے اور چائے کی خالی کپوں سے بھری ہوئی ٹرے۔

’’پتا نہیں ہر روز ان لوگوں میں اتنی انرجی کہاں سے آجاتی ہے؟‘‘ وہ سوچتے ہوئے پلٹا تھا تب ہی اس کی نگاہ پچھلے برآمدے میں کھلنے والے دروازے پر جا پڑی۔ ایک لمحے کے لےے اسے لگا جیسے وہ دوازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ پریشان ہوتے ہوئے فوراً ہی زینہ اترنے لگا تھا۔ شادی والے گھر میں ایسی لاپروائی کوئی بہت بڑا نقصان بھی پہنچا سکتی تھی۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا مختلف چیزیں پھلانگتا دروازے تک پہنچا جو واقعی کھلا ہوا تھا۔

’’حد ہوتی ہے لاپروائی کی، اگر تایا ابا میری جگہ ہوتے تو اسی وقت اس لاپروائی پر سب کو لائن حاضر کر لیتے۔‘‘ اس نے بڑبڑاتے ہوئے دروازہ کھول کر باہر جھانکا۔

چاند پورا تھا اور اس کی اجلی چاندنی میں پورا لان جگمگا رہا تھا۔ اس نے گہری سانس لے کر ڈھیر سارے پھولوں کی ملی جلی مہک اپنے اندر اتاری اور سرسراتی ہوا سے لطف اندوز ہونے کے لےے لان میں ٹہلنے لگا، تب ہی پچھلی دیوار کے ساتھ لگے امرود کے چھوٹے سے درخت کے پیچھے ہلکی سی کھڑکھڑاہٹ سنائی دی وہ یونہی چلتا چلتا ادھر آگیا۔ امرود کے درخت کے پیچھے اسے کسی ہیولے کا شائبہ ہوا تھا۔

’’کون ہے۔۔۔؟‘‘ اس نے ٹھٹک کر رکتے ہوئے یونہی اپنی تسلی کرنی چاہی تھی مگر اس کے جواب میں کوئی تھا جو تیزی سے بھاگ کر بیری کے گھنے درخت کی طرف بھاگا تھاجس کی شاخیں بڑھ کر زمین کو چھو رہی تھیں۔ ایک لمحے کے لےے اس کی ریڈھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی تھی۔

’’اے خبردار! رک جائو۔‘‘ وہ خود کو ہر قسم کی صورت حال کے لےے تیار کرتا ہو چلُایا تھا اور ایک ہی جست میں اس تک پہنچ کر اسے کھینچ کر بیری کے جھنڈ میں چھپنے سے روکا تھا، اس کے زوردار جھٹکے کے جواب میں نسوانی آہ ابھری تھی اور نوروز اپنی جگہ ساکت ہوگیا تھا۔

وہ کون ہوسکتی تھی، اس کا اسے اندازہ تھا مگر دل نے پوری شدت سے خواہش کی تھی کہ ایسا نہ ہو۔ اپنے منجمد وجود کو حرکت دیتا وہ اس تک آیا تھا۔ چادر میں لپٹا وجود زمین پر گرا ہوا تھا۔ اس کے آگے بڑھنے سے قبل ہی وہ سنبھل کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ نوروز کی کپکپاتی انگلیوں نے چہرے سے لپٹے نقاب کو ایک جھٹکے سے ہٹایا تھا۔

’’کاش! اس ایک چہرے کو یہاں دیکھنے سے پہلے مجھے موت آگئی ہوتی۔‘‘ اس کے دل نے دعا کی تھی سویرا لڑکھڑاتی ہوئی دیوار کے ساتھ جا لگی تھی۔ نیم تاریکی میں اس کا سفید پڑتا چہرہ اسے بخوبی دکھائی دے رہا تھا۔

’’کہاں جارہی تھیں تم۔۔۔؟‘‘ وہ سرد آواز میں غرُایا تھا۔ سویرا کے لےے سانس لینا مشکل ہوگیا تھا۔ اس نے اس صورتِ حال کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔

’’میں پوچھ رہا ہوں، کہاں جارہی تھیں تم۔۔۔؟‘‘ اس کا کھردرا ہاتھ یک لخت ہی اس کی گردن پر جم گیا تھا۔ سویرا کی پھٹی پھٹی آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کی کلائیوں پہ گرنے لگے تھے۔ وہ خوف کے مارے خود میں چیخنے کی ہمت بھی پیدا نہ کرسکی تھی۔

’’بولو جواب دو۔‘‘ شدید غم وغصے سے اس کی گرفت خودبخود سخت ہوتی چلی گئی تھی۔

’’نہیں، آپ کو جواب نہیں دوں گی، آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دوں گی۔‘‘ وہ گھٹی گھٹی آواز میں چلُائی تھی۔

’’کیا ہورہا ہے یہاں۔۔۔؟‘‘ حد درجہ متعجب مانوس آواز بہت قریب سے سنائی دی تھی۔ نوروز ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ کر مخاطب کی طرف پلٹا تھا۔

’’تائی اماں۔۔۔ تائی اماں! آپ نے دیکھا، یہ کیا کرنے چلی تھی، دیکھ رہی ہیں آپ یہ، یہ۔‘‘ الفاظ اس کی زبان کا ساتھ نہیں دے پارہے تھے۔

سیاہ چادر میں چھپا وجود، پائوں کے پاس گرا ہوا چھوٹا سا بیگ، وہ بھلا کیا پوچھتیں، سب کچھ تو صاف صاف دکھائی دے رہا تھا۔

’’سویرا۔۔۔!‘‘ ان کے لہجے میں ایسی بے یقینی تھی کہ سویرا ندامت کے مارے زمین میں گڑ گئی تھی۔

’’یہ کیا کرنے چلی تھی سویرا تجھے ہمارا خیال نہیں آیا۔‘‘ وہ گہرے صدمے کے زیر اثر تھیں۔

’’اگر کچھ ہوجاتا۔‘‘ کا روح فرسا خیال ان کے دھڑکتے دل کوساکت کر رہا تھا۔ سویرا ایک قدم آگے بڑھی تھی اور ٹوٹی ہوئی شاخ کی طرح لڑکھڑا کر تائی اماں کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ تائی اماں کے بے جان ہوتے ہوئے بوڑھے بازو ان کے پہلو میں لٹک رہے تھے۔

’’مت کرو یہ مکر و فریب۔‘‘ نوروز نے وحشت کے عالم میں اسے بازو سے کھینچ کر تائی اماں سے علیحدہ کر دیا تھا۔

’’تمہارا یہ فعل اتنا گھٹیا اتنا نیچ ہے کہ تم سے کوئی ہمدردی نہیں کی جاسکتی۔‘‘ وہ مٹھیاں بھینچ کر دھاڑا تھا۔ سویرا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبائے، لرزتے کانپتے وجو د کے ساتھ تائی اماں پہ نظریں جمائے کھڑی تھی۔

’’میرا دل چاہ رہا ہے، میں تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر کے یہیں اس زمین میں دفن کردوں۔‘‘ غم کی شدت نوروز کو ہوش و حواس سے بے گانہ کےے جارہی تھی۔

’’نوروز! آہستہ بولو خدارا اپنی آواز اونچی مت کرو۔‘‘ تائی اماں کی آوا ز ان کے حلق میں گھٹی جارہی تھی۔

’’تم ادھر آئو۔ چلو میرے ساتھ۔‘‘ تائی اماں کو اس صورتِ حال سے نبٹنا تھا۔ انہوں نے سویرا کو کلائی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا مگر نوروز درمیان میں آگیا۔

’’نہیں تائی اماں! یہ اس طرح دوبارہ۔‘‘

’’نوروز! تم اس وقت خاموش رہو۔‘‘ انہوں نے ڈپٹ کر کہا اور سویرا کو کھینچتی تقریباً بھاگتی ہوئی گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھیں۔

’’اس نے ہم سب کا اعتماد توڑا ہے۔‘‘ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ان کے پیچھے تھا۔ سسکتی ہوئی نیم جان سی سویرا خود بخود تائی اماں کے ساتھ گھسٹتی جارہی تھی۔

’’نوروز! چپ ہوجائو۔‘‘ تائی اماں کی لہجہ التجائیہ تھا۔ وہ اسے لےے سیدھا اپنے کمرے میں آگئی تھیں۔ دھاڑ سے دروازہ کھولتا ہوا نوروز بھی وہیں پہنچ گیا تھا۔

’’اسے اپنی اس حرکت کا جواب دینا ہوگا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں، اس سے کہ۔۔۔‘‘

’’لیکن میں آپ کو کچھ بھی پوچھنے کا حق نہیں دیتی۔‘‘ روتی ہوئی سویرا ایک دم چیخ اٹھی تھی۔

’’کون ہوتے ہیں آپ میرے؟ کیا لگتے ہیں؟ کیوں جواب دوں میں آپ کو؟ کس ناتے سے آپ مجھ سے یہ سوال جواب کر رہے ہیں؟ یہ سامنے کھڑی ہیں آپ کے جنہوں نے مجھے ماں بن کر پالا ہے۔ یہ سوال کریں گی تو میں جواب دوں گی۔ یہ سزا سنائیں گی تو میں سن لوں گی۔ یہ ماریں گی تو میں سہہ لوں گی۔ میں اس گھر کے ایک ایک فرد کے سامنے جواب دہ ہوسکتی ہوں مگر آپ کے سامنے نہیں۔ صرف آپ کے سامنے نہیں۔ آپ اپنا ہر حق کھو چکے ہیں۔ ہر مقام پر مجھے مایوس کر کے۔۔۔‘‘

سویرا پھٹ پڑی تھی۔ نوروز دم بخود کھڑا تھا اور تائی اماں نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دےے تھے۔

’’خدا نے تمہاری عزت بچالی ہے، اس کا کچھ خیال کرو۔ یوں اپنے ہاتھوں اپنا تماشا مت بنوائو۔ یہ سارا گھر نشے کی پڑیا کھا کر نہیں سورہا۔ کوئی آگیا تو تمہیں منہ چھپانے کو جگہ نہیں ملے گی۔‘‘

وہ گھٹنوں میں منہ دے کرسسکنے لگی، تب وہ نوروز کی طرف پلٹیں جو کسی بت کی طرح کمرے کے وسط میں ایستادہ تھا۔

’’نوروز بیٹا تم جائو اپنے کمرے میں۔‘‘ اس کا بازو تھام کر انہوں نے بہت نرمی سے کہا۔ وہ گم صم سا دھندلائی آنکھوں سے انہیں دیکھے گیا۔

’’نوروز بیٹا! میری جان، اتنے پریشان مت ہو۔ کچھ نہیں ہوا۔‘‘ وہ اس کا چہرہ تھام کر اسے تسلی دینے لگیں تب اس نے ذرا سی پلکیں جھپکیں۔

ایک تنہا آنسو اس کی پلکوں پر آکر ٹھہر گیا تھا تائی اماں نے اس کے ہونٹوں پر کپکپاہٹ اترتے دیکھی تو گھبرا سی گئیں۔

’’نوروز!‘‘ انہوں نے پکارا تھا اور نوروز بھربھری مٹی کی طرح زمین پر بیٹھتا چلا گیا تھا۔ اپنی بہت سختی سے بھنچی ہوئی مٹھیوں پر سر گرائے وہ بہت اذیت میں لگ رہا تھا۔ تائی اماں نے بے قرار سا ہو کر اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا تھا اور وہ ان کی دونوں کلائیاں پکڑے کسی نو عمر بچے کی طرح ٹوٹ کر رو دیا تھا۔

تائی اماں کا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔ اس طرح تو وہ اپنے ماں باپ کی موت پر بھی روتا دکھائی نہیں دیا تھا۔ اسے اپنے سینے میں بھینچتے ہوئے تائی اماں کے لےے اپنی سسکیوں کو روکنا محال ہوگیا تھا۔

٭٭٭

’’تایا ابا کے کمرے میں میٹنگ چل رہی ہے، سمجھ میں نہیں آتا معاملہ کیا ہے؟ ایسی رازداری اس سے پہلے کبھی نہیں برتی گئی۔۔۔۔‘‘ اظفر کے پیٹ میں مسلسل درد ہورہا تھا۔

’’میٹنگ کے شرکائ کے نام بیان کےے جائیں، تاکہ معاملے کی نوعیت کا اندازہ لگایا جاسکے۔‘‘ سدرہ بھی کھوجنے لگی۔

’’تایا ابا، تائی اماں، ارسل بھائی اور چھوٹی چچی۔۔۔‘‘

’’ہائیں بڑی چچی اور وہ خاندان کے سب سے عقل مند ذہین و فطین شیری بھیا۔‘‘ مہران نے حیرت سے پوچھا۔

’’وہ دونوں تو خیر بازار گئے ہوئے ہیں، تشویش کی بات تو یہ ہے کہ اس میٹنگ میں نیلو بھابھی کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔‘‘ اظفر کی اطلاع پر نیلو بھابھی کا منہ بن گیا تھا۔

’’چھوٹی عمر کی شادی کی یہ ہی تو مصیبت ہے، بندے کا عہدہ بڑا ہوجاتا ہے لیکن شمار نا سمجھ لوگوں میں ہی ہوتا ہے۔‘‘

’’تو گویا آپ در پردہ ہمیں نا سمجھ قرار دے رہی ہیں۔‘‘ انیقہ نے سوچتے ہوئے کہا۔

’’در پردہ کیوں؟ وہ تو ڈنکے کی چوٹ پر کہہ رہی ہیں۔‘‘ مہران نے پھوٹ ڈلوانے کی کوشش کی۔

’’افوہ دفع کرو اس بات کو، میں کھوج لگا کر آتا ہوں کہ اصل معاملہ کیا ہے؟‘‘ اظفر اٹھا تو معیز بھی اس کے پیچھے لپکا تھا۔ باقی سب لوگ شدت سے اس کا انتظار کرنے لگے۔ ذرا دیر بعد معیز اڑی اڑی رنگت کے ساتھ مدد، مدد پکارتا بھاگا چلا آیا تھا۔

’’کیا ہوا؟‘‘ شہلا نے عجلت میں پوچھا۔

’’اظفر، اظفر، پھنس گیا۔‘‘

’’اوہ نو! کیا تایا ابو نے دیکھ لیا؟‘‘ رشنا نے خوف سے آنکھیں پھیلائیں۔

’’نہیں، وہ باتیں سننے کے لےے روشن دان سے اندر جھانک رہے تھے اسی دوران میٹنگ برخاست ہوگئی اور وہ باہر نکلنے کی کوشش میں پھنس کر رہ گئے۔‘‘ اس اندوہناک خبر پر وہ سب ہی بھاگ کھڑے ہوئے تھے اور جب بمشکل اسے کھینچ کھانچ کر واپس لائونج میں لانے میں کامیاب ہوئے تب چھوٹی چچی ہنستی مسکراتی چلی آئیں۔

’’مبارک ہو بھئی سب کو۔‘‘

’’یہ کون سا موقع ہے مبارک باد دینے کا؟‘‘ اظفر اپنی گردن سہلا رہا تھا۔

’’ارے یہ ہی تو موقع ہے مبارک باد کا خصوصاً تمہارے لےے۔‘‘

’’ہائیں! کیا مطلب؟‘‘

’’بھئی ایک خوش خبری ہے تم سب لوگوں کے لےے۔‘‘ چچی ان کا تجسس بھڑکا رہی تھیں۔

’’جلدی سنائیں نا۔‘‘

’’نوروز کی شادی کے ساتھ ایک اور شادی طے پاگئی ہے۔‘‘

’’کیا؟ کس کی؟‘‘ اس کی حیرت دیکھنے لائق تھی۔

’’اظفر اور سویرا کی۔‘‘

’’ہاں۔۔۔‘‘ سب ایک ساتھ اظفر کی طرف پلٹے جو ’’نہیں‘‘ کی آواز لگا کر صوفے پر لڑھک گیا تھا۔

’’تین دن میں ایک اور شادی کی تیاری۔۔۔ کیسے ہوگا یہ سب؟‘‘ سدرہ اور انیقہ چلا اٹھیں۔ شہلا اور رشنا، سویرا کے کمرے کی طرف بھاگی تھیں۔ مہران اور معیز اظفر کو اٹھائے بھنگڑا ڈال رہے تھے۔

٭٭٭

اگلے چند روز سب کے لےے بے حد پریشانی میں گزرے تھے۔ نوجوان پارٹی ایک ساتھ دو شادیوں کی تیاری میں بے حال ہوگئی تھی بزرگ خواتین نظروں ہی نظروں میں ایک دوسرے سے سوال کرتیں۔

’’ہم نے ٹھیک کیا نا؟‘‘

سویرا اپنے کمرے تک محدود ہوگئی تھی۔ تائی اماں غیر محسوس انداز میں چوبیس گھنٹے ا س کے آس پاس منڈلاتی رہتیں۔ نوروز کے کمرے کا دروازہ ان تین دنوں میں بس کبھی کبھار ہی کھلا تھا۔

جوں جوں شادی کا دن نزدیک آتا گیا، توں توں اس کے چہرے پہ تفکرات کے سائے مزید گہرے ہوتے گئے تھے۔ اس دن کے واقعہ کے بعد تائی اماں نے اسے ایک بار بھی بولتے نہیں سنا تھا، بس ایک گہری چپ تھی جس نے اس کے ہونٹوں پہ مہر لگا دی تھی، سب لوگ اسے چھیڑ چھیڑ کر اظفر کی مثال دیتے رہے جو اپنی شادی پر خود ہی دھمال ڈالتا پھر رہا تھا۔

’’ارے ہم نے تو بڑے بڑوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔‘‘ وہ شیری بھیا کو چھیڑ رہا تھا جو عمر میں اس سے بڑے تھے مگر کنوارے رہ گئے تھے۔

نوروز کی رسمِ مہندی کے بعد سویرا کا نکاح اظفر سے پڑھوا دیا گیا تھا وہ نچلے کمرے سے رخصت ہو کر اوپر والے پورشن میں اظفر کے سجے سجائے کمرے میں آبیٹھی اور اس رات اس نے اظفر کا نیا ہی روپ دیکھا تھا۔ وہ بہت بولڈ اور پر اعتماد تھا۔ وہ جانتی تھی مگر یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ بے حد رومانٹک بھی ہوسکتا ہے، اس کی استحقاق بھری شرارتوں اور معنی خیز جملوں نے ایک رات ہی میں اس کی ساری اداسی کو گھبراہٹ اور شرم میں بدل دیا تھا، اگلے روز نایاب بیاہ کر اس گھر میں آئی تھی۔

نوروز اپنی ٹینشن میں اس سے ڈھنگ سے بات بھی نہ کر سکا، رونمائی کے کنگن اس کی کلائیوں میں پہنا کر جو بیڈ پر گرا تو صبح تک اپنا ہوش بھی نہ تھا، سدرہ ناشتا لے کر کمرے میں آئی تو وہ تیز بخار میں پھنک رہا تھا۔ گھر بھر اس کے گرد جمع ہوگیا تھا، تائی اماں اس کا سر اپنی گود میں رکھے آیتیں پڑھ پڑھ کرپھونکتی رہیں۔ سویرا اپنے آپ میں چور بنی بارہا اس کے کمرے میں گئی اور دور سے ہی دیکھ کر واپس آگئی۔ نایاب گھبرائی گھبرائی سی پریشان بیٹھی تھی، اس کا دل بہلانے کو سدرہ اسے اپنے ساتھ لے کر باہر آگئی اور اس کی جھجک ختم کرنے کو سب کا تعارف کروانے لگی۔

’’شہلا، مہران، رشنا اور معیز چھوٹے چچا کے بچے ہیں۔ چھوٹے چچا کی عارف والا میں کاٹن کی فیکٹری ہے۔ وہ زیادہ تر وہیں رہتے ہیں۔ چھوٹی چچی البتہ یہیں ہوتی ہیں۔‘‘

پھر بڑے چچا اور بڑی چچی سے تعارف کروایا۔ وہ دونوں گائوں میں ہوتے تھے اور ان کے بچے شیری بھیا اور انیقہ سے وہ مل چکی تھی، باقی فیملی سے وہ پہلے سے متعارف تھی کہ بچپن میں یہاں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ سو اپنائیت اور خلوص کے اس مظاہرے کے بعد نایاب کو ان سے گھل مل جانے میں زیادہ وقت نہیں لگا تھا۔

٭٭٭

ٹھک کی آواز سے کھڑکی کے دونوں پٹ کھلے تھے اور گرد آلود ہوا کا پہلا ہی جھونکا مٹھی بھر خاک سارے کمرے میں بکھیر گیا تھا۔ نوروز نے کتاب سے نظریں ہٹا کر دیکھا۔ کھلی کھڑکی سے نظر آتا آسمان بے تحاشا گرد سے اٹا ہوا تھا اور ہوا زور پکڑتی جارہی تھی۔ اس نے لمحے بھر کے لےے بڑی امید سے کمرے کے بند دروازے کی طرف دیکھا مگر چند لمحوں تک کسی کی آمد نہ ہوئی تو مجبوراً اسے خود ہی بیڈ سے اترنا پڑا تھا۔ دو تین ہفتے بدن سے چپکا رہنے والا بخار اچھی خاصی نقاہت سے نواز کر ہی واپس گیا تھا۔ وگر نہ وہ اتنا سست ہر گز نہیں تھا۔ کھڑکی تک پہنچتے پہنچتے کمرے کے فرنیچر اور قالین پر گرد کی ہلکی ہلکی سی تہ جم گئی تھی۔

کھڑکی بند کرنے سے قبل دونوں ہاتھ چوکھٹ پر جما کر اس نے گردن باہر نکال کر ذرا کی ذرا نیچے جھانکا جہاں ایک شور ہنگامہ مچا ہوا تھا، تائی اماں چیخ چیخ کر سست الوجود لڑکیوں کو باہر نکلنے کے لےے کہہ رہی تھیں کیونکہ شام کی چائے کے برتن ابھی تک عقبی لان میں دھرے تھے۔ نیلو بھابھی سارے لان میں بھاگ بھاگ کر اپنے بچوں کے یہاں وہاں بکھرے کھلونے جمع کر رہی تھیں، رشنا اور شہلا ہوا میں رنگ برنگے دوپٹے لہرا کر نجانے کون سا کھیل کھیل رہی تھیں۔ سدرہ اور انیقہ الگنی سے کپڑے اتارنے کے لےے اوپر بھاگی چلی آرہی تھیں۔

’’اف یہ آندھی بھی کس قدر اچانک۔‘‘ جھوم جھوم کر ایک دوسرے سے ٹکراتے درختوں کو دیکھتے ہوئے وہ انیقہ کی آدھی بات ہی سن پایا تھا۔

’’گویا آندھی کو بھی ہارن بجاتے ہوئے ’’بختیار ہائوس‘‘ میں داخل ہونا چاہےے۔‘‘

اس نے زیر لب مسکراتے ہوئے کھڑکی بند کر کے چٹخنی چڑھائی اور پردہ کھینچ کر برابر کر دیا کہ آندھی اب شدت اختیار کرتی جارہی تھی اور اسے اس لڑکی کا پورا خیال تھا جو بڑی محنت اور لگن سے ہر روز اس کمرے کو اپنے ہاتھوں سے سنوارا کرتی تھی۔ اس نے باقی کھڑکیاں چیک کرنے کے بعد کمرے کا دروازہ کھولا اور باہر نکل کر گرل پہ جھک کر نیچے جھانکنے لگا۔ گھر کے زیادہ تر افراد اس وقت مزے سے لائونج میں براجمان تھے۔ ٹی وی فل والیوم میں چل رہا تھا لیکن خبرنامے کے باعث تایا ابا کے سوا کوئی بھی اس طرف متوجہ نہیں تھا۔

تائی اماں اور چھوٹی چچی سر جوڑے صوفے پر بیٹھی تھیں۔ ارسلان بھائی فائلیں سامنے رکھے کافی مصروف نظر آرہے تھے۔ شیری بھائی اور اظفر کی اپنی میٹنگ چل رہی تھی۔ لڑکیاں غالباً سب کی سب کچن میں مصروف تھیں۔ باہر چیختی چنگھاڑتی ہوا کی وحشت کا یہاں شائبہ تک نہ تھا۔ گھر کی تعمیر ہی کچھ اس طرح ہوئی تھی کہ سامنے والے برآمدے میں کھلنے والا لکڑی کا مضبوط منقش دروازہ اور پچھلے برآمدے میں کھلنے والا دروازہ بند کر دیا جاتا تھا تو بیرونی ماحول اندرونی ماحول پر بالکل بھی اثر انداز نہ ہوتا تھا اوپر تلے بنے ہوئے کمروں کی دو قطاریں آمنے سامنے تھیں اور درمیان میں جو وسیع جگہ بچی تھی اسے ٹی وی لائونج کی شکل دے دی گئی تھی۔ چھت پورے گھر پہ ایک ہی ڈالی گئی تھی سو اوپر کے کمرے سے نیچے کا منظر صاف دکھائی دیتا تھا۔

وہ چند لمحے وہاں کھڑا رہنے کے بعد کمرے میں واپس چلا آیا تھا۔ بیڈ پر بیٹھنے سے قبل اس نے کھڑکی سے پردہ ہٹا کر باہر دیکھا جہاں گھپ اندھیرا تھا اور آندھی زوروں پر، وہ پنکھے کی رفتار تیز کرتا ہوا بیڈ پہ آگیا اور ابھی ورق گردانی کرتے ہوئے چند لمحے ہی گزرے ہوں گے جب کمرا ایک دم اندھیرے سے بھر گیا روشنی بجھ گئی تھی اور اس کے پاس سوائے طویل سانس لینے کے اور کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔ کتاب ایک طرف رکھ کے وہ چپ چاپ بند ہوتے پنکھے کی سرسراہٹوں کو سننے لگا۔ جو تاریکی کی اوٹ میں چھپی خاموشی کو کاٹتی جارہی تھیں۔ باہر ہوائیں مزید زور آور ہوگئی تھیں اور جیسے کھڑکیوں کے پٹ توڑ دینے کو بے تاب سی ہو رہی تھیں۔

تب ہی دروازہ ہلکی سی آہٹ کے ساتھ کھل گیا تھا۔ کینڈل اسٹینڈ میں مومی شمعیں روشن کےے آنے والی شہلا تھی۔

’’نوروز بھائی! نیچے آئےے نا، یہاں اکیلے کیوں پڑے ہیں؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟ کہیں پھر سے بخار وخار تو نہیں ہوگیا؟‘‘

وہ ایک تواتر سے بولتی کینڈل اسٹینڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھنے لگی۔

’’اللہ کچھ تو بولےے نوروز بھائی! قسم سے اتنے اندھیرے میں تو مجھے ہر چیز جن بھوت یا چڑیل ہی نظر آتی ہے۔‘‘ شہلا کے لےے ایک لمحے کی خاموشی ناقابل برداشت تھی۔

’’کھانا تیار ہوگیا کیا۔۔۔؟‘‘

’’ہائیں، آپ کو ابھی سے بھوک لگنے لگی۔۔۔؟‘‘

اس نے حیرت سے پوچھا۔

’’نہیں۔ بھوک تو نہیں لگ رہی ۔ وہ تو تم نے بولنے کو کہا تھا۔ میں نے یونہی پوچھ لیا۔‘‘

اس کے قدرے معصومانہ انداز پر وہ بے اختیار ہنس دی۔ پھر دروازہ کھول کر باہر نکلتے نکلتے پلٹی۔

’’اگر آپ اکیلے بور ہورہے ہیں تو میں نایاب کو بھجوادوں۔۔۔؟‘‘ اس کے لہجے میں چھپی شرارت کو محسوس کر کے نوروز نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا تھا کمرے میں کافی حبس ہوگیا تھا۔ وہ ابھی اٹھنے کا سوچ ہی رہا تھا جب نایا ب آگئی۔

’’کھانا لے آئوں؟‘‘

’’نہیں، لائیٹ آجائے پھر کھالوں گا۔‘‘ اس کے نفی میں سر ہلانے پر وہ کھڑکیاں کھولنے کے بعد ٹیرس کی طرف کھلنے والا دروازہ کھولنے لگی تھی۔ کھڑکیاں کھلنے سے کمرے میں موجود حبس تیزی سے ختم ہونے لگا تھا۔ ہوا کا زور دم توڑ چکا تھا اور اب ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکے بہت خوشگوار معلوم ہورہے تھے۔

اس نے دیکھا، نایا ب ٹیرس پہ نکل گئی تھی۔ وہ بھی اٹھ کر چلتا ہوا کمرے سے باہر آگیا تھا۔ فضا میں خشک مٹی کی مہک ابھی بھی محسوس ہورہی تھی اس نے ٹیرس سے نیچے جھانکنے کی کوشش کی جہاں اس وقت نوجوان پارٹی نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا تھا۔ ان سب کے درمیان گانوں کا مقابلہ ہورہا تھا۔ شہلا اور انیقہ پھر بھی قدرے سَر میں تھیں لیکن اظفر، معیز اور مہران ایسی بھونڈی آواز میں گارہے تھے کہ اس کے لےے مسکراہٹ روکنا دشوار ہورہا تھا۔

’’ارے خدا کا واسطہ ہے گدھو! اپنی ڈھیچوں ڈھیچوں کا والیم تھوڑا کم کردو جس روز بھی لائیٹ بند ہوتی ہے اور تم لوگ یہ خوفناک مقابلہ منعقد کرتے ہو، اس روز صبح دفتر جاتے ہوئے مجھے محلُے بھر کی شکاتیں سننا پڑتی ہیں۔‘‘

اپنے کمرے کی کھڑکی کھول کر ان پہ پھٹ پڑنے والے یہ شیری بھیا تھے۔

شکوہ نہ کر گلہ نہ کر

لائیٹ بند ہے پیارے

ہم گرمی کے مارے

گاتے رہیں گے

شکوہ نہ کر۔۔۔۔

وہ آفت کے پرکالے کسی کو خاطر میں لانے والے نہ تھے۔

’’مرو تم سب۔‘‘ ان کی پھٹی ہوئی آوازوں کے جواب میں دھاڑ سے کھڑکی بند ہوئی تھی۔

تیرے ساتھ ہی جئیں گے

تیرے ساتھ ہی مریں گے

وہ ایک بار پھر کورس میں گانے لگے تھے۔ نوروز ان کی شرارت پر مسکراتا ہوا نایاب کی طرف پلٹا تو اسے پہلے سے اپنی طرف متوجہ پا کر ٹھٹک سا گیا۔ چند ثانےے اسے دیکھتے رہنے کے بعد وہ اس کی اس حرکت سے کچھ سمجھ نہ پایا تو گردن موڑ کر دوسری جانب دیکھنے لگا تھا۔

’’نوروز! آپ سے ایک بات پوچھوں؟‘‘ وہ کچھ دیر بعد گویا ہوئی تھی۔

’’آپ ان سب لوگوں کے ساتھ گھل مل کر کیوں نہیں رہتے؟‘‘

وہ اس کی بات پر قدرے چونک سا گیا تھا۔

’’نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں۔‘‘ اس نے قطعی لہجے میں اس کی بات کی نفی کر دی۔

’’لیکن میں نے تو محسوس کیا ہے۔ آپ ان سب کے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی موجود نہیں ہوتے۔ بہت الگ تھلگ محسوس ہوتے ہیں، سویرا ہے تو وہ آپ سے بات کرنے کو ترستی نظر آتی ہے۔ تائی اماں ہیں تو ان کی بے قرار نظریں آپ کے چہرے پر نجانے کیا کھوجتی رہتی ہیں، آپ تایا ابا کی بات کو ہوں، ہاں میں ٹالتے رہتے ہیں تو اس لمحے وہ بہت افسردہ سے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ میں جانتی ہوں، آپ بہت کم گو انسان ہیں، بہت ریزرو رہتے ہیں لیکن اگر صرف یہ ہی بات ہے تو ان سب لوگوں کو اب تک اس کا عادی ہوجانا چاہےے تھا۔ وہ اتنے بے چین سے کیوں نظر آتے ہیں؟‘‘

وہ اپنی الجھن بیان کرنے کے بعد اس کے جواب کا انتظار کرنے لگی تھی مگر وہ جوں کا توں رخ موڑے کھڑا رہا۔

’’نوروز!‘‘ نایاب نے آہستگی سے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔

’’مجھے بھوک لگ رہی ہے، کھانے کو کچھ لے آئو۔‘‘ وہ بس اتنا کہہ کر کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا اور نایاب کچھ دیر تک اپنی جگہ سے ہل بھی نہ پائی تھی۔ چونکی تو اس وقت جب تایا اباکی گرج دار آواز کے ساتھ نیچے مکمل خاموشی چھا گئی، وہ سستی سے قدم اٹھاتی آگے بڑھی۔ ایک نظر شمع دان کے قریب بیٹھے نوروز پر ڈالی اور پھر نیچے چلی آئی، جہاں سب لوگ ’’ربا میرے ربا‘‘ اور اظفر ’’ابا میرے ابا‘‘ گنگناتے ہوئے پناہ گاہ تلاش کر رہا تھا۔

’’میراثیوں کا گھر سمجھ رکھا ہے، بدبختوں نے، کوئی ادھر سے سَر لگا رہا ہے تو کوئی اَدھرسے تان اٹھا رہا ہے اللہ کا نام کبھی بھولے سے بھی ان کی زبان پر نہیں آیا۔‘‘ تایا ابا بولنے پر آئے تو بولتے چلے گئے۔

’’مقابلے میں شامل افراد نوٹ فرمالیں، کل سے مقابلہ نعتوں کا ہوا کرے گا۔‘‘ مہران نے سرگوشی کی جبکہ سدرہ سارے گھر میں اعلان کرتی پھر رہی تھی۔

’’کل پچھلے لان میں میلاد منعقد کیا جائے گا، حاضرین سے شرکت کی درخواست ہے۔‘‘

’’تبرک کے طور پر کیا ملے گا۔‘‘ انیقہ سدا کی چٹوری تھی۔

’’بوندی۔۔۔ نہیں بدانہ۔۔۔ آں بوندا با ندی۔‘‘ سدرہ کے لےے انتخاب دشوار ہورہا تھا اور ان ہی حرکتوں سے ذرا دیر بعد وہ لوگ ایک بار پھر ہنسی ٹھٹھول میں مصروف ہوگئے تھے۔

وہ رات خاصی بے چینی سے کٹی تھی۔ بجلی نہ ہونے کے باعث کمروں میں گرمی اور حبس بڑھ گیا تھا۔ جس جس کا دائو چلا وہ اسٹور روم سے چارپائی نکال کر لان میں جا پہنچا۔ مہران کو بھی یہ خیال سوجھا تھا مگر ذرا دیر سے۔ اس کے پہنچنے تک آخری چارپائی بھی بک ہوچکی تھی اور اتفاق سے وہ چارپائی معیز کے ہاتھ لگی تھی اس کا ٹھاٹھ سے کھلی فضا میں سونا ان دونوں کو ہی گوارا نہ تھا سو آدھی رات کو وہ بھوت بن کر اسے ڈرانے کی کوشش کرتے رہے جو کہ قطعی طور پر ناکام ہوگئی تھی اس لےے کہ محترم معیز صاحب نے آیۃ الکرسی پر ایسا اندھا اعتقاد قائم کر رکھا تھا کہ اگر ان کی جگہ کوئی اصلی والے جن بھوت بھی آجاتے تو معیز انہیں ایک آدھ زوردار پھونک اور دو چار جھانپڑ رسید کرنے کے بعد کروٹ بدلتا اور آرام سے سوجاتا ہاں ایک ترکیب کی ناکامی کے بعد نوبت یہاں تک آن پہنچی تھی کہ ایک بندہ چارپائی اٹھائے آگے آگے اور دو عدد بندے تکےے اٹھائے اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہے تھے البتہ چارپائی اٹھانے والا بندہ ہر پھیرے میں بدل جاتا تھا اور صبح سویرے جاگنگ کے لےے اور نماز کے لےے اٹھنے والے افراد نے عجب منظر دیکھا تھا۔

لان کے بیچوں بیچ تین افراد سبز مسلی ہوئی گھاس پر محو خواب تھے اور ان کے نزدیک ایک عدد چارپائی اپنی خستہ حالت کے ساتھ بالکل خالی پڑی تھی۔

٭٭٭

نوروز باتھ روم سے نہا کر نکلا تھا جب کسی نے عجلت میں دروازے پر دستک دی۔

’’آجائےے۔‘‘ نایاب گیلا تولیہ ٹیرس پر پھیلا رہی تھی۔ وہیں سے آواز لگائی تو ارسل بھائی کافی تیزی سے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔

’’نوروز! یار تیری آف وہائیٹ شرٹ کہاں ہے؟ اس بجلی نے تو سارا کام خراب کر دیا۔ پینٹ تو استری شدہ مل گئی ہے مگر شرٹ۔‘‘ انہیں آفس سے دیر ہورہی تھی۔

’’یہیں وارڈ روب میں ہوگی ارسل بھائی! دیکھ لیجےے۔‘‘ نوروز نے بال بناتے ہوئے کہا تو وہ فوراً واڑڈ روب کھول کر کھڑے ہوگئے۔

’’واہ بھائی! بڑے ٹھاٹھ ہیں۔‘‘ انہوں نے ہینگ کےے ہوئے استری شدہ کپڑے دیکھ کر ستائش بھرے لہجے میں کہا۔

’’ابھی بچوں کا جھنجھٹ نہیں ہے۔ اسی لےے اتنے مزے میں ہو۔ ذرا ہمارے کمرے میں جھانک کر دیکھو، ڈریسنگ ٹیبل ادویات اور سیرپ سے بھر رہی ہے۔ بیڈ پر بچوں کی کاپیاں، کتابیں اور بچوں کی کاٹ میں ہماری آفس فائلز، جتنے قدم اٹھائو، اتنی ٹھوکریں کھائو، بچوں کے کھلونے بکھرے ہوئے ہیں نا۔‘‘

انہوں نے حیران کھڑی نایاب کی آنکھوں میں جھانکا اور شرٹ ہاتھ میں لےے یہ جا وہ جا، وہ یونہی ہونق بنی نوروز کی طرف پلٹی۔

’’اب اتنا برا حال بھی نہیں، میں خود کئی بار گئی ہوں بھابھی کے کمرے میں۔‘‘

’’وہ مذاق کر رہے تھے۔‘‘ اس نے جیسے اطلاع دی تھی تو وہ خفیف سی شرمندگی کے ساتھ اس سے ناشتے کے متعلق پوچھنے لگی اور ابھی باہر جانے کو پلٹی ہی تھی جب دھاڑ سے دروزہ کھلا اور اندر داخل ہوتا مہران ٹھٹک کر رک گیا۔

’’اوہ سوری نیا بھابھی! میں بھول ہی گیا کہ آپ بھی۔‘‘ اسے سامنے دیکھ کر وہ سرخ ہوگیا تھا۔

’’کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ مسکراہٹ دباتی کمرے سے باہر نکل گئی۔

’’نوروز بھیا! وہ کوئی استری کی ہوئی شرٹ مل جائے گی۔۔۔۔‘‘ وہ کان کھجاتے ہوئے پوچھ رہا تھا اور نوروز کے پاس اس کی مسکین سی شکل دیکھ کر اور کوئی چارہ نہ رہا تھا کہ وارڈ روب کھول کر اس کے سامنے رکھ دے۔

نایاب ناشتا لے کر آئی تو اس کے پیچھے پیچھے تایا ابا بھی چلے آئے۔

’’ہوں! ناشتا کیا جارہا ہے۔۔۔؟‘‘

’’جی۔۔۔۔‘‘ نوروز نے ٹرے اپنی طرف کھسکاتے ہوئے مختصراً کہا تھا۔

’’آپ بھی آئےے نا تایا ابا۔‘‘ نایاب نے جھٹ کرسی اٹھا کر بیڈ کے سامنے رکھی اور خود جلدی سے پیالی میں دلیہ نکالنے لگی کہ تایا ابا کو ناشتے میں دلیہ بے حد پسند تھا۔

’’ارے بس بس بھئی، میں تھوڑا ہی لوں گا۔‘‘ انہوں نے اسے روک دیا اور پہلا چمچہ منہ میں ڈال کر تعریف کےے بنا نہ رہ سکے۔

’’بہت لذیذ ہے بلکہ اس نے تو مجھے میرے بچپن کی یاد دلادی ہے۔ پتا ہے ہماری بے بے اکثر ناشتے میں دلیہ ہی بنا کر دیا کرتی تھیں۔ اس وقت فریج، فریزر کا تو عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ سو ہماری بے بے رات کو ہی دلیہ بنا کر مٹی کی کٹوریوں میں بھر دیا کرتی تھیں۔ صبح سویرے ہم لوگ کھڑائوں پہنے مسجد سے بھاگے بھاگے آتے تو وہ کٹوریاں سامنے رکھے ہماری منتظر ہوتی تھیں۔ ہم اپنی انگلیوں سے ہی کھانا شروع ہوجاتے۔ ہمیں بے تابی سے کھاتا دیکھ کر وہ مسکراتی رہتیں اور ہم کھا پی کر دوبارہ بھاگ کھڑے ہوتے۔ کبھی بے بے سے پلٹ کر یہ بھی نہیں کہا کہ بے بے! تم دلیہ بہت اچھا بناتی ہو، اس میں سے تمہاری محبت کی خوشبو آتی ہے اور اگر ہم کہہ دیا کرتے تو وہ نجانے کتنی خوش ہوتیں۔‘‘

تایا ابا کسی سوچ کی افسردگی میں کھو گئے تھے، نایاب نے دیکھا، نوروز بالکل خاموشی سے کھانے میں مصروف تھا، یوں جیسے اس وقت اس سے زیادہ ضروری کام اور کوئی نہیں۔

’’بعض اوقات ہم لوگ اپنے لفظوں کو صحیح وقت پر اور طریقے سے استعمال نہیں کرپاتے اور یہ ہی چیز بعد میں ہمارے لےے پچھتاوا بن جاتی ہے۔‘‘ تایا ابا جیسے خود سے کہہ رہے تھے۔

٭٭٭

’’نوروز! بچے! کیا تم اس شادی پر خوش ہو؟‘‘ خالہ نصرت نے پوچھا تو وہ نظروں کا زاویہ بدل کر شہتوت کے درخت سے جھولتی چڑیوں کو دیکھنے لگا تھا۔ آج طبیعت ذرا سنبھلی تھی وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ادھر چلا آیا۔

’’ذرا دیکھو تو کیسا کملایا ہوا ہے تمہارا چہرہ، جن کے دل خوش ہوں ان کے چہرے سے نظر آجاتا ہے۔ وہ دیکھا نہیں اظفر کو۔ خوشی کیسے پھوٹ رہی تھی اس کے چہرے سے اور میں تو کہتی ہوں اس سویرا بچی پر بھی ظلم ہی ہوا ہے۔ خاندان میں بہتیرے نوجوان تھے۔ کاروبار کرنے والے روزگار سے وابستہ لیکن اس کو باندھ دیا اس نکھٹو کے پلے جسے ہر وقت ہنسی ٹھٹھول کے سوا کچھ اور سوجھتا ہی نہیں۔ اب دیکھو ذرا شادی کے فوراً بعد سیر سپاٹا کر کے واپس بھی آگیا، اے نوروز! تمہاری شادی بھی تو اس کے ساتھ ہی ہوئی ہے۔ تم لوگ کہیں گھومنے نہیں گئے؟‘‘ خالہ نصرت اسے کرید رہی تھیں۔

’’خالہ! میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ نیا نے بھی اصرار نہیں کیا تو پھر میں نے ارادہ بدل دیا۔‘‘

’’نیا۔۔۔؟‘‘

’’نایاب کی بات کر رہا ہوں گھر میں سب لوگ اسے نیا ہی کہتے ہیں۔‘‘ اس نے جیسے جھنجھلا کر وضاحت کی تھی۔ پھر کچھ دیر بیٹھنے کے بعد اس کا وہاں بھی دل نہ لگا تو وہ چلا آیا صائمہ گھر پہ نہ تھی سوا س کا مزید ٹھہرنا ممکن بھی نہ تھا۔

٭٭٭

گرمی زوروں پر تھی، ہوا بالکل بند اور کمرے حبس زدہ۔ سدرہ کا تو جیسے سانس ہی گھٹنے لگا تھا۔ جونہی ذرا سورج ڈھلا، وہ عقبی لان میں چلی آئی۔ واٹر پمپ سے پائپ لگا کر اس نے پہلے یونہی کیاریوں میں پانی بھرا پھر ٹھنڈے ٹھار پانی سے ہاتھ منہ اور پائوں دھونے کے بعد کملائے ہوئے درختوں، پودوں پر پانی بہانے لگی تب ہی گرمی سے بے زار انیقہ وہاں چلی آئی۔

’’سدرہ پلیز! تھوڑی نظر کرم ہم پر بھی۔‘‘ وہ تخت پر گرتے ہوئے پکاری تو سدرہ نے فوراً پائپ کا رخ اس کی طرف موڑ دیا تھا۔

’’ارے، ارے نہیں۔ میں ابھی کپڑے بدل کر آئی ہوں۔‘‘

اس نے بری طرح چیختے ہوئے کہا تو سدرہ نے ہنستے ہوئے برآمدے کے فرش پر پانی بہانا شروع کر دیا تھا۔ انیقہ نے چھت پر لگا پنکھا فل اسپیڈ میں چلا دیا تھا۔ ذرا دیر بعد قدرے ٹھنڈک کا احساس ہونے لگا تھا۔ انیقہ وہیں تخت پر لیٹ کر کسی ڈائجسٹ میں محو ہوگئی۔ سدرہ گرد سے اٹے درختوں پر خوب پانی برسا کر انہیں نکھارنے لگی۔ ارسل بھائی کا ٹیپو بھی نیلو فر بھابھی سے آنکھ بچا کر وہیں چلا آیا تھا اور جامن کے درخت پر لٹکتے ٹائیں، ٹائیں کرتے توتوں کو پکڑنے کی سعی کرنے لگا تھا اس کوشش میں کامیاب نہ ہوسکا تو پھر سبز گھاس پر گری جامنیں اکٹھی کرنے لگا۔ سدرہ اسے بار بار شرٹ سے ہاتھ صاف کرنے پر ٹوک رہی تھی جس پر جامن کے رنگ کا جا بجا اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا۔

’’تم لوگ ادھر ہو میں تمہیں سارے گھر میں تلاش کرتی پھر رہی تھی۔‘‘

رشنا اپنے مٹھو سمیت وہاں آگئی تھی، گرمی اور پیاس کی شدت سے بے حال چڑیاں اپنی چونچیں کھولے ہانپ رہی تھیں۔ کسی کو اپنی طرف متوجہ نہ ہوتے دیکھ کر وہ درخت کی شاخوں میں پھنسا پانی کا کٹورا ہی نکالنے لگی تھی جو اس وقت بالکل خشک ہورہا تھا۔

’’نیا کتنی اچھی ہے ناں، اتنے تھوڑے سے دنوں میں ہم سے اس طرح گھل مل گئی جیسے برسوں سے یہیں رہتی آئی ہو۔‘‘ کیاری سے خشک پتے نکال کر باہر پھینکتے ہوئے سدرہ نے کہا تو رشنا اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے نل کے پاس جا کر کٹورا دھونے لگی۔

’’توبہ ہے۔ یہ رائٹرز بھی کتنا جھوٹ لکھتی ہیں۔‘‘ گھنٹے بھر سے رسالے میں محو انیقہ نے سر اٹھاتے ہوئے بلند آواز میں کہا تھا۔

’’کیا مطلب۔۔۔؟‘‘ پانی سے لبالب کٹورا دوبارہ شاخوں میں پھنساتے ہوئے پلٹ کر اس نے حیرت سے انیقہ کو دیکھا جو خاصی اکتائی ہوئی لگ رہی تھی۔

’’ہاں نا، اب دیکھو یہ محترمہ راحت جبیں صاحبہ، ان کی ہر کہانی میں ساون بھی ایسے منایا جاتا ہے جیسے عید، بقر عید، جھولے ڈالے جاتے ہیں، ست رنگے دوپٹے رنگوائے جاتے ہیں اور تو اور ساون کے گیت بھی گائے جاتے ہیں۔‘‘

’’تو اس میں جھوٹ والی کون سی بات ہے۔ بعض زندہ دل لوگ ساون کی خوشی میں ایسا چھوٹا موٹا اہتمام کر ہی لیتے ہیں۔‘‘

’’کہاں کرتے ہیں بھئی، اتنے سال ہوگئے۔ ساون آتا ہے، جاتا ہے۔ کبھی آس پڑوس میں ایسا اہتمام ہوتے میں نے تو نہیں دیکھا زیادہ ہی ہوا تو بارش کی خوشی میں سدرہ کوئی ڈش بنا کر کھلا دیتی ہے اور بس۔‘‘ وہ غالباً گرمی کی وجہ سے زیادہ ہی جلی بھنی بیٹھی تھی۔

’’تو اس میں قصور کس کا ہوا؟ تم لوگوں کا۔۔۔؟‘‘ یہ اچانک ٹپک پڑنے والا اظفر تھا۔

’’نہ ہوئیں تم رائٹرز جیسی حساس اور رومینٹک ورنہ ساون اتنا روکھا پھیکا کبھی نہ گزرے۔‘‘

’’کیا مطلب۔۔۔؟‘‘ انیقہ نے پلٹ کر اسے گھورا۔

’’مطلب یہ کہ اگر تم لوگ بھی تھوڑی سی ہمت کر لو تو تمہارا ساون بھی ایسا ہی رنگین ہوجائے گا جیسا ان ناول، افسانوں میں۔‘‘

’’نہیں، ویسا ساون پھر بھی نہیں ہوسکتا۔‘‘ انیقہ نے مایوسی سے سر ہلایا۔

’’وہ کیسے۔۔۔؟‘‘

’’وہ ایسے کہ ان کے ہر ناول میں ایک عدد ہیرو بھی موجود ہوتا ہے جو ساون کی پہلی بارش پر ہر حال میں ہیروئن کے گھر تک پہنچ جاتا ہے۔ درمیان میں خواہ کتنے ہی مسائل ہوں۔۔۔ ساون کی بارش اس اس کے لےے تمام راستے صاف کر دیتی ہے اب تم بتائو کہ باقی سب تو پورا ہوجائے گا مگر یہ ہیرو کہاں سے آئے گا۔‘‘

’’چچ،چچ۔۔۔ کاش میری شادی نہ ہوئی ہوتی تو میں تمہاری یہ حسرت ضرور پوری کر دیتا۔‘‘ اظفر نے اظہار افسوس کیا۔

’’ویسے بائی دا وے، یہ ہیرو کو کیسے معلوم ہوتا ہوگا کہ آج ساون کی پہلی بارش ہوگی۔‘‘ رشنا ان کے قریب چلی آئی تھی۔

’’ہوسکتا ہے کہ وہ محکمہ موسمیات میں ملازم ہو۔‘‘یہ اندازہ سدرہ کا تھا۔

’’افوہ، کن باتوں میں پڑ گئے تم لوگ۔ چلو ہم بھی اس دفعہ ساون منانے کا اہتمام کرتے ہیں۔‘‘ انیقہ کا جوش و خروش پورے عروج پر تھا۔

’’تو ٹھیک ہے۔ ذرا بتائو کہ تمہاری یہ رائٹر صاحبہ ساون کے لےے کن کن لوازمات پر زور دیتی ہیں۔‘‘

اظفر تیار ہوا بیٹھا تھا۔ انیقہ نے رسالے پر دوبارہ نظریں گاڑ دیں۔ رشنا بھاگ کر باقی پلٹن کو بلا لائی۔ اظفر اس مہم کا سربراہ اعلا بنا بیٹھا تھا اور ہر کسی کو اس کی استعداد کے مطابق کام سونپ رہا تھا۔ جھولا ڈالنے کا کام نیلو بھابھی کے سپرد تھا۔ ست رنگ دوپٹے رنگوانے کی ذمہ داری مہران نے بخوشی قبول کر لی تھی۔ سدرہ اور انیقہ نے پکوان تلنے تھے۔ بچوں کو جامنیں اکٹھی کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ معیز کو منڈی سے آم لے کر آنا تھا، نیا نے معصومیت کی انتہا کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جھولا لینے پر ہی اکتفا کر لے گی۔ سویرا نے ڈشز سے انصاف کرلینے کو ہی بہت سمجھا تھا اور سب سے اہم کام یعنی ساون کے گیت گانے کے لےے چھوٹی چچی کو چنا گیا تھا کہ ان کی آواز خاصی سریلی تھی۔

اور یہ تمام کام بانٹنے کے بعد انتظار تھا تو صرف ساون کی پہلی بارش کا۔ لڑکے ہر روز کسی جھگڑالو بزرگ پر رنگ دار پانی پھینکتے، خواتین چھت پر چڑھ کر دور دور تک بادلوں کی تلاش میں نظریں بھٹکاتیں اور پھر مایوس ہو کر پلٹ آتیں۔ بچے جامنوں کی ٹوکریاں بھرے بارش کی دعائیں مانگتے رہے۔ مگر بارش نے جی بھر کے سب کو مایوس کیا تھا لیکن پھر وہ دن بھی آہی گیا جب ہانپتا ہو امعیز سب کے بند دروازوں پر ٹکریں مارتا پھر رہا تھا۔

’’ارے وہ آرہے ہیں۔۔۔ وہ آتے جارہے ہیں۔۔ ۔ اب نکل بھی آئو۔‘‘

’’کون آرہے ہیں۔۔۔؟‘‘ نیلو فر بھابھی آنکھیں ملتے ہوئے باہر نکلیں۔

’’وہ کالے، کالے آرہے ہیں۔‘‘

’’کون سنگھاڑے۔۔۔؟‘‘ ان کے خیال میں صرف سنگھاڑے ہی کالے ہوسکتے تھے۔

’’افوہ بھابھی! ساون کے بادل۔ اتنے سیاہ بالکل توے جیسے چیختے چنگھاڑتے ہاتھیوں کے غول کی طرح بڑھے ہی چلے آرہے ہیں۔‘‘ اتنا سننا تھا کہ بھابھی جھولا لے کر عقبی لان کی طرف بھاگ گئیں سارے گھر میں تھرتھلی سی مچ گئی۔

’’جلدی ہاتھ ہلائو۔ بارش آنے سے پہلے تمام ڈشز تیار ہونی چاہئیں۔‘‘

سدرہ اور انیقہ نے فیصلہ کیا تھا۔ معیز منڈی کی طرف بھاگ نکلا۔ بچے جامنوں کے درخت کے ساتھ لٹک گئے۔ زور دار ہوا نے ٹپاٹپ ایسی جامنیں گرائیں کہ ان کا سارا مسئلہ حل ہوگیا۔ مہران ست رنگے دوپٹوں کا ڈھیر گود میں لےے سب کو آوازیں لگا رہا تھا۔

’’ست رنگے دوپٹے لے لو۔ ست رنگے دوپٹے۔‘‘

پھر کچھ وقت ہی لگا تھا، ادھر سدرہ نے ٹھک سے چولہا بند کیا ادھر نیا نے پہلا جھولا لیا اور بارش کی نوخیز بوندیں جلتی بلتی دھرتی کے پیاسے ہونٹوں کو چھو گئیں۔ بچے بارش میں نہانے کے لےے بے تاب ہوئے تو اظفر نے ان کی شرٹیں ہوا کے سپرد کیں اور خود جینز کے پائنچے چڑھا کر ان کے ساتھ بچہ ہی بن گیا۔ نیلو بھابھی نے جہازی سائز آموں کی قاشیں کاٹ کاٹ کر ڈشیں بھر دیں۔

مہران نے تخت برآمدے کے عین وسط میں کھینچ کر ارد گرد کرسیاں لگا دی تھیں۔ نوجوان پارٹی کا فیصلہ تھا کہ پہلے بارش میں خوب نہائیں گے پھر سب مزے سے کھائیں گے۔ لہٰذا بزرگ خواتین و حضرات کو پہلے ہی فارغ کر دیا جائے۔ لہٰذا شہلا اور رشنا نے مل کر چکن رول، قیمہ پلائو، سموسے، املی اور پودینے کی چٹنی کے ساتھ تخت پر سجا دےے تھے۔ ساتھ انواع و اقسام کے پھل تھے۔ چھوٹی چچی نے گھر میں لگے لیموں توڑ کر اسکنجبین کے جگ بھر دےے تھے۔

تائی اماں چائے کا فلاس بھر لائی تھیں۔ تایا ابا، ارسل بھائی اپنے کمروں سے باہر نکلے تو یہاں کارنگ ہی بدلا ہوا تھا۔

دھواں دھار برستی ہوئی بارش نے زمین سے آسمان تک پانی کی چادر سی تان دی تھی، مست جھومتی ہوئی ہوائیں۔ درخت ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر بے حال ہورہے تھے۔ لڑکوں نے لان میں طوفان بدتمیزی مچایا ہوا تھا وہ بچوں کو یوں ایک دوسرے کی طرف اچھال رہے تھے جیسے ان میں ہوا بھری ہو، نیلو بھابھی زرد رنگت کے ساتھ انہیں کوسے جارہی تھیں۔

سویرا برآمدے کے ستون سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔ باقی سب لڑکیاں برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھی بارش کے اڑتے ہوئے چھینٹوں سے کھیل رہی تھیں۔ خوشیوں کے رنگ بہت نمایاں تھے۔ شیری بھیا کمرے میں بند نوروز کو بھی کھینچ کھانچ کر وہاں لے آئے تھے۔ وہ لوگ کھانے میںمشغول ہوئے تو نیا اور سدرہ بھاگ کر جھولے پہ آگئیں۔ نیا نے جھولا سنبھالا اور سدرہ اسے ہوائوں کے حوالے کرنے لگی۔

اظفر کو نجانے کیا سوجھی تھی بھاگ کے آیا اور سدرہ کی جگہ لے لی، ایسے زور زور سے پینگیں دیں کہ جب پہلی مرتبہ نیا اوپر۔ بہت اوپر گئی تو اس کا سانس تک رک گیا تھا۔ دوسری مرتبہ ایک چیخ بلند ہوئی تھی۔ نیچے سدرہ اظفر سے الجھ رہی تھی اور پھر ان سب آوازوں کے درمیان ایک ایسی آواز ابھری تھی جو پورے ماحول پر حاوی ہوگئی تھی۔ اظفر نے ایک دم نیا کو تھام کر جھولا روک دیا تھا۔ وہ ہکا بکا سی برآمدے کی سمت دیکھے گئی جہاں کا منظر اس وقت کچھ اور ہی تھا۔

وہ نوروز تھا جو سب کے بیچ بیٹھا طیش کے عالم میں بول رہا تھا اور اگلے ایک لمحے میں اس نے جیسے بے قابو ہو کر اپنے ہاتھ کو حرکت دی تھی اور ان گنت برتن زمین پر گر کر لاتعداد ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔ نیا غیر ارادی طور پر جھولے سے اتر کر بھاگتی ہوئی وہاں تک پہنچی تھی۔

’’جو لڑکی کل تک میرے لےے قطعی نامناسب تھی، وہ آج آپ کے بیٹے کے لےے مناسب ہوگئی ہے۔ کل تک اسے اس گھر میں نہ لانے کی ہزار دلیلیں تھیں۔ سینکڑوں جواز تھے تو اب یہ دلیلیں، یہ جواز بے کار کیوں ہوگئے؟ میں نے ہمیشہ آپ کا کہا مانا ہمیشہ آپ نے جو پہنایا، میں نے پہنا جو کھلایا، میں نے کھایا۔ آپ نے اپنی پسند کی لڑکی سے میری شادی کر دی، میں نے بخوشی اسے قبول کر لیا تو آپ آج یہ فیصلہ کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ یہ ہی نا کہ مجھ میں لڑنے کی جرأت نہ تھی اور آپ نے میری اس بزدلی سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔‘‘

تایا ابا کے سامنے بہت گستاخی سے بولتا ہوا نوروز اپنے آپ میں نہیں لگ رہا تھا۔ سویرا سے برداشت نہ ہوسکا تو وہ چیخ اٹھی تھی۔

’’نوروز بھائی! آپ بہت بدتمیزی کر رہے ہیں، مت بھولےے کہ یہ ہمارے محسن ہیں۔‘‘

’’ہاں، یہ ہمارے محسن ہیں، ان کے احسانات تلے میری گردن جھکی جارہی ہے۔ یہ محسن ہیں جب ہی تو میں ان کے سامنے کبھی سر اٹھا سکا نہ زبان کھول سکا، میری ایک ایک سانس ان کی مقروض ہے، ان کا یہ احسان کیا کم ہے کہ انہوں نے دو یتیم بچوں کو اپنے گھر میں پناہ دی۔ یہ احسان کیا کم ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کی محبتوں و شفقتوں میں ہمیں حصے دار بنایا۔ ہمیں پالا، پوسا، بڑا کیا اور سب سے بڑا احسان کہ تم جیسی لڑکی کو اپنی بہو بنایا۔ ہاں ان کے احسانات بہت ہیں میری عمر کے تمام سال ان کے احسان ہیں، مگر اب، اب یہ بوجھ اٹھانا بہت دشوار ہے۔ ان لوگوں نے میری بزدلی، میری کمزوری کو میرے ہی خلاف استعمال کیا ہے۔ انہوں نے میری زندگی کے سب سے بڑے فیصلے کو بیک جنبش رد کر دیا۔ وہ فیصلہ جو زندگی میں، میں نے پہلی بار صرف اپنے لےے کیا تھا۔ انہوں نے قبول نہیں کیا۔ میری ذات کو چٹکیوں میں مسل دیا اور آج اسی فیصلے پر اپنی پسند کی مہر لگا رہے ہیں مگر میری جگہ کوئی اور کھڑا ہے یہ ثابت کر دیا ہے انہوں نے کہ ماں باپ بننے اور ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے بہت فرق۔‘‘ وہ زہر خند لہجے میں کہتا ہوا پلٹا تھا پھیکے پڑتے چہرے کے ساتھ ہر فرد اپنی جگہ ساکت تھا۔ چھوٹی چچی کی نگاہوں نے گیٹ تک جاتے ہوئے نوروز کو دیکھا تو وہ فوراً اپنی جگہ سے آگے بڑھیں۔ نیا کو پکڑا اور اسے کھینچتی ہوئی گیٹ کی طرف لپکیں۔

’’اس کے دماغ میں خناس سمایا ہوا ہے، نیا! تو اَس کے ساتھ جا۔‘‘

’’یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟ میں کہاں۔۔۔؟ کسی لڑکے کو بھیجیں ان کے پیچھے۔‘‘ وہ روہانسی ہو کر بولی تھی۔

’’ابھی وہ واپس نہیں آئے گا۔ تَو اس کے ساتھ جا، وہ جہاں بھی جاتا ہے۔ تو ساتھ ہوگی تو اسے لوٹ کر یہیں آنا پڑے گا۔‘‘

چھوٹی چچی نے اسے زبردستی باہر نکالا۔ اس نے کونے سے مڑتے ہوئے نوروز کی جھلک دیکھی تو بے تحاشا بارش میں اس کے پیچھے بھاگتی چلی گئی تھی۔

٭٭٭

’’اے اچھا ہوا جو تم سیدھے یہاں چلے آئے۔ مگر بیٹا! بات کیا ہوئی۔۔۔؟‘‘

کوئی تیسری مرتبہ خالہ نصرت نے پوچھا تو نیا کوفت زدہ سے انداز میں پہلے انہیں اور پھر نوروز کو دیکھنے لگی جو سارا راستہ اس پر برستا رہا تھا مگر یہاں آکر لب سےے بیٹھا تھا۔ خالہ نصرت نے چند لمحے امید بھری نگاہیں اس کے چہرے پہ جمائے رکھیں اور پھر دوبارہ سے شروع ہوگئیں۔

’’ارے اس طرح منہ بنائے کیوں بیٹھے ہو؟ شکر کرو اس خوامخواہ کی چاکری سے تمہاری جان چھَوٹی اب حواس ٹھکانے آئیں گے، ان کے جب گھنٹہ گھنٹہ بھر بل جمع کروانے کے لےے قطاروں میں کھڑے ہونا پڑے گا۔ چار دن کے لےے تمہاری طرح گھن چکُر بننا پڑے گا، تو آپوں آپ تمہاری طرف بھاگے چلے آئیں گے۔ غضب خدا کا ان لوگوں نے تو کبھی تمہیں انسان سمجھا ہی نہیں، تمہارے مال و دولت پر عیش کر رہے ہیں۔ اور تم ہی سب سے کنگال وہ ایک ماچس کی ڈبیا جتنا، فوٹو اسٹوڈیو کھول رکھا ہے، میں پوچھتی ہوں، کیا یہ ہی تمہاری اوقات تھی۔ خود ان کے اپنے بیٹوں کو دیکھو ذرا بڑے پر خوب رقم لگا کر باہر بھجوا دیا۔ عیش کر رہا ہے وہاں، اس سے چھوٹا ہے تو وہ یہاں نوٹ چھاپ رہا ہے۔ اب تو سنا ہے وہ اظفر بھی کاروبار میں ہاتھ بٹانے لگا ہے، اور وہ جو تمہارے بڑے چچا کا بیٹا ہے وہ الگ اپنی فیکٹریاں کھولے راج کر رہا ہے۔ لے دے کر ایک تم ہی رہ گئے، کبھی پوچھتے تو سہی کے جائیداد میں سے جو تمہارے باوا کا حصہ بنتا ہے، وہ کہاں گیا؟ ارے میں تو کہتی ہوں عدالت میں جائو اپنا حصہ وصول کرو تمہارے بھی عیش ہوجائیں گے۔‘‘

خالہ نصرت کو تواتر سے بولتے سن کر مارے حیرت کے نیا کا منہ کھل گیا تھا۔ ناگواری اس کے چہرے سے صاف واضح تھی اور اسے حیرت اس بات پر تھی کہ نوروز اتنی خاموشی سے یہ سب کیسے سنتا جارہا ہے۔ چائے لے کر کمرے میں داخل ہوتی صائمہ نے اسے دیکھا تو شرمندہ ہو کر رہ گئی۔

’’امی! آپ خوامخواہ اسے بہکا رہی ہیں۔ بہتر ہے، اس کا دماغ مزید خراب نہ کریں۔‘‘

’’لو بھئی، نئی بات سنو، میں کیوں بہکانے لگی اسے، وہ خود سمجھ دار ہے جانتا ہے سب، پوچھو نوروز سے جو میں نے ایک بات بھی جھوٹ کہی ہو۔‘‘ خالہ تنک کر بولی تھیں۔

’’بہر حال جو بات بھی ہے، تم لوگ چائے پیو اور گھر جانے کی تیاری کرو۔‘‘ وہ دو ٹوک لہجے میں بولی تھی۔

’’میں اب وہاں نہیں جائوں گا۔‘‘ نوروز کے انداز میں ہٹ دھرمی تھی۔

’’وجہ۔۔۔۔؟‘‘

’’اس گھر میں مجھے ہمیشہ تیسرے درجے کا فرد سمجھا گیا ہے۔‘‘

’’بکواس کر رہے ہو تم یہ سراسر تمہارے دماغ کا خلل ہے یا شاید پھر امی کی باتوں کا اثر۔ میں خود وہاں آتی جاتی رہتی ہوں۔ میں نے کبھی کوئی ایسی بات محسوس نہیں کی۔ گھریلو ذمہ داریاں ادا کرنے سے انسان تیسرے درجے کا فرد نہیں بن جاتا۔ ہر مہینے دو چار بل جمع کروا دینے، بچوں کے اسکول میں حاضری دینے سے تمہارے عزت و وقار میں کمی نہیں آسکتی۔ وہ تمہارے تایا ابا اپنے محکمے میں انیسویں گریڈ کے آفیسر ہیں لیکن لان کی کاٹ چھانٹ وہ اپنے ہاتھوں سے کرتے ہیں۔ بچوں کو اسکول چھوڑنا، لڑکیوں کو کالج پک اینڈ ڈراپ کرنا، ہر ماہ سودا سلف کی خریداری۔ گھر کی ٹوٹی پھوٹی چیزوں کی مرمت، کبھی کسی باتھ روم میں پانی نہیں آرہا۔ کبھی کسی کمرے کا فیوز خراب، کون کرتا ہے یہ سب کام؟ وہی ارسل بھائی، وہی شیری اور وہی اظفر۔ تم ایسا کون سا گرا پڑا کام کرتے تھے جو تمہیں تیسرے درجے کا فرد سمجھا جاتا ہے۔ تم ان کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہو۔ عالی شان کمرے میں رہتے ہو، اس گھر کی سب سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہو، میں نہیں مان سکتی کہ تمہارے ساتھ کوئی امتیازی رویہ اختیار کیا گیا ہے۔گھر چھوڑنے کی اور کوئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مگر یہ نہیں جو تم بیان کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔‘‘

صائمہ بہت صاف اور کھری لڑکی تھی۔ لگی لپٹی رکھنے کی قائل نہ تھی۔ سو صاف صاف کہہ دیا۔ نوروز سر جھکائے کتنے ہی لمحے یونہی بیٹھا رہا۔

’’تم میرے یہاں آنے پر خوش نہیں ہو۔۔۔؟‘‘ تھوڑی دیر بعد وہ گویا ہوا تھا۔

’’تم نے ایسا کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا جس پر میں خوشی سے نہال ہو کر تمہیں تمغے پہنانے لگوں۔‘‘ صائمہ نے سپاٹ انداز میں کہتی نیا کا ہاتھ پکڑے دوسرے کمرے میں چلی گئی تھی۔

نوروز لب کاٹتے ہوئے سر جھٹک کر رہ گیا تھا۔

’’ارے یہ تو بے وقوف ہے۔ تم اطمینان سے اسے اپنا گھر سمجھ کر یہاں رہو۔ جتنے دن تمہار ادل چاہے۔‘‘ خالہ نصرت نے تسلی آمیز لہجے میں کہا تھا۔ وہ چپ چاپ وہاں چارپائی پہ نیم دراز ہو کر چھت کی کڑیاں گننے لگا تھا۔

٭٭٭

زیست کی راہ پہ گزرے ہوئے کچھ لمحوں میں

ہم نے چاہا تھا تیرے ساتھ چلیں

تیرے ہونٹوں پہ ہنسی

آنکھ میں جگنو بن کر

دل کی دھڑکن میں سما کر

تجھے جیتا دیکھیں

تیرے خوابوں کو سجا لیں

اپنی ان آنکھوں میں

تیرے چہرے کی اداسی کو

خوشی میں بدلیں

اور کچھ رنگ بھی بھر دیں

تیرے روز و شب میں

پھر تجھے رنگ بہاروں کے چراتا دیکھیں

زیست کی راہ پہ گزرے ہوئے

کچھ لمحوں میں

ہم نے چاہا تھا

’’صائمہ میری دوست تھی، بہت اچھی دوست۔ میری پوری زندگی میں وہ ایک ایسی لڑکی تھی جو چاہتی تھی کہ میں اپنے دل کی بات اس سے بیان کروں۔ اپنی خوشی، اپنا غم اس کے ساتھ بانٹوں۔ میں اس کے پاس بیٹھتا تو وہ بہانوں بہانوں سے مجھے بولنے پر مجبور کرتی۔ میں اداس ہوتا تو مجھے ہنسانے کو، اوٹ پٹانگ باتیں کرنے لگتی۔ کبھی میرا کوئی چیز کھانے کو دل چاہتا تو میں سیدھا صائمہ کے پاس آتا، کسی مہینے میرا جیب خرچ وقت سے پہلے ختم ہوجاتا تو میں ہمیشہ صائمہ کے پاس بھاگا آتا۔ ایسا نہیں کہ اس گھر سے مجھے محبت نہیں ملی، ضرور ملی، مگر میں جس پناہ کا متلاشی تھا، وہ مجھے نہیں مل سکی تھی۔ سویرا بہت چھوٹی تھی، تائی اماں اسے چوبیس گھنٹے گود میں لےے پھرتیں۔ میں بھی ایسی ہی گود چاہتا تھا جس میں منہ چھپا کر سو رہوں تو مجھے کوئی فکر، کوئی اندیشہ لاحق نہ ہو مگر میں ایسی گود سے محروم ہی رہ گیا۔ میں اپنی ذات میں پناہ لینے کا عادی ہوچکا تھا اور ایسے میں صائمہ کا رویہ مجھے وہ محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا تھا یہ مجھ سے کئی سال بڑی تھی کسی ماں کی طرح میرا خیال رکھتی کسی بہن کی طرح مجھ سے لاڈ اٹھواتی اور کسی دوست کی طرح لڑتی جھگڑتی رہتی۔

پھر صائمہ کی شادی ہوگئی اور میں بہت رویا تھا یہ سوچ کر کہ میری دوست مجھ سے چھین جائے گی۔ میری پناہ گاہ مجھ سے دور ہوجائے گی۔

مگر پھر یوں ہوا کہ چند ماہ بعد یہ دوبارہ یہاں آگئی اور میں بہت خوش ہوا گویا مجھے ہفت اقلیم کی دولت مل گئی ہو۔ میں پہلے کی طرح صائمہ کے پاس بھاگا چلا آتا مگر صائمہ بہت بدل گئی تھی۔ یہ ہنستے ہنستے ایک دم رونے بیٹھ جاتی۔ باتیں کرتے کرتے اپنے خیالوں میں کھو جاتی اور میں افسردہ سا واپس لوٹ جاتا اور جب تک اسے طلاق نہیں ہوئی تھی۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں کبھی صائمہ سے شادی کے بارے میں سوچوں گا لیکن اس دن میں نے اسے پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا تھا۔ صائمہ کی آنکھ میں آنسو دیکھنا میرے لےے کچھ ایسا آسان نہیں تھا۔ سو مجھے واحد حل یہ ہی نظر آیا کہ میں صائمہ سے شادی کر لوں۔ مجھے اس سے کوئی افلاطونی قسم کا عشق نہیں تھا۔ نہ ہی اسے ہمدردی کہہ سکتے ہیں۔ بس میں اسے خوش دیکھنا چاہتا تھا، بالکل پہلے کی طرح کہ وہ ہنسے تو اس کی آنکھوں میں آنسو نہ آئیں۔

اور جب میں نے تائی اماں سے اس خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے بتایا، تایا ابا نایاب کو میرے لےے مانگ چکے ہیں۔ میں کبھی ان سے ضد نہیں کرتا تھا۔ ان کے کسی فیصلے سے انحراف کی مجھے کبھی جرات ہی نہیں ہوئی تھی۔ سو یہاں بھی میں بہت آسانی سے ہار گیا۔ ایسا نہیں تھا کہ انہوں نے مجھ کو بہت ڈرا دھمکا کر رکھا ہو مگر ایک ایسی اٰن دیکھی دیوار تھی جو مجھے میری اپنی قائم کردہ حدود سے آگے بڑھنے ہی نہیں دیتی تھی۔

سو تم میری زندگی میں چلی آئیں اور میں نے ہمیشہ کی طرح سر جھکا دیا۔ تمہیں قبول کر لیا اور اس روز تایا ابا نے کہا تھا۔

’’سلیمان واپس آرہا ہے ہمیشہ کے لےے اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کے آتے ہی صائمہ اور سلیمان کا نکاح کر دیا جائے گا۔‘‘

اور یہ بات میرے دل میں تیر کی طرح لگی تھی۔ صائمہ کو اس گھر میں آنا ہی تھا تو میرے حوالے سے بھی آسکتی تھی۔ مگر ان سب لوگوں نے یہ بات ثابت کر دی وہ اپنے فیصلے مجھ پر ٹھونس کر ہمیشہ کے لئے مجھ پر حاوی رہنا چاہتے ہیں۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میں نے انہیں کبھی کوئی ٹھیس پہنچائی ہو پھر نجانے انہوں نے مجھ سے کس بات کا بدلہ لیا ہے۔‘‘ نوروز کہتے کہتے جیسے تھک سا گیا تھا۔

نیا چپ چاپ بیٹھی تھی یہ سب باتیں سننے کے دوران اور سننے کے بعد اس نے کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔

تب ہی دروازے پر ہلکا سا کھٹکا ہوا، وہ دونوں اپنی اپنی جگہ پر چونک گئے، اندر داخل ہونے والی صائمہ تھی۔ جس کے چہرے پر پھیلی سنجیدگی غیر معمولی تھی۔ وہ چلتی ہوئی سیدھی نوروز کے پاس آرکی تھی، کچھ لمحے یونہی اسے گھورتی رہی۔ نوروز قدرے حیرت کے ساتھ اسے دیکھنے لگا تھا۔

’’تمہارے تایا ابا مجھ سے ملنے آئے تھے۔‘‘ اس اچانک انکشاف نے اسے بری طرح چونکا دیا تھا۔

’’کب۔۔۔؟‘‘

’’تمہاری شادی کے فوراً بعد۔۔۔‘‘

’’وہ میرے لےے سلیمان کا پرپوزل لے کر آئے تھے اور سلیمان سے شادی کے لےے میں نے خود ہاں کی تھی۔‘‘ وہ بہت نارمل سے انداز میں بتا رہی تھی۔ نیا کی نظروں نے بہت خاموشی سے نوروز کے چہرے کو کھوجا تھا۔

’’ابھی تک امی بھی اس بات سے بے خبر ہیں۔‘‘ صائمہ اپنی انگلیاں چٹخانے لگی تھی۔

’’تمہیں اس لےے بتا رہی ہوں کہ ابھی کچھ دیر قبل میں غیر ارادی طور پر اندر آتے ہوئے تمہاری بات سن چکی ہوں۔ میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے تم کسی غلط فہمی کا شکار ہوجائو۔ تمہیں معلوم ہے، نوروز! مجھے طلاق کیوں ہوئی تھی؟‘‘

اس نے سوال کیا تھا مگر نوروز کے پاس گونگی چپ کے سوا کوئی جواب نہ تھا۔

’’مجھے اس لےے طلاق ہوئی تھی نوروز کہ میں ماں نہیں بن سکتی تھی۔ میں ایک بانجھ عورت ہوں۔ بنجر زمین کا ایک ایسا ٹکڑا جس پر لاکھ بارش برسائو، پھول نہیں اگتے۔ میرا وجود ایک صحرا ہے نوروز! ریت ہی ریت بھری ہے میرے اندر۔‘‘ اس کی آواز رندھ گئی۔

نیا کا دل کٹ کر رہ گیا تھا اور نوروز نے کسی گہرے صدمے سے چور ہو کر آنکھیں میچ لی تھیں۔

’’ہر انسان اپنی نسل آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ فاروق کی بھی یہی خواہش تھی کہ اس دنیا میں اس کا کوئی وارث ہو مگر ڈاکٹری رپورٹ نے بہت جلد ثابت کر دیا تھا کہ میں اسے کبھی یہ خوشی نہیں دے سکتی، کبھی بھی نہیں۔‘‘ صائمہ کی آنکھوں میں آنسو ایک لکیر کی صورت بہنے لگے تھے۔

’’اس بات کی خبر میری ماں کے بعد صرف تمہارے تایا ابا کو تھی۔ فاروق سے علیحدگی کے بعد ان کی پوری کوشش رہی تھی کہ وہ مجھ میں اور فاروق میں مصالحت کرواسکیں۔ تب مجبوراً انہیں یہ بات بتانی پڑی۔ یہ جرم میرا نہیں، یہ گناہ میں نے نہیں کیا مگر میں سب سے چھپتی پھر رہی تھی۔ میں کسی کو بتانا نہیں چاہتی تھی، لوگوں کی ترحم بھری نظریں، نام نہاد ہمدردیاں، ان سب کا سامنا کرنا میرے لےے بہت مشکل تھا، میں اپنی زندگی سے سمجھوتا کر چکی تھی۔ امی نے ہزار بار چاہا کہ مجھے ایک بار پھر کسی کے پلے باندھ کر اپنابوجھ ہلکا کر لیں۔ مگر میرے لےے اب یہ ناممکن تھا میں اپنی قسمت کے ہر فیصلے پر سر تسلیم خم کر چکی تھی تب تمہارے تایا ابا چلے آئے، انہوں نے کہا تھا۔

’’میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا، بس ایک آپشن دے کر جارہا ہوں۔ اس پر غور ضرور کرنا، سلیمان کے بچوں کو تمہاری ضرورت ہے۔ تمہاری سونی گود بھی بھر جائے گی اور سلیمان کا گھر بھی بس جائے گا۔‘‘

اور ہنستے کھلکھلاتے بچے کسے اچھے نہیں لگتے نوروز! مجھے تو یوں لگا جیسے میں پیاس سے مری جارہی تھی اور کسی نے پانی سے لبالب بھرا پیالہ میرے لبوں سے لگا دیا ہو۔ میں نے تو سوچنے کی زحمت بھی نہیں کی اسی وقت ہاں کر دی۔ اب بتائو نوروز! کیا میں نے غلط کیا یا تمہارے تایا ابا نے تمہارے ساتھ دھوکا کیا۔۔۔؟ انہوں نے تو تمہارے لےے بہتر سوچا۔ نایاب جیسی بیوی مل گئی تمہیں۔ ان سب سے ٹکر لے کر میرا ہاتھ تھامتے تو بیچ رستے میں تھک کر گر جاتے۔ نہ واپسی کا راستہ کھلا ملتا نہ ساتھ چلنے کا یارا رہتا، اب کم از کم ہمارے پاس چلنے کے لےے اپنی اپنی راہیں تو موجود ہیں نا؟‘‘

صائمہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا۔ کمرے میں اس کے سوا دو نفوس تھے اور دونوں ہی اس لمحے ساکت۔۔۔ وہ طویل سانس لیتی وہاں سے اٹھی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔

کافی دیر بعد نیا نے سر اٹھا کر دیکھا، نوروز کا سر جھکا ہوا تھا اور وہ کچھ بھی بولنے کے قابل نہ لگ رہا تھا۔ یہ انکشاف ہی ایسا تھا کہ خود نایاب بھی حیرت زدہ رہ گئی تھی۔ ایک بہت مطمئن سی سانس لیتے ہوئے اس نے چادر اوڑھی اور اپنی چارپائی پر لیٹ گئی۔ کمرے میں تاریکی اور خاموشی لمحہ بہ لمحہ گہری ہوتی جارہی تھی۔

٭٭٭

گھر میں پھیلا سنُاٹا ایسا ہولناک تھا کہ سدرہ کو وحشت سی ہونے لگی تھی سب کے بند کمروں پر حسرت بھری نگاہ ڈال کر وہ پچھلے برآمدے میں آگئی تھی۔ وہاں انیقہ کو دیکھ کر اسے کافی تسلی ہوئی تھی۔

’’میں سمجھی شاید تم بھی سورہی ہوگی۔‘‘

’’اتنی گرمی میں نیند کہاں آتی ہے۔۔۔؟‘‘ وہ اپنے گرد رسالوں کو ڈھیر لگائے بیٹھی تھی مگر سب کے سب بند پڑے تھے۔

’’نیا کتنی یاد آتی ہے نا۔۔۔؟ میرا دل چاہتا ہے کسی روز اس سے ملنے چلیں۔‘‘

’’ہوں۔‘‘ سدرہ نے مختصراً کہا تھا۔ اس کی نظریں آم کے درخت تلے ہلکورے لیتے جھولے پر ٹک گئی تھیں۔ نجانے کتنے دن ہوگئے تھے انہیں گئے ہوئے۔ مگر ان لمحات کو یاد کر کے اب وہ بھی افسردہ ہوجاتی تھیں۔ ان کے جانے کے بعد جیسے سارے گھر کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ تایا ابا لڑکھڑاتے ہوئے جا کر اپنے کمرے میں بند ہوگئے تھے۔ تائی اماں نے وہیں تخت پہ بیٹھ کر رونا شروع کر دیا تھا۔ باقی سب گم سم ہوگئے تھے اور سویرا کو ایسی چپ لگی تھی کہ اظفر کی ہزار باتوں کے جواب میں بھی نہیں ٹوٹی تھی۔ اس دن سے یہ جھولا یونہی خالی ہلکورے لیتا رہتا تھا۔ کبھی شام کوبچے جھولنے لگتے مگر گرمی سے گھبرا کر جلد ہی بھاگ لیتے۔

صرف دو افراد کے چلے جانے سے پورے گھر میں ویرانی سی پھیل گئی تھی۔ اس دن کے بعد کئی مرتبہ بارش ہوئی تھی مگر سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں بند ہوگئے۔ وہ چاروں سوگوار انداز میں بیٹھی لگاتار برستی بارش کو دیکھتی رہیں۔

مست ہوائیں، پھلوں سے لدے درخت، پھولوں سے بھری ٹہنیاں اور زمین کی پیاس بجھاتے بارش کے چھوٹے بڑے قطرے سب کچھ وہی تھا۔ بس وہ ایک سرخوشی جو پہلی بارش پہ جسم کے روئیں روئیں میں پھوٹ رہی تھی مفقود تھی۔ اس کی جگہ اداسی تھی جو بارش کے ہر قطرے کے ساتھ دلوں پر برس رہی تھی۔

’’اور اب تو ساون بھی ختم ہونے کو آیا ہے۔ اللہ جانے کس روز آخری بارش ہو اور یہ مہینہ ہمیں اگلے سال تک کے لےے انتظار سونپ کر چلتا بنے۔‘‘

’’اسکنجبین پیو گی؟‘‘ انیقہ کی آواز پر سدرہ چونکی۔

’’ہاں۔‘‘

’’ٹھہرو، میں برف ڈال کر لاتی ہوں۔ تھوڑی گرم ہو گئی ہے۔‘‘ انیقہ قریب پڑا جگ اٹھا کر کچن کی طرف بڑھ گئی تھی۔

سدرہ برآمدے کے ستون سے لپٹی بوگن ویلیا کے آتشی پھولوں کو ایک ایک کر کے زمین پہ گرتے ہوئے دیکھنے لگی تھی۔

٭٭٭

نیا کی طبیعت اچانک ہی خراب ہوگئی تھی۔ نوروز گھر پہ نہیں تھا، سو صائمہ اسے ساتھ لے کر لیڈی ڈاکٹر کے پاس چلی گئی تھی۔ واپسی ہوئی تو نوروز بے چینی سے ان کا انتظار کر رہا تھا۔

’’خیریت تو تھی؟ اتنی دیر لگا دی تم لوگوں نے۔‘‘

’’میں نے اسے پہلی مرتبہ کسی کے لےے اتنا فکر مند ہوتے دیکھا ہے۔‘‘ صائمہ نے سرگوشی کی تھی مگر وہ کھل کر مسکرا بھی نہ سکی تھی۔

’’نوروز! تمہارے لےے ایک خوش خبری ہے مجھ سے سنو گے یا نیا سے۔۔۔؟‘‘ صائمہ شوخی پر اتری ہوئی تھی، نوروز نے تھکی تھکی سی نیا کو کمرے کی طرف جاتے دیکھا اور پھر صائمہ کی طرف متوجہ ہوا۔

’’تم ہی بتادو۔‘‘

’’تمہارے آنگن میں بہت جلد ایک پھول کھلنے والا ہے۔ میری طرف سے مبارک باد قبول کرو۔‘‘

’’کیا واقعی؟‘‘ وہ قدرے جھینپتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔ صائمہ نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ مسکراہٹ دباتا کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

’’یہ میں کیا سن رہا ہوں۔۔۔؟ کیا صائمہ سچ کہہ رہی ہے۔۔۔؟‘‘

’’ہاں، اللہ نے ہم پر اپنا بڑا کرم کیا ہے۔ ورنہ صائمہ کے بارے میں جان کر تو مجھے دھڑکا سا ہی لگا رہتا تھا۔‘‘ اس نے معصومیت سے دل کی بات کہہ دی تھی۔ نوروز نے دیکھا، وہ کافی بجھی بجھی سی لگ رہی تھی۔

’’نایاب! تم مجھے خوش نہیں لگ رہیں۔‘‘ وہ بغور اس کے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا۔ نایاب نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سر جھکا لیا۔

’’نوروز! میں یہ خوش خبری ان لوگوں کو سنانا چاہ رہی تھی جو شاید یہ خبر سن کر ہم سے بھی زیادہ خوش ہوتے۔‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے کہا تھا۔ نوروز اس کی بات سن کر ایک لمحے کے لےے خاموش ہوگیا تھا۔

’’نوروز! میں گھر جانا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے جیسے التجا کی تھی۔ نوروز نظریں چَرا گیا۔

’’یہ بھی گھر ہی ہے۔‘‘ اس کا لہجہ کھوکھلا تھا۔

’’نہیں نوروز! میں اپنے گھر جانا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے بے تاب ہو کر اس کا بازو تھام لیا تھا۔

’’یہاں بہت اجنبیت ہے۔ در و دیوار اجنبی، غیر آسمان، نا آشنا پھول پتے مجھے یہاں چین نہیں ملتا۔ نوروز! میں یہاں اپنی مرضی سے چل پھر نہیں سکتی۔ کھا پی نہیں سکتی اور وہ خالہ نصرت کی عجیب و غریب باتیں، پتا نہیں کیسی ذہنیت ہے ان کی۔ میرے لےے تو سانس لینا مشکل ہونے لگا ہے یہاں۔‘‘ وہ خوامخواہ ہی رونے لگی تھی۔

’’تم خوامخواہ ٹینس۔۔۔‘‘

’’خوامخواہ نہیں نوروز! تم سمجھتے کیوں نہیں کہ مجھے ذہنی سکون کی ضرورت ہے، جو مجھے صرف وہیں مل سکتا ہے، جہاں سب میرے اپنے ہیں، مجھے چاہنے والے، مجھ سے محبت کرنے والے، آخر تم یہ کیوں نہیں مان رہے کہ تم غلطی پر تھے غلط فہمی بہت معمولی سی تھی مگر تمہارا ردِ عمل بہت شدید تھا اور اب تم وہاں جانے سے خوف زدہ ہو کہ کہیں وہ لوگ تمہیں دھتکار نہ دیں۔‘‘ وہ جیسے پھٹ پڑی تھی۔

’’ان لوگوں کا سامنا کرنا کچھ ایسا آسان نہیں، اس روز میں نے جو کچھ کہا۔ اب سوچتا ہوں تو خود سے نظر نہیں ملا پاتا۔‘‘ اس کی آواز پست تھی۔

’’مجھ جیسے لوگوں کا یہ ہی تو المیہ ہوتا ہے نایاب! ہم لوگ اپنی ذات کے اندر جیتے ہیں، اپنی ذات کے اندر مر جاتے ہیں۔ دوسروں سے روےے برتنے کا سلیقہ نہیں آتا اور جب وقت گزر جاتا ہے تب ہم پچھتاتے ہیں۔‘‘ وہ اپنی پیشانی مسل رہا تھا۔

’’ابھی وقت نہیں گزر ا ہے نوروز! ابھی تمہاری غلطی پچھتاوا بن کر تمہاری زندگی میں شامل نہیں ہوئی۔ ابھی تو تلافی کی بہت گنجائش ہے۔ ہم واپس چلتے ہیں نوروز! میں وعدہ کرتی ہوں۔ میں آپ کو، آپ کی ذات میں مقیُد نہیں رہنے دوں گی۔ چلیں، ہم واپس چلتے ہیں۔‘‘ وہ اسے آمادہ دیکھ کر منت سماجت پہ اتر آئی تھی۔

’’جائیں گے نیا! ہمیں لوٹ کر وہیںتو جانا ہے بس تھوڑا انتظار اور۔۔۔‘‘

’’دیکھ لینا نوروز! یہ تھوڑا سا انتظار حسرت میں نہ بدل جائے۔‘‘ وہ انجانے واہموں کا شکار ہورہی تھی۔

’’خدا نہ کرے۔‘‘ نوروز کی بے ساختگی نے نیا کے دل و جان میں طمانیت سی دوڑا دی تھی۔

٭٭٭

آج بہت دنوں بعد ہوا شوخی پر اتری تھی، پھول پتے سب ترنگ میں تھے اِکُا دکُا بادل بھی آسمان پر دکھائی دے رہے تھے۔ محکمہ موسمیات کی طرف سے بارش کی پیشن گوئی بھی کی گئی تھی۔ اظفر گھر میں داخل ہوا تو انیقہ بڑی حسرت سے آسمان پر چھاتے ہوئے بادلوں کو دیکھ رہی تھی۔ سدرہ تخت پر لیٹی زمین پہ آڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہی تھی۔

’’دل دکھ رہا ہے۔۔۔؟‘‘ وہ سیدھا انیقہ کے پاس آکر رکا تھا۔

’’شاید یہ ساون کی آخری بارش ہو۔‘‘ وہ بہت دل گرفتہ لگ رہی تھی۔

’’میں سچ کہتی تھی نا، یہ رائٹرز واقعی بہت جھوٹ لکھتی ہیں، ناولوں، افسانوں میں ساون کی بارش ڈھیر ساری خوشیاں لاتی ہے۔ ایک یہ ہمارا ساون ہے، ہماری اولین بارش میں ہی دکھ کی سوغات سے جھولی بھر گیا۔‘‘ وہ شکوہ کناں نظروں سے سرمئی بادلوں کو دیکھ رہی تھی۔

’’کیا خیال ہے، آج تھوڑا بہت اہتمام نہ کر لیا جائے۔‘‘ اظفر نے سرسری سے انداز میں کہا۔ مگر سدرہ اچھل کر بیٹھ گئی تھی۔

’’ہرگز نہیں۔ اس روز اہتمام کر کے دیکھ لیا تم نے، آخری بارش ہے کل بھادوں کا مہینہ شروع ہوجائے گا۔ اسے بھی یونہی برس جانے دو ہم کسی اور کو نہیں کھونا چاہتے۔‘‘ سدرہ کی آوا زبھرُا گئی تھی۔ اظفر چلتا ہوا اس کے پاس آبیٹھا۔

’’بے وقوف ہو تم۔ ایک دو کے چھن جانے کا غم منا رہی ہو، یہ جو اتنے سارے تمہارے آس پاس ہیں۔ ان کا تمہیں کوئی خیال نہیں۔ سویرا کا ہی سوچو، اس روز سے کمرے میں بند پڑی ہے۔ وہ میری بیوی ہی نہیں یار! تمہاری بہن بھی ہے، اسے بہلانے کے لےے ہی تھوڑا ہلُا گلُا کر لو اٹھو شاباش۔‘‘ اس کے بے حد اصرار پر وہ دونوں بے دلی سے اٹھ گئی تھیں۔

’’اور ویسے بھی سنا ہے، ساون کی بارش میں کھوئے ہوئے لوگ مل بھی جاتے ہیں۔‘‘ اس کی آخری بات پر دونوں نے بیک وقت اس کی طرف دیکھا۔

’’کوشش کرنے میں کیا حرج ہے؟‘‘ وہ کندھے اچکا کر رخ موڑ گیا تھا۔

ذرا سی کوشش کے بعد وہ معیز اور مہران کو بھی متحرک کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ معیز کو اس کی ذمہ داری سمجھاتے ہوئے منڈی کی طرف دوڑا دیا۔ بچوں کو باقی لڑکیوں کو باہر نکالنے کا کام سونپ دیا۔ انہوں نے بیٹ اور ہاکیوں سے دروازے کھٹکھٹا کر ان کا نام میں دم کر دیا اور انہیں اپنے اپنے کمروں سے نکلتے ہی بنی۔

نوروز اور نایاب گھر میں داخل ہوئے تو دونوں کی کیفیات مختلف تھیں۔

نایاب کی چال میں تیزی تھی، اعتماد تھا، خوشی تھی جبکہ نوروز جھجک رہا تھا۔ ایک ایک قدم من من بھر کا ہورہا تھا۔ شرمندگی ہر آن اس کے قدموں سے لپٹی جارہی تھی۔ گھر کا ماحول اور فضا بالکل وہی تھی جیسی وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ پانیوں سے بھرے سیاہ بادل دن میں بھی رات کا سماں پیدا کر رہے تھے۔ پکوان تلنے کی خوشبو سارے گھر میں پھیلی ہوئی تھی۔ وہ سامنے والے برآمدے کی سیڑھیاں چڑھنے لگے تو ہوا کا زور دار جھونکا برآمدے کے شیڈ پہ پھیلی بوگن ویلیا کے سرخ پھولوں کا ایک ڈھیر ان پر نچھاور کر گیا تھا۔ نیا نے یوں کھلکھلا کر اس کی طرف دیکھا تھا جیسے کہہ رہی ہو۔

’’دیکھو، اس گھر کی ہوائیں بھی ہمیں کس طرح خوش آمدید کہہ رہی ہیں۔‘‘

وہ لوگ لائونج میں آگئے جو اس وقت بالکل خالی تھا۔ تب ہی سیڑھیوں پر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔ نوروز ایک لمحے کے لےے ساکت ہو گیا۔ نجانے کس کا سامنا سب سے پہلے کرنا ہوگا۔

اس نے ڈرتے ڈرتے پلٹ کر دیکھا تھا۔ آخری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے سویرا ٹھٹک کر رک گئی۔ ویران آنکھوں میں حیرت ہی حیرت تھی۔ وہ آگے بڑھنے کے بجائے تذبذب کے عالم میں اسے دیکھتی رہی تھی۔

’’سنو! سویرا سے سامنا ہو تو اس سے اپنی بہن کی حیثیت سے نہیں میری بیوی کی حیثیت سے ملنا۔ اپنی بہن کو تو ہوسکتا ہے، تم کبھی معاف نہ کر سکو لیکن سویرا اظفر اپنی غلطی کا اعتراف شادی کی پہلی رات ہی میرے سامنے کر چکی ہے اور میں یہ قطعی برداشت نہیں کروں گا کہ جس غلطی کو میں بھول چکا ہوں، کوئی دوسرا اسے بار بار دہرائے۔‘‘ اظفر کی کچھ دیر پہلے کہی گئی بات اس کے کانوں میں گونجی تھی۔

’’سویرا! اپنے بھائی سے ملو گی نہیں۔‘‘ وہ اس کے اپنے درمیان موجود رشتے کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا تھا۔ سویرا آگے بڑھی تھی۔ رکی تھی، ٹھٹکیتھی اور پھر بھاگ کر اس کے سینے میں سما گئی تھی۔

’’نوروز بھائی! میں نے۔ میں نے آپ کو بہت مس کیا تھا۔‘‘ وہ بھل بھل آنسو بہانے لگی تھی۔

’’ہاں، مجھے یقین ہے کہ تم نے مجھے مس کیا ہوگا۔ بہنوں کے جذبات میں کھوٹ نہیں ہوتا۔‘‘

’’آپ پہلے تایا ابا سے مل لیں، آپ کے جانے کے بعد سے وہ بہت دکھی ہیں۔‘‘ سویرا نے کہا تو وہ تایا ابا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔

’’تم کل ہی وہاں چلی جانا۔ یہ اس کی ماں کی جائیداد کے کاغذات ہیں جو چھ سالہ مقدمے کے بعد میں اس کے سوتیلے بھائیوں سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہوں اور یہ فائل ان تمام شیئرز پر مشتمل ہے جو مختلف کمپنیوں میں، میں نے اس کے نام سے خرید رکھے تھے۔ اسی میں اس کے بینک اکائونٹس کی تفصیلات بھی درج ہیں۔ اگر وہ کبھی کاروبار کے معاملے میں سنجیدگی ظاہر کرتا تو یہ سب باتیں میں خود اسے سمجھاتا مگر اب تم یہ فائلیں اسے دے دینا۔ وہ ہمارے ساتھ رہنا نہیں چاہتا اور میں اسے مجبور نہیں کروں گا۔‘‘

تایا ابا کی آواز بھاری پڑ گئی تھی۔ باہر دروازے پر کھڑے نوروز کا دل ڈوب ڈوب گیا۔

’’ آپ تو خوامخواہ پریشان ہورہے ہیں میں خود اسے جا کر لے آئوں گی بچہ اگر کنوئیں میں چھلانگ لگانے کو تیار ہوتو کیا ہم اسے لگانے دیں۔ ہر گز نہیں میں اسے سمجھائوں گی۔ وہ سمجھ جائے گا۔ جانتی ہوں اسے اچھی طرح سویرا کے معاملے کی وجہ سے پریشان تھا اوپر سے بیماری نے چڑچڑا کر رکھا تھا اسی لےے اول فول بکنے لگا تھا۔‘‘

تائی اماں اس کی صفائیاں پیش کر رہی تھیں۔

’’ان فرشتہ صفت لوگوں کا دل دکھایا تم نے تف ہے تم پر۔‘‘ اس نے خود پر لعنت بھیجی عین اسی وقت دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔ اس کی آنکھیں خود بخود بند ہوگئیں۔ سامنا کرنے کی ہمت ہی نہ رہی چند لمحے تک سامنے خاموشی چھائی رہی پھر تایا ابا کی آواز ابھری۔

’’اندر آجائو۔‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں۔ اسے تایا ابا کے ہونٹوں پر مبہم سی مسکراہٹ کا شائبہ ہوا تھا۔

’’سنبھالو اسے۔۔۔ آگیا ہے تمہارا شہزادہ۔ جی تو چاہتا ہے، کان سے پکڑ کر دو جوتے لگائوں۔ لیکن شادی شدہ ہوگیا ہے، اس لےے لحاظ کر گیا ہوں۔‘‘ تایا ابا کی آواز خوشی کے تمام رنگوں سے ہم آہنگ تھی۔ اس کی آنکھ میں آنسو چلے آئے۔

’’تایا ابا! میں۔‘‘

’’بس، بس۔۔۔ محبت اور خلوص کی پہچان کرنا سیکھو برخوردار! یہ جذبے اتنے سستے نہیں کہ جب دل چاہا، ٹھوکر مار کر چلتے بنے۔‘‘ وہ کھڑکی میں جا کھڑے ہوئے تھے۔

’’سوری تایا ابا۔‘‘ وہ پیچھے سے جا کر کسی بچے کی طرح ان سے لپٹ گیا تھا۔

’’آئو ادھر دیکھو ذرا، یہ سب لوگ تمہارے بغیر کتنے اداس ہیں۔‘‘ انہوں نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے برابر لاکھڑا کیا۔ عقبی لان کا منظر واضح تھا، خالی جھولا۔ آم کے پیڑ کے نیچے بارش کی کن من سے بے نیاز اپنے ہی خیالوں میں کھوئی ہوئی سدرہ۔ پریشان گم سم سے معیز اور مہران نہ کوئی اچھل کود نہ کوئی شور ہنگامہ۔

’’جائو بیٹا! جا کر ان سب لوگوں کو ان کی کھوئی ہوئی خوشیاں لوٹا دو۔‘‘

تائی اماں نے آکر اس کے شانے پہ ہاتھ رکھا تو وہ اثبات میں سر ہلاتا باہر کی طرف پلٹا۔ سویرا اور نیا ابھی تک اس کی واپسی کا ہی انتظار کر رہی تھیں۔ اسے آتے دیکھا تو پہلے ہی عقبی لان کی طرف بھاگ کھڑی ہوئیں۔ ذرا سی دیر میں لان عجیب و غریب چیخوں سے گونج اٹھا تھا۔ وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھا۔ عین اسی لمحے چھپاک کی آواز سنائی دی۔ وہ ہونق سا بنا کھڑا تھا اور رنگ دار پانی اس کے کپڑوں سے قطرہ قطرہ ٹپک رہا تھا۔ اظفر اس کے استقبال کے لےے پہلے سے تیار تھا۔

’’تم گدھے! الو۔‘‘

’’اور، اور۔‘‘ اظفر ایک ایک قدم پیچھے ہٹنے لگا تھا۔ عین اسی وقت بادل گرجا تھا اور ایسی موسلا دھار بارش شروع ہوئی تھی کہ معیز اور مہران چیخ اٹھے تھے۔

’’نوروز بھائی کی گالیوں نے کام کر دکھایا۔‘‘ وہ لوگ اسے کھینچ کھانچ کر بارش میں لے گئے تھے۔ اوپر کھڑکی میں کھڑے تایا ابا اور تائی اماں اپنے آنگن میں ابھرتی ان کی چہکاریں سن رہے تھے اور ان خوشیوں کو بری نظر سے محفوظ رہنے کی دعا کر رہے تھے۔

لان کا منظر بہت مسحور کن تھا۔ دھواں دھار برستی ہوئی بارش اٹھکھیلیاں کرتے بچے۔ آسمان کی بلندیوں کو چھوتا ہوا جھولا، سارے لان میں رنگ ہی رنگ بکھرے ہوئے تھے۔ شہلا اور سویرا، اظفر کے ساتھ آم کھانے کا مقابلہ کر رہی تھیں۔ خود کو ہارتے پایا تو آموں کی ساری گٹھلیاں اس کی گود میں پھینک کر وہ بارش میں آکر ککلی ڈالنے لگیں۔

تائی اماں گیس کا چھوٹا سا چولہا اٹھا کر برآمدے میں لے آئیں اور بارش کی ہلکی پھورا کا مزا لیتے ہوئے پورے تلنے لگیں۔ چھوٹی چچی اپنے سَر درست کر چکی تھیں۔ پورے تلتے ہوئے وہ بڑی موج میں گارہی تھیں۔

ساون برسے

ساون برسے

رستوں پر کہرا لہرائے

مینا، مور، پپیہا گائے

مست پون کے جھونکے آئیں

تجھ بن سنگی، میں بے رنگی

کیسے نکلوں گھر سے

ساون برسے

ساون میں بھیگے خوشیوں کے تمام رنگ مکمل تھے۔

٭٭٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں