سرخ زرتار گھونگھٹ کی اوٹ سے اس نے کوئی بھوت پریت تو نہیں دیکھا تھا مگر اس کا خون خشک ہو کر رہ گیا۔
نئے گھر میں قدم رکھتے ہوئے ہزاروں امنگیں اور آرزوئیں دامن سے لپٹی چلی آتی ہیں۔ یہی معاملہ اس کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ لیکن اب وہ یوں سہم گئی تھی جیسے کوئی روح فرسا حادثہ ہوگیا ہو۔ وہ چہرہ جو پہلی نظر میں اس کے سامنے تھا اس کے شریکِ حیات کا تو نہ تھا۔
پر کون تھا وہ؟ کون؟ ذہن میں خدشے کلبلانے لگے۔ برآمدے کی سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہوئے پھر اس کی نظر اسی چہرے پر پڑی تو وہ لڑکھڑا گئی۔ اس کا وجود لرزاں تھا۔ ان مضبوط بازوئوں نے اسے سنبھال لیا۔ جن کے لمس سے وہ ان چند لمحوں میں آشنا ہوگئی تھی۔
’’اب ایسی جلدی بھی نہیں۔ آرام سے چلےے۔ کہیں کوئی چوٹ ووٹ لگ گئی تو؟‘‘ شوخ آواز میں سرگوشی اس کے کان کے قریب کی گئی تو وہ شرما بھی نہ سکی۔ ذہن اس خطرے کی طرف جو لگا تھا۔
’’بڑے مالک بن بیٹھے ابھی سے۔ فی الحال چلتے پھرتے نظر آئےے رات بڑی دور ہے۔‘‘ ایک دوسری شوخ آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی جانے والی کون تھی۔ جس نے اسے تھام بھی لیا۔ پھر ساری لڑکیاں گاڑیوں سے نکل کر اس کی طرف دوڑی آئیں اور ارد گرد جمع ہوگئیں۔
’’زبیر بھائی! چل کر دروازہ تو کھلوائے۔ دلہن بھابھی کے کمرے کا۔‘‘ یہ نام سن کر اس کے پیروں تلے زمین کھسکتی ہوئی معلوم ہوئی۔
’’اجی کچھ کرم کیجےے۔ ہم آخر بڑے ہیں۔ ان کے جیٹھ ہوتے ہیں۔ اب بچوں کی طرح بھاگتے جائیں کمرا کھولنے۔‘‘ آواز سو فیصد وہی تھی۔ اپنی بدبختی کا اسے مکمل یقین ہوگیا ۔ یہ سن کر کہ وہ اس کا جیٹھ تھا۔
’’چلےے جناب آپ بڑوں والا کام کرلیجےے۔ اپنی پَرشفقت ہستی کے سائے میں انہیں اندر لے آئےے۔ میں دروازہ کھلواتی ہوں۔‘‘
’’آپ بھی اپنے نام کی ایک ہیں بھابھی۔ کچھ نہ کچھ کراکے ہی دم لیا۔‘‘زبیر نے اس کا بازو تھام لیا۔
’’چلےے بھابھی۔ فی الحال تو ہم سب ہی آپ کے غلام ہیں۔‘‘ زبیر نے کہا۔ تو وہ جی جان سے لرز گئی۔ کسی معمول کی طرح چلتی اس کمرے تک آئی جوپہلے صرف عزیر احمد کا تھا۔ اب اس کا کہا جارہا تھا۔ اس کی نظر کسی چیز پر نہ پڑسکی۔ آنکھوںکے آگے دھند سی چھاگئی۔ اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ کس طرح وہ سیج تک آئی۔ کیسے وہاں بٹھائی گئی۔ کمرا دوسرے پل رشتے دار لڑکوں اور لڑکیوں سے بھر گیا۔ رونمائی کی رسم ادا ہونے لگی۔
عابدہ بیگم کمرے میں آئیں۔ ساتھ ہی عزیر احمد عباسی کی لاڈلی دلاری بہنیں فرح اور رعنا بھی جن کی وہ دریافت تھی۔
عابدہ بیگم کو اس وقت اپنے مرحوم شوہر یاد آرہے تھے۔ جن کی وفات دو سال قبل ہوگئی تھی۔ وہ بہو کے سہاگ پر اپنے آنسوئوں کا سایہ نہ پڑنے دینا چاہتی تھیں۔ اسے سلامی دے کر باہر چلی گئیں۔ ڈھیروں دعائیں دیتی ہوئی۔ تب فرح اور رعنا اس کے قریب آگئیں۔
’’بھابھی جانی! دیکھےے ہم تو چاہے کچھ دیں نہ دیں ہمیں رخِ روشن کا دیدار کرادیجےے لیکن یہ زبیر بھائی خاصی موٹی اسامی ہیں اور پھر آپ کے جیٹھ بھی ہیں۔ انہیں ایسے نہیں دکھائےے گا جلوہ جب تک کوئی تحفہ آپ کے شایانِ شان نہ دیں۔‘‘ فرح نے اسے خبردار کیا۔ وہ آنکھیں بند کےے بیٹھی تھی اور گھونگھٹ کو فرح نے مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔ زبیر احمد اسے کمرے تک چھوڑ کر واپس چلے گئے تھے۔ اب پھر کمرے میں آچکے تھے۔
’’اے لڑکی! بھابھی کے گھر میں آتے ہی ہمارے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی ۔ ہم سب سن رہے ہیں۔‘‘
اتنے میں زنیر احمد اندر آگئے۔ یہ زبیر اور عزیر کے چھوٹے بھائی تھے۔
’’دن گنے جاتے تھے جس دن کے لےے وہ دن آ ہی گیا۔‘‘ میڈیکل کے آخری سال میں پڑھنے والے زنیر پیشے کے برعکس انتہائی غیر سنجیدہ تھے۔ آگے بڑھ کر آنچل ہٹانا چاہا جسے فرح نے مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔
’’کوئی بے ایمانی نہیں چلے گی خان۔ سیدھی طرح رونمائی نکالو۔‘‘ رعنا نے زنیر کے ہاتھ ہٹادےے۔
’’اور ہٹو پہلے اے سی کسٹم صاحب کو مشرف بہ ملاحظہ ہونے دو کیوں کہ وہ تم سے بڑے ہیں۔ عمر میں بھی اور عہدے میں بھی۔‘‘ رعنا نے زبیر احمد پر فقرہ چست کیا۔
’’شریر لڑکی! فکر نہ کرو اس تحفے میں تجھے کوئی حصہ نہ ملے گا وہ ہم نے عرصہ چھ ماہ سے بطورِ خاص اپنی پیاری بھابھی کے لےے منگوارکھا ہوا تھا مگر پہلے دیدار ہونے چاہئیں۔‘‘
اس کے ہاتھ پیر یخ ہوگئے تھے اور اپنا آپ اس نے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔
’’جی نہیں، پہلے تحفہ ادھر لائےے۔ ہم ان کے لیگل ایڈوائزر ہیں۔ ہمارے مشورے کے بغیر وہ آپ کو مشرف بہ زیارت نہ کریں گی۔‘‘ عدیلہ بھابھی نے کہا جو زبیر احمد کے تایا زاد بھائی کرنل عامر کی بیوی تھیں اور اس گھر میں انہیں خاص اہمیت حاصل تھی۔
تب زیبر احمد نے ایک بڑا سا ڈبُا ان کی طرف بڑھا دیا جسے ایک پل سے بھی پہلے بھابھی نے کھولا اور سب مارے اشتیاق کے اس پر جھک گئے۔ ہیروں کی چمک نے نگاہوں کو خیرہ کر دیا۔ بہت خوب صورت سیٹ تھا نیکلس، آویزے اور انگوٹھیاں سب ہی حیران رہ گئے۔
’’میرا خیال ہے اب شرائط پوری ہوچکی ہیں۔ نقابِ رَخ ہٹا ہی دیجے۔‘‘ زبیر احمد نے ہنس کر کہا اور عدیلہ بھابھی نے آنچل ہٹا کر ہاتھ سے اس کا چہرہ اونچا کیا تو چشمِ بد دور۔ بہت خوب صورت، چندے آفتاب چندے ماہتاب کی آوازیں بلند ہوئیں۔
اس نے سختی سے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ فرح نے کہا۔
’’آنکھیں کھولےے بھابھی! دیکھےے نا آپ کے سامنے کون ہے؟‘‘
تب اس نے ڈرتے ڈرتے نگاہیں اوپر کیں اور خدشہ یقین میں بدل گیا۔ عروسی جلوے میں شاید زبیر احمد کے لےے اسے پہچاننا دشوار ہوگیا تھا لیکن اس نے تو پہچان لیا تھا زبیر عباسی کو۔
انہوں ے چہرے سے کسی قسم کے جذبات کا اظہار نہ ہونے دیا۔
’’شکریہ عدیلہ بھابھی! اس نوازش کا، اچھا اب صبح ملاقات ہوگی۔ اللہ حافظ۔‘‘ وہ کمرے سے نکل گئے۔ ان کے جاتے ہی جوان پارٹی کی عید ہوگئی۔
’’زنیر! تم نے تو مفت میں دیدار کر لےے۔ نکالو نا تحفہ۔‘‘ رعنا نے یاد دہانی کرائی۔
’’اجی میں جو پانچ سال سے ڈاکٹر بننے کی کوشش کر رہا ہوں تو اسی لےے۔ ان سے وعدہ ہے کہ علاج معالجہ اور طبی سہولت مفت نہ صرف ان کے لےے بلکہ آنے والی قوم کے لےے بھی۔‘‘
زبردست قہقہہ بلند ہوا۔ ’’لیجےے بھابھی مستقبل کی ضمانت بھی ابھی مل گئی۔‘‘ یہ رشتے کا دیور تھا کوئی۔
’’زنیر یار! یہ فوائد تو عزیر بھائی کے لےے ہیں۔ جان اتنی سستی نہیں چھوٹ سکتی۔ نقد مال نکالو۔‘‘ یہ کوئی اور بولا۔
تب زنیر نے کوٹ کی جیب سے وہ قیمتی رسٹ واچ نکال کر اس کے حضور پیش کر دی جو اس نے پاکٹ منی بچا کر ایک سال کے عرصے میں رقم اکٹھی کر کے خریدی تھی۔
پورے گھر کے لےے مدت بعد آنے والی یہ پہلی خوشی تھی۔ اس سے قبل صرف بڑی بہن دیبا کی شادی آٹھ سال قبل ہوئی تھی۔ زبیر احمد تو اب تک شادی کے لےے تیار نہ تھے۔ عزیر نے سب کچھ ماں بہنوں پر چھوڑ رکھا تھا کیوں کہ وہ کسی محبت کا شکار نہ تھے۔ سو فرح اور رعنا نے ان کی خاطر عائشہ کا انتخاب بڑی مشکلوں کے بعد کیا تھا۔
سب نے اعتراض کیا تھا۔ بڑے بھائی کو چھوڑ کر چھوٹے کی شادی کیوں کی لیکن عابدہ بیگم نے اعتراض کرنے والوں کو مناسب جواب دے کرمطمئن کر دیا۔ زبیر احمد بڑے بھائی تھے۔ عزیر سمیت سب ہی ان کا احترام کرتے تھے۔ ان سے وجہ کوئی بھی دریافت نہ کرسکتا تھا۔ عابدہ بیگم سے انہوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ بس ابھی وہ شادی نہیں کرنا چاہتے۔ یوں عزیر کی شادی ان سے پہلے ہوگئی تھی۔
عزیر کو عدیلہ بھابھی نے باہر سے ہی ہری جھنڈی دکھادی تو وہ دوستوں میں چلے آئے۔ یار دوستوں نے ساری فنکاری کا مظاہرہ آج ہی کرنے کی قسم کھا رہی تھی۔ کسی نے ہارمونیم سنبھال رکھا تھا۔ کوئی طبلہ نوازی کر رہا تھا۔ کسی نے ستار کے مضرابوں سے کھیل کر داد چاہی تھی تو کسی نے آواز کا جادو جگاکر۔ بے تکلف محفل تھی۔ یہاں کوئی کیپٹن، کوئی ڈاکٹر، کوئی اےس پی کوئی ایڈیشنل جج نہیں تھا۔ یہاں وہ ایک دوسرے کے مخلص ساتھی تھے۔ روزمرہ زندگی کے رکھ رکھائو اور ایٹی کیٹس وہ باہر چھوڑ آئے تھے۔ کیپٹن عزیر احمد عباسی کے سہرے کے پھول کھلنے پر وہ سب ہی خوش تھے اور اپنی خوشی کا اظہار مختلف طریقوں سے کر رہے تھے۔ آج تو ان سب کے مشترکہ دوست سیٹھ حسن بھائی نے کمال کر دیا۔ یار لوگوں کا خیال تھا کہ وہ صرف دو اور دو چار کرنا ہی جانتے ہیں لیکن سیٹھ حسن بھائی نے
پائل چھنن چھن چھنکے نغمہ بن کے
پورے ہوئے ہیں میرے ارمان من کے
سنا کرموسیقی کے شہنشاہ مہدی حسن کو بھی مات کر دیا اور داد و تحسین کے ڈونگرے برسنے لگے چاروں طرف سے۔
وہ راگ و رنگ کی دنیا میں گم تھے اور زبیر احمد اپنے کمرے میں سخت مضطرب اور پریشان تھے۔ کئی بار وہ عزیر کے کمرے کی طرف آئے اور باہر ہی سے لوٹ گئے۔ کیونکہ اندر ابھی تک لوگ موجود تھے۔ آخری بار وہ آئے تو انہوں نے دیکھا عائشہ کے پاس صرف فرح تھی۔
’’فرح بیٹے! اب تم آرام کرو۔ مجھے بھابھی سے ایک بات کرنی ہے۔‘‘ فرح اٹھ کر باہر چلی گئی۔
کافی دیر بعد جب زبیر احمد کو فرح کے جانے کا یقین ہوگیا۔ وہ دو قدم آگے بڑھے۔ عائشہ کا دل تیزی سے دھڑکا اور پھر یک لخت رک سا گیا۔
’’امید ہے اب تک تم نے بھی مجھے پہچان لیا ہوگا عائشہ! شاید تم نے یہ سمجھا ہو کہ ماہ و سال نے میرے ذہن پر کوئی پردہ ڈال دیا ہے تو تم غلط فہمی کا شکار ہو۔‘‘
عائشہ نے خوف زدہ ہوکر ان کی طرف دیکھا۔ اس کے لب کچھ کہنے سے قاصر تھے۔
’’قدرت کی ستم ظریفی تو دیکھو کہ تم میرے گھر میں بھابھی جیسے قابلِ احترام رشتے کے تحت داخل ہوئیں۔‘‘
’’زبیر صاحب!‘‘ اس نے مری مری آواز میں انہیں پکارا۔
’’میری ممی تو بہت سمجھ دار خاتون ہیں۔ جانے پہچان کی یہ غلطی ان سے کیسے ہوگئی۔ ہمارا خاندان پرانی شریفانہ روایات کا حامی ہے۔ تم جیسی لڑکیوں کی ہمارے گھر میں کوئی جگہ نہیں۔‘‘
’’زیبر صاحب! آپ بھی غلط فہمی کا شکار ہیں۔‘‘ اس نے ہمت کر کے دوسری بار زبان کھولی۔
’’عائشہ! کم از کم مجھے تم بے وقوف نہیں بنا سکتیں۔ بے شک قانونی اور شرعی طور پر تم عزیر کی بیوی اور میری بھابھی ہو۔ لیکن یہ تعلق پتھر کی لکیر نہیں ہے۔ چند لفظوں سے یہ رشتہ قائم ہوا ہے اور چند الفاظ اس کو ختم بھی کر سکتے ہیں۔ میرے سامنے زیادہ چالاک بننے کی کوشش نہ کرنا۔ میں تمہارے ماضی سے آگاہ ہوں میں نے دنیا دیکھ رکھی ہے اور اس کا چال چلن بھی مگر میرا بھائی بے حد معصوم ہے اس معاملے میں۔ خبردار! جو تم نے اپنی ادائوں کے جال پھیلا کر اسے دھوکا دینے کی کوشش کی۔
ابھی گھر میں پورا خاندان موجود ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ کل ہمارا فسانہ ہر زبان پر ہو۔ خبردار!میری آمد کا علم عزیر کو نہ ہونے پائے ورنہ جانتی ہو ہم سے زیادہ رسوائی تمہاری ہوگی۔‘‘
وہ اتنا کہہ کر اسے طوفانوں کے حوالے کر کے کمرے سے نکل گئے۔ تو وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر سسک اٹھی۔ ارد گرد سے بے نیاز کشتیٔ حیات ساحل کے قریب آتے آتے طوفانوں کی نذر ہوگئی تھی۔ بربادی پر جتنا ماتم کرتی کم تھا۔ اسے بھی ماضی شد و مد سے یاد آرہا تھا۔
ابھی وہ دھواں دھار آنسو بہا رہی تھی کہ دروازہ کھلا اور وہ اجنبی اندر داخل ہوا جسے اس نے اب تک دیکھا بھی نہ تھا۔ اور جو اس کی حیات کا مالک بنا دیا گیا تھا۔
وہ سنبھل گئی۔ لیکن سرخ آنکھیں اور رونے سے خراب ہوجانے والا میک اپ چھپ نہ سکا۔
’’اس کمرے میں ابھی کچھ دیر پہلے کون آیا تھا۔‘‘ عزیر پہلی بار اس سے مخاطب تھے۔ کڑے لہجے میں تفتیشی انداز میں۔ وہ سنبھل گئی۔
’’جی یہاں تو کوئی بھی نہیں آیا۔‘‘ وہ تو اپنا آپ بھول رہی تھی۔ شرم و حیا ناز و انداز کہاں یاد رہتے۔
’’میں نے پوچھا ہے کہ پندرہ منٹ قبل یہاں کون آیا تھا؟‘‘ وہ نظریں جھکائے بیٹھی رہی۔
’’کوئی بھی نہیں۔‘‘ رسوائیوں کے خوف نے اسے جھوٹ بولنے پر مجبور کر دیا۔
عزیر کی آواز کمرے کے سنُاٹے کو چیر گئی۔
’’مجھے افسوس ہے عائشہ! آپ کی ذات سے وابستہ حسین خوابوں کی تعبیر اس قدر بھیانک نکلی۔ جس زندگی کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی جائے وہ کہاں تک چلے گی۔ اب بھی وقت ہے آپ بتا دیجےے کہ کون تھا یہاں؟‘‘
اس بار اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ بس آنسو ٹپ ٹپ گر کر اس کے کم خواب کے سوٹ میں جذب ہوتے رہے۔
’’میرا واسطہ صرف اپنی مما اور معصوم بہنوں سے رہا ہے۔ نہیں جانتا کہ عورت اس کے علاوہ کیا کیا ہوتی ہے لیکن سنا ضرور ہے کہ مکُار عورتوں کا آخری حربہ آنسو ہوتے ہیں اور سن لیں کہ آپ میری ہمدردیاں یوں حاصل نہیں کر سکتیں۔ مجھے اپنی بات کا تسلی بخش جواب چاہےے۔ جس وقت بھی آپ خود کو جواب کے لےے آمادہ کرلیں۔ مجھے طلب کر لیجےے گا۔‘‘
وہ اتنا کہہ کر آگے بڑھے۔ الماری سے شب خوابی کا لباس نکالا۔ بیڈروم سے نکل کر وہ ساتھ والے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔ جو ایک طرح سے ان کے ذاتی ڈرائنگ روم میں شمار ہوتا تھا۔ کتنی دیر وہ محوِ انتظار رہی ۔ عزیر کے آنے کی آس میں درمیانی دروازے پر اس کی آنکھیں جمی رہیں لیکن وہ نہ آئے۔ کیسی تھی یہ سہاگ کی رات، یہ ماحول جہاں چاروں طرف خاردار صحرا ہی نظر آرہا تھا۔ خوشی اور مسرت کا ایک پھول اس کی جھولی میں نہ گرا تھا۔ ساری رات ہی وہ روتی رہی۔ اتنی ہمت نہ تھی کہ اٹھ کر عروسی لباس ہی بدل لے۔ دماغ بوجھل تھا، آنکھیں جل رہی تھیں۔ وجود پھنک رہا تھا۔رات کے آخری پہر اس پر غنودگی طاری ہوگئی۔
عزیر بھی رات بھر سو نہ سکے۔ حد سے زیادہ شرافت سے زندگی گزارنے کا یہ صلہ ملا تھا۔ سہاگ رات ان کے لےے ذہنی پریشانی کے سوا کچھ بھی نہ لائی تھی۔
انہوں نے اپنے کمرے میں آتے ہوئے زبیر احمد کے یہ الفاظ اپنے کانوں سے سنے تھے۔
’’ابھی گھر میں پورا خاندان موجود ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ کل ہمارا فسانہ ہر زبان پر ہو۔ خبردار! میری آمد کا علم عزیر کو نہ ہونے پائے۔ ورنہ جانتی ہو ہم سے زیادہ رسوائی تمہاری ہوگی۔‘‘
اور تو اور انہوں نے خود ہی زبیر احمد کو اس کے کمرے سے باہر جاتے دیکھا تھا۔ وہ سخت غصے کے عالم میں تھے۔ دروازے سے کچھ فاصلے پر کھڑے عزیر احمد کو انہوں نے دیکھا ہی نہیں۔ یہ بات عزیر کے لےے پریشانی کا باعث کیسے نہ ہوتی۔
عائشہ نے جھوٹ بول کر اس بات کی تصدیق کر دی کہ بات جو بھی ہے اسے رسوائیوں کا خوف ضرور ہے۔
یہ کیسے امتحان میں ڈال دےے گئے تھے وہ۔ عائشہ کو ایک سال سے صرف بہنوں کی زبانی اس کے حسنِ صورت اور حسنِ سیرت کے قصے سن کر دل میں بسا رکھا تھا۔ لیکن وہ ساری محبت، جذباتی وارفتگی، وہ اشتاق، ایک جھوٹ کی نذر ہوگیا۔
دوستوںمیں بیٹھے وہ اس نرم و گداز وجود کا وہ لمس یاد کرتے رہے تھے جسے پہلی بار گاڑی میں اس کے ساتھ بیٹھ کر محسوس کیا تھا انہوں نے۔ لیکن اب انہیں کچھ یاد نہ تھا سوائے اس کے کہ زبیر احمد سب کی نظروں سے چھپ کر اس کے کمرے میں آئے تھے۔ کیوں؟ آخر کیوں؟ استفسار کا یہ دائرہ جتنا پھیلا وہ اتنا ہی الجھتے گئے۔
’’کیا تعلق تھا ان دونوں میں؟‘‘ یہ سوال جو ذہن میں ابھرا تھا دل کے لےے بے حد تکلیف دہ تھا۔
وہ نماز کے لےے اٹھے۔ باتھ روم کی طرف جاتے ہوئے ان کی نگاہ سیج کی طرف اٹھی جہاں وہ گٹھڑی سی بنی کمبل سے بے نیاز پڑی تھی۔ دوسرے لمحے نفرت کے ایک تیز ریلے نے یہ توجہ دور لا پھینکی۔ جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تب بھی وہ اسی طرح ہی پڑی تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ قریب آئے۔ رات روتے ہوئے سارا میک اپ ہی دھل گیا تھا۔ بخار کی حدُت سے تپتا چہرہ دیکھ کر وہ پریشان ہوگئے۔ آنکھوں کے متورُم پپوٹے خفیف سے لرزاں تھے۔ وہ شاید بے ہوش تھی۔ انہوں نے پیشانی چھو کر دیکھی جو جل رہی تھی اسے سیدھا لٹا کر جلدی سے کمبل اوڑھایا۔ تبھی کسی نے دروازہ ہولے سے بجایا۔
’’آجائےے۔‘‘ انہوں نے کہا۔ دروازہ تو رات بھر کھلا ہی رہا تھا۔ سامنے عدیلہ بھابھی مسکراتی ہوئی چلی آرہی تھیں۔ بیڈ ٹی لائی تھیں۔
’’صبح بخیر۔ نئی زندگی مبارک عزیر بھائی!‘‘ انہوں نے کھنکتے لہجے میں کہا۔
’’شکریہ۔‘‘
’’ارے یہ کیا۔ آپ تو میرا خیال ہے نماز وغیرہ سے بھی فارغ ہوچکے۔‘‘ عدیلہ بھابھی نے سر پر بندھے رومال سے اندازہ لگایا۔
’’اور دلہن جی ابھی تک محوِ خواب ہیں۔‘‘ بھابھی کے لہجے میں شرارت تھی۔
’’انہیں تو بخار ہوگیا ہے بھابھی۔ میں ابھی آپ کو بتانے آرہا تھا۔ یہ تو بے ہوش ہےں۔‘‘
’’ہائیں!‘‘ عدیلہ نے جلدی سے ٹرے تپائی پر رکھی اور عائشہ کی طرف بڑھیں۔
’’ارے اسے تو زبردست بخار ہے۔ کب ہوا؟‘‘
’’رات سے ہی ہے۔‘‘
پل بھر میں یہ خبر پورے گھر میں پھیل گئی۔ سب بے قرار ہوکر کمرے میں چلے آئے۔ زنیر بھاگ کر ڈاکٹر عرفان کو لینے چلے گئے۔
زبیر احمد نے اس خبر کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔
’’اچھا بہانا ہے حالات سے فرار کا۔‘‘ انہوں نے تلخی سے سوچا۔
عابدہ بیگم اس کے سرہانے بیٹھی تھیں۔ فرح اور رعنا نئی نویلی بھابھی کے لےے پریشان تھیں اور عزیر خاموشی سے سامنے صوفے پر بیٹھے تھے۔ جب ڈاکٹر عرفان زنیر کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے۔
چیک اپ کے بعد انہوں نے دوائیاں تجویز کیں۔ انجکشن لگائے کچھ دیر وہیں بیٹھے رہے۔ عائشہ نے آنکھیں کھولیں سرخ انگارہ آنکھیں۔ اور پھر بند کرلیں۔ غنودگی طاری تھی اس پر۔
ڈاکٹر عرفان تسلی دے کر چلے گئے۔ گھر میںٹھہرے مہمان عائشہ کی عیادت کے لےے باری باری آتے رہے۔ فرح نے عائشہ کے گھر فون کر کے اطلاع دی تو پورا گھر پریشان ہوکر بھاگا چلا آیا۔
اسما دیدی، ظفر بھائی، بھابھی اور نٹ کھٹ سا بھائی اطہر، ممی اور ڈیڈی تو یہ خبر سنتے ہی بوکھلا گئے تھے۔
وہ سب اس کے گرد جمع تھے۔ سب ہی اس اچانک بیماری سے حیران و پریشان تھے، متفکر تھے۔
شام کو ولیمہ تھا جس کا انتظام صبح اٹھتے ہی شروع کر دیا گیا تھا۔ مہمانوں کو ناشتا وغیرہ کرا کے عابدہ بیگم زبیر احمد کے کمرے میں آئیں۔
’’بیٹا! تم بھابھی کو دیکھنے نہیں گئے، سخت بخار ہے اسے صبح سے۔ اب تک بے ہوش ہی پڑی ہے۔ میں نے ڈاکٹر عرفان کو دوبارہ فون کر کے بلایا ہے۔‘‘
’’دیکھ لوں گا میں بھی۔ فی الحال تو شام کے لےے کچھ ضروری کاموں سے جارہا ہوں۔‘‘ انہوں نے بال سنوارتے ہوئے جواب دیا۔ اور کار کی چابی اٹھا کر ان کے ساتھ ہی کمرے سے نکل آئے۔
ڈاکٹر عرفان نے اسے فوراً ہاسپٹل میں ایڈمٹ کرنے کا مشورہ دیا۔ شام کو جب آدھا شہر دعوت ولیمہ پر موجود دلہن کی غیر موجودگی کے بارے میں سوال کر رہا تھا۔ عائشہ سی۔ ایم۔ایچ کے ایک روم میں دنیا و مافیہا سے بے خبر پڑی تھی۔ سب جان پہچان والے ولیمے سے فارغ ہوتے ہی سی ۔ایم ۔ایچ کا رخ کر رہے تھے۔
٭٭٭
وہ نمونےے کا شکار تھی۔ کسی کو اس بات کی خبر نہ تھی کہ اس رات کھلے دریچے سے آنے والی سرد ہوائیں اس کے بے حس وجود سے ٹکراتی رہی تھیں اور یہ اثر ان ہوائوں کا ہی تھا۔
عزیر احمد گو ایک ہفتے کی رخصت پر تھے جو انہوں نے شادی سے ایک دن پہلے ہی لی تھی لیکن ارجنٹ کال پر پانچویں دن انہیں اپنے یونٹ جانا پڑ گیا۔ زبیر احمد تو ان سے بھی ایک دن پہلے ملتان چلے گئے۔ عزیر احمد کے دل میں نہ صرف عائشہ کی طرف سے ملال آیا بلکہ وہ زبیر احمد سے بھی کبیدہ خاطر ہوگئے۔ بس اظہار نہ کرسکے کیونکہ وہ ان کے بڑے بھائی تھے۔
اولین ایام بیماری کی نذر جو ہوئے تو گھر بھر پریشان ہوگیا۔ زندگی کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ سب کے ارمان دل کے دل ہی میں رہ گئے۔ زنیر کلاس جوائن کرنے کے بعد سارا وقت یہیں پر گزارتے۔ اسما دیدی گھر بار والی تھیں ان کا یہاں رہنا محال تھا۔ عائشہ کی بھابھی بھی گھر داری میں گھری تھیں۔ فرح اور رعنا ہی اس کے پاس تھیں۔ اکثر اطہر بھی آیا رہتا۔ اور ممی تو دن رات اس کے قریب تھیں۔
آٹھ دن کے بعد وہ اٹھنے اور چلنے پھرنے کے قابل ہوئی تھی مگر سخت نقاہت زدہ اور جسمانی طور پر بھی کمزور چہرے کی شادابی بیماری کی نذر ہوگئی تھی۔ زنیر اور اطہر مل کر اسے خوش و خرم رکھنے کی کوشش میں فضا میں قہقہے بکھیرے رکھتے۔ لیکن مسکراہٹ اس کے لبوں تک آتی ہی نہ۔ ان دنوں میں اور تو جو ہوا سو ہوا پر دونوں گھرانے ایک دوسرے کے بے حد قریب آگئے۔
تیرہویں دن وہ صحت یاب ہو کر گھر لوٹ آئی۔ اس گھر میں جس کے در و دیوار سے اسے خوف آنے لگا تھا۔ جہاں آکر روح زخمی ہوگئی تھی۔ اور زخم ابھی تک ویسے کا ویسا تھا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ کسک آمیز تھا۔
اس کا گھرانہ ہر لحاظ سے روشن خیال تھا۔ لیکن شادی بیاہ کے معاملے میں اب تک وہی رسم و رواج تھے۔ لڑکی کی رضا کو کوئی اہمیت ہی نہ دی جاتی بس بھابھی نے عزیر احمد کی ایک جھلک اسے دکھادی تھی۔ جب وہ ان کے گھر آئے تھے اور جب وہ مارے شرم کے غور ہی نہ کر سکی تھی۔ ہمہ وقت بس بھابھی نے ہی عزیر احمد کی شخصیت کو موضوع بنا کر اس کے دل میں عزیر کے لےے خوب صورت جذبے جگا دےے تھے اور عائشہ نے چپ چاپ انہیں اپنے من میں بسالیا تھا۔ پر من میں بسے اس دیوتا نے کیسا سلوک اس کے ساتھ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اسے زبیر احمد یاد آگئے اور وہ مارے خوف کے اس وقت بھی لرز سی گئی۔
گھر میں دن بھر مزاج پرسی کے لےے آنے والوں کا تانتابندھا رہا۔ تیسرے دن عابدہ بیگم نے صحت یابی کی خوشی میں تمام عزیر و اقارب کو ڈنرپر مدعو کیا۔ نئے دنوں میں ہار سنگھار اور سجنا سنورنا تو شاید اس کا مقدر ہی نہ تھا۔ وہ دن تو بیماری کے نام ہوگئے۔ آج فرح نے جی بھر کے جی کے ارمان نکالے اور اس کے حسین تر مکھڑے پر دونوں بہنوں نے میک اپ کرنے کا سارا فن لگا دیا۔ گہرے سبز کم خواب کے بھاری سوٹ میں جڑائو زیور پہنے وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی۔ عابدہ بیگم نے فون پر عزیر احمد اور زبیر احمد دونوں کو بلایا تھا۔ عزیر احمد نے تو معذرت کرلی تھی۔ زبیر احمد نے کہا تھا اگر وقت مل گیا تو آجائیں گے۔ شام کے ہلکے ہلکے سائے عباسی ولاپر اتر آئے تھے۔ تبھی زبیر کی آف وائٹ کرولا پورچ میں رکی۔ اس وقت عائشہ ہال میں سب کے درمیان شہزادیوں جیسی تمکنت اور وقار کے ساتھ براجمان تھی۔ عابدہ بیگم زبیر کو ادھر ہی لے آئیں۔ نیلے رنگ کے دیدہ زیب سوٹ میں وہ بے حد شان دار لگ رہے تھے۔ سب کی نظریں ہی ان کی طرف اٹھ گئیں۔ کئی دل دھڑک اٹھے۔ کئی مائیں بیٹیوں کے مستقبل کا ضامن انہیں سمجھنے لگیں۔ لیکن مغرور سے زبیر ہر ایک سے لا تعلق ہال میں داخل ہوتے ہی بلند آواز سے سلام کرنے کے بعد عائشہ والے صوفے کے ساتھ پڑے صوفے پر بے نیازی سے بیٹھ گئے۔
خواتین ان کے قریب آگئیں۔ عائشہ کی صحت یابی کی مبارک باد دینے لگیں۔ وہ سر کے اشارے سے جواب دیتے رہے۔
وہ اضطرابی کیفیت میں اپنے ہونٹ کاٹ رہے تھے۔ نظریں بار بار بے اختیار عائشہ کے چہرے کی طرف اٹھتیں اور وہ گھبرا کر اِدھر اَدھر دیکھنے لگتے۔ فرح اور رعنا اس پر پروانہ وار نثار ہورہی تھیں۔ زنیر ہر دس پندرہ منٹ بعد بھابھی کا دیدار ضروری سمجھتے۔ عابدہ بیگم مہمان خواتین سے عائشہ کی بیماری کے ایام کے بارے میں گفتگو کر رہی تھیں۔ اسی وقت اسما دیدی، عائشہ کی بھابھی، ظفر بھائی اور اطہر بھی آگئے۔ زبیر اٹھ کر مردانے میں ان کی طرف چلے گئے اور اس کی جان چھوٹی۔
جس بات کو اس نے ذہن سے فراموش کرنے میں تھوڑی سی کامیابی حاصل کرلی تھی۔ وہ پھر اعصاب پر سوار ہوگئی تھی۔
اسما دیدی نے اِدھر اَدھر دیکھا۔
’’عائشہ! عزیر کہاں ہیں؟ نظر ہی نہیں آتے؟‘‘ عائشہ کے دل میں ٹیس اٹھی۔ انہیں تو دیکھے مدت گزر گئی تھی۔ بس آخری بار بڑی عجلت میں ہاسپٹل آئے تھے۔ اس رات کے بعد ایک بار بھی اس سے ہم کلام نہ ہوئے تھے۔ اس سے کوئی جواب نہ بن سکا تو رعنا نے جلدی سے کہا۔
’’اسما دیدی وہ تو کوئٹہ میں ہیں۔ مما نے پرسوں انہیں بتایا تھا لیکن انہوں نے بتایا کہ ابھی گھر آنے کا کوئی چانس نہیں ہے۔‘‘ بھابھی جھٹ سے بولیں۔
’’فوج کی نوکری تو مہنگی پڑی ہماری عائشہ کو۔ شادی سے پہلے بھی انتظار۔۔۔ شادی کے بعد بھی انتظار۔‘‘ سب ہنس پڑیں۔ عائشہ بھی سب کا دل رکھنے کو سب کو دھوکا دینے کی خاطر ہنستی مسکراتی رہی۔ بھابھی نے پھر چھیڑا۔
’’سچ بتاناعائشہ! فون پر کتنی دیر بات کرتے ہیں عزیر بھائی! اور تَو کتنے لمبے چوڑے خط لکھتی ہے انہیں۔‘‘
’’ہماری بھابھی راز کی بات کسی کو نہیں بتایا کرتیں۔‘‘ فرح نے جواب دیا۔ اور عائشہ سوچنے لگی۔ ابھی پرسوں عزیر نے فون کیا تھا وہ عابدہ بیگم کے پاس بیٹھی تھی۔ انہوں نے دو چار باتیں کیں اور ریسیور اس کی طرف بڑھا دیا۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے کانوں سے لگایا تو لائن کٹ چکی تھی۔ عزیر اس سے بات کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔
زبیر تو روزانہ دن میں کئی بار گھر بات کرتے تھے لیکن اس کا نام از خود انہوں نے پوچھا ہی نہیں تھا۔ عابدہ بیگم خود ہی بتادیتیں۔ وہ کبھی قریب بیٹھی ہوتی تو سنتی رہتی۔ ابھی وہ اس گھر میں اجنبی ہی تھی۔ اپنائیت جس کے ناتے پیدا ہونا لازمی تھی وہ تو اس سے ذہنی اور روحانی طور پر بھی دور تھا۔ پھر تیرہ دن ہسپتال میں کٹ گئے تھے اور ابھی گھر آئے چوتھا دن تھا۔
کھانے سے فراغت کے بعد بھابھی اور وہ تنہا اسی صوفے پر بیٹھی تھیں۔ اب بھی وہ بہت کچھ پوچھنا چاہتی تھیں۔
’’عائشہ! تم نے مجھے تو کوئی تحفہ دکھایا ہی نہیں۔ سنا ہے عزیر کے بڑے بھائی زبیر نے تحفہ میں ہیروں کا بے حد قیمتی سیٹ دیا ہے۔‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
’’تَو بہت لکی ہے عائشہ! اتنی محبت کے لوگ تجھے ملے۔ سب ہی تجھ پر جان نچھاور کرتے ہیں۔ تیری ساس تو بہترین خاتون ہیں۔ ایک دم باوقار اور سوبر۔ بچے بھی آخر ان ہی کی گود میں پل کر بڑھے ہیں۔ اچھے کیسے نہ ہوں۔‘‘
عائشہ خاموش رہی۔
’’اور ان زبیر احمد صاحب کو میں نے شادی پر دیکھا ہے میں سمجھتی تھی کہ صرف دو بھائی ہیں۔ ویسے حیرانی کی بات ہے کہ ان کی شادی پہلے کیوں نہ ہوئی۔‘‘
’’مجھے نہیں معلوم بھابھی!‘‘
’’کمال ہے۔ اتنے دن گزرے پر تجھے یہی معلوم نہیں۔ وہ تیرا جیٹھ ہے عائشہ! اب تَو اس کے لےے اپنی پسند کی لڑکی لے آنا۔‘‘
’’کیسی باتیں کرتی ہیں آپ بھابھی!‘‘ وہ ہنسی۔ اچانک جو بائیں طرف دیکھا تو داخلی دروازے میں کھڑے زبیر کو دیکھ کر اس کی مسکراہٹ معدوم ہوگئی۔
شاید انہوں نے گفتگو سن لی تھی۔ وہ وہاں سے چلے گئے اور عائشہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ بھابھی کو لے کر اپنے کمرے میں آگئی۔
٭٭٭
رات گئے جب سب لوگ سونے کی غرض سے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے اور باقی مہمان بھی رخصت ہوگئے تو عائشہ نے لباس بدل کر سکون کی سانس لی۔ سر میں بے حد درد تھا۔ وہ کچن کی طرف چلی آئی۔ کچن میں برتنوں کا انبار لگا ہوا تھا۔ اس نے جلدی سے چند برتن بیسن پر دھوئے اور چولہے پر چائے کا پانی رکھ دیا۔ اچانک اس نے زبیر احمد کی آواز پر کچن کے دروازے کی طرف دیکھا۔
’’کرم داد! کافی کا ایک کپ میرے کمرے میں پہنچا دینا۔‘‘ کچن کے دروازے سے کچھ فاصلے پر کھڑے زبیر یہ کہہ کر چلے گئے۔
وہ پریشان کھڑی تھی۔ کیا کرے۔ تب جانے کیا سوچ کر اس نے کافی کا ڈبُا اٹھایا۔ اپنے لےے چائے بعد میں بنانے کا ارادہ کر کے وہ کافی لے کر زبیر کے کمرے کی طرف چل دی۔ زبیر کا کمرا ان کے کمروں کے ساتھ ہی تھا۔ دروازے پر ہلکی سی دستک دی تو ان کی آواز کمرے میں گونجی۔
’’آجائو۔‘‘
اس نے پردہ ہٹایا۔ لائٹ بلیو گائون میں وہ اس کی طرف پشت کےے وارڈ روب کھولے کھڑے تھے۔ الماری بند کر کے چابی گھماتے ہوئے انہوں نے مڑ کر دیکھا۔
’’تم۔۔۔! تم کیوں لے آئیں؟ میں نے تو کرم داد سے کہا تھا۔ تم سے کس نے کہا؟‘‘
’’جی وہ کچن میں، میں ہی تھی۔‘‘
’’لے جائو یہ کافی اور آئندہ ایسی کوئی جرات نہ کرنا۔ میں تمہیں دیکھنا بھی گوارا نہیںکرتا۔‘‘ ان کے لہجے میں کرختگی تھی۔
وہ الٹے قدموںمیں جانے لگی۔ نگاہوں میں بے بسی کا احساس لےے ہوئے۔
’’سنو!‘‘ اس کے اٹھتے قدم رَک گئے۔
’’تمہاری قسمت کا فیصلہ کب کا ہوچکا ہوتا۔ بس میں کچھ ذہنی کشمکش کا شکار ہوں۔ شاید تم اس گھر میں آباد رہنے کے خواب دیکھ رہی ہو۔ پیر پھیلانے کی کوشش نہ کرنا ہرگز اور نہ گھر والوںکو شیشے میں اتارنے کی، جلد یا بدیر تمہیںیہاں سے جانا ہے۔ انڈر اسٹینڈ۔‘‘
آج تو اسے زبیر سے خوف آنے لگا۔
’’زبیر صاحب!‘‘
’’میں ایک لفظ بھی سننے کا روادار نہیں ہوں۔ یہاں سے چلی جائو۔‘‘
یہ الفاظ اس کے دل میں اتر گئے۔ کافی چھلک کر نیچے قالین پر بھی گر چکی تھی۔ وہ دروازے کی طرف آئی۔ آنکھوں کی جھیلیں پانی سے پَر تھیں۔ ذلت کے احساس نے اٰدھ موا کر دیا۔ اس نے دروازہ کھولا اور کوریڈور میں آگئی۔ اسی وقت کوریڈور کے مغربی سرے سے اس نے لانگ کوٹ اور فرکی ٹوپی اوڑھے کسی کو اسی سمت آتے دیکھا۔ گھر میں کئی مہمان تھے جانے وہ کون تھا۔ وہ کچن میں آئی۔ پیالی شیلف پر پٹخی اور چائے بنائے بغیر اپنے کمرے میں آئی تو دھک سے رہ گئی۔ سامنے صوفے پر لانگ کوٹ اور فرکی ٹوپی پڑی تھی۔ اس نے نگاہ دائیں طرف دوڑائی تو عزیر احمد باتھ روم کے دروازے پر کھڑے نظر آئے۔ نگاہوں میں خشونت لےے۔ سرخ چہرہ تنا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر کپڑے بیڈ کی طرف اچھال دےے اور تیزی سے اس کی طرف بڑھے۔
’’خوب۔۔۔ تو یہ تماشا ہوتا ہے یہاں۔ یہ رات گئے کن ناز برداریوں میں لگی تھیں؟‘‘
’’جی وہ کافی دینے گئی تھی۔‘‘
’’اچھا بہانہ ہے۔ کیا گھر کے سب لوگ کہیں چلے گئے ہیں۔ سب نوکر مر گئے ہیں جو آپ کو یہ فرائض انجام دینا پڑے۔‘‘
پھر وہ بپھر کر آگے بڑھے۔
’’میں پوچھتا ہوں کہ کیا کام تھا اس کمرے میں؟ کیا تعلق ہے ان سے؟‘‘
وہ نظریں جھکائے کھڑی رہی۔
’’میری بات کا جواب دو۔‘‘
’’وہ آپ کے بھائی ہیں۔ اس کے سوا میرا کیا تعلق ہے ان سے؟‘‘
’’اور آپ کے کیا ہیں؟ ایسا ہی کوئی تعلق تھا تو کرلی ہوتی ان سے شادی۔‘‘
وہ یہ سن کر کٹ گئی۔ زمین میں گڑ گئی۔
’’میں ذہنی کشمکش کا شکار ضرور ہوں لیکن فیصلہ کرنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگائوں گا۔ انصاف پسند ہوں، صفائی کا موقع دےے بغیر فردِ جرم عائد نہیں کروں گا۔ صاف صاف بتادو معاملہ کیا ہے؟‘‘ اس ٹھنڈے لہجے کی تہ میں کئی طوفان تھے۔ عائشہ کی آنکھیں پھر دھواں دھار برسنے لگیں۔
’’آپ اپنے بھائی سے ہی پوچھ لیجےے۔ میں نہ بتاسکوں گی۔‘‘
اتنا کہہ کر وہ آگے بڑھی اور عزیر غصے سے کھولتے ہوئے باتھ روم میں گھس گئے۔ رات پھر ایک قیامت بن کر گزری۔ عزیر بمشکل چھٹی لے کر آئے تھے۔ آخری فلائٹ پر سیٹ بڑی دقُتوں کے بعد ملی تھی۔
عائشہ کی بیماری کا خیال بھی ذہن میں رہا تھا۔ اس واقعے کی کھدبد بھی تھی۔ چاہتے تھے کسی طرح یہ گتھی سلجھ جائے۔ معاملہ ایک طرف تو ہو یا صلح یا قطع تعلق۔ لیکن یہاں آکر جو کچھ دیکھا وہ غیرت پر تازیانہ بن کر لگا۔ عزت نفس بھی مجروح ہوئی۔ اس بھائی کے لےے جو بیج اس دن بویا گیا اس نے آج ایک دم سینے میں کونپل کی صورت میں سر اٹھایا۔ جنہیں وہ دو سال کی بڑائی پر بھی باپ کا درجہ دیتے تھے۔ صبح ناشتے کی میز پر سب موجود تھے۔ زبیر خوش دلی سے ان سے ملے۔
’’تم کب آئے یار؟ شام کو میں تمہارا انتظار کرتا رہا۔‘‘
’’میں نے سوچا سب کچھ آپ ہی اڑائیں۔ اکیلے اکیلے۔‘‘ عزیر کی ہنسی بھی نشتر بن کر عائشہ کے سینے میں اَتر آئی۔
’’نہیں یار! تمہارے بغیر لطف ہی نہ آیا۔‘‘
’’کمال ہے اتنے لوگوں کی کمپنی میں بھی نہیں۔‘‘
’’نہیں، تم تو میرے جان و جگر ہو بھائی۔ تمہارے بغیر کیا مزا۔‘‘ زبیر دل میں ڈھیروں پیار اور آنکھوں میں محبت کی چمک کے ساتھ ہلکی سی نمی لےے کہہ رہے تھے۔
عابدہ بیگم نثار ہورہی تھیں۔
’’اللہ تم سب کا پیار سدا قائم رکھے۔‘‘
عائشہ عزیر کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی ناشتا کرنے کی کوشش میں مصروف تھی۔ زنیر سامنے والی کرسی پر بیٹھے تھے۔ کالج جانے میں دیر ہورہی تھی۔ اس لےے جلدی کر رہے تھے۔
’’فرح! جلدی سے چائے بنادو۔‘‘
’’کافی تو آپ اچھی طرح سے بناتی ہیں چائے بھی بنادیں پتا چل جائے کہ کیسی بناتی ہیں۔‘‘ عزیر نے مسکراتے ہوئے کہا تو عائشہ کی نظریں بے اختیار زبیر کی طرف اٹھیں جو پہلے ہی ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔
’’بھابھی جانی نے آتے ہی بستر سنبھال لیا ورنہ کچن تو ان کے حوالے ہوتا۔ چلےے جی جلدی سے اپنے دیور کو اپنے ہاتھوں کی بنی چائے پلائےے۔‘‘ فرح نے بھی تائید کی۔
عابدہ بیگم نے اسے گھور کر دیکھا۔
’’بڑی آئیں میری بہو کو کام بتانے والی۔ کام تو ساری عمر ہی کرنا ہے بس یہی دن آرام کے ہیں۔‘‘
’’نہیں مما! یہ بھی کوئی کام ہے بھلا۔ مجھے تو خوشی ہوگی۔‘‘
’’مما! اگر آپ کہیں تو یہ رات گئے بھی آپ کی خدمت کر سکتی ہیں۔ انہیں بے حد خوشی ہوتی ہے ایسے کاموں میں۔‘‘ عزیر نے ایک اور تیر چلایا۔
سب اسے محبت اور چھیڑ چھاڑ کا انداز سمجھ کر خوش ہورہے تھے۔ زبیر نے گفتگو میں کوئی حصہ نہیں لیا۔
اور ناشتا کرتے ہی میز سے اٹھ گئے۔ عائشہ اور عزیر کمرے سے اکٹھے نکلے لیکن کوریڈور میں جاتے ہی عزیر تیزی سے باہر چلے گئے اور عائشہ بھابھی کے پاس آگئی جو رعنا کے ساتھ لان میں بیٹھی تھیں۔
’’کیا بات ہے عائشہ؟ تم کچھ کھوئی کھوئی لگ رہی ہو۔‘‘ بھابھی کتنی دیرسے اس کے پریشان چہرے پر نظریں جمائے بیٹھی تھیں۔ اور وہ ان سے بے خبر سوچوں میں گم تھی۔
’’عاشی جی! کن سوچوں میں گم ہو؟ ابھی تو عزیر بھائی یہیں پر ہیں۔‘‘ وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دی۔ سیاہی مائل ہلکے سبز رنگ کے خوب صورت سوٹ پر سیاہ جرسی پہنے دوپٹُا شانوں پر پھیلانے وہ بے حد اچھی لگ رہی تھی۔ آنکھوں میں معصومیت کے ساتھ فکر و اندیشہ بھی لہرا رہا تھا لیکن کسی کو بھی کچھ بتانے سے قاصر تھی۔
ابھی زبیر بھی اپنی گاڑی میں باہر گئے تھے اور جاتے جاتے بھی قہر آلود نظر اس پر ڈالنا نہیں بھولے تھے۔
بھابھی اسے لینے آئی تھیں۔ قاعدے اور رسم و رواج کے مطابق تو اسے تیسرے دن میکے جانا تھا۔ لیکن بیماری کی وجہ سے سارا نظام ہی درہم برہم ہوگیا تھا ۔ ظفر بھائی صرف اسی کی وجہ سے چھٹی لے کر آئے تھے اور انہیں پندرہ تاریخ کو واپس امریکا جانا تھا۔
عابدہ بیگم نے بہ خوشی اجازت دے دی تھی۔ زبیر تو سرِ شام ہی ملتان چلے گئے اور عزیر ماں کے کہنے پر اس کے ساتھ ساہیوال چلے آئے۔
اس کی آمد کی خبر سب دوستوں کومل چکی تھی۔ اس سے پہلے وہ وہاں موجود تھیں۔ عزیر ان سب میں گھرے خاصے پریشان لگ رہے تھے۔ لڑکیاں بے لاگ تبصرہ کےے جارہی تھیں۔ دونوں کی ذات پر تاک تاک کر حملہ کر رہی تھیں۔ بات بے بات قہقہے لگا رہی تھیں۔
’’یار سنا ہے تیرے گھر میں ہر فرد ہی اے۔ون ہے۔ وہ سیمشنگ اور ڈیشنگ انسان تو ہم سب کو پسند آیا تھا۔ جو شادی کے دن برائون سوٹ میں ملبوس تھا۔‘‘ عزیر بھی جان گئے تھے یہ لڑکیاں زبیر احمد کا ذکر کر رہی تھیں۔ یہ ذکر انہیں ناگوار گزرا۔ دکھتی رگ پر ہاتھ آن پڑا تھا۔
بے زاری عائشہ سے چھپی نہ تھی۔ اس نے بات کا موضوع ہی بدل ڈالا۔ ابھی وہ سہولت سے ممی کے پاس بیٹھنے بھی نہ پائی تھی کہ اطہر وہیں آگیا۔ عزیر ممی سے باتوں میں لگے تھے۔ انہوں نے بھی چونک کر اطہر کو دیکھا۔
’’عاشی! فاطمہ آپی کا فون ہے۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ وہ سب کچھ بھول بھال کر فون کی طرف لپکی۔
’’ہیلو فاطمہ آپی! آداب!‘‘
’’عاشی جان!مبارک ہو بھئی۔‘‘
’’شکریہ آپی! بس آپ کو بھی ان دنوں ہی جانا تھا۔‘‘ اس نے شکوہ کیا۔
’’کیا کرتی جانی! وہ بھی عزیر دوست کا معاملہ تھا نا۔‘‘
’’تو اب بھی صرف فون پر اکتفا کر رہی ہیں۔ بس دیکھ لی آپ کی محبت۔ آپ صرف اسما دیدی کی دوست ہیں میری کچھ بھی نہیں۔‘‘ ان کی ہنسی کی مترنم جھنکار سن کر عائشہ مسکرادی۔
ؔ’’تیری بھی بہت کچھ ہوں چندا لیکن مجبور تھی۔ خیر اب تو آرہی ہوں۔ کل بھی فون کیا تھا۔ ممی نے بتایا کہ تم آجائو گی، عزیر بھائی کیسے ہیں۔ چلو یہ تو آکر ہی پوچھوں گی۔ ہاں یہ بتائو گھر میں اور کون کون ہیں؟‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’جان! حلیہ بدلنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس لےے پوچھا۔‘‘
پوری گینگ ہی جمع ہے اتنا سوچ لیجےے۔ ویسے آپ کو اس سے کیا غرض آپ کو تو بس اسی ایک ڈکٹیٹر بندے سے مطلب ہے۔‘‘
’’بے وقوف لڑکی چپ رہو۔ موقع محل کے بغیر ہی ذکر چھیڑ دیتی ہو۔‘‘
’’سوری آپی! بس آپ جلدی آجائےے۔‘‘
اس آشنا ماحول میں آکر وہ سب غم بھول گئی تھی اور فاطمہ سے بات کرتے ہوئے تو وہ بس وہی پرانی عاشی بن گئی تھی۔ ہنس مکھ اور سب کی لاڈلی۔ مڑ کر عزیر کو دیکھتے ہی اس دنیا میں لوٹ آئے۔
وہ اس سے انجان بننے کے باوجود بھی اسی کی طرف متوجہ تھے۔
کیا یہ معصوم نظر آنے والی لڑکی ایسے کردار کی ہوسکتی ہے؟ کیا زبیر بھائی اس سے دھوکا کر سکتے ہیں؟ دل ان کی صفائی دینے لگتا لیکن دماغ میں زبیر کے وہی الفاظ گردش کرنے لگتے۔
آخر میرے کمرے میں وہ میری نئی نویلی دلہن کے پاس رات کی تنہائی میں ملنے کیوں آئے تھے۔ کچھ بھی ہو انہیں خلوتوں میں عائشہ سے بات کرنے کا کوئی حق نہ تھا۔ آخر کیا ربط تھا ان دونوں میں، کب سے جانتے تھے وہ اسے؟ یہ سارے سوال بھیانک تاریکیوں کی طرح ان کے وجود کے ارد گرد بکھر جاتے۔ شام تک وہ بمشکل وہاں رک سکے۔ اتنے لوگوں کے درمیان محبتوں کی گھنیری چھائوں میں، ظفر بھائی کے خلوص، اطہر کی شوخیوں، بھابھی کی چھیڑ چھاڑ میں وہ ایک پل کے لےے محو نہ ہوسکے۔ یہ سب کچھ تب ان کا ہوتا جب عائشہ سے ان کا ناتا ہوتا۔
ابھی چند دن قبل جب وہ دولہا بن کر اس گھر کے آنگن میں اترے تھے۔ ایک انجان ہستی کے توسط سے یہ گھر اور اس کے در و دیوار بھی انہیں عزیر ہوگئے تھے اور آج ان کا دم یہاں گھٹنے لگا تھا۔
فاطمہ عباسی کے آتے ہی اطہر اس کا ہاتھ تھام کر ان کے پاس لے آیا۔
’’عزیر بھائی! یہ ہم سب کی مشترکہ پیاری سی آپی فاطمہ عباسی ہیں۔‘‘ فاطمہ عباسی حیران و پریشان کھڑی عزیر احمد کو دیکھتی رہی لیکن کوئی استفسار نہ کر سکی۔
’’کیپٹن عزیر احمد عباسی۔‘‘اطہر نے تعارف مکمل کروایا۔
خوشی کی ایک لہر فاطمہ کے چہرے پر آئی اور معدوم ہوگئی۔ عزیر احمد تو اپنے آپ میں نہ تھے اس کی پذیرائی کہاں کرتے۔ بس دو چار رسمی سی باتوں کے بعد واپس چلے گئے۔ صبح انہیں کوئٹہ جانا تھا۔
وقتِ رخصت انہوں نے عائشہ سے کچھ بھی نہ کہا۔ ایک جملہ بھی نہیں۔ ظفر بھائی وغیرہ انہیں رخصت کر آئے۔
٭٭٭
فاطمہ عباسی عائشہ کی اکلوتی پھوپھی زاد بہن تھی۔ چار بھائیوں کی اکلوتی بہن، سحر طراز حسن کی مالک، منفرد عادات اور مزاج کی مالک۔ خاندان بھر میں ان کی اور اسما کی دوستی ضرب المثل بن گئی تھی۔ اسما اور فاطمہ ہم عمر بھی تھیں۔ اسما تو تین سال ہوئے بیاہ کر پی کے سنگ سدھار گئی تھیں اور فاطمہ ہنوز ماں باپ کی دہلیز پر ہی تھیں۔ خاندان روایات کا پابند تھا۔ ظفر بھائی بچپن سے ہی چچا زاد سے منسوب تھے۔ اطہر ان سے چھوٹا تھا۔ اسی طرح فاطمہ کے چاروں بھائی اس سے بڑے تھے۔ سب سے چھوٹے پرویز عباسی تھے جن سے اسما کی شادی ہوئی تھی۔ فاطمہ کے لےے خاندان میں کوئی مناسب رشتہ نہیں تھا اور خاندان سے باہر رشتہ کرنا ان کے والدین اور بھائیوں کو منظور نہ تھا۔ بس اسی چکر میں ماہ و سال بھاگے چلے جارہے تھے۔
عائشہ کا رشتہ طے ہوجانے پر بھی پھپھو اور پھپھا جان نے اعتراض کیا تھا۔ لیکن عائشہ کے ڈیڈی اور ظفر بھائی دونوں اس رسم کو لغو خیال کرتے تھے۔ سو انہوں نے خاصی چھان بین کے بعد غیر لیکن عباسی خاندان میں بیٹی کو بیاہ کر دیا۔ فاطمہ کے بڑے بھائی گلریز کاروبار کے سلسلے میں اکثر ملک سے باہر ہی رہتے تھے۔ ان دنوں بھی وہ مشرقِ وسطیٰ میں تھے اور عین شادی کے دن ان کی طرف سے عائشہ کے نام گفٹ موصول ہوگیا تھا۔
خود فاطمہ بھی شادی میں شریک نہ ہوسکی تھی۔ اس کی ایک بے حد عزیر دوست کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ تعزیت کے لےے جانا بے حد لازی تھا۔ پورے بیس دن ہندوستان میں لگ گئے۔
سہ پہر کو چائے سے فارغ ہوتے ہی عاشی کی سہیلیاں رخصت ہوگئیں تو فاطمہ اور عاشی کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
’’عاشی! عزیرکو دیکھ کر یوں لگا جیسے پہلے کہیں دیکھا ہو انہیں۔‘‘
’’آپی! کہیں یہ وہی تو نہیں۔‘‘
فاطمہ جھینپ گئی پھر ہنسنے لگی۔
’’ہٹ بے وقوف! محبتوں کے تعلق اتنے بودے نہیں ہوتے کہ جب ایک دوسرے سے ملا جائے صرف یہی احساس ہو کہ کہیں دیکھا ہے۔ پگلی! اسے تو میں خوشبو محسوس کر کے، آنکھیں بند کر کے بھی پہچان سکتی ہوں۔ پر عاشی ان باتوں کو چھوڑ، مجھے یہ پتا تیری ان آنکھوں میں حسین رنگ کیوں نہیں جھلملا رہے۔ تیرے چہرے پر خوشیوں کا نور کیوں نہیں برس رہا ہے؟‘‘
’’ارے آپ کو خبر نہیں، شادی کے دوسرے دن میں بیمار ہوگئی تھی۔ پورے پندرہ دن بستر پر دراز رہی۔‘‘ عاشی نے اپنا درد چھپالیا۔ بڑے مضبوط اعصاب کی مالک تھی۔ اپنا راز کسی پر منکشف نہیں کرنا چاہتی تھی۔ فاطمہ عباسی پر بھی نہیں۔
’’اچھا۔ مجھے خبر ہی نہیں۔ دراصل کل ہی تو واپس آئی ہوں۔ احمد آباد سے۔‘‘ فاطمہ نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
’’آپی! سچائی سچائی کو پالیتی ہے نا؟‘‘ فاطمہ اس اچانک سوال اور فلسفیانہ انداز پر حیران رہ گئی۔
’’ہاں چندا۔ پر تمہیں یہ پوچھنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ عاشی! تمہیں تو خوشبوئوں اور رنگوں کی باتیں کرنا چاہئیں۔ شکر کرو کہ تم نے محبت کا کوئی روگ نہیں پالا اور ایک بہترین ساتھی بھی تمہیں مل گیا۔ جان! ایسے خوش نصیب بہت کم ہوتے ہیں دنیا میں۔ بن چاہے جنہیں سب کچھ مل جائے۔‘‘ فاطمہ کی نم آنکھیں دیکھ کر عاشی بھی رونے لگی اپنے غم پر نہیں فاطمہ کے دکھ پر۔ سچے اور پَرخلوص لوگ دنیا کی ٹھوکروں میں ہی رہتے ہیں کاش !آپی کی خوشیاں خرید لانا میرے بس میں ہوتا۔
تب اندر سے صدا آئی۔ ’’عاشی! پہلے تم اپنی الجھی ہوئی زندگی کو تو سنوار دو۔ اپنا آپ تو سنبھالو۔‘‘
اور پھر وہ خوف زدہ ہوگئی۔
چھٹے روزہی زنیر، فرح اور رعنا اسے لینے آدھمکے۔ فرح نے اس سے گلے ملتے ہوئے بے اختیار اسے چوم لیا۔ رعنا نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا۔ زنیر نے اظہار میں لفظوں کا سہارا لیا۔ تینوں ہی اس کے لےے اداس تھے۔ اس وقت اتفاق سے فاطمہ بھی وہیںموجود تھی۔ زنیر نے سرگوشی کی۔
’’بھابھی! یہ کون ہیں؟ خاصی چیز ہیں یہ بھی۔‘‘ عاشی کو زنیر کے انداز پر ہنسی آئی۔
’’کیوں خیریت؟‘‘
’’سوچ رہا ہوں یہ تو اپنے بھائی جان کے قابل لگتی ہیں۔‘‘
عاشی کی نظروںمیں زبیر احمد کا شاندار سراپا لہرا گیا اور اس کے چہرے پر عجیب سا تاثر پیدا ہوا۔
’’کیا ہوا بھابھی؟‘‘
’’آں۔۔ کچھ نہیں۔‘‘ اس نے گڑبڑا کر جواب دیا۔
’’بھولے بھیُا! یہاں تو عاشی کا مستقبل غیر محفوظ ہے۔ وہ خود حالات کے رحم و کرم پر ہے۔ کسی اور کے بارے میں کیا سوچے گی۔‘‘ اس نے تلخی سے سوچا۔
فرح بھی ان کی گفتگو سن رہی تھی۔
’’بے کار کی باتیں مت کریں جناب زنیر احمد عباسی! نک چڑھے بھائی جان جب از خود فرمائش کریں گے۔ تب ہی سوچا جائے گا۔‘‘ فرح بے حد شاکی تھی۔ زبیر احمد کے گریز سے۔
’’بھابھی! ٹاپ سیکرٹ ہے۔ بھائی جان محبت وغیرہ کے چکر میں ہیں۔‘‘ زنیر نے اپنائیت سے کہا۔
’’اچھا!‘‘ عاشی کے لےے یہ بات غیر یقینی نہ تھی۔
’’تبھی تو عزیربھائی کی شادی پہلے ہوگئی۔ عزیر بھائی بے چارے اس معاملے میں سیدھے سادھے ہی ہیں اور ایک طرح سے یہ اچھا ہے۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ عاشی نے فوراً سوال کیا۔
’’ورنہ دوسری صورت میں آپ جیسی بھابھی کہاں اس گھر میں آتی۔‘‘ زنیر نے بے حد پیار سے کہا تو عاشی ہونٹ کاٹ کر رہ گئی۔
یہ سب لوگ جس کے ناتے اسے پیار کی چھائوں مہیا کر رہے تھے۔ وہ ایک پل کے لےے بھی اس کا نہ تھا اگر وہ یہ حقیقت جان لیں تب؟ اس سے آگے وہ کچھ سوچ ہی نہ سکی۔ فرح اور رعنا فاطمہ سے گھل مل گئیں۔ زنیر اور اطہر میں خاصی دوستی ہوگئی۔ وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن رہے اور عائشہ جانے کے لےے تیار ہوگئی۔
بہت سارے دن یونہی گزر گئے۔ عزیر نے نہ کوئی خط لکھا اور نہ ہی فون کیا۔ ان کا ایک کولیگ کیپٹن فاروق زبانی ان کی خیریت کی اطلاع اور ان کی طرف سے بھیجا ہوا کچھ سامان دے گیا۔ جس میں انتہائی قیمتی نادر قسم کے برتن بھی شامل تھے اور بس۔
دیبا ان دنوں دو چار روز کے لےے آئیں اور پھر چلی گئیں۔ فرح اور رعنا کے کالج جانے کے بعد عابدہ بیگم او عاشی گھر پر رہ جاتیں۔عابدہ بیگم کی ساری ذمہ داریاں عاشی نے اپنے سر لے لیں۔ عابدہ بیگم اعتراض کرتیں۔
’’مجھے کاہل مت بنائو بیٹی! تم خیر سے اپنے شوہر کے ساتھ چلی جائو گی تو مجھے پھر سے کام کاج سنبھالنا دشوار لگا کرے گا۔‘‘
’’میںکہاں جائوں گی مما! آپ کی شفقت چھوڑ کر، آپ میرے لےے ممی کی طرح ہیں۔‘‘
’’نہیں بیٹی! گھر والی ساتھ نہ ہو تو مرد بے لگام ہوجاتا ہے۔ خود کو آزاد محسوس کرتا ہے۔ اب دیکھ لو شادی کے بعد وہ ایک بار ہی آسکا ہے۔ تم نئی نویلی دلہن ہو۔ اللہ تمہیں عمر بھر ایک دوسرے کی رفاقت نصیب کرے۔ تمہاری جدائی یقینا اسے پریشان کرتی ہوگی۔‘‘
عاشی نے چہرہ جھکالیا۔ مبادا وہ اس کے آنسو نہ دیکھ لیں۔
’’آپ کو کیا خبر مما! زندگی کس سانحے سے دو چار ہے۔ عاشی کے نصیب میں ان کی رفاقت کہاں۔ وہ تو آئے دن غلط فہمیوں کا شکار ہو کر ان سے دور ہوتی جارہی ہے۔ کس سے حالِ دل کہے۔ کسے اپنی صفائی دے۔ ایک معمولی سی غلطی نے عمر بھر کا چین چھین لیا ہے۔ خبر نہیں وہ آپ سب سے جدا کیسے ہوگی۔ اسے تو اس گھر کے ذرُے ذرُے سے پیار ہوگیا ہے۔ صرف عزیر کے ناتے۔ آپ ہی مددگار بن جائے مما۔ مجھے طوفانوں سے بچالیجےے۔‘‘ وہ سوچ تو سکی لیکن کہہ نہ سکی۔
عزیر احمد اپنی رہائش گاہ پر پہنچے تو اردلی نے بتایا ملتان سے ان کا فون آیا تھا۔ زبیر احمد نے انہیں یاد کیا تھا۔ کڑوی گولی ان کے حلق میں پھنس گئی۔
’’عزیر! زندگی صرف خوشیوں کا نام تو نہیں۔ بعض لوگوں کی قسمت میں صرف ہار ہوتی ہے۔ جو بات دل میں ہے زبیر سے کہہ دو۔ بتادو انہیں۔ ورنہ زندگی کا بوجھ اٹھانا بھی دشوار ہوجائے گا۔‘‘ انہوں نے فوراً ملتان کا نمبر ملایا۔ فون زیبر نے ہی ریسیو کیا۔
’’ہیلو عزیر! کافی دیر سے میں انتظارکر رہا تھا۔‘‘
’’ابھی ابھی لوٹاہوں۔‘‘
’’میں شام کی فلائٹ سے کوئٹہ آرہا ہوں۔‘‘
’’خیریت؟‘‘
کافی دیر خاموشی رہی۔
’’ہاں، کچھ کام ہے۔‘‘
’’مجھ سے؟‘‘ عزیر کا دل دھڑک اٹھا۔
’’ہاں عزیر بہت سا بوجھ تنہا اٹھائے پھر رہا ہوں۔ الجھنیں مشوروں کے بغیر بڑھتی ہی رہیں گی۔‘‘
’’میں بھی بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ بھائی جان! آپ کا بوجھ بانٹنا چاہتا ہوں۔ آپ آج نہ آئے تو میں آجائوں گا کہ مزید برداشت کا مادہ نہیں ہے۔‘‘ عزیر نے کہہ ڈالا۔
اور زبیر نے ٹائم اور فلائٹ نمبر بتا کر رابطہ منقطع کر دیا۔
اور اخیر مارچ کی خوب صورت شام عزیر حسبِ معمول اداس ہی تھے۔ الجھی ڈور کا ایک سرا ان کے ہاتھ آگیا تھا۔ سلجھانے کے لےے پھر بھی زبیر کی مدد چاہےے تھی۔ عزیر کو یقین تھا کہ عائشہ زبیر کی محبت تھی۔ وہ بھائی کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کو جرم سمجھتے تھے اور آج پوری ایمان داری کے ساتھ یہ امانت ان کو واپس کرنا چاہتے تھے۔ اتنے دنوں کی کشمکش کے بعد وہ یہی فیصلہ کرسکے تھے۔
ساڑھے نو بجے زبیر ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے لاگ ایریا کی طرف آرہے تھے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ خاموش تھے اندر طوفان چھپائے ہوئے۔
عزیر سب کچھ راستے میں ہی کہہ دینا چاہتے تھے لیکن زبیر کی سنجیدگی انہیں روکے رہی۔ رات کو دونوں بھائی آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ دونوں ہی تذبذب کا شکار تھے۔ پہل کون کرتا معاملہ ہی ایسا تھا۔
’’بھائی جان! کہتے ہیں بھائی سے زیادہ مضبوط رشتہ دنیا میں اور کوئی نہیں۔ بھائی ایک دوسرے کے لےے جان قربان کر دیتے ہیں۔ کیا میں آپ کے لےے اتنا بھی نہیں کر سکتا۔ یقین جانے یہ فیصلہ پورے دوماہ سوچنے کے بعد ہی کیا ہے۔‘‘
’’کیا کہنا چاہتے ہو عزیر؟‘‘
’’بھائی جان! عائشہ وہی لڑکی ہے نا جسے آپ چاہتے ہیں۔ یہ تقدیر کا ستم تھا بھائی جان! لیکن میں بخوشی آپ کی امانت آپ تک لوٹانا چاہتا ہوں۔ ہوسکے تو مجھے معاف کر دیجےے گا۔‘‘ عزیر کا لہجہ گلوگیر ہوگیا۔
زبیر کتنی دیر انہیں دیکھتے رہے۔
’’ہشت ! پگلے لڑکے! یہ کیسے سمجھ لیا تم نے۔ ایسی تو کوئی بات نہیں۔ واللہ یہ وہ لڑکی نہیں۔ پر جو کچھ بھی ہے اس قابل ہرگز نہیں ہے کہ تمہاری بیوی یا میری بھابھی کہلائے۔‘‘
اس نئی صورت حال پر عزیر کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
’’یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟‘‘
’’وہی جو تم لوگوں سے چھپا کر مضطرب رہا۔ آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگلی جاسکتی عزیر! عائشہ اچھے کردار کی لڑکی نہیں ہے۔‘‘
عزیر کے سر پر کمرے کی چھت آن پڑی۔
’’یہ ہمارے خاندان کی بدنصیبی ہے کہ انجانے میں ایسی لڑکی ہم سے وابستہ ہوگئی، مجھے تم بہت عزیر ہو عزیر! ایسی لڑکی کو تم سے وابستہ دیکھنا میرے بس کی بات نہیں۔‘‘
’’بھائی جان! فارگاڈ سیک اس کی وضاحت کیجےے۔ یہ سب کیا ہے؟ آپ میرے بھائی ہیں جو کچھ کریں گے جو فیصلہ سنائیں گے میرے لےے اسی میں بہتری ہوگی۔‘‘
’’تو سنو۔‘‘
زبیر نے انہیں سب کچھ بتا دیا۔ سب کچھ۔ آج وہ بہت ادس تھے اپنی زندگی کے لےے بھی۔ اس جانِ جان کے لےے بھی جس نے وعدے کے حصار میں قید کر رکھا تھا۔ مکمل پانچ طویل سالوں سے۔ اب تک تو گھر والوں کو یہی علم تھا کہ زبیر احمد کسی لڑکی سے محبت کرتے ہیں۔ آج انہوں نے عزیر کو دوست جان کر سب کچھ بتا دیا۔ محبت کرنے والوں کو کم از کم ایک رازداں کی ضرورت پڑ ہی جاتی ہے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی خاطر۔
ان دنوں وہ لاہور ایئرپورٹ پر تعینات تھے بطور کسٹم انسپکٹر۔ مما چاہتی تھیں تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں وہ زرعی اراضی سنبھالنا چاہےے جو خانیوال میں مربعوں کے حساب سے موجود تھی۔ لیکن زبیر کو بہت پہلے سے ہی اس جاب کی طلب تھی۔ سو اللہ نے ان کی آرزو پوری کر دی۔ اونچے لمبے خوبرو زبیر احمد کسٹم کی خوب صورت وردی میں بے حد اسمارٹ اور ہینڈسم نظر آتے تھے۔ ایئرپورٹ پر ڈیوٹی کے دوران ہزاروں نظروں کامرکز بنے رہتے۔
دو سال کا عرصہ ملتان میں گزارنے کے بعد جب وہ لاہور آئے تو زندگی کے اسرار و رموز سے اور بھی آگاہ ہوگئے۔ ان کے اکثر کولیگ فی الحال غیر شادی شدہ تھے۔
پہلے دن ڈیوٹی جوائن کرتے ہی ان کی دوستی جمشید فارانی سے ہوگئی۔ جمشید خاصا دلچسپ آدمی تھا۔ پہلے دن ہی اس کی کمپنی میں غیریت اور تنہائی کا احساس جاتا رہا۔ رہائش کے لےے زبیر نے ہوٹل کا انتخاب کیا تھا لیکن جمشید نے زبردست خلوص سے انہیں اس کوٹھی میں رہائش کی دعوت دی جو اس نے سمن آبادمیں لے رکھی تھی تو زبیر احمد صرف اس شرط پر راضی ہوگئے کہ آدھا کرایہ وہ اداکریں گے۔ بعض لوگوں سے ایک دو بار مل کریہ احساس نہیں ہوپاتا کہ وہ در حقیقت کیا ہیں۔ زبیر بھی جمشید فارانی کی حقیقت سے بے خبر تھے۔ پَرخلوص دوستی کا عہد کر بیٹھے۔ دونوں ڈیوٹی سے فارغ ہوتے تو جمشید انہیں لے کر مختلف علاقوں کی سیر کرانے نکل پڑتا۔
ایک سے ایک بہترین ہوٹل میں کھانا، چائے، بہترین تفریح، یہ سب باتیں زبیر کو بھی اچھی لگتی تھیں لیکن بات تفریح سے ہٹ کر شراب و شباب تک آئی تو زبیر اس کے ساتھ ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکے۔ جمشید کو تو قدم قدم پر شناسا لڑکیاں مل جاتیں اور وہ ہر ایک سے یوںٹریٹ کرتا گویا جی بھی بس اسی کی خاطر رہاہے۔
جمشید کی کچھ عادات زبیر کو پسند آئی تھیں پھر دوستی بھی کر بیٹھے تھے اسے چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ بلکہ اسے بدنام زندگی کی گہرائیوں سے نکال کر صاف ستھری دنیا میں لانا چاہتے تھے۔ سو اس کی خاطر بعض ناگوار حالات کا سامنا بھی کرتے رہے۔ ان دنوں جمشید نے ایک نئی لڑکی کو پھانس رکھا تھا۔ کسی ڈائریکٹر کی بیٹی تھی۔ پچھلے دنوں اپنے والد کے ساتھ غیر ملکی ٹور سے واپس آتے ہوئے ایئرپورٹ پر جمشید سے ٹکراگئی۔ کافی مشینری ان کے ساتھ تھی۔ جمشید نے ہی ان کا سامان چیک کیا تھا۔ سامان کلیر ہونے کے ساتھ ساتھ دل کا بھی صفایا ہوگیا۔ شام کو جمشید نے خود ہی انہیں بتا دیا۔
’’دیکھو جمشید! خدا کے لےے یہ سارے چکر چھوڑ دو اور اگر محبت کو ابنِ آدم کا فرض ہی خیال کرتے ہو تو کسی ایک سے کرلو۔‘‘
’’حضرتِ ناصح! آپ نئے نئے اس میدان میں اترے ہیں۔ چند دنوں کی بات ہے پھر آٹے دال کا بھائو آپ سے پوچھوں گا۔‘‘
زبیر مسکرا پڑے۔ جمشید ان کے بارے میں بڑا غلط سوچ رہا تھا۔
’’یار جب جیب میں بے حساب پیسہ ہو، جذبے جوان ہوں اور خوش قسمتی سے شکل و صورت بھی ہم جیسی ہو تو دل خود بخود رنگینیوں میں ڈوبنے کو مچل اٹھتا ہے۔‘‘
روزانہ سہ پہر کو دونوں کیمپس کے باہر موجود ہوتے جمشید تو اندر چلا جاتا اور وہ گاڑی کے قریب کھڑے اس کے منتظر رہتے۔ ایک دو بار وہ لڑکی ان کے ساتھ سمن آباد تک بھی چلی آئی۔ ورنہ اکثر جمشید اس کے ساتھ پروگرام سیٹ کرلیتا اور انہیں گھر چھوڑنے کے بعد وہ اس کی طرف چلا جاتا۔ اس دن بھی وہ حسبِ معمول گاڑی سے ٹیک لگائے یونیفام میں ہی کھڑے جمشید کو کوس رہے تھے جو واپسی کا نام ہی نہیں لے رہا تھا کہ ایک آواز پر چونک کر سیدھے ہوئے۔
ان کے عین سامنے حسن کا ایک منفرد مجسمہ غیض و غضب کی حالت میں ایستادہ تھا۔
’’اے مسٹر!‘‘
انہوں نے گاگلز اتارے اور غور سے اسے دیکھا۔
’’جی فرمائےے۔‘‘ انہوں نے مہذب انداز میں جواب دیا۔
’’میں اکثر آپ کو ادھر دیکھتی ہوں۔ آخر روزانہ کیا کرنے آتے ہیں آپ یہاں جب کہ کسی سے ملتے ملاتے بھی نہیں۔‘‘
’’یہ میرا ذاتی معاملہ ہے مس۔‘‘ انہیں اس دخل در معقولات پر غصہ آیا۔
’’جی نہیں۔ میں آپ سے یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہوں۔‘‘
اس نے زبیر کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے خود اعتمادی سے کہا۔
’’کیسے؟‘‘
’’ایسے کہ میں اس یونیورسٹی کی طالبہ ہوں۔ مشکوک آدمی سے باز پرس کر سکتی ہوں۔‘‘
’’آپ جانتی ہیں کس سے بات کر رہی ہیں؟‘‘ زبیر کو بھی غصہ آگیا۔
’’جی ہاں، ایک کسٹم آفیسر سے۔ جیب میں مفت کا مال بھر کر اور یہ وردی پہن کر آپ یہاں شکار کی تلاش میں آجاتے ہیں۔ معاف کیجےے مسٹر کسٹم آفیسر! یہاں آپ کو اپنے مطلب کی ایک لڑکی نہیں ملے گی۔‘‘
زبیر تائو کھا گئے۔ جانے کیا سمجھ رہی تھی یہ لڑکی اپنے آپ کو۔
’’یہ یونیورسٹی آپ کے باوا کی جاگیر نہیں۔ میں بھی اسی کا اسٹوڈنٹ رہا ہوں۔ اور اس ناتے یہاں ضرور آسکتا ہوں۔ اور جو کچھ ابھی آپ نے کہا۔ اپنے الفاظ واپس لیجےے میں اس قماش کا ہرگز نہیں ہوں۔‘‘
’’وہ تو آپ شکل و صورت سے بھی نہیں لگ رہے تھے۔ مگر میں حیران ہوں کہ روزانہ آپ کو یہاں کون سا مسئلہ لے آتا ہے؟‘‘
’’مسئلہ تو آپ کی ایک ہم جنس ہے جس نے میرے کولیگ کو پھانس لیا ہے۔ میں تو صرف دوستی نبھانے یہاں تک چلا آتا ہوں۔‘‘ زبیر نے جل کر کہا۔
’’جب آپ ایسے ویسے نہیں تو ایسی صحبت میں کیوں رہتے ہیں۔ کیا آپ نے کہیں نہیں پڑھا آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘
’’اچھی بات کہی آپ نے۔ بائی دا وے شکل و صورت سے میں آپ کو ایسا ویسا نہیں تو کیسا لگا؟‘‘ زبیر کا دل چاہ رہا تھا کہ اس گریس فل لڑکی سے جو سفید لباس میں ملبوس اپنا وجود بڑی سیاہ ریشمی چادرمیں چھپائے سلیقے طریقے سے بات کر رہی ہے، گفتگو کرتے ہی عمر بیت جائے۔ وہ کچھ کچھ شوخ ہو چلے۔
’’پہلی ملاقات میں کیا رائے دے سکتی ہوں۔‘‘
’’گویا آپ کو بھی دوسری ملاقات کا یقین ہے۔‘‘
’’جی نہیں۔‘‘ اس نے قطعیت سے کہا۔
’’میں چند لمحوں میں پیدا ہونے والی شناسائی کو طول دینے کی قائل نہیں ہوں۔ میں تو بس آپ کو سمجھانا چاہتی تھی۔ آپ کے بارے میں لوگ اچھی رائے قائم نہیں کرتے۔‘‘
’’آج میں خود بھی یہاں نہ آنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ لیکن اب اس کے قطع نظر کہ لوگ میرے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے شاید مجھے روز آنا پڑے۔‘‘
’’مگر وہ کیوں؟‘‘ اس نے سادگی سے پوچھا۔
’’صرف ایک چہرے کے دیدار کی خاطر جو روشنی کا مینار بن گیا ہے میرے لےے۔‘‘
’’دیکھئے مسٹر!‘‘
’’زبیر احمد عباسی۔‘‘ زبیر احمد نے جان بوجھ کر اپنا نام بتا دیا تو اس نے گھور کر انہیں دیکھا۔
’’آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں۔ میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں جنہیں آپ کے دوست نے بے وقوف بنا رکھا ہے۔ اور وہ انہیں بنا رہی ہیں۔‘‘
’’یقین مانےے مجھے بھی ان کی تلاش نہیں بس آپ جیسے ایک وجود کی تمنا۔ آپ جیسے ساتھی کی طلب ابھی ابھی چند لمحوں میں اس دل میں جاگی ہے۔ بعض لوگ پل بھر میں اپنا آپ منوالیتے ہیں۔ اس کا تجربہ بھی ابھی ہوا ہے۔‘‘
شاید وہ جواب میں کوئی سخت سست بات کہتی لیکن اسی وقت گیٹ سے بہت ساری لڑکیاں برآمد ہوئیں اور وہ ان کی طرف بڑھی۔
’’فاطمہ عباس! انتظار کرنا تو سیکھا ہی نہیں تم نے۔ ادھر ہم نے تلاش میں کونا کونا چھان مارا۔‘‘ ایک لڑکی بولی۔
’’فاطمہ عباسی۔‘‘ یہ نام دل کی دیواروں پر ہر طرف کندہ ہوگیا۔ انوکھا درد عجیب سا احساس دل میں بسا کر وہ چپ چاپ جمشید کے ساتھ رہائش گاہ پر لوٹ آئے۔
دوسرے دن ہی ان کی ڈیوٹی کے اوقات بدل گئے۔ سہ پہر چار بجے سے بارہ بجے تک ڈیوٹی دینا پڑتی۔ اکثر جہاز لیٹ ہوجاتے تو دو تین بجے ہی واپس آیا کرتے۔ پھر جو پڑ کر سوتے تو دوپہر کا کھانا تک گول ہوجاتا۔ رت جگے کی عادت نہیں تھی۔ ذہن پر بوجھ پڑنے لگا۔ چار بجے انہیں پھر جاناہوتا۔ اس چکر میں بے شک وہ اس طرف نہ جاسکے لیکن فاطمہ عباسی کو فراموش بھی نہ کر سکے۔ آدم کی فطرت میں صنفِ مخالف کی کشش بھر دی گئی ہے۔ روزِ ازل سے ہی لیکن زبیر نے اپنے سارے جذبے اس کے نام لگادئےے۔ ان کے دل و دماغ اور روح میں بس گئی تھی فاطمہ عباس۔ اب تو کسی اچھے یا برے چہرے پر نظر ڈالنا بھی گناہ سمجھ لیا تھا انہوں نے۔
جمشید فارانی کی وہی دنیا تھی اور وہی معمولات۔ لیکن اب اکثر وہ تنہا ہی کہیں چلے جاتے۔ کنوینس پرابلم بھی مما نے حل کر دیا اور عزیر ان سے ملنے آئے تو دونوں بھائیوں نے مل کر گاڑی بھی خرید لی۔
٭٭٭
ڈیوٹی کے اوقات بدل چکے تھے۔ بڑے دنوں بعد انہوں نے خود کو تازہ دم پایا اور اسی سمت چل پڑے۔ تلاشِ بسیار کے بعد بھی وہ کہیں نظر نہ آئی تو سخت پریشان بلکہ جھنجھلائے ہوئے وہ واپس لوٹے۔
دل پکارے ہی چلا جاتا تھا۔ ایک ہی صدا تھی۔ ایک ہی آرزو تھی۔ پروہ نظر ہی نہ آئی۔
ویک اینڈ پر جمشید گھر گیا ہوا تھا۔ وہ مقبرہ جہانگیر چلے آئے۔ لاہور کا ہر کونا ہر گوشہ انہیں پسند تھا۔ مقبرہ جہانگیر کے بڑے سارے دروازے پر وہ انہیں مل گئی۔
ساتھ میں اور بھی لڑکیاں تھیں۔ وہ بے اختیار اسے پکارنا چاہتے تھے لیکن کچھ زمانے کے رکھ رکھائو بھی تھے۔ جن سے وہ آشنا تھے۔ بے مقصد اِدھر اَدھر پھرتے رہے اور گاہے بگاہے اس کا دیدار کر کے دل کے بہلنے کا سامان بھی کرتے رہے۔ مگر دل بہلا کہاں اور بھی مچل گیا۔ ضدی بالک کی طرح۔ گلابی سادہ سے کپڑوں میں وہ گلاب کی منہ بند کلی ہی نظر آرہی تھی۔اپنے انتخاب پر خود ہی فخر محسوس کر رہے تھے۔ پر ایک بات نے دل دکھادیا۔ فاطمہ نے انہیں دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں شناسائی کی چمک تک نہ ابھری تھی۔ بڑی پکی تھی اپنے قول کی۔ شناسائی کو طول نہیں دیا تھا اس نے۔ زبیر احمد کے لےے وہ محبت ہی نہ رہی چیلنج بھی بن گئی۔
ڈکٹیٹر قسم کے بندے تھے۔ حکومت کرنا اپنا حق سمجھتے تھے۔ گھر کے بڑے بیٹے تھے۔ سر آنکھوں پر بٹھائے جاتے تھے۔ فاطمہ کی اگنورنس انہیں گھل گئی۔ لیکن وہ چاہتے ہوئے بھی جلد وہاں سے نہ جاسکے۔
دوسرے روز دن بھر کی کلیرنس درج کرتے ہوئے کتنی غلطیاں ہوتے ہوئے بچیں۔ ماتحت عملے سے بات بے بات الجھے۔ پریشان پریشان لارنس باغ میں تنہا پھرتے رہے۔ دل کی بے کلی دور نہ ہوسکی۔
سہ پہر سے قبل پھر وہ کیمپس کی طرف آگئے ابھی انہوں نے گاڑی روکی ہی تھی کہ وہ گیٹ سے باہر نکلی۔ زبیر جھٹ سے اسٹیئرنگ وہیل چھوڑ کر دروازہ کھولتے ہوئے باہر نکلے اور دوسرے لمحے اس کے قریب جا پہنچے۔ تصور نے انہیں اتنا قریب کر دیا تھا کہ اسے دیکھ کر اجنبیت کا احساس بھی نہ ہوا۔ وہ بے قراری سے بولے۔
’’فاطمہ عباسی۔۔۔ فاطمہ عباسی!‘‘ انہوں نے زبان پر قابو پالیا۔ لیکن دل اسی نام کا ورد کرتا رہا۔
’’آپ پھر آگئے مسٹر کسٹم آفیسر!‘‘ اس نے زبیر کی پکار کا کوئی جواب نہ دیا۔
’’میں زبیر احمد ہوں فاطمہ عباسی! صرف زبیر۔‘‘ وہ اس کے قدم سے قدم ملاکر چلنے لگے۔
’’فاطمہ! تم کوئی ساحرہ ہو کیا۔ تم نے کیا جادو کیا ہے مجھ پر۔ تم میری زندگی کی پہلی اور آخری آرزو بن گئی ہو۔ پلیز فاطمہ! خدا کے لےے مجھے اس قید سے آزاد کردو۔ یا اپنی محبت اپنا دل مجھے دے دو۔‘‘ وہ دیوانوں کی طرح لبِ سڑک ہی اظہار کرنے لگے۔ اردگرد سے بے نیاز۔
’’اوہ مسٹر زبیر! میں نے کہا نا کہ میں غلط لڑکی نہیں ہوں۔ فارگاڈ سیک! میرا پیچھا چھوڑےے۔‘‘
’’غلط میں بھی نہیں ہوں فاطمہ! خدا کی قسم تم بن مرجائوں گا۔ فاطمہ! آئی لٰو یو رئیلی لٰو یو۔ دیکھو تمہاری اسی عظمت کی قسم جو تمہارے چہرے سے عیاں ہے۔ میں سچ کہہ رہا ہوں۔‘‘ زبیر کو لگ رہا تھا فاطمہ کی بے اعتنائی اور بے رخی انہیں توڑ پھوڑ دے گی۔
’’حد ہے آپ کو یہ خیال بھی نہیں کہ یہ شارع عام ہے۔ اردگرد لوگ ہیں۔‘‘ اس نے تلخی سے کہا۔
انہوں نے استفسار کے انداز میں دونوں ہاتھ اٹھائے اور پھر نہایت بے چارگی سے بولے۔
’’پھر بتائو۔ میں یہ سب تم سے کہاں کہوں؟ کس جگہ؟ میں تو بھرے شہرے میں کہیں تمہیں نہ پاسکا۔‘‘
بے اختیار وہ ہنس پڑی پھر یک لخت سنجیدہ ہو کر کتنی دیر ان کی آنکھوں میں جھانکتی رہی۔ پھر مسکراتے ہوئے بولی۔
’’آپ کی صداقت کی کوئی گواہی؟‘‘ اس کے موتیوں جیسے دانت زبیر کی نگاہیں خیرہ کر گئے۔ دلربانہ انداز میں قدرے ایک طرف جھکا سر اور نگاہوں کی معصومیت۔ ان سب نے دل کی دنیا اتھل پتھل کر دی کہ نثار ہوجائے کو جی چاہا۔
’’صرف خدا کی ذات۔‘‘ زبیر نے شہادت کی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔
’’چلئے آپ کی عرض داشت پر غور کیا جائے گا۔ اللہ حافظ۔‘‘ وہ یونیورسٹی کی بس کی طرف بڑھ گئی۔
اور زبیر مہربان نگاہوں کا تصور دل میں بسائے واپس لوٹ آئے۔
پھر اگلے چار دن کے لےے وہ کسی ضروری کام سے اسلام آباد چلے گئے۔ سارے دن وہیں گزار آئے۔ پانچویں دن ایئرپورٹ پہنچے تو آفس میں ایک لفافہ ان کا منتظر تھا۔ اس خوشبو نے بہت کچھ یاد دلادیا۔ کھولا تو بس ایک ٹیلی فون نمبر درج تھا۔ زبیر سمجھ گئے۔ جذبوں کا اثر ادھر بھی شدید تھا۔ ڈیوٹی سے آف ہونے تک عجیب کیفیت میں گھرے رہے۔
گھر پہنچے تو جمشید موجود تھا۔ آج کل اس کی نائٹ ڈیوٹی تھی۔ وہ جانے کے لےے تیار ہورہا تھا۔ زبیر کو انتظار کے چند لمحے بھی قیامت لگ رہے تھے۔ اس کے جاتے ہی وہ ٹیلی فون کی طرف لپکے۔ نمبر ملتے ہی دوسری رِنگ پر کسی نے ریسیور اٹھایا۔
’’جی گلریز عباسی اسپیکنگ۔‘‘
زبیر نے جھٹ رابطہ منقطع کر دیا۔ جو بھی تھا لائن پر فاطمہ کا ہی رشتہ دار تھا۔ اتنا انہیں یقین ہوگیا۔ کافی دیر بعد انہوں نے پھر قسمت آزمائی کی۔
’’ہیلو!‘‘ نسوانی آواز نے حوصلہ دیا۔
’’فاطمہ عباسی ہوں گی؟‘‘
’’مگر آپ کون ہیں؟‘‘ آواز میں کچھ گھبراہٹ تھی۔
’’میں زبیر احمد عباسی ہوں۔‘‘
’’اوہ آپ۔۔۔ کہاں تھے اتنے دن؟‘‘
’’کیوں آپ کو انتظار رہا؟‘‘
’’شاید۔‘‘
’’الحمد اللہ۔‘‘ زبیر نے شوخی سے کہا تو وہ ہنس پڑی۔
’’میں نے فون نمبر لکھا تھا ایک بات کہنا تھی۔‘‘
’’لیکن ایڈریس کہاں سے لیا؟‘‘
’’کہاں سے لیتی۔ اتنا تو جانتی تھی کہ آپ فلاح صاحب ہیں اور فلاح محکمے میں ہیں۔ خط آپ تک پہنچنا تو دشوار نہ تھا۔‘‘
’’گڈ۔ مجھے بھی ایسی ذہانت کی تلاش تھی۔‘‘
’’میں آپ سے کہنا چاہتی تھی کہ آپ یونیورسٹی نہ آیا کریں۔‘‘
’’نہیں فاطمہ!تمہیں دیکھے بن چین نہیں۔‘‘
’’پلیز زبیر احمد! اپنی ساتھی لڑکیوں اور اساتذہ کی نگاہ میں میرا ایک مقام ہے۔ میں کسی اسکینڈل کا عنوان بن کر وہ مقام کھونا نہیں چاہتی اور آپ یقینا میری بات سے اتفاق کریں گے۔‘‘
دل نے لاکھ انکار کیا لیکن دماغ نے اسے تسلیم کرلیا۔
’’پھرکہاں دیکھوں تمہیں؟‘‘
’’اپنے دل میں۔‘‘ اس نے زبیر کو لاجواب کر دیا۔
’’ہاں، آپ چاہیں تو ہر شام فون پر بات کر سکتے ہیں۔‘‘ اس نے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔
’’دیکھو! ایک عرض میری بھی ہے۔ ایک اجازت دے دو۔ تمہاری بس ایک خاص وقت پر وہاں سے چلتی ہے۔ میں اس وقت وہاں سے گزروں گا۔ رکے بغیر تمہیں ایک نظر دیکھ کر آگے بڑھ جایا کروں گا۔ ٹھیک ہے نا؟‘‘
’’کیا کہوں۔ جو آپ کی مرضی زبیر!‘‘ اس نے ہتھیار ڈال دےے۔
’’بنڈل آف تھینکس فاطمہ!‘‘
روز و شب کا سلسلہ جاری رہا۔ ٹیلی فون پر دنیا جہاں کی باتیں۔ دلوں کی حکایتیں۔ جانے کیا کچھ دونوں نے کہہ ڈالا۔ ایک دوسرے سے مکمل آگاہی ہوگئی۔ یوں لگا جیسے صدیوں قرنوں سے ایک دوجے کے لےے ہی تھے۔ ایک دوجے کے قریب ہی تھے۔ ساتھ جینے مرنے کی قسمیں، عہدِ وفا اور جانے کیا کچھ طے پاگیا۔ ایک بار زبیر نے کہا۔
’’فاطمہ! مجھ سے وعدہ کرو کہ یہ وجود سدا میری امانت رہے گا۔ اس کی ساری رعنائیاں حتیٰ کہ حسین تر مکھڑے پر پھیلی مسکراہٹ بھی صرف میری خاطر ہوگی۔ تم ایم۔اے کرلو میں مما کو تمہارے گھر بھیج دوں گا۔ ہجر کے دنوں کی ساری کلفت تب ہی دور ہوگی جب تم میری بن کر اپنے وجود کی روشنی میرے گھر میںپھیلائو گی۔‘‘
پھر بہت سارے دن اسی طرح گزر گئے۔ ایک دن اِدھر اَدھر کی باتیں کرتے ہوئے زبیر نے کہا۔
’’فاطمہ! تم سے ایک شکوہ ہے۔ اپنی حیات کا ایک لمحہ بھی میرے نام نہیں کرسکیں۔‘‘
’’اور یہ جو گھنٹوں ٹیلی فون پر بات ہوتی ہے۔‘‘
’’کیا میں ہمیشہ تمہیں صرف اپنے دل میں تلاش کرتا رہوں۔ ایک بار تو میری حسرت پوری کردو۔ تم سنگ چلنے کا بڑا ارمان ہے۔ ایک بار تو میرے ساتھ چلی چلو۔‘‘
’’کہاں؟‘‘
’’کہیں بھی۔ ہر وہ جگہ خوب صورت ہوگی جہاں تم میرے ساتھ ہوگی۔‘‘
’’زبیر! تمہیں خبر نہیں۔ میں روایات کے پابند خاندان کی بیٹی ہوں۔‘‘
’’مجھے بھی انہی روایات سے پیار ہے جانم! میں کوئی غیر تو نہیں ، مجھ پر اعتماد کرنا سیکھو فاطمہ! بس ایک بار پھر شادی تک کبھی ایسا تقاضا نہ کروں گا۔‘‘
شاید فاطمہ کو بھی طلب تھی اس کی قربت کی۔ اس کے سنگ چلنے کی یا پھر اسے ترس آگیا۔ اس نے ہامی بھرلی اور دوسرے دن کا پروگرام سیٹ کرلیا۔
میرون شیڈ کے دیدہ زیب لباس میں ملبوس فاطمہ کو مقررہ جگہ دیکھ کر زبیر کو یقین مشکلوں سے آیا۔
اور جب وہ گاڑی میں ان کے سنگ بیٹھی تو وہ خود کو فضائوں میں اڑتا ہوا محسوس کرنے لگے۔ زبان گنگ سی ہوگئی۔ دونوں قرب کے نشے میں مدہوش تھے۔ خاموشی میں نگاہوں نے زبان کا کام دیا۔ وہ دنیا جہاں سے غافل تھے۔
بِن بتائے بن کہے وہ راوی کی طرف چل پڑے۔ ابھی آدھا راستہ بھی طے نہ کیا تھا کہ گاڑی اچانک ہچکولے کھانے لگی۔ ایک مناسب جگہ گاڑی سڑک سے اتا رکر زبیر انجن کا بونٹ اٹھا کر اس پر جھک گئے۔
اور فاطمہ ان کے قریب کھڑی رہی اور جب وہ اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی ایک تار کو ٹھکانے لگانے کے بعد رومال سے ہاتھ صاف کر رہے تھے۔ فاطمہ کا رنگ فق ہوتے دیکھ کر خود بھی ڈر گئے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ایک گاڑی عین ان کے قریب آکر رک گئی۔ ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا کوئی باہر آیا۔
’’فاطمہ!‘‘ آنے والا آندھی طوفان کی طرح ان کے قریب آیا اور حواس باختہ فاطمہ کے چہرے پر زبردست تھپڑ آن لگا۔
’’بھائی جان!‘‘ آوازدوسرے تھپڑ کی گونج میں دب کر رہ گئی۔
’’میری بات سنئے جناب!‘‘ زبیر اتنا ہی کہہ سکے لیکن گلریز عباسی نے قہر آلود نگاہ ان پرڈالتے ہوئے فاطمہ کو گھسیٹا۔
’’تم جو کوئی بھی ہو۔ جیسے بھی ہو میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں۔‘‘
’’دیکھئے آپ۔۔۔‘‘
گلریز نے جھٹ ان کی بات کاٹ دی۔
’’میں کہتا ہوں بکواس بند کرو اور اپنی راہ لو۔‘‘
اس اثنا میں فاطمہ کو پچھلی سیٹ پر بے دردی سے پھینکتے ہوئے وہ اگلی طرف آئے اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی یہ جا وہ جا۔ نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
٭٭٭
پہلا تجربہ ہی اتنا تلخ تھا جینے کی آس ہی چھن گئی۔ حیران تھے لوگ کیسے محبتیں کرلیتے ہیں۔ بچھڑ جانے پر جی بھی لیتے ہیں۔ یہاں تو ایک ایک لمحہ تلخ تھا۔ مختصر سا عرصۂ حیات ماہ و سال پر حاوی ہوگیا تھا۔ دل رو رو کر اسے پکار رہا تھا۔ پر وہ کہاں تھی۔ اسے دیکھنے کی آس میں شہر کا گوشہ گوشہ چھان مارا لیکن وہ کہیں نہ ملی۔
لٹے لٹے پھرتے تھے۔ فاطمہ کے چہرے پر لگنے والے تھپڑ ان کے دل کا زخم بن گئے تھے۔ جن کا مداوا کوئی نہ تھا۔
ایسے ہی نامراد دنوںمیں ایک دن جمشید فارانی سے دل کا یہ درد چھپائے باہر جارہے تھے۔گاڑی کی طرف بڑھتے قدم دو لڑکیوں کو دیکھ کر رک گئے۔ دونوں لڑکیاں بے حد حسین تھیں۔ انداز سے چال سے سوبر اور باوقار ہی لگ رہی تھیں۔ کچھ سہمی ہوئی بھی۔
ان کی طرف دونوں نے توجہ ہی نہیں کی اور برآمدے کی سیڑھیاں چڑھ گئیں اور جب ایک لڑکی کال بیل پر انگلی رکھے ہوئے تھی۔ وہ گاڑی باہر نکال چکے تھے گو اس وقت انہیں فاطمہ کے سوا کچھ بھی یاد نہ تھا۔ پھر بھی ان دونوں لڑکیوں کے لےے شدید ترین نفرت کی لہر ان کے دل میںاٹھی جو یقینا جمشید فارانی کا نیا شکار تھیں۔
دوسرے دن وہ بے مقصد سڑکوں پر پھرنے کے بعد چھ بجے لوٹے تو جمشید کے کمرے سے آتی آوازیں معمول کی طرح انہیں یہ احساس دے رہی تھیں کہ اندر گڑبڑ ہے۔ وہ کمرے میں آئے۔ جمشید اکثر لڑکیوں کے آنے پر جہاں باقی دوستوں کو مدعو کرتا تھا ۔ عیش و طرب کی اس محفل میں ان کو بلانے کا فرض ضرور ادا کرتا تھا۔
سو آج بھی آیا۔
’’یار۔۔۔! وہ دو گھنٹے سے تمہاری منتظر بیٹھی ہیں۔‘‘
فاطمہ کے سوا ان کا انتظار کرنے کا حق کسی لڑکی کو نہ تھا۔ وہ بگڑ اٹھے۔
’’بکو مت۔ تم جائو اپنا کام کرو میں بے حد پریشان ہوں۔‘‘
’’زبیر پلیز بی سیریس۔ میں مذاق نہیں کر رہا۔ تم چلو تو سہی۔‘‘
’’کہہ جو دیا کہ میں فارغ نہیں ہوں، ابھی مجھے واپس جانا ہے۔‘‘
حالانکہ کچھ دیر آرام کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ان بلائوں کے خوف سے پھر باہر جانے کا سوچ لیا۔ اور جب وہ برآمدے کی سیڑھیاں اتر رہے تھے۔ ایک خوب صورت آواز نے ان کا دامن تھام لیا۔
پیچھے مڑ کر دیکھا اور چونک گئے۔
وہ سترہ اٹھارہ برس کی نو عمر سی لڑکی تھی۔ بے حد حسین اور معصوم بھی۔
’’اَف۔‘‘ آنکھیں بند کرلیں۔ زمانے کی بے راہ روی پر ان کا دل روپڑا۔
’’سر۔۔۔! میں آپ کے لےے آئی تھی۔ میرا نام عائشہ ہے۔‘‘
’’سوری۔‘‘ انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔
’’پلیز ایک منٹ بات سنےے سر!‘‘
’’میں نے کہہ دیا۔ میں کچھ نہیں سنوں گا۔‘‘
’’سر ایک پیغام ہے آپ کے لےے۔‘‘ اس نے ملتجی انداز میں اطلاع دی اور ہاتھ میں پکڑ ا ہوا ایک چھوٹا سا تہہ شدہ کاغذ کا پرزہ ان کی طرف بڑھایا۔ وہ پلٹے، جھٹکے سے وہ کاغذ لیا۔ کھا جانے والی نظریں اس پر جما کر اپنا سارا غصہ اسے پھاڑ کر پرزے کرنے میں نکالنے کی کوشش کی۔
’’اَف۔۔۔ یہ کیا کیا آپ نے؟‘‘
’’شکر کیجےے کہ صرف یہی کیا۔ آپ اندر جائےے۔ میرے سوا اور بھی لوگ ہیں جو ادائوں کے جال میں گرفتار ہونے کے شائق بھی ہیں۔‘‘
وہ باہر نکل آئے۔ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
پھر سال پر سال گزرتے رہے۔ فاطمہ انہیں کہیں نہ ملی۔ بس دل میں آباد محسوس ہوتی رہی۔ عہدِ وفا کیا تھا۔ خدا کی ذات کو صداقت کا گواہ بنایا تھا۔ اب تک بے وفائی نہ کر سکے۔
جو لڑکی اس دن ان سے ٹکرائی وہ عائشہ تھی اتنے سال گزرنے کے بعد بھی اسے نہ بھول پائے۔ جمشید فارانی کے پاس آنے والی کوئی بھی لڑکی عزت مآب عفت مآب نہ تھی۔ عائشہ کو دیکھ کر وہ سارے جذبے بھک سے اڑ گئے تھے جو عزیر کی بیوی کے لےے ان کے دل میں تھے۔ ایک بدکردار لڑکی کو وہ کیسے گھر کی عزت تسلیم کرلیتے۔
انہوں نے سب کچھ عزیر کو بتا دیا۔ پھر قدرے توقف سے بولے۔
’’چاہتا تو اسی دن اسے عروسی لباس میں ہی نکال باہر کرتا۔ لیکن لڑکیاں بے راہ رو ہو کر بھی عزت کا نشان بنی رہتی ہیں۔ مجھے تو اس کے والد اور بھائیوں پر ترس آگیا۔‘‘
’’رحم اور ترس کا کیا سوال۔ ابھی طلاق نامہ لکھتا ہوں اور بھیج دیتا ہوں۔ ایسے ناپاک وجود کا ہمارے گھر میں کیا مقام۔ بھائی جان! مجھے معاف کر دیجےے ایک غلط لڑکی کی وجہ سے میں آپ پر شک کرتا رہا۔‘‘
’’ڈونٹ وری عزیر۔ اب صرف مستقبل کی سوچو۔
میری رائے ہے کہ چند ماہ سے اپنے ساتھ یہیں رکھو۔ گو گھر والے اب تمہاری بے گانگی سے آگاہ ہوچکے ہیں پھر بھی یوں طلاق دینے پر لوگ بھی حیران ہوں گے۔ کئی افواہیں پھیلیں گی۔ دو چار ماہ گزرنے پر ایک معقول عذر بن سکتا ہے کہ آپس میں بن نہیں پائی۔ ایسی صورت میں معاملہ اکثر ڈائی ورس پر ہی انجام پذیر ہوتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے بھائی جان!‘‘ عزیر نے تائید کی۔
٭٭٭
اس گھر میں آئے ہوئے عاشی کو پورے پندرہ دن گزر چکے تھے۔ روز ہی فرح اور رعنا کا فون آتا۔ زنیر بات کرتے ہنسی مذاق، چھیڑ چھاڑ چوبیس گھنٹوں میں وہ لمحے ہی دوسرے دن تک زندگی کو سہارا دےے رکھتے۔ عزیر اسے دیکھنے کے بھی روادار نہ تھے۔ روزِ اوُل جو دیوار دونوں کے درمیان حائل ہوئی اب تک قائم ہی تھی۔ اس کا حسن، سلیقہ، سگھڑپن، خانہ داری کی مہارت سب ہی ناکام رہے تھے عزیر کا دل جیتنے میں۔ ہر بات پر جھگڑا، ہر بات پر لڑائی، کھانے میں سو نقص، اکثر کھانا باہر ہی کھالیتے، کبھی جو گھر پر ہوتے تو بس اس کی شامت آجاتی۔ ایک دن وہ بھی تنگ آگئی۔ خاموش رہ کر، صبر کر کے وہ عزیر کو جیتنا چاہتی تھی لیکن معاملہ بگڑتا ہی جارہا تھا۔ وہ چیخ اٹھی۔
’’جب اتنی ہی بری ہوں میں تو بَلایا کیوں یہاں؟ رہنے دیا ہوتا مما کے پاس۔ یا بھیج دیتے مجھے میرے گھر۔‘‘
’’فکر نہ کرو پہنچ جائو گی اپنے گھر۔ یہاں تو اس لےے بلایا ہے تاکہ تم سے پوچھ سکوں کہ جمشید فارانی سے تمہارا کیا تعلق تھا؟‘‘
’’واٹ؟ کون جمشید فارانی؟‘‘ وہ حیران تھی۔
’’تمہیں ہی خبر ہوگی میں کیا جانوں۔‘‘ وہ لاپروائی سے بولے۔
’’یہ سب کیا ہے میرے ساتھ۔ میں نے آخر کون سا گناہ کیا ہے۔ کبھی زبیر صاحب سے میرا تعلق پوچھتے ہیں۔ اب یہ کوئی جمشید فارانی نکل آئے ہیں۔ آخر کیا چاہتے ہیں؟‘‘
’’تم سے چھٹکارا۔‘‘ عزیر نے جھٹ کہا۔
تو وہ حیران ہو کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے ان کا منہ دیکھتی رہ گئی۔
’’یہ جھگڑا اسی دن ختم ہوجائے گا جس دن تم اپنے بارے میں سب کچھ سچ سچ بتادو۔‘‘
’’کیا بتائوں آخر کیا پوچھنا چاہتے ہیں آپ۔
میری سمجھ میں آپ کی باتیں نہیں آتیں۔‘‘
’’سمجھ میں تو اس دن آئیں گی جب میں سب کے سامنے تمہارے کرتوت واضح کرتے ہوئے تمہیں اس گھر سے رخصت کروں گا۔‘‘
دل صدمے کے مارے رک سا گیا۔ دونوں بھائی اس کی ایک بات بھی سننے کو تیار نہ تھے۔ وہ بے قصور تھی۔ بس اسی لےے خدا سے پرامید تھی۔ لیکن آج عزیر نے بہت کچھ کہہ ڈالا تھا۔ رات کو روتے روتے سر پھوڑے کی طرح دکھنے لگا۔ آنکھیں سوج گئیں۔ جانے کس لمحے وہ دندناتے ہوئے کمرے میں آئے۔
’’کھانا لگوائو۔‘‘
اس نے بمشکل آنکھیں کھولیں۔
’’یہاں تم پلنگ توڑنے نہیں آئیں، چلوکھانا لگوائو۔‘‘ وہ اٹھی لیکن چکرا کر گر پڑی۔
’’یہ ادائیں کسی اور کو دکھانا۔ چلو سیدھی طرح ورنہ ہاتھ بھی استعمال کر سکتا ہوں۔‘‘ عزیر سرتاپا قہر بن رہے تھے۔ کسی نہ کسی طرح وہ ڈائننگ روم تک پہنچ گئی۔
ویک اینڈ پر عزیر خلافِ معمول گھر پر ہی تھے۔اور وہ اپنے کمرے میں۔ دونوں کے درمیان کوئی ربط باہم نہ تھا۔
ٹیلی فون کی گھنٹی سن کر وہ لپک کر اندر گئی۔ اس ویرانے میں تنہائی کا عذاب سہتے ہوئے یہی گھنٹی تو پیامِ حیات تھی۔
’’ہیلو بھابھی جانی!‘‘
زنیر لائن پر تھے۔
’’ہیلو زنیر! کیسے ہیں آپ؟‘‘
’’آپ کی دعائوں سے ایک دم اچھے۔ بھیا کہاں ہیں؟‘‘
’’گھر پر ہی ہیں۔‘‘ عائشہ نے بتایا۔
’’اوہو تو خوامخواہ کی ڈسٹربنس پیدا کی۔‘‘
’’نہیں نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔ میں آپ کو بے حد مس کر رہی تھی۔‘‘
’’زہے نصیب۔ بھابھی! ہم لوگ بھی آپ کے بغیر اداس ہیں۔ آپ نے تو جا کر آنے کا نام ہی نہیں لیا۔ بس ان کیپٹن عزیر احمد میں ہی کھو کر رہ گئیں۔‘‘
وہ ہنسی۔ درد چھپا کر۔
’’آجائوں گی زنیر! بس کچھ دن اور۔‘‘
’’مما آپ کو بے حد یاد کرتی ہیں۔ سچ آپ کی قربت میں گزرے لمحات بے حد یاد آتے ہیں۔‘‘
’’باقی لوگ کہاں ہیں؟‘‘
’’کہیںمحفلِ میلاد میں گئے ہیں ثواب کمانے۔ ہم نے سوچ آپ سے گفتگو کرلیں۔ یہ بھی تو کارِثواب ہے۔‘‘
’’شکریہ۔‘‘ وہ ہنسی۔
’’بھابھی! وہ سوہن حلوہ بہت یاد آرہا ہے جسے بنانے میں پوری رات ہی بیت گئی تھی۔ سچ ملتانی سوہن حلوے کو بھی مات کر دیا تھا۔ اور کچھ نہیں تو اپنے ہاتھوں سے وہی حلوہ بنا کر بھجوادیجےے۔‘‘
عاشی محبت اور خلوص کی چاشنی میں کھو کر رہ گئی۔
’’آپ آجائیں زنیر یہاں۔ سب کچھ بن جائے گا۔‘‘ واقعی اسے بھی چاہتوں کی طلب شدت سے ہورہی تھی۔
’’مجبوری ہے مادام! امتحان سر پر ہیں۔ امتحان سے فارغ ہوتے ہی آجائوں گا۔ اللہ حافظ۔‘‘
ریسیور رکھ کر کتنی دیر وہیں کھڑی رہی۔ سر اٹھایا تو عزیر سلیپنگ گائون کی جیبوں میںہاتھ ڈالے سر پر کھڑے تھے۔
’’تو نیا شکار زنیر ہے۔ ہمارے گھر کے یہ دستور نہیں ہیں عائشہ بیگم! کہیں اور ٹھکانہ ڈھونڈو۔‘‘
یہ الزام بالکل واضح اور گھنائونا تھا۔
’’عزیر احمد! خدا کے لےے ایسے مت کہیں پلیز! اس سے بہتر ہے آپ مجھے مار ڈالیں۔ میں اذیت بھری زندگی نہیں گزار سکتی۔ بے شک آپ سارے جہان کو میرے جرائم سے آگاہ کردیں۔ لیکن اب میں یہاں نہیں رہوں گی۔‘‘
٭٭٭
زبیر احمد اپنے آفس میں کسی فائل کی ورق گردانی میں مصروف تھے جب چپڑاسی نے ایک کارڈ ان کے سامنے رکھا۔
’’جمشید فارانی امپورٹر ایکسپورٹر وغیرہ وغیرہ۔‘‘
پورے پانچ سال بعد ایک نام عزیر احمد کے سامنے تھا۔ ’’جمشید فارانی‘‘ کب بھولے تھے وہ اسے آج کی طرح یاد تھا۔ ہیروئن کی بھاری مقدار اسمگل کرا کے ایک زرِ کثیر کما کر جمشید فارانی نے سروس چھوڑ دی تھی۔ اور بزنس کرنے لگا تھا۔ اس کے بعد انہیں کچھ خبر نہ تھی۔ آج وہ ان کے آفس کے باہر تھا۔ انہوں نے جمشید فارانی کو اندر بلانے کا کہا۔
چند لمحوں بعد وہ اس سے بغل گیر تھے۔ بے ڈول جسم اور بڑی ساری توند والا یہ مرد وہ ہینڈسم جمشید فارانی نہیں بلکہ خالص سیٹھ نظر آرہا تھا۔ گو جسم انقلاب کی نذر ہوگیا مزاج آج بھی ویسا تھا۔ ملتان قالینوں کی خریداری کے سلسلے میں آنا ہوا تھا۔ باہر زبیر کے نام کا بورڈ دیکھ کر پرانی رفاقت کے ناتے ملنے چلا آیا۔ آفس ٹائم ختم ہونے والا تھا۔ زبیر احمد اسے لے کر سند باد ہوٹل آگئے۔ لنچ کا آرڈر دیا۔ اور باتوں میں مصروف ہوگئے۔ اسے دیکھتے ہی ایک سوال بار بار ابھر رہا تھا۔ لیکن کوئی خیال ان کی آواز دبا دیتا۔ آخر وہ پوچھ ہی بیٹھے۔
’’تمہیں یاد ہے جمشید! وہ دو لڑکیاںجو ایک دن آئی تھیں۔‘‘
’’کن لڑکیوں کا ذکر کرتے ہو زبیر احمد عباسی! وہاں تو کئی لڑکیاں آتی تھیں اور چلی جاتی تھیں۔‘‘
’’جمشید ! وہ لڑکیاں جن میں ایک عائشہ نامی لڑکی سے میں الجھ پڑا تھا۔ سچ بتادو ان سے تمہارا کیا لنک تھا۔‘‘
کافی دیر وہ سوچتا رہا۔ وہ دن اسے یاد آگئے تو چونک اٹھا۔
’’اوہ یاد آیا۔۔۔ وہ لڑکیاں۔۔۔ وہ تمہارے لےے ہی آئی تھیں زبیر! تمہارا پوچھتی رہیں۔‘‘
’’تم تو ہر لڑکی کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ میرا بھی پوچھتی ہے۔‘‘ جمشید ہنس پڑا ماضی کو یاد کر کے۔
’’ارے نہیں یار! اس دن تو رئیلی وہ تمہارا مسئلہ تھا۔ میں نے تو انہیں مہمان سمجھ کر عزت کے ساتھ اندر بٹھا دیا تھا۔ لیکن تم نے توجہ ہی نہیں کی بلکہ دھتکار دیا۔تو وہ اندر ہی نہیں آئیں اسی وقت واپس لوٹ گئیں۔‘‘
’’سچ کہو تم اسے نہیں جانتے۔‘‘ وہ پھر بولے۔
’’آج اتنے عرصے کے بعد تمہیں کیسے یہ خیال آگیا۔ جاتے جاتے وہ ایک پیغام بھی دے گئی تھیں لیکن مجھے یاد نہ رہا۔‘‘
’’کیا پیغام تھا؟‘‘ زبیر احمد تجسس کا شکار تھے۔
جمشید ذہن پر زور دیتا رہا۔
’’غالباً وہ کسی آمنہ عباسی۔۔۔ یا۔۔۔‘‘ وہ یادداشت کو ٹٹول رہا تھا۔
’’کہیں وہ فاطمہ عباسی۔۔۔‘‘ زبیر نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
’’آف کورس۔۔۔ فاطمہ عباسی ہی تھا وہ نام۔‘‘
زبیر احمد اچھل پڑے۔
’’کیا پیغام تھا وہ۔ جلدی بتائو۔‘‘
’’بس یہی کہ اسے فاطمہ عباسی نے بھیجا تھا۔‘‘
’’اف۔۔۔!‘‘ زبیر احمد نے سر تھام لیا ہاتھوں سے۔
’’کہتے ہیں بعض اوقات کھوٹے سکُے بھی کام آجاتے ہیں۔ تم میرے لےے زندگی کا پیغام بن گئے جمشید!‘‘مزاح کے رنگ میں وہ بات چھپانا چاہتے تھے۔
’’یار! ہم کھوٹے سکُے کس طرح ہوگئے مارکیٹ میں ہماری بڑی ویلیو ہے۔‘‘ اس نے ذرا بھی برا نہیں مانا۔
’’نہیں یار! اب تو تم میرے لےے بہت قیمتی ہو۔‘‘
کھانا کھاتے ہوئے جمشید کئی کہانیاں چھیڑے رہا لیکن زبیر احمد کو ایک بات بھی اچھی نہ لگی۔ نہ انہوں نے غور سے سنی۔
صبح سے ہی وہ رونے دھونے میں گم تھی۔ عزیر احمد نے اسے مکمل طور پر فراموش کر دیا تھا۔ سارا دن گھر سے غائب رہتے شام کے چند لمحے گھر میں ٹکتے اور پھر کلب چلے جاتے۔
ایک دن صرف اسے جلانے کی خاطر ہی وہاں لے گئے۔ اور خود سارا وقت حسینائوں کے جھرمٹ میں گَم رہے۔ خاص طور پر وہ عاتکہ بخاری تو ان کے ساتھ رہی۔ جس کا تعارف انہوں نے بطورِ خاص اس سے کرایا تھا۔
اب تو عاشی نے گھر سجانا اور سنوارنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ بلکہ اپنی ذات سے بھی بے نیاز ہوگئی تھی۔ اس وقت بھی برآمدے کی سیڑھیوں پر اداس اور پریشان بیٹھی ناکام زندگی کے متعلق سوچ رہی تھی کہ ٹیکسی گیٹ پر رکی اور زبیر احمد کو دیکھ کر اس کا دل انجانے خدشوں میں گِھر گیا۔ خلافِ توقع وہ بہت خوش گوار موڈ میں تھے۔ اس کا دل جل گیا ۔ ساری تباہی کے ذمہ دار یہی تو تھے۔
وہ اس کے قریب آکر رکے۔ عاشی نے کوئی نوٹس نہ لیا۔
’’نہ سلام نہ دعا۔‘‘وہ شوخی سے بولے۔
’’پچھلے سلاموں کا جواب تو آئے۔‘‘ وہ جلی بھنی بیٹھی تھی۔ ایک کی چار سنانے کے موڈ میں۔ ناتا تو ویسے بھی ختم ہونا تھا۔ دل کی بھڑاس تو نکل جائے۔
’’بہت خفا ہو؟‘‘ وہ ندامت کے بوجھ سے جھکے جارہے تھے۔
’’جی نہیں۔ بہت خوش ۔‘‘ دل جل رہا تھا۔ لہجہ آگ تھا۔
’’اچھا!‘‘ وہ ہنسے۔
’’بربادی میں کون سی کسر اب باقی رہ گئی ہے جسے پورا کرنے آپ آئے ہیں۔‘‘
’’ہم تو آباد کرنے آئے ہیں۔ مسرتوں کی نوید لے کر آئے ہیں۔‘‘
’’میری ذات سے اس کے علاوہ کچھ مذاق کرنا باقی ہوں تو وہ بھی کرلیں۔‘‘
’’کوئی مذاق نہیں عائشہ! اٹھو اندر چلو۔‘‘
’’تاکہ وہ وحشی آئے اور میرا گلا گھونٹ دے۔‘‘ عاشی نے دل کے پھپھولے پھوڑے۔
زبیر نے بریف کیس ایک طرف رکھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’میں نپٹ لوں گا کسی بھی وحشی سے۔ تم اندر تو آئو۔‘‘
’’عائشہ! تم سمن آباد میرے گھر فاطمہ عباسی کا پیغام لائی تھیں نا۔‘‘ وہ چونکی۔ اور پھر لمحہ بھر رک کر سنبھلتے ہوئے بولی۔
’’شکر ہے آپ کو خیال تو آیا بے چاری فاطمہ عباسی کا۔۔‘‘
’’وہ کہاں ہے عائشہ! تم اسے کیسے جانتی ہو؟ پلیز مجھے بتادو سب کچھ۔‘‘
’’بڑی جلدی ہوش میں آئے آپ۔ مرجانے دیا ہوتا انہیں ایک ہی بار پوچھ لیتے ان کی قبر پہ جاکے۔‘‘
’’عائشہ پلیز! میری حالت پر رحم کرو۔‘‘
’’آپ پہلے طنز کے تیر تو چلا لیجےے۔ میری عزتِ نفس تو مجروح کرلیجےے پھر بتادوں گی سب کچھ۔‘‘
’’دیکھو معاف کردو نا اب۔‘‘ ان کے عاجزانہ انداز پر سدا کی رحم دل عاشی نرم پڑ گئی۔
’’تو سنےے۔ وہ میری پھوپھی زاد ہیں۔ اسما دیدی اور وہ گہری دوست تھیں۔ آپ کے متعلق اسما دیدی کو پل پل کی خبر تھی۔ جس دن گلریز بھائی نے انہیں آپ کے ساتھ دیکھا تھا اسی دن انہیں ہمارے گھر لے آئے تھے۔ میرے ڈیڈی ان دنوں لاہور میں تعینات تھے۔ گلریز بھائی نے ان کی پڑھائی ختم کرادی تھی اور دوسرے دن ساہیوال لے آئے۔ وہ آپ کو مطلع نہ کر سکیں۔ اسما دیدی کو آپ کا ایڈریس بتادیا۔ ہمارے ڈیڈی تو گلریز بھائی سے بھی زیادہ سخت تھے پھر بھی اسما دیدی نے دوست کی خاطر رسک لینا قبول کرلیا اور ساتھ ہی مجھے بھی اپنے ساتھ گھسیٹ لائیں۔ پہلے دن آپ نہ ملے۔ دوسرے دن ہم پھر آئے۔ تب اس شریف آدمی نے جو آپ کے ساتھ رہتا تھا۔ ہمیں انتظار کرنے کو کہا۔
آپ جانے مجھے کیا سمجھتے رہے۔ میری ایک بھی نہ سنی اور یہ جا وہ جا۔ پھر بھی ہم نے پیغام دے دیا تھا۔ لیکن افسوس آپ آج تک اپنی ہٹ پر قائم رہے۔‘‘
’’عائشہ! وہ کاغذ جو میں نے پھاڑا تھا اس پر کیا لکھا تھا؟‘‘
’’قسم لے لیں۔ میں نے تو وہ نہیں پڑھا تھا۔ اسما دیدی نے بتایا تھا کہ فاطمہ آپی قیامت تک آپ کا انتظار کریں گی۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ خوشی میں زبیر بد حواس ہو کر خاصے احمق لگ رہے تھے۔
’’میری پیاری عائشہ! میری اچھی سی بھابھی تم تو واقعی زندگی کا اَجالا بن گئیں۔‘‘
انہوں نے اس کے ہاتھ تھام لےے۔ عائشہ کا منہ پھولا ہوا تھا۔ بے اختیار زبیر احمد نے اسے گلے لگالیا۔ منانے کا کوئی اور طریقہ ذہن میں نہ آیا۔
’’تم صرف بھابھی ہی نہیں بہن بھی ہو۔ عاشی بہت اچھی بہت پیاری۔ کیا بھائی کو معاف نہیں کرو گی۔‘‘
عین اسی وقت بلا توقع عزیر احمد نے گھر میں قدم رکھا اور باتوں کی آواز سن کر ادھر ہی چلے آئے۔ عاشی نے نہیں دیکھا۔ زبیر کا رخ دروازے کی طرف تھا۔ عزیر ان لمحوں میں کچھ بھی سوچنے سے قاصر تھے۔ زبیر نے فوراً کہا۔
’’یار تم ہمیشہ غلط وقت پر نازل ہوجاتے ہو۔‘‘ عاشی اب تک ان کی پَرشفقت بانہوں میں تھی۔ اچھل کر مڑی۔
’’چلو خیر آگئے ہو تو انہیں منانے میں میری مدد کرو۔‘‘
’’یہ سب کیا ہے بھائی جان؟‘‘ ان کا لہجہ ذہنی الجھن کا غماز تھا۔
’’انقلاب۔‘‘ زبیر نے شوخی سے کہا۔
وہ عاشی سے ہٹ کر عزیر کی طرف آئے اور ان کا بازو پکڑ کر ڈرائنگ روم میں چلے آئے۔
پندرہ منٹ بعد ڈرائنگ روم کی فضا پہلی بار خوش گوار تھی۔ زبیر فاطمہ کے تصور میں گم تھے اور عزیر بھاگ کر عاشی کے کمرے میں جا پہنچے تھے۔
لیکن وہ وہاں نہ تھی۔ عزیر نے پورا گھر چھان مارا۔ نوکر کو بلایا کوئی بھی نہ تھا گھر پر۔
وہ واپس زبیر کے پاس آئے۔
’’بھائی جان! عائشہ نہیں ہے۔‘‘
’’ہائیں کہاں گئی وہ؟‘‘ زبیر بھی گھبرا گئے۔
عزیر کو ایک دم یاد آیا۔ انہوں نے خود ہی تو اسے جانے کا کہا تھا بلکہ جہاز کی ٹکٹ بھی لادی تھی۔ ایک بجے کی فلائٹ تھی اس کی۔
’’اوہ بھائی جان! وہ ایئرپورٹ گئی ہوگی۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘
’’آج اسے جانا تھا۔‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘
’’میں نے کہا تھا بلکہ سب انتظام کر دیا تھا۔‘‘
’’کس نے کہا تھا ایسا کرنے کو؟‘‘
’’میں نے خود ہی یہ فیصلہ کیا۔ اس زندگی سے تنگ آگیا تھا۔‘‘
’’اسٹوپڈ۔ ہم سے پوچھا تھا؟‘‘
’’اب کیا ساری عمر آپ ہی انگلی پکڑ کر چلاتے، کوئی فیصلہ کرنے کا ڈھنگ مجھے بھی آتا۔‘‘
’’بس پہلی بار ایک فیصلہ کیا او ر ساری گڑبڑ پیدا کر دی۔‘‘
’’معاف کیجےے۔ میں نے کوئی خاص گڑبڑ نہیں کی۔اس کی خبر ہے جو آپ نے میری اچھی خاصی زندگی کو پہلے دن ہی درہم برہم کر دیا۔ بھائی جان! آپ ہی قصور وار ہیں۔ حالات ایسے ویسے ہوگئے تو میں آپ کو معاف نہ کروں گا۔‘‘ عزیر سچ مچ ان پر بگڑ اٹھے تھے۔
دونوں گاڑی میں بیٹھے اور ایئرپورٹ چلے آئے۔ زبیر کو بھی اسی پرواز سے واپس جانا تھا۔ وہ پسنجر لائونج کی طرف آئے تو چادر میں لپٹی لپٹائی وہ ایک طرف کھڑی تھی۔
’’عاشی!‘‘
’’مت بات کیجےے مجھے سے زبیر صاحب!‘‘ اس کے لہجے میں سختی تھی۔
’’کیوں آگئیں؟‘‘
’’پھر کبھی نہ آنے کے لےے یہاں۔‘‘
’’وہ بے قصور ہے اسے معاف کردو۔‘‘
’’بے قصور تو آپ بھی ہیں۔ بس میں قصور وار ہوں۔ جرم تسلیم کر کے جارہی ہوں۔‘‘
’’مجھ سے جو بھی کہہ لو پر اسے سزا نہ دو۔‘‘
’’کیا کہوں؟ آپ تو ہمیشہ اپنی سنانے کی دھن میں رہے۔ میری سنتے تو نوبت یہاں تک نہ آتی۔‘‘ زبیر کو عاشی کا یہ غصہ بھی پیارا لگ رہا تھا۔
شیشوں کے پار عزیر احمد بے حد مجبور و بے بس تھے۔ عاشی نے ان کی طرف دیکھا بھی نہیں۔
جہاز فضا میں بلند ہوا تو عاشی نے ان کی طرف دیکھا۔
’’آپ میرے پیچھے کیوں آئے؟‘‘
’’تم تنہا کیسے جاتیں؟‘‘
’’وہ کیپٹن صاحب بھی تو تنہا بھیج رہے تھے۔‘‘
’’سب کچھ بھول جائو عاشی، خدا کے لےے۔ یہ بتائو جانا کہاں ہے؟‘‘
’’آپ کو پوچھنے کا حق ہی کیا ہے؟‘‘
’’میں تمہارا جیٹھ ہوں عاشی اور اپنے گھرانے کا سربراہ۔ تم میرے بھائی کی منکوحہ ہو۔‘‘ وہ اس کے سامنے اپنی اہمیت جتا رہے تھے۔ حق واضح کر رہے تھے۔
عاشی بے اختیار ہنس پڑی۔
’’ونڈر فل۔ صلح ہوگئی۔‘‘ زبیر بچوں کی طرح خوش ہوگئے۔
’’لیکن صرف آپ سے۔ ان سے ہرگز نہیں۔‘‘ اس کے تیور پھر بدل گئے۔
’’چلو ایسا ہی سہی۔‘‘ زبیر نے تسلی دی۔
’’لیکن کہاں جانے کا پروگرام ہے؟‘‘
’’سب سے پہلے اپنی فاطمہ آپی کے پاس۔‘‘
’’گڈ آئیڈیا۔ کیا میں بھی۔۔۔؟‘‘ زبیر خوش ہو کر بولے۔
’’جی نہیں۔ ابھی آپ کو منظرِ عام پر آنے کی اجازت نہیں۔ آپ اب صرف دولہا بن کر جائیں گے ساہیوال۔‘‘
’’جو حکم سرکار۔‘‘ انہوں نے ہاتھ جوڑ دےے۔
٭٭٭
’’فاطمہ آپی! مخل ہونے پر معذرت خواہ ہوں۔‘‘ لان میں صرف فاطمہ ہی تھی۔ سیاہ سوٹ میں ملبوس حسین تر مکھڑے پر سدا کی مایوسی اور تھکن کا احساس لےے۔
’’ارے! تم کب آئیں عاشی جان؟‘‘ وہ اس سے لپٹ گئی۔
’’رات۔ اور دیکھےے صبح ایک منٹ کی تاخیر کےے بغیر یہاں پہنچ گئی۔‘‘
’’خیر تو ہے؟‘‘
’’خیر ہی تو نہیں۔‘‘ عاشی مسکرائی۔
’’بتائو تو سہی۔‘‘
’’بس جلدی سے یہ گھر چھوڑنے کی تیاری کیجےے۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ انہوں نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
’’عباسی ولا میں شدُت سے آپ کی ضرورت ہے۔‘‘
’’میری ضرورت؟‘‘ وہ مزید پریشان ہوگئی۔
’’جی ہاں۔ میںنے اپنے جیٹھ جی کے لےے آپ کو پروپوز کیا ہے۔‘‘
’’عاشی! ہوش میں تو ہو۔‘‘
’’جی ہاں۔ بہت کرلیا آپ نے اس جفا جو کا انتظار۔ بہت ہولی۔ اب آپ کو چلنا ہی پڑے گا۔‘‘
’’امپاسیبل عاشی! قطعی ناممکن۔‘‘
’’قائم رہےے گا اپنی بات پر۔‘‘
’’بغیر کسی شک کے۔‘‘
’’تو گویا آپ کو زبیر احمد عباسی کا سنگ منظور نہیں؟‘‘
’’کیا مذاق ہے عاشی؟‘‘ فاطمہ کے ہاتھ پیر سنسنانے لگے تھے۔
’’مذاق نہیں۔ سچ آپی! میں نے آپ سے کہا تھا سچائی سچائی کوپالیتی ہے نا۔ آپ کے سچے جذبوں نے انہیں جیت لیا۔ آپی! وہ آپ کے ہی رہے۔‘‘
فاطمہ کا وجود کانپ رہا تھا۔ لرز رہا تھا۔ یقین اور بے یقینی دونوں ہی کیفیتیں ذہن میں تھیں۔
’’میرے جیٹھ زبیر احمد عباسی ہی تو ہیں۔‘‘
’’اب تک تم نے کیوں نہ بتایا؟‘‘
’’کیا بتاتی آپی جانی۔ آپ کی وجہ سے میری زندگی ہی بربادیوں کے خطرے میں تھی۔ آپ کوکیسے نوید دیتی۔ آج میں بہت خوش ہوں۔ آپ کو کیا بتائوں۔ جلدی سے میرے بھاری بھرکم ناشتے کا آرڈر دیجےے۔ پتا ہے دو روز سے بھوکی ہوں۔‘‘
فاطمہ نے اس کی سنی نہیں۔
’’مگر گھر والے۔‘‘
’’یہ مجھ پر چھوڑےے۔ میرے جیٹھ کی اونچی پوری شخصیت کو ٹھکرانے کی کسی میں ہمت نہیں۔ بس آپ رخصتی کی تیاری کیجےے۔ لیکن اس سے پہلے میرے ناشتے کا آرڈر پلیز۔‘‘
’’عاشی! زبیر ہے کیسا؟ ٹھیک ٹھاک تو ہے نا؟‘‘
’’آپ کی دعائوں سے پہلے سے زیادہ صحت مند۔ پہلے سے زیادہ خوب صورت۔ یہ تو آپ ہیں جدائی کے غم میں پریشان حال مجھے تو ڈر ہے۔۔۔‘‘ اس نے فاطمہ کو پریشان کرنے کے لےے جان بوجھ کر فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔
’’کیسا ڈر؟‘‘
’’شادی سے پہلے انہوں نے آپ کو دیکھ لیا تو انکار ہی نہ کردیں۔‘‘ مدتوں بعد ایک قہقہہ دل سے ابھرا اور لبوں تک آیا۔
’’نہیں عاشی! ہمارا بندھن سچ مچ روحوں کا بندھن ہے۔ ہر قسم کی مادیت سے مبرا۔ بالا تر۔‘‘
’’بڑا یقین ہے۔ ہاں بابا۔ مادہ پرست تو ہم ہیں جنہوں نے پلاٹینیم کے ایک سیٹ کی رشوت پر یہ سارا دھندا بکھیرا ہے۔‘‘ دونوں ہنس دیں۔
عاشی نے پھر اس گھر میں قدم ہی نہیں رکھا۔ آنوں بہانوں سے ساہیوال ہی میں رہی۔ اور ان کیپٹن عزیر احمد کو تو ایک جھلک بھی نہیں دکھائی۔
فاطمہ آپی کی بہن بن کر پورا مہینہ ان کے جہیز کی تیاری میں ہی لگادی۔ فرح اور رعنا نے اصرار کیا۔ زنیر نے انہیں بلایا۔ عابدہ بیگم نے حکم دیا لیکن معقول عذر پیش کر کے اس نے سب کو ٹال دیا۔
اس کے حکم کے مطابق زبیر دولہا بن کر ہی ساہیوال آئے۔
شادی کے دن بھی وہ ہر کام میں پیش پیش تھی۔ میرون کلر کے بھاری بنارسی سوٹ میں یاقوت کا سیٹ پہنے بڑا سا بنارسی دوپٹا سنبھالے وہ قیامت ہی لگ رہی تھی۔
دولہا کو اندر لایا گیا تو عزیر احمد بھی ساتھ تھے۔ ہجر کے صدموں سے بوجھل بوجھل وہ مکمل ان کی تھی۔ بغاوت پر آمادہ ہو کر پورے دو ماہ سے ان سے دور تھی۔ دو ماہ بعد پہلی بار نظر آئی تھی اور ایک دو بار بڑی کٹیلی نظروں سے ان کی طرف دیکھ کر ان کے دل پر مزید قیامت ڈھا چکی تھی۔
سالی بن کر بہت کچھ زبیر احمد سے بٹور رہی تھی۔ خوب خوب انہیں ستا رہی تھی۔ فرح اور رعنا بھائیوں کے پاس تھیں۔ اپنی دانست میں ان کا دفاع کر رہی تھیں۔ لیکن وہ ان دونوں پر بھاری تھی۔ دوگانہ ادا کرنے کے لےے زبیر نے جوتے اتارے تو وہ دونوں جوتے ہی کہیں چھپا آئی۔
رخصتی کے وقت تک جوتے زبیر کو نہ ملے۔
ممی نے اسے ٹوکا تو بڑے رسان سے بولی۔
’’کیا خبر جلدی میں دولہا ننگے پیر ہی چلا آیا ہو ممی!‘‘ فہمائشی قہقہہ پڑا۔
تب اس نے زبیر کے پاس جاکر سرگوشی کی۔
’’وہی سیٹ چلے گا یہاں زبیر!‘‘
زنیر نے اس کا بازو تھام لیا۔
’’بھابھی جانی کچھ تو دوسرے رشتے کا لحاظ کر لیجےے۔ پلیز یہ آخر آپ کے جیٹھ ہیں۔ معاملہ ادھار پر طے کرلیا جائے تو اچھا ہے۔‘‘
عزیر احمد سارا وقت خاموش ہی رہے۔
اسما دیدی جوتے لے آئیں۔ رخصتی کا وقت ہوگیا۔
اسی دم عائشہ غائب ہوگئی۔ دلہن کو گاڑی میں بٹھایا جاچکا تھا۔ زبیر نے ادھر دیکھا اور اندر بڑھ آئے۔ راستے کے تعین کے بغیر اندر چلے گئے۔
’’ارے یہ دولہا میاں یہاںکیا کر رہے ہیں؟‘‘ اسما دیدی باہر جارہی تھیں۔
’’اسمائ باجی! میری بھاگھی ہوں گی اندر انہیں لینے آیا ہوں۔‘‘
’’آپ جناب زبیر بھائی! اپنی دلہن کی فکر کیجےے اور ان کیپٹن صاحب کو بھیج دیجےے اندر۔ وہ لے جائیں گے۔‘‘ اب اسما دیدی بھی سب حالات سے آگاہ تھیں۔
زبیر باہر آئے اور عزیر کو بھیجا۔ شرمندہ شرمندہ وہ اس کمرے کے باہر کھڑے تھے جہاں عاشی تھی۔
پھر ہمت کر کے وہ اندر داخل ہوئے۔
وہ دروازے کی طرف پشت کےے دریچے میں کھڑی تھی۔
’’عائشہ! سب لوگ منتظر ہیں۔‘‘
’’مگر میں تو کسی کی منتظر نہیں۔‘‘
عزیر آگے بڑھے۔
’’چلو نا عائشہ!‘‘
’’کیا ضرورت ہے میری۔ مجھے تو آپ نے خود ہی دور ہوجانے کا حکم دیا تھا۔‘‘
’’وہ سب کچھ بھول جائو پلیز۔‘‘
’’بھول ہی جائوں گی۔ فاطمہ آپی کو اپنی منزل مل گئی۔ سب کی نظروں میں سرخرو ہوگئی۔ اب میرا وہاں کوئی کام نہیں۔‘‘
’’عائشہ! ساری غلطی بھائی جان کی تھی۔ سزا سب سے زیادہ مجھے مل رہی ہے۔‘‘
’’ظلم بھی تو سب سے زیادہ آپ نے ہی کےے۔ معاف کیجےے کوئٹہ میں گزرے ایام کی تلخی نہ عمر بھر بھول سکتی ہوں نہ آپ کو دل میں جگہ دے سکتی ہوں۔زبردستی کا بھی کوئی ناتا ہے۔‘‘
عزیر نے آگے بڑھ کر اس کے شانے تھام لےے۔
’’میں تمہارے بنا نہیں جی سکتا۔ عائشہ سچ میں نے تو پوری سچائیوں سے اپنایا ہے لیکن تم۔۔۔ تم تو۔۔۔‘‘
’’ہاں۔ میں تو سنگِ راہ ہوں۔ مگر اس قدر بھاری بھی نہیں۔ میر اکیا ہے مجھے راہ سے ہٹا کر آپ باآسانی اپنی منزل تک جاسکتے ہیں۔‘‘
’’نو پرابلم۔ ہم اسی سنگِ راہ کو اپنی منزل سمجھتے ہیں۔‘‘ عزیر نے ایک جھٹکے سے اسے اپنی طرف موڑا۔ پیار کے مدھر جام لٹاتی آنکھیں پہلی بار عاشی پر جمی تھیں۔ یہ مدہوش کردینے والی خوشبو، یہ بولتی آنکھیں، لبوں کی معنی خیز مسکراہٹ۔ ان سب نے مل کر نام نہاد نفرت اور گریز کو شکست دے دی۔
رائیگاں کیجےے آپ سجدے میرے، میرا کیا ہے میں اٹھ کر چلاجائوں گا
کل کہیں آپ ہی کو نہ کہنا پڑے ایک جبین چاہےے سنگِ در کے لےے
عزیر احمد کے لبوں نے ان کے کانوں کے قریب سرگوشی کی۔
کتنی دیر وہ ایک دوسرے میں کھوئے رہے پھر اچانک عزیر بولے۔
’’چلو جان! باہر لوگ پریشان ہوں گے۔ بات صرف بھائی جان کی ہوتی تو انہیں تاخیر کی سزا دے کرمجھے خوشی ہوتی لیکن کیاکریں یہاں اپنا بھی نقصان ہورہا ہے۔‘‘
عزیر احمد نے پھر اس کی آنکھوں میں جھانکا تو وہ لجا کر آگے بڑھ گئی۔ لیکن عزیر نے یہ نرم و نازک ہاتھ کبھی نہ چھوڑنے کے لےے پکڑ لیا اور باہر چلے گئے۔
*****


