زاویۂ نظر – فوزیہ یاسمین

روایت - ثمرہ بخاری 2

ابھی تھوڑی دیر پہلے میری بیٹی نے مجھ سے جو کچھ کہا وہ سب اس کے منہ سے سننے کا میں کبھی تصور بھی نہیں کر سکتی تھی وہ تو سب کچھ کہہ کر جا چکی تھی مگر اس کے جملوں کی باز گشت میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہی تھی۔

’’ساری غلطی آپ کی ہے مما!

ان سب باتوں کی ذمہ دار آپ ہیں۔

آج جو کچھ بھی ہوا وہ ایک دن ہونا ہی تھا۔

مما! آپ کو کیا لگتا ہے کہ پاپا ڈاکٹر ہیں اس لےے ان کے پاس فیملی کے لےے وقت نہیں، حالانکہ ڈاکٹرز کے پاس بھی اپنے بیوی بچوںکے لےے ٹائم ہوتا ہے کیونکہ وہ وقت نکالنا چاہتے ہیں۔ لیکن پاپاایسی کوئی کوشش ہی نہیں کرتے کیونکہ انہیں ایسی کوئی خواہش ہی نہیں، انہیں اگر فرصت کے لمحات میسر بھی آتے ہوں گے تب بھی وہ گھر آنے کے بجائے ہسپتال میں ہی آرام کرنے کو ترجیح دیتے ہوں گے۔‘‘

اور اس کی آخری بات تو مجھے اندر تک توڑ گئی تھی۔

’’آپ زندگی میں بیلنس نہیں رکھ سکیں مما!‘‘

ض ض ض

مما کو پانچویں بار فون کی طرف بڑھتا دیکھ کر ہانیہ کی بے زاری نقطۂ عروج پر پہنچ گئی ابھی پندرہ منٹ بھی نہیں گزرے تھے جب انہوں نے پاپا کو فون کیا تھا اور ان سے بات کرنے میں ناکام ہوگئی تھیں اسے یقین تھا اب بھی ریسپشن پر موجود نرس ایسا ہی کوئی جواب دے گی کہ ’’ڈاکٹر احتشام آپریشن تھیٹر میں بزی ہیں انہوں نے آپ کے لےے میسیج چھوڑ دیا ہے آپ شادی میںڈرائیور کے ساتھ چلی جائیں وہ لیٹ ہوجائیں گے۔‘‘

اور مما اس کا کئی دفعہ کا دہرایا جواب سن کر اپنا سار اخلاق اور تعلیمی قابلیت بالائے طاق رکھ کر اسی پر چیخنا چلانا شروع کر دیں گی اور یہی ہوا لائن مل جانے کے دس سیکنڈ بعد ہی وہ پاپا کا سارا غصہ اس نرس پر نکالنے لگیں۔

’’میں تم سے کہہ رہی ہوں نا مجھے ان سے بات کرنی ہے تمہاری سمجھ میں نہیں آرہا کیا۔ کون سی زبان سمجھتی ہو تم ایمرجنسی، ایمرجنسی، کیا ہسپتال میں وہی ایک ڈاکٹر ہیں میں نے ان سے صبح ہی کہہ دیا تھا میں شادی میں اکیلی نہیں جائوں گی۔ پھر وہ ابھی تک گھر کیوں نہیں لوٹے پارٹی ختم ہوجائے گی کیا تب جائیں گے۔

دو گھنٹے سے ہم تیار ہوئے بیٹھے ہیں اتنی بار میں موبائل پر ٹرائی کر چکی ہوںمگر انہوں نے موبائل سوئچ آف کر دیا ہے اگر تم نے میری بات نہیں کروائی تو میں خود وہاں آجائوں گی۔‘‘ مما کا غصہ بڑھتا ہی جارہا تھا اور ہانیہ کا شرمندگی سے زمین میں گڑجانے کا دل چاہ رہا تھا کیا سوچ رہی ہوگی وہ ریسیپشنسٹ؟ اتنے بڑے ڈاکٹر کی بیوی اور ایسی گفتگو، ایسی لینگویج۔

اب اگر پاپا وقت پر گھر نہیں پہنچے تو بھلا اس میں اس کا کیا قصور ہے جو مما اس پر ا س طرح چلُا رہی ہیں دوسری طرف اس نے بھی مما کی باتوں کو دھیان میں نہ لاتے ہوئے فون بند کر دیا یا شاید وہ بہت بزی تھی جو بھی تھا اس کے لائن کاٹ دینے پر مما پہلے تو حیران رہ گئیں پھر غصے سے ریسیور کریڈل پر پٹخا اور ادھر سے ادھر ٹہلنے لگیں۔

’’میری بات سنے بغیر اس لڑکی نے فون کاٹ دیا۔ ارے ڈاکٹر احتشام کی بیوی ہوں میں، کوئی نوکرانی نہیں۔ یہ عزت ہے میری ان کے اسٹاف کی نظر میں، اس میں اتنی ہمت نہیں ہوسکتی کہ وہ میرا فون بند کر دے ضرور احتشام نے ہی کہا ہوگا میری بیوی کی بکواس سننے کی ضرورت نہیں۔ وہ تو بھونکتی ہی رہتی ہے۔ خود کبھی میری عزت کی نہ دوسروں سے کروائی۔ اللہ ایسا شوہر کسی کو نہ دے۔ زندگی برباد ہوگئی ہے میری۔ ایک شادی میں جانے کے لےے دو گھنٹے سے تیارہوئی بیٹھی ہوں۔‘‘

ہانیہ چپ چاپ صوفے پر بیٹھی مما کو چیختا چلاتا دیکھتی رہی ۔یہ سب وہ بچپن سے دیکھ رہی تھی اس کے پاپا ڈاکٹر احتشام شہر کے بہت نامور ڈاکٹر تھے ان کے ہسپتال کا شمار بھی شہر کے چند بڑے اور بہترین ہسپتالوں میں ہوتا تھا وہ معاشی اور سماجی لحاظ سے جتنے کامیاب تھے ان کی ازدواجی زندگی اتنی ہی ناکام تھی۔ ہانیہ ان کی ایک ہی بیٹی تھی بچپن سے ان دونوں کے بیچ لڑائی جھگڑے دیکھتے رہنے کے باوجود وہ کبھی یہ نہیں سمجھ پائی تھی کہ ان دونوں میں غلط کون تھا۔

مما کو پاپا سے بس ایک ہی شکایت تھی کہ وہ گھر کو وقت نہیں دیتے۔ اور ان کی یہ شکایت بالکل جائز تھی ہانیہ کی بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آخر پاپا اتنے مصروف کیوں رہتے ہیں کہ ان کے پاس خاندان کی کسی تقریب میں شرکت کرنے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔ آخر ساری دنیا کے مرد کام کرتے ہیں بڑی بڑی کمپنیاں اور بزنس چلاتے ہیں وہ بھی اپنی فیملی کے لےے وقت نکال لیتے ہیں پھر پاپا ایسا کیوں نہیں کرپاتے ایک طرف سے اگر پاپا غلط لگتے تو دوسری طرف اسے مما کا رویُہ بھی ٹھیک نہیں لگتا تھا۔ دیر سے گھر آنا پاپا کا معمول تھا بلکہ ایک طرح سے ڈاکٹر احتشام کے آنے جانے کا کوئی وقت مقرر ہی نہیں تھا۔ چنانچہ جب انہیں کسی تقریب وغیرہ میں جانا ہوتا تو مما ایک ہفتے پہلے سے ڈاکٹر احتشام کی جان کھانا شروع کر دیتیں۔

’’آپ کو بھی چلنا ہوگا اگر آپ نہیں جائیں گے تو میں بھی نہیں جائوں گی۔‘‘ مما کے حتمی انداز پر ڈاکٹر احتشام جھنجھلا جاتے۔

’’میرے ساتھ جانے کو تم نے اپنی ضد بنالیا ہے میں اگر لیٹ ہوجاتا ہوں تو تم اور ہانیہ ڈرائیور کے ساتھ کیوں نہیں چلی جاتیں۔ میرے انتظار میں تم دونوں لیٹ ہوجاتی ہو اور میرے آنے کے بعد تم جانا ہی کینسل کر دیتی ہو، تنگ آگیا ہوں میں لوگوں کی شکایتیں سن سن کر کہ آپ لوگ تو کہیں جاتے ہی نہیں۔‘‘

’’ہاں میں اکیلی چلی جائوں اور پھر لوگوں کو صفائیاں دیتی رہوںکہ آپ ایمرجنسی میں پھنس گئے۔‘‘ مما تنک کر بولتیں۔

’’صفائیاں کیسی؟ یہ تو سچ ہے تمہارے اس روےُے سے مجھے بھی لوگوں کو صفائیاں دینی پڑتی ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں میں نے تم دونوں پر پابندی لگا رکھی ہے کہ جہاں جائو میرے ساتھ جائو، سارے ڈاکٹرز کی بیگمات میرا مذاق اڑاتی ہیں کہ میں بظاہر ماڈرن نظر آنے والا اندر سے ایک دقیانوسی انسان ہوں۔‘‘ ڈاکٹر احتشام کا لہجہ تلخ ہوجاتا۔

’’آپ کو صرف اس بات کی فکر ہے کہ میرے کہیں نہ آنے جانے سے آپ کے نام پر حرف آتا ہے اس بات کا کوئی احساس نہیں کہ بیوی اور بیٹی گھر تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔‘‘

مما کے آنسو بہنا شروع ہوجاتے اور پاپا چڑ کر بکتے جھجکتے وہاں سے اٹھ جاتے ایک تو پہلے ہی انہیں ساتھ بیٹھنے کا وقت کبھی کبھی ملتا تھا اس میں بھی وہ ایسے ہی کسی جھگڑے کی شکل میں برخاست ہوتا دونوں میں ہی ضبط کا فقدان تھا، ایک دوسرے کی بات سننا اور سمجھنا تو بعد کی بات تھی ان دونوں کو اپنی بات کہنے کا ڈھنگ بھی نہیں تھا۔ پاپا کے پاس وقت نہیں تھا اور کچھ وہ مما کے روےُے سے عاجز آکر وقت نکالنے کی کوشش بھی نہیں کرتے تھے تو دوسری طرف مما ان کی مصروفیت سمجھنے کی کوشش نہیں کرتی تھیں بلکہ جیسے ہی وہ گھر میں قدم رکھتے مما کسی نہ کسی بات کو بنیاد بنا کر جھگڑا شروع کر دیتیں انہوں نے صرف ضد میں آخر کہیں آنا جانا چھوڑ دیا تھا۔ انہیں لگتا ایسا کر کے وہ ڈاکٹر احتشام کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور کر دیں گی جب کہ ڈاکٹر احتشام ان کے روےُے پر ان سے خائف ہونے لگتے تھے کیونکہ لوگوں پر ایسا تاثر پڑنے لگا تھا جیسے ان دونوں کو ڈاکٹر احتشام کی طرف سے اجازت نہیں ہے حالانکہ ان کی طرف سے ایسی کوئی پابندی نہیں تھی البتہ ان دونوں کی اس ضد اور ہٹ دھرمی کے درمیان ہانیہ دونوں طرف سے پس رہی تھی۔

مما کی پھوپھی زاد بہن کے بیٹے کی شادی تھی وہ اپنے امتحانوں کی وجہ سے کسی فنکشن میں نہیں جاسکی تھی کیونکہ امتحان کے زمانے میں مما کو اس کا کمرے سے نکلنا تک پسندنہیں تھا کجا کہ کسی پارٹی میں جانا، آج ہی وہ تھرڈ ایئر کا آخری پیپر دے کر آئی تھی اور اس خیال سے وہ شادی میں جانے کے لےے خوشی خوشی تیار ہوگئی تھی کہ مسلسل پڑھائی کے ایک طویل اور تھکا دینے والے پیریڈ کے بعد تھوڑا سا ماحول بدل جائے گا ویسے بھی وہ بنیادی طور پر کافی ملنسار اور خوش مزاج تھی اسے مما کی طرح گھر میں بند رہنا پسند نہیں تھا بلکہ جیسے جیسے وہ بڑی ہورہی تھی اسے گھر میں پھیلی خاموشی کھٹکنے لگی تھی۔

ایسا نہیں تھا کہ گھر میں کوئی تھا نہیں، گھرمیں نوکروں کی ایک پوری فوج موجود تھی۔ مگر ظاہر ہے نوکروں کی فوج گھر میں رونق کا سبب نہیں بن سکتی۔ الٹا خانساماں اور صفائی والی ماسی سے تو اسے چڑ ہوگئی تھی۔ اس نے اکثر ان دونوں کو مما پاپا پر تمسخرانہ تبصرے کرتے دیکھا تھا۔ پہلی بار انجانے میں ان کی گفتگو سن کر اس کا دل چاہا انہیں کھڑے کھڑے نوکری سے نکال دے مگر وہ اس وقت ضبط کر گئی بعد میں غصہ ٹھنڈا ہونے پر اسے احساس ہوا کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے جہاں کوئی بات ہوتی وہ دونوں ایک دوسرے سے چیخ چیخ کر لڑنا شروع کر دیتے جس کے اختتام پر مما رونے لگتیں اور پاپا اسٹڈی روم میں بند ہوجاتے۔ چنانچہ مسئلہ وہیں کا وہیں رہتا جس پر کچھ دن بعد پھر جھگڑا ہوتا ان کے تبصرے سن کر اسے تکلیف بھی ہوتی مگر وہ ان کی باتوں سے اتفاق کرنے پر بھی مجبور ہوجاتی ایک بار اس نے ماسی کو کہتے سنا۔

’’صاب اور میم صاب اتنا لڑتے ہیں کہ ان کے بیچ سے ایک دوسرے کا لحاظ اٹھ گیا ہے۔ ارے جبان (زبان) کو جتنا کھلا چھوڑدو گے وہ اتنا ہی پھسلتی جائے گی ہر بات سب کے سامنے کہنے کی نہیں ہوتی ایسا کرنے سے دوسروں کے دلوںمیں سے بھی عزت ختم ہوجاتی ہے۔‘‘

ہانیہ کچن کے باہر کھڑی کی کھڑی رہ گئی اس کے ڈگری ہولڈر والدین جو بات سوچ بھی نہیں سکتے تھے وہ بات اس جاہل عورت کے منہ سے سن کر ہانیہ نے ان کی شکایت مما سے کرنے یا انہیں نوکری سے نکلوانے کا ارادہ ملتوی کر دیا جو کام ان دونوں کے ذمہ تھے وہ اسے پوری ذمہ داری اور ایمان داری سے کرتے تھے ایسے میں اگر کبھی کبھی وہ منہ کا ذائقہ بدلنے کے لےے اس کے ماں باپ کو موضوع گفتگو بنالیتے تو اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں تھی وہ ان کا مذاق اس لےے اڑاتے تھے کیونکہ اس کے والدین اپنا مذاق خود بنارہے تھے۔

آہستہ آہستہ غیر محسوس طور پر وہ ماں باپ سے دور ہوتی جارہی تھی ڈاکٹر احتشام کے پاس تو اس کے لےے بھی ٹائم نہیں تھا مگر وہ مما سے بھی فاصلے پر تھی حالانکہ ایسے ماحول میں بیٹیاں عموماً مائوں کی دوست بن جاتی ہیں۔ اوراس نے ہوش سنبھالنے کے بعد تھوڑی بہت کوشش بھی کی تھی مما کو سمجھانے کی۔ ان کا نکتۂ نظر بدلنے کی۔

’’آپ یہ کیوں سوچتی ہیں کہ پاپا آپ کونظر انداز کرتے ہیں انہوں نے تو پورے خاندان سے لڑ کر آپ سے شادی کی تھی۔‘‘ ایک بار ان کا تنائو کم کرنے کے لےے اس نے تھوڑا شوخ ہو کر کہا تھا۔

’’تم سے کس نے کہی یہ بات۔‘‘ وہ ٹھٹک کر اسے دیکھنے لگیں تو وہ شرارت سے مسکرادی۔

’’جس نے بھی کہی، ہے تو سچ نا، دادا دادی مان نہیں رہے تھے مگر پاپا اڑ گئے کہ شادی کروں گا تو صرف اور صرف آپ سے۔‘‘ ہانیہ کی بات پر ان کی تیوری پر بل پڑگئے۔

’’یہ کون سا طریقہ ہے ماں سے بات کرنے کا، اور کس نے کی یہ ساری بکواس تم سے۔‘‘ ان کے سختی سے پوچھنے پر ہانیہ گڑبڑا گئی اس نے ایک بار پھوپھی نجمہ کے منہ سے سنا تھا وہ بڑے طنزیہ انداز میں کسی سے کہہ رہی تھیں۔

’’آج تک سمجھ میں نہیں آیا کہ بھائی جان نے ان میں کیا دیکھا تھا۔ ماں باپ کے لاکھ سمجھانے پر بھی ان محترمہ سے شادی کی اور دنیا وآخرت دونوں تباہ کرلیں۔‘‘

ہانیہ، مما کے سامنے یہ سب دہرانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی ان کے تعلقا ت پھوپھیوں کے ساتھ ویسے بھی کچھ اچھے نہیں تھے، سالوں ہوگئے تھے ان کے گھر گئے ہوئے۔ اِدھر اَدھر تقریبات میں ہی ملاقات ہوجاتی۔ پاپا کے ساتھ وہی وقت کی کمی والا مسئلہ تھا اور مما کے ساتھ نند بھاوج والا روایتی مسئلہ تھا اور پھر دادا دادی بھی حیات نہیں تھے۔ دونوں پھوپھیاں ایک ہی گھر میں بیاہ کر گئی تھیں بھرے پورے سسرال میں رہتے ہوئے انہیں بھی بھائی بھاوج کے رسمی سے میل جول کی ضرورت نہیں تھی۔

’’مما۔۔۔ وہ ۔۔۔ پتا نہیں کس نے کہی تھی۔‘‘

مما کی آنکھوں میں تیرتے شبہات اور چہرے پر پھیلی ناگواری دیکھ کر اس کے لےے بات بنانا مشکل ہوگیا تھا، وہ تو جیسے کہہ کر پھنس گئی تھی۔

’’اوٹ پٹانگ فلمیں دیکھنے اور بے ہودہ میوزک سننے کی بجائے اگر تم پڑھائی کرلیا کرو تو شاید تمہارے رزلٹ پر کچھ اچھا اثر پڑجائے۔‘‘

ہانیہ بے یقینی سے انہیں دیکھتی چلی گئی وہ کون سی فلموں اور موسیقی کی شوقین تھی وہ تو محض پہاڑ جیسا دن کاٹنے کے لےے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر چینلز چینج کرنے لگتی اس کے والدین کبھی یہ نہیں سوچتے تھے کہ اس کے پاس صرف ایک ہی مصروفیت ہے اور وہ ہے پڑھائی۔ ایسے میں جب کالج کی چھٹیاں ہوجاتیں تو اس کے لےے وقت گزارنا مشکل ہوجاتا۔ مما کی کوئی سماجی مصروفیت نہیں تھی گھر میں بھی تمام کام کرنے کے لےے نوکر موجود تھے مما کو خود خالی بیٹھ کر بھی بوریت کا احساس نہیں ہوتا تھا اسی لےے انہیں کبھی یہ خیال بھی نہیں آیا تھا کہ ہانیہ کو کسی قسم کی تفریح یا ماحول میں تبدیلی کی ضرورت بھی ہوسکتی ہے اور انسانی فطرت یہی ہے کہ جو چیز اس کی دسترس سے باہر ہو وہی چیز اس کے لےے بے پناہ کشش کی حامل ہوتی ہے۔

اسے سہیلیوں کے گھر جانے یا انہیں اپنے گھر بلانے اور ان سے فون وغیرہ پر بات کرنے کی اجازت نہیں تھی بلکہ مما کو بلا وجہ گھر سے باہر نکلنا بھی پسند نہیں تھا چنانچہ ان کی طرف سے عائد ان تمام پابندیوں کے رد عمل کے طور پر اس کے اندر یہی سب کرنے کی خواہش سر اٹھانے لگتی تھی۔

وہ اپنی اس محدود اور سمٹی ہوئی زندگی سے تنگ آنے لگی تھی اسی لےے مما کی پھوپھی زاد بہن کے بیٹے کی شادی میں بھی جانے کے لےے وہ فوراً راضی ہوگئی تھی۔ حالانکہ تقریبات میں وہ زیادہ تر خاموشی سے بیٹھی رہتی کیونکہ وہ سب سے اتنے اتنے وقفے کے بعد ملتی تھی کہ کسی سے بے تکلفی تھی ہی نہیں، اس کے باوجود آٹھ بجے جانے کے لےے وہ ساڑھے سات بجے سے تیار ہو کر بیٹھ گئی۔

مما کا موڈ بھی بہت خوش گوار تھا۔ پاپا نے فون کر کے تاکید کی تھی بالکل تیار رہنا میرے آتے ہی نکل جائیں گے۔ ساڑھے آٹھ بجے تک مما نے خلافِ معمول خلافِ عادت بڑے سکون سے پاپا کا انتظار کیا تھا مگر پھر ایک نرس نے فون کر کے انہیں پاپا کا میسج دیا کہ وہ ایک ایمرجنسی کیس میں پھنس گئے ہیں آپ ڈرائیور کے ساتھ چلی جائیں۔ یہ سن کر کوفت تو ہانیہ کو بھی ہوئی مگر مما کا تو خون کھَل اٹھا۔ انہوں نے اسی وقت پاپا کا موبائل نمبر ملایا مگر موبائل آف تھا۔ جس پر ان کا غصہ مزید بڑھنے لگا۔

’’میں اس قابل بھی نہیں کہ خود فون کر دیتے ایک نرس سے کہلوادیا۔‘‘ مما کو ہاسپٹل کا نمبر ملاتا دیکھ کر ہانیہ کی برداشت ختم ہونے لگی۔

’’’مما، پاپا بزی ہیں تب ہی نرس کو فون کرنا پڑا اور موبائل بھی اسی لےے آف ہے تاکہ کوئی انہیں ڈسٹرب نہ کرے۔‘‘

’’ارے چھوڑو۔۔۔ میں خوب سمجھتی ہوں یہ سب تمہارے پاپا کے ڈرامے ہیں۔ ان کا پہلے سے ہی جانے کا موڈ نہیں تھا۔ بالکل آخری وقت میں اس لےے منع کیا ہے کہ اگر میں تیار ہوں گی تو ڈرائیور کے ساتھ چلی جائوں گی۔ حالانکہ جب میں نے کہہ دیا کہ آپ کے ساتھ جائوں گی تو کیا وہ ایک گھنٹا نہیں نکال سکتے میرے لےے۔‘‘

’’مما ڈرائیور کے ساتھ جانے میں آخرکیا برائی ہے۔ سب جانتے ہیں پاپا بہت بزی رہتے ہیں لیکن اگر وہ نہیں جاسکتے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بھی کہیں نہ جائیں۔‘‘ہانیہ زچ ہوگئی۔

’’ہاں بھئی پورا پاکستان تمہارے پاپا کے ہی کندھوںپر تو کھڑا ہے۔ آخر ساری دنیا کے مرد کام کرتے ہیں۔ تو کیا وہ بیوی بچوں کے ساتھ کہیں آتے جاتے نہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ ان کی نظر میں میری کوئی حیثیت نہیں ہے۔ میں کچھ بھی کہتی رہوں وہ اپنی ہی کریںگے۔ ویسے بھی گھر میں مسافروں کی طرح آتے ہیں اگر ایک بار میں نے ان کے بغیر جانا شروع کر دیا تو وہ اس ذمہ داری سے بھی آزاد ہوجائیں گے۔‘‘ ہانیہ کو ان کی باتوں سے کچھ کچھ اتفاق تھا مگر ان کا اتنا بدگمان ہونا بھی اسے ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔ بار بار ریسپشنسٹ کو فون کر کے وہ اپنا ہی تماشا بنا رہی تھیں۔

اسے ان کے چیخنے سے زیادہ یہ سوچ کر وحشت ہورہی تھی کہ جب پاپا گھر آئیں گے تو نئے سرے سے ایک ہنگامہ ہوگا اور یہی ہوا گیارہ بجے جب وہ گھر آئے تو مما پر بری طرح بگڑنے لگے۔ ظاہری بات ہے ریسپشنسٹ نے انہیں مما کی بے شمار کالز کا حساب دیا ہوگا۔ مما پہلے ہی بھری ہوئی تھیں۔ لہٰذ اگھر میں ایک طوفان آیا ہوا تھا آخر پونے بارہ بجے پاپا اس لاحاصل بحث پر اپنا کوٹ صوفے پر پٹختے ہوئے بولے۔

’’چلو اٹھو ابھی چلتے ہیں۔‘‘ ہانیہ نے حیران ہو کر پاپا کو دیکھا جو صبح سات بجے کے گھر سے نکلے ہوئے تھے ان کے چہرے پر تھکن کی دبیز تہیں صاف دیکھی جاسکتی تھیں۔ مگر مما پر ان کی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا وہ حسبِ عادت تنک کر بولیں۔

’’ہاں اب جائوں جب بارات جا چکی۔ نکاح ہوچکا۔‘‘

’’رخصتی تو نہیں ہوئی ہوگی نا، چلو ہانیہ بیٹے فوراً کھڑی ہوجائو۔‘‘ پاپا نے اس کی طرف دیکھا جس کی اپنی آنکھیں نیند سے بوجھل ہورہی تھیں۔ اتنے دنوں سے وہ امتحانوں کی وجہ سے ڈھنگ سے سو نہیں سکی تھی۔ آج پانچ بجے آخری پرچہ دے کر جب وہ آئی تو کافی دیر تک بیٹھی اپنے نمبرز کا اندازہ لگاتی رہی تھی پھر مما کے کہنے پر وہ اپنے کپڑوں کی طرف متوجہ ہوگئی۔

’’کوئی ضرورت نہیں ہے اس احسان کی، جائو جا کر سوجائو ہانیہ۔‘‘ انہیں یہ دھیان نہیں تھا کہ ہانیہ نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔

’’احسان کون کر ر ہا ہے۔‘‘ پاپا پھر بھڑک اٹھے۔ تھوڑی دیر کی بحث کے بعد وہ غصے سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے اور مما وہیں بیٹھی آنسو بہاتی رہیں کتنا کچھ تھا جو ہانیہ ان سے کہنا چاہتی تھی مگر وہ خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی۔ فریج میں بہت کچھ پڑا تھا وہ تینوں آرام سے کھا سکتے تھے۔ مگر وہ جانتی تھی اس وقت کوئی کچھ نہیں کھائے گا۔ پاپا تو دوپہر کے کھانے کے لےے بھی گھر نہیں آئے تھے پتا نہیں انہوں نے دوپہر میں بھی ڈھنگ سے کچھ کھایا تھا یا نہیں۔ اتنی ذہنی اور جسمانی تھکن کے باوجود جس طرح انہوں نے چلنے کے لےے کہا تھا اسے دیکھ کر ہانیہ کو مما کا رویہ بہت نامناسب لگا وہ سمجھ نہیں پارہی تھی مما ہر بات کو منفی زاویۂ نظر سے ہی کیوں دیکھتی تھیں۔ پاپا کے پیشے کو دیکھتے ہوئے ان کی مجبوریوں کو سمجھنے کی کوشش کیوںنہیں کرتیں۔ پاپا نے خود فون کر کے چلنے کے لےے کہا تھا اگر وہ نہیں آسکے تو وہ اسے اپنی بے عزتی کیوں سمجھنے لگتی ہیں۔ انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ پاپا کتنے تھکے ہوئے آئے ہیں انہیں ایک کپ چائے کے لےے ہی پوچھ لیں۔

وہ ان کے پاس بیٹھی ان ہی کے خلاف سوچتی رہی ایسا نہیں تھا کہ وہ پاپا کو صحیح سمجھتی تھی اسے خود یہی لگتا کہ پاپا کو گھر سے کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی انہیں ہانیہ اور مما کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق پڑتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اسے ایسا لگنے لگا تھا جیسے پاپا کی اس بے زاری کی وجہ مما کا اپنا ہی رویُہ ہے۔

ض ض ض

اگلے دو دن تک مما کا موڈ سب سے اکھڑا اکھڑا رہا۔ان کی عادت تھی جھگڑا پاپا سے ہوتا اور ناراض وہ ہانیہ اور نوکروں سے ہوجاتیں۔ شاید اس لےے کہ پاپا کے پاس اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ وہ ان پر اپنی ناراضی دکھا سکتیں بلکہ ہانیہ کو لگتا تھا اچھا ہی ہے جو پاپا گھر پر نہیں رہتے۔ کیونکہ وہ دونوں اس قابل ہی نہیں تھے کہ ایک ساتھ ایک چھت کے نیچے رہ سکیں تھوڑی دیر اگر وہ دونوں شائستہ انداز میں بات کر بھی لیتے تو بہت جلد وہ خوش گوار گفتگو تلخ کلامی کا روپ اختیار کر لیتی۔

دو دن سے مما کا جو تلخ رویہ تھا وہ پاپا کی لائی ساڑھی سے دو پل میں غائب ہوگیا۔ پاپا نے ہسپتال سے گھر آتے ہی ایک شاپر مما کی طرف بڑھا دیا تھا۔

’’یہ کیا ہے؟‘‘ مما ٹھٹک کر بولیں۔

’’کچھ خاص نہیں۔ ایک عورت آئی تھی ہسپتال۔ کچھ کپڑے بیچنے، ساری نرسز اور لیڈی ڈاکٹرز بڑے شوق سے دیکھ رہی تھیں۔ میں نے سوچا وہ بے چاری اتنے کپڑے کمر پر لاد کر لائی ہے تو ایک ساڑھی میں بھی خرید لوں ویسے اب زیب تو نہیں دیتا اس عمر میں یہ حرکتیں۔‘‘ ہانیہ کھانے کی میز کی کرسی گھسیٹنا بھول کر حیرانی سے ان دونوں کے رویُوں کا مشاہدہ کرنے لگی۔ جہاں پاپا اپنے انداز سے بے پناہ لاپروائی کا مظاہرہ کرنا چاہ رہے تھے تو دوسری طرف مما شاپر تھامے شش و پنج کے عالم میں کھڑی تھیں کہ آیا اکھولیں یا نہیں کھولیں، پھر پاپا کو ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتا دیکھ کر انہوں نے جیسے خود پر جبر کرتے ہوئے شاپر اپنے پاس ہی میز پر رکھ دیا اور سرسری انداز میں کہنے کی کوشش کی۔

’’ایک غریب عورت آئی تھی تو آپ دو تین جوڑے ہانیہ کے لےے بھی لے لیتے اس بے چاری کا بھلا ہوجاتا۔‘‘ بظاہر وہ کھانا نکال رہی تھیں مگر ان کی نظریں بار بار شاپر کی جانب اٹھ رہی تھیں۔

’’ہاں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا کیا لوں اس کے پاس سب ہاتھ کی کڑھائی کی ساڑھیاں تھیں۔ میں نے سوچا پتا نہیں تمہیںپسند بھی آئیں گی یا نہیں۔‘‘ پاپا نے بدستور بے نیازی دکھانے کی کوشش کی۔

’’اچھا!‘‘ مما اپنا شوق و تجسس چھپا نہیں پارہی تھیں۔ اس وقت بھی ساڑھی پر ہاتھ کی کڑھائی کا ذکر سن کر ان کی نظریں شاپر میں ہی سے ساڑھی کو دیکھ لینے کے لےے بے قرار ہوگئیں۔

ہانیہ مسکراہٹ ضبط کرتی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی نہ پاپا یہ کہہ رہے تھے کہ یہ ساڑھی مجھے تمہارے لےے اچھی لگی۔ اور میں نے لے لی دیکھ کر بتائو کیسی ہے۔ اور نہ ہی مما یہ کہہ سکتی تھیں کہ آپ میرے لےے کچھ لے کر آئے یہی کافی ہے محبت سے خریدی چیز کبھی بری نہیں ہوتی۔ مگر دونوں طرف سے بے نیازی دکھانے کی پوری پوری کوشش کی جارہی تھی۔ یہ خوامخواہ کی انا بھی کتنی عجیب ہوتی ہے اچانک ہی اسے کچھ خیال آیا تو وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔

’’ہاتھ کی کڑھائی۔ وہ بھی ساڑھی پر، پھر تو ضرور خوب صورت ہوگی۔‘‘ ہانیہ نے شاپنگ بیگ اپنی طرف کھینچا۔ اور ساڑھی نکال لی۔ لائیٹ پرپل کلر کی شیفون کی ساڑھی پر ہاتھ کی کڑھائی کے ساتھ موتیوں اور ستاروں کا بھی نفیس کام بنا ہوا تھا۔ مما کا چہرہ ایک دم کھل اٹھا اتنی خوب صورت ساڑھی دیکھ کر ان کا اضطراب صاف ظاہر کر رہا تھا کہ وہ اسے چھو کر اور اس کا پلو کندھے پر ڈالنے کے لےے بے چین ہوگئی ہیں مگر مشکل یہ تھی کہ پاپا کھانے سے ہاتھ روک کر ان کی شکل دیکھنے لگے تھے۔ لیکن جب پاپا وہ نہیں کہہ رہے تھے جو مما سننا چاہ رہی تھیں تو پھر وہ بھلا وہ کیسے کہہ سکتی تھیں جو پاپا کو خوشی دے۔ آخر ہانیہ ہی برملا بولی۔

’’بیوٹی فل اٹ از رئیلی نائس۔‘‘ لیکن پاپا کو ہانیہ کے منہ سے کی گئی تعریف سننے میں شاید کوئی دلچسپی نہیں تھی مما کو بھی کچھ تو کہنا تھا اس لےے بول پڑیں۔

’’آپ تو کہہ رہے تھے اس عمر میں ایسی حرکتیں زیب نہیں دیتیں میں تو سمجھی آپ سرخ کامدانی ساڑھی لے آئے ہوں گے۔ جب کہ یہ تو بہت نفیس اور سوبر سی ہے۔‘‘بہت احتیاط کے باوجود ان کے منہ سے تعریفی کلمات نکل ہی گئے جس کا احساس خود انہیں بھی ہوگیا اس لےے فوراً بول پڑیں۔

’’ویسے آج کل ایسی ساڑھیاں چل نہیں رہیں، لیکن کوئی بات نہیں، ایک غریب عورت کا بھلا ہوگیا۔ اور کیا چاہےے۔‘‘ ڈاکٹر احتشام کچھ دیر مما کی شکل دیکھتے رہے پھر واپس پلیٹ کی طرف متوجہ ہوگئے۔

’’ٹھیک ہے تمہیں پسند نہیں تو کوئی بات نہیں اب تو ماشائ اللہ ہانیہ بھی بڑی ہوگئی ہے وہ پہن لے گی۔‘‘

’’ہانیہ کیوں پہنے گی۔ میں باندھوں گی۔‘‘ مما کا تڑپ کر بولنا ان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گیا تھا جسے ان دونوں نے ہی چھپا لیا مگر مما دھیان دےے بغیر بولیں۔’

’’ہمارے ہاں لڑکیاں شادی سے پہلے ساڑھی نہیں باندھتیں۔‘‘ انہوں نے گویا صفائی دی۔

’’تم تو باندھتی تھیں۔‘‘ پاپاایک دم بولے۔

’’کوئی نہیں۔ میں نے کبھی شادی سے پہلے ساڑھی نہیں باندھی۔‘‘ مما باقاعدہ جرح پر اتر آئیں۔

’’بیگم آپ کی یادداشت کچھ کمزور ہوگئی ہے میں نے آپ کو پہلی بار ساڑھی میں ہی دیکھا تھا، ڈارک بلو کلر کی ساڑھی باندھ رکھی تھی آپ نے جس کا وہائٹ پھولوں کا پلو تھا۔‘‘ ہانیہ کو لگا مما کے ہونٹوں کے کناروں پر ایک مسکراہٹ ابھر کر غائب ہوگئی ہو وہ اپنے سابقہ انداز میں بولیں۔

’’ہو ہی نہیں سکتا۔ میرے دادا جان کی طرف سے اجازت ہی نہیں تھی آپ نے پتا نہیں کسے دیکھ لیا اور آج تک اس کے تصور میں کھوئے ہوئے ہیں۔‘‘

شادی کے اتنے سال بعد بھی ان کا انداز ایسا تھا جیسے کوئی نئی نویلی دلہن جھینپ مٹانے کے لےے بولی ہو۔ ہانیہ کو پہلی بار ان کی لڑائی دیکھنے میں مزا آرہا تھا۔

’’تو پھر آپ نے وہ حرکت اپنے داداجان سے چھپ کر کی ہوگی۔ مگر وہ آپ ہی تھیں۔‘‘ پاپا کی بات پر مما کچھ کہنا چاہتی تھیں کہ وہ ہانیہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے۔

’’ہانیہ! بیٹا یہ ساڑھی آپ باندھ لیجےے گا۔ آپ کی مما کو تو کچھ خاص پسند نہیں آئی اور بقول ان کے آئوٹ آف فیشن بھی ہے۔‘‘

’’پاپا میں یہ ساڑھی باندھ کر کہاں جائوں گی۔‘‘ ہانیہ ان کی شرارت سمجھتے ہوئے بظاہر مسکین سے انداز میں بولی۔

’’آپ کی پھوپھی کے گھر میں اتنی بڑی پارٹی ہونے والی ہے، وہاں اس ساڑھی میں آپ بہت حسین لگیں گی۔‘‘ ہانیہ جانتی تھی یہ بات پاپا نے اس سے نہیں کہی اور نادان تو مما بھی نہیں تھیں جو یہ نہ جان پاتیں کہ یہ ہدایت ہانیہ کے لےے نہیں ہے مگر ان کا چہرہ تو ڈاکٹر احتشام کے جملے کے آغاز پر ہی سنجیدہ ہوگیا تھا بھلا آخری بات پر وہ کیسے دھیان دیتیں۔

’’کیسی پارٹی۔‘‘ مما نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔

’’تمہیں نہیں پتا نجمہ کا فون آیا تھا صائم کو بہت بڑی ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب مل گئی ہے۔ میں نے کہا ہم مبارک باد دینے آئیں گے تو وہ کہنے لگی۔ آپ کہاں بار بار وقت نکالیں گے فنکشن میں آجائےے گا اس ہفتے پارٹی ہونے والی ہے۔‘‘ مما لب بھینچے پوری سنجیدگی سے انہیں دیکھتی رہیں۔

’’آپ کی بہن نے مجھے انوائیٹ نہیں کیا۔‘‘

پاپا ان کے انداز پر کھانے سے ہاتھ روک کر ان کی شکل دیکھنے لگے۔

’’اس نے ابھی انویٹیشن نہیں دیا صرف ذکر کیا ہے اور ویسے بھی وہ مجھ سے کہے یا تم سے ایک ہی بات ہے۔‘‘

’’اگر بات ایک ہی ہے تو آپ کی جگہ وہ مجھے بھی فون کر سکتی تھی لیکن وہ تو ہر وقت آپ کے موبائل پر اس وقت فون کرتی ہے جب آپ کے گھر پر ہونے کے کوئی امکان نہ ہوں۔ تاکہ مجھ سے بات نہ کرنی پڑجائے۔‘‘ ہانیہ گہرا سانس کھینچ کر اپنی جگہ پر بیٹھ گئی وہ جانتی تھی کہ یہ بحث ابھی اور بڑھے گی جانے اتنی دیر انہوں نے لڑے بغیر کیسے بات کر لی تھی۔

’’اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ تم اتنے روڈ انداز میں بات کرتی ہو کہ لوگ تم سے مخاطب ہونے سے کتراتے ہیں۔‘‘ پاپا نے گلاس میں پانی نکال کر جگ میز پر پٹخنے کے انداز میں کہا۔

’’ہاں ہاں ساری برائیاں تو مجھ میں ہیں اتنی دیر سے مجھے حیرت ہورہی تھی کہ آخر میرے لےے ساڑھی خریدنے کا خیال آپ کو کیسے آگیا۔ اب سمجھ میں آیا ہے کہ یہ ساڑھی نہیں رشوت ہے۔ جو میری زبان بند کرنے کے لےے خریدی گئی تھی تاکہ میں یہ نہ کہوں کہ میری پھوپھی زاد بہن کے گھر میں پہلی اور آخری شادی تھی اور اس کے بیٹے کی شادی کے فنکشن میں آنے کے لےے آپ کے پاس وقت نہیں تھا مگر اپنے بھتیجے کی ملازمت کی خوشی میں دی جانے والی پارٹی میں آپ وقت پر پہنچ جائیںگے۔‘‘

حسبِ معمول مما نے نان اسٹاپ بولنا شروع کر دیا تھا۔

’’آپ کو میرے میکے میں آنا جانا بالکل پسند نہیں۔ انہیں تو آپ کبھی عزت نہیں دیتے۔ صرف اپنی بہنوں کی فکر ہے۔‘‘

’’کون سی فکر دکھا رہا ہوں میں اپنی بہنوں کی۔ ارے انہیں تو یہی گلہ رہتا ہے کہ میں ان کے گھر نہیں جاتا۔ خود بتائو کب گئے تھے ہم آخری بار ان کے گھر۔ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے مہینوں گزر جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کی شکل دیکھے ہوئے، ہانیہ کو تو یہ بھی یاد نہیں رہا ہوگا کہ اس کے کل کتنے کزنز ہیں۔‘‘ غیر ارادی طور پر ہانیہ اپنے کزنز کے نام اور ان کی تعداد ذہن میں دہرانے لگی۔ نجمہ پھوپھی کے تین بچے تھے۔ ایک تو صائم ہی تھا اس سے چھوٹی دو بیٹیاں تھیں ثمرین اور فائزہ جب کہ نجمہ پھوپھی سے چھوٹی نفیسہ پھوپھی کے چار بچے تھے عالیہ، حمید، نبیلہ اور حامد لیکن ان سب کی شکلیں اسے ٹھیک طرح سے یاد نہیں تھیں اور نہ یہ پتا تھا کہ کون کس عمر کا ہے اور کس کلاس میں ہے جس کی ایک وجہ یہی تھی کہ وہ بہت کم ملتے تھے اور دوسری بری وجہ یہ بھی تھی کہ دونوں پھوپھا کے اور دو بھائی بھی تھے اور ان کے بیوی بچے سب ساتھ ہی رہتے تھے سب کزنز ہم عمر تھے اور اتنے گھلے ملے رہتے تھے کہ پتا نہیں چلتا تھا کون کس کی اولاد ہے پھر شعوری زندگی میں قدم رکھنے کے بعد وہ ان کے گھر کافی عرصے سے نہیں گئی تھی اور تقریبات میں اتنی تفصیلی بات نہیں ہوپاتی تھی، وجہ چاہے جو بھی ہو اتنے عرصے میں پہلی بار اسے یہ سب سوچ کر بہت عجیب لگا تھا۔ شاید پاپا کے کہنے کا انداز اتنا کھردرا تھا کہ وہ خوامخواہ اپنی جگہ شرمندہ ہوگئی جب کہ مما پر اثر بھی نہیں ہوا۔ تھوڑی ہی دیر میں ان کی بحث شدید جھگڑے کی صورت اختیار کر چکی تھی جس کے نتیجے میں وہ دونوں ہی کھانا چھوڑ کر ڈائننگ روم سے نکل گئے۔ پاپا عام طور پر کھانا کھانے کے بعد ایک آدھ گھنٹا آرام کر کے ہسپتال جاتے تھے مگر اس جھگڑے کے بعد وہ وقت سے پہلے ہی چلے گئے۔ ہانیہ میز پر پڑی اس ساڑھی کو دیکھنے لگی جس پر پاپا کے زور سے پلیٹ دھکیلنے پر سارا سالن الٹ گیا تھا۔

ض ض ض

نجمہ پھوپھی نے اگلے ہی دن مما کو فون کر کے پارٹی میں آنے کی دعوت دی تھی گھر میں جس بات کو لے کر انہوں نے اتنا ہنگامہ کیا تھا اسی بات پر نجمہ پھوپھی سے فون پر بات کرتے ہوئے وہ بڑے خوش گوار انداز میں آنے کی ہامی بھر رہی تھیں۔ ہانیہ دل ہی دل میں دعائیں مانگنے لگی کہ پاپا ہمیشہ کی طرح اس بار بھی لیٹ ہوجائیں تاکہ مما یہ نہ کہہ سکیں کہ اپنی بہن کے گھر جانے کے لےے انہیں فوراً وقت مل گیا مگر جانے یہ اتفاق تھا یا مما کے اندازے درست تھے کہ اس دن پاپا ٹھیک ٹائم پر گھر پہنچ گئے۔ ہانیہ تو یہ سوچ کر تیار بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ کون سا وقت پر نکلیں گے مگر پورچ میں پاپا کی گاڑی کے رکنے کی آواز سن کر وہ تیزی سے ٹی وی آف کرتی صوفے سے اٹھ گئی ۔

اپنے کمرے میں جلدی جلدی تیار ہوتے اسے یقین تھا کہ نیچے مما پاپا کے بیچ جھگڑا ہورہا ہوگا اور اس وقت تو اسے مما ہی حق بجانب لگ رہی تھیں۔ آج تو اسے بھی یہی محسوس ہورہا تھا کہ وہ دونوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔ محض دس منٹ میں جب وہ تیار ہو کر نکلی تو گھر میں پھیلی خاموشی دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی۔ کچھ دیر وہ وہیں کھڑی ان دونوں کا انتظار کرتی رہی پھر ان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ دروازہ ناک کر کے جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو مما کو بستر پر لیٹا دیکھ کر مزید حیران ہوگئی، اسی لےے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں پاپا کو دیکھنے لگی جو ان کے بیڈ کے پاس ہی دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے کھڑے تھے اس پر نظر پڑتے ہی وہ سپاٹ لہجے میں کہنے لگے۔

’’آپ کی مما باتھ روم میں سلپ ہوگئیں اور آپ نے مجھے اطلاع تک نہیں دی۔‘‘

’’کیا۔۔۔!‘‘ ہانیہ اس خبر پر کبھی انہیں اور کبھی مما کو دیکھنے لگی جو آنکھیں موندے لیٹی تھیں۔ ہانیہ بے اختیار ان کی طرف بڑھی اور ان کے سرہانے بیٹھ گئی۔

’’مما! آپ ٹھیک ہیں نا، کیا ہوا۔ آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔‘‘

’’میں ٹھیک ہوں ہانیہ! بس ذرا پیر میں موچ آگئی ہے۔ میں نے تمہیں اس لےے نہیں بتایا کہ تم پریشان ہوگی اور تمہارے پاپا کو اطلاع اس لےے نہیں کی کہ وہ تب ہی آئیں گے جب انہیں فرصت ہوگی۔ کام جلدی سمیٹ کر تو وہ آ نہیں سکتے۔ کم از کم میرے لےے۔‘‘ مما کا لہجہ بڑا نپا تلا تھا۔ ہانیہ پاپا کی طرف دیکھنے لگی جن کے چہرے پر کوفت کا تاثر پھیلنے لگا تھا۔

’’مما! کون سے پیر میں موچ آئی ہے۔‘‘ ہانیہ ان کا کمبل ہٹاکر پیر کا معائنہ کرنے لگی۔ پائوں پر کوئی نشان اور سوجن نہیں تھی مگر بقول مما کے ٹخنے میں بہت تکلیف ہورہی تھی اور وہ بالکل کھڑی نہیں ہوسکتی تھیں۔ ہانیہ کو پاپا کے اس طرح لا تعلق بنے رہنے پر غصہ تو بہت آرہا تھا مگر اسے مما کی طرح غصہ دکھانا نہیں آتا تھا۔ وہ ان کے پائوں پر تیل گرم کر کے مساج کرنا چاہتی تھی مگر مما تیار ہی نہیں ہوئیں۔ ان کی ایک ہی ضد تھی کہ وہ دونوں پارٹی میں چلے جائیں۔ حالانکہ اب ہانیہ کا دل نہیں چاہ رہا تھا مگر اس کے انکار کرتے ہی مما بستر پر اٹھ بیٹھیں۔

’’کیوں، کیوں نہیں جائو گی تم۔ کتنے سالوں بعد باپ کے ساتھ کہیں جانے کا موقع ملا ہے۔ تمہارے پاپا اتنے ٹف شیڈول میں سے ٹائم نکال کر آئے ہیں، وہ اکیلے جاتے کیا اچھے لگیں گے ۔بقول ان کے تمہیں اپنے کزنز کی تعداد تک یاد نہیں رہتی ہوگی۔ تمہیں اپنی ددھیال میں ضرور جانا چاہےے۔‘‘

مما کا لہجہ بڑا عجیب تھا، وہ بات ہانیہ سے کر رہی تھیں مگر ان کی نظریں پاپا پر جمی تھیں۔ ہانی بغور ان کی شکل دیکھنے لگی، جہاں کسی درد اور تکلیف کا شائبہ تک نہیں تھا۔

’’تو کیا مما جھوٹ بول رہی ہیں۔‘‘ اچانک اس خیال پر وہ پاپا کو دیکھنے لگی جن کی تیوری چڑھ گئی تھی، مما کی بات سن کر۔

’’آپ کی مما ٹھیک کہہ رہی ہیں ہانیہ! ہم دونوں چلتے ہیں مما کو آرام کرنے دیں۔‘‘ پاپا سے اس جملے کی توقع مما کو بھی نہیں تھی، تب ہی وہ چونک گئی تھیں۔

’’میں تو ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ اگر میں مصروف ہوتا ہوں تو تم دونوں اپنا پروگرام کیوں خراب کرتے ہو۔ لہٰذا اگر آج تمہاری مما نہیں جاسکتیں تو کیا ہوا، ہم دونوں چلتے ہیں۔ تم کھانا کھالینا، میں دوا بھی دے دیتا ہوں، کھانے کے بعد لے لینا۔ اگر کوئی موچ آئی ہے تو اس دوا سے ضرور آرام آجائے گا۔‘‘

پاپا نے لفظ ’’اگر‘‘ کو جس طرح کھینچا تھا، اس پر مما نے لب بھینچ لےے تھے۔ ایک دم ہی انہوں نے اپنے پائوں پر رکھا ہانیہ کا ہاتھ جھٹکا اور واپس لیٹ گئیں۔

’’کمرے کی لائٹ آف کردو، میں سونا چاہتی ہوں۔‘‘ ہانیہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ ان کی بات پر کیا کہے، پاپا اسے باہر آنے کا حکم صادر کرتے ہوئے لائٹ آف کر کے باہر نکل بھی گئے۔

’’مما! کیا واقعی آپ کو چوٹ لگی ہے۔‘‘ ہانیہ نیم تاریکی میں انہیں دیکھتے ہوئے آہستگی سے پوچھنے لگی۔

’’کیوں، کیا مجھے چوٹ نہیں لگ سکتی جو تم اس طرح پوچھ رہی ہو۔‘‘ یہ احساس ہوجانے کے باوجود کہ ڈاکٹر احتشام اور ہانیہ ان کا جھوٹ بولنا سمجھ گئے ہیں وہ بڑے مطمئن انداز میں بولیں۔ ہانیہ عجیب سے ملال میں گھری انہیں دیکھتی رہی۔ ہمیشہ پاپا کی وجہ سے ان کا پروگرام خراب ہوتا تھا۔ لہٰذا آج انہوںنے پاپا کا پروگرام خراب کر دیا۔ ایسا کر کے یقینا انہوں نے اپنے کئی جذبوں کی تسکین کرلی ہو گی مگر اپنی اولاد کی نظرمیں انہوں نے خود کو بہت چھوٹا بنا لیا تھا۔ ہانیہ بغیر کچھ کہے، ان کے کمرے سے نکل آئی۔

اسے پاپا کا مما کو اس طرح نظر انداز کر کے پارٹی میں جانا بالکل مناسب نہیں لگا تھا مگر خود اس پر بڑی شرمندگی طاری تھی۔ چنانچہ وہ پاپا کو منع نہ کر سکی۔ البتہ اس کا ذہن مما کی طرف ہی اٹکا ہوا تھا جو وہاں جا کر بھی منتشر ہی رہا۔

نجمہ پھوپھی نے تقریب گھر میں ہی منعقد کی تھی۔ ان کی بڑی سی کوٹھی سجی ہوئی تھی جیسے گھر میں کوئی شادی ہورہی ہو۔ کوٹھی کے باہر گاڑیوں کی لمبی قطار بے تحاشا مہمانوں کی موجودگی کا پتا دے رہی تھی۔ پاپا کے ساتھ گیٹ سے داخل ہوتے وقت وہ خوامخواہ جھجک رہی تھی۔ کھلے گیٹ سے لان میں بیٹھے لوگوں کا بے تحاشا ہجوم صاف دکھائی دے رہا تھا۔ گیٹ پر کھڑے پھوپھا اور دوسرے کچھ مردوں کی موجودگی میں ڈاکٹر احتشام نے جب مما کی طبیعت کی خرابی کا ذکر کیا تو ہانیہ میں ہمت ہی نہ ہوئی نظر اٹھا کر ان کے تاثرات دیکھنے کی۔ اتنے عرصے بعد وہ آئے تھے۔ اس میںبھی مما ساتھ نہیں تھیں۔ ہانیہ کو ایسے شرمندگی ہورہی تھی جیسے وہ سب جانتے ہوں کہ ڈاکٹر احتشام جھوٹ بول رہے ہیں اور انہیں خبر ہے کہ ان کے گھر میں کیسے کیسے ڈرامے ہوتے ہیں۔

پھوپھا نے پاپاکی بات کو بڑے سرسری انداز میں لیا جیسے مما کے نہ آنے سے کوئی فرق ہی نہ پڑا ہو۔ ایک طرف اسے مما سے اختلاف تھا تو دوسری طرف ان کی ذات کا اس طرح نظر انداز ہونا بھی اسے کھل رہا تھا۔

پھوپھیوں کو رسمی سا سلام کر کے وہ ایک جانب بیٹھ گئی۔ ہنستے کھلکھلاتے چہروں کو ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف دیکھ کر اس پر اداسی سی طاری ہونے لگی۔ حالانکہ گھر کی ہر وقت کی تنہائی اور خاموشی سے ہٹ کر ایسے ماحول اسے ہمیشہ اچھے لگتے تھے، اس لےے ایک کونے میں بیٹھ کر محض لوگوں کو دیکھ کر بھی اسے بوریت نہیں ہوتی تھی مگر اس وقت اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ انہیں دیکھتے ہوئے ایک ہی بات سوچ رہی تھی کہ کیا واقعی یہ سب لوگ اتنے ہی خوش اور مطمئن ہیں، جتنا نظر آتے ہیں۔ کیا ان کی زندگی میں کوئی دکھ، کوئی پریشانی نہیں ہے۔

دیکھا جائے تو پریشانی تو اس کی زندگی میں بھی نہیں تھی۔ ہاں بس تنہائی بہت تھی اور افسوس اس بات کا تھا کہ یہ اکیلا پن اس کی اپنی ماں کا عطا کر دہ تھا۔

’’ارے ہانیہ! تم بھی آئی ہو۔ یہ آج سورج کہاں سے نکلا تھا۔‘‘ ایک چہکتی آواز پر اس کی سوچوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اس کے سامنے اس کی پھوپھو کی سب سے بڑی نند کی بہو کھڑی تھیں۔ ہانیہ انہیں دیکھ کر فوراً کھڑی ہوگئی۔ ان کی گود میں ان کا تقریباً دو سال کا بیٹا تھا جسے دیکھ کر ہانیہ کی حیرانی عروج پر پہنچ گئی۔ وہ آخری بار ان کی شادی میں شرکت کرنے ہی آئی تھی۔ گویا اسے ان لوگوں سے ملے تین چار سال ہوگئے تھے۔ رسمی بات چیت کے بعد اس نے اپنی حیرانی کا اظہار بھی کر دیا۔

’’آپ نے مجھے کیسے پہچان لیا، میں جب آپ کی شادی میں آئی تھی، تب صرف ولیمہ والے دن آئی تھی اور آپ اس وقت دلہن بنی بیٹھی تھیں۔‘‘

’’میں تمہیں کوئی اپنی سسرال کی وجہ سے تھوڑی جانتی ہوں۔ ہماری براہِ راست بھی کچھ رشتے داری ہے مگر تم تو شاید قریبی رشتے داروں کو بھی نہیں جانتی ہوگی۔ برادری سے باہر شادی کرنے کی جو رسم شروع ہوئی تھی، بس سمجھ لو اسی کے نتیجے میں، میں اس خاندان کی بہو بن گئی۔‘‘ وہ ہنس کر اس کی نانی اور اپنی دادی کے درمیان رشتے داری سمجھانے لگیں جبکہ ہانیہ ان کی بات پر الجھ گئی تھی جس پر دھیان دےے بغیر وہ بات کے اختتام پر کہنے لگیں۔

’’تمہاری نانی جب تک زندہ تھیں، تمہاری امی کا دیدار بھی ہوجاتا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد تمہاری ماں نے جیسے سارے تعلق توڑ لےے۔ چلو چھوڑو یہ باتیں۔ تم یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو۔‘‘

’’وہ دراصل ثمرین اور فائزہ کہیں نظر نہیں آرہی تھیں تو میں۔۔۔۔‘‘ ہانیہ نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔

’’ارے وہ لڑکیاں ہم بچوں والیوں سے بھی زیادہ مصروف ہیں۔ اپنی تیاری، دلہن کی تیاری اور پھر دولہا کی تیاری۔‘‘ بھابھی بے ساختہ ہنسیں۔ ہانیہ چونک کر انہیں دیکھنے لگی۔

’’دلہن۔۔۔‘‘

’’ہاں بھئی، بیک وقت وہ دلہن والی بھی ہیں اور دولہا والی بھی۔ جب تک دونوں کی تیاری کو ساری کزنز پاس نہیں کر دیں گے، ان دونوں کی کیا مجال کہ اپنے کمرے سے باہر بھی نکل آئیں۔‘‘

’’کسی کی شادی ہے کیا؟‘‘ ہانیہ ابھی تک حیران تھی۔

’’شادی نہیں، منگنی۔ بات تو بہت عرصے سے طے تھی۔ سوچا صائم کی اس پارٹی میں یہ اعلان بھی کر دیں۔ تمہاری نجمہ پھوپھی کی بیٹی ثمرین کی تنویر کے ساتھ منگنی ہورہی ہے۔ تنویر کو جانتی ہو تم، نجمہ پھوپھی کے جیٹھ کا بیٹا ہے۔‘‘ ہانیہ کچھ بے یقینی سے انہیں دیکھے گئی۔ پتا نہیں پاپا کو معلوم تھا یا نہیں مگر مما کو ایسی کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی، ورنہ اسے ضرور خبر ہوتی۔ اسے بہت عجیب لگا تھا۔ اتنی قریبی رشتے داری اور اتنی لا علمی۔ مگر وہ کسی قسم کا شکوہ نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ اگر بھابھی نے جوابِ شکوہ شروع کر دیا تو وہ یقینا علامہ اقبال کے کلام سے بھی زیادہ طویل ہوگا۔

’’تم بھی اندر چلی جائو، یہاں اکیلی بیٹھی ہو۔‘‘ کسی کے پکارنے پر بھابھی کوٹھی کی طرف اشارہ کرتی خود دوسری طرف مڑ گئیں۔ ہانیہ کشمکش کے عالم میں اس سجی بنی کوٹھی کو دیکھنے لگی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا اندر جا کر ان سب کے بیچ جا کر بیٹھنے کا مگر وہ ان سے بالکل بے تکلف نہیں تھی۔ اس کی دونوں پھوپھیاں اور ان کے دونوں جیٹھ اور ایک نند کے بچے ملا کر تمام کزنز کی تعداد اٹھارہ انیس افرد پر مشتمل تھی جن میں سے بس یہ ایک ہی شادی شدہ تھے جن کی بیوی سے وہ ابھی ملی تھی اور اب اس ینگ پارٹی میں سے دو کی منگنی ہورہی تھی۔ پتا نہیں یہ تنویر کون تھا، اسے تو اپنے کزنز کی شکل یاد نہیں تھی کجا کہ اپنے کزنز کے کزن کی شکل یاد رکھنا۔

اتنے کزنز کی موجودگی میں بھلا اس کی کیا گنجائش ہوگی، وہ ناچار اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔

کافی دیر بعد لان میں بنے اسٹیج پر ثمرین کو لایا جانے لگا تو ہانیہ بھی اٹھ کر اسٹیج کی جانب بڑھ گئی۔ سب سے پہلے اس کا سامنا ثمرین کی چھوٹی بہن فائزہ سے ہوا۔ فائزہ اسے پہچانی ہی نہیں، تب اسے اپنا تعارف کرانا پڑا۔ اس نے بھی بھابھی کی طرح اس کی آمد پر بڑی حیرانی کا اظہار کیا تو ہانی محض موضوع بدلنے کے لےے کہنے لگی۔

’’ثمرین باجی کی منگنی ہے، مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا۔‘‘ اس کی بات پر فائزہ ایک دم ہنس پڑی۔

’’ارے کسی کو بھی معلوم نہیں تھا، آج صبح ہی احساس ہوا کہ پارٹی تھوڑا تھوڑا کرتے بھی کچھ زیادہ ہی بڑے پیمانے پر ارینج ہوگئی ہے۔ تب سوچا کیوں نا ایک منگنی بھی رکھ لیں۔ دراصل صائم بھائی غصہ کر رہے تھے کہ میری جاب پر اتنی بڑی پارٹی رکھنے کی کیا ضرورت تھی، اس لےے امی نے فوراً کہہ دیا کہ ہم نے سوچا، کیوں نا ثمرین کی بھی رسم کرلیں، اس لےے اتنا انتظام کرلیا۔‘‘

’’تو یہ سب صائم کو مطمئن کرنے کے لےے کیا گیا ہے اور میں خوامخواہ خوش ہوگیا۔‘‘ ثمرین کا منگیتر تنویر نہ جانے کب وہاں آگیا تھا۔

’’اچھا ہے نا تنویر بھائی! آپ سب کے بہانے ہمیں کچھ اچھا کھانا ہی کھانے کو مل جائے گا۔‘‘ نفیسہ پھوپھی کے بیٹے حامد نے اپنی ٹانگ اڑانا ضروری سمجھا۔

’’کتنے ندیدے ہو تم سب ، کھانا دیکھ کر ایسے اتاولے ہوجاتے ہو جیسے گھر میں فاقے ہورہے ہوں۔‘‘ فائزہ نے ٹوکا۔

’’آپ لوگوں کے ہاتھ کا کھانا کھانا تو ایسا ہی ہے جیسے انسان فاقے کرلے۔ تنویر بھائی کم از کم خاندان سے باہر کسی لڑکی سے شادی کرلیتے تو کچھ چانسز بھی تھے کہ شاید اسے کچھ اچھا پکانا آتا ہو۔ اب تو حسرت ہی ہے نہ جانے کب پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہو۔‘‘ تنویر کے چھوٹے بھائی کے لہجے میں بلا کی حسرت تھی جب کہ فائزہ کے بڑے تایا کی بیٹی فوراً بولی۔

’’پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہے، تب تو موٹاپے کا یہ عالم ہے۔ اگر خدا ناخواستہ سیر ہو کر کھانے کو مل گیا تو تم تو غبارے کی طرح پھٹ جائو گے۔‘‘ ہانیہ کے لےے ہنسی ضبط کرنا مشکل ہوگیا تھا جب کہ وہ سب آرام سے کھڑے تھے۔ شاید ان کے لےے ایسی بحث و تکرار عام بات ہوگی، تب ہی وہ لڑکا بے نیازی کے ساتھ بولا۔

’’ایسی قابلِ رشک صحت بھی ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بغیر کسی کسرت کے ہی ہیوی ویٹ چیمپئین بن سکتے ہیں۔‘‘ اپنی بات پر خود ہی محظوظ ہو کر اس نے حامد کے ہاتھ پر ہاتھ مارا تھا۔ ہانیہ کے لےے یہ طنز و مزاح سے بھرپور بالکل نئی گفتگو تھی۔ وہ دلچسپی سے انہیں سن رہی تھی، تب ہی اس کی نظر ثمرین پر پڑی جو اسٹیج پر بیٹھی تھی۔ ہانیہ اسے مبارک باد دینے کے ارادے سے اس کے پاس ہی جا بیٹھی۔ ثمرین اس سے کافی خوش اخلاقی سے ملی تھی۔ ہانیہ کے لےے یہی بہت تھا کہ اسے اپنا تعارف نہیں کرانا پڑا۔ وہ اس سے اس کے منگیتر کی تفصیلات پوچھنے لگی تب ہی صائم اسٹیج پر آگیا۔

’’ثمرین! اتنی ساری لڑکیوں میں ہانیہ کون ہے۔ کیا تم پہچانتی ہو اسے۔‘‘ ثمرین نے کچھ چونک کرہانیہ کو دیکھا، وہ شاید کچھ کہنے ہی والی تھی کہ ہانیہ بول پڑی۔

’’آپ کیوں مجھے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔‘‘ ہانیہ نے کوئی ذو معنی بات نہیں کہی تھی مگر جس طرح صائم نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا، وہ ہانیہ کو اپنے جملے کی ذو معنویت کا احساس دلا گیا تھا۔ وہ کچھ خجل ہو کر ثمرین کو دیکھنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

’’میں تمہیں کیوں ڈھونڈتا پھروں گا۔‘‘ صائم نے ایک دم سنجیدہ ہوتے ہوئے قدرے رکھائی سے کہا۔ ہانیہ حیران ہونے کے ساتھ مزید شرمندہ ہوگئی۔ وہ تو چونک کر بے ساخہ کہہ گئی تھی مگر شاید صائم نظر انداز کر دینے والوں میں سے نہیں تھا۔

’’مجھے صرف یہ بتانا تھا کہ احتشام ماموں کے لےے ایک ایمرجنسی کال آگئی تھی، وہ ہاسپٹل چلے گئے ہیں۔‘‘

’’کیا؟‘‘ ہانیہ ایک دم پریشان ہوگئی۔

’’انہوں نے کچھ بتایا کہ وہ کب تک آئیں گے۔‘‘ ثمرین نے پوچھا تو وہ ثمرین سے کہنے لگا۔

’’وہ آگئے، یہی بہت ہے۔ ان کے پاس کہاں وقت ہوتا ہے انہیں واپسی میں بہت دیر ہوجائے گی۔ وہ سیدھا گھر جائیں گے۔‘‘ صائم یہ کہہ کر واپس پلٹ گیا جبکہ ثمرین اسے اطمینان دلانے لگی۔

’’ڈونٹ وری۔ ہم تمہیں ڈراپ کر دیں گے۔‘‘

انہیں آئے ابھی صرف بیس منٹ ہی ہوئے تھے اور صرف بیس منٹ کے اندر اندر پاپا کو واپس جانا پڑ گیا تھا اور مما کو لگتا تھا، وہ صرف انہیں نظر انداز کرنے کے لےے مصروفیت کابہانہ کرتے ہیں۔ حالانکہ پاپا کا جو بھی رویُہ تھا، سب کے ساتھ یکساں تھا۔ انہوں نے بہنوں کو بیوی پر ترجیح دی تھی نہ بیوی کی خاطر بہنوں سے قطع تعلق کیا تھا مگر یہ بات بھلا مما کو کون سمجھاتا۔

پارٹی ختم ہوتے ہوتے رات کا ایک بج گیا تھا۔

ہانیہ کا بے چینی کے مارے برا حال تھا۔ وہ جلد سے جلد گھر پہنچنا چاہتی تھی۔ پاپا گھر پہنچ چکے ہوں گے اور مما نے گھر سر پر اٹھالیا ہوگا۔ پھوپھی وغیرہ مہمانوں کے جانے کے بعد اب کھانا کھانے بیٹھی تھیں۔ کل کیونکہ چھٹی کا دن تھا، اس لےے وہ سب مطمئن انداز میں بیٹھے تھے۔

ہانیہ کو اچھا تو نہیں لگ رہا تھا ان سے یہ کہنا کہ کوئی اسے گھر چھوڑ آئے مگر وہ ہمت کر کے ان کی میز کے قریب چلی آئی۔

’’نجمہ پھوپھی! مما گھر پر میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔‘‘

’’ہاں، تمہاری مما کا فون آیا تھا، میں نے انہیں بتا دیا کہ تمہارے گھر کے راستے میں کسی جگہ کوئی بم بلاسٹ ہوا ہے، اس لےے اس علاقے میں کرفیو بھی لگ گیا ہے۔ تب ہی تمہارے پاپا کو بھی ایمرجنسی میں جانا پڑا۔ میں نے تمہاری مما سے کہہ دیا ہے ہانیہ کو آج ہمارے پاس ہی رہنے دیں۔‘‘

نجمہ پھوپھی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پاس پڑی خالی کرسی پر بٹھالیا۔ ہانیہ منہ کھولے ان کی شکل دیکھتی رہی۔ اسے یقین تھا یہ سب سننے کے بعد مما نے پھوپھی سے بڑی بدتمیزی سے بات کی ہوگی مگر نجمہ پھوپھی نے ایسا کچھ ظاہر نہیں کیا۔ الٹا اپنے پاس بیٹھی نبیلہ کو اس کے متعلق ہدایتیں دینے لگیں۔ وہ نبیلہ کے کہنے پر اس کی تقلید میں چلتی کوٹھی کے اندر چلی گئی۔ اس کا ذہن اتنا منتشر تھا کہ وہ سن ہی نہ سکی کہ نبیلہ نے کیا کہا اور اسے ایک جوڑا تھما کر خود کمرے سے نکل گئی۔ اسے یہاں ٹھہرنا بہت عجیب لگ رہا تھا۔ پاپا جب گھر پہنچے ہوں گے تو مما ان پر خوب برسی ہوں گی اور صبح جب وہ جائے گی، تب اس کی بھی اچھی خاصی کلاس لگے گی۔

کپڑے تبدیل کر کے وہ کچھ دیر ان لوگوں کے آنے کا انتظار کرتی رہی کیونکہ اسے پتا ہی نہیں تھا کہ اسے کون سے کمرے میں کہاں سونا تھا۔ آخر وہ ثمرین وغیرہ کو تلاش کرنے نکلی تو کچن سے آتی آوازوں پر وہیں چلی گئی۔ وہاں فائزہ اور عالیہ کے علاوہ ایک ملازمہ بھی موجود تھی۔ اس کے باوجود کچن کی حالت کافی ابتر تھی کیونکہ بے تحاشا مہمان آئے تھے، لہٰذا برتنوں کا ایک انبار جمع تھا۔ عالیہ ملازمہ کے ساتھ مل کر بڑی بڑی دیگوں میں سے بچا ہوا کھانا چھوٹے برتنوں میں کر کے فریج میں رکھوا رہی تھی اور فائزہ مبارک باد کے طور پر لائی گئی مٹھائیاںسمیٹ رہی تھی، ساتھ ہی باقی ساری لڑکیوں کے ناکارہ ہونے پر بین بھی کر رہی تھی۔

’’کسی سے اتنا بھی نہیں ہوتا کہ یہ مٹھائیاں اور چاکلٹس کسی ایئر کنڈیشنڈ روم میں رکھ دے۔ فریج میں بھی جگہ نہیں ہے اور یہاں کچن میں سب خراب ہوجائے گا۔‘‘

’’کچھ خراب نہیں ہوگا فائزہ! سب کچھ ایسے ہی چھوڑ دو۔ جس کمرے میں رکھیں گے، صبح وہاں سے واپس لانا پڑے گا موسم اتنا گرم نہیں کہ ایک ہی رات میں خراب ہوجائے۔ ابو نے چائے کے لےے کہا ہے، تم بس جلدی سے چائے پہنچادو۔‘‘ عالیہ نے کھولتے پانی پر ایک نظر ڈالتے ہوئے مصروف سے انداز میں کہا۔

’’لائیں، میں چائے دم کر دیتی ہوں۔‘‘ ہانیہ کی مداخلت پر ان تینوں نے ایک ساتھ پلٹ کر اسے دیکھا۔

’’شکر ہے کسی کو تو کچن میںجھانکنے کا خیال آیا۔‘‘ فائزہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا پھر وہ جلدی جلدی بولی۔

’’ہانیہ! پلیز یہ چائے بڑے ابو کے کمرے میں دے آئو۔ تایا ابو اور چھوٹے چچا سب وہیں انتظار کر رہے ہوں گے۔ اصل میں ایسی دعوتوں کے بعد وہ چائے میں لیموں ڈال کر پیتے ہیں، تب ہی انہیں نیند آتی ہے۔‘‘

’’اس چائے میں تو پتی، دودھ سب پہلے سے پڑا ہے۔‘‘ ہانیہ قریب آنے پر دیگچی میں پکتی چائے کو دیکھ کر حیرانی سے بولی۔

’’ہاں بس، اسے مگ میں نکال کر لیموں ڈالنا ہے۔ کیا تم لوگ اس طرح چائے نہیں پیتے۔‘‘ عالیہ نے اطلاع فراہم کرنے کے بعد پوچھا۔

’’نہیں، ہم تو چائے تھرماس میں دم کرلیتے ہیں اور کچھ دیر بعد جب رنگ آجاتا ہے تو پیالیوں میں نکال کر دودھ اور چینی ڈال لیتے ہیں۔‘‘ ہانیہ اسٹینڈ میں سے مگ اٹھاتے ہوئے بولی۔

’’حیرت کی بات ہے ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے ہمیں یہ بھی نہیں پتا کہ ہمارے ماموں کے گھرمیں دم کی چائے پی جاتی ہے۔‘‘ فائزہ نے کہنے کے ساتھ ہی چائے بنانے کے دو تین طریقے بھی بتا دےے کیونکہ ان کے گھر میں موسم کی مناسبت سے چائے میں الگ الگ ورائٹی دی جاتی ہے۔ کبھی الائچی ڈال کر، کبھی ادرک ڈال کر اور کبھی صرف بلیک ٹی۔

’’میرے خیال سے بغیر دودھ اور بغیر چینی کے چائے پینے سے اچھا ہے انسان سادہ پانی پی لے۔‘‘ ہانیہ کے بے ساختہ کہنے پر فائزہ ہنس پڑی تھی۔

’’اتنی بری بھی نہیں ہوتی، اگر رات زیادہ نہ ہوئی ہوتی تو میں تمہیں ابھی پلاتی۔‘‘ چائے سے ناشتے اور ناشتے سے کھانوں کے متعلق باتوں کے دوران کچن سمٹ بھی گیا اور پتا بھی نہیں چلا۔ حالانکہ عالیہ چائے لے کر گئی تو دوسرے کاموں میں الجھ کر واپس ہی نہیں آسکی۔ ملازمہ بھی تھوڑی دیر بعد اس کی مدد کے لےے چلی گئی تو وہ اور فائزہ ہی کچن میں رہ گئیں اور اس کی موجودگی کی وجہ سے ہی فائزہ اتنی جلدی فارغ ہوگئی، تب ہی اسے سراہتے ہوئے کہنے لگی۔

’’تم تو کاموں میں بڑی طاق ہو بھئی۔ میں تو سمجھتی تھی کہ ماموں ممانی کی اکلوتی ہونے کی وجہ سے وہ لوگ تمہیں کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے ہوں گے۔‘‘

’’ایسی تو کوئی بات نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کام کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے۔ میرا موڈ ہوتا ہے تو کر لیتی ہوں بلکہ اگر مجھے گھر میں تمہاری جیسی کمپنی مل جائے تو میں کچن میں سارا دن آرام سے کام کر سکتی ہوں کیونکہ میرے گھر میں خاموشی بہت رہتی ہے۔ دل چاہتا ہے کسی سے باتیںکروں مگر کوئی ہے نہیں۔‘‘ ہانیہ نے پوری سچائی سے کہا۔

’’ارے خوش قسمت ہو تم جو تمہیں گھر میں خاموشی میسر ہے۔ ابھی دیکھنا جیسے ہی ہم کمرے میں سونے جائیں گے، سب اپنی اپنی بولی بولنا شروع کر دیں گے اور اتنا بھی صبر نہیں کہ ایک کی بات ختم ہوجائے تو دوسرا بولے۔ سب ایک ساتھ اسٹارٹ ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر اگر ہم کسی پارٹی میں جائیں یا گھر میں، کوئی تقریب ہو جب تک ایک ایک شخص پوری روداد سنا نہ دے، اسے چین نہیں آتا۔ چاہے کتنی بھی نیند آئے، سب کی بکواس سننا بہت ضروری ہے۔‘‘ فائزہ کے انداز میں غصے کی بجائے محبت بھری تھی۔ ہانیہ مسکرا کر رہ گئی۔

’’میں یہ کچرا باہر کے ڈرم میں ڈال دیتی ہوں۔ کچن میں بدبو نہیں ہوگی اور صبح جمعدار لے جائے گا۔‘‘ فائزہ دو بڑے تھیلے اٹھا کر کچن کے دوسرے دروازے سے باہر نکل گئی جو لان کے پچھلے حصے میں کھلتا تھا۔ ہانیہ سلیپ کو کپڑے سے صاف کر کے کپڑا سنک میں نچوڑ رہی تھی کہ اپنی جگہ تپھرا گئی جو جملہ اس کی سماعت سے ٹکرایا تھا، وہ ناقابلِ یقین تھا مگر وہ جو کوئی بھی تھا، اسی سے مخاطب تھا۔

’’آج تو تم پہچاننے میں ہی نہیں آرہی تھیں۔ بھئی ماننا پڑے گا، کچھ کپڑے واقعی اتنے اچھے ہوتے ہیں کہ ان میں تمہارے جیسی لڑکی بھی اچھی لگنے لگتی ہے۔‘‘

ہانیہ ایک دم غصُے سے آواز کی طرف پلٹی تھی مگر دروازے میں کھڑے صائم کو دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ صائم بھی اس پر نظر پڑتے ہی حیران رہ گیا تھا۔ وہ جس طرح دروازے کے فریم سے کندھا ٹکائے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا، اس سے ظاہر تھا وہ کوئی لمبی گفتگو کرنے آیا تھا مگر ہانیہ کو دیکھ کر وہ جیسے کچھ بوکھلا گیا اور اس کے لےے بات بنانا مشکل ہوگئی۔

’’ہا۔۔۔ہانیہ۔۔۔ تم ۔۔۔ میرا مطلب ہے، تم یہاں کیسے۔ اچھا میں چلتا ہوں۔‘‘ وہ اسے کچھ بھی کہنے کا موقع دےے بغیر ایک دم پلٹ گیا اور وہ وہیں حیران سی کھڑی رہ گئی۔

’’چلو سوتے ہیں یار! اب اگر کچھ کام رہ بھی گیا ہے تو کل کریں گے، ورنہ میں ضرافہ کی طرح کھڑے کھڑے ہی سوجائوں گی۔‘‘ فائزہ نے واپس آکر بڑی لمبی سی جمائی لیتے ہوئے کہا۔ وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑی۔ صائم بھائی سے اسے ایسی گفتگو کی توقع نہیں تھی اور پھر جس طرح وہ اسے دیکھ کر گھبرا گئے تھے، اس سے ہانیہ مزید الجھ گئی تھی کہ اچانک ایک خیال آنے پر وہ فائزہ سے پوچھ بیٹھی۔

’’فائزہ! یہ جو کپڑے نبیلہ نے مجھے پہننے کے لےے دےے ہیں، یہ کس کے ہیں؟‘‘ فائزہ رک کر طائرانہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔

’’ہیں تو عالیہ کے لیکن قسم سے ایسا لگ رہا ہے جیسے تمہارے لےے ہی سلے ہیں۔‘‘ ہانیہ کے چہرے پر مسکراہٹ ابھر آئی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر سب سے پہلے عالیہ پر ہی پڑی جو دوسرے کزنز کے ساتھ مل کر ثمرین کو چھیڑنے میں مصروف تھی۔ حامد نے ثمرین کا ہی دوپٹا سر پر اوڑھ رکھا تھا اور لڑکیوں کے انداز میں شرمانے کی کوشش کر رہا تھا جس پر عالیہ کی کھنکتی ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ ہانیہ کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔ اتنی خوب صورت لڑکی کی تعریف صائم بھائی نے ایسے کی تھی جیسے کوئی احسان کر رہے ہیں مگر ان کی جوڑی واقعی لاجواب تھی۔

کیا گھر میں اور کسی کو اس بات کا علم ہوگا۔ ہانیہ صرف سوچ کر رہ گئی تھی، تب ہی حمید نے اسے ٹوک دیا۔

’’آپ کس کے تصور میں کھوئی ہوئی ہیں، جو اتنا مسکرا رہی ہیں۔‘‘ وہاں بیٹھے گیارہ کے گیارہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔ وہ ایک دم گڑبڑا گئی۔

’’نہیں تو۔۔۔ میں تو کسی کے تصور میں نہیں کھوئی۔‘‘ اس کے اتنے بھولپن سے صفائی دینے پر ایک زبردست قہقہہ پڑا تھا جس پر وہ مزید خجل ہوگئی۔

’’بکواس بند کرو اور کمرا خالی کرو۔ بہت سخت نیند آرہی ہے۔‘‘ فائزہ نے پیشانی کو انگلیوں سے دباتے ہوئے کہا اور اپنے کاموں کی بھی فہرست گنوانے لگی جسے سن کر ثمرین بول پڑی۔

’’ہانیہ بھی تمہارے ساتھ کچن میں تھی۔‘‘ ثمرین نے ہانیہ کو بغور دیکھا۔

’’جی ہاں، ایک اس بے چاری میں ہی تھوڑی شرم تھی، ورنہ نبیلہ وغیرہ کا خون لال بیگ کی طرح سفید ہوگیا ہے۔‘‘ فائزہ نے نبیلہ سمیت دوسرے تایا کی بیٹیوں کو بھی گھورا مگر مجال ہے جو وہ شرمندہ ہوجاتیں۔

’’اب تو آپ کوہمارا نخرہ اٹھانا ہی پڑے گا۔ آخر ہم لڑکے والے ہیں اور آپ سب لڑکی والے۔‘‘ ایک لڑکی جو غالباً ان کے دوسرے تایا کی بیٹی تھی، لاپروائی سے بولی۔

’’شام تک تو تم لڑکی والی تھیں، جب نیگ کی چوڑیاں لینی تھیں۔‘‘ حامد جرح کرتے ہوئے بولا۔

’’ہاں تو اس وقت نیگ کی چوڑیاں لینی تھیں نا۔‘‘ وہ بھی ڈھیٹ بلکہ مہا ڈھیٹ تھی۔

’’لڑکی والے ہوں یا لڑکے والے۔ٹریٹ تو ہم لے کر رہیں گے۔ صائم بھائی نے تو کہہ دیا، تنخواہ ملے گی تو دوں گا مگر ثمرین باجی اور تنویر بھائی کو ہم نہیں چھوڑنے والے۔‘‘ ایک لڑکے کے کہنے پر سب تائیدی انداز میں تالیاںپیٹنے لگے۔

’’بلکہ تنویر بھائی سے ڈبل ٹریٹ لینی چاہےے۔ ثمرین باجی تو کماتی نہیں ہیں، اب ان کا خرچ بھی تنویر بھائی کی ذمہ داری ہے۔‘‘ ٹریٹ کی بات پر فائزہ کی نیند بھی اڑ گئی تھی۔ وہ ایک دم جوش میں آتے ہوئے بولی۔

’’بالکل ٹھیک کہا تم نے۔ زندگی میں پہلی بار عقل مندی کی بات کی ہے۔میری صحبت کا اثر ہے یہ۔‘‘ عالیہ نے زمین پر ہی آڑے ترچھے لیٹتے ہوئے خالص بزرگوں والے انداز میں کہا۔ ان سب میں سے جس کو جہاں جگہ مل گئی تھی، وہ وہیں کھپ گیا تھا۔ ہانیہ ان کی ایک ایک حرکت کا بغور مشاہدہ کر رہی تھی، جہاں وہ سب پکنک کے پروگرام ایسے بنا رہے تھے جیسے رات کے نہیں، دوپہر کے تین بج رہے ہوں۔

’’ہانیہ باجی جانتی ہوں گی فن لینڈ کیسی جگہ ہے۔ ہانیہ باجی کے گھر کے تو بہت قریب ہے۔‘‘ نبیلہ کے ایک دم مخاطب کرنے پر ہانیہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔

’’فن لینڈ!‘‘ ہانیہ کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں بولی۔

’’آپ کے گھر کے پاس ایک بہت زبردست پارک کھلا ہے، جہاں الیکٹرانک جھولے، مصنوعی جھیلیں اور جھرنے وغیرہ بنائے گئے ہیں۔ کیا آپ کومعلوم ہے اس کا ٹکٹ کتنے کا ہے اور ٹائمنگز کیا ہیں۔‘‘ اس کے لےے یہ اطلاع ہی نئی تھی کہ اس کے گھر کے پاس ایک پارک کھلا ہے تو بھلا حامد کی مطلوبہ معلومات کا کیا جواب دیتی، بس یہی کہہ سکی۔

’’مجھے نہیں معلوم۔‘‘

’’میں نے سنا ہے بہت شاندار اور بہت بڑا پارک ہے۔ ایک بار تو ضرر جانا چاہےے ۔‘‘ فائزہ اشتیاق سے بولی۔

’’ٹکٹ بھی یقینا بہت مہنگا ہوگا صائم بھائی اور تنویر بھائی سے کہتے ہیں دونوں مل کر ایک ساتھ ٹریٹ دے دیں کیونکہ پارک کا کوئی بھروسا نہیں۔ بند بھی ہوسکتا ہے، بڑے سیاسی جھگڑے چل رہے ہیں اس پارک کو لے کر۔‘‘ ایک لڑکے نے سوچتے ہوئے کہا۔

’’کیسے سیاسی جھگڑے؟‘‘

’’وہ تو پتا نہیں۔ دو پارٹیوں کی لڑائی میں اس پارک کی افتتاحی تقریب بھی التوا میں پڑ گئی تھی لیکن یہ سب اڑائی ہوئی باتیں بھی ہوسکتی ہیں۔ کسی چیز کو شہرت دینی ہو تو ایسی افواہیں مشہور کی جاتی ہیں۔‘‘ وہ ہی لڑکا بولا۔

’’جو بھی ہو، تنویر بھائی مانیں یا نہ مانیں۔ ہم فن لینڈ ہی جائیں گے، وہ بھی اسی سنڈے کو۔‘‘ حامد حتمی انداز میں بولا۔

’’اور کیا۔ باقی ساری جگہیں تو دیکھ لیں بلکہ ہزار بار دیکھ لیں۔‘‘ نبیلہ کے منہ بنانے پر ہانیہ اسے دیکھ کررہ گئی۔

’’وہ تو ہے۔ جب پچھلی بار ہم کبیر ریسٹورنٹ گئے تھے تومجھے مینیو کارڈ دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ سب کچھ از بر ہوگیا ہے۔‘‘ فرید بھی فوراً بولا۔

ہانیہ غیر ارادی طور پر اپنا موازنہ ان کے ساتھ کرنے لگی۔ اسے یاد بھی نہیں تھا کہ اس نے کب آخری دفعہ باہر کھانا کھایا تھا بلکہ جن تفریحی مقامات کا وہ سب ذکر کر رہے تھے،وہ تو ان کے نام تک سے ناواقف تھی۔

’’لگتا ہے ہانیہ کو نیند آرہی ہے۔‘‘ فائزہ اس کی مسلسل خاموشی کے پیش نظر بولی تو ہانیہ فوراً بولی۔

’’نہیں، نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘

’’چلیں، آپ بتائیں۔ کہاں چلنا چاہےے۔‘‘ حامد نے یہ سوال محض اس لےے پوچھا تھا تاکہ اسے ایسا نہ لگے کہ وہ اسے نظر انداز کر کے اپنی باتوں میں مگن ہیں مگر ہانیہ اس کے سوال پر سٹپٹا گئی۔ عجیب سی بے بسی اس کے چہرے پر پھیل گئی تھی۔اس کے لےے تو دنیا میں بس دو ہی جگہیں تھیں۔ گھر اور کالج۔

کالج آج کل بند تھا، اس لےے وہ خود کو زیادہ ہی تنہا محسوس کر رہی تھی، ورنہ کالج میں اس کا وقت اچھا گزر جاتا تھا، وہ کافی خوش اخلاق تھی، اس لےے اس کی پوری کلاس سے دوستی تھی مگر اس کی یہ دوستی صرف کالج تک محدود تھی۔ وہ کسی کو فون کرتی تھی نہ کسی کے گھر جاتی تھی، اسی لےے پچھلے کئی دنوں سے اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس کی ساری لڑکیوں سے یکطرفہ دوستی ہے۔جب ملاقات ہوتی ہے، تب وہ سب اس سے خوشی خوشی مل لیتی ہیں اور جب ملاقات کی کوئی سبیل نہیں ہوتی تو کسی کو اس کی کمی کا احساس بھی نہیں ہوتا ہوگا۔ حالانکہ اس نے خود ہی کبھی ان سے روابط بڑھانے کی کوشش نہیں کی۔ مما کو اس کا کہیں آنا جانا پسند نہیں تھا۔

’’فن لینڈ ہی چلتے ہیں۔‘‘ سب کی نظریں خود پر جمی دیکھ کر اسے کہنا پڑا۔

’’ہاں ، میرا بھی یہی خیال ہے۔ تم بھی چلو گی نا ہانیہ!‘‘ فائزہ کے پوچھنے پر اسے بے پناہ مسرت کا احساس ہوا۔ اسے تو محض ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کی باتیں سننے میں اتنا مزا آرہا تھا تو ان سب کے ساتھ پکنک پر جانے کا تجریہ کیسا ہوگا۔ ہانیہ نے فوراً سر اثبات میں ہلا دیا۔

’’ٹھیک ہے جیسے ہی پروگرام فائنل ہوگا، میں تمہیں فون کردوں گی۔ ویسے بھی تمہاری تو چھٹیاں ہیں نا۔‘‘ فائزہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا۔

’’کیوں بھئی، ان کی کس خوشی میں چھٹیاں ہیں۔ ہمیں تو روز صبح صبح اٹھنے کی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے اور اس پر ستم یہ کہ سب سے پہلا پیریڈ بھی میڈم جویریہ کا ہوتا ہے۔ صبح انہیں برداشت کرنا ہے، اس ٹینشن میں رات بھر ڈرائونے خواب نظر آتے ہیں۔‘‘ حامد کے انداز پر ہانیہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔

’’میں نے ابھی بی ایس سی پارٹ ون کا ایگزام دیا ہے، اس لےے میری چھٹیاںہیں۔‘‘

’’آپ کے فادر اتنے بڑے ڈاکٹر ہیں اور آپ صرف بی ایس سی کر رہی ہیں۔ آپ نے میڈیکل یا فارمیسی کیوں نہیں لی۔‘‘ نبیلہ کی ایک کزن حیرت سے بولی۔

’’مجھے شوق نہیں تھا اور ڈاکٹرز تو مجھے بالکل پسند نہیں۔‘‘ ہانیہ بے اختیار کہہ گئی۔ اس کی بات پر زبردست قہقہہ پڑا جس پر وہ خوامخواہ شرمندہ ہوگئی۔

’’ایسا مت کہو جو چیز پسند نہ ہو، وہی گلے پڑجاتی ہے۔ تمہیں ڈاکٹر پسند نہیں، دیکھنا تمہاری شادی کسی ڈاکٹر کے ساتھ ہوجائے گی۔‘‘ فائزہ کھلکھلاتے ہوئے بولی۔

’’ایسا کوئی ضروری بھی نہیں۔ میںنے ایسے لوگوں کو بڑے قریب سے دیکھا ہے جن کی شادی اس کے ساتھ ہوتی ہے جس پر وہ دل و جان سے فدا ہوتے ہیں۔‘‘حامد نے معنی خیز انداز میں کہا۔

’’میں کب فدا تھی تنویر پر۔‘‘ ثمرین بھڑک اٹھی جس پر ایک بار پھر ان سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔

’’میں نے آپ کا نام کب لیا، کسی نے سنا مجھے ثمرین باجی اور تنویر بھائی کا نام لیتے ہوئے۔‘‘ حامد صاف مکر گیا مگر ابھی بھی اس کے چہرے پر شوخ مسکراہٹ ناچ رہی تھی جب کہ باقی سب اس کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے زور زور سے سر ہلانے لگے۔

’’یہاں اور کون ہے جس کی شادی ہونے والی ہو یا ہوگئی ہو۔‘‘ ثمرین کہاں ماننے والی تھی۔

’’یہ ہے نا، ہانیہ۔۔۔ میرا مطلب ہے ہانیہ کے والدین۔ ان کے ہوتے ہوئے اور کسی کی مثال دی جاسکتی ہے؟‘‘ حامد نے ایک دم بات بنائی جبکہ ہانیہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔

’’میرے مما پاپا!‘‘

’’خیر یہ تو حامد نے صحیح کہا۔ ہانیہ کے مما پاپا کو دیکھ کر یقین آتا ہے کہ دنیا میں واقعی ٹرولونام کی کوئی چیز ہے۔‘‘ عالیہ مسکرائی۔

’’ممانی کتنی خوش قسمت ہیں نا، کتنا پرائوڈ فیل کرتی ہوں گی یہ سوچ کر کہ ایک شخص اتنے سالوں تک ان کے لےے اپنے والدین سے لڑتا رہا۔‘‘ فائزہ ہانیہ کو دیکھتے ہوئے رشک بھرے انداز میں بولی جو صرف حیرانی سے ان سب کی شکلیں دیکھ رہی تھی۔

’’ارے احتشام ماموں سے زیادہ کریڈٹ تو ممانی کو جاتا ہے۔ ایک ایسے شخص کا اتنے سال تک انتظار کرنا جس کے انتظارکے حق میں ان کے والدین تک نہیں تھے۔ کوئی آسان کام تھوڑی ہے ماں باپ کے سامنے اسٹینڈ لینا۔ دراصل وہ بنے ہی ایک دوسرے کے لےے تھے۔‘‘

حمید کہتا چلا گیا۔ ہانیہ سانس روکے ان کی باتیں سن رہی تھی۔ کیا اسی رشتے کے لےے ان دونوں نے اتنی مخالفت برداشت کی تھی۔

’’ممانی کے گھر والوں کو اس رشتے پر کوئی خاص اعتراض نہیں تھا، وہ تو ہمارے نانا ہی نہیں مانے تھے جو یہ شادی ڈیلے ہوتی گئی۔‘‘ ثمرین جو اب تک چپ تھی، نپے تلے انداز میں بولی۔ اس کا انداز واقعی عجیب تھا یا محض ہانیہ کو ہی عجیب لگا تھا۔ وہ سمجھ نہ سکی، البتہ فائزہ جرح کرتے ہوئے بولی۔

’’اعتراض چاہے کسی کو بھی ہو، وہ اتنے عرصے تنازعے کا شکار تو رہی تھی نا، ورنہ ممانی اتنی حسین تھیں، ان کے لےے رشتوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ وہ آرام سے کہیں بھی شادی کر سکتی تھیں۔‘‘ ثمرین نے جواب میں کچھ کہنے کے لےے منہ کھولا ہی تھا کہ حامد بول پڑا۔

’’ویسے بھی ہمارے نانا جی کا اعتراض بڑا بے جا قسم کا تھا۔ ممانی صرف ہماری برادری کی نہیں تھیں اور یہ کوئی جواز نہیں ہے کسی کو ٹھکرانے کا۔‘‘

’’جواز تو نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برادری سے باہر کی آئی لڑکی کبھی خاندان کا حصہ نہیں بنتی۔ اسے برابر کی عزت نہیں ملتی۔‘‘ اب کی بار ثمرین کے لہجے پر سب ہی چپ ہوگئے تھے۔ ہانیہ تو پہلے ہی ہونق بنی ان کی باتیں سن رہی تھی۔ ثمرین کے اس جملے پر تو وہ صرف اس کی شکل دیکھ کر رہ گئی تھی۔ ایک دم پھیلتی خاموشی نے شاید ثمرین کو بھی چونکا دیا تھا، تب ہی وہ مسکرا کر کہنے لگی۔

ویسے تو ہماری پھوپھی کی نند بھی خاندان سے باہر کی ہیں۔ اگر لڑکی سمجھ دار ہو تو وہ اپنا مقام خاندان میں بنا ہی لیتی ہے۔ ویسے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی روشنی میں ہمیں تمام انسانوں کو برابر ہی ماننا چاہےے اور ذات پات کے فساد کو ختم کر دینا چاہےے۔‘‘

حدیث کو جاننا اور بات ہے اور اس پر چلنا اور بات۔ ویسے بھی ثمرین نے اپنے جملے کی ابتدا میں ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ یہ سب صرف لڑکی کی سمجھ داری پر منحصر ہے۔ اب کوئی ثمرین کے بات بنانے کو سمجھایا نہیں، موضوع ضرور بدل گیا۔

’’کچھ بھی ہو احتشام ماموں نے ہمارے لےے راستہ کھول دیا۔ اب ان کی تقلید میں ہم بھی برادری سے باہر کی لڑکی پسند کرلیں تو امی ابو کو مثال دے کر قائل ضرور کر سکتے ہیں۔‘‘ حامد کے مسکرا کر کہنے پر نبیلہ چلا اٹھی۔

’’خالی تمہارے پسند کرلینے سے کیا ہوگا، اس لڑکی کو بھی تو تمہیں پسند کرنا ہوگا۔‘‘

’’بس دعا کرو کسی لڑکی کی آنکھیں خراب ہوجائیں، صرف اسی صورت میں تمہارا چانس بن سکتا ہے۔‘‘ان کی تایا زاد کے مصنوعی حقارت سے کہنے پر ساری لڑکیاں تائیدی طور پر تالیاں بجانے لگی تھیں۔

’’کیا مصیبت آگئی ہے، سونے کا ارادہ ہے یا نہیں۔‘‘ تنویر کے اچانک آکر دھاڑنے پر وہ سب اپنی اپنی جگہ اچھل پڑے۔ اس کا کمرا برابر میں ہی تھا اور ان کے شور کی وجہ سے وہ سو نہیں پارہا تھا۔

’’اللہ کے لےے سوجائو۔‘‘ تنویر واپس پلٹتے ہوئے بولا۔

’’اللہ کے لےے کچھ کرنا ہوگا تو ہم تہجد پڑھیں گے، سونے کی کیا تَک ہے۔‘‘ عالیہ آہستہ آواز میں بولی۔ مبادا وہ سن نہ لے مگر بولنے سے باز نہ آئی جب کہ فائزہ چلا اٹھی۔

’’ارے ساڑھے تین بج رہے ہیں۔ فجر ہونے والی ہے۔ چلو کمرا خالی کرو میرا۔ کچھ دیر تو سوجائوں۔‘‘ وہ سب اٹھ کر کمرے سے جانے لگے تو تنویر رک کر کہنے لگا۔

’’اب پتا چلا ہے تمہیں کہ ساڑھے تین بج رہے ہیں۔ بولتے وقت ٹائم دیکھنے کا خیال نہیں آتا۔ دو گھنٹے سے سونے کی کوشش کر رہا ہوں، نیند اڑا کر رکھ دی ہے۔‘‘

’’اب آپ پلیز ثمرین باجی کے کےے کا الزام ہم پر مت ڈالیں۔‘‘ حمید کے برجستہ کہنے پر سب نے بمشکل اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا لیکن اس کی بات ایسی تھی کہ تنویر بھی اپنی مسکراہٹ روک نہ سکا۔ اسے نرم پڑتا دیکھ کر وہ سب ایک بار پھر پھیلنے لگے۔ آخر کار تنویر کے بری طرح ڈانٹنے پر وہ سب اپنے کمروں میں جانے پر مجبور ہوئے۔

’’سوری ہانیہ! تم بھی کیا سوچ رہی ہوگی، اپنے گھر میں ہوتیں تو اب تک چار پانچ گھنٹے کی نیند بھی پوری ہوگئی ہوتی۔‘‘ فائزہ اس کے پاس بستر پر لیٹتے ہوئے معذرت بھرے انداز میں بولی۔

’’میرا تو دل چاہ رہا تھا یہ رات کبھی نہ گزرے اور تم سب لوگ ایسے ہی بیٹھے باتیں کرتے رہو۔‘‘ ہانیہ نے رسماً نہیں کہا تھا۔ اسے واقعی نیند نہیں آرہی تھی بلکہ ان سب کے ساتھ یہ چند گھنٹے گزار کر اسے لگا تھا جیسے اپنے گھر میں پچھلے انیس سالوں سے وہ سو ہی تو رہی تھی۔ صرف آنکھیں کھلی ہونے کا یہ مطلب نہیں، انسان جاگ رہا ہے۔ سوچنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت سے محروم زندگی بھی ایک غفلت کی نیند ہی ہوتی ہے۔ گھر کیا ہوتا ہے، زندگی کسے کہتے ہیں۔ یہ آگاہی تو اسے آج ہی ملی تھی۔ ادراک ہوتے ہی اس کے ذہن میں سوالوں کی بوچھاڑ ہونے لگی تھی۔ انیس سال بعد بے دار ہو کر اس نے سب سے پہلا سوال اپنے آپ سے پوچھا تھا۔

’’اس کی زندگی دوسروں سے اتنی مختلف کیوں ہے، کیوں اس کے ماں باپ دوسرے والدین کی طرح اس کے احساسات کی پروا نہیں کرتے۔ خود تو اپنے والدین کی ایک نہ سنی اور جہاں چاہا شادی کرلی اور خود والدین کے مرتبے پر پہنچنے کے بعد سرے سے اس کی مرضی جاننے کی ہی کوشش نہیں کی۔وہ صرف زندگی میں وہی کرتی ہے جو مما کو صحیح لگتا ہے اور پاپا کے پاس تو اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ اس کے لےے صحیح اور غلط کا فیصلہ کر سکیں۔ اسے یقین تھا کہ پاپا کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ اس کے پاس کون کون سے سبجیکٹ ہیں۔ آخر تمام گھروں میں مرد کام کرتے ہیں تو کیا وہ سب اپنی اولاد سے اتنے ہی غافل ہوتے ہوں گے اور کیا ساری مائیں اپنی ساری توانائی صرف شوہر سے لڑنے اور اس کے روےُے پر کڑھنے میں خرچ کرتی ہیں۔

پاپا کے پاس وقت نہیں ہوتا یا وہ وقت نکالنا ہی نہیں چاہتے۔ دونوں صورتوں میں مما کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ انہیں ماں کے ساتھ ساتھ باپ کا کردار بھی نبھانا چاہےے لیکن انہوں نے کیا کیا۔ پاپا سے زیادہ اسے مما نے اکیلا کر دیاتھا۔ اسے یقین تھا وہ اسے فائزہ وغیرہ کے ساتھ فن لینڈ بھی جانے نہیں دیں گی کیونکہ اپنی نندوں سے وہ روایتی بھاوجوں کی طرح ہمیشہ خائف رہی تھیں۔

اس رات ان دونوں کے روےُے کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ ایسے ہی ان سے متنفر ہوتی رہی۔ پہلی بار اس کے ذہن میں باغیانہ سوچیں سر اٹھانے لگیں۔

’’اگر مما نے اجازت نہیں دی تو میں ان کی اجازت کے بغیر ہی چلی جائوں گی۔ پاپا کم از کم مجھے جانے سے منع نہیں کریں گے۔ اس اختلاف پر مما پاپا کی لڑائی تو ہوگی مگر وہ تو لڑتے ہی رہتے ہیں۔ اگر میں ان کی لڑائی کا سبب نہیں بنوں گی تو کوئی اور بات وجۂ تنازعہ ہوگی۔‘‘ ہانیہ کو ان دونوں سے اختلاف تو پہلے بھی تھا مگر آج اسے ان سے چڑ ہونے لگی تھی۔

ض ض ض

اس کی یہ سوچ وقتی ابال بھی ہوسکتی تھی مگر صبح اپنے گھر پہنچنے پر اس کے فیصلے کو مزید تقویت مل گئی۔ مما کو غصے سے اِدھر اَدھر ٹہلتے دیکھ کر اس کی نظریں ان کے موچ والے پائوںپر جم گئی تھیں مگر انہوں نے دھیان ہی نہیں دیا، وہ اپنی عادت کے مطابق بغیر رو کے ایک سانس میں بولے جارہی تھیں۔ اسے بڑے پھوپھا کسی ضروری کام سے جاتے وقت راستے میں ڈراپ کر گئے تھے۔ ہانیہ نے انہیں اندر آنے کے لےے کہا تھا مگر وہ واقعی لیٹ ہورہے تھے، اس لےے باہر سے ہی چلے گئے۔مما کو دوسری کئی باتوں کے ساتھ پھوپھا کی بداخلاقی پر بھی غصہ آرہا تھا۔

’’انہیں اندر آکر مجھ سے معذرت کرنی چاہےے تھی۔ میری بیٹی کو انہوں نے کس کی اجازت سے اپنے گھر رکھ لیا۔ ساری رات میں کتنی پریشان رہی۔‘‘

’’آپ کو تو عادت ہوگئی ہے پریشان رہنے کی، ورنہ میں اپنی پھوپھیوں کے گھر پر تھی، کسی غیر محفوظ جگہ پر نہیں۔‘‘

مما ایک جھٹکے سے اس کی طرف پلٹی تھیں۔ ان کے چہرے پر اترتی شدید حیرت نے اسے احساس دلایا تھا کہ اس نے زندگی میں پہلی بار انہیں اس لہجے میں جواب دیا ہے۔

’’ایک رات اپنی پھوپھیوں کے پاس رہ کر آئی ہو اور تمہارا بات کرنے کا انداز ہی بدل گیا۔‘‘

وہ بے یقینی سے بولیں۔ ہانیہ کو کوفت ہونے لگی ان کا طعنہ سن کر۔ بہت مشکل سے اس نے خود کو کچھ بھی کہنے سے روکا، ورنہ دل تو چاہ رہا تھا ابھی انہیں یاد دلا دے کہ وہ کل رات بسترسے اٹھنے کے بھی قابل نہیں تھیں مگر اسے معلوم تھا اس کا کچھ بھی کہنا بے سود ہوگا۔ انہیں اپنی غلطیوں کا احساس کبھی نہیں ہوگا۔ الٹا وہ اس سے خائف ہوجائیں گے۔ وہ ان سے بدتمیزی نہیں کرنا چاہتی تھی، اس لےے اپنے کمرے کی طرف پلٹ گئی۔

’’میں تم سے بات کر رہی ہوں اور تم اپنے کمرے میں جارہی ہو، اتنی بھی تمیز نہیں تمہیں کہ میری بات سن لو۔‘‘ ان کی دھاڑ پر اس نے بمشکل اپنے لہجے پر قابو پاتے ہوئے رسانیت سے کہا۔

’’مما! شہر میں بم بلاسٹ ہوا تھا، ہمارے گھر کی طرف کرفیو لگ گیا تھا، اس لےے مجھے وہاں رہنا پڑا۔ آپ سب جانتی ہیں پھر کیوں غصہ کر رہی ہیں اور کس پر کر رہی ہیں۔‘‘

وہ اچھی طرح جانتی تھی، انہیں کیوں غصہ آرہا ہے۔ پاپا ان کے بغیر پارٹی میں چلے گئے وہیں سے پھر ہاسپٹل چلے گئے۔ رات بھر گھر نہیں آئے۔ یقینا ہمیشہ کی طرح انہوں نے فون کر کے اطلاع بھی نہیں دی ہوگی۔ مما کو ساری تفصیل نجمہ پھوپھی سے پتا چلی ہوگی۔ اتنا سب کچھ بہت تھا انہیں ان کی بے عزتی کا احساس دلانے کے لےے۔ وہ برداشت نہیں کر سکتی تھیں کہ کوئی انہیں نظر انداز کرے۔ چنانچہ وہ ایسا طرزِ عمل اپناتیں جس سے وہ سب کی توجہ کا مرکز بن جاتیں مگر ایسا کر کے وہ اپنا مقام کھوتی جارہی تھیں۔ نتیجتاً لوگ انہیں نظر انداز کرنے لگتے اور وہ پھر یہی ردُِ عمل اپنالیتیں۔ یہ سب کچھ ایک دائرے کی شکل میں رواں دواں تھا اور اتنے سالوں سے چل رہا تھا کہ شاید اب مما خود بھی اس دائرے کو توڑ کر باہر نہیں آسکتی تھیں۔

وہ مما کو ان کے حال پر چھوڑ کر فل والیم میں ٹی وی آن کر کے بیٹھ گئی۔ نیوز میں دھماکے کی تفصیلات دکھائی جارہی تھیں۔ دھماکا کسی اسٹیج پروگرام کے دوران ہوا تھا۔ مرنے والوں کی تعداد سن کر اور زخمیوں کی حالت دیکھ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس نے بے اختیار چینل چینج کر دیا۔

بلاشبہ پاپا کی جاب بہت محنت طلب تھی۔ اپنے گھر کی تقریبات اور رونقوں کو چھوڑ کر زخمیوں کو فوری امداد مہیاکرنا اور ان کی تیمار داری کرنا ایک عظیم اور قابلِ توصیف عمل تھا مگر ہر وقت ایسے حالات کا سامنا کرتے کرتے اس عظیم مقصد سے ملوث لوگ خود ذہنی اور جسمانی طور پر کس قدر تھک جاتے ہوں گے۔ ایسے میں اگر انہیں گھر والوں کا تعاون بھی میسر نہ ہو تو۔

کل رات سے جو تنفر اس کے دل میں پاپا کے خلاف بھرا تھا، وہ خود بخود کم ہونے لگا بے اختیار وہ مما کی طرف دیکھنے لگی جو اب نوکروں پر چلا رہی تھیں۔

ض ض ض

وہ ایک ایک دن گن کر اگلے اتوار کا انتظار کر رہی تھی۔ ایک طرف وہ ان کے ساتھ جانے کے خیال سے خوش ہوتی تو دوسری طرف خدشات اسے گھیر لیتے۔ پتا نہیں انہیں ساتھ لے جانا یاد رہے گا بھی یا نہیں۔ کتنی بار اسے خیال آیا کہ ایک بار فائزہ سے فون پر بات کرلے۔ ویسے بھی صبح جب وہ ان کے گھر سے نکلی تھی تو سب سور ہے تھے۔ پھوپھا کو کہیں باہر جانا تھا، لہذا وہ نجمہ پھوپھی کے اٹھانے پر کسی کو بھی جگائے بغیر فوراً گھر سے نکل گئی تھی تاکہ دوبارہ کرفیو بند ہونے سے پہلے وہ اپنے گھر پہنچ جائے مگر شام کو ہانیہ نے فون ضرور کر لیا تھا۔

فائزہ نماز پڑھ رہی تھی، اس کی بات ثمرین سے ہوئی تھی اور ثمرین کا شاید مزاج ہی ایسا تھا کہ اس نے دو چار جملے بول کر فون بند کر دیا، اس لےے بظاہر اس کے پاس دوبارہ فون کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی اور بغیر وجہ کے وہ فون کرنا نہیں چاہتی تھی۔ اتنے سالوں سے ان کے گھرانے سے رسمی سا تعلق چلا آرہا تھا۔ وہ تکلف کی دیوار کو بھلا ایک دم کیسے گرا دیتی۔ دوسرے یہ کہ وہ مما پر ظاہر بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ انہیں ہانیہ کا پھوپھی کے گھر فون کرنا ہرگز اچھا نہیں لگتا اور ان سے چھپ کر ایسا کوئی قدم اٹھانا آسان نہیں تھا۔

پورا ہفتہ خاموشی سے گزر گیا مگر فائزہ وغیرہ نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ ہانیہ کی بوریت جب اپنی انتہا کو پہنچ گئی، تب اچانک اس کی کلاس فیلو درخشاں کا فون آگیا۔ ہانیہ اس کی آواز سن کر حیران رہ گئی۔ بھلا اسے ہانیہ کی یاد کیسے آگئی۔ وہ کلاس کی سب سے ماڈرن اور کسی حد تک بے باک لڑکی تھی۔ اس کی دوستی صرف اپنی جیسی چند مخصوص لڑکیوں تک محدود تھی مگر جلد ہی ہانیہ کی حیرت دور ہوگئی۔ اس کے خاندان کے ایک بزرگ کوما میں چلے گئے تھے۔ انہیں صرف مشینوں پر زندہ رکھا جارہا تھا جو کہ بہت مہنگا علاج تھا جس میں علاج کی مدت کا تعین کیا جاسکتا تھا اور نہ ہی مریض کی حالت سدھرنے کے امکانات کا کچھ پتا تھا۔ چنانچہ اگر یہ علاج ہانیہ کے پاپا کے اسپتال میں ہو تو وہ اپنی اور اس کی ’’دوستی‘‘ کا لحاظ کرتے ہوئے انہیں کتنا ’’ڈسکائونٹ‘‘ دلا سکتی ہے۔ ہانیہ تلخی سے مسکرا دینے کے باوجود اس کی مدد کرنے کے لےے تیار ہوگئی۔

اس نے پاپا کو ساری صورت حال سے آگاہ کر کے براہ راست درخشاں کے والد سے ملوا دیا۔ اس کا ارادہ ان کی ملاقات کرادینے کے بعد خود ایک طرف ہوجانے کا تھا مگر درخشاں اچانک اس سے بڑی خوش اخلاقی سے ملنے لگی۔ حالانکہ ہانیہ کو یہی امید تھی کہ درخشاں اپنا مطلب نکل جانے کے بعد دوبارہ رابطہ بھی نہیں کرے گی مگر وہ تو اس کے گھر تک چلی آئی۔ مما کو اس کا آنا برا تو لگا مگر جس طرح اس نے مما کو دیکھتے ہی ان کی خوب صورتی کی تعریف کی اور پھر گھر کی سجاوٹ کو بھی سراہا، اس سے مما کی تیوری کے بل کم ہوگئے۔ وہ خلافِ عادت انہیں اکیلا چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ گویا ہانیہ کو مہمان کو اٹینڈکرنے کی اجازت دے دی۔

’’مجھے یہ تو معلوم تھاکہ تم شہر کے بہت بڑے ڈاکٹر کی بیٹی ہو مگر مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ پورا دارالشفائ ہسپتال اور پورا دارالشفائ میڈیکل کالج بھی تمہارے پاپا کا ہے۔ میں تو سمجھی تھی تمہارے پاپا وہاں پریکٹس کر رہے ہیں۔ مجھے ڈیڈی نے بتایا کہ وہ تو مالک ہیں بلکہ انہوں نے مختلف شہروں میں میڈیکل ریسرچ سینٹر بھی کھول رکھے ہیں۔‘‘

ہانیہ اس کی بات پر چپ چاپ مسکراتی رہی تو یہ تھی اس کی دوستی کی وجہ۔ وہ جو خود کو بہت بڑے مل اونر کی بیٹی سمجھتی تھی اور کلاس میں کسی کو اپنے برابر نہیں گردانتی تھی، یہ جاننے کے بعد ہانیہ کی طرف بڑھی تھی کہ وہ اس سے زیادہ نہیں تو کم از کم اس کے ساتھ معاشی پوزیشن ضرور رکھتی ہے۔ اس قسم کی لڑکیوں کو دوست بنانے میں اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر محض اپنی تنہائی سے گھبرا کر وہ اکثر اس سے فون پر بات کرنے لگی تھی۔ ہانیہ نے اسے فون کرنے سے منع کیا تھا۔ جب مما نہا رہی ہوتیں یا سو رہی ہوتیں، وہ خود ہی فون ملا لیتی۔ درخشاں روز کہیں نہ کہیں چلنے کا پروگرام بناتی اور اسے روز ایک ہی جواب دینا پڑتا۔

’’مما پرمیشن نہیں دیں گی۔‘‘ جواب میں درخشاں اس کا مذاق بھی اڑاتی اور اسے مما کو ہینڈل کرنے کے ’’گن‘‘ بھی سکھانے لگی۔ ہانیہ پر بھلا ان باتوں کا کیا اثر ہوتا، اسے تو بس اتنا پتا تھا کہ کالج کھلنے میں ابھی ایک مہینہ باقی ہے اور درخشاں کے سہارے یہ ایک مہینہ گزارنا کچھ آسان ہوسکتا ہے لیکن اسے یہ احساس نہیں تھا کہ جو بات روز دہرائی جائے، وہ اپنا اثر دکھانا شروع کر دیتی ہے۔ درخشان کی سمجھائی باتیں اس کے لاشعور میں کہیں نہ کہیں محفوظ رہتی تھیں جو اس وقت اس کے لاشعور سے نکل کر شعور میں چلی آئیں۔ جب نجمہ پھوپھی نے پاپا سے بات کرنے کے لےے فون کیا، وہ یہ جاننے کے بعد فون بند کرنے لگیں کہ پاپا گھر پر نہیں ہیں مگر ہانیہ خود ہی ان سے سب کی خیر خیریت پوچھنے لگی اور ان سے باتوں کے دوران ہی اسے احساس ہوا تھا کہ صرف اس کی مما نے قطع تعلق نہیں کیا ہے بلکہ سرد مہری کا مظاہرہ دوسری طرف سے بھی بدستور ہوتا رہا پھر بھی اپنے طور پر وہ ان کے گھرانے سے اچھے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور اس کی وجہ صرف اور صرف ان کی نئی نسل تھی۔ اگر اس کے اپنے بہن بھائی ہوتے تو شاید وہ ان کی طرف اتنا نہ کھینچتی مگر جو تنہائی اس نے اپنے گھر میں جھیلی تھی، اس کے بعد فطری طور پر اسے ان کے گھر کا ماحول بہت پرکشش لگا تھا۔

نجمہ پھوپھی نے اس کے کہنے پر فائزہ کو بلا دیا۔ اس کا ارادہ فائزہ سے لمبی چوڑی گفتگو کرنے کا تھا مگر سلام دعا کے بعد وہ تو جیسے بولنے کے قابل ہی نہیں رہی کیونکہ دوسری طرف فائزہ سانس لےے بغیر کہہ رہی تھی۔

’’یار کمال کی نازک مزاج ہو تم، ایک ذرا سا بخار کیا آگیا، تم فون پر بھی بات کرنے کے قابل نہیں رہیں۔ میں نے تمہیں فون کیا تو ممانی نے کہا، تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ، اس لےے تم فن لینڈ نہیں جاسکتیں۔ چلو یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے مگر ایسا بھی کیا بخار کہ تم ایک بار میری بات بھی نہیں سن سکتیں۔ ہم نے تنویر بھائی اور صائم بھائی سے ایک ساتھ ٹریٹ لی تھی۔ دوسرے تایا کے بچوں نے اپنے ماموں زاد اور خالہ زاد بہن بھائیوں کو بھی بلالیا تھا۔ اب اتنے سارے لوگوں کا پروگرام ایک تمہاری وجہ سے تو کینسل نہیں کر سکتے تھے۔ بخار ہی تو آیا تھا، کوئی مر تو نہیں رہی تھیں۔ سویٹر وغیرہ پہن کر آجاتیں، صرف ایک بنچ پر بیٹھی رہتیں، جھولے وغیرہ پر نہیں جھولتیں۔ ہم تمہیں جلدی گھر چھوڑ دیتے مگر تم اتنی ڈبو ہو کہ بستر سے نہیں نکل سکیں۔ سچ اتنا مزا آیا تھا۔ تم نہیں جانتیں، تم نے کیا مس کر دیا۔‘‘ فائزہ ایک تواتر سے بول رہی تھی جس لمحے کا وہ اس قدر انتظار کر رہی تھی، وہ لمحہ آیا اور گزر بھی گیا اور اسے خبر تک نہیں ہوئی۔ وہ جانتی تھی مما نے ایسا کیوں کیا۔ مما کا وہ طعنہ وہ ابھی تک بھولی نہیں تھی۔

’’ایک رات تم اپنی پھوپھیوں کے پاس رہ کر آئی ہو اور تمہارے بات کرنے کا انداز ہی بدل گیا۔‘‘ اس کے ذہن میں خود بخود درخشاں کی کہی باتیں گھومنے لگیں۔

’’تمہاری مما کو کیا پرابلم ہے تمہارے کہیں آنے جانے سے۔ ایسا تو لوئر کلاس گھرانوں میں ہوتا ہے، اس لےے تم اپر کلاس فیملی کی لگتی ہی نہیں کیونکہ تمہاری پرورش تمہاری مما نے سو سال پرانے انداز میں کی ہے۔

تمہاری شاپنگ مما کیوں کرتی ہیں۔ تم اپنی پسند سے چیزیں خریدا کرو۔ تم بچی تھوڑی ہو۔ تمہیں کھل کر اپنی مما سے بات کرنی چاہےے۔ مجھے تو وہ ذہنی طور پر بیمار لگتی ہیں۔ انہیں خود دنیا سے کٹ کر رہنے کا شوق ہے تو ٹھیک ہے، بیٹھی رہیں گھر میں لیکن تمہیں کیوں قید کر رکھا ہے۔‘‘ ہانیہ کے لےے فائزہ سے بات کرنا مشکل ہوگیا تو اس نے بہانہ بنا کر جلدی سے فون بند کر دیا۔

ض ض ض

اسے بچپن سے ہی ضدیں کر کے اپنی بات منوانے کا فن نہیں آتا تھا، اسی لےے مما اس پر جو بھی پابندی لگاتیں، وہ اسے چپ چاپ ماننے پر مجبورہوجاتی۔ فطرت اس کی اب بھی یہی تھی، اسی لےے اس نے مما سے فائزہ کے فون کے متعلق استفسار نہیں کیا لیکن اس کے سوچنے کے اندازمیں تبدیلی ضرور آگئی تھی۔ پہلے ان کے منع کرنے پر وہ اس کام سے رک جاتی تھیں لیکن اب بار بار یہ خیال اس کے اندر سر اٹھانے لگا تھا کہ اگر وہ اجازت نہیں دے رہیں تو یہ کام ان سے چھپ کر کرلینا چاہےے۔ اس کی مثال درخشاں تھی جسے پہلی بار فون پر یہ بتاتے ہوئے اسے بہت عجیب لگا تھا کہ اسے فون پر کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن یہ سب درخشاں کے علم میں لانا سخت ضروری تھا تاکہ وہ اس کی مجبوری سمجھے اور اسے خود فون نہ کرے۔ درخشاں نے اس کی مجبوری تو سمجھ لی لیں ساتھ ہی اس کے ہاتھ ایک موضوع لگ گیا۔ وہ اس کے ماں باپ پر بڑے جارحانہ انداز میں نکتہ چینی کرتی۔ ہانیہ کو کچھ باتیں اگرناگوار گزرتیں، تب بھی وہ اس بات سے سو فیصد متفق تھی کہ وہ اس کے وجود کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے ساتھ تین سال کی بچی کی طرح پیش آتے ہیں۔ اس کے معمولی سے معمولی فیصلے بھی اس کی مما کرتی ہیں تاکہ وہ خود مختار نہ ہوجائے۔

ان سارے انکشافات کے بعد جہاں اس کے دل میں ان کے لےے احترام کم ہوا تھا، وہیں خود مختاری کے اس حق کو چرالینے کی شدید خواہش بھی اس کے اندر مچلنے لگی تھی۔ درخشاں نے اسے اپنے گھر پارٹی میں انوائٹ کرنے کے ساتھ بڑے یقین سے کہا تھا۔

’’اب تم کہو گی کہ مما اجازت نہیں دیں گی، اس لےے میں نہیں آسکتی۔‘‘

’’مما تو واقعی اجازت نہیں دیں گی لیکن میں ان سے کوئی بہانہ کر کے آجائوں گی۔‘‘

بڑی روانی سے یہ جملہ اس کے منہ سے پھسلا تھا جس پر درخشاں نے اسے خوب سراہا تھا۔ اس کے منہ سے توصیفی جملے سن کر ہانیہ کے اندر اچھا خاصا اعتماد آگیا تھا۔ ویسے بھی اس کے دل میںمما کی طرف سے اتنا تنفر بھرا ہوا تھا کہ وہ زندگی میں پہلی بار ان کے سامنے جھوٹ بولتے وقت ذرا بھی نہیں ہچکچائی تھی۔ حالانکہ درخشاں کی اس پارٹی میں بظاہر اس کی دلچسپی کا کوئی سامان نہیں تھا۔ اس نے زیادہ تر اپنی کزنز بلائی تھیں اور کلاس کی جو لڑکیاں مدعو تھیں، ان سے ہانیہ کی زیادہ دوستی نہیں تھی کیونکہ وہ ہانیہ کے مزاج کی نہیں تھیں لیکن درخشاں کون سا اس کے مزاج کی تھی۔ اسے تو صرف گھر کی تنہائیوں سے فرار چاہےے تھا جس کے لےے اس نے مما سے لائبریری جانے کا بہانہ بنایا تھا جس پر انہوں نے فوراً یقین کرتے ہوئے اسے اجازت دے دی تھی۔ ان کے اتنی آسانی سے مان جانے پر اسے تھوڑا افسوس ضرور ہوا مگر وہ جلد ہی اس شرمندگی سے باہر آگئی۔ یہ سوچ کر کہ وہ کسی غلط جگہ پر نہیں جارہی، اپنی دوست کے گھر جارہی ہے، جہاں دوسری بھی کئی لڑکیاں مدعو ہیں پھر بھی اگر اسے جھوٹ بولنا پڑا تو اس کی ذمہ دار خود اس کی مما کی بے جا پابندیاں ہیں۔

درخشاں کے گھر پہنچ کر اس کی یہ سوچ مزید گہری ہوگئی، جہاں درخشاں کی ماما اس کی تمام سہیلیوں سے بالکل دوستوں کی طرح ملی تھیں۔ ہانیہ سے مل کر انہوں نے خاص طور پر اس کا شکریہ ادا کیا تھا کہ اس کے پاپا کی وجہ سے ان کے سسر کے بھائی کے علاج پر کافی پیسہ بچ گیا۔ حالانکہ ان کے گھر کی سجاوٹ ان کے بے جا اصراف کا منہ بولتا ثبوت تھی مگر پرتعیش اشیا کی خریداری پر رقم خرچ کرنا تو ایک فخر تھا، وہی رقم اگر کسی بیمارپر خرچ کرنی پڑجائے تو انسان مہنگائی کا رونا رونے لگتا ہے۔ تب یہ اخراجات کھلنے لگتے ہیں۔ خاص طور پر اگر وہ مریض کوئی بوڑھا رشتے دار ہو۔

’’میں سوچ رہی تھی تمہاری والدہ سے ملنے جائوں گی مگر فرصت ہی نہیں مل رہی ۔‘‘ درخشاں کی مام بولیں۔

’’مام! اگر آپ کی ملاقات ہانیہ کی ممی سے ہو تو پلیز انہیں یہ مت بتائےے گا کہ ہانیہ ہمارے گھر آئی تھی۔‘‘ درخشاں کے ایک دم کہنے پر ہانیہ چونک اٹھی۔

’’کیوں۔‘‘ اس کی مام بھی حیران ہوگئیں۔

’’کیونکہ ہانیہ نے بتایا نہیں ہے کہ وہ میرے گھر پارٹی میں آئی ہے، ورنہ وہ اسے ہرگز اجازت نہیں دیتیں۔ ہانیہ نے ان سے کہا ہے کہ وہ امتحانوں کے زمانے میں لائبریری سے ایک کتاب لائی تھی جسے وہ واپس کرنا بھول گئی۔ اب لائبریرین کے فون کرنے پر وہ میرے ساتھ کالج جارہی ہے وہ کتاب واپس کرنے۔‘‘

ہانیہ کو امید نہیں تھی درخشاں اس کے جھوٹ کے بارے میں اتنے اطمینان سے سب کے سامنے بتا دے گی۔ وہ جز بز ہو کر رہ گئی۔ کیا سوچ رہی ہوگی درخشاں کی مام اس کے بارے میں اور واقعی ان کے چہرے کے تاثرات بدل گئے تھے۔ وہ ہانیہ کو عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگی تھیں۔ شاید وہ کچھ کہہ بھی دیتیں مگر درخشاں کی ایک کزن کی آمد پر وہ اس کی طرف متوجہ ہوگئیں۔

’’کیا ضرورت تھی تمہیں آنٹی کو یہ سب بتانے کی۔‘‘ ہانیہ نے موقع ملتے ہی درخشاں کو ٹوکا۔

’’کمال کرتی ہو تم، وہ تمہاری مما کو بتادیتیں تو۔‘‘ درخشاں اسی پر بگڑ گئی۔

’’لیکن اس طرح میری پوزیشن کتنی آکورڈ ہوگئی۔ وہ کیا سوچ رہی ہوں گی، میں کس قسم کی لڑکی ہوں۔ گھر میں لائبریری کا بہانہ کر کے باہر پارٹی منا رہی ہوں۔‘‘ ہانیہ دونوںہاتھوں کی انگلیاں آپس میں الجھاتے ہوئے بے چینی سے بولی۔

’’اس میں سوچنا کیا ہے، یہ تو سچ ہے اور میں اپنی مام سے کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔‘‘ درخشاں نے براہِ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد سے لہجے میں کہا۔ ہانیہ ٹھٹک گئی تھی اس کے انداز پر۔ درخشاں کو بھی شاید کچھ خیال آگیا تھا، تب ہی وہ ایک دم ہنس کر بولی۔

’’فارگیٹ اٹ یار! میری مام ایسی نہیں ہیں۔ تم پریشان مت ہو، چیئر اپ۔‘‘درخشاں نے اس کا ہاتھ تھپتھپایا۔ ہانیہ گہرا سانس کھینچ کر رہ گئی۔ البتہ تھوڑی دیر بعد وہ سب کچھ بھول گئی۔ درخشاں کی کزنز کے ساتھ پتا ہی نہ چلا کہ ایک گھنٹا کہاں گزر گیا۔ اس کا ارادہ ایک گھنٹے میں ہی گھر چلے جانے کا تھا، اسی لےے جب وہ جانے کے لےے کھڑی ہونے لگی تو ان سب کا باہر جانے کا پروگرام بن گیا۔ پہلے تو ہانیہ نے انکار کر دیا مگر فن لینڈ کا نام سن کر وہ تذبذب کا شکار ہوگئی۔ درخشاں اس کی پریشانی دیکھ کر کہنے لگی۔

’’تم سوچ رہی ہوگی ہماری وجہ سے تمہیں دیر ہوجائے گی۔ حالانکہ فن لینڈ تمہارے گھر سے پندرہ منٹ کے فاصلے پرہے۔ ہمیں اگر ٹائم لگے تو تم اکیلی چلی جانا۔‘‘ ہانیہ اس سنہری موقع کو ویسے بھی مس نہیں کرنا چاہتی تھی۔ درخشاں کی بات سن کر گویا اس کی ساری الجھنیں دور ہوگئیں۔ درخشاں کی کزنز روزی کی اچھی خاصی رش ڈرائیونگ کے باوجود وہ لوگ پون گھنٹے بعد فن لینڈ پہنچے۔

شام ہوجانے کے باعث وہاں اچھی خاصی رونق تھی۔ موسم تو صبح سے ہی خوش گوار تھا۔ چنانچہ دھوپ کی شدت کم ہوجانے پر ہوا میں خنکی کا احساس بھی بڑھ گیا تھا۔ زیادہ تر لوگ کئی کئی خاندانوںکے ساتھ مل کر گروپس کی صورت میں آئے ہوئے تھے۔ گھانس پر چٹائی بچھائے کھانے پینے کا سامان درمیان میں رکھے لوگ ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے دکھائی دے رہے تھے۔ ایک طرف الیکٹرانک رائیدز کی دھواں دھار آوازیں تھیں تو دوسری طرف دوڑتے بھاگتے بچوں کی کھلکھلاہٹیں۔

ہانیہ جیسے کسی اور ہی دنیا میں آگئی تھی۔ اس کے لےے سب بالکل انوکھا تجربہ تھا۔ بلاشبہ وہ پہلی بار کسی تفریحی مقام پر آئی تھی۔ ایک طرف اگر اسے یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا تو دوسری طرف وہ جھجک بھی بہت رہی تھی۔ درخشاں وغیرہ تقریباً ہر اسٹال پر رک کر کوئی نہ کوئی گیم کھیلنا شروع کر دیتیں جب کہ ہانیہ دور کھڑی انہیں دیکھتی رہتی۔ اس کے پاس پیسے نہیں تھے جو وہ بندوق سے غبارہ پھوڑ کر ٹیڈی بیئر جیتنے کی کوشش کرتی۔ اس کے گیٹ کا ٹکٹ بھی درخشاں نے لیا تھا اور اسے وہ بھی اچھا نہیں لگا تھا اور پھر ایسے اسٹالز کے آس پاس لڑکوں کی اتنی بھیڑ تھی کہ ہانیہ کو اس بھیڑ میں گھس کر کوئی کھیل کھیلنا مناسب بھی نہیں لگ رہا تھا۔ بلکہ گزرتے وقت کا احساس کرتے ہوئے وہ تو گھر جانے کا سوچنے لگی تھی۔

درخشاں نے کہا تھا اس کا گھر یہاں سے پندرہ منٹ کے فاصلے پر ہے مگر ہانیہ کو یہاں آکر پورا علاقہ غیر مانوس لگ رہا تھا، وہ درخشاں کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگی تاکہ اس سے اپنے گھرکا پتا پوچھ سکے۔ تھوڑی دیر بعد درخشاں تمام لڑکیوں کے ساتھ ہاتھ میں ایک بڑا سا ٹیڈی بیئر جھلاتی چلی آئی۔ وہ ایسے کھیل کھیلتی رہتی تھی۔ اس کا نشانہ بہت اچھا تھا۔ درخشاں اٹھلا اٹھلا کر اسے اپنا کارنامہ سنانے لگی۔ وہ سب اتنا شوخ ہورہی تھیں کہ آس پاس گزرتے لوگ انہیں رک کر دیکھنے لگے تھے، تب ہی ایک من چلے نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک گھٹیا سا فقرہ ان کی طرف اچھالا۔ اس کی آواز اتنی بلند تھی کہ آس پاس گزرتے لوگوں نے با آسانی سن لی ہوگی۔ ہانیہ کا سارا خون اس کے چہرے پر سمٹ آیا تھا۔ ابھی وہ اس خفت سے باہر بھی نہیں نکلی تھی کہ ایک دوسرے خیال نے اسے مزید ہراساں کردیا۔ درخشاں جیسی بولڈ لڑکی سے اس بات کی توقع ذرا کم ہی تھی کہ وہ اس جملے کو چپ چاپ پی جائے گی۔ وہ اس لڑکے کی پلٹ کر خبر ضرور لے گی۔

ہانیہ تماشا بننے کے خیال سے بے اختیار درخشاں کی طرف دیکھنے لگی مگر اس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی ہانیہ کو اچھا خاصا دھچکا لگا تھا جس نے ایک نظر اس لڑکے پر ڈال کر نہایت تفاخر سے اپنی دوستوں کو دیکھا تھا جن کے چہرے پر بھی ناگواری کا کوئی تاثر نہیں تھا۔کسی نے مسکراتے ہوئے اپنے بال جھٹکے تھے تو کسی نے سرشاری کے اظہار کے طور پر اپنا کندھے پر لٹکا بیگ ٹھیک کیا تھا۔ غرض یہ کہ ہر ایک کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ خود پر کی گئی محنت اور خرچ سب وصول ہوگیا۔

ہانیہ کی نظریں بے اختیار ان سب کے حلےے میں الجھ گئیں۔ سر سے پیر تک وہ ہتھیاروں سے لیس دعوتِ نظارہ کا مکمل اشتہار بنی ہوئی تھیں۔

عورت نے اپنا احترام تو خود گنوایا ہے، سڑکوں اور بازاروں میں ایسے حلےے میں پھرنا صنف مخالف کو اکسانا نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ خود نمائی کا یہ شوق کسی ذہنی بے راہ روی سے کم نہیں اور اس پر کسی غیر آدمی کے اچھالے فقرے کو خراجِ تحسین کے طور پر قبول کرنا سطحی ذہنیت نہیں تو اور کیا ہے۔

اور ان کے ساتھ اپنی موجودگی نے اسے عجیب سے تاسف میں گھیر لیا تھا۔ بھلے ہی اس کا حلیہ ان سب سے یکسر مختلف تھا مگر وہ یہاں ان سب کی دوست کی حیثیت سے کھڑی تھی اور وہ خود کون سا پردے کے مکمل احکام کی پابند تھی۔ درخشاں کے گھر وہ پارٹی اٹینڈ کرنے کے ارادے سے آئی تھی، لہٰذا وہ اسی حساب سے تیار ہوئی تھی۔ قدرتی طور پر حسین ہونے کے ساتھ ساتھ ہلکے سے میک اپ اور نازک سی جیولری میں وہ اتنی پرکشش تو لگ ہی رہی تھی کہ انسان ایک بار رک کر اسے دیکھنے پر مجبور ہوجائے۔

’’مجھے گھر جانا ہے۔‘‘ وہ اپنی سوچوں سے گھبرا کر ایک دم بول پڑی۔ خود احتسابی کا عمل واقعی آسان نہیں ہوتا۔

’’ابھی سے جانا چاہتی ہو، ابھی تو تم نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔‘‘

’’میں گھر سے ایک گھنٹے کا کہہ کر نکلی تھی اور اب دو گھنٹے ہوچکے ہیں۔‘‘ ہانیہ نے رسٹ واچ پر نظر ڈالی۔

’’لیکن تم گھر کیسے جائو گی، تمہیں راستہ پتا ہے کیا۔‘‘ درخشاں نے ٹیڈی بیئر کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو ہانیہ سوچ میں پڑ گئی۔

’’میں تمہیں گاڑی میں چھوڑ دوں گی۔ پیدل جانے میں تمہیں بہت ٹائم لگے گا۔ اپنی مما سے کہہ دینا اتنے دنوں بعد لائبریری گئی تھی۔ کچھ دوسری کتابیں ایشو کرانے میں دیر ہوگئی۔‘‘

’’اور کیا اب تم روز روز تو یہاں آئو گی نہیں۔ اتنا مہنگا ٹکٹ لیا ہے۔ ایک بار پورا پارک دیکھ تو لو۔‘‘ ہانیہ سمجھ نہ سکی کہ درخشاں ایسے ہی کہہ رہی ہے یا اسے جتا رہی ہے۔‘‘

’’اصل میں ہم لوگ گیمز کھیل رہے ہیں نا، اس لےے وہ بور ہورہی ہے۔ ایسا کرتے ہیں کسی جھولے پر چلتے ہیں تاکہ وہ بھی تھوڑا انجوائے کر سکے۔‘‘

اس کی کلاس فیلو ماریہ بولی تو سب ہانیہ کے انکار پر دھیان دےے بغیر فوراً تیار ہوگئے۔ سب کی متفقہ رائے پر وہ بھی ان کے ساتھ مجبوراً رولر کاسٹر پر بیٹھنے چل پڑی۔ حالانکہ اس کے فرشتوں کو بھی نہیں پتا تھا کہ رولر کاسٹر کیا بلا ہے۔ البتہ اسے اتنا اندازہ ضرور ہوگیا تھا کہ وہ اکیلی گھر نہیں جاسکتی اور ایک اس کی وجہ سے کوئی جلدی چلنے کے لےے تیار نہیں ہوگا۔ ایک طرح سے وہ پھنس گئی تھی ان کے ساتھ آکر۔ مما کے غصے کے بارے میں سوچ سوچ کر اس پر گھبراہٹ سوار ہونے لگی تھی وہیں رولر کاسٹر کو دیکھ کر جیسے اس کی جان ہی نکل گئی۔ وہ ایک ٹرین نما جھولا تھا مگر اس ٹرین کے ڈبے نہیں تھے، صرف دو دو سیٹوں کو جوڑ کر ایک قطار بنا دی گئی تھی اور سب سے بڑھ کر اس کی پٹری زمین پر نہیں تھی بلکہ دس فٹ کی بلندی سے شروع ہو کر چالیس فٹ کی بلندی تک چلی گئی تھی۔ ہانیہ کے تو اوسان خطا ہوگئے تھے مگر درخشاں اس کی حالت سے بے خبر اس کا ہاتھ پکڑے اسے گھسیٹتی ہوئی قطار میں جا کھڑی ہوئی جب کہ روزی ماریہ وغیرہ ٹکٹ خریدنے چلی گئیں۔اس طرف بھیڑ اتنی زیادہ تھی کہ اگر کسی کا ہاتھ ایک لمحے کے لےے بھی چھٹ جاتا تو اسے ڈھونڈنا مشکل ہوجاتا اور اس لےے ہانیہ اس کے ساتھ کھینچتی چلی گئی تھی۔

’’درخشاں میری بات تو سنو، میں اس جھولے میں نہیں بیٹھ سکتی۔‘‘ ہانیہ آس پاس امڈتے شور کی وجہ سے چیخ کر بولی، تب بھی درخشاںکو بمشکل سنائی دیا۔

’’ارے بڑا مزا آئے گا ، میں ایسے جھولوں میں بہت بار بیٹھی ہوں مگر یہ ان سب سے بڑا ہے۔ اچھا ہوا ہم پہلے آگئے، دیکھو کتنی لمبی لائن ہے۔ جب تک یہ جھولا رکے گا اور ہمارا نمبر آئے گا، روزی وغیرہ ٹکٹ لے کر آ بھی جائیں گی۔‘‘ درخشاں کی نظریں رولر کاسٹر پر جمی ہوئی تھیں جو آندھی طوفان کی رفتار سے پٹری پر دوڑ رہا تھا۔

’’درخشاں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے، میں نہیں بیٹھ سکتی۔‘‘ ہانیہ کو وحشت ہورہی تھی۔ اس کے آگے پیچھے لوگ کھڑے تھے اور دونوں اطراف گرل لگی ہوئی تھی۔ گویا فرار کاکوئی راستہ نہیں تھا۔

’’میں نے تمہارے ٹکٹ کے پیسے ماریہ کو دے دےے ہیں۔ اب پلیز زیادہ نخرے مت دکھائو۔‘‘ درخشاں اتنی تلخی سے بولی کہ ہانیہ لب بھینچ کر رہ گئی۔ ایک تو وہ آنا نہیں چاہ رہی تھی، درخشاں زبردستی اسے گھسیٹ لائی اور اوپر سے پیسے خرچ کرنے کا احسان الگ۔

ہانیہ نے سوچ لیا تھا کہ وہ کسی بھی طرح درخشاں کے پیسے اسے لوٹا دے گی، البتہ اس کے بعد وہ کچھ بولی نہیں۔ جھولا رکا اور لوگ اتر کے دوسرے دروازے سے باہر نکلنے لگے۔ جب تمام لوگ باہر نکل گئے۔ تب نئے آنے والوں کے لےے دوسرا گیٹ کھول دیا، وہ دونوں بھی بڑھتی قطار کے ساتھ مجبوراً اندر چلی آئیں۔

’’ٹکٹ‘‘ گیٹ پر کھڑے آدمی نے مخصوص کاروباری انداز میں کہا۔

’’وہ میری دوست لارہی ہے۔‘‘ درخشاں بولی۔

’’تو پھر تم بھی دوست کے ساتھ آنا۔ ایک طرف کھڑی ہوجائو۔‘‘ عجیب جاہلوں کا سا لہجہ تھا، وہ دونوں ایک طرف کو ہٹ کر کھڑی ہوگئیں۔ ان کے پیچھے کھڑے لوگ ٹکٹ دے کر سیٹوںپر جا کر بیٹھنے لگے۔

’’وہ کب آئیں گی، اتنی دیر میں تو ساری جگہ بھر جائے گی۔‘‘ درخشاں غصے اور جھنجھلاہٹ سے پائوں پٹخ کر بولی۔

’’کاش ایسا ہوجائے۔‘‘ ہانیہ دل ہی دل میں بڑبڑا ئی مگر ایسا ہوا نہیں۔ سامنے ہی ماریہ گرل کے پاس آتی دکھائی دی۔

’’کتنا ٹائم لگا دیا، اب پتا نہیں وہ تم سب کو اندر آنے دے گا بھی یا نہیں۔ دیکھو کتنی لمبی لائن ہے۔‘‘ درخشاں اسے دیکھتے ہی برس پڑی مگر وہ اس کے غصے کی پروا کےے بغیر گرل میں سے ٹکٹ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔

’’ہم بیٹھ بھی نہیں رہے۔ صرف تم دونوں کا ٹکٹ لیا ہے۔‘‘

’’کیوں، کیا ہوا؟‘‘ درخشاں ٹکٹ لیتے ہوئے بولی۔

’’یار! وہ روزی کو ڈر لگ رہا تھا تو بس ایک ایک کر کے سب کی ہمت جواب دے گئی۔ ہم اب تک جتنے بھی رولر کاسٹر میں بیٹھے ہیں، ان میں سے کوئی بھی اتنا بڑا نہیں تھا اور وہ دیکھو۔ وہاں تو پٹری پوری الٹی گھوم گئی ہے۔ نہ بابا مجھ میں اتنی ہمت نہیں۔‘‘ ماریہ جلدی جلدی کہہ کر واپس پلٹ گئی۔

’’آگیا ٹکٹ، چلو جلدی کرو۔‘‘ اس آدمی نے درخشاں کے ہاتھ سے ٹکٹ تقریباً چھینتے ہوئے کہا۔ وہ دونوں مشینی انداز میں سیڑھیاں چڑھ کر ٹرین کے پاس آگئیں۔ ہانیہ کا بھاگ جانے کا دل چاہ رہا تھا مگر وہ محض درخشاں کے طعنے سے بچنے کے لےے دل کڑا کر کے اس سے بھی پہلے اندرونی سیٹ پر جا بیٹھی۔

’’روزی کبھی کسی جھولے پر بیٹھنے سے نہیں ڈرتی، پہلی بار ایسا ہوا ہے۔‘‘ درخشاں نے اس کے برابر میں بیٹھتے ہوئے کانپتی آواز میں کہا۔ ہانیہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔ اس کے چہرے پر خوف پھیلا دیکھ کر ہانیہ دھک سے رہ گئی۔ درخشاں اتنی عادی ہونے کے باوجوداتنی ہراساں تھی جبکہ اسے تو کسی جھولے میں بیٹھنے کا کوئی تجربہ ہی نہیں تھا۔

جھولابس چلنے ہی والا تھا، وہ آدمی اوپر آکر سب کی سیٹ بیلٹ چیک کرنے لگا۔ اس کے ساتھ دو لڑکے بھی تھے۔ وہ شاید بیٹھنے کے لےے جگہ ڈھونڈ رہے تھے کیونکہ وہ آدمی ان پر چلا رہا تھا۔

’’بولانا جگہ نہیں ہے۔ جائو اگلی باری اکا انتظار کرو۔‘‘

’’میں۔۔۔ میں نہیں بیٹھ سکتی۔‘‘ درخشاں بڑبڑائی اور ہانیہ کے کچھ بھی کہنے سے پہلے کھڑی ہو کر جھولے سے اتر گئی۔ اسے اترتا دیکھ کر کچھ لمحوں کے لےے ہانیہ کے ذہن نے کام کرنا بند کر دیا اور جب تک اسے یہ خیال آیا کہ اسے بھی اتر جانا چاہےے، ایک لڑکا اس کے برابر والی سیٹ پر آ بیٹھا۔

’’مجھ۔۔۔ مجھے باہر جانا ہے۔‘‘ ہانیہ نے گھبرا کر کہا مگر اس نے جیسا سناہی نہیں۔ وہ دوسری سیٹوں پر بیٹھے اپنے دوستوں کو چلُا کر بتانے لگا کہ اسے بیٹھنے کی جگہ مل گئی ہے۔

’’ایکسکیوزمی! مجھے اترنا ہے۔ آپ پلیز راستہ چھوڑ دیں۔‘‘ ہانیہ کہنے کے ساتھ ہی کھڑی ہونے لگی۔ ان کی سیٹ بیلٹ کسی ہوائی جہاز کی سیٹ بیلٹ جیسی نہیں تھی بلکہ سیٹ کی بیک پر ایک لوہے کی وی کی شکل میں راڈ سی لگی تھی جسے اس آدمی نے نیچے کر کے ان کے کندھوں پر ٹکا دیا تھا۔ ہانیہ نے اٹھنے کے جب اس راڈ کو اٹھانا چاہا تو وہ اپنی جگہ سے ہلی تک نہیں۔ حالانکہ درخشاں اسے اوپر اٹھا کر آرام سے کھڑی ہوگئی تھی۔ گویا اس کی سیٹ بیلٹ کنٹرول روم سے لاک ہوگئی تھی۔ یعنی جھولا بس کسی بھی لمحے چلنے والا تھا۔ ہانیہ کی جیسے جان ہی نکل گئی۔

’’کیا آپ کوسنائی نہیں دے رہا، میں آپ سے کہہ رہی ہوں۔ مجھے اترنا ہے۔ آپ پلیز یہ جھولا رکوا دیں۔‘‘ہانیہ تقریباً چلا کر بولی۔ تب اس لڑکے نے حیران ہو کر ایسے ہانیہ کی طرف دیکھا جیسے اس کی بات اب سنی ہو۔

’’اگر اترنا تھا تو بیٹھی کیوں تھیں۔ اگر یہ خیال آپ کو مجھے دیکھنے کے بعد آیا ہے تو میں آپ کو بتادوں کہ ساری سیٹیں بھری ہوئی تھیں ، اس لےے مجھے یہاں بیٹھنا پڑا۔ آپ کو شاید یہ لگ رہا ہوگا کہ میں آپ کی وجہ سے یہاں بیٹھ گیا ہوں۔ حالانکہ میں نے تو آپ کو اب دیکھا ہے۔‘‘ وہ شاید کوئی بہت باتونی تھا جو ہانیہ کو بولنے کا موقع دےے بغیر خود شروع ہوگیا تھا۔ ہانیہ ویسے بھی بولنے کے قابل نہیں رہی تھی کیونکہ جھولا رینگنا شروع ہوگیا تھا اور اس کے چہرے کا رنگ اڑتا دیکھ کر وہ خود ہی نتائج اخذ کر کے اسے سمجھانے والے انداز میں کہنے لگا۔

’’دیکھیں مس، اس جھولے کو اب روکا نہیں جا سکتا۔اس لےے بہتر ہوگا کہ آپ اپنے ٹکٹ کے پیسوں کو برباد نہ کریں اور اس رائیڈ کو پوری طرح انجوائے کریں۔ میری طرف سے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ بے شک بہت حسین ہوں گی مگر آپ کا حسن کوئی ایسا بھی ہوش ربا نہیں کہ میں بھرے مجمع میں حواس کھو بیٹھوں۔‘‘

’’یہ آپ کیا بکواس کر رہے ہیں۔‘‘ ہانیہ کو اچھا خاصا غصہ آگیا تھا۔ اس لڑکے کی بات پر۔

’’میں بکواس نہیں کر رہا بلکہ آپ کو تسلی دے رہا ہوں۔ دیکھیں نا، اگر میں یہ کہوں کہ میں بہت شریف انسان ہوں تو یہ ایک بے کار سی بات ہوگی۔ جب آپ مجھے ہی نہیں جانتیں تو بھلا میری کہی بات کی کیا گارنٹی ہوسکتی ہے، اس لےے میں ایک لاجک کے ساتھ بات کر رہا ہوں کہ کوئی شخص اگر شریف نہ بھی ہو تو بھی بھرے مجمع میں شرافت دکھانے پر مجبور ضرور ہوتا ہے اور ہماری سوسائٹی کی ذہنیت کچھ ایسی ہے کہ اگر کوئی لڑکی شور مچا دے تو لوگ بغیر کچھ پوچھے، بغیر کچھ سوچے اس لڑکے کی پٹائی کرنا شروع کر دیتے ہیں جو اس لڑکی کے سب سے قریب کھڑا ہو اور میں اس بات کا چشم دید گواہ ہوں۔

ایک دن بس اسٹاپ پر ایک لڑکی نے بچائو بچائو چلانا شروع کیا اور لوگوں نے پاس کھڑے لڑکے کو بری طرح مارنا شروع کر دیا۔ کسی کو آفس میں باس نے ڈانٹا تھا تو کسی کا بیوی سے جھگڑا ہوا تھا، کسی کے سر پر گرمی کا اثر ہوگیا تھا اور کسی پر ویسے ہی ہیرو بننے کا بھوت سوار تھا۔ غرض یہ کہ سب نے مل کر اس لڑکے کی اچھی طرح درگت بنا دی، تب پتا چلا کہ وہ لڑکا اس کا بھائی تھا اور اس لڑکی نے اپنے بھائی کے پاس ایک ربڑ کا سانپ پڑا دیکھ کر لوگوں کو بھائی کی مدد کرنے کے لےے پکارا تھا۔‘‘

وہ لڑکا پتا نہیں کیا کیا بولے جارہا تھا۔ ہانیہ میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ اسے ڈانٹ کر چپ کرادیتی۔ وہ تو سختی سے آنکھیں میچے بیٹھی تھی۔ ہوائوں کے تھپیڑوں سے اسے نہ صرف جھولے کی تیز رفتاری کا علم ہوگیا تھا بلکہ زور دار جھٹکوں سے اسے پٹری کے ہر موڑ کا بھی بخوبی اندازہ ہوجاتا۔ اس کا دل دھڑکنا بند ہوگیا تھا۔اسے لگ رہا تھا، وہ ابھی سیٹ سے نکل کر زمین پر جا گرے گی۔ ڈر کے مارے اس کے منہ سے آواز بھی نہیں نکل رہی تھی جب کہ لوگ بے تحاشا چیخ رہے تھے جن میں بس چند ہی خوف سے بھری بے ساختہ چیخیں تھیں۔ باقی ساری آوازیں خوشی کے اظہار کے طور پر لگائی جارہی تھیں۔ ہانیہ کا دماغ جب اچھا خاصا مائوف ہوگیا، تب جھولے کی رفتار کم ہوتے ہوتے بالکل تھم گئی۔

ہانیہ نے کب کا دبا سانس باہر چھوڑتے ہوئے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں اور تمام اعضا کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔ خاص طور پر کندھوں پر رکھی راڈ کو چھوڑتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ راڈ پر اس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ انگلیاں دکھنے لگی تھیں۔ تب انگلیوں کو چٹخاتے ہوئے اس نے اپنے برابر میں بیٹھے لڑکے کو دیکھا جو اگلی نشستوں پر بیٹھے اپنے دوستوں سے چلاکر کچھ کہہ رہا تھا۔

’’کیا ہوا، آپ اتر کیوں نہیں رہے۔‘‘ ہانیہ نے ناگواری سے پوچھا تو وہ جو اپنے دوست سے کچھ کہہ رہا تھا۔ ایک بار پھر حیرانی سے ہانیہ کو دیکھنے لگا۔

’’کیونکہ یہاں سے اترا نہیں جاسکتا، صرف کودا جاسکتا ہے۔ وہ بھی اس صورت میں کہ کنٹرول روم سے سیٹ بیلٹ کا لاک کھول دیا جائے۔‘‘ اس کے چبا کر کہنے پر ہانیہ نے چونک کر اپنے ارد گرد دیکھا۔ ان کا جھولا کوئی تیس بتیس فٹ کی اونچائی پر کہیں راستے میں ہی رک گیا تھا۔ وہ یہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی کہ جھولے میں کوئی خرابی ہوگئی ہے مگر لوگوں کی پریشانی میں ڈوبی آوازیں اسے اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔

’’لگتا ہے لائٹ چلی گئی ہے۔‘‘ کوئی اندازہ لگاتے ہوئے بولا۔

’’ہاں، دیکھو سارے جھولوں کی لائٹس آف ہوگئی ہے۔ لگتا ہے سب ہی جھولے بند ہوگئے ہیں۔‘‘

’’تو کیا یہاں کی انتظامیہ کے پاس جنریٹر نہیں ہیں کہ وہ جھولا آن کر کے ہمیں نیچے اتارلیں؟‘‘

’’ہوں گے تو ضرور مگر اتنے نہیں ہوں گے کہ سارے جھولے ایک ساتھ آن ہوسکیں۔ وہ ایک ایک کر کے ہی سب کو اتاریں گے۔‘‘

’’اس میں تو بہت ٹائم لگ جائے گا۔ مغرب کا وقت ہوگیا ہے۔‘‘ کسی عورت کی گھبرائی ہوئی آواز پر ہانیہ کا بھی دل بند ہونے لگا، تب ہی ایک اور آواز آئی۔

’’وہ دیکھو سب لوگ باہر جارہے ہیں۔‘‘ ہانیہ نے بھی اِدھر اَدھر دیکھا مگر اس کی جگہ سے گیٹ نظر نہیں آرہا تھا۔ اس نے اپنے برابر میں بیٹھے لڑکے کی طرف دیکھا مگر وہ اپنے موبائل پر بات کر رہا تھا۔ ہانیہ بے چینی سے ہاتھ پر بندھی گھڑی دیکھنے لگی۔ پونے تین گھنٹے ہوگئے تھے اسے گھر سے نکلے ہوئے ۔ مما کا تو غصے اور پریشانی سے برا حال ہوگیا ہوگا۔ مما کا خیال آتے ہی اس کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہوگیا کہ تب ہی وہ لڑکا موبائل بند کر کے اعلان کرنے والے انداز میں بولا۔

’’میں نے ابھی نیچے کھڑے اپنے ایک دوست سے بات کی ہے، وہ کہہ رہا ہے یہاں کے مین الیکٹرک روم میں ایک آدمی کی شاک لگنے سے موت ہوگئی ہے، اس لےے سارے فن لینڈ کی بجلی بند کر دی ہے۔ اب شاید پولیس کے آنے کے بعد ہی کچھ ہوگا۔‘‘ اس کی بات سن کر سب ہی پریشان ہو کر کچھ نہ کچھ کہنے لگے تھے۔

’’اویس! کیا طلحہ سے بات ہوئی ہے تمہاریٰ‘‘ اس لڑکے کی آگے والی نشست پر بیٹھا اس کا دوست پکار کر پوچھنے لگا تو وہ لڑکا بے زاری سے بولا۔

’’ہاں، میں نے طلحہ سے کہہ دیا۔ تم لوگ اپنی گاڑی میں چلے جائو، ہمیں تو شاید د وتین گھنٹے لگیں گے۔‘‘

’’دو تین گھنٹے۔‘‘ ہانیہ بے ساختہ چلانے والے انداز میں بولی۔

’’مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے، ورنہ جب وہ آدمی مر ہی گیا ہے تو بجلی آن کر کے ہمیں اتارلیں۔ ہم نے قتل نہیں کیا نا اس شخص کو پھر ہمیں کیوں پولیس کے آنے تک الیکٹرک چیئر پر بٹھا رکھا ہے۔‘‘ وہ لڑکا جس کا نام غالباً اویس تھا، گہرا سانس کھینچ کر بولا۔

’’کیا مطلب۔‘‘ ہانیہ پریشانی سے اسے دیکھنے لگی۔

’’مطلب یہ کہ وہ ہمیں دو تین گھنٹوں تک ایسے ہی یہاں بٹھائے رکھیں گے تاکہ ہم لوگ اچھی طرح پریشان ہوجائیں اور جب پولیس اور پریس والے پہنچیں تو ہم ان کے سامنے خوب جلے بھنے بیان دیں۔ اخباروں میں بڑی بڑی سرخیاں لگیں۔ میڈیا اس واقعہ کو اتنا اچھالے کہ اگر حکومت اس جگہ کو بند نہ بھی کرے، تب بھی کم از کم لوگ ڈر کر خود ہی یہاں آنا چھوڑ دیں۔ یہ سب فن لینڈ کو بدنام کرنے کی سازش ہے اور بس۔ ورنہ میں ایسی کتنی جگہوں پر جا چکا ہوں۔ کتنی بار ایسی رائیڈز میں بیٹھ چکا ہوں، آج تک کوئی جھولا اس طرح بیچ میں بند نہیں ہوا۔ اس پارک کے بننے سے پہلے سے کئی جھگڑے چل رہے تھے اور ان کے جھگڑے میں ہم خوامخواہ گھن کی طرح پس گئے۔‘‘

اویس لاپروائی سے بولتے ہوئے اپنی جیکٹ کی جیب سے چیونگم نکال کر کھانے لگا۔ اخلاقی مظاہرے کے لےے اس نے ایک چیونگم ہانیہ کی طرف بھی بڑھائی مگر اس کے حواس باختہ چہرے کو دیکھ کر واپس جیب میں رکھ لی۔ ہانیہ واقعی اپنے حواسوں میں نہیں تھی۔ وہ تو پہلی بار کسی جھولے پر بیٹھی تھی بلکہ پہلی بار وہ کسی تفریحی مقام پر آئی تھی، وہ بھی گھر میں جھوٹ بول کر اور وہ جھوٹ بھی اس نے گھر میں پہلی بار ہی بولا تھا اور جس کے اکسانے پر بولا تھا، وہ اسے یہاں بٹھا کر خود نیچے اتر گئی تھی۔ اگر وہ یہاں نہیں بیٹھی ہوتی تو کم از کم گھر تو جا سکتی تھی۔ ہانیہ سوچتے سوچتے ایک دم چونک اٹھی۔

’’اگر درخشاں وغیرہ اس کا انتظارکےے بغیر یہاں سے چلی گئیں تو وہ گھر کیسے پہنچے گی اور وہ تو درخشاںکے ساتھ اپنے گھر سے نکلی تھی۔ اگر مما نے درخشاں کے گھر فون کرلیا تو؟‘‘ ایک کے بعد ایک سوال اس کی پریشانی میں اضافہ کر رہا تھا، وہ سخت اضطرابی انداز میں اپنے ہاتھ ملنے لگی۔

’’کیا آپ کو نیچے پارک میں چار لڑکیاں کھڑی نظر آرہی ہیں۔‘‘ اپنا سوال اسے خود بھی بہت احمقانہ لگاتھا مگر کیا کرتی کہ اس کی سیٹ ہی ایسے زاوےے پر تھی کہ وہ پارک کے اندر کا حصہ نہیں دیکھ سکتی تھی۔ صرف باہر کا روڈ اور ٹریفک ہی دکھائی دے رہا تھا۔

’’پارک تو تقریباً خالی ہوگیا ہے۔‘‘ اویس آنکھوں کو ذرا چندھیاکر دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا کیونکہ شام کے سائے کافی گہرے ہوگئے تھے اور پارک کی تمام لائٹس آف تھیں۔

’’اگر آپ کی فیملی کے پاس موبائل ہے تو آپ ان سے بات کرلیں۔ کون کون آیا ہے آپ کے ساتھ۔‘‘ اویس نے اپنا موبائل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا۔

’’میں تو اپنی دوستوں کے ساتھ آئی ہوں۔ فیملی تو گھر پر۔۔۔‘‘ ہانیہ نے تذبذب کے عالم میں موبائل تھام لیا۔ اسے اس طرح فون کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔مگر بات کرنا بھی ضروری تھا۔ چنانچہ درخشاں کا موبائل نمبر ملانے لگی۔ درخشاں اس کی آواز سن کر چھوٹتے ہی بولی۔

’’ہانیہ! پتا ہے کیا پرابلم ہوگئی ہے۔ کوئی آدمی مر گیا ہے۔ پولیس کو بلایا گیا ہے۔ ہم سب تو وہاں سے فوراً باہر نکل گئیں۔ ہم گاڑی میں ہیں اور۔۔۔‘‘

’’درخشاں! تم گھر جارہی ہو، مجھے چھوڑ کر۔‘‘ ہانیہ اس کی بات کاٹتے ہوئے چلائی۔

’’تو کیا کریں، رات ہونے والی ہے۔ ہمارے گھر بھی دور ہیں۔ تمہارا گھر تو پندرہ منٹ کے راستے پر ہے۔ تم پیدل بھی جاسکتی ہو۔ پتا نہیں تمہیں کتنا ٹائم لگے گا۔ اب ایک تمہاری وجہ سے سب لیٹ ہوجائیں گے۔‘‘ درخشاں اتنی بے نیازی سے بول رہی تھی کہ ہانیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

’’دیکھو، میں تمہارا اتنا فیور کر سکتی ہوں کہ اگر تمہاری مما کا فون آئے تو ان سے کہہ دوں گی کہ تمہیں لائبریری میں ایک دوست مل گئی تھی جس نے تمہیں گھر چھوڑنے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی بلکہ ایسا کرو تم جس کے موبائل سے فون کر رہی ہو، اسی کے موبائل سے ایک فون اپنی مما کو کرلو اور کہہ دو کہ تم انیلا کے گھر چلی گئی ہو۔ ہم دونوں ایک ہی نام لیں گے تو انہیں شک نہیں ہوگا۔ تم کہنا انیلا کا گھر قریب تھا، تم وہاں چلی گئیں اور گھر جا کر تمہیں پتا چلا کہ اس کے فادر گھر پر نہیں ہیں۔ جب وہ آئیں گے تو تمہیں چھوڑ دیں گے۔ اوکے، ڈونٹ وری۔ بائے۔‘‘

درخشاں نے جلدی جلدی کہہ کر فون بند کر دیا۔ ہانیہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر ہزار ضبط کے باوجود اس کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ درخشاں کی بے حسی پر اسے دکھ تو ہوا تھا مگر یہ وقت سوگ منانے کا نہیں تھا، اسے واقعی مما کو فون کر کے بتا دینا چاہےے تھا مگر اس کی ہمت نہیں ہورہی تھی مما سے بات کرنے کی۔ وہ تو کچھ سننے سے پہلے ہی ڈانٹنا شروع کر دیں گی اور انیلا کا نام لینے پر تو وہ انیلا کا ایڈریس جاننے پر بضد ہوجائیں گی تاکہ ڈرائیور کو بھیج کر اسے بلوالیں مگر اب وہ کوئی اور جھوٹ بھی نہیں بول سکتی تھی کیونکہ اگر مما نے درخشاں کے گھر فون کیا تو وہ تو یہی کہنے والی تھی، ان دونوں کا جھوٹ ایک ہی ہونا چاہےے تھا۔ اس نے ایک بار پھر درخشاں سے بات کرنی چاہی مگر درخشاں نے فون کاٹ دیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے کہ تب ہی ایک رومال اس کے سامنے نمودار ہوا۔ ہانیہ نے چونک کر اویس کو دیکھا جس کی موجودگی کو فراموش کےے وہ بے آواز آنسو بہا رہی تھی۔ حالانکہ وہ اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔ گردن دوسری جانب موڑے اس نے رومال ہانیہ کے آگے کر دیا تھا پھر بھی ہانیہ کو سخت شرمندگی ہوئی تھی۔ وہ اس کے رومال کو نظر انداز کر کے جلدی جلدی دوپٹے سے آنکھیں خشک کر کے بولی۔

’’میں ایک اور کال کرلوں۔‘‘ اس کے خاموشی سے سر اثبات میں ہلا دینے پر وہ اپنی تمام ہمتیں مجتمع کر کے پاپا کا موبائل فون نمبر ملانے لگی۔ اس وقت مما سے بات کرنے سے زیادہ آسان تھا کہ وہ پاپا سے بات کرلے، وہ اپنے ذہن میں جملے ترتیب دینے لگی اور اس کام میں اتنی مگن ہوگئی کہ اس نے دھیان ہی نہیں دیا کہ اس کے نمبر ملانے پر اسکرین پر ڈاکٹر احتشام کا نام لکھا آگیا تھا۔ گویا ڈاکٹر احتشام کا نمبر اس موبائل میں پہلے سے فیڈ تھا۔

ڈاکٹر احتشام اس وقت دوسرے ڈاکٹرز کے ساتھ میٹنگ میں مصروف تھے۔ ایک ایمرجنسی کیس پر ڈسکشن کرنے کے لےے انہوں نے ہی یہ میٹنگ بلوائی تھی کہ اچانک ان کا موبائل بج اٹھا۔ اسکرین پر اپنے اسٹوڈنٹ اویس کا نام دیکھ کر وہ موبائل آف کرنے والے تھے کہ کچھ سوچ کر رک گئے۔ اویس صرف ان کے میڈیکل کالج کا اسٹوڈنٹ ہی نہیں تھا بلکہ ان کے میڈیکل ریسرچ سینٹر میں کئی پروجیکٹس میں ان کا اسسٹنٹ بھی تھا۔ شاید اس نے اسی لےے فون کیا ہو، یہی سوچ کر انہوں نے موبائل کان سے لگالیا مگر دوسری طرف ہانیہ کی آواز سن کر وہ چونک اٹھے۔

’’ہیلو پاپا!‘‘ ہانیہ نے بمشکل آواز کو نارمل رکھتے ہوئے کہا۔

’’ہانیہ تم۔۔۔ خیریت تو ہے نا، تم کہاں سے بول رہی ہو۔‘‘ ڈاکٹر احتشام کا ارادہ اویس سے لمبی گفتگو کا نہیں تھا مگر اب ہانی کی آواز سن کر وہ دوسرے ڈاکٹرز سے اشارتاً ایکسکیوز کرتے کمرے سے نکل گئے۔

’’جی پاپا۔۔۔ سب خیریت ہے۔ دراصل میں درخشاں کے ساتھ لائبریری گئی تھی۔ وہاں۔۔۔ مجھے اپنی دوست مل گئی تو میں اس کے ساتھ اس کے گھر آگئی ہوں۔‘‘ زندگی میں پہلی بار وہ ایسی صورت حال سے دو چار ہوئی تھی۔پاپا سے جھوٹ بولناا سے بہت عجیب لگ رہا تھا۔ اوپر سے بہانہ بھی ایسا بودا سا تھا کہ اس کی آواز اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ اس پر جو کسر رہ گئی تھی، وہ اویس نے پوری کر دی تھی۔ وہ جو اب تک منہ دوسری طرف کےے بے نیازی سے چیونگم چبانے میں مصروف تھا۔ اپنا شغل چھوڑ کر سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا۔

’’کون سی دوست کے گھر؟‘‘ ڈاکٹر احتشام نے اگر اویس کا نمبر نہ بھی دیکھا ہوتا تب بھی وہ یہی سوال پوچھتے۔ آخر اپنی بیوی کو وہ ہانیہ سے زیادہ جانتے تھے۔

’’وہ۔۔۔ انیلا ہے نا۔۔۔ اس کے گھر آئی ہوں۔ پاپا وہ کہہ رہی تھی، مجھے ڈراپ کر دے گی مگر اس کے فادر ابھی آفس سے نہیں آئے۔ میں ایک ڈیڑھ گھنٹے میں آجائوں گی۔ آپ۔۔۔ آپ مما کو فون کر کے بتادیں۔ وہ۔۔۔ میں۔۔۔ میں کہوں گی تو وہ ناراض ہوجائیں گے اور آپ۔۔۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا۔‘‘ ہانیہ کے لےے بات کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ پتا نہیں وہ کون سی لڑکیاں ہوتی ہیں جو گھر والوں سے فراٹے کے ساتھ جھوٹ بول لیتی ہیں۔ ہانیہ کی تو آواز حلق میں پھنس گئی تھی۔ اوپر سے اویس کی نظریںخود پر جمی محسوس کر کے اس کا سر خود بخود جھکتا چلا گیا۔

’’جب آپ اپنی مما کے مزاج کو جانتی ہیں تو آپ کو کیا ضرورت تھی، اپنی دوست کے گھر جانے کی۔‘‘ ڈاکٹر احتشام کا گمبھیر انداز اسے مزید ہراساں کرنے لگا۔

’’پاپا۔۔۔ انیلا بہت اصرار کر رہی تھی۔‘‘

’’ٹھیک ہے، آپ اپنی دوست کا ایڈریس بتائیں۔ میں آپ کو پک کرلیتا ہوں۔‘‘ ہانیہ ایک دم چونک اٹھی۔ پاپا کے پاس اتنا وقت کہاں سے آگیا کہ وہ اسے پک کرنے آئیں۔ یہ خطرہ تو اسے مما کی طرف سے لاحق تھا اور اس پیش کش سے بچنے کے لےے اس نے پاپا کو فون کیا تھا۔

’’آپ اپنی دوست کو فون دیں، وہ مجھے ایڈریس سمجھا دے گی۔ آپ کو ویسے بھی راستوں کا علم نہیں ہے۔‘‘ پاپا کے لہجے میں ایسا کچھ تھا جو ہانیہ کو الجھا رہا تھا۔

’’پاپا! اگر میں تھوڑی دیر انیلا کے گھر رک جائوں تو پلیز۔۔۔‘‘ بہت مشکل سے اس نے اپنے لہجے میں آنسوئوں کی نمی کو گھلنے سے روکا۔ اس کوشش میں اس کا لہجہ اچھا خاصا التجائیہ ہوگیا تھا۔

کافی طویل خاموشی کے بعد ڈاکٹر احتشام نے سرد لہجے میں ’’ٹھیک ہے‘‘ کہہ کر فون بند کر دیا۔

ہانیہ نے سر سیٹ کی بیک سے لگا کر آنکھیں بند کر کے ایسے سانس باہر خارج کیا جیسے اگر ایک لمحے کی بھی دیر ہوئی تو اس کا دم گھٹ جائے گا۔ حالانکہ اصل امتحان تو گھر پر شروع ہونا تھا، جب اسے مما کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں تفصیل بتانی پڑے گی پھر بھی فون بند کر کے اسے وقتی طور پر اطمینان ہوا تھا۔

’’اتنا پرسکون ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ کے پاپا کے پاس آدھے انچ کے برابر بھی دماغ ہے تو وہ سمجھ گئے ہوں کہ آپ ان سے جھوٹ بول رہی تھیں۔‘‘ اویس کی آواز پر وہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی جو دوبارہ چیونگم چباتے ہوئے دوسری طرف دیکھنے لگا تھا۔ ہانیہ نے جلدی جلدی اس کے موبائل سے پاپا اور درخشاں کا نمبر ڈیلیٹ کیا اور موبائل اس کی طرف بڑھا دیا جسے تھامتے ہوئے وہ واپس اسے دیکھنے لگا۔

’’آپ کو پتا ہے آپ کی آوازکتنی لڑکھڑا رہی تھی۔ کیا ضرورت تھی اتنا جھوٹ بولنے کی۔ نہ جانے یہاں کتنا ٹائم لگ جائے اور نیچے اترنے کے بعد اگر پولیس وغیرہ کے جھمیلے میں پڑنا پڑا تو؟ آپ اپنی دوستوںکے ساتھ پارک آئی تھیں، کسی بوائے فرینڈ کے ساتھ ڈسکو میں نہیں گئی تھیں۔ آپ کو سچ بتادینا چاہےے تھا، وہ تھوڑا غصہ ہی کرتے نا، کوئی جان سے تو نہیں مار دیتے۔ اب اگر کل کو یہ جھوٹ کھل گیا تو وہ یہ بھی نہیں مانیں گے کہ آپ اپنی دوستوں کے ساتھ گئی تھیں جو بات چھپائو، وہ کبھی نہ کبھی منظر عام پر آتی ہے۔ ایک بار اگر ان کا بھروسا اٹھ گیا تو آپ سچ بھی بولیں گی تو وہ اسے جھوٹ ہی سمجھیں گے۔‘‘ وہ کہتا چلا گیا۔ ہانیہ دل ہی دل میں شرمندہ ہونے کے باوجود جرح کرتے ہوئے بولی۔

’’ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ آپ کو معلوم تھا کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں، اس لےے آپ کو لگ رہا ہے کہ وہ سمجھ گئے ہوں گے، ورنہ سچ تو یہ ہے کہ انہیں شک بھی نہیں ہوا ہوگا۔ میں نے آج تک کبھی ان سے جھوٹ نہیں بولا ور نہ ہی کبھی بہانے بنا کر گھر سے غائب رہی ہوں۔‘‘ وہ غیر ارادی طور پر اسے صفائی دےنے لگی یا شاید اس کی باتوں سے گھبرا کر خود کو تسلی دے رہی تھی۔

’’وہ تو آپ کی شکل سے ہی پتا چل رہا ہے۔‘‘ وہ ایک اچٹتی نظر اس پر ڈالتے ہوئے لاپروائی سے بولا پھر کچھ سوچتے ہوئے پوچھنے لگا۔

’’آپ نے اپنے پاپا کو موبائل پر فون کیا تھا یا ان کے آفس میں۔‘‘

’’موبائل پر، کیوں؟‘‘

’’پھر تو ان کے پاس میرا نمبر آگیا ہوگا، اگر انہوں نے چیک کرنے کے لےے کال بیک کیا تو؟‘‘ ہانیہ کچھ دیر تو پریشانی سے اسے دیکھتی رہی پھر التجائیہ انداز میں کہنے لگی۔

’’اگر آپ کو کسی انجان نمبر سے فون آئے تو آپ پلیز کہہ دیجےے گا کہ یہ آپ کی بہن کا موبائل ہے۔‘‘

’’بہن کا نام بھی بتادو۔‘‘ اس نے گہرا سانس کھینچا۔

’’انیلا۔‘‘ ہانیہ کے کہنے پر وہ سر جھٹک کر رہ گیا۔ ہانیہ اس کے روےُے پر شرمندہ ہونے کے بجائے جلد سے جلد گھر پہنچ جانے کی دعائیں مانگنے لگی۔ زندگی میں پہلی بار اس نے اللہ کو اتنی عاجزی سے پکارا تھا اور یہ شاید اس کی دعائوں کا ہی نتیجہ تھا کہ توقع کے برعکس انہیں صرف ایک گھنٹے میں جھولے سے نیچے اتار لیا گیا۔ یہ اور بات تھی کہ یہ ایک گھنٹا بھی ہانیہ کو ایک صدی سے کم نہ لگا تھا۔ اتنی دیر تک بغیر ہلے جلے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے اس کے پائوں سن ہوگئے تھے، اس لےے جھولے سے اترتے وقت اس سے کھڑا بھی نہیں ہوا جارہا تھا جب کہ لوگ اسی صورت حال سے دو چار ہونے کے باوجود بھاگنے کے انداز میں پلیٹ فارم پر اتر رہے تھے۔

’’یار! جلدی سے نکل چلتے ہیں، اس سے پہلے کہ پریس یا پولیس بیان لینے چلے آئیں۔‘‘ اویس کے دونوں دوست جو آگے والی سیٹوں پر بیٹھے تھے، اترتے ہی اس کے نزدیک چلے آئے۔ ان کی نظریں ایک دوسرے جھولے پر جمی تھیں جو سامنے ہونے کے باوجود ان سے کافی فاصلے پر تھا۔ ان کی نظروں کے تعاقب میں اویس کے ساتھ ہانیہ نے بھی پلٹ کر اس جھولے کی طرف دیکھا، جہاں پولیس کے ساتھ لوگ بھی کافی تعداد میں کھڑے تھے۔ ہاتھ میں کیمرا اور قلم پکڑے وہ صحافی ہی لگ رہے تھے۔ دراصل وہ جھولا کافی خطرناک انداز میں رک گیا تھا۔ لہٰذا اس جھولے میں سے اترنے والوں کو سر درد اور متلی جیسی شکایتیں ہوگئی تھیں۔

’’ہمیں چل کر انہیں چیک کرنا چاہےے۔‘‘ اویس انہیں دیکھتے ہوئے بولا۔

’’انتظامیہ نے ایمبولینس بلوائی ہیں۔ تم کیوں نیم حکیم خطرہ جان بننا چاہتے ہو۔‘‘ اس کا ایک دوست چڑے ہوئے انداز میں بولا۔ اویس نے اپنے دوست کو کیا جواب دیا، ہانیہ سن نہ سکی۔ وہ ایمبولینس کا ذکر سن کر مزید ہراساں ہوگئی تھی۔ حالانکہ ضروری نہیں کہ وہ عملہ اس کے پاپا کے اسپتال سے ہی آیا ہو اورہو بھی، تب بھی ہانیہ کو اسپتال کا عملہ جانتا بھی نہیں تھا پھر بھی وہ جلد سے جلد کسی کی نظروں میں آئے بغیر یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی۔

’’آپ گھر کیسے جائیں گی؟‘‘ اویس نے اسے آگے بڑھتا دیکھ کرپوچھا۔

’’آں۔۔۔ میرا گھر پاس میں ہے، میں واک کر کے چلی جائوں گی۔‘‘ ہانیہ نے سوچتے ہوئے کہا۔

’’آس پاس کا علاقہ تو بہت سنسان ہے۔ آپ مائنڈ نہ کریں تو میں آپ کو ڈراپ کر سکتا ہوں۔‘‘

ہانیہ نے پہلی بار چونک کر اس کا تفصیلی جائزہ لیا۔ شکل صورت تو اس کی کافی اچھی تھی اور حلےے سے وہ خاصی امیر فیملی کا لگ رہا تھا۔ اس کے جدید فیشن کے مہنگے کپڑے اور کلائی میں پڑے جا بجا بینڈز اس کے لا بالی نوجوان ہونے کی بھرپور عکاسی کر رہے تھے۔ اس پر اس کا چیونگم چباتا انداز۔ ہانیہ دل ہی دل میں خوف زدہ ہونے کے باوجود بظاہر خود اعتمادی سے ’’میں چلی جائوں گی‘‘ کہتی آگے بڑھ گئی۔

تیز تیز چلتی وہ جیسے ہی گیٹ سے باہر نکلی، دور تک پھیلے سنُاٹے کو دیکھ کر چکر اکر رہ گئی۔ وہ گیٹ پر رک بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ گیٹ کے پاس پولیس کی گاڑیاں اور ایمبولینس کھڑی تھیں مگر گیٹ سے دور ہٹتے ہی اس کے قدم من من بھر کے ہوگئے۔ وہ شام میں جب درخشاں وغیرہ کے ساتھ آئی تھی، تب آس پاس کا سبزہ آنکھوں کو بڑا بھلا لگ رہا تھا مگر اب سڑک کے دونوں اطراف لگے درختوں کی قطار ایک ہیبت ناک منظر پیش کر رہی تھی۔ اسے درخشاں پر بے تحاشا غصہ آنے لگا جو نہ صرف نہایت خود غرضی کا مظاہرہ کر کرتی اسے یہاں چھوڑ گئی تھی بلکہ مسلسل اسے یہ باور کراتی رہی تھی کہ اس کا گھر یہاں سے بہت قریب ہے۔ حالانکہ یہاں تو ایسے کوئی آثار ہی نہیں تھے جس سے آس پاس مکانوں کے کسی ایریا کے ہونے کا ثبوت ملے۔ وہ بس رو دینے والی تھی، جب ایک بلیک گاڑی اس کے بالکل پاس آرکی۔

’’بیٹھو، میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔‘‘ اویس نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے اس سے پوچھا نہیں تھا بلکہ ایک طرح سے حکم دیا تھا۔ اس کے دونوںدوست پیچھے بیٹھے تھے۔ گویا وہ اسی ارادے سے چلے تھے کہ راستے میں وہ جہاں نظر آئے گی، اسے بٹھالیں گے۔

ہانیہ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا، اسے خاموش دیکھ کر اویس پوچھنے لگا۔

’’کتنی دور ہے آپ کا گھر۔‘‘ یہ اندازہ تو اسے خود بھی نہیں تھا اور یہی سوچ کر اس نے اپنے گھر کے نزدیک بنے ایک نرسری اسکول ’’لٹل فلاورز‘‘ کا نام بتا دیا کہ وہ لوگ شاید اس کے گھر کا پتا بتانے میں کچھ مدد کر سکیں مگر ان کا انداز تو اور بھی حوصلہ شکن تھا۔ اس کا ایک دوست اتنی شدید حیرت کے ساتھ بولا۔

’’اتنی دور ہے آپ کا گھر اور آپ کہہ رہی ہیں، آپ واک کرتی چلی جائیں گی۔‘‘

’’کم سے کم پون گھنٹا لگے گا۔‘‘ دوسرے دوست نے اپنی بوریت جتانے کے لےے خوامخواہ جمائی لی۔ ہانیہ پریشانی سے گھڑی دیکھنے لگی۔

’’آپ کا گھر میرے راستے میں ہی پڑے گا۔ بیٹھ جائیں۔‘‘ اویس اب کی بار کافی نرم لہجے میں بولا۔ وہ پلکیں جھپکا کر آنکھوں میں آئی نمی پینے کی کوشش کرتی کار میں بیٹھ گئی۔ اس کے دروازہ بند کرتے ہی اویس نے کار چلا دی اور کار کے چلتے ہی ہانی کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپنے لگا۔ اس کے دوست اس کی موجودگی کو خاطر میں لائے بغیر باتوں میں مگن ہوگئے جس میں زیادہ تر فن لینڈ کا ہی ذکر تھا۔ البتہ اویس خاموشی سے ڈرائیونگ میں مصروف تھا اور کافی اسپیڈ سے کار چلا رہا تھا۔ دس منٹ میں ہی وہ اپنے جانے پہچانے علاقے میں داخل ہوگئی۔ یہاں سے وہ پیدل گھر جا سکتی تھی، اس لےے ا س نے اسکول کے پاس ہی گاڑی موڑ لینے کو کہہ دیا۔ وہ انہیں اپنا گھر دکھانا نہیں چاہتی تھی اور نہ ہی مما کے دیکھ لینے کا خطرہ مول لے سکتی تھی۔

’’آپ کا گھر کون سا ہے۔‘‘ پیچھے بیٹھا لڑکا تعجب سے بولا کیونکہ جہاں وہ گاڑی روکنے کو کہہ رہی تھی، وہاں دو بڑے بڑے اسکولز اور ایک عدد مسجد کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

’’اندر گلی ہے، وہاں میں چلی جائوں گی۔‘‘

’’بڑی مہربانی ہے آپ کی، ورنہ گاڑی گلی میں موڑنے پر ہمارا نہ جانے کتنا پیٹرول خرچ ہوجاتا۔‘‘ اویس کا دوسرا دوست جتانے والے انداز میں بولا۔

’’کیسی باتیں کر رہے ہو جاوید، ایسا کیا پیٹرول خرچ ہوجائے گا۔ اویس! گھر پر ہی گاڑی روکنا، یہاں تو بہت سناٹا ہے۔‘‘ اویس کو اسپیڈ کم کرتا دیکھ کر وہ دوست اسے دوبارہ ٹوکنے لگا۔

’’اویس! گلی میں لے لو نا گاڑی ، ایسی کیا پرابلم ہے۔‘‘

’’فہد! وہ اپنا گھر دکھانا نہیں چاہ رہی لیکن یہ اتنی سی بات بھی اگر تمہارے بھیجے میں گھس جائے تو ہم حیرت سے مر نہ جائیں۔‘‘ اویس کے چبا کر کہنے پر ہانیہ ایک دم بول پڑی۔

’’نہیں نہیں، ایسی کوئی بات نہیں بلکہ میری سمجھ میں ہی نہیں آرہا، میں آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں۔‘‘

’’آپ چاہیں تو ایک کپ چائے پلادیں شکریہ کے طور پر۔‘‘ فہد یا تو واقعی بہت بے وقوف تھا یا بے وقوف ہونے کا ڈرامہ کر رہا تھا جب کہ اویس ترخ کر بولا۔

’’ساری بکواس کرلی تم نے یا اب بھی کچھ باقی ہے تو وہ بھی کہہ دو۔ کہیں بعد میں دل میں کوئی حسرت نہ رہ جائے۔‘‘

’’یار! تم کیوں ایک لڑکی کے سامنے میرا کچرا کر رہے ہو، کچھ تو عزت رہنے دو۔ وہ خود ہی کہہ رہی تھیں کہ سمجھ میں نہیں آرہا، شکریہ کیسے ادا کروں۔ میں تو مشورے دے رہا تھا۔‘‘ فہد منمنایا۔

’’ہزار بار کہا ہے کہ اگر شکل بے وقوفوں جیسی ہے تو کم از کم باتیں تو بے وقوفوں جیسی مت کیا کرو یا اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو چپ چاپ بیٹھے رہا کرو۔ شاید دیکھنے والوں کو یہ غلط فہمی ہوجائے کہ کوئی سمجھ دار آدمی بیٹھا ہے۔ لیکن تم ہر جگہ بڑبڑ کر کے اپنی حقیقت کھولنے پر بضد رہتے ہو۔‘‘ اویس کو پتا نہیں اتنا غصہ کیوں آرہا تھا۔ ہانیہ تو ویسے بھی شرمندہ تھی۔ ان کی گفتگو سن کر تو جیسے وہ کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی پھر بھی اویس کے گاڑی روکنے پر وہ اٹک اٹک کر کہنے لگی۔

’’مجھ۔۔۔ مجھے افسوس ہے، میں چائے کے لےے آپ کو اندر نہیں بلا سکتی لیکن میں واقعی آپ کی بہت مشکور ہوں اور آپ کا احسان کبھی نہیں بھولوں گی۔‘‘

’’میرا احسان اگر آپ بھول بھی جائیں تو کوئی بات نہیں لیکن میرا ایک مشورہ ضرور یاد رکھےے گا۔ آج کے اس تجربے سے یہ مت سمجھ لینا کہ دنیا اچھے لوگوں سے بھری ہے۔ آئندہ کبھی اجنبیوں سے لفٹ مت لینا۔‘‘ اویس کے سنجیدگی سے کہنے پر وہ صرف اسے دیکھ کر رہ گئی۔ تب ہی پیچھے سے جاوید کی سپاٹ آواز ابھری۔

’’اور ایسی گاڑی میں تو ہرگز مت بیٹھنا جس میں اتنے سارے لڑکے ہوں۔‘‘ دروازے کے ہینڈل پر ہانیہ کی گرفت تکلیف دہ حد تک سخت ہوگئی تھی۔ پتا نہیں وہ اسے کس قسم کی لڑکی سمجھ رہے تھے۔ حالانکہ وہ اس گاڑی میں کس دل کے ساتھ بیٹھی تھی، یہ وہی جانتی تھی۔ بڑی دقُت سے اس نے اپنے ہاتھ کو حرکت دے کر دروازہ کھولا۔ شاید اس کی حالت سے اویس کو جاوید کے الفاظوں کی سختی کا احساس ہوگیا تھا، تب ہی وہ جاوید پر ایک تنبیہی نظر ڈالتے ہوئے ہلکے پھلکے انداز میں بولا۔

’’برا مت ماننا، ہم آپ کے بھلے کے لےے ہی کہہ رہے ہیں۔ اب میرے جیسے ہیرو تو بار بار نہیں ملتے نا۔‘‘ اپنی بات کہہ کر وہ خود ہی مسکرا دیا۔ ہانیہ کوئی جواب دےے بغیر گاڑی سے اتر گئی۔

کچھ دیر بعد جب وہ اپنے گھر میں داخل ہورہی تھی تو مما کا سامنا کرنے کے خیال سے اس کا دل بند ہوا جارہا تھا مگر اس وقت اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا جب نوکر نے مما کے گھر پر نہ ہونے کی اطلاع دی۔ وہ ہانیہ کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی گھر سے چلی گئی تھیں۔ مما کے چچا کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ انہیں پاپا کے ہی ہاسپٹل لے گئے تھے۔ ان کی حالت ابھی بھی سنبھلی نہیں تھی۔ مما سارے خاندان کے ساتھ وہاں اتنی پریشان تھیں کہ انہیں ہانیہ کو فون کرنے کا خیال ہی نہیں آیا تھا۔ البتہ ڈاکٹر احتشام نے دوبارہ فون کیا تھا اور نوکر سے کہہ دیا تھا کہ اس کے آتے ہی انہیں فون کرادے۔

ہانیہ کے کئی گھنٹوں سے تنے اعصاب ایک دم ڈھیلے پڑ گئے۔ وہ صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی۔ اسے حیرت ہورہی تھی پاپا نے فون پر اسے یہ سب بتایا کیوں نہیں۔ بہرحال اس نے انہیں فون کر کے اپنے گھر پہنچنے کی اطلاع دے دی۔ ان کا انداز بہت عجیب تھا مگر ہانیہ کے لےے اتنا کافی تھا کہ انہوں نے اویس کے موبائل پر فون کر کے چیک نہیں کیا تھا اور اگر کیا بھی تھا، کم از کم اس پر ظاہر نہیں کیا اور وہ ’’لاعلمی ہزار نعمت ہے‘‘ سوچ کر مطمئن ہوگئی تھی۔

پاپا سے بات کر کے اس نے فون رکھا ہی تھا کہ روزی کا فون آگیا۔ ہانیہ کا دل چاہا کہ وہ اسے کھری کھری سنا دے مگر روزی سے اس کی کوئی دوستی نہیں تھی، وہ صرف درخشاں کی کزن تھی۔ اس کے باوجود اس کا رویُہ درخشاں سے ہزار گنا بہتر تھا۔ وہ شرمندگی بھرے انداز میں معذرت کر رہی تھی۔ حالانکہ یہ کام درخشاں کو کرنا چاہےے تھا۔

’’میں اتنی فکر مند تھی تمہاری طرف سے، پتا نہیں تم گھر پہنچی یا نہیں۔ میں نے درخشاں سے کہا بھی کہ تھوڑی دیر تمہارا انتظار کرنا چاہےے مگر درخشاں بہت خود غرض لڑکی ہے، وہ صرف اس سے دوستی کرتی ہے جس سے اسے کوئی فائدہ پہنچے۔ تمہاری دولت دیکھ کر اسے لگا کہ وہ تمہارے خرچے پراپنے شوق پورے کر لے گی مگر جب اسے تم سے کسی قسم کے مالی فائدے کی توقع نہیں رہی تو اس کی تم سے دلچسپی بھی ختم ہوگئی۔ تمہیں نہیں پتا، وہ کتنی حقارت سے تمہیں امیر باپ کی کنگلی بیٹی کہہ رہی تھی۔‘‘ ہانیہ کو روزی کی باتیں سن کر کوفت ہونے لگی۔

وہ جانتی تھی، روزی سچ کہہ رہی تھی مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ یہ سب وہ ہانیہ کی آنکھیں کھولنے کے لےے نہیں کہہ رہی بلکہ محض وقت گزاری کے لےے بتا رہی ہے۔ کسی کے پیٹھ پیچھے اس کی برائیاں کرنا، کسی کا مذاق اڑانا یا کسی کو ذلیل کرنا عموماً لوگوں کے پسندیدہ موضوعات ہوتے ہیں جن پر وہ گھنٹوں بول سکتے ہیں۔ ایسے اخلاقی لحاظ سے کمزور لوگوں سے وہ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی تھی، دوستی کا نہ دشمنی کا۔ اس نے بات مختصر کر کے جلدی فون بند کر دیا۔

مما پاپا رات کو بہت دیر سے گھر آئے تھے۔ چچا کی حالت اب خطرے سے باہر تھی۔ مما کی باتوں سے صاف ظاہر تھا کہ انہیں ا س کے دیر سے آنے اور فون کرنے کے متعلق کچھ پتا نہیں چلا۔ البتہ پاپا کا رویُہ اسے کچھ اکھڑا اکھڑا لگا مگر اس نے زیادہ دھیان نہیں دیا۔ اس کے لےے یہ ہی بہت تھا کہ جس بات کو وہ بہت بڑا مسئلہ سمجھ رہی تھی، وہ اتنی آسانی سے حل ہوگیا تھا۔

ض ض ض

مما کا مزاج واقعی بڑا عجیب تھا، جب ڈاکٹر احتشام گھر میں وقت نہیں دیتے تھے، وہ تب بھی ان سے خائف تھیں اور اب جب کہ وہ گھر کے لےے وقت نکالنے لگے تھے تو وہ اب بھی ان کی اس اچانک تبدیلی پر نالاں تھیں حیرت تو ہانیہ کو بھی ہوتی تھی مگر وہ زیادہ ٹوہ لینے کی عادی نہیں تھی اور نہ ہی وہ پاپا سے اتنی بے تکلف تھی کہ ان کے دونوں وقت کھانے پر موجود ہونے کی وجہ پوچھ پاتی بلکہ اب تو اسے اپنے اور ان کے بیچ ایک بے نام سا کھنچائو بھی محسوس ہوتا۔ یہ اس کا وہم تھا یا حقیقت، بہرحال کبھی کبھی اسے لگتا یسے وہ اسے کریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا رویہ اسے چونکاتا ضرور تھا مگر وہ الجھتی نہیں تھی کیونکہ گھر کا ماحول پہلے سے قدرے بہتر ہوگیا تھا۔ مما کی شکایت کسی حد تک دور ہوگئی تھی۔ چنانچہ ان کے جھگڑے بھی کچھ کم ہوگئے تھے۔ البتہ اتنے سالوں سے لڑتے رہنے کی وجہ سے لڑنا ایک طرح سے ان کی عادت بن گئی تھی، اس لےے بغیر کسی بات کے چھوٹی موٹی نوک جھونک ہو ہی جاتی۔ ہانیہ کا کالج کھل گیا تو اسے اس تکرار پر بھی دھیان دینے کی ضرورت نہیں رہی۔

زندگی دوبارہ معمول پر آگئی تھی۔ تب ہی پھوپھی کی بیٹی ثمرین کی شادی کی تاریخ طے پاگئی۔ فائزہ نے نہ صرف اسے فون کر کے خود اطلاع دی تھی بلکہ اسے یہیں آکر رہ جانے کی آفر بھی کر دی تھی۔ ہانیہ تو سنتے ہی خوش ہوگئی۔ حالانکہ مما کا مان جانا اتنا یقینی بھی نہیں تھا مگر اس نے اپنی پلاننگ شروع کر دی۔ اس کا ارادہ ہر فنکشن میں نئے کپڑے پہننے کا تھا اور اس نے سوچ لیا تھا کہ اس بار اپنی شاپنگ وہ اپنی پسند سے کرے گی۔ اس نے فائزہ سے بھی کہہ دیا تھا کہ اگر وہ شاپنگ پر جائے تو اسے بھی لے لے جس پر فائزہ بہ خوشی راضی ہوگئی بلکہ دو دن بعد ہی اس نے فون کر کے اسے بلا بھی لیا۔ اتفاق سے فون پاپا نے ہی ریسیو کیا تھا۔ ہانیہ وہیں موجود تھی اور ان کی گفتگو سے یہ بھی جان گئی تھی کہ فائزہ اسے بازار لے جانے کی اجازت مانگ رہی ہے۔ پاپا کی طرف سے گرین سگنل ملنے پر مما کے انکار کی گنجائش ہی نہیں رہے گی۔ ہانیہ بے پایاں خوشی کے احساس میں گھر کر ان کی باتیں سننے لگی۔ اجازت دینے کے ساتھ پاپانے اسے بہت بڑی رقم بھی نکال کر دے دی۔

’’میں اتنے پیسوں کا کیا کروں گی۔‘‘ ہانیہ اتنے پیسے اپنے پرس میں رکھنے کے خیال سے ہی پریشان ہوگئی۔

’’شاپنگ کرنا اور کیا کرو گی۔ تمہیں نہیں معلوم بازار میں ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور پھر تم اپنی کزنز کے لےے بھی ضرور خریداری کرلینا۔ تحفے دینے سے محبت بڑھتی ہے۔‘‘ پاپا کے سنجیدگی سے کہنے پر ہانیہ بے اختیار ان کے سینے سے لگ گئی۔

’’تھینک یو پاپا!‘‘ اس کا دل خوشی سے بھر آیا تھا مگر اس وقت وہ جیسے سنُاٹے میں رہ گئی۔ جب پاپا نے بڑے ہی سرد سے انداز میں اسے خود سے الگ کر دیا۔ وہ ششدر سی انہیں دیکھتی رہ گئی مگر وہ کسی بھی قسم کا رد عمل ظاہرکےے بغیر وہاں سے ہٹ گئے جب کہ ہانیہ کتنی ہی دیر وہیں کھڑی رہی۔

پاپا ہسپتال جانے کے لےے تیار ہو کر اپنے کمرے سے نکلے تھے اور اسے بدستور وہیں کھڑا دیکھ کر بھی انہوں نے جیسے کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ عجلت میں بولے۔

’’تم اپنی پیکنگ کرلینا، میں کل صبح تمہیں ہسپتال جاتے وقت چھوڑوں گا۔‘‘

’’یہ ابھی سے وہاں جا کر کیا کرے گی اور شادی میں یہ یہاں سے بھی شرکت کرنے جاسکتی ہے۔‘‘ مما کی اچانک مداخلت پر ان دونوں نے ہی پلٹ کر ان کی طرف دیکھا۔

’’شادی میں صرف تین دن رہ گئے ہیں۔ ’’ابھی‘‘ اور ’’تبھی‘‘ کی بحث چھیڑنے کی ضرورت نہیں۔ شادی میں یہ یہاں سے بھی شرکت کر سکتی ہے لیکن نجمہ نے بلایا ہے تو اس کے جانے میں کوئی حرج بھی نہیں۔‘‘ پاپا نپے تلے انداز میں بولے۔

’’نجمہ نے نہیں فائزہ نے بلایا ہے۔ بہت فرق ہے نجمہ کے بلانے میں اور فائزہ کے بلانے میں۔‘‘ مما چبا کر بولیں۔

’’ہانیہ وہاں جارہی ہے اینڈ دیٹ از کلیئر۔‘‘ پاپا فیصلہ کن انداز میں کہہ کر باہر نکل گئے۔ مما کے چہرے پر ناگواری کے ساتھ کچھ سوچتا ہوا تاثر بھی ابھر آیا تھا۔

ض ض ض

نجمہ پھوپھی کے گھر پہنچ کر جہاں وہ خود حیران تھی، وہیںہر ایک اس پر نظر پڑتے ہی اس کے آنے پر حیرت کا اظہار کر دیتا۔ اسے خود یقین نہیں آرہا تھا کہ مما نے پاپا کے اس فیصلے پر کوئی احتجاج کیوںنہیں کیا۔ عالیہ نے تو پوچھ بھی لیا۔

’’ممانی نے کیسے آنے دیا تمہیں۔‘‘ شاید وہ بے ساختہ کہہ گئی تھی، تب ہی جواب سنے بغیر منظر سے ہٹ گئی۔ ہانیہ سب کی حیرانی دیکھ کر خفت سی محسوس کرنے لگی مگر جلد ہی فائزہ اور اس کی تایا کی بیٹیوں کے باعث اس کیفیت سے باہر آگئی۔ شادی میں ابھی تین دن تھے، اس لےے ہانیہ وہیں سے کالج چلی جاتی۔ ہانیہ نے درخشاں کو اس کے پیسے لوٹا دےے جس پر ا س نے خوامخواہ کا انکار کرتے ہوئے اخلاق جھاڑنے کی کوشش بھی کی مگر ہانیہ نے سنی ان سنی کر دی۔ وہ خود پر کوئی بوجھ نہیں رکھنا چاہتی تھی۔

ہانیہ نے سنا تو بہت تھا کہ پیسے میں بڑی طاقت ہوتی ہے لیکن عملی تجربہ اسے پہلی بار ہوا تھا۔ پہلی بار وہ خود کو اتنا مضبوط اور پر اعتماد محسوس کر رہی تھی فائزہ وغیرہ کے ساتھ شاپنگ کرتے وقت۔ اس نے انہیں کئی چیزیں دلادی تھیں۔ ثمرین نے کئی بار ٹوکا بلکہ بعد میں تو اس کا موڈ بھی آف لگنے لگا تھا۔ البتہ اس کے تایا کی بیٹیاں بہت خوش ہوگئی تھیں۔ ویسے تو ہانیہ کی ان سے کوئی رشتے داری ہی نہیں تھی مگر ان ہی کی شاپنگ کر کے ہانیہ کو زیادہ مزا آیا تھا۔ وہ نائن، ٹین اور فرسٹ ایئر کی لڑکیاں ثمرین اور عالیہ سے بھی زیادہ اس سے بے تکلف ہوگئی تھیں۔ عمر کے اس فرق کے باوجود وہ ان کی کمپنی میں بہت انجوائے کرتی تھی۔ وہ بھی بہت ہنسی مذاق کرنے والی، بہت زندہ دل لڑکیاں تھیں ایسے لوگ ہانیہ کو ہمیشہ پسند تھے۔ شاپنگ کے دوران بھی انہوں نے ہانیہ کی بہت مدد کی۔ کون سی چیز ان ہے اور کون سی چیز آئوٹ۔ کیا خریدنا ہے اور کیا نہیں۔ کہاں زیادہ اچھی کوالٹی ہے اور کہاں اچھی ورائٹی۔

ہر چیز میں ان کی معلومات فائزہ وغیرہ سے زیادہ تھی۔ فائزہ تو زچ ہوجاتی تھی ان کی باتوں پر۔

’’ان کے ساتھ تو شاپنگ کرنا مشکل ہے۔ ہر چیز رد کر دیتی ہیں۔ انسان خوامخواہ ڈبل مائنڈڈ ہوجائے۔‘‘

’’ارے شکر کریں، ہم ہر چیز رد کر دیتے ہیں، ورنہ آپ اٹھارویں صدی کے کپڑے پہن کر شادی میں پہنچ جاتیں اور بے عزتی ہماری ہوتی۔ آخر ہیں تو ہماری کزن۔‘‘ مائدہ تب بھی تنقید سے باز نہ آتی۔

’’میرے خیال سے تو اب گھر چلتے ہیں۔ کھانے کا وقت ہونے والا ہے۔ حمید کو فون کر کے بلالو، آخر اسے آنے میں بھی تو ٹائم لگے گا۔ ‘‘ ہانیہ بولی۔ جب وہ گھر سے نکل رہی تھیں، تب نجمہ پھوپھو نے خاص طور پر جلد سے جلد گھر آنے کی تاکید کی تھی کیونکہ لڑکا اور لڑکی دونوںگھر کے ہی تھے، اس لےے تنویر کے ولد وقتی طور پر دوسرے گھر میں شفٹ ہورہے تھے تاکہ مہندی اور بارات اس گھر سے لاسکیں اور پھر ان کے خاندان کے کئی فراد بھی دوسرے شہروں سے شرکت کرنے آرہے تھے جس کی وجہ سے یہ گھر چھوٹا بھی پڑ جاتا، وہ ایک فرنشڈ گھر میں شفٹ ہورہے تھے پھر بھی شفٹنگ میں کام تو پھیل جاتا ہے۔ ان کی تائی تو ان کے بازار جانے کے حق میں ہی نہیں تھیں مگر ان کی تایا کی لڑکیوں کا گھر میں آخری دن تھا اور وہ سب ساتھ شاپنگ کرنا چاہتی تھیں۔ ویسے بھی شاپنگ کا وقت بھی نہیں تھا، کل مہندی تھی۔

’’گھر۔۔۔ اتنی جلدی۔۔۔ ابھی تو مجھے سلیم شاہی جوتے بھی خریدنے ہیں۔‘‘ نبیلہ چونک کر بولی۔

’’کب خریدنے ہیں، شادی کے بعد۔‘‘ فائزہ بھنا اٹھی۔

’’مجھے پیور ٹریڈیشنل سلیم شاہی جوتے پہننے ہیں۔ کوئی ایسے ویسے نہیں۔ ارے ہانیہ باجی! آپ کے پاپا کے کالج میں بازار لگا ہے نا، وہاں میری پسند کے جوتے مل جائیں گے، وہاں ہر سال بڑا اچھا ثقافتی سامان ہوتا ہے۔‘‘ نبیلہ ایک دم جوش میں آتے ہوئے بولی۔ ہانیہ کبھی دارالشفائ میڈیکل کالج میں لگنے والے بازار میں نہیں گئی تھی، البتہ اخباروں میں ہر سال بازار کی تعریفیں ضرور پڑھی تھیں جس میں ثقافت کی بھرپور عکاسی اور علم و معلومات کے فروغ کی بہترین کاوش کو ہمیشہ ہی سراہا جاتا تھا۔ وہاں نبیلہ کی پسند کے سلیم شاہی جوتے ملیں گے یا نہیں، اس بات کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ البتہ ایک بات یقینی تھی کہ وہاں جانے میں وقت بہت برباد ہوتا۔ فائزہ نے یہ اعتراض کیا بھی مگر نبیلہ کے ساتھ ساتھ دوسری کزنز بھی اڑ گئیں۔ ان کی باتوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ہر سال وہاں جاتی تھیں اور اس بار شادی کی مصروفیت کی وجہ سے اب تک نہیں جاسکی تھیں اور شادی ختم ہوتے ہی بازار بھی ختم ہوجاتا۔اس خیال کے آتے ہی وہ سب وہاں جانے کے لےے مچل اٹھیں اور ان سب کے ساتھ جب ہانیہ وہاں پہنچی تو حیران رہ گئی۔

ایک تو وہ ہسپتال شہر کا سب سے بڑا ہسپتال تھا، اس لےے اس سے ملحقہ کالج کی عمارت کا طول و عرض بھی وسیع رقبے تک پھیلا ہوا تھا۔ دوسرے یہ کہ بازار واقعی بہت بڑے پیمانے پرلگایا گیا تھا۔ کالج بھلے ہی اس کا پہلے ہی دیکھا ہوا تھا مگر گرائونڈ میں لگے شاندار بازارکو دیکھ کر اسے احساس ہوا کہ نبیلہ وغیرہ یہاں آنے کے لےے اتنی بے چین کیوں تھیں کیونکہ اخبار میں تعریف پڑھتے وقت ہانیہ کے ذہن میں یہی خیال ہوتا تھا کہ اسٹوڈنٹس ہی تو لگاتے ہیں سارے اسٹالز۔ ایسے کون سے خاص ہوتے ہوں گے مگر یہاں آکر وہ واقعی متاثر ہوگئی تھی۔ قائد اعظم کامزار اور مینار پاکستان جیسے کئی ماڈلز دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ میڈیکل کے اسٹوڈنٹس نے بنائے ہیں، وہ بالکل کسی ماہرکاریگر کے فن پارے لگ رہے تھے۔ اسٹالز پر بکنے کے لےے رکھی چیزوں میں بھی معیار اور ثقافت کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔

فائزہ وغیرہ تو کپڑوں اور جوتوں کے اسٹال پر ہی رک گئیں۔ البتہ وہ ثقافتی کارنر کی طرف بڑھ گئی۔ اس نے کئی چیزیں خریدلی تھیں۔ حالانکہ اس میں زیادہ تر سامان ایسا تھا جو مما کوہر گز پسند نہ آتا جیسے مٹی کے برتن، پلاسٹر آف پیرس سے بنایا کھیت میں ہل چلاتا کسان اور سب سے بڑھ کر گوٹے وغیرہ سے سجا چھوٹا سا رکشا۔ یہ سب چیزیں دیکھنے میں تو خوب صورت تھیں، اس کے علاوہ یہاں سے حاصل ہونے والی ساری آمدنی فلاحی اداروں میں جانے والی تھی۔ اسے بھائو تائو کرنا ویسے بھی نہیں آتا تھا۔ یہ جاننے کے بعد اس نے ایسا کوئی ارادہ بھی نہیں کیا مگر جب وہ ایک اسٹال سے بید کی بنی چھوٹی چھوٹی ٹوکریاں خریدنے کے بعد پیسے دینے لگی تب اچانک کسی نے اسے پیچھے سے ٹوک دیا۔

’’کسی چیز کی قیمت ادا کرتے وقت یہ بھی دیکھ لینا چاہےے کہ دکان دار ناجائز منافع بٹورنے کی کوشش تو نہیں کر رہا۔‘‘ ہانیہ نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پلٹ کر دیکھا اور اپنے سامنے اویس کو کھڑا پا کر حیران رہ گئی بلکہ سچ تو یہ تھا کہ ایک نظر میں ہانیہ نے اسے پہچانا ہی نہیں تھا جس کی وجہ اس کا حلیہ تھا۔ سفید کلف لگے شلوار قمیص پر بلیک واسکٹ پہنے وہ اس اویس سے بہت مختلف لگ رہا تھا جو اسے فن لینڈ میں ملا تھا۔

’’یہ ایک ایک ٹوکری پندرہ پندرہ روپے کی ہے جسے یہ پچیس پچیس بتا رہا ہے۔‘‘ اویس نے بڑے دھڑلے سے اسٹال پر کھڑے لڑکے کا پول کھول دیا مگر مجال ہے جو وہ ذرا بھی شرمندہ ہوتا۔ الٹا تنک کر کہنے لگا۔

’’تمام اسٹوڈنٹس نے مل کر طے کیا ہے کہ اگر کوئی لڑکی قیمت پوچھے تو اصل سے دس پندرہ روپے زیادہ ہی بتانا، ورنہ یہ لوگ اتنی بار گیننگ کرتے ہیں کہ سارا منافع تو جاتا ہی ہے، سر الگ دکھنے لگتا ہے۔‘‘

’’لیکن انہوں نے تو ایک روپیہ بھی کم نہیں کرایا۔‘‘ اویس بولا۔

’’مجھے پہلے سے تو الہام نہیں ہوا تھا نا، اب ان کے خرید لینے کے بعد میں کیسے کہتا کہ یہ پچیس نہیں، پندرہ کا ہے۔‘‘ وہ کہاں ماننے والا تھا۔

’’لیکن جب۔۔۔‘‘

’’اٹس اوکے۔۔ کوئی بات نہیں۔‘‘ ہانیہ نے اویس کی بات کاٹتے ہوئے بحث ختم کرنی چاہی۔

’’ہاں کوئی بات نہیں۔ آپ کے پاس یقینا اتنا پیسہ ہے کہ ہر چیز کی ڈبل قیمت ادا کر سکتی ہیں۔‘‘ اویس اس لڑکے کو لاپروائی سے دوسرے گاہک کے ساتھ مصروف ہوتا دیکھ کر بولا۔

’’ایسی کوئی بات نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مجھے بارگیننگ کرنی نہیں آتی اور اگر آتی بھی تب بھی میں یہاں ہرگز نہ کرتی کیونکہ یہاں کی ساری آمدنی چیریٹی میں جائے گی۔‘‘ ہانیہ نے اسے اطلاع دینا ضروری سمجھا۔

’’اب آپ نے مجھے اتنے پتے کی بات بتائی ہے تو میں بھی آپ کی معلومات میں تھوڑا اضافہ کردوں۔ یہاں سے جتنا بھی ایکسٹرا منافع جمع ہوگا، وہ تمام اسٹوڈنٹس اپنی جیب میں رکھیں گے۔ یہاں سب کے سب چیریٹی کے لےے نہیں آئے ان میں سے کچھ ٹائم پاس کرنے کے لےے بھی بیٹھے ہیں۔‘‘ وہ حسبِ عادت تفصل سے بولا۔

’’ہاں، مجھے پتا ہے۔ دنیا میں بڑے فراڈ لوگ موجود ہیں۔ اب ہر کوئی آپ جیسا ہیرو نہیں ہوتا نا۔‘‘ ہانیہ کہے بغیر نہ رہ سکی جبکہ وہ چونک اٹھا۔

’’تمہیں یاد ہے۔ میں سمجھا تم مجھے پہچانو گی نہیں۔‘‘

’’میری یادداشت بہت اچھی ہے اور فن لینڈ کا وہ حادثہ میں کبھی نہیں بھول سکتی۔‘‘

’’اچھا یہ بات ہے۔ چلو تمہاری یادداشت کا تھوڑا سا امتحان ہوجائے۔ کیا تم بتا سکتی ہو فن لینڈ میں تمہاری کون سی چیز کھو گئی تھی۔‘‘ اویس نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے ایسا سوال پوچھا جیسے اس کے جواب نہ دے سکتے کا یقین ہو اور واقعی ہانیہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسے الجھن بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔ اپنے اندازے کو صحیح ہوتا دیکھ کر وہ دلچسپی سے مسکرا دیا۔

’’مجھے یقین تھا پریشان ہو کر تلاش کرنا تو دور کی بات ہے، تمہیں تو سرے سے اپنے بریسلیٹ کے گر جانے کا علم ہی نہیں ہوا ہوگا۔‘‘ اس نے اپنی واسکٹ کی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا اور جب ہاتھ باہر نکالا تو اس میں موجود بیش قیمت ہیروں کا بریسلیٹ ہانیہ کی آنکھوں کو خیرہ کر گیا۔ اس کے تو جیسے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔ زیورات پہننے کا اسے شوق تھا نہ عادت، درخشاںکے گھر جاتے وقت دوسری نازک سی جیولری کے ساتھ اس نے یہ بریسلیٹ محض اس خیال سے پہن لیا تھا کہ ہر وقت الماری میں رکھا رہتا ہے، آخر مما کے لائے اس قیمتی بریسلیٹ کو کبھی تو استعمال کرنا چاہےے مگر اسے واقعی خبر نہیں ہوئی کہ یہ اس کے ہاتھ سے کب او رکہاں گرا۔ گھر آنے کے بعد بھی اسے دھیان نہیں آیا کہ اس کا بریسلیٹ اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اس کا یہ سوچ کر ہی سانس رک گیا تھا کہ اگر مما کبھی اس کے بارے میں پوچھ لیتیں تو کیا ہوتا۔ اسے تو یاد بھی نہ آتا کہ اس نے آخری بار اسے کب اور کہاں پہنا تھا تو بھلا یہ کیسے یاد آتا کہ وہ کہاں گرا تھا۔

’’اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو اس میں اصلی ہیرے لگے ہیں اور اس کی قیمت یقینا تم نے اپنی جیب سے ادا نہیں کی، اسی لےے تمہیں اس کے کھونے کی فکر ہوگی اور نہ تم نے اسے تلاش کیا۔‘‘ اسے خاموش دیکھ کر اویس یقین سے بولا۔ ہانیہ جیسے ہوش میں آتے ہوئے صفائی دینے لگی۔

’’جی نہیں، میں نے اسے بہت ڈھونڈا۔‘‘

’’کہاں۔‘‘ اویس نے بھنویں اچکاتے ہوئے ایک دم اس کی بات کاٹ دی۔ پھر اسے سٹپٹاتا دیکھ کر خود ہی کہنے لگا۔

’’یہ بریسلیٹ مجھے اپنی گاڑی میں ملا تھا۔ میں دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ یہ تمہارا ہی ہے۔ میں نے اگلے دن فن لینڈ جا کر وہاں کے سیکورٹی گارڈز اور رائیڈز پر موجود عملے کو اپنا موبائل نمبر دیا اور انہیں اچھی طرح سمجھا دیا کہ اگر کوئی لڑکی یہاں کچھ ڈھونڈتی ہوئی پہنچے یا اس کی حرکتوں سے ایسا لگے کہ وہ کچھ ڈھونڈ رہی ہے تو اس سے بغیر کوئی سوال کےے اسے میرا نمبردے دیں لیکن چلو مان لیا، تم مجھ سے اس لےے کانٹکٹ نہیں کر سکیں کہ وہ پارک دو دن بعد ہی بند ہوگیا لیکن میںنے تمام اخبارات میں اشتہار دیا کہ فن لینڈ میں جن محترمہ کا زیور کھو گیا ہے، وہ اس نمبر پر رابطہ کریں۔ میں نے احتیاطاً یہ وضاحت نہیں دی کہ زیور میں میں کیا چیز ہے۔ ہار، بندے یا انگوٹھی تاکہ کوئی فراڈ آکر دعوا نہ کردے مگر میری ساری کوششیں بے کار گئیں بلکہ سچ پوچھو تومجھے امید تھی کہ تمہیں بریسلیٹ کی گمشدگی کا علم ہی نہیں ہوگا جب کبھی تمہارے گھر میں کوئی اس بریسلیٹ کے بارے میں دریافت کرے گا تب تم ہکلاتے ہوئے کوئی بودا سا بہانا بنادو گی جو کسی سے ہضم نہیں ہوگا۔‘‘

ہانیہ اپنے غیر ذمہ دارانہ روےُے کے ساتھ ساتھ اس کے اتنے صحیح اندازے پر مزید شرمندہ ہوگئی۔ اس نے بڑے شرم سار سے انداز میں اس کے بڑھائے بریسلیٹ کو تھام لیا جس کی نازک سی چین درمیان سے ٹوٹی ہوئی تھی۔

’’میں نے سوچا، اسے جڑوا کر رکھ لوں پھر مجھے لگا کہ مجھے اسے اصل حالت میں ہی تمہیں دینا چاہےے تاکہ تمہیں پتا چلے کہ یہ کہاں سے ٹوٹا تھا اور کیسے گرا تھا۔‘‘

’’کوئی بات نہیں، آپ نے تو پہلے ہی بہت تکلیف کرلی لیکن اگر آپ برا نہ مانیں تو ایک بات پوچھوں۔‘‘ ہانیہ کے کچھ ہچکچاتے ہوئے پوچھنے پر وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگا۔

’’کیا آپ کو پتا تھا میں یہاں آئوں گی جو آپ یہ بریسلیٹ جیب میں رکھ کر یہاں لائے تھے۔‘‘

’’میں تو پچھلے ایک مہینے سے اسے جیب میں رکھے پھر رہا ہوں۔‘‘ وہ برجستہ بولا۔

’’جب کپڑے بدلتا ہوں، سب سے پہلے اسے اپنی جیب سے نکال کر قمیص میں رکھتا ہوں، ورنہ اگر امی کے ہاتھ لگ گیا بلکہ امی کو تو رہنے دو، میرے بھتیجے بھتیجیوں کو تو عادت ہے بال کی کھال اتارنے کی، اس لےے میں تو روز صبح یہ دعا مانگتا کہ آج یہ امانت اس کے اصل حق دار تک پہنچ جائے۔‘‘

’’اتنی زحمت کی کیا ضرورت تھی، آپ کی جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو اسے بیچ کر کھا جاتا۔ آپ اگر ایمان داری کے باعث ایسا نہیں بھی کر سکے تو اسے بیچ کر صدقہ کر دیتے۔ بقول آپ کے مجھے تو اس بریسلیٹ کے کھونے کا علم ہی نہیں تھا۔‘‘ ہانیہ نے مشورہ دینے والے انداز میں کہا۔

’’مگر مجھے تو علم تھا نا، اگر زندگی میں کبھی تم سے سامنا ہوتا تو اتنی رقم مجھے اپنے پاس سے اد اکرنی پڑتی۔‘‘

’’اگر زندگی میں کبھی سامنا ہوتا تو!‘‘ ہانیہ نے ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے اس کی بات دہرادی۔ وہ کچھ دیر تو ہانیہ کی شکل دیکھتا رہا پھر جیسے خود کلامی کے انداز میں بولا۔

’’اتنا تو مجھے یقین تھا کہ تم کبھی نہ کبھی ضرور ملو گی۔‘‘ اس سے پہلے کہ ہانیہ کچھ کہتی، اسٹال پر کھڑا لڑکا اویس سے پوچھنے لگا۔

’’یار! اس فریم کے کیا پرائز ہیں۔‘‘ اویس جیب سے ایک لسٹ نکال کر چیک کرنے لگا۔

’’یہ تمہارا اسٹال ہے۔‘‘ ہانیہ کے منہ سے بڑے بے ساختہ انداز میں نکلا۔ اسے خود بھی احساس نہیں ہوا تھا کہ وہ اچانک آپ سے تم پر آگئی ہے۔

’’میری پوری کلاس نے مل کر لگایا ہے۔‘‘ وہ بدستور لسٹ چیک کرتے ہوئے بولا۔

’’تم یہاں پڑھتے ہو۔‘‘ ہانیہ کے لہجے میں اتنی حیرت تھی کہ وہ اس کی طرف دیکھنے لگا۔

’’یہاں نہیں، کلاس میں۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اس کا اشارہ گرائونڈ کی طرف تھا۔

’’لیکن یہ تو میڈیکل کالج ہے۔ تو کیا تم ڈاکٹر ہو۔‘‘

’’ان شائ اللہ تعالیٰ ، اس سال کے آخر تک بن جائوں گا، لیکن اس میں اتنی حیرانی کی کیا بات ہے۔‘‘ حالانکہ آج وہ اس دن جتنا لا ابالی اور امیچور نہیں لگ رہا تھا مگر ہانیہ کے ذہن نے بچپن سے ڈاکٹرز کا جو روکھا پھیکا خشک مزاج پیکر تراش رکھا تھا، وہ اس خانے میں فٹ ہونا تو دور کی بات، اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتا تھا۔

’’دارالشفائ میڈیکل کالج میں رشوت چلتی ہے نہ سفارش۔ یہاں صرف نائنٹی ، نائنٹی فائیو پرسٹیج والوں کو ایڈمیشن ملتا ہے۔‘‘ اس کے لہجے میں ابھی بھی حیرت تھی جسے محسوس کر کے وہ لسٹ اپنے دوست کی طرف بڑھاتے ہوئے مسکرا دیا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا، کافی دور کھڑے ایک ادھیڑ عمر آدمی نے اسے پکارلیا۔ اویس جس طرح ’’یس سر‘‘ کہتا ہوا ان کی طرف بڑھا تھا، اس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ان کا استاد تھا۔

ہانیہ کچھ دیر تو وہاں کھڑی رہی پھر جیسے اپنے انتظار کرنے پر خود ہی حیران ہوتی فائزہ وغیرہ کو تلاش کرنے چل پڑی۔ وہ سب اسی اسٹال پر تھیں جہاں ہانیہ انہیں چھوڑ کر گئی تھی۔

’’تم لوگوں کو اندازہ ہے ٹائم کیا ہورہا ہے۔‘‘ ہانیہ گھڑی دیکھ کر چکرا گئی تھی، اسی لےے ان کے پاس آکر فوراً بولی۔ جس پر فائزہ بھی شکایت کرنے والے انداز میں کہنے لگی۔

’’دیکھو نا ہانیہ! ان کی وجہ سے کتنی دیر ہوگئی ہے۔ میں نے تو موبائل آف کر دیا تھا تاکہ امی کا فون نہ آئے۔ اب گھر فون کیا تو پتا چلا حمید کہیں چلا گیا ہے۔ امی نے صائم بھائی کو بھیجا ہے ہمیں لینے کے لےے۔‘‘ صائم کا مزاج ایسا تھا کہ ہانیہ بھی اس کانام سن کر فکر مند ہوگئی جب کہ نبیلہ بڑے اطمینان سے بولی۔

’’ہانیہ باجی! شوز تو مل گئے تھے، بس سائز نہیں مل رہا تھا۔ انہوں نے کہا۔ اگر آپ انتظار کرلیں تو ہم ابھی منگا دیتے ہیں۔ میں نے کہا۔ نیکی اور پوچھ پوچھ۔‘‘ اپنے من پسند سلیم شاہی کھسُے مل جانے پر نبیلہ کی خوشی کا کئی ٹھکانہ نہیں تھا۔

’’یہ ساری وضاحت صائم بھائی کے سامنے دینا، تب تو زبان بند ہوجائے گی۔‘‘ اور واقعی صائم ان کے اندازے سے کہیں زیادہ غصے میں تھا۔ وہ انہیں دیکھتے ہی برس پڑا۔ دیر ہونے پراس کا بگڑنا واقعی جائز تھا مگر اس نے خوامخواہ ہانیہ کو بھی لتاڑ دیا۔

’’دنیا کے سارے بازار بند ہوگئے تھے جو تم یہاں چلی آئیں۔ ضرور ہانیہ لائی ہوگی اپنے پاپا کی شان دار عمارت دکھانے۔‘‘ ہانیہ تو جیسے اس الزام پر دنگ رہ گئی تھی۔ نبیلہ نے منمناتے ہوئے اس کی صفائی دینی چاہی مگر صائم کی ایک دھاڑکے بعد کسی کی ہمت نہیں ہوئی کچھ بولنے کی۔ ہانیہ کو صائم شروع سے ریزرو لگتا تھا مگر وہ اتنا بد تمیز اور روڈ ہے، یہ اندازہ اسے نہیں تھا اور گھر پہنچ کر تو اس نے بد اخلاقی کی حد کر دی۔ ایک تو پھوپھیوں نے دیکھتے ہی ڈانٹنا شروع کر دیا تھا، اس پر صائم نے سارا الزام اس پر رکھ دیا۔

’’انہیں کیا ڈانٹ رہی ہیں، ہانیہ انہیں میڈیکل کالج میں لگے بازار لے گئی تھی۔‘‘

’’میں لے کر نہیں گئی تھی۔ میں نے تو خود کئی بار واپس چلنے کے لےے کہا تھا۔‘‘ اب کی بار ہانیہ چپ نہ رہ سکی مگر صائم اس کا جواب پورا ہونے سے پہلے ہی کمرے سے نکل گیا تھا۔ نجمہ پھوپھی نے بھی ان کی غیر ذمہ داری پر جھڑکتے ہوئے انہیں فوراً حرکت میں آنے کی ہدایت دی اور کمرے سے نکل گئیں۔ فائزہ اسے دیکھ کر شرمندہ سے انداز میں بولی۔

’’کہیں تم یہ تو نہیں سوچ رہیں کہ اتنی باتیں سننے سے تو اچھا تھا تم بازار ہی نہیں جاتیں۔‘‘ وہ واقعی ایسا ہی کچھ سوچ رہی تھی مگر فائزہ کے کہنے پر زبردستی مسکراتے ہوئے بولی۔

’’پھوپھی کا غصہ بالکل درست ہے۔ میری مما تو دیر ہونے پر اس سے بھی زیادہ غصہ کرتیں۔ ہاں البتہ صائم بھائی کو ایسے نہیں کہنا چاہےے تھا۔ بغیر تصدیق کے الزام لگانا اور اس کی شکایت دوسروں سے کر دینا، یہ بہت غلط بات ہے۔‘‘ جس جملے کا آغاز اس نے مسکراتے ہوئے کیا تھا، اس کے اختتام پر وہ اچھی خاصی سنجیدہ ہوگئی تھی مگر فائزہ کو شرمندہ ہوتا دیکھ کر ہلکے پھلکے انداز میں کہنے لگی۔

’’صائم بھائی کو خوامخواہ تکلیف دی۔ مجھے خیال نہیں آیا، ورنہ میں اپنے ڈرائیور کو بلا لیتی۔‘‘

’’ڈرائیور ہمارے گھر میں بھی ہے مگر وہ کام سے گیا ہوا تھا، اپنی دولت کی زیادہ نمائش کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ عالیہ کے منہ سے اس جملے کی اسے ہرگز توقع نہیں تھی، وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی جس کے چہرے پر ناگواری صاف پڑھی جاسکتی تھی بلکہ اب غور کرنے پر اسے ثمرین کا موڈ بھی آف لگ رہا تھا۔ اپنے بھائی کی برائی شاید اسے بری لگی تھی، تب ہی وہ بھی تلخی سے کہنے لگی۔

’’صائم بھائی کو اس لےے غصہ نہیں آرہا کہ انہیں تم لوگوں کو پک کرنا پڑا، تم سب کو یہ ڈانٹ تمہاری غیر ذمہ داری پر پڑ رہی ہے۔‘‘ ہانیہ ، ثمرین کو غلط مطلب نکالتا دیکھ کر وضاحت کرنا ہی چاہتی تھی کہ فائزہ تپ کر بولی۔

’’نبیلہ کی وجہ ۔۔۔۔‘‘

’’نبیلہ بچی ہے ہانیہ اور تم بڑی تھیں۔ جانتی ہو کتنے کام پڑے ہیں گھر میں۔‘‘ ثمرین نے فائزہ کو بات بھی پوری نہیں کرنے دی۔ فائزہ کچھ دیر تو ثمرین کو غصے سے گھورتی رہی پھر ایک ایک لفظ چبا کر بولی۔

’’ہمیں اس لےے ڈانٹ نہیں پڑ رہی کہ ہمیں دیر ہوگئی یا ہم نے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ یہ سب کیوں سنایا جارہا ہے اور کسے سنایا جارہا ہے، یہ آپ بھی اچھی طرح جانتی ہیں۔‘‘ فائزہ کسی کا ردُِ عمل دیکھے بغیر کمرے سے نکل گئی اور ہانیہ چاہتے ہوئے بھی وہاں سے جا نہ سکی۔ حالانکہ ان سب کے بیچ اپنا وجود اسے بالکل غیر ضروری لگ رہا تھا۔ بہت کچھ سمجھتے ہوئے بھی جیسے وہ کچھ نہیں سمجھ رہی تھی اور تنہائی ملنے پر اپنی اس الجھن کا تذکرہ اس نے فائزہ سے کر دیا۔

’’کیا میری کوئی بات کسی کو بری لگی ہے جو کچھ لوگ مجھ سے اتنے اکھڑے اکھڑے سے ہیں۔‘‘

’’کون؟‘‘ فائزہ نے چونک کر اسے دیکھا۔

’’آں۔۔۔ عالیہ۔۔۔ میرا مطلب ہے۔۔۔ تم مائنڈ مت کرنا لیکن ثمرین باجی اور عالیہ کا رویہ کچھ عجیب سا ہوگیا ہے۔‘‘ ہانیہ نے ہچکچاتے ہوئے اپنی بات پوری کی۔

’’کوئی نہیں۔ ثمرین باجی کا رویُہ ہر ایک کے ساتھ ایسا ہے اور عالیہ تو۔۔۔ وہ بھی ایسی ہی ہے۔‘‘

فائزہ نے بڑے ہی لٹھ مار انداز میں صفائی دی پھر خود بھی اسے جھڑکتے ہوئے بڑی رازداری سے بولی۔

’’اچھا چھوڑو ان باتوں کو۔ یہ بتائو ، صبح جب ہم شاپنگ پر گئے تھے، تب تم نے کچھ نوٹ کیا۔‘‘

’’کیا مطلب۔‘‘ ہانیہ کے چونکنے پر فائزہ ٹھوڑی پر انگلی رگڑتے ہوئے بولی۔

’’آج راستے میں ایک وائٹ کلر کی کار جس کے بلیک شیشے تھے۔ ہمارا پیچھا کر رہی تھی۔‘‘

’’کب؟‘‘ ہانیہ ایک دم ہراساں ہوگئی۔

’’جب ہم حمید کے ساتھ گھر سے نکلے تھے، تب بھی میں نے اسے دیکھا تھا پھر جب ہم شاپنگ سینٹر سے نکل کر پیدل میڈیکل کالج تک گئے تب اسے دوبارہ دیکھ کر میں ٹھٹکی، ورنہ پہلے تو میں نے دھیان ہی نہیں دیا تھا۔‘‘

’’تو کیاکالج کے بعد جب ہم گھر آرہے تھے، تب بھی وہ کار تمہیں نظر آئی۔‘‘ ہانیہ خود بھی پریشان ہوگئی تھی یہ سن کر۔

’’تب تو نظر نہیں آئی لیکن مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ فائزہ کے چہرے پر تفکر صاف ظاہر تھا۔

’’پھر تو تمہارا وہم ہوگا۔ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ ہانیہ نے مطمئن ہوتے ہوئے کہا تو اس نے لاعلمی کے طور پر کندھے اچکا دےے پھر اسے ٹوکتے ہوئے بولی۔

’’اس بات کا ذکر کسی سے مت کرنا، خوامخواہ سب ٹینس ہوجائیں گے۔‘‘

ہانیہ نے اس کے سامنے تو سر ہلا دیا، البتہ خود سوچ میں پڑ گئی۔ نہ جانے کیوں اسے پہلا خیال اویس کا آیا تھا۔ اپنی ذات میںاس کی غیر معمولی دلچسپی وہ بھانپ چکی تھی لیکن بھلا وہ ایسا کیوں کرتا اور فائزہ نے اسے گھر سے بازار اور بازار سے کالج تک پیچھا کرتے دیکھا تھا جب کہ وہ تو اس وقت وہاں اسٹال پر ہوگا اور اس کی گاڑی بلیک کلر کی ہے اور پھر تمام باتوں کی ایک بات۔ اگر راستے میں مجھے دیکھ کر اس نے میرا پیچھا کرنا شروع بھی کردیا تو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، اس کی نیت ہر گز غلط نہیں ہوگی۔ اس نے خود کو اچھا خاصا مطمئن کرلیا، تب اس کے اندر سے جیسے سوال ابھرا۔

’’اتنا یقین؟‘‘

وہ پہلے تو شرمندہ ہوگئی پھر جیسے ڈھیٹ بنتے ہوئے بولی۔ ’’ہاں تو۔‘‘ خود کو ڈانٹ کر وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔

’’کیا ہوا ہانیہ!‘‘ فائزہ استری کرتے کرتے اچھل پڑی اور ہانیہ اس کے سوال پوچھنے پر۔وہ تو بھول ہی گئی تھی کہ فائزہ یہیں کھڑی ہے۔

’’آں۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔‘‘ہانیہ مسکراہٹ روکتی اپنے سوٹ کیس پر جھک گئی۔

ض ض ض

اگلے دن مہندی کا فنکشن بہت شان دار رہا، سب سے پہلی خوشی اسے مما پاپا کو دیکھ کر ہوئی تھی۔ وہ تو یہ سوچ کر پریشان تھی کہ پتا نہیں مما آئیں گی بھی یا نہیں۔ دوسرے یہ کہ فنکشن میں گانوں کا زبردست مقابلہ ہوا تھا۔ ہانیہ کو خود تو کچھ نہیں آتا تھا مگر اس نے سب کا ساتھ دیتے ہوئے بھرپور انجوائے کیا تھا۔ ان کا خاندان کافی بڑا تھا۔ اس پر ساری لڑکیوں کی بے تحاشا سہیلیاں تھیں کہ فنکشن ختم ہونے کے بعد بھی آدھی رات تک گھر میں رونق لگی رہی۔ ثمرین کی دو دوستیں جنہیں ان کے گھر سے کوئی لینے نہیں آسکتا تھا، رات کو یہیں رک گئی تھیں۔ شاید بہت گہری دوستی تھی۔ ان کی گفتگو سے لگ رہا تھا وہ ثمرین کے پورے خاندان سے واقف ہیں۔ تب ہی باتوں کے دوران اس کی دوست نوشابہ بولی۔

’’یار! یہ تیرے صائم بھائی پہلے سے زیادہ اسمارٹ نہیں ہوگئے۔‘‘ ہانیہ نے بے اختیار ہی عالیہ کی طرف دیکھا جو اچانک ایسے آنکھیں ملنے لگی جیسے بڑی نیند آرہی ہو۔ ہانیہ کو صاف لگا، وہ بے نیاز بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ بہت بار اس کا دل چاہا تھا کہ فائزہ سے صائم اور عالیہ کے متعلق پوچھے مگر اسے مناسب الفاظ نہیں ملے اور پھر وہ بغیر کسی ٹھوس بنیاد کے ایک لڑکی کانام کسی کے ساتھ جوڑنا نہیں چاہتی تھی۔ گو کہ اپنے اندازے کے درست ہونے کا اسے یقین تھا لیکن یہ بات اس کے اصول کے خلاف تھی کہ وہ محض اپنی سوچ کی تصدیق کے لےے کسی لڑکی کی ذات سے ایسی بات وابستہ کر دے۔

’’ارے صائم بھائی تو خاندان کی جان ہیں، کون سی ایسی خوبی ہے جو ان میں نہیں ہے۔‘‘ ثمرین نے گردن اکڑا کر کہا۔

’’اور جب سے انہیں اتنی اچھی جاب ملی ہے، ان کی پرسنالٹی اور بھی ڈیشنگ ہوگئی ہے۔‘‘ نبیلہ کزن ہوتے ہوئے جوش میں آگئی تھی جیسے اس کی تعریف ہورہی ہو۔ ہانیہ مسکرادی۔ واقعی ان سب میں بے پناہ محبت تھی۔ اگر دونوں تایا کی بیٹیاں تنویر کے ساتھ دوسرے گھر میں نہ گئی ہوئی ہوتیں تو وہ بھی تعریف کے پل باندھنے لگتیں۔

’’لیکن میری بدقسمتی دیکھو کہ سارے ڈیشنگ لڑکے مجھے اپنی منگنی کے بعد نظر آئے۔‘‘ نوشابہ کے مصنوعی حسرت بھرے انداز پر ایک زبردست قہقہہ پڑا۔

’’یہ تم کس خوش فہمی میں مبتلا ہورہی ہو۔ شکر کرو کہ انگیج ہو، کم از کم بھرم تو رہ گیا، ورنہ تمہارا انتخاب کون کرتا۔‘‘ فائزہ کھنکتے لہجے میں بولی۔

’’اپنے بھائی پر زیادہ اترانے کی ضرورت نہیں، ورنہ۔۔۔‘‘ نوشابہ نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے آستینیں چڑھالیں۔

’’ورنہ کیا؟‘‘

’’ورنہ کچھ نہیں کیونکہ میرا کوئی بھائی نہیں ہے۔‘‘ نوشابہ کے اچانک مسکین سی شکل بنالینے پر پھر ہنسی کے فوارے پھوٹ پڑے۔

’’ویسے یہ بالکل سچ کہا نوشابہ نے۔ کبھی کبھی میرا بھی بڑا دل چاہتا ہے کہ میرے دونوں بھائی حمید اور حامد مجھ سے بڑے ہوتے۔ بڑا فائدہ ہوتا ہے اگر گھر میں بھائی بڑے ہوں۔‘‘ عالیہ کی بات پر سب متجسس ہو کر اسے دیکھنے لگے جو اپنے لہجے کو پراسرار بناتے ہوئے بولی۔

’’میں جب ثمرین باجی اور فائزہ کے پیچھے لڑکیوں کو پھرتا دیکھتی ہوں تو مجھے رشک آتا ہے ان دونوں پر۔‘‘

’’کیا واقعی۔‘‘ ثمرین کی دوسری دوست فرحین نے اشتیاق سے پوچھا۔

’’اور نہیں تو کیا۔‘‘ ثمرین نے شانِ بے نیازی سے گردن کوجھٹکا۔

’’لڑکیاں صائم بھائی کے قریب آنے کے لےے پہلے ہم سے تعلقات بڑھاتی ہیں اور ٹھیک تو ہے۔ ایک بار گھر والوں کو شیشے میں اتار لو، بہو بننے کا راستہ خود بخود ہموار ہوجائے گا۔‘‘ فائزہ کے چہرے پر پھیلتی سنجیدگی ظاہر کر رہی تھی کہ اسے یہ موضوع پسند نہیں آرہا تھا جب کہ فرحین اور نوشابہ کی دلچسپی بڑھتی جارہی تھی، تب ہی بے چینی سے پوچھنے لگی۔

’’کون کون پیچھے لگا ہے۔‘‘

’’ارے یہ پوچھو کون پیچھے نہیںلگا ہے۔ جب سے صائم بھائی کو ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب ملی ہے، ایسے ایسے لوگ ہمارے گھر آنے لگے ہیں جنہیں ہمارے گھر کا راستہ بھی یاد نہیں رہا تھا۔‘‘ ثمرین کا غرور سے بھرپور لہجہ اسے عجیب تو لگ رہا تھا مگر اب تو وہ چونک کر اس کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کرنے لگی جو آنکھیں گھما گھما کر کہہ رہی تھی۔

’’کبھی آدھی آدھی رات تک ہمارے ساتھ کچن میں کام کر کے ہمیں اپنا گرویدہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے تو تو کبھی قیمتی تحائف دے کر ہمیں اپنی دولت سے رجھایا جارہا ہے لیکن ہم ان میں سے نہیں، جنہیں کوئی لڑکی ایسے ہتھکنڈوں سے متاثر کرے یا جنہیں لڑکی والے رجھالیں اور ہم اس منہ دیکھے کی محبت پر ایسی لڑکیوں کو بہو بنالیں بلکہ مجھے تو ان کی خوش فہمی پر حیرت ہوتی ہے۔ ارے ان کی مائیں اپنے وقتوں میں اپنے شوہروں کو خاندان سے چھڑا کر لے گئیں۔ ایسی مائوں کی بیٹیوں کو ہم کیوں اپنے گھر لے آئیں گے۔ مگر اتنی عقل ہے کہاں جو وہ یہ سب سوچیں۔ سارے ہوش و حواس تو میرے بھائی کو دیکھ کر ہی اڑ گئے ہیں۔‘‘ ثمرین نے ہنستے ہوئے نوشابہ کے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔

ہانیہ تو اپنی جگہ پتھرا گئی تھی، اس کی ایک ایک بات کے پیچھے چھپے سو سو مطلب وہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔ اتنی بدگمانی، اتنا زہر اور سب سے بڑھ کر اتنا غرور۔ کیا سمجھ رکھا تھا اس نے ہانیہ کو کہ وہ اس کے بھائی پر مر مٹی ہے جس بھائی کی تعریف میں وہ رطب اللسان ہورہی تھی، اس صائم کے بارے میں ہانیہ نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا اور اس پر اتنے رکیک الزامات، رجھانے اور متاثر کرنے کے ہتھکنڈے۔

ہانیہ کے خون میں گویا لاوا دوڑنے لگا۔ بظاہر ثمرین نے اسے کچھ نہیں کہا تھا مگر وہ جانتی تھی، یہ سب اسے سنانے کے لےے ہی کہا جارہا ہے لیکن وہ پلٹ کر کچھ کہہ نہیں سکتی تھی کیونکہ کچھ بھی بولنے کی صورت میں ثمرین تو صاف مکر جاتی، اسی لےے وہ لوگ اس سے اتنے خائف رہتے تھے۔ ان پچھلے کئی جملوں کے مطلب اب واضح ہورہے تھے۔ عالیہ بھی یقینا اسی لےے اس سے بے زار نظر آتی تھی اور اس وقت ثمرین کی باتوں پر جیسے اس کی گردن تن گئی تھی۔ اسے دیکھ کر ہانیہ کا اٹھ کر بھاگ جانے کا دل چاہ رہا تھا مگر اس میں ہلنے کی بھی سکت نہیں تھی۔

وہ کتنی محبت اور خلوص سے ان کی طرف بڑھی تھی مگر آج کل کے زمانے میں بے لوث چاہتیں لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ لوگ ایسی محبت کے پیچھے کسی وجہ ، کسی غرض یا مفاد کو تلاشتے ہیں۔ اگر وہ اسے تنہائی کا شکار نفسیاتی مریضہ بھی کہہ دیتے تو اسے اتنی تکلیف نہ ہوتی مگر انہوں نے اپنی سطحی ذہنیت کے مطابق سوچا بھی تو کیا؟ وہ صائم کو دیکھ کر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی ہے۔ حالانکہ وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں تھی جو کسی کی ظاہری شخصیت دیکھ کر مر مٹتی ہیں اور اس کی وجہ شاید اس کے والدین تھے۔ ڈاکٹر احتشام اس عمر میں بھی لیڈی کلر کہلانے کے قابل تھے اور اس کی مما حسن کے بیش بہا خزانے سے مزین تھیں، اس میں وقت کے ساتھ کمی آنے کے بجائے اضافہ ہی ہواتھا اور ان دونوں کی ناقابل نظر انداز شخصیت کو دیکھ کر ہی اسے لگتا تھا کہ سب چیزیں وقتی ہوتی ہیں۔ زندگی حسین چہروں کے ساتھ صرف گزاری جاسکتی ہے جبکہ زندگی کو حسین بنانے کے لےے زندگی سے بھرپور انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے والدین کی سنجیدگی اور ایک دوسرے سے لا تعلقی گھر میں ہر وقت ایک جمود سا طاری رکھتی تھی جس کے باعث اسے ہنسنے بولنے مل جل کر رہنے والے لوگ ہی ہمیشہ پسند آتے تھے اور صائم کو دیکھ کر لگتا تھا، اسے زندہ دلی کے ہجُے بھی نہیں آتے ہوں گے۔ اس کی تیوری پر ہمہ وقت بل پڑے رہتے تھے۔ جیسے دوسروں کی موجودگی سخت ناگوار گزر رہی ہو۔ اس کے پاس بیٹھا شخص خوامخواہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا کہ جانے اس سے کیا غلطی سر زد ہوگئی۔ ایسے شخص کی موجودگی میں ہانیہ کبھی پرسکون نہیں رہ سکتی تھی مگر اکثر جوان، کمائو بیٹوں کی ماں بہنیں اتنی گہرائی میں اتر کر نہیں سوچتیں۔ انہیں یہی زعم مارےجارہا ہوتا ہے کہ ہر لڑکی ان کے بیٹے کو پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ البتہ اسے ثمرین وغیرہ سے ایسی توقع نہیں تھی۔

ہانیہ کا غصہ تاسف میں بدلنے لگا، وہ سب ابھی بھی ہنسی مذاق کر رہی تھیں سوائے فائزہ کے۔ ہانیہ پلکیں چھپکا کر آنکھوں میں آئی نمی پینے کی کوشش کرنا چاہتی تھی۔ اگر وہ سب کچھ انجان بن کر کہہ رہے تھے تو اسے بھی انجان بن کر ہی سننا چاہےے تھا بلکہ تھوڑی دیر بعد جب وہ اپنے احساسات پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئی تو ان ہی کے لہجے میں کہنے لگی۔

’’ثمرین باجی! اگر کوئی آپ کوپھنسانے کے لےے تحفے دے رہا ہے تو آپ بھی موقع کا فائدہ اٹھائیں نا۔ ایک بار صائم بھائی کی شادی ہوگئی تو پھر آپ یہ سب وصول نہیں کر سکیں گی۔ ایک ہی تو بھائی ہے آپ کا۔‘‘ ان سب کو ایک دم سانپ سونگھ گیا۔ کسی کو امید نہیں تھی کہ ہانیہ ایسی بات کہہ دے گی۔ ان کے چہرے پر ابھرتے تاثرات دیکھ کر وہ مزید کہنے لگی۔

’’بلکہ میں تو کہتی ہوں ایسی لڑکیوں سے خوب خدمتیں کروانی چاہئیں جو خود ہی بے وقوف بننے کے لےے تیار ہوں کیونکہ ایسی لڑکیاں صائم بھائی کے ساتھ سوٹ بھی نہیں کریں گی۔ صائم بھائی اتنے سنجیدہ ہیں بلکہ پلیز ڈونٹ مائنڈ، اتنے خشک مزاج ہیں کہ ان کے ساتھ صرف وہی لڑکی گزارا کر سکتی ہے جو انہیں سمجھتی ہو اور یہ کام آپ کے گھر میں بہت آسان ہے کیونکہ آپ سب کزنز بچپن سے ساتھ پلے بڑھے ہیں۔ ایک دوسرے کو جانتے ہیں بلکہ میں تو سمجھ رہی تھی جس طرح صائم بھائی کی جاب کی خوشی میں دی جانے والی پارٹی میں آپ کی اور تنویر بھائی کی انگیج منٹ کر دی گئی، اسی طرح آپ کی شادی میں صائم بھائی اور عالیہ کی منگی کا اعلان ضرور ہوگا۔‘‘

ہانیہ تھوڑی دیر پہلے کی اداس کیفیت سے مکمل طو ر پر باہر آگئی تھی۔ان کے تاثرات سے محظوظ ہوتے ہوئے اسے اپنے لہجے پر زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کیونکہ ان سب کی آنکھیں ایسے پھٹ گئی تھیں جیسی ابھی باہر گر پڑیں گی۔ بس ایک نبیلہ اپنے سابقہ انداز میں مسکرا رہی تھی۔ شاید وہ ان کے جملوں کے پوشیدہ مطلب نہیں جانتی تھی اور ایک فائزہ کے چہرے پر شرمندگی پھیلی تھی جس نے گفتگو کے طنزیہ ہوجانے کے بعد ایک بار بھی زبان نہیں کھولی تھی بلکہ اس کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھر آئے تھے۔ وہ واقعی ثمرین سے بہت مختلف تھی، تب ہی ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔

’’ہمارا خیال تو بہت عرصے سے عالیہ کی طرف تھا مگر یہ بات تمہیں کس نے بتائی۔‘‘

’’بہت ساری باتیں بتائے بغیر پتا چل جاتی ہیں اور میرے اندازے تو سو فیصد درست ہوتے ہیں۔‘‘ ایسے فخریہ جملے وہ کہتی نہیں تھی مگر اس وقت وہ خود کو روک نہ سکی۔ ہانیہ کے چہرے پر خجالت اور پچھتاوے کے بجائے اطمینان پھیلا دیکھ کر ثمرین نے بے زار ہوکر موضوع بدل دیا۔

ض ض ض

صبح ہوتے ہی ہانیہ کا دل چاہ رہا تھا، ابھی اپنے گھر لوٹ جائے۔ اس کے خلوص کا جو مطلب نکالا گیا تھا، اسے دیکھنے کے بعد وہ ایک منٹ بھی یہاں رکنا نہیں چاہتی تھی مگر اپنا رویہ فوراً بدل کر وہ انہیں چونکانا بھی نہیں چاہتی تھی۔ سب کچھ پہلے جیسا نارمل ظاہر کرنے کے لےے وہ پہلے کی طرح کام کرتی رہی مگر اس کے جوش میں کمی ضرور آگئی تھی جس کا احساس اسے فائزہ کے معذرت کرنے پر ہوا۔ اپنا بھرم قائم رکھنے کے لےے وہ پہلے تو انجان بن گئی مگر اس کی صاف گوئی دیکھ کر سنجیدگی سے کہنے لگی۔

’’تم کیوںمعافی مانگ رہی ہو، تم نے تو ایسا کچھ نہیں کہا۔‘‘

’’میں ایسا کہہ بھی نہیں سکتی کیونکہ میں جانتی ہوں، تم یہ سب کسی مقصد سے نہیں ، اپنی فطرت سے کرتی ہو لیکن ہانیہ گھر میں سب کا یہی سوچنا ہے۔ یہاں تک کہ امی اور خالہ کا بھی، اسی لےے کسی کو تمہارا یہاں آنا پسند نہیں مگر اب سب کی بدگمانی دورہوجائے گی۔‘‘ ہانیہ صرف گہرا سانس کھینچ کر رہ گئی۔ وہ فائزہ سے یہ نہیں کہہ سکی کہ کاش تم نے یہ سب نہ بتایا ہوتا۔ ان کی بدگمانی بھلے ہی دور ہوگئی ہو مگر اب ہانیہ کا دل ان سب کی طرف سے خراب ہوگیا تھا۔ وہ جلد سے جلد شادی کے ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ پہلی بار اسے شور اور ہنگامے سے وحشت ہورہی تھی۔ وہ فوراً سے بھی بیشتر اپنے گھر لوٹنا چاہتی تھی۔

اس کے ماں باپ ہر فنکشن میں شرکت کرنے آئے تھے اور انہیں ساتھ دیکھ کر ہانیہ کو اور دکھ ہوا تھا کیونکہ انہیں دیکھ کر لگتا جیسے پھوپھیوں کا اس طرح سوچنا اتنا غلط بھی نہیں ہے جو بھائی بھاوج کسی موقع پر نہ پوچھتے ہوں۔ ان کے اچانک رویہ بدل لینے پر وہ اس کے پیچھے کسی غرض کو تلاش کرنے کی ہی کوشش کریں گے۔

فائزہ کی معذرت نے اگر اس تکلیف میں کچھ کمی کی بھی تھی تو بارات والے دن صائم کی تنی گردن نے دو چند کر دی تھی۔ دولہا والوں کو ریسیو کرتے وقت وہ جس طرح دوسری کزنز کے ساتھ پیش آرہا تھا، اس سے صاف ظاہر تھا کہ اس کی یہ سرد مہری صرف ہانیہ کے لےے مخصوص ہے۔ اسے اپنے نظر انداز کےے جانے کی کوئی پروا نہیں تھی مگر صائم کے چہرے پر لکھی تحریر ’’تمہاری جیسی لڑکیوں کو میں گھانس بھی نہیں ڈالتا۔‘‘ اسے بے عزتی کا شدید احساس دلا رہی تھی۔ یقینا وہ بھی اپنی ماں بہنوں کا ہم خیال ہوگا یا ماں بہنوں نے اس کے سامنے ایسی گفتگو کر کے اسے یقین دلا دیا ہوگا کہ ہانیہ اس پر فریفتہ ہے جتنا وہ اس بارے میں سوچ رہی تھی اس کا اضطراب بڑھتا جارہا تھا تب ہی بڑی عجیب بات ہوئی جب وہ سب ہوٹل سے گھر جانے لگے تو مما نے اچانک سب کے سامنے اسے اپنے ساتھ گھر چلنے کے لےے کہہ دیا ان کا انداز اتنا سرد اور لہجہ اتنا حکمیہ تھا کہ ہانیہ ٹھٹک کر ان کی شکل دیکھنے لگی۔

’’آنٹی ہانیہ باجی ولیمہ کے بعد گھر آنے ہی والی ہیں پھر آپ آج کیوں لے جانا چاہتی ہیں اب ایک ہی دن کی تو بات ہے۔‘‘ وہاں موجود تمام بڑے تو خاموشی سے کھڑے رہے البتہ ثمرین کی تایا زاد مائدہ بول پڑی۔

’’ایک فنکشن وہ گھر سے بھی اٹینڈ کرنے آسکتی ہے۔ اور اگر نہ بھی آسکے تو پارٹی کی چمک دمک میں کوئی کمی نہیں آجائے گی۔‘‘ مما نے اس کے اتنے لاڈ سے کہی بات کا ایساٹکا سا جواب دیا تھا کہ مائدہ ٹکر ٹکر ان کی شکل دیکھتی رہ گئی۔ ہانیہ خود حیران ہونے کے ساتھ ساتھ شرمندہ ہوگئی تھی اسے ثمرین کی تایا زاد بہنوں سے کوئی شکایت نہیں تھی وہ سب بہت صاف دل کی تھیں لیکن ہانیہ مما کی عادتوں سے بھی واقف تھی وہ ان کے روےُے کو معمول کی بات سمجھ کر چپ چاپ ان کے ساتھ گھر آئی۔

گاڑی میں اس نے مما پاپا کی غیر معمولی خاموشی کو محسوس کیا مگر وہ ان سے اتنی بے تکلف نہیں تھی کہ اس کی وجہ پوچھنے بیٹھ جاتی اور پھر اپنے گھر پہنچ کر اسے عجیب سے سکون کا احساس ہوا تھا اگر ثمرین اورعالیہ نے وہ سب نہ کہا ہوتا تو اس وقت مما کا اسے یوں گھر لے آنا سخت برا لگتا مگر آج اپنے کمرے کی خاموش فضا اسے بہت بھلی لگ رہی تھی۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر چوڑیاں اتارتے وقت اچانک اس کا ذہن اس ٹوٹے بریسلیٹ کی طرف چلا گیا حالانکہ اس کا سارا سامان فائزہ کے کمرے میں رہ گیا تھا مگر یہ بریسلیٹ اس نے اپنے پرس میں رکھا تھا جو ہوٹل میں بھی اس کے ہاتھ میں تھا۔

’’اتنا تو مجھے یقین تھا کہ تم کبھی نہ کبھی ضرور ملو گی۔‘‘ پرس سے بریسلیٹ نکال کر دیکھتے ہوئے اچانک اسے اویس کی کہی بات یاد آگئی۔ اور وہ مسکرا دی بلکہ اس کی کئی باتیں یاد آنے پر ہانیہ کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی۔ وہ خود وہاں اسٹال لگائے بیٹھا تھا لیکن جب ہانیہ نے اسے بتایا کہ یہاں کی ساری آمدنی چیریٹی میں جائے گی تب وہ کتنا معصوم بن کر کہہ رہا تھا۔

’’اب آپ نے مجھے اتنے پتے کی بات بتائی ہے تو میں بھی آپ کی معلومات میں تھوڑا اضافہ کر دوں۔‘‘

’’جب وہ اپنے سر سے بات کر کے پلٹا ہوگا تب مجھے نہ پا کر جانے اسے کیسا لگا ہوگا وہ تو میرا نام بھی نہیں جانتا۔‘‘

ہانیہ بے اختیار سوچے گئی تب ہی ایک زور دار چھنُاکے کی آواز پر وہ بری طرح چونک اٹھی شاید مما پاپا کے کمرے میں کوئی کانچ کی چیز ٹوٹی تھی وہ گھبرا کر ان کے کمرے میں جانا ہی چاہتی تھی کہ مما پاپا کے زور زور سے بولنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں، حالانکہ ان کے الفاظ سمجھ میں نہیں آرہے تھے مگر اتنا ضرور پتا چل رہا تھا کہ ان کے بیچ زبردست جھگڑا ہورہا ہے۔ مما شاید غصے میں کمرے کی چیزیں اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھیں ہانیہ لب بھینچ کر رہ گئی۔ اس نے ہاتھ میںپکڑا بریسلیٹ درازمیں رکھا اور بستر پر لیٹ کر تکیہ سر کے اوپر رکھ لیا تاکہ اعصاب شکن باتیں اس تک نہ پہنچ سکیں۔

اپنے گھر میں قدم رکھنے کے بعد اسے احساس ہوا تھا کہ تنہائی انسان کے اندر ہوتی ہے اس لےے لوگوں کے جھرمٹ میں بیٹھ جانے سے اندر کا خالی پن ختم نہیں ہوتا جب کہ اگر انسان اندر سے خوش ہو تو وہ اپنے کمرے کی تنہائی میں خود اپنی کمپنی بھی انجوائے کر سکتا ہے لہٰذا اب وہ ان کے جھگڑے کی وجہ جان کر اپنا سکون برباد نہیں کرنا چاہتی تھی اس لےے اگلے دن جان بوجھ کر وہ مما کے پاس بھٹکنے سے بچتی رہی اس کے وہاں جا کر رہنے پر وہ یقینا ناراض ہوں گی اور وہ انہیں غصہ نکالنے کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتی تھی مگر شام ہونے پر جب وہ ولیمہ میں جانے کے لےے اپنا سوٹ نکالنے لگی تو وہ خود ہی اس کے پاس چلی آئیں۔ جو سوٹ وہ ولیمہ میں پہننے جارہی تھی، وہ تو فائزہ کے کمرے میں رہ گیا تھا، اس لےے اس نے یہ دوسرا جوڑا منتخب کر لیا تھا اور ابھی اسے پریس کرنا شروع کر رہی تھی کہ مما نے چلُانا شروع کر دیا۔

’’ایسا کیا رکھا ہے تمہاری ددھیال میں جو تم ان کے لےے مری جارہی ہو۔ وہ تو تمہیں ذرا بھی نہیں گردانتے۔ بیٹے کو ملٹی نیشنل کمپنی میںجاب کیا مل گئی، اس کا دماغ ایسے عرش معلی پر چڑھ گیا جیسے قارون کا خزانہ مل گیا ہو۔ دولت سے وہ لوگ متاثر ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی یہ سب دیکھا نہیں ہوتا۔ تمہارے باپ کے پاس تو ان سے کئی بنا زیادہ دولت ہے پھر بھی پتا نہیں کیوں وہ اپنے بھانجے پر ریجھ گئے ہیں اور تم، تم بھی ان کے سارے اندازوں کو تقویت پہنچانے کے لےے بن ڈھن کر چل پڑتی ہو ایک بات کان کھول کر سن لو، میرے جیتے جی تمہاری شادی صائم کے ساتھ کبھی نہیں ہوسکتی۔‘‘

سوٹ ہانیہ کے ہاتھ سے پھسل کر زمین پر جا گرا تھا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی جو سارا زہر اس پر اگل کر خود تن فن کرتی کمرے سے نکل گئیں۔

اسے یقین نہیں آرہا تھا یہ اس کی ماں کے الفاظ ہیں، اس کی سگی ماں اسے اس طرح کہہ سکتی ہے۔ ثمرین اور عالیہ نے جو کچھ کہا، وہ اسے نظر انداز کر سکتی تھی مگر مما کا طعنہ کسی پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اس کے کانوں میں اترا تھا اور اس کے پورے وجود کو جلا کر خاک کر گیا تھا۔ اس کا دل بے اختیار اس گھر سے کہیںدور چلے جانے کو چاہ رہا تھا مگر جسم میں جیسے جان نہیں رہی تھی۔ وہ خود کو بمشکل گھسیٹتی صوفے تک آئی اور جیسے اس پر ڈھیر ہوگئی۔

ض ض ض

اسے بالکل اندازہ نہیں تھا، وہ کتنی دیر وہیں پڑی رہی، جب حواس بحال ہوئے تو اس نے خود کو اپنے بستر پر پایا۔ مما، پاپا دونوں اس کے کمرے میں موجود تھے۔ پاپا اسے آنکھیں کھولتا دیکھ کر تسلی دینے لگے۔

’’اتنے دنوں سے گھر سے دور تھیں اور شادی کی مصروفیت میں ٹھیک طرح سے کھایا پیا بھی نہیں ہوگا، اس لےے ویکنیس ہوگئی ہے۔‘‘

وہ ان پر سے نظریں ہٹا کر مما کو دیکھنے لگی جو اس کے لےے سوپ لےے کھڑی تھیں۔ ان کے چہرے پر شرمندگی کا کوئی تاثر نہیں تھا۔ وہ بھی پاپا کی طرح ان ظاہری وجوہات کو اس کی بیماری کا سبب سمجھ رہی تھیں۔ اس نے بے دلی سے آنکھیں بند کرلیں اور شدید بھوک کے باوجود ان کا لایا سوپ پینے سے صاف انکار کر دیا۔ آنکھیں بند کرلینے کے باوجود اسے احساس ہوا جیسے پاپا نے مما کو اشارے سے زیادہ اصرار کرنے سے منع کیا۔ وہ دونوں اسے آرام کرنے کی تاکید کرتے کمرے سے نکل گئے۔ ان کے جاتے ہی اس نے آنکھیں کھول کر گھڑی دیکھی تو چونک اٹھی۔ ولیمہ کا فنکشن تقریباً ختم ہونے والا ہوگا اور مما، پاپا کے حلےے سے لگ نہیں رہا تھا کہ ان کا وہاں جانے کا کوئی ارادہ ہے۔ جب پاپا ہسپتال سے گھر آچکے ہیں تو پھر جا کیوں نہیں رہے۔ اتنی خوشی کم تو نہیں تھی وہ جو یہ سوچ لیتی کہ اس کی بیماری پر انہوںنے ارادہ ملتوی کر دیا۔ وہ سوچ ہی رہی تھی کہ پاپا کا موبائل لےے ملازم چلا آیا۔ فائزہ نے اسے پاپا کے موبائل پر فون کیا تھا۔ اگر گھر پر کرتی تو مما خود ہی منہ توڑ جواب دے دیتیں۔ شاید فائزہ کو بھی اندازہ تھا، تب ہی اس نے گھر پر فون نہیں کیا۔

ہانیہ نے بے بسی سے فون کان سے لگالیا۔

’’آخر تم نے سب کے شک کو صحیح ثابت کر دیا نا۔‘‘

فائزہ کی بات پر ہانیہ زچ ہوگئی ۔

’’میری طبیعت واقعی ٹھیک نہیں، میں کوئی بہانہ نہیں کر رہی۔‘‘

’’میں جانتی ہوں، تم بہانہ نہیں کر رہیں لیکن شاید تم یہ نہیں جانتیں کہ کل بارات والے دن احتشام ماموں نے ابو سے تمہاری اور صائم بھائی کی شادی کی بات کی تھی۔‘‘ فائزہ نے جیسے بم بلاسٹ کر دیا تھا۔ ہانیہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔

’’ابو نے کہہ دیا کہ ہمارا تو شروع سے ارادہ عالیہ کو بہو بنانے کا ہے تو احتشام ماموں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے کہ ہانیہ ہر لحاظ سے عالیہ سے بہتر ہے۔ ان کی باتیں سن کر امی کو بھی غصہ آگیا۔ میں مانتی ہوں، امی کو اس طرح بات نہیں کرنی چاہےے تھی لیکن جس طرح کے حالات تھے، ان میں امی ایسے ہی سوچ سکتی تھیں۔ پہلے ہی سب کو لگ رہا تھا کہ یہ سب صائم بھائی کو چارہ ڈالنے کے لےے کیاجارہا ہے۔ احتشام ماموں کے پرپوزل کے بعد تو شک کی گنجائش ہی نہ رہی، اس لےے امی نے کہہ دیا۔ ہانیہ جیسی لڑکی جو کسی لڑکے کو متوجہ کرنے کے لےے بن ٹھن کر اس کے سامنے اٹھلاتی پھرے، وہ اس گھر کی بہو کبھی نہیں بن سکتی۔ چاہے وہ حسن اور دولت میں عالیہ سے کہیں زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس پر تمہاری مما کہنے لگیں۔ میں تو آپ کے گرے پڑے خاندان میں بیٹی دینا ہی نہیں چاہتی، یہ تو آپ کے بھائی کو ہی بیٹھے بیٹھے صائم جیسے معمولی لڑکے میں نہ جانے کیا نظر آگیا کہ مجھ سے ذکر تک نہیں کیا اور رشتے کی بات کر دی۔ وہ تو شکر ہے کہ تایا ابو کے وہاں آجانے سے سلسلۂ کلام وہیں ختم ہوگیا، ورنہ ممانی نہ جانے کیا کچھ سنادیتیں۔

پہلے احتشام ماموں نے خود رشتے کی بات کی اور تمہاری مما انکار سن کر خاموش ہوجانے کے بجائے ہمارے ہی بھائی کو بے عزت کرنے لگیں۔ وہ خود بھی تو اسی خاندان کی بہو ہیں جس خاندان میں وہ اپنی بیٹی نہیں دینا چاہتیں۔‘‘ ہانیہ ششدر رہ گئی تھی۔ اسے یقین تھا، فائزہ کی بات میں ایک فیصد بھی جھوٹ نہیں ہوگا۔ کل رات مما کا اس کو اچانک لے کر آجانا اور بعد میں مما، پاپا کا کسی بات پر جھگڑنا اور سب سے بڑھ کر مما کا اسے وہ سب کہنا۔ ساری کڑیاں آپس میں ملتی جارہی تھیں، مارے شرمندگی کے اس کا مر جانے کا دل چاہ رہا تھا۔ فائزہ کو مما کی بات نے بہت ہرٹ کیا۔ وہ سب ویسے ہی آپس میں بہت محبت کرنے والے تھے۔ اس پر اپنے سگے بھائی کی ایسی بے عزتی، پہلے خود ہی رشتہ دیا اور انہوں نے انکار کیا تو لڑکے کو ذلیل کرنا شروع کر دیا۔

’’ہانیہ! تمہیں اپنے مما ، پاپا کو سمجھانا چاہےے تھا، وہ رشتے کی بات نہیں کرتے۔ تمہیں معلوم تو تھا عالیہ کے بارے میں۔‘‘ عالیہ کے بارے میں اسے واقعی معلوم تھا مگر اپنے پاپا کے ارادوں کی خبر کہاں تھی۔ اصل بے عزتی تو پاپا نے ہی کرائی تھی۔ گھر میں بتائے بغیر براہِ راست لڑکے والوں سے رشتے کی بات کر کے انہوں نے نہ صرف ہانیہ کو ڈی گریڈ کیا تھا بلکہ ان کے سارے اندازوں کو بھی درست ثابت کر دیا تھا اور واقعی پاپا نے یہ سب ایک مقصد کے تحت کیا تھا۔ مما کے انکار کی پروا کےے بغیر اسے وہاں رہنے کی اجازت دی۔ اسے اتنے پیسے دےے کہ وہ سب کے لےے کچھ نہ کچھ خرید سکے اور مما کو لے کر ہر فنکشن میں وقت پر پہنچ گئے۔ انہیں امید نہیں ہوگی کہ وہ ہانیہ کے لےے انکار کر دیں گے، اسی لےے انہوں نے مما سے ذکر کےے بغیر براہِ راست پھوپھا سے بات کرلی۔ ایک بار وہ لوگ مان جاتے پھر مما کے لاکھ سر پٹخنے پر بھی پاپا اپنی من مانی کر کے ہی رہتے۔ لیکن ان لوگوں نے انکار کر کے پاپا کی امیدوں پر پانی پھیر ہی دیا۔ الٹا مما، پاپا کو زندگی بھر لڑنے کے لےے ایک اور بہانہ دے دیا۔

ہانیہ کی آواز حلق میں ہی گھٹ گئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا، وہ فائزہ کو اپنی صفائی دے یا اپنی ماں کی کیونکہ مما نے جو کچھ بھی کہا۔ نجمہ پھوپھی کی بات کے جواب میں کہا۔ جب وہ ان کی بیٹی کے کردار پر کیچڑ اچھال رہی تھیں تو بھلا مما ان کے بیٹے کو ذلیل کیوں نہیں کرتیں لیکن شاید یہ سب الفاظ اپنے معنی کھو چکے تھے کیونکہ اب کہنے کے لےے کچھ بچا نہیں تھا۔ اس کا پندار تو ٹوٹ چکا تھا، وہاں وہ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ وہ ولیمہ میں شرکت کرنے بھی اسی لےے نہیں آئی کہ یہاں اس کی دال نہیں گل رہی پھر وقت برباد کرنے کا کیا فائدہ۔

وہ اس معاملے کے متعلق سوچنا نہیں چاہتی تھی کیونکہ جتنا وہ سوچ رہی تھی، بے عزتی کا احساس اتنا ہی بڑھتا جارہا تھا لیکن اس خیال کو بھی وہ کسی طور ذہن سے جھٹک نہیں پارہی تھی۔ موبائل آف کر کے وہ پھوٹ پھوٹ کرر وپڑی۔

ض ض ض

اپنے والدین سے وہ پہلے بھی بہت بے تکلف نہیں تھی۔ اس واقعہ کے بعد وہ جان بوجھ کر ان سے کترانے لگی تھی۔ کبھی اس کا دل چاہتا، وہ پاپا سے پوچھے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ کیا وہ ان پر اتنی بوجھ ہے کہ وہ بس اسے اتار پھینکنا چاہتے ہیں مگر وہ ہمت نہ کر سکی۔ چنانچہ اسے ان دونوں سے ہی کوفت ہونے لگی۔ اکثر اس کا دل چاہتا، وہ اس گھر کو چھوڑ کر کہیں دور چلی جائے مگر اپنے اس خیال پر اس نے بڑی مشکل سے قابو پایا ہوا تھا، وہ ان سے صرف سخت ضرورت کے وقت مخاطب ہوتی، ورنہ سارا سارا دن بات نہ کرتی مگر انہوں نے اس کی تبدیلی کو محسوس ہی نہیں کیا جس پر اسے اور تکلیف ہوتی کیونکہ وہ چاہتے ہوئے بھی ان کی طرف سے بے نیاز نہیں بن سکتی تھی۔ خاص طور پر پاپا کا پیشہ ایسا تھا کہ لاکھ کدورت کے باوجود اس کا دل ان کے لےے نرم پڑجاتا۔

رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی ملک میں آئے تباہ کن زلزلے نے وقتی طور پر اس کے سارے گلے شکوے بھلا دےے۔ ٹی وی پر جس طرح ان گنت معصوموں کی بربادی اور پورے پورے گائوں اجڑ جانے کی خبریں دی جارہی تھیں، انہیں دیکھ کر وہ خود بھی پاپا کے ہسپتال جا پہنچی۔ ٹی وی پر بار بار خون کا عطیہ دینے کی گزارش کی جارہی تھی اور وہ اسی نیت سے وہاں گئی تھی مگر وہاں پھیلی افرا تفری دیکھ کر اسے احساس ہوا جو سخت گھڑی اس وقت قوم پر آئی ہے، ان سے نبٹنے کی ذمہ داری صرف پیشہ وارانہ لوگوں پر عائد نہیں بلکہ جس شخص سے بھی جو کام ہوسکے، اسی پراسے کمر بستہ ہوجانا چاہےے کیونکہ اسپتالوں میں معمول کا کام ہی کچھ کم نہیں تھا۔ ایسے میں اتنی بڑی تباہی پر اچانک جو کام کا بوجھ بڑھا تھا، اس سے نبرد آزما ہونا عملے کے لےے آسان نہیں تھا۔ لوگوں نے امداد کے طور پر دوائیوں کے بڑے بڑے کارٹن اور دوسری کئی ضرورت کی اشیائ جمع کرادی تھیں، جنہیں بحفاظت وہاں پہنچانے کے لےے نہ صرف ان کی پیکنگ چیک کی جارہی تھی بلکہ ان کی فہرست بھی تیار کی جارہی تھی تاکہ کوئی بھی چیز ضائع نہ ہوسکے۔ ان تمام کاموں کی انجام دہی کے لےے عملے کے ساتھ ساتھ میڈیکل کالج کے اسٹوڈنٹس بھی جت گئے تھے۔ شاید اسی لےے اتنا رش تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

وہ خون دینے کے بعد گھر جانے کے بجائے ان کی مددکرنے کا سوچنے لگی۔ حالانکہ اس کا خیال تھا کہ خون دینے کے بعد اسے شدید کمزوری محسوس ہوگی مگر شاید نیک کام کر کے ایسے ہی انسان کو لاشعوری طور پر توانائی ملتی ہے کہ اسے نقاہت کا احساس تک نہیں ہوتا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کہاں سے شروع کرے، اسی ادھیڑ بَن میں وہ ڈاکٹر احتشام کے کمرے کی طرف بڑھ گئی مگر وہ راستے میں ہی کوریڈور میں کھڑے نظر آگئے۔ ان کے آس پاس لوگوں کی اتنی بھیڑتھی کہ وہ دور کھڑی ان کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔

’’یہ سب کیا ہورہا ہے۔‘‘ ہانیہ نے قریب جا کر پوچھا۔

’’متاثرہ علاقوں میں ڈاکٹر اورنرسز کی ٹیم بھیجی جارہی ہے۔ ایک ٹیم روانہ ہوچکی ہے، اب دوسری ٹیم کے لےے نام سلیکٹ ہوئے ہیں تو جو اسٹوڈنٹس جارہے ہیں، اسی کے متعلق ڈسکشن ہورہا ہے۔‘‘ ان میں سے ایک لڑکی بدستور ڈاکٹر احتشام کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔

’’تو کیا اسٹوڈنٹس بھی ساتھ جارہے ہیں۔‘‘

’’صرف فائنل ایئر کے کیونکہ ہم فائنل ایئر کے اسٹوڈنٹس بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ہزاروں کام ہوں گے وہاں تو جتنا بھی اسٹاف ہو، کم ہے لیکن جن لوگوں کے نام آئے ہیں، وہ بھی جانے سے انکاری ہیں۔‘‘ اس لڑکی کے چہرے پر عجیب سا ملال پھیلا تھا۔ ہانیہ حیرانی سے بولی۔

’’کیا آپ سب بھی جانا نہیں چاہتیں؟‘‘

’’ارے ہم تو جانا چاہتے ہیں، تب ہی تو پریشان ہیں۔ ملک پر اتنی بڑی مشکل آئی ہے، وہاں موجود لوگوں کی حالت ٹی وی پر دیکھنے کے بعد کون یہاں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا چاہے گا۔ ویسے بھی ہم اگر پروفیشن کے لحاظ سے دیکھیں تو ایسے حادثوں میں ڈاکٹرز کی پریکٹس اور تجربہ بڑھ جاتا ہے۔ کانفیڈینس لیول میں اضافہ ہوتا ہے۔ لائف ٹائم ایکسپرینس ہوتا ہے لیکن یہ سب باتیں گھر والوں کو کون سمجھائے۔ کتنے افسوس کی بات ہے، وہاں لوگوں پر اتنا بڑا پہاڑ ٹوٹا ہے اور یہاں ہمیں اپنی مجبوریوں سے ہی فرصت نہیں۔‘‘ ایک لڑکی تاسف سے کہتی چلی گئی۔

’’گھر والوں کو کیا اعتراض ہے۔‘‘ ہانیہ نے بے ساختہ پوچھا۔

’’میرے امی ابو شارجہ میں رہتے ہیں اور میں یہاں ہاسٹل میں۔ امی مجھے ہاسٹل بھیجتے وقت اتنا ہول رہی تھیں تو وہاں جانے کی اجازت کیسے دیں گی۔‘‘ وہ چڑ کر بولی تو دوسری لڑکی بھی غصے سے بھرے انداز میں بولی۔

ہانیہ پلٹ کر ڈاکٹر احتشام کو دیکھنے لگی جو لوگوں کی بھیڑ کے درمیان جھنجلائے ہوئے تاثرات کے ساتھ کھڑے تھے۔ ایک تو ہر وقت ان پر کام کا اتنا بوجھ رہتا اور اس میں بھی اضافہ ہونے پر کام بانٹنے کے بجائے لوگ اپنی اپنی مجبوریاں لےے چلے آتے ہیں۔ ایسے میں ان کا ذہنی تنائو واقعی آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہوگا۔ وہ بے خیالی میں ان کی طرف بڑھی تھی کہ اپنے پیچھے ایک مانوس سی آواز نے اسے رک کر پلٹنے پر مجبور کر دیا۔

’’کیا ڈاکٹری پڑھاتے وقت تمہاری اماں کو پتا نہیں تھا کہ تم لڑکی ذات ہو۔‘‘ اتنے دنوں بعد بلکہ ہفتوں بعد اویس کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ تھم گئی تھی مگر اویس نے اسے دیکھا ہی نہیں، وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ ڈاکٹر احتشام کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں اس لڑکی کا جملہ سن کر وہیں رک گیا۔ اس کی بات پر وہ بپھر اٹھی۔

’’ڈونٹ بی سلی اویس! ہم تو پھر بھی لڑکیاں ہیں، ہماری تو مجبوری ہے مگر تم لڑکے تو خود مختار ہو پھر بھی جانے سے انکار کر رہے ہو۔ وہ جنید بھی یہی کہہ رہا ہے کہ اسے گھر سے پرمیشن نہیں مل رہی بلکہ سچ پوچھو تو اس کے انکار کے بعد ہی ڈاکٹر احتشام کو اتنا غصہ آیا ہے کہ کسی کی بات سننے کو تیار نہیں۔‘‘ اس کی بات پر اویس کے ساتھ کھڑا لڑکا بول اٹھا۔

’’جنید جانا نہیں چاہتا، اس لےے گھر والوں کا بہانہ بنا رہا ہے بلکہ زیادہ تر لوگ گھر والوں کی آڑ میں بہانے بازیاں ہی کر رہے ہیں۔ دراصل وہاںجو ملبہ گرا ہے، اسے جب اٹھانا شروع کیا جائے گا تو وہاں سے کتنی بیماریاں نکلیں گی، اسی خوف سے یہ سارے ایکسکیوز پیش کےے جارہے ہیں۔‘‘

’’اور تمہاری مائیں بھی اسی لےے ڈر رہی ہیں، ورنہ جہاں تک سوال تم لوگوں کے لڑکی ذات ہونے کا ہے تو یہ تو کوئی دلیل نہ ہوئی۔ وہاں جو مومنوں ملبے تلے جو لڑکیاں دبی ہیں، وہ بھی جو کسی کی بیٹیاں ہیں،ان میںبہت ساری تو ایسی ہیں جن کی آواز تک کبھی کسی غیر مرد نے نہیں سنی مگر اب انہیں ان ہی کی گھروں کی چھتوں کے نیچے غیر مرد کھینچ کر نکال رہے ہیں۔ تم سب اگر انہیں وہاں سے نکال نہیں سکتیں تو کم از کم اتنا تو کرو کہ انہیں علاج کے لےے کسی میل ڈاکٹر کے پاس نہ جانا پڑے۔ تمہاری مائیں تمہیں ٹینٹ میں بھیجنے کے لےے تیار نہیں اور وہاں وہ بغیر سرو سامان کے کھلے آسمان تلے بیٹھی ہیں اور اتنی بے بس ہیں کہ اپنے پھٹے ہوئے کپڑوں پر پیوند بھی نہیں لگا سکتیں۔ اس وقت تو تم لوگوں کو اپنے والدین سے لڑ کر بھی اگر جانا پڑے تو بھی جانا چاہےے مگر مجھے لگتا ہے تم سب خود بھی جانا نہیں چاہتیں۔‘‘ اویس کہتا چلا گیا۔

’’اویس پلیز اسٹاپ دس نان سینس۔ ہم لڑکیاں تم لڑکوں سے زیادہ محنت سے دل لگا کر پڑھتی ہیں۔‘‘ وہ لڑکی جھنجلا کر بولی تو اویس کے ساتھ کھڑا لڑکا قہقہہ مار کر ہنس دیا اور سراسر چڑانے والے انداز میں کہنے لگا۔

’’ہاں تم لڑکیوں کا سارا جوش و خروش صرف پڑھنے کی حد تک محدود ہوتا ہے۔ ادھر شادی ہوئی اور ادھر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گھر بیٹھ گئیں۔‘‘

’’ہم اپنی مرضی سے گھر نہیں بیٹھتیں، ہمیں زبردستی بٹھا دیا جاتا ہے۔ مجھے معلوم ہے تم یہ سب اس دردانہ کو کہہ رہے ہو، تمہیں شرم آنی چاہےے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے۔ تمہیں معلوم تو ہے اس کے ماں باپ نے زبردستی اس کی شادی تعلیم کے دوران کر دی، ورنہ اسے تو بہت شوق تھا ڈاکٹر بننے کا لیکن اس کے شوہر نے بھی اس کا ساتھ نہیں دیا۔ میرے پاس اتنا پیسہ ہے تمہیں کیا ضرورت ہے محنت کرنے کی۔ وہ بھی کوئی تمہاری طرح تنگ ذہن مرد تھا جو عورت کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتا۔‘‘ دوسری لڑکی بھی غصے میں آتے ہوئے اچھا خاصا بگڑ کر بولی۔

’’ارے چھوڑو، عورتیں ترقی کرنا ہی نہیں چاہتیں۔ تم لوگوں کو اپنے نام کے ساتھ صرف ڈاکٹر کا لیبل لگانا ہوتا ہے۔ ڈگری ملتے ہی سب کچھ چھوڑ دیتی ہو۔ محنت تمہارے بس کی بات نہیں۔ بس پیسے والا شوہر مل جائے، وہی کافی ہے۔ ایک طرح سے تم سب صرف میڈیکل کالج کی سیٹ ضائع کرتی ہو۔‘‘ اس لڑکے کے کہنے پر ان کے بیچ باقاعدہ لڑائی چھڑ گئی تھی، تب ہی اویس کو جھنجلا کر ٹوکنا پڑا۔

’’کیا ہوگیا ہے ارشد تمہیں، یہ وقت ایک دوسرے پر تنقید کا نہیں ہے۔ ویسے بھی یہ سب ٹھیک کہہ رہی ہیں تم اس لےے نہیں سمجھ سکتے کیونکہ تمہارا پورا گھر ڈاکٹرز پہ مشتمل ہے۔ تمہارے ماں باپ ایک ہی پروفیشن میں ہیں، اس لےے ایک دوسرے کی مصروفیت کو سمجھتے ہیں، ورنہ ہائوس وائف اور یا پھر ٹیچنگ جیسی دو بجے تک کی جاب کرنے والی عورتیں یہ جان ہی نہیں سکتیں کہ ڈاکٹرز کی لائف کتنی ٹف ہوتی ہے۔ یہ تو لڑکیاں ہیں، کل کو ان کے شوہر اور سسرال والے انہیں کیا سمجھیں گے جب کہ میرے ماں باپ ابھی سے مجھ سے خائف رہنے لگے ہیں۔ حالانکہ میں تو ابھی ڈاکٹر بنا بھی نہیں۔ میرا تو ابھی وہ ٹف شیڈول شروع بھی نہیں ہوا کہ انہیں مجھ سے شکایتیں شروع ہوگئیں۔

میں نے بتایا تھا نا ہم لوگ عمرے پر جارہے ہیں۔ میں نے گھر میں بس اتنا کہا کہ ابھی ہمارے جانے میں تین دن باقی ہیں۔ ان تین دنوں کے لےے مجھے بھی اپنی ٹیم کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں چلے جانا چاہےے۔ بس یہ الفاظ میرے منہ سے نکلے کہ چاروں طرف سے مجھ پر لعن طعن شروع ہوگئی۔ ایک بار تم چلے گئے تو ہر گز تین دن میں نہیں آئو گے۔ تمہارے ساتھ تو کوئی پروگرام بنانا ہی نہیں چاہےے۔ تم تو اب اس گھر کے فرد ہی نہیں لگتے۔ ابھی ڈاکٹر بنے نہیں ہو لیکن ہم تمہاری شکل دیکھنے کو ترس گئے ہیں۔اتنا پیسہ ہے ہمارے پاس، آخر تمہیں کیا ہے اتنی جان مارنے کی؟ میرا خون کھول اٹھا ان کے اعتراضات سن کر۔ یہاں آکر ڈاکٹر احتشام کو بتایا تو وہ الگ چلانے لگے۔ عمرہ تو کبھی بھی کیا جاسکتا، زندگی میں بہت مواقع ملیں گے۔ عمرہ کیا، حج پر چلے جانا۔ اصل میں تم سب اپنے پروفیشن سے مخلص نہیں ہو۔ تم نئی نسل کے دل میں قوم کا درد نہیں ہے۔ پتھر ہو تم لوگ۔ وہ تو میرے پیچھے ہی لگ گئے۔ پتا نہیں کتنے اسٹوڈنٹس انکار کر کے گئے تھے۔ سب کا غصہ انہوں نے مجھ پر نکال دیا۔ ویسے بھی پچھلے کچھ مہینوں سے ان کا رویہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے وہ میری بے عزتی کرنے کا موقع ڈھونڈتے ہیں۔‘‘ اویس کہتا چلا گیا۔ اس کی بات پر سب ہنس دےے تھے۔ وہ سب شاید آپس میں بہت بے تکلف تھے، اس لےے بھی تھوڑی دیر پہلے ایسے لڑ رہے تھے جیسے ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں اور اب سب کچھ بھول کر گپیں ہانکنے لگے تھے۔ ہانیہ غیر ارادی طور پران کے پیچھے کھڑی ان کی گفتگو سنتی رہی جس کا رخ ڈاکٹر احتشام کی طرف گھوم گیا تھا۔

’’ڈاکٹر احتشام کا مزاج ہی ایسا ہے۔ غصے کے وقت وہ جو منہ میں آتا ہے، کہہ دیتے ہیں، ورنہ انہیں کم از کم تمہیں نہیں روکنا چاہےے۔ عمرہ تو بہت بڑی سعادت ہے اور وہ بھی رمضانوں میں۔‘‘

ایک لڑکی کے کہنے پر اویس دور کھڑے ڈاکٹر احتشام کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔

’’بات تو ڈاکٹر احتشام کی بھی درست ہے۔ عمرے پر بعد میں بھی جایا جاسکتا ہے۔ دوسرے ڈاکٹرز بے شک جارہے ہیں مگر ہمارے ملک میں تو پہلے ہی ہر چیز کی قلت ہے جو ڈاکٹر زجارہے ہیں، ان کی تعداد خود اپنے شہر کے لےے بھی ناکافی ہے تو زخمیوں سے بھرے ایک پورے علاقے کے لےے کیسے کافی ہوسکتے ہیں اور وہ بے چارے متاثرہ لوگ تو کچھ آبادی کا وہ حصہ ہیں جو ہمیشہ طبی سہولتوں سے تقریباً محروم رہے ہیں۔

تم لوگوں نے وہ سروے رپورٹ تو پڑھی ہوگی جس کے مطابق ابھی بھی پاکستان کے بہت سارے دیہاتی علاقوں کو ابتدائی نوعیت کی طبی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں جس رپورٹ کے مطابق سرکاری ملازمت کرنے والے کل سات ہزار ڈاکٹرز میں سے صرف ایک ہزار دیہات میں کام کر رہے ہیں۔ یعنی ساتواں حصہ جبکہ پاکستان کی ستر فیصد آبادی دیہات پر مشتمل ہے۔ گویا ایک حساب کے مطابق چونتیس سو افراد کے لےے صرف ایک ڈاکٹر ہے اور اس اوسط پر آگے نظر ڈالو تو ہر چیز کی شرح افسوس ناک حد تک کم ہے۔ اڑھائی ہزار لوگوں کے لےے ایک معاون طبی عملہ ہے تو تیرہ ہزار افراد کے لےے ایک طبی مرکز، اٹھارہ ہزار انسانوں کی آبادی کے لےے صرف ایک اسپتال کا بستر اور ڈیڑھ لاکھ لوگوں کے لےے صرف ایک اسپتال ہے۔ یہ تو وہ اوسط ہے جو کاغذوں میں درج ہے۔ اصل صورت حال تو یقینا اس سے بھی بری ہوگی۔ ایسے میں ڈاکٹر احتشام جیسے لوگوں کا وجود کسی نعمت سے کم نہیں۔ اپنے پرائیویٹ عملے کے ذریعے وہ سرکاری سطح سے زیادہ کام کر رہے ہیں اور پھر بھی حکومت پر نکتہ چینی کرتے نظر نہیں آتے بلکہ انہیں عوام سے شکایت ہے، ان کا کہنا ہے حکومت کو کوسنے کے بجائے آگے بڑھ کر خود عملی قدم اٹھایا جائے تو ملک کی حالت دو دن میں بدلی جاسکتی ہے لیکن پرابلم یہ ہے کہ یہ سب باتیں گھر والوں کی سمجھ میںنہیں آتیں۔

ڈیڈی سے کچھ کہنا شروع کرو تو وہ فوراً کہہ دیتے ہیں، پورا ملک بس تمہارے ہی کندھوں پر تو کھڑا ہے اور میری دادی تو نہ جانے مجھ سے اتنی بدگمان کیوں ہیں۔ وہ میرے دوستوں سے کبھی ملی نہیں لیکن انہیں میرے سارے دوست برے لگتے ہیں۔ وہ تو ڈیڈی کو بھی بھڑکا رہی تھیں۔ اویس ہم سے کہہ رہا ہے کہ ٹیم کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں جا رہا ہوں اور وہاں ہسپتال میں کہے گا کہ گھر والوں کے ساتھ عمرے پر جارہا ہوں اور حقیقتاً اپنے دوستوں کے ساتھ کہیں آوارہ گردی کرنے نکل جائے گا بلکہ ان کا تو کہنا ہے کہ یہ زلزلہ میری وجہ سے ہی آیا ہے۔‘‘

’’تمہاری وجہ سے۔‘‘ وہ سب ایک ساتھ چلُائے۔

’’ہاں یار! میری دادی مذاق نہیں سمجھتیں اور میری زبان ان کے سامنے پھسلنے سے باز نہیں آتی۔ جب گھر میںعمرے کے لےے اپلائی کیا جارہا تھا، تب جانے کیسے میرے گناہ گار منہ سے نکل گیا کہ میری کلاسز آن ہیں اور پھر میں جا کر کیا کروں گا۔ میں تو ابھی بہت ینگ ہوں جبکہ حج اور عمرہ تو بڑھاپے میں کرنے چاہئیں تاکہ سارے گناہ معاف ہوجائیں۔ بس میرا ہی کہنا تھا کہ دادی نے ڈاکٹر احتشام سے بھی طویل لیکچر دے دیا۔ اللہ کے گھر جانے کا جب موقع ملے، اسی وقت حاضری دے دینی چاہےے۔ کیا پتا کس کی کتنی زندگی ہے۔ موت تو کسی بھی عمر میں آسکتی ہے اور تمہاری تو سوچ سے ہی سراسر گناہوں کی بو آرہی ہے۔ گویا ابھی دھڑلے سے گناہ کرتے رہو، جب قبر میں پائوں لٹک رہے ہوں گے، تب ایک عمرہ یا حج کر کے سارے گناہ بخشوالوں گا۔ ارے نا ہنجار، گناہ ایسے معاف نہیں ہوتے، ان پر دل سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے، رو رو کر گڑگڑا کر معافی مانگنی پڑتی ہے، تب بھی مخصو ص قسم کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ حقوق العباد تب بھی بخشے نہیں جاتے۔

اٹھتے بیٹھتے وہ یہی کہتی رہتیں۔ اس زلزلے کے بعد انہیں یہ شکایت ہوگئی کہ اللہ نے اتنی بڑی سعادت کا موقع دیا اور تم نے کفرانِ نعمت کرتے ہوئے ایسی باتیں کیں کہ اللہ تعالیٰ نے حالات ایسے پیدا کر دےے کہ تم عمرے پر جا ہی نہ سکو۔ میں نے کہا۔ ہاں، آپ یہ زلزلہ بھی میرے کھاتے میں ڈال دیں۔‘‘

وہ اپنے مخصوص نان اسٹاپ انداز میں بولتا رہا۔ ہانیہ سمیت وہ سب اتنے مگن ہوگئے تھے کہ انہیں ڈاکٹر احتشام کے پاس چلے آنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ وہ تو تب چونکے جب ڈاکٹر احتشام کا سخت پتھریلا لہجہ سماعت سے ٹکرایا۔

’’تمہیں اپنے گھر والوں سے دلچسپی ہے نہ عبادت کرنے کا شوق اور نہ ہی ملک کو ہونے والے ناقابلِ تلافی پر افسوس۔ تم ایک نہایت خود غرض، بے حس اور غیر ذمہ دار لڑکے ہو۔ کالج میں ٹاپ کرلینے یا محض ذہین ہونے سے کوئی اچھا ڈاکٹر نہیں بن جاتا۔ اچھا ڈاکٹر بننے کے لےے پہلے اچھا انسان بننا ضروری ہے۔ اور اچھا انسان بننے کے لےے جن اخلاقی خصوصیات کی ضرورت ہوتی ہے، تم ان سے قطعی طور پر محروم ہو، تمہیں تو۔۔۔‘‘ وہ نہایت درشت لہجے میں آگے بھی کچھ کہنا چاہ رہے تھے کہ یک دم لب بھینچ کر انہوں نے خود کو روک لیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے چلے گئے جب کہ وہ سب اپنی جگہ ششدر رہ گئے تھے۔

ہانیہ کے لےے ان کا یہ رویہ بالکل نیا تھا لیکن شاید وہ اپنے اسٹوڈنٹس کے ساتھ اتنے ہی سخت ہوں گے مگر وہاں موجود لوگوں کے چہروں پر پھیلی شدید بے یقینی اس کی سوچ کی نفی کر رہی تھی۔ کوریڈور میں کھڑے نفوس کی نظریں اویس پر جمی تھیں جو خود شاک کے عالم میں کھڑا اس جگہ کو دیکھ رہا تھا جہاں سے ڈاکٹر احتشام ابھی ابھی گئے تھے۔ اچانک وہ پلٹا اور لوگوں کو چیرتا تیزی سے باہر نکل گیا۔ اتنے لوگوں کے بیچ جس طرح ڈاکٹر احتشام اس کے ساتھ پیش آئے تھے اور جس قسم کے الفاظ انہوں نے استعمال کےے تھے، وہ سب اسے تذلیل کے شدید احساسات میں مبتلا کر گئے تھے۔ ہانیہ کو اپنے اندر ایک خالی پن کا احساس ہوا۔ اس کا دل چاہا، وہ اس کے پیچھے جا کر اسے روک لے مگر وہ تو خود بت بنی کھڑی تھی۔ البتہ اویس کے ساتھ کھڑے دوسرے اسٹوڈنٹس جیسے ہوش میں آتے ہوئے بولے۔

’’یہ ڈاکٹر احتشام کا رویُہ اویس کے ساتھ اتنا انسلٹنگ کیوں ہوگیا ہے۔ وہ پہلے تو ایسے نہیں تھے۔ آخر بات کیا ہے۔‘‘ ان میں سے ایک لڑکی حیران سی بولی۔

’’میں تو پہلے ہی کہہ رہی تھی ڈاکٹر احتشام کا موڈ بہت خراب ہے۔ میری تو ہمت نہیں ہورہی ، میں انہیں جا کر کیسے کہوں کہ مجھے بھی گھر والے جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔‘‘ دوسری لڑکی بھی مزید نروس ہوتے ہوئے انگلیاں مروڑنے لگی تو ارشد بڑی بدتمیزی سے ترخ کر بولا۔

’’ڈاکٹر احتشام سب کو بے حس کہہ کر چلے گئے اور جو وہ کر رہے ہیں، کیا وہ بے حسی نہیں۔ یہاں سب اپنے فیصلوں میں خود مختار نہیں ہیں۔ بغیر کسی کی مجبوری سمجھے وہ چاہتے ہیں کہ ہر کوئی ان کی طرح گھر والوں کو بھول بھال کر بس کام میں مصرو ف ہوجائے۔‘‘

’’ہاں، خود تو ان کی نظر میں فیملی لائف کی کوئی ویلیو نہیں۔ کیا تم لوگوں کومعلوم ہے، جب ڈاکٹر احتشام کی اپنی بیوی پریگننٹ تھیں، وہ تب بھی شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ اس بیچ ان کے سسر کا ہارٹ فیل ہوگیا جن پر مسز احتشام کی حالت اتنی بگڑی کہ وہ مرتے مرتے بچی ہیں۔‘‘ ہانیہ بری طرح چونک کر انہیں دیکھنے لگی جبکہ ارشد لاپروائی سے بولا۔

’ہاں، معلوم ہے مسز احتشام کا کیس، میری مام کے پاس ہی تھا۔ ڈاکٹر احتشام کے شہر سے واپس آنے پر ان کی بیوی نے پورے ہسپتال کے سامنے انہیں جو سنایا تھا اسے سننے کے بعد لوگوں کو لگ رہاتھا کہ اب ان کے بیچ علیحدگی ہوجائے گی۔ ڈاکٹر احتشام اویس سے کہہ رہے تھے۔ اچھا ڈاکٹر ہونے کے لےے اچھا انسان ہونا ضروری ہے۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ کیا یہ انسانیت ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ ان کی بیوی کی حالت بہت نازک ہے اور ان کے سسر بھی اتنے بیمار ہیں کہ کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ وہ بیوی کو اکیلا چھوڑ کر شہر سے باہر چلے گئے۔‘‘

ان سب کو ڈاکٹر احتشام کا رویہ بہت برا لگا تھا۔ تب ہی وہ بڑے جارحانہ انداز میں ان کی گھریلو زندگی پر تبصرہ کر رہے تھے۔ ہانیہ کے لےے وہاں کھڑے رہنا مشکل ہوگیا۔ اسے روزے میں خون کو عطیہ دے کر بھی اتنی کمزوری نہیں ہوئی تھی، جتنا ان کی باتیں سن کر وہ نڈھال ہوگئی تھی۔ وہ بمشکل اپنی ہمتیں مجتمع کر کے خود کو وہاں سے گھسیٹ لانے میں کامیاب ہوئی اور گھر آتے ہی نقاہت سے چور ہو کر صوفے پر ڈھے گئی۔

مما فون پر کسی سے محوِ گفتگو تھیں۔ اس پر نظر پڑتے ہی وہ ریسیور کان سے ہٹا کر اس پر چلانے لگیں۔

’’کتنی پیلی ہورہی ہو تم، میں نے کہا تھا تم اتنی ویک ہو، تمہیں اس نیکی کی کوئی ضرورت نہیں مگر تم میری سنتی کہاں ہو۔ اپنے باپ پر جو گئی ہو۔‘‘ کوئی اور وقت ہوتا تو اسے مما کا فون کے دوران اسے جھڑکنا بہت ناگوار گزرتا مگراس وقت وہ بے خیالی میں انہیں دیکھتی چلی گئی۔ آس کی مما سختی پر مبنی ایک تلخ پیراہن میں لپٹی ہوئی تھیں۔وہ اس کی تکلیف پر تڑپتی بھی تھیں تو ایسے بے زار انداز میں جیسے وہ اس کی اذیت کو نہیں بلکہ اس کے وجود کو اپنی نظروںسے دور کرنا چاہتی ہوں۔ کیا یہ سب ڈاکٹر احتشام کے ساتھ گزاری زندگی کے باعث تھا یا وہ شروع سے ہی ایسی تھیں۔ وہ سوچنے پر مجبور ہوگئی جب کہ اسے خاموش دیکھ کر وہ شاید پریشان ہوگئی تھیں اور اس کے قریب آنے کے لےے اٹھ رہی تھیں کہ دوسری طرف موجود خاتون نے شاید ان کے چلُانے کی وجہ دریافت کی تھی جس پر مما انہیں اس کے خون کے عطیہ کی تفصیل بتانے لگیں۔

تھوڑی دیر پہلے اسے مما سے جو ہمدردی ہورہی تھی، وہ پھر بے زاری میں تبدیل ہونے لگی۔ وہ بھلے ہی اپنی اولاد کی انسانیت اور جذبہ قربانی پر فخر کر رہی ہوں گی مگر ہانیہ کو اس طرح ڈھنڈورا پیٹنے پر اپنی نیکی ضائع ہوتی لگ رہی تھی۔ وہ بے دلی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف جانے لگی، جب ا س نے مما کو کہتے سنا۔

’’آج کل ایسی لڑکیاں ہوتی کہاں ہیں جو اپنا بلڈ ڈونیٹ کرنے چل پڑیں۔ وہ تو چہرے کی شادابی اور کمزور ی کے ڈر سے ایسا سوچ بھی نہیں سکتیں، لیکن ہانیہ تو ہیرا ہے ہیرا۔ جذبۂ ہمدردی تو کوٹ کوٹ کر بھرا ہے اس میں، اسی لےے میں آپ کے بتائے رشتے کے حق میں نہیں۔ وہ لڑکا تو پائلٹ ہے، ہر وقت فلائٹ پر رہے گااور ہانیہ بس سسرال والوں کی خدمت کرتی رہے گی۔ گھر میں بھلے ہی نوکر موجود ہوں مگر سسرال والے بلا وجہ کے کام لڑکی کے سر ڈال دیتے ہیں اور ہانیہ میں اتنی تیزی نہیں کہ ان سب باتوں کو سمجھ سکے، وہ تو پھنس کر رہ جائے گی۔

ارے چھوڑیں، اچھے لوگ۔ بہت دیکھے ہیں میں نے ایسے اچھے لوگ۔ جس گھر میں اتنے لوگ ہوں، وہ کبھی اچھے ہو ہی نہیں سکتے۔ سب ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے چکر میں رہتے ہیں اور پھر ہانیہ کا مزا ج میں جانتی ہوں۔ وہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں نہیں رہ سکتی، بہت تنہائی پسند ہے۔ وہ تو مجھ سے بھی زیادہ باتیں نہیں کرتی۔‘‘ مما کے جھنجلائے ہوئے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ دوسری طرف موجود خاتون بہت دیر سے اصرار کر رہی ہوں گی۔ ہانیہ کچھ دیر ان کی شکل دیکھتی رہی پھر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی مگر شام تک ان کا جملہ اس کی سماعت سے ٹکراتا رہا۔

’’ہانیہ کا مزاج میں جانتی ہوں۔‘‘

شام میں افطاری کے ٹائم پر پاپا نے گھر آکر ان دونوں کو حیران کر دیا ۔ وہ اتنی مصروفیت کے بیچ گھر آکر روزہ کھولیں گے۔ مما نے انہیں دیکھتے ہی سوالات کی بوچھاڑ کر دی مگر وہ معمول سے زیادہ سنجیدہ لگ رہے تھے، شاید تھکن کی وجہ سے۔ ہانیہ انتظار کرنے لگی کہ مما کی بات ختم ہو تو وہ انہیں بتائے کہ وہ بھی متاثرہ لوگوں کے لےے کچھ کرنا چاہتی ہے لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتی ڈاکٹر احتشام، مما کے سوالوں کو نظر اندازکر کے اسے بغور دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے۔

’’تم صبح ہاسپٹل کیوں آئی تھیں؟‘‘

’’آپ نے مجھے دیکھا تھا۔‘‘ ہانیہ نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔

’’میں نے جو پوچھا ہے، اس کا جواب دو۔‘‘ ہانیہ ان کے اتنی سختی سے کہنے پر ٹھٹک کر انہیں دیکھنے لگی لیکن مما نے دھیان دےے بغیر اس کی شکایت لگانے والے انداز میں کہا۔

’’یہ خون دینے گئی تھی۔ دیکھیں نا، یہ آل ریڈی اتنی ویک ہے، اس پر آپ کے ہسپتال والوں نے سارا خون نکال لیا۔ گھر آئی تو آتے ہی صوفے پر۔۔۔‘‘

’’اوہ شٹ اپ۔ کتنی جاہلوں جیسی باتیں کرتی ہو تم۔ ہومیو گلوبن چیک کر نے کے بعد بلڈ لیا جاتا ہے اور صرف ایک حد تک لیا جاتا ہے۔ جسم کا سارا خون نکال کر کسی کو قتل نہیں کرنا ہوتا۔‘‘ ڈاکٹر احتشام چمچہ پلیٹ میں پٹخ کر زور سے چلائے۔ ان کے شدید غصے پر ہانیہ حیرانی سے انہیں دیکھے گئی۔ حیرت تو مما کو بھی ہوئی تھی مگر وہ جلد ہی اپنی جون میں آتے ہوے تنک کر بولیں۔

’’مجھے معلوم ہے جن کا ہومیو گلوبن لو ہوتا ہے، ان کا بلڈ لینے سے ڈاکٹرز خود انکار کر دیتے ہیں، مگر آج کل اتنی ایمان داری ہے کہاں۔ جو ڈونر مل رہا ہو، ڈاکٹرز اس پر جھپٹ پڑتے ہیں۔ آپ کے ہسپتال میں ہانیہ کو کوئی جانتا بھی نہیں جو کچھ لحاظ کرلیں اور آپ کے پاس اتنی فرصت بھی نہیں کہ ہانیہ کا کسی سے تعارف کرادیں۔ آپ تو گھر صرف اس لےے آتے ہیں کہ باہر کے لوگوں کا غصہ ہم پر نکال سکیں۔

ان کے بیچ ایک لا حاصل بحث کا آغاز ہوگیا تھا۔ پاپا کو کس بات پر اتنا غصہ آرہا تھا، وہ سوال تو کسی پس منظر میں چلا گیا تھا۔ اس وقت تو وہ ہزار دفعہ کے کہے گلے شکوے دہرا رہے تھے۔ البتہ مما کی شکایتوں میں ایک شکایت ہانیہ کے لےے بالکل نئی تھی جسے سن کر وہ چونک اٹھی تھی۔

’’آپ کو گھر میں پہلے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی اور اب تو آپ کو ہانیہ کا وجود ہی کھٹکنے لگا ہے۔ بس جلد سے جلد اس کی شادی کر کے گھر سے نکال دینا چاہتے ہیں آپ اسے۔‘‘

ہانیہ نے بے اختیار ڈاکٹر احتشام کی طرف دیکھا اور اسے واضح طور پر محسوس ہوا کہ پاپا نے خود کو کچھ کہنے سے بمشکل روکا ہے جب کہ مما انہیں لاجواب ہوتا دیکھ کر مزید شیر ہوگئیں۔

’’پہلے تو نجمہ سے جا کر صائم کے رشتے کی بات کر ڈالی۔ آپ کی بہن پہلے ہی بیٹے کی ماں ہونے پر اتراتی پھرتی تھی، اس آفر کے بعد زمین پر پائوں رکھ کر چلنا بھی بھول گئی اور وہاں سے کرارا سا انکار سن کر بھی اپنی بہن کی طرف سے دل برا نہیں ہوا، الٹا مجھ پر چلانے لگے کہ ساری زندگی سسرال سے بنا کر نہیں رکھی، ورنہ آج ہانیہ کی شادی آرام سے اس گھر میں ہوجاتی۔ ارے ایسی کون سی عمر نکل رہی ہے آپ کی بیٹی کی جو آپ اسے رخصت کرنے کے لےے اتنے اتاولے ہورہے ہیں۔ میں آپ سے کہے دیتی ہوں، ہانیہ کے معاملے میں، میں آپ کا کوئی غلط فیصلہ قبول نہیں کروں گی۔ میں نے آپ کے دوست وحید کے اس پائلٹ بھانجے کے لےے بھی صاف انکار کر دیا ہے۔‘‘

’’تم بس ایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتوں کو جواز بنا کر انکار کرتی رہو گی اور ایک دن بیٹی ہاتھ سے نکل جائے گی۔‘‘

ڈاکٹر احتشام نے دانت پیسے۔ ہانیہ ششدر سی ان کی شکل دیکھتی رہ گئی۔ مما نے اپنے چلانے کے دوران ان کے جملے پر دھیان ہی نہیں دیا اور شاید ڈاکٹر احتشام بھی مزید کچھ کہنا نہیں چاہتے تھے، تب ہی ڈائننگ روم سے نکل گئے۔

ض ض ض

وہ ساری رات ہانیہ نے جاگ کر گزاری تھی۔ آج اس پر کئی انکشاف ہوئے تھے اور وہ تمام کے تمام انکشافات اس کے لےے نہایت تکلیف دہ تھے۔ سب سے پہلے اسے اویس کے ساتھ پاپا کا ہتک آمیز رویہ دیکھ کر دھچکا لگا تھا۔ اس کے پسندیدہ لوگوں کی فہرست ہمیشہ سے بہت مختصر رہی تھی۔ اسی مختصر سی فہرست میں اویس بھی شامل تھامگر پاپا جس طرح اس کے ساتھ پیش آئے تھے، اس پر ہانیہ پر پہلی بار یہ انکشاف ہوا تھا کہ وہ اس کے لےے پسندیدگی کے مقام سے بہت آگے کسی بہت ’’اہم‘‘ لوگوں کی قطار میں شامل تھا بلکہ وہ قطار اس کے بعد شروع ہوتی تھی اور ہانیہ کے لےے یہ حقیقت کوئی بہت خوش گوار نہیں تھی۔ کسی کو پانے کی خواہش کرنا اور اس خواہش کے پیچھے اپنا سارا سکون برباد کر دینا اس کے نزدیک زندگی کو مشکل بنا دینے والے خوامخواہ کے چونچلے تھے کیونکہ وہ ان میں سے تھی جو اپنے محدود شوق پورے کرنے کی مجاز نہیں تھی۔ کجا کہ یہ اتنا بڑا فیصلہ۔

وہ ابھی اس شاک سے باہر بھی نہیں آئی تھی کہ ان اسٹوڈنٹس کی گفتگو نے اس کے وجود پر آرے چلا دےے تھے۔ اپنے ماں باپ کی گھریلو زندگی کو اس طرح ڈسکس ہوتا دیکھنا آسان نہیں تھا، اس پر ان لوگوں کے لہجے سے چھلکتی حقارت برداشت کرنا اس کے بس سے باہر تھا۔ اسے تو گھر کے ملازمین کا اپنے والدین پر تبصرہ کرنا ناگوار گزرتا تھا تو بھلا بالکل انجان لوگوں کا تمسخرانہ انداز وہ کیسے جھیل لیتی اور سب سے بڑھ کر پاپا کی اپنی بارے میں رائے جان کر جو تکلیف اسے پہنچی تھی، اس کے لےے تو دھچکے کا لفظ چھوٹا پڑ گیا تھا۔

اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ابھی اور اسی وقت پاپا کو جگا کر پوچھے کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا مگر وہ بھلا ان کے جملے کی وضاحت کیا مانگتی، وہ تو مما سے بھی یہ نہ پوچھ سکی تھی کہ انہوں نے اسے ’’تنہائی پسند‘‘ کیسے کہہ دیا۔ پاپا تو کبھی گھر میں رہے ہی نہیں۔ انہوں نے اس کے ساتھ زندگی کا بہت مختصر سا وقت گزارا تھا، اس لےے وہ اس کے بارے میں صحیح رائے نہیں دے سکتے تھے مگر مما تو اس کی ماں تھیں ارو وہ کوئی ورکنگ لیڈی نہیں تھیں جو اسے وقت نہ دے سکی ہوں، وہ تو اس کے پل پل کا حساب رکھتی تھیں۔ اتنی باخبر ہونے کے باوجود انہوں نے اتنی بے خبری سے اس کی عادت کے بارے میں اندازے کیسے لگالےے اورا س پر یہ دعوا ’’ہانیہ کا مزاج میںجانتی ہوں۔‘‘

ہانیہ کے دل میں سوالوں کی طویل فہرست تھی جو وہ ان سے پوچھنا چاہتی تھی مگر ہمیشہ کی طرح اس کی زبان پر قفل پڑے رہے۔ دو دن بعد ڈاکٹر احتشام بھی اپنے عملے کے ساتھ متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ ہوگئے۔ ٹی وی پر اب بھی لوگوں کی کسمپرسی کا حال دکھایا جارہا تھا، مگر ہانیہ پر ایک عجیب سی بے حسی طاری ہوگئی تھی یا تو وہ چینل ہی چینج کرلیتی یا اگر مما دیکھ بھی رہی ہوتیں، تب بھی پہلے کی طرح اس کے دل میں ان کی مدد کرنے کا جذبہ سر نہیں اٹھاتا تھا۔مما البتہ افسوس کا اظہار کرتی رہتیں۔ وہ پاپا کے سامنے جتنا ان سے لڑتی تھیں، ان کے پیچھے ان کے لےے اتنا ہی فکر مند ہوتیں۔

ان علاقوںمیں کہیں کہیں اب بھی زلزلے کے ہلکے ہلکے جھٹکے محسوس کےے جارہے تھے اور انہیں علم ہی نہیں تھا کہ پاپا وہاں کون سے کیمپ میں تھے۔ انہوں نے اپنی خیریت کی کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔ مما خود ہی فون کر کے پوچھ لیتی تھیں مگر کل رات سے لائن بھی نہیں مل رہی تھی۔ مما کی بے تحاشا پریشانی دیکھنے کے باوجود ہانیہ نے انہیں تسلی کا ایک لفظ نہیں کہا تھا بلکہ وہ خود ہی اس کی بے رخی محسوس کےے بغیر کارڈلیس اسے تھماتے ہوئے بولیں۔

’’لائن تو مل جاتی ہے لیکن وہ کال اٹینڈ نہیں کر رہے۔ تم ٹرائی کرو، جب فون اٹھائیں تو مجھے بلالینا۔‘‘

’’بار بار ٹرائی کرنے کی کیا ضرورت ہے، موبائل پر مس کال آرہی ہوں گی، اگر وہ گھر کا نمبر دیکھ کر بھی فون نہیں اٹھا رہے تو اس کا مطلب ہے وہ ہم سے بات نہیں کرنا چاہتے۔‘‘ ہانیہ نے تلخی سے کہتے ہوئے کارڈلیس ہاتھ میں تھام لیا۔ وہ روزہ کھولنے کے بعد کسلمندی سے صوفے پر ہی پڑی تھی۔ مجبوراً بیٹھ کر نمبر ملانے لگی۔

’’کیا پتا وہ کسی وجہ سے بات نہ کرپارہے ہوں، وہاں بہت بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ ان کے عملے کے کچھ لوگ بھی واپس آگئے ہیں۔ پتا نہیں ان کی طبیعت ٹھیک ہے یا نہیں۔ وہ سحری اور افطاری بھی ٹھیک طرح سے کرتے ہیں بھی یا نہیں۔‘‘

وہ ہراساں سی کچن میں چلی گئیں اور حسبِ عادت اپنا اضطراب نوکروں پر نکالنے لگیں جو کئی چیزیں تیار کر کے فریز کر رہے تھے۔ ہانیہ بے دلی سے مسلسل بجتی گھنٹی سنتی رہی اور جس وقت وہ فون بند کرنے والی تھی، تب ہی کسی نے فون اٹھالیا لیکن وہ آواز ڈاکٹر احتشام کی نہیں تھی۔

’’ہیلو۔‘‘ ہانیہ نے یہ آواز فون پر کبھی سنی نہیں تھی مگر وہ یہ آواز پہچاننے میں غلطی بھی نہیں کر سکتی تھی، اسی لےے پوچھنے لگی۔

’’مے آئی نو ہو از دس۔‘‘

’’مس آپ نے ڈاکٹر احتشام کے موبائل پر فون کیا ہے مگر وہ اپنا موبائل کیمپ میں بھول گئے ہیں۔ موبائل بہت دیر سے بج رہا تھا، جب میں نے احتشام ہوم لکھا دیکھا تو کال اٹینڈ کرلی۔ وہ دو تین گھنٹے میں آئیں گے تو آپ کو فون کرلیں گے۔‘‘

’’اویس! تم عمرہ پر جانے کے بجائے وہاں چلے گئے۔‘‘ اس کی آواز پہچان لینے کے بعد جب کوئی شک نہ رہا تو بڑے بے ساختہ سے انداز میں بولی۔

’’آپ کون بول رہی ہیں۔‘‘ وہ یقینا چونک گیا تھا۔ ہانیہ اپنا نام بتاتے بتاتے ایک دم رک گئی کہ وہ کون سا اس کا نام جانتا ہے لیکن اس خیال نے اس کے اعتماد کو کم نہیں کیا بلکہ وہ بڑی برجستگی سے بولی۔

’’کمال ہے، خود تو میری یادداشت کا امتحان لے رہے تھے اور اب میری آواز بھی یاد نہیں۔‘‘ وہ شاید حیرت کی زیادتی سے گنگ رہ گیا تھا، تب ہی کافی دیربعد بولا۔

’’تم۔۔۔ ڈاکٹر احتشام کے گھر سے بول رہی ہو۔‘‘

’’نہیں، اپنے گھر سے۔ میں ڈاکٹر احتشام کی بیٹی ہوں۔‘‘

’’کیا۔۔۔؟‘‘ اویس تقریباً چیخ پڑا۔

’’ہاں، کیوں۔۔۔ کیا ہوا؟‘‘ ہانیہ تعجب سے بولی۔

’’لیکن ان کی تو۔۔۔ ایک ہی بیٹی ہے نا۔۔ وہ کیا نام ہے اس کا ۔۔۔ہانیہ۔‘‘

’’تو میں نے کب کہا کہ میرے دس بہن بھائی ہیں یا میرا نام ہانیہ نہیں ہے۔‘‘ وہ اس کی عجیب وغریب منطق پر مسکرا دی پھر ایک دم چونکتے ہوئے بولی۔

’’لیکن تم وہاں کیوں چلے گئے، وہاں پہلے ہی اتنے سارے ڈاکٹرز ہیں۔ تمہیں ڈاکٹر احتشام کی بات پر اتنی بڑی سعادت کو گنوانا نہیں چاہےے تھا، ان کے کہنے پر تم۔۔‘‘

’’میں کسی کے کہنے پر یہاں نہیں آیا، یہ میرا اپنا فیصلہ ہے اور تم ڈاکٹر احتشام کی بیٹی ہو کر ایسی بات کر رہی ہو۔‘‘ اس کا لہجہ ایک دم بدل گیا تھا بلکہ شاید ہانیہ کے منہ سے یہ سن کر اسے اتنی حیرت ہوئی تھی کہ اسے خیال بھی نہیں آیا کہ وہ اس کے عمرہ پر جانے والی بات کیسے جانتی ہے۔

’’اس ٹاپک پر میں اپنے گھر والوں سے بحث کرتے کرتے تھک گیا ہوں، اب تو میں اپنے گھر کا نمبر دکھ کر فون بھی نہیں اٹھاتا۔ ان کی بس ایک ہی رٹ ہے کہ وہاں اتنے ڈاکٹرز ہیں۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ یہاں جتنے بھی ڈاکٹرز اور نرسیں ہوں، سب کم ہیں بلکہ یہاں موجود تمام افراد چاہے وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں، سب کے سب اتنے بزی ہیں کہ چار پانچ گھنٹوں سے زیادہ کوئی سو نہیں پاتا۔ لوگوں کے پاس ایک کپ چائے پینے کا وقت تک نہیں ہے۔ اگر میں اس وقت یہاں کیمپ میں موجود ہوں تو صرف اس لےے کہ میرے سینئر ڈاکٹر، ڈاکٹر معین مجھے زبردستی بٹھا کر گئے ہیں۔ انہوںنے سختی سے کہا ہے کہ کم از کم تین گھنٹے سے پہلے کیمپ سے مت نکلنا لیکن اتنی تھکن کے باوجود مجھے سلیپنگ پلز لینے کے بعد بھی ایک منٹ کے لےے نیند نہیں آئی۔ آنکھ بند کرتا ہوں تو زخمی لوگوں کے کٹے ہوئے ہاتھ پائوں آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں اور یہ سب صرف میرے ساتھ نہیں ہورہا۔ ہماری پوری ٹیم کے کتنے ہی لوگ یہاں آکر خود ہی بیمار پڑ گئے ہیں جو اسٹوڈنٹس ہیں، ان میں تو چلو تجربے کی کمی ہے لیکن بڑے بڑے ایکسپیرنسڈ ڈاکٹرز کی ہمت بھی جواب دینے لگی ہے۔‘‘

اویس سے بولا نہیں جارہا تھا۔ کل پورا دن اور پوری رات کام کرنے کے بعد ڈاکٹر معین نے اس کی حالت کے پیش نظر اسے لے جانے سے انکار کر دیا تھا مگر اکیلے کمرے میں بیٹھ کر بھی اسے آرام نہیں آیا تھا بلکہ ہانیہ سے یہ سب کچھ وہ بلا ارادہ شدید ڈپریشن کی وجہ سے ہی کہہ رہا تھا۔ خود ہانیہ بھی سانس روکے اس کی بات سن رہی تھی۔ اتنے دنوں سے بے حسی کا جو خول اس پر چڑھا تھا،و ہ خود بخود چٹخنے لگا۔ اویس لڑکھڑاتی آواز میں کہہ رہا تھا۔

’’تم لوگ بجائے اس کے کہ ہماری ہمت بڑھائو، ہمیں حوصلہ دو، تم لوگ فون کرتے ہو تو صرف یہ پوچھنے کے لےے اور کتنا ٹائم لگے گا وہاں، گھر کب آئو گے۔ میری دادی سعودیہ سے فون کر کے کہہ رہی تھیں کہ ابھی بھی وقت ہے، کوئی سی فلائٹ لے کر اللہ کے گھر حاضری دینے آجائو۔ میرا تو دل چاہ رہا ہے سیدھا اللہ کے پاس چلا جائوں۔ تم نے کیا پوچھنے کے لےے فون کیا ہے؟ یہ کہ ڈاکٹر احتشام نے روزہ کھول لیا ہے یا نہیں۔ انہیں وہاں کوئی تکلیف تو نہیں۔ اگر تم واقعی ان سے محبت کرتی ہو تو پلیز ایسے سوال مت کرو۔ ہم یہاں لوگوں کو جن اذیتوں سے گزرتا دیکھ رہے ہیں،اس کے بعد اپنے گھر والوں کو اپنے کھانے پینے کے لےے پریشان ہوتا دیکھ کر سخت افسوس ہوتا ہے۔ اگر تمہیں سچ مچ ان کی فکر ہے تو ان کے لےے دعا کرو کہ اللہ انہیں ہمت دے ان حالات سے نبٹنے کی۔ دعا میں بہت طاقت ہوتی ہے۔ تم لوگوں کے پاس وقت ہے۔ گھر میں بیٹھ کر صرف اپنے گھر والوں کے لےے ہولنے کے بجائے اپنے اوقات کار کو کسی با مقصد کام میں خرچ کرو۔ اللہ کے سامنے سجدے میں گر کر سب کے لےے سکون مانگو۔ اپنے لےے بھی تاکہ تمہارا نمبر دیکھ کر تمہارے پاپا کو فون نہیں کاٹنا پڑے بلکہ تم سے بات کر کے انہیں ایک نئی طاقت ملے، ان کا اضطراب کم ہو۔‘‘ اویس کو اس کے گھر والے بار بار فون کر رہے تھے، وہ لاشعوری طو رپر ہانیہ سے وہ سب کہہ گیا تھا جو اس کے اپنے گھر والے سننے کے لےے بھی تیار نہیں تھے۔ ہانیہ اس کی باتوں پر بے آواز روئے جارہی تھی۔ دوسری طرف اس کی خاموشی محسوس کر کے اویس نے فون بند کر دیا۔ شاید وہ اور کچھ کہنے کے قابل نہیں رہا تھا۔

ہر بار مما کا کوئی نہ کوئی رویہ اسے تکلیف پہنچاتا اور وہ ان کی طرف سے بے گانہ ہو کر اپنی ذات میں سمٹ جاتی لیکن کچھ ہی دنوں میں کوئی ایسی بات ہوجاتی جو اس کی سوچوں کو مثبت رخ میں تبدیل کر دیتی۔ اس وقت بھی اویس نے جو کچھ کہا تھا، اسے سننے کے بعد اس کی ذات پر چڑھا خول ٹوٹ کر چکنا چورہوگیا تھا۔ حالانکہ اس نے محض مما کے کہنے پر فون ملایا تھا مگر اویس کی باتیں سننے کے بعد اسے یہی محسوس ہوا تھا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر کڑھنے کے بجائے زندگی کو بامقصد کام میں صرف کرنا چاہےے۔

وہ فطرتاً نرم دل تھی۔ مما، پاپا سے اختلافات کی صورت میں وہ ان سے ناراضی کا اظہار نہیں کر سکتی تھی۔ چنانچہ خود سے خفا ہوجاتی، اپنے آپ سے انتقام لینے کے لےے وہ پڑھائی بھی نہیں کرتی اور اپنے وقت کو بے مصرف ضائع کرتے ہوئے ٹی وی کے چینلز چینج کرتی رہتی مگر آج پہلی بار کسی نے اس کی شخصیت میں پڑی گرہ کو کھول دیا تھا۔ گوکہ ان متاثرہ لوگوں کی حالت دیکھ کر اس کا دل چاہا تھا کہ وہ ان کے لےے کچھ کرے مگر پاپا سے اس موضوع پر کوئی بات نہ ہوسکی، تب وہ بے زاری سے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئی کہ میرے اختیار میں ہے ہی کیا۔

اختیارات محدود ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ انسان بے حسی کی چادر اوڑھ لے اور اپنے اندر سے نیکی کی خواہش کو بھی نکال پھینکے۔ نیکیاں کمانے کی توفیق بھی اللہ دیتا ہے، وہی راہ سجھاتا ہے اور وہی اسباب بھی پیدا کرتا ہے تو جب تک کسی سمت کا تعین نہ ہو، سوال بھی اسی سے کرنا چاہےے اور تعین ہوجانے کے بعد بھی ثابت قدم رہنے کی دعا بھی اسی سے مانگنی چاہےے۔

ہانیہ آنسو پونچھتی اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔ پہلی بار وہ فرض کے علاوہ کوئی نفلی نماز پڑھنے کھڑی ہوئی تھی۔ حالانکہ تراویح کا وقت ہورہا تھا مگر اسے تراویح پڑھنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور نہ ہی گھر میں دینی کتب کا ایسا کوئی ذخیرہ تھا جس سے وہ مدد لے لیتی۔ ویسے بھی اس کا بہت طویل قیام کا ارادہ نہیں تھا۔ عادت نہ ہونے کے باعث وہ جلد تھک بھی گئی مگر پہلی بار اپنی بجائے دوسروں کے لےے مانگتے ہوئے اسے اپنا آپ بہت اچھا لگا۔

اس کی دعائیں تو بہت محدود تھیں، بس ایگزام میں پاس ہوجائوں یا فلاں اسائنمنٹ جمع ہوجائے، اسی لےے ایسے لوگوں کی صحت و سلامتی مانگتے وقت، جنہیں وہ جانتی بھی نہیں تھی، اس کی آنکھیں کتنی بار چھلک پڑی تھیں۔ وہ کوئی مذہب سے بالکل بے گانہ فیشن میں پڑی لڑکی نہیں تھی پھر بھی اسے پہلی بار نماز میں اتنا سکون ملا تھا اور اس نے بہت خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کی۔

ض ض ض

اسے دوستوں کو گھر بلانے یا ان کے گھر وغیرہ جانے کی بھلے ہی آزادی نہیں تھی مگر مما نے گھر میں اس کے کسی اقدام پر کوئی روک ٹوک نہیں لگائی تھی، اس لےے اس کے مختلف مذہبی اور دینی کتابیں منگوانے پر مما نے حیرت تو ظاہر کی مگر پابندی نہیں لگائی۔ البتہ اسے اتنی دلچسپی سے ان کتابوں کا مطالعہ کرتا دیکھ کر وہ کبھی کبھی ناگواری سے کہہ دیتیں۔

’’تمام کتابوں میں ایک سی باتیں ہوتی ہیں پھر کیوں بار بار الگ الگ منگوا کر پڑھتی ہو۔‘‘ کچھ مہینے میں ہی اس کی ذہنی رو اتنی ضرور بدل گئی تھی کہ مما کا ٹوکنا اسے بے جا لگتا مگر برا نہیں لگتا۔

’’مجھے تو ہر بار پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسے میرے سامنے علم کا ایک آسمان ہے۔ جتنا اوپر جاتی ہوں وہ اور دور نظر آتا ہے۔‘‘وہ کمال سکون سے ان کی بات کا جواب دیتی۔ بدتمیز تو وہ پہلے بھی نہیں تھی لیکن پہلے وہ ان کی روک ٹوک پر تلخ ضرور ہوتی تھی اور گھنٹوں کڑھتی تھی۔ اب بھی کبھی کبھی کوئی بات اسے مضطرب کر دیتی مگر وہ کچھ دیر میں اپنی کیفیت پر قابو پالیتی۔

کالج جاتے وقت جب پہلی بار اس نے بڑی سی چادر اوڑھی تو مما ناشتے کی ٹیبل پر ہی چلانے لگیں۔

’’یہ تم کیوں اٹھارویں صدی کی ہیروئن بنتی جارہی ہو۔ بجائے اس کے کہ آج کل کی لڑکیوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکو تم بالکل ماسیوں جیسا حلیہ اپنا رہی ہو۔‘‘

’’اٹھارویں صدی کے لوگوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنے ماحول اور رواج سے ہٹ کر کوئی قدم اٹھاسکیں۔ میں آج کل کی لڑکی ہوں، اسی لےے میں جانتی ہوں کہ صحیح اور غلط کا دارومدار اس بات پر نہیں ہے کہ اکثریت کیا کر رہی ہے۔ ٹرینڈ کو فالو کرنا تو ایک طرح کی بزدلی ہے، ہمت تو ٹرینڈ بدلنے والوں میں ہوتی ہے۔ اگر میرا حلیہ ماسیوں جیسا ہے تو مجھے ان لڑکیوں کا حلیہ ریڈ ایریاز کی خواتین جیسا لگتا ہے جو دعوتِ گناہ دیتی پھر رہی ہیں، اس لےے مجھے ان سے سیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں مجھ سے سیکھنا چاہےے۔‘‘ اس کے پرسکون انداز پر مما بڑبڑاتی رہیں۔

’’ٹھوکر سے بڑا اور کوئی استاد نہیں ہوتا۔‘‘ ہانیہ دیر تک کلستی رہی تھی لیکن اس نے دنیا کو دیکھنے کا اپنا زاویۂ نظر بدل لیا تھا۔ مما کے خوامخواہ کے غصے پر اب اسے یہی خیال آتا کہ انہیں ضرورت سے زیادہ فراغت میسر ہے اور خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے لیکن اب مما عمر کے اس دور میں تھیں، جہاں انہیں بدلا نہیں جاسکتا تھا۔ لہٰذا اسے ان کی خامی یا کمزوری سمجھ لینا چاہےے اور ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خامی تو ہوتی ہے۔ ایسا سوچتے وقت اسے اپنے اندر بڑھتے بتدریج ٹھہرائو کا بہ خوبی ادارک ہوتا جس کے ساتھ ہی اسے اویس کا خیال آجاتا۔ اس کی باتیں ہانیہ کے اندر اس تبدیلی کا محرک بنی تھیں۔ وہ اگر چاہتی تو اس سے با آسانی رابطہ کر سکتی تھی اور یہ خواہش اکثر اس کے دل میں سر اٹھاتی بھی تھی مگر یہ بات اس کے اصول کے خلاف تھی۔ مما کے سونے اور نہانے کے ٹائم پر وہ پاپا کے ہسپتال فون کر کے آرام سے اسے بلوا سکتی تھی اور اسے یہ بھی یقین تھا کہ اویس اس سے بات کرنے سے انکار بھی نہیں کرے گا مگر جو بات اسے نامناسب لگتی، اس کے لےے وہ دل کی کوئی تاویل سننے کے لےے تیار نہیں ہوتی، ورنہ یہ جاننے کی خواہش تو اسے اکثر بے چین کرتی کہ اویس یہ جان کر اتنا حیران کیوں ہوا تھا کہ وہ ڈاکٹر احتشام کی بیٹی ہے مگر اس کی یہ خواہش خود بخود پوری ہوگئی۔

رات کے کھانے کے بعد وہ لیونگ روم میں ٹہل رہی تھی، جب اچانک اویس کا فون آگیا۔ اتنے مہینوں بعد اس کی آواز سن کر جیسے کچھ پل کے لےے اس کے حواسوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اپنی اس اچانک در آنے والی کیفیت پر قابو پانے کے لےے وہ اس کے پوچھے بغیر ہی خوامخواہ کہنے لگی۔

’’ارے اویس! تم۔۔۔ وہ ۔۔۔ پاپا تو گھر پر نہیں ہیں، وہ ہسپتال سے آتے ہی ہوں گے۔ کچھ کام تھا تمہیں ان سے۔‘‘

دوسری طرف وہ خلافِ عادت خاموش ہی رہا۔ اس کی خاموشی نے جیسے ہانیہ کو سنبھلنے کا موقع دے دیا۔

’’کیا بات ہے اویس! سب ٹھیک تو ہے نا۔‘‘

’’میری نظر سے دیکھا جائے تو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ وہ بڑبڑایا پھر ایک دم پوچھنے لگا۔

’’ہانیہ ! اگر تم برا نہ مانو تو ایک بات پوچھ سکتا ہوں۔‘‘ اویس کے لہجے میں ایسا کچھ ضرور تھا جو ہانیہ کو ٹھٹکنے پر مجبور کر گیا۔ غیر ارادی طور پر اس کی گرفت ریسیور پر سخت ہوگئی۔ وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگی۔

’’ہانیہ ! تمہاری مما کے انکار میں تمہاری مرضی بھی شامل ہے یا یہ صرف ان کا فیصلہ ہے۔‘‘ ہانیہ کی سمجھ میں خاک بھی نہیں آیا تھا بلکہ اپنی توقع کے برعکس ایک بالکل انوکھا سوال سن کر وہ چونک اٹھی۔

’’کیا مطلب؟‘‘

’’جب تم سمجھ گئی ہو تو پھر مطلب کیوں پوچھ رہی ہو۔‘‘ وہ جیسے زچ ہو کر بولا۔

’’میں واقعی نہیں سمجھی، تم کیا کہہ رہے ہو۔‘‘ ہانیہ کو ا س کا جھنجلانا بھی حیران کر رہا تھا مگر بات سن کر وہ جیسے بالکل ہی سکتے میں چلی گئی۔

’’تمہاری مما نے میرا پرپوزل یہ کہہ کر ریجیکٹ کر دیا کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کسی ڈاکٹر سے نہیں کریں گی جس جہنم میں انہوں نے اپنی زندگی گزاری ہے، اب وہ اپنی بیٹی کو اس جہنم میں نہیں دھکیل سکتیں۔ پہلے تو میری سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ اتنے عیش و آرام کے باوجود انہوں نے زندگی جہنم میںکیسے گزار دی اور دوسری بات یہ کہ کیا ایک ڈاکٹر سے شادی کرنے سے زندگی جہنم بن جاتی ہے لیکن میں ان تمام باتوں سے قطعٔ نظر صرف تمہاری رائے پوچھ رہا ہوں۔ کیا تم نے میرے ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے انکار کیا ہے یا بات کچھ اور ہے۔‘‘ ہانیہ ایک شاک کے عالم میں گھری اس کی بات سن رہی تھی۔ اسے تو خبر ہی نہیں تھی کہ کب اویس کے گھر والے آئے، کب رشتہ دیا اور مما نے کب انکار کر دیا جس بات کا اسے خود علم نہیں تھا، اس بات کی وہ اویس کو کیا وجہ بتاتی۔ دوسری طرف وہ اس کی خاموشی پر خود ہی کہنے لگا۔

’’تمہیں شاید میرا پوچھنا برا لگا ہے مگر پلیز ہانیہ! میری لےے یہ وجہ جاننا بہت ضروری ہے۔ مجھے تو خطرہ ڈاکٹر احتشام کی طرف سے تھا کہ وہ انکار کر دیں گے مگر یہ تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تمہاری ماںمیرے ڈاکٹر۔۔۔

تمہیں تو معلوم ہی ہوگا میرے ڈیڈی کاامپورٹ، ایکسپورٹ کا بزنس ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے تمہارے پاپا کے میڈیکل ہاسپٹل کی تمام مشینری میرے ڈیڈہی سپلائی کر رہے ہیں۔ کاروباری جان پہچان ان کی بہت عرصے سے ہے مگر پتا نہیں کون سی پارٹی میں میری دادی نے تمہیں دیکھ لیا اور میرے سر ہوگئیں کہ ڈاکٹر احتشام کے گھر چل کر تم سے مل لوں۔ یہ تقریباً دو سال پہلے کی بات ہے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ میری پڑھائی ختم ہونے تک تمہارا کہیں رشتہ نہ ہوجائے۔ میں اتنی لمبی منگنی رکھنے کے بالکل حق میں نہیں تھا بلکہ دادی کو دنیا کی کوئی طاقت سمجھا نہیں سکتی تھی، لہٰذا میں نے ڈاکٹر احتشام سے براہ راست بات کی۔ انہوں نے مجھے بہت سراہا۔ حالانکہ مجھے خطرہ تھا کہ کہیں وہ برا نہ مان جائیں لیکن انہوں نے الٹا میرا ساتھ دیا اور جب دادی نے ان سے گھر آنے کی بات کی تو انہوں نے خود ہی دادی کو منع کر دیا۔ یہ کہہ کر کہ ’’یہ عمر اس کے کیریئر بنانے کی ہے اسے خوامخواہ کی خرافات میں ڈال کر اس کا دھیان مت بٹائیں۔‘‘

یہ سب میں نے تم سے ملے بغیر اس لےے کیا تھا تاکہ وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ میں ان کی بیٹی کو ریجیکٹ کر رہا ہوں اور یہی ہوا، وہ مجھ سے بالکل ناراض نہ ہوئے بلکہ جب بھی سامنا ہوتا وہ مجھے یہی سمجھاتے۔ دادی کی باتوں میں مت آنا، صرف پڑھائی پر دھیان دو لیکن پھر پتا نہیں کیا ہوا ان کا رویہ پچھلے سال اچانک ہی بدل گیا اور یہ تبدیلی صرف میرے لےے تھی۔ میں نے کوئی غلط کام تو کیا نہیں تھا جو مجھے پچھتا وا ہوتا لیکن پچھتاوا مجھے تب ہوا جب مجھے پتا چلا کہ تم ڈاکٹر احتشام کی بیٹی ہو۔ ہانیہ تم میرے لےے کتنی اہم ہو، یہ شاید میں خود نہیں بتا سکتا، اسی لےے یہ جانتے ہوئے بھی کہ ڈاکٹر احتشام مجھے بالکل پسند نہیں کرتے، میں نے دادی کو اپنی منظوری دے دی اور دادی کے بات کرنے کے بعد جب انہوں نے مجھے اپنے آفس بلوایا تو میں سمجھ رہا تھا کہ وہ مجھے یہاں سے نکالتے ہوئے اپنا ہائوس جاب کہیں اور مکمل کرنے کا مشورہ دیں گے مگر ان کی کہی بات سن کر تو میں حیران رہ گیا۔ انہوں نے کہا تم تو ایک ڈاکٹر سے شادی کرنا چاہتے تھے کیونکہ ایک ڈاکٹر ہی دوسرے ڈاکٹر کی مصروفیت سمجھ سکتا ہے۔

یہ بات میں نے کئی بار مذاق میں کہی تھی مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ میں کسی ڈاکٹر میں انٹرسٹڈ تھا اور میرے یہ کہنے کے بعد انہوں نے تو اس وقت اپنی رضامندی دیتے ہوئے کہہ بھی دیا کہ اچھا ہی ہے جو تمہیں اپنی غلطی کا جلدی احساس ہوگیا۔

ان کے مان جانے کی مجھے بالکل امید نہیں تھی لیکن وہ اتنی آسانی سے مان گئے، میری تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا لیکن دادی کہہ رہی ہیں کہ تمہاری مما تیار نہیں اور انہوں نے انکار کی جو وجہ بتائی ہے، وہ میرے لےے ناقابل قبول ہے۔ اگر ڈاکٹر احتشام کویہ رشتہ منظور نہیں تو بہانے کیوں بنا رہے ہیں۔ انہیں جو اعتراض ہے صاف صاف بتادیں۔ اگر وہ بتائیں گے ہی نہیں کہ انہیں کیا شکایت ہے تو میں اسے دور کیسے کروں گا۔ اس انکار سے صرف میں ہی نہیں، دادی بھی بہت ہرٹ ہوئی ہیں۔ گھر میں پہلے ہی کسی کو میرا میڈیکل میں جانا پسند نہیں تھا، اب تو سب جان کو آگئے ہیں۔ ڈیڈی تو کہہ رہے تھے۔ اگر وہ اتنی پسند ہے تو چھوڑ دو یہ پروفیشن اور ہمارے بزنس میں آجائو۔ یہ میرے لےے صرف ایک پیشہ نہیں ہے، اتنے سال یہ تعلیم میں نے نام اور پیسے کے لےے حاصل نہیں کی۔ یہ دونوں چیزیں مجھے ڈیڈی کے بزنس میں بھی مل جاتیں بلکہ یہاں سے زیادہ مل جائیں گی مگر میں یہ فیلڈ چھوڑ سکتا ہوں نہ تم سے دست بردار ہوسکتا ہوں۔ اب صرف تم مجھے اس کشمکش سے نکال سکتی ہو، میں پھر فون کروں گا۔‘‘

وہ جیسے بولتے بولتے تھک گیا تھا اور ہانیہ کا ذہن تو تھکن کے باعث شل ہوگیا تھا، وہ اس کے فون بند کر دینے کے باوجود ریسیور کان سے لگائے کھڑی رہی کہ مما کی آواز اسے واپس دنیا میں کھینچ لائی۔

’’کس کا فون ہے ہانیہ؟‘‘ ہانیہ بت بنی انہیں دیکھتی رہی۔ اسے خاموش دیکھ کر وہ خود آگے بڑھیں اور ریسیور اس کے ہاتھ سے چھین کر کان سے لگالیا مگر دوسری لائن پہلے ہی کٹ چکی تھی۔ وہ فون کریڈل پر رکھتے ہوئے اسے بغور دیکھنے لگیں۔

’’کس نے فون کیا جو میری آواز سنتے ہی کاٹ دیا۔‘‘

ان کا کھوجتا ہوا لہجہ اور شک و شبہات سے بھری نظریں ہانیہ پر جم گئی تھیں۔ عموماً وہ رات کے کھانے کے بعد اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلتی تھیں اور ان کے فون کی گھنٹی پر بھی باہر نہ آنے پر ہانیہ یہی سمجھی تھی کہ وہ سو چکی ہیں لیکن وہ یہ بھول گئی تھی کہ پاپا ابھی گھر نہیں آئے اور جب تک وہ گھر نہ آجاتے، مما سوتی نہیں تھیں۔ سارے نوکر بھی سرونٹ کوارٹر میں جا چکے تھے۔ ایسے میں اس وقت اسے فون پر مصروف دیکھ کر وہ اپنی عادت کے مطابق ہی پیش آئی تھیں۔ ان کا یہ انداز ہانیہ کے لےے نیا نہیں تھا مگر پہلی بار ان کے مشکوک انداز پر وہ گھبرائی نہیں تھی بلکہ اس کے اندر کی توڑ پھوڑ آنکھوں کے ذریعے باہر آنے کے لےے بے چین ہوگئی۔ وہ کپکپاتی آواز میں کہنے لگی۔

’’مما۔۔۔ آپ کی ۔۔۔ بیٹی رات کے دس بجے ٹیلی فون اسٹینڈ کے پاس ایک زندہ نعش کی طرح کھڑی ہے لیکن آپ کو یہ خیال نہیں آیا کہ شاید کہیں سے کوئی بری خبر آئی ہوگی۔ آپ نے سوچا بھی تو صرف یہ کہ فون کرنے والے نے آپ کی آواز سن کر فون کاٹ کیوں دیا۔ آپ میرے بار ے میں کبھی کوئی مثبت بات کیوں نہیں سوچ سکتیں۔ آپ نے میرے کردار میں ایسی کون سی کمزوری دیکھی ہے کہ آپ جب بھی میرے متعلق کوئی رائے قائم کرتی ہیں، وہ ہمیشہ غلط اور شک و شبہات سے بھرپور ہوتی ہے۔ لوگ تو کہتے ہیں کہ ماں اولاد کے دل کی بات اس کے کہے بغیر جان لیتی ہے لیکن میرے ساتھ تو کبھی ایسا نہیں ہوا۔ آپ تو شاید یہ بھی نہیں جانتیں کہ میرے پاس دل ہے بھی یا نہیں۔‘‘

اس کی آنکھیں چھلک پڑی تھیں۔ مما کے لےے اس کی گفتگو اور اس کے آنسو دونوں ہی حیران کن تھے۔ وہ کچھ نہ سمجھنے والے اندازمیں بے یقینی سے اسے دیکھتی رہیں۔

’’آپ کو اپنی زندگی جہنم نظر آتی ہے اور آپ اس کا ذمہ دار پاپا کو ٹھہراتی ہیں۔ حالانکہ آپ کی شادی کسی کے ساتھ بھی ہوتی، آپ اتنی ہی ناخوش ہوتیں، جتنی آپ پاپا کے ساتھ ہیں کیونکہ آپ خود ترسی کا شکار ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے۔ پاپا ڈاکٹر ہیں، اس لےے ان کے پاس فیملی کے لےے وقت نہیں ہے۔ جی نہیں، آپ بالکل غلط سوچتی ہیں۔ ڈاکٹرز کے لےے بھی اپنی فیملی کے لےے مناسب وقت ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے گھر والوں کے لےے وقت نکالنا چاہتے ہیں لیکن پاپا ایسی کوئی کوشش ہی نہیں کرتے کیونکہ انہیں ایسی کوئی خواہش ہی نہیں ہے۔ انہیں اگر فرصت کے لمحات میسر بھی آتے ہوں گے تو وہ گھر آنے کے بجائے ہسپتال میں ہی آرام کرنے کو ترجیح دیتے ہوں گے کیونکہ اس گھر میں آرام نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔

پاپا خوش نصیب ہیں کہ ان کے پاس ہسپتال کے نام پر ایک جائے پناہ ہے لیکن میرے پاس ایسی کوئی چوائس نہیں، ورنہ میرا بھی دل چاہتا ہے میں اس گھر کو چھوڑ کر کہیں دور چلی جائوں کیونکہ جب اس گھر میں خاموشی ہوتی ہے تو چاروں طرف ہو کا عالم ہوتا ہے اور جب شور ہوتا ہے تو وہ صرف آپ کی اور پاپا کی لڑائی کی صورت میں ہوتا ہے جو ان در و دیوار سے ٹپکتی ویرانیوں سے بھی زیادہ ہولناک ہوتا ہے۔ کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ پاپا ہسپتال سے گھر ہی نہیں آئیں کیونکہ جیسے ہی وہ آئیں گے، آپ کسی بات پر ان سے جھگڑا شروع کر دیں گی۔

آپ خود تو ایک محبت کرنے والی ماں نہ بن سکیں مگر آپ کے اس غیر متوازن روےُے نے مجھ سے میرے پاپا کو بھی چھین لیا۔ آپ کے بے جا غصے اور ہر وقت کی چیخ و پکار نے ہی پاپا کو ہم سے دور کیا ہے۔ اگر آپ دونوں کو جھگڑا کرنا ہوتا ہے تو بند کمرے میں کیوں نہیں کرتے۔ کیا آپ کو نہیں معلوم آپس میں لڑتے ماں باپ کی اولاد کبھی عزت نہیں کرتی بلکہ اولاد ہی کیا آپ کے تو ملازم تک آپ کو قابلِ احترام نہیں سمجھتے۔ ایک دوسرے کی خامیاں چیخ چیخ کر بیان کرتے وقت آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ آپ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ اگر آپ نوکروں کے سامنے پاپا کو برا بھلا کہتی ہیں تو آپ کا اپنا مقام خود بخود نیچے آجاتا ہے۔ اگر گھر کے ملازموں کے سامنے ایک دوسرے کا بھرم رکھنا مشکل ہے تو کم از کم گھر کے باہر تو تھوڑی عزت رکھ سکتے ہیں۔ پاپا کے اسٹوڈنٹس جس طرح تمسخرانہ اور استہزائیہ انداز میں آپ دونوں کی میریڈ لائف کو ڈسکس کر رہے تھے، وہ ہم سب کے لےے ڈوب مرنے کا مقام تھا۔ ایسے تبصرے سن کر میں نے ہمیشہ آپ سے بات کرنی چاہی مگر آپ کے سامنے میرے سارے الفاظ کھو جاتے کیونکہ میرے لےے آپ ایک ماں نہیں، ایک وارڈن کی طرح ہیں جو صرف میس میں رہنے والی لڑکیوں پر نظر رکھتی ہے۔ وہ کہاں جارہی ہیں، کس سے مل رہی ہیں، کس سے بات کر رہی ہیں۔ ان کی ڈیوٹی میں صرف یہی شامل ہوتا ہے۔ وہ لڑکیاں کیا سوچتی ہیں، کیا چاہتی ہیں۔ ان کے کیا احساسات ہیں، یہ سب جاننے کی انہیں خواہش ہوتی ہے نہ ضرورت۔

اور آپ کہہ رہی تھی کہ میں ایک تنہائی پسند لڑکی ہوں۔ میں آپ سے بھی زیادہ باتیں نہیں کرتی۔ آپ کو کیا معلوم کہ آپ کے اور میرے بیچ اتنا فاصلہ ہے کہ میں چاہتے ہوئے بھی اسے پاٹ نہیں سکتی۔ جب آپ مجھے جانتی ہی نہیں تو میرے بارے میں اتنی حتمی رائے کیوں دیتی ہیں۔ آپ نے بس ایک جملے میں کہہ دیا کہ اویس سے شادی کر کے آپ اپنی بیٹی کو جہنم میں دھکیلنا چاہتی ہیں، آپ نے یہ بھی نہیں سوچا کہ جسے آپ جہنم کہہ رہی ہیں، وہ آپ کی نظر میں ہی جہنم ہو لیکن آپ سوچ بھی کیسے سکتی ہیں۔ آپ کو تو خبر ہی نہیں کہ آپ کی بیٹی کا زاویۂ نظر آپ سے کتنا مختلف ہے لیکن آپ کو بھلاکیا پروا ہوگی، آپ صرف وہ کرتی ہیں جو آپ کو صحیح لگے۔ ایسا کرنے میں بھلے ہی آپ کی بیٹی کی سب سے بڑی خوشی اس سے چھن جائے، آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘

ہانیہ کو خود خبر نہیں تھی، وہ یہ سب کچھ کیسے کہہ گئی۔ یہ وہ باتیں تھیں جو وہ ایک مدت سے ان سے کہنا چاہتی تھی مگر کبھی ہمت نہ کر سکی تھی اور آج جیسے الفاظ خود بخود پھسلتے چلے گئے۔ وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔ اس نے یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ مما کے کیا تاثرات ہیں۔ بہت دیر بعد اسے اپنے کندھے پر ہاتھ کا دبائو محسوس ہوا تھا۔ وہ مما کے ہاتھ کو جھٹک دینا چاہتی تھی مگر گردن موڑ کر دیکھنے پر وہ جیسے سن ہوگئی۔ پاپا کو سامنے دیکھ کر وہ رونا دھونا بھول کر سٹپٹا گئی تھی۔ انہوں نے اس کا کندھا تھپتھپا کر ایک نظر مما کو دیکھا مگر اس سے کچھ پوچھا نہیں۔ گویا وہ ساری باتیں سن چکے تھے، وہ ایک دم شرمندہ ہوتی تیزی سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔

ض ض ض

اگلے دن اس کی ہمت نہیں ہورہی تھی، ان دونوں کا سامنا کرنے کی اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ وہ اپنے روےُے کی معافی کیسے مانگے لیکن وہ واقعی اپنے کہے پر بہت شرمندہ تھی اور اسی شرمندگی کے باعث وہ جان بوجھ کر کمرے سے اتنی دیر سے نکلی کہ پاپا ہسپتال چلے گئے تھے۔ مما کے روےُے نے اسے مزید شرمندہ کر دیا۔ انہوں نے اپنے انداز سے کچھ ظاہر ہی نہیں کیا کہ انہیں اس کا وہ سب کہنا برا لگا یا نہیں۔ وہ اتنی نارمل تھیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہو۔ ہانیہ شرمندگی کے ساتھ ساتھ الجھن کا بھی شکار ہوگئی اور ان سے کوئی بات ہی نہیں کر سکی۔

وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ وہ اس سے خفا ہیں یا انہوں نے اس کی باتوں کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی مگر یہ محض اس کی غلط فہمی تھی۔ اس کی باتوں نے تو ان کے فیصلے بدل دےے تھے اور اس بات کا علم ہانیہ کو دو دن بعد ہوا جب اویس کے والدین اپنے دو بیٹوں اور بہوئوں کے ساتھ بہت سارے تحائف اور مٹھائی لے کر آئے اور اسے انگوٹھی پہنا کر چلے گئے۔ اویس کی دادی کی حالت بہت نازک تھی اور ان کی خواہش کے پیشِ نظر شادی کی تاریخ بہت قریب کی رکھ دی گئی تھی۔ ہانیہ تو ویسے بھی پڑھائی سے فارغ ہوچکی تھی، اس لےے ان کے پاس کوئی بہانہ بھی نہیں تھا۔ سب کچھ اتنا آناً فاناً ہورہا تھا کہ ہانیہ کا ذہن مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ ایک طرف اگر وہ خوش تھی تو دوسری طرف مما سے آنکھ تک ملانے کے قابل نہ رہی تھی۔ اویس کے فون کے ردِ عمل کے طور پر وہ بے اختیار ان سے سب کچھ کہہ گئی تھی، ورنہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا اور اپنے الفاظ یاد کر کے تو اسے بہت ہی افسوس ہوتا ہے، اتنے سالوں سے یہ شکوے اس کے دل میں تھے، جنہیں زبان پر لا کر اس کا دل ہلکا نہیں ہوا بلکہ ایک بوجھ سا آگراتھا۔

شادی کی تیاریوں اور ہنگاموںمیں وہ وقتی طور پر اس احساس سے باہر آگئی تھی مگر شادی سے ایک دن پہلے اس کا دل بے پناہ اداس ہورہا تھا۔ وہ اپنے کمرے سے نکل کر لان میں جا بیٹھی، جہاں کچھ گھنٹوں پہلے ختم ہوئے مہندی کے فنکشن کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے۔ یہ موقع ایسا تھا کہ پھوپھیوںکو بھی ساری باتیں بھلا کر دنیا دکھاوے کے لےے آنا پڑا تھا۔ البتہ ان کے بچوں نے دل سے شرکت کی تھی جس کے باعث گھر میں واقعی شادی کا سماں بندھ گیا تھا۔ اتنے شور اور ہنگامے کے بعد ملنے والی تنہائی نے شایداسے افسردہ کر دیا تھا۔ اسے اپنی زندگی کے وہ لمحے یاد آنے لگے وہ اس نے تنہائی سے گھبرا کر شدید بوریت کے عالم میں اسی لان کی ٹھنڈی گھانس پر کھولتے ذہن کے ساتھ گزارے تھے، تب اس کا دل چاہتا تھا اس گھر سے کہیں دور چلی جائے اور آج جب سچ مچ اس گھر سے دور جانے کا وقت آیا تھا تو اس کا دل چاہ رہا تھا، وہ وقت لوٹ آئے۔

’’ہانیہ اتنی رات گئے تم یہاں کیا کر رہی ہو۔‘‘ مما کی آواز پر وہ اچھی خاصی ڈر گئی۔ وہ اس کے بالکل قریب آکر اس سے مخاطب ہوئی تھیں اور ہانیہ کو ان کی آمد کی خبر ہی نہیں ہوئی۔

’’ک۔۔۔کچھ نہیں مما! بس ایسے ہی۔‘‘ وہ جلدی جلدی اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔

’’تم رو رہی ہو، کیا ہوا۔ کسی نے کچھ کہا۔ اویس کے گھر والوں نے تو کچھ نہیں کہہ دیا یا تمہاری پھوپھیاں آئی تھیں۔ انہوں نے کچھ کہہ دیا۔‘‘ ہانیہ بے ساختہ مسکرا دی۔ گھر کے مین گیٹ پر جلتی ٹیوب لائٹ کی روشنی میں وہ ان کے چہرے پر پھیلے خدشات آرام سے دیکھ سکتی تھی لیکن انہوں نے شاید اس کی مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی، تب ہی اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگیں۔

’’کیا اویس سے لڑائی ہوگئی۔‘‘

’’مما! کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔‘‘ اویس کے ذکر پر وہ ہنس پڑی۔ ان دونوں کی بات ہی کہاں ہوتی تھی جو لڑائی ہوتی۔ بس منگنی کے اگلے دن اس نے یہ پوچھنے کے لےے فون کیا تھا کہ اس کی مما کا انکار اچانک اقرار میں کیسے بدل گیا۔ کہیں اس کے گھر والے دھوکے سے اس کی شادی کسی اور سے تو نہیں کر رہے کیونکہ اس کی دادی کی خواہش پوری کرنے کے لےے اویس کی ماں دوسری لڑکیاں دیکھنے لگی تھیں جس پر اویس نے انہیں صاف منع کر دیا تھا۔ اس کے بچکانہ خدشے پر ہانیہ ہنسی روکتے ہوئے بڑی سنجیدگی سے بولی تھی۔

’’میرے گھر تو کوئی نہیں آیا اور نہ ہی کسی نے انگوٹھی پہنائی۔ ضرور تمہارے گھر والے تمہارے ساتھ کوئی چال چل رہے ہیں۔ تم بس فوراً گھر چھوڑ کے چلے جائو۔‘‘

’’اگر وہ لوگ چال چل رہے ہیں تو بہت اچھا کر رہے ہیں۔ تم سے شادی کرنے سے تو بہتر ہے، میں ان کی پسند کی لڑکی سے شادی کرلوں۔ شایدا سے ہی میرا کچھ خیال ہو، تم تو مجھے ذرا سی بھی خوشی نہیں دے سکتیں۔ اتنا نہیں کہہ سکتیں کہ تم نے میری خاطر اپنے ماں باپ کو منالیا۔‘‘

’’جب میں نے منایا ہی نہیں تو میں جھوٹ کیوں بولوں۔‘‘ ہانیہ بالکل جذباتی ہوئے بغیر جرح کرتے ہوئے بولی۔

’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ آنا تو تمہیں میرے ہی گھر ہے نا پھر میں تمہیں بتائوں گا۔‘‘

’’اس سے پہلے تو کچھ نہیں بتائو گے نا پھر میں یہ یقین کرلوں کہ یہ تمہاری آخری فون کال ہے ہماری شادی تک۔‘‘

’’سچ آگیا نا زبان پر، بس یہی سننا تھا۔‘‘ اویس کے مسکرا کر فون بند کردینے پر ہانیہ اپنا سر پیٹ کر رہ گئی تھی۔ اس وقت بھی اس کی بات یاد کر کے اس نے مسکراتے ہوئے مما کا ہاتھ تھام لیا۔

’’ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ آپ پلیز اپنے ذہن سے سارے وہم نکال دیں کہ وہ اگر ڈاکٹر ہے تو میری زندگی اس کے ساتھ جہنم بن جائے گی۔‘‘ مما اس کی بات پر کچھ دیر اس کی شکل دیکھتی رہیں پھر بہت ٹھہرے ہوئے انداز میں پوچھنے لگیں۔

’’کب سے جانتی ہو تم اسے؟‘‘ ہانیہ چونک اٹھی ان کے سوال پر۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ تھوڑی دیر اس کے بولنے کا انتظار کرتے رہنے کے بعد وہ خود ہی کہنے لگیں۔

’’تمہیں کیا لگتا ہے۔ میں نے اویس کے لےے اس لےے منع کیا تھا کہ وہ ڈاکٹر ہے۔ ہاں یہ بھی ایک وجہ تھی لیکن یہ بنیادی وجہ نہیں تھی۔ تمہارے پاپا نے مجھے جب اس رشتے کے بارے میں بتایا تو ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ شادی فوراً کرنی ہوگی۔ اس کی دادی بیمار ہیں اور وہ یہ خوشی اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی ہیں۔ گویا اویس کو آگے جتنا بھی پڑھنا ہے، وہ شادی کے بعد پڑھے گا پھر بقول تمہارے پاپا کے اسے ریسرچ سینٹر میں بھی انٹرسٹ ہے۔ ایسے میں مجھے یہی خیال آیا تھا کہ وہ تمہیں کتنا وقت دے گا۔ میں نے سنتے ہی انکار کر دیا۔ اس پر تمہارے پاپا نے کہا کہ ایک بار تمہاری مرضی بھی پوچھ لی جائے لیکن میں نے سوچا۔ تم کون سا اویس کو جانتی ہو، ایک بار اگر مل بھی لوگی تو ایک ملاقات میں کیا فیصلہ کر و گی۔ تمہیں اپنے اچھے برے کی تمیز نہیں ہوسکتی۔ یہ فیصلہ ہم ہی کر سکتے ہیں۔ تب احتشام نے کہا۔ تم اسے بہت اچھی طرح جانتی ہو بلکہ تم دونوں کے بیچ بہت گہری دوستی ہے۔‘‘

ہانیہ منہ کھولے انہیں دیکھ رہی تھی جو بولتے بولتے ایسے چپ ہوگئی تھی جیسے انہیں مناسب الفاظ نہیں مل رہے ہوں۔ تب ہی وہ پرسوچ انداز میں کہنے لگیں۔

’’اگر میں بہت گھٹیا زبان استعمال کروں تو تمہارے پاپا کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ تم اس کے ساتھ باہر ڈیٹ پر جاتی رہی ہو۔ میں یہ ماننے کے لےے تیار ہی نہیں تھی۔ ہمارے معاشرے میں لڑکے اور لڑکی کی کوئی دوستی نہیں ہوتی، اسے صرف افیئر کہا جاتا ہے اور میں جانتی تھی کہ تم ایسی لڑکی نہیں ہو، تمہاری فطرت ایسی ہے نہ تمہارا ماحول۔ تمہاری تو شاپنگ تک میں کرتی ہوں۔ تم صرف گھر سے کالج اور کالج سے گھرکے علاوہ کہیں نہیں جاتیں۔ اس پر احتشام نے کہا کہ تم نے ایک بار انہیں اویس کے موبائل سے فون کیا تھا اور کہا تھا کہ میں اپنی دوست کے گھر پر ہوں۔ حالانکہ پیچھے سے اتنا شور سنائی دے رہا تھا کہ صاف ظاہر تھا کہ تم کسی پبلک پلیس سے بات کر رہی ہو اور انہوں نے تمہاری دوست سے بات کرنی چاہی تو تم اس کے لےے بھی تیار نہیں ہوئیں۔

اگر تم صرف گھر سے کالج اور کالج سے گھر جاتی ہو تو تمہاری دوستی اویس سے کہاں ہوگئی۔ یہی سوچتے ہوئے انہوں نے تمہارے پیچھے اپنا ایک جاسوس لگا کر تمہاری باقاعدہ نگرانی کرائی اور اس نے یہ رپورٹ دی کہ تم کالج سے کہیں نہیں جاتیں لیکن تم دو بار میڈیکل کالج ضرور گئی تھیں۔ ایک بار اپنی پھوپھی کی بیٹیوں کے ساتھ شاپنگ کرتے ہوئے تم وہاں کی ایگزبیشن دیکھنے گئی تھیں اور ایک بار رمضانوں میں۔

میرا خون کھول اٹھا تھا تمہارے پاپا کی بات سن کر۔ ان کا اپنی اولاد کی جاسوسی کرانا میرے لےے ناقابل یقین تھا۔ دو بار میڈیکل کالج جانے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تم اس سے ملنے گئی تھیں۔ ایک بار تم ان سب کے ساتھ شاپنگ کے ارادے سے ہی وہاں گئی ہوگی او دوسری بار تم ڈرائیور کے ساتھ مجھ سے پوچھ کر گئی تھیں، وہ بھی خون ڈونیٹ کرنے مگر تمہارے پاپا بھی کہاں ماننے والے تھے۔ خون ہسپتال میں ڈونیٹ ہوتا ہے اور انہوں نے خود تمہیں کوریڈور میں اسی راستے کے پاس کھڑے دیکھا تھا جو آفس کی طرف جاتا تھا یا کالج کی طرف اور تمہارا ان دونوں ہی راستوں کی طرف کوئی کام نہیں تھا اور ایگزبیشن میں بھی تم محض تھوڑی سی شاپنگ کر کے باقی پورے وقت اس لڑکے کے اسٹال پر کھڑی اسی سے باتیں کرتی رہی تھیں بلکہ اس جاسوس نے انہیں یہ بھی بتایا کہ اویس نے تمہیں کوئی چیز بھی دی تھی جسے تم نے بغیر کسی اعتراض کے لے لیا تھا۔

میں ان کی ہر دلیل رد کرتی گئی، وہ جاسوس جھوٹ بول رہا ہوگا تاکہ یہ کیس لمبا چلتا رہے اور آپ اسے پیسے دیتے رہےں اور اگر وہ سچ بھی کہہ رہا ہے تو بھی یہ نظر کا دھوکا بھی ہوسکتا ہے۔ کبھی کبھی وہ ہوتا نہیں جو دکھائی دیتا ہے لیکن تمہارے پاپا اپنی بات پر اڑے رہے۔ تب میرے سمجھ میں آیا کہ انہوں نے نجمہ سے تمہاری اور صائم کی شادی کی بات کیوں کی تھی۔ وہ تمہاری طرف سے پریشان تھے، ان کی روٹین بھی اس زمانے میں بدل گئی تھی۔ وہ گھر جلدی آنے لگے تھے، وہ جلد سے جلد تمہاری شادی کردینا چاہتے تھے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے مجھے ہانیہ کے بارے میں اسی وقت کیوں نہیں بتا دیا۔ ہم اس سے براہِ راست پوچھ لیتے لیکن مجھے اس گھر میں قابلِ اعتبار کب سمجھا جاتا ہے۔ احتشام کا خیال تھا، میں نوکروں کے سامنے ہی تم پر چلانا شروع کر دوں گی اور ویسے بھی تم دونوں کی دوستی کچھ مہینوں میں ہی ختم ہوگئی تھی اور اسی زمانے میں تم میں ایک بہت بڑی تبدیلی بھی آئی تھی۔ اچانک تمہارا جھکائو مذہب کی طرف بہت بڑھ گیا۔ تمہارے پاپا کا کہنا ہے کہ شاید تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔

تمہیں اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اویس تمہارے ساتھ کھیل رہا ہے کیونکہ اویس کے لےے تمہیں حاصل کرنا بہت آسان تھا۔ اس کے باوجود جب اس نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا تو تم نے اس سے تعلق ختم کر لیا۔ انہیں یقین تھا کہ اب تم راہِ راست پر آچکی ہو، اسی لیے جب اویس کے گھر والوںنے آنا چاہا تو انہوں نے سب سے پہلے خود اویس سے کنفرم کیا۔ وہ اس پر کچھ جتانا نہیں چاہتے تھے کہ اس میں خود ان ہی کی بے عزتی تھی۔

اصل میں بظاہر اویس میں کوئی برائی نہیں تھی بلکہ جب تک انہیں تم دونوں کے بارے میں پتا نہیں تھا، اویس ان کا پسندیدہ اسٹوڈنٹ تھا۔ انہیں یقین تھا وہ مستقبل میںان سے بھی زیادہ محنتی اور کامیاب ثابت ہوگا۔ اگر یہ ایک خامی اس کے حصے میں ڈال بھی دی جائے کہ اس نے تمہارے ساتھ فلرٹ کیا تھا تو اس میں تمہاری غلطی بھی برابر کی تھی۔ پہلے بھلے ہی اس نے جو بھی کیا ہو لیکن اب وہ شرافت سے رشتہ لے آیا ہے تو بے کار باتوں میں نہیں پڑنا چاہےے۔ بس ہانیہ کی رائے لے لو کیونکہ یہ سب تو اندازے ہیں ان کے بیچ حقیقتاً کیا ہوا ہے۔ یہ صرف وہی دونوں جانتے ہیں۔ اگر ہانیہ تیار ہے تو ہمیں اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں لیکن مجھے اعتراض تھا، مجھے احتشام کے اندازوں کے غلط ہونے کا اتنا یقین تھا کہ میں نے اویس کی دادی کو فون کر کے صاف کہہ دیا کہ میں تمہاری شادی کسی ڈاکٹر سے ہرگز نہیں کروں گی لیکن میرا سارا یقین بے بنیاد ثابت ہوا۔ تم نے ٹھیک کہا تھا۔ میں وہ ماں ہوں ہی نہیں جو اولاد کے دل کی بات کہے بغیر جان لیتی ہے۔

تمہیں چاہےے تھا کہ تم اویس کے بارے میں مجھے پہلے ہی بتا دیتیں تو میں تمہارے پاپا سے اتنی بحث کرتی ہی نہیں بلکہ سچ پوچھو تو مجھے آج بھی یقین نہیں آتا کہ تمہارے پاپا کے سارے اندازے صحیح تھے۔ میری بیٹی ایسی نہیں ہوسکتی کہ کالج سے کلاسز بنک کر کے کسی لڑکے سے ملنے چلی جائے اور نہ ہی ایسے لڑکے کبھی اس لڑکی سے شادی کرتے ہیں جو اپنے ماں باپ سے جھوٹ بول کر ان سے ملنے جاتی رہی ہو۔ اگر سب کچھ جانتے ہوئے بھی اویس تمہارے لےے سیریس ہوگیا تو یہ بڑی تعجب کی بات ہے۔

خیر جو ہوگیا، سو ہوگیا۔ تم اگر بھٹکی تھیں تو خود ہی راہ راست پر بھی آگئیں۔ بس اب کوشش کرنا کہ تمہاری زندگی میری اور احتشام جیسی نہ ہو۔ ویسے تو تم میری طرح نہیں ہو، بہت ٹھنڈا مزاج ہے تمہارا لیکن اب میں کوئی رائے نہیں دینا چاہتی۔ تمہاری نانی کہا کرتی تھیں کہ ہر انسان زندگی کو اپنے زاویۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ اب دیکھو نا، تمہارے پاپا نے صرف ایک فون سن کر تمہارے کریکٹر کے بارے میں رائے قائم کر لی اور تمہارے پیچھے جاسوس چھوڑ دیا اور میں نے ساری بات سننے کے بعد بھی ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا پھر بھی تمہیں یہ لگتا ہے کہ میں نے تمہیں تمہارے پاپا سے دور کر دیا اور میں تم پر شک کرتی ہوں۔ تم پر نظر رکھتی ہوں۔

میں مانتی ہوں، میں نے تم پر ہمیشہ بہت سختیاں کیں۔ میں نے کبھی ’’میری بیٹی، میری جان‘‘ کہہ کر پیارنہیں جتایا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ مجھے تم سے محبت نہیں تھی۔ میں نے جس زاویۂ نظر سے دنیا کو دیکھا تھا اور جن حالات سے گزری تھی، انہیں دیکھنے کے بعد مجھے لگتا کہ بیٹیوں کو ہمیشہ رعب میں رکھنا چاہےے کیونکہ میری ماں نے کبھی مجھ سے سختی نہیں کی تھی۔ اصل میں میرے دادا اتنے سخت انسان تھے کہ میری ماں سمیت میری دادی اور چچیاں سب ان سے عاجز تھیں کیونکہ ان کی باتیں مذہب اور اخلاق پر مبنی نہیں تھیں بلکہ بے جا اور انسانیت سے عاری تھیں۔ اگر گھر میں کوئی بیمار ہوجاتا تو اسے آرام کرنے کی اجازت نہیں تھی بلکہ اس سے اضافی کام کرایا جاتا ، تاکہ وہ دوبارہ کبھی بیماری کا بہانہ کر کے اپنے حصے کا کام دوسروں پر نہ ڈال دے۔ ایسے بے جا اصولوں نے میری ماں کو کافی حد تک باغی کر دیا تھا۔ نتیجے کے طو پر وہ مجھے ہر اس کام میں سپورٹ کرتیں جس کے بارے میں گھر کی کوئی دوسری لڑکی سوچ بھی نہیںسکتی تھی۔

جس گھر میں لڑکیوں کو اسکول کے بعد گھر سے قدم باہر رکھنے کی اجازت نہیں تھی، اس گھر میں مغرب کے بعد بھی اپنی دوستوںکے گھر آرام سے جاتی تھی اور گھر کی دیوار پھلانگ کر جاتے وقت مجھے ڈر بھی نہیں لگتا تھا کیونکہ مجھے اپنی ماں کی مکمل پشت پناہی میسر تھی۔ وہ میری ماں نہیں، میری دوست تھیں لیکن دوست بننے کے بعد وہ یہ بھول گئیں کہ میرے دل سے ماں کا لحاظ ختم ہوگیا ہے۔ میں کسی بھی طرح روٹھ کر یا لڑ کر ان سے اپنی ہر بات منوانے لگی۔ انہوں نے مجھے ذرا سی آزادی تھی تاکہ میں اپنے سارے شوق پورے کر سکوں لیکن شوق پورے کب ہوتے ہیں۔ ان کی کوئی حد تھوڑی ہے۔ ایک شوق ختم ہوتا تو دوسرا پیدا ہوجاتا۔ انہوں نے مجھے شام سات بجے تک باہر رہنے کی اجازت دی اور میں نوبجے تک باہر رہنے لگی۔

تمہیں سن کر یقین نہیں آئے گا، تمہاری پھوپھی نجمہ میری بہت گہری دوست تھیں۔ ان کا گھرانہ کافی آزاد تھا۔ ماں باپ جاب کرتے تھے۔ گھر میں بس وہ دونوں بہنیں ہوتی تھیں۔ تمہارے پاپا دوسرے شہر میں پڑھتے تھے۔ ہم تینوں آزادی سے وی سی آر پر فلمیں دیکھتیں، گانے سنتیں بلکہ ہماری اتنی دوستی تھی کہ میں ان کے خاندان کی تقریبات تک میں جانے لگی۔ تمہارے دادا، دادی کو ہماری دوستی پر تب تک کوئی اعتراض نہیں تھا جب تک ہم سہیلیاں تھیں، جب تمہارے پاپا نے مجھ سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تو مجھ میں کانٹے اگ آئے کیونکہ ہماری برادری الگ تھی۔ تمہارے پاپا کے لےے انہوں نے خاندان کی لڑکی کو پسند کر رکھا تھا۔ ان کا راضی ہونا کسی طور ممکن نہیں تھا بلکہ میرا نام سن کر وہ ایک دم بھڑک اٹھے۔ سب سے پہلے ان کا غصہ نجمہ پر نکلا اور نجمہ تو خود بھری ہوئی تھی کیونکہ وہ لڑکی اس کی ہونے والی نند تھی۔ اس کا اپنا رشتہ خطرے میں پڑ گیا تھا۔ چنانچہ اس نے خائف ہو کر میرا ہر راز کھول دیا۔ کون سا ہیرو مجھے پسند ہے،کون سے کریکٹر کو ہم نے فون کرنے کی کوشش کی اور کس طرح گھر سے پیسے چراکر میں انہیں سینما فلم دکھانے لے کر گئی۔ ہر وہ بات جسے اس عمر میں ہم ایڈونچر سمجھتے تھے، میرے لےے ایک عیب بن گئی۔

سہیلیوں سے ہنسی مذاق کے وقت کبھی کبھی ہم وہ بھی کہہ دیتے ہیں جس کے لےے ہم خود سنجیدہ نہیں ہوتے مگر کہتے وقت ہم سوچتے ہیں کہ اپنی دوست سے ہی تو کہہ رہے ہیں، اسی دوست نے وہ سب باتیں ایسے بیان کیں کہ میں ان کی نظرمیں ایک آوارہ اور بدکردار لڑکی بن جانے کے ساتھ ان کی بیٹی کو بگاڑنے کا سبب بھی بن گئی۔ انہوں نے میرے گھر آکر میرے دادا کو خوب سنایا اور مجھے قابو میں رکھنے کا مشورہ دے کر چلے گئے۔ میرے گھر میں ایک طوفان آگیا۔ حالانکہ تمہارے پاپا کی محبت بالکل یک طرفہ تھی مگر بیان ایسے کی گئی تھی جیسے میں نے ان پر ڈورے ڈال کر انہیں پھانس لیا ہو اور اس کے علاوہ میری بہت ساری عادتیں بھی ان کی نظر میں آگئی تھیں جن میں سے کچھ تو میری ماں کو بھی نہیں پتا تھیں۔ انہوں نے جو بھی کیا تھا، میری محبت میں کیا تھا لیکن میں ان کی محبت کا ناجائز فائدہ اٹھانے لگی تھی۔ میری وجہ سے وہ گھر میں کسی سے نظر ملانے کے قابل نہ رہیں۔ میں نے بہت معافیاں مانگیں مگر معافی مانگنے سے کھویا ہوا مقام واپس نہیں ملتا۔

میرے گھر میں جوائنٹ فیملی سسٹم تھا۔ چچیوں کے ذریعے یہ باتیں ان کے میکوں میں اور پھر آہستہ آہستہ سارے خاندان میں پھیل گئیں۔ میرے دادا میری شادی فوراً کر دینا چاہتے تھے مگر ایسے حالات میں بھلا مجھ سے کون شادی کرتا۔ ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے تک پہنچتے پہنچتے بات اتنی بدل گئی تھی کہ سننے والے کو لگتا جیسے میرے اور تمہارے پاپا کے بیچ کوئی طوفان عشق چل رہا ہو۔

وقت ایسے ہی گزرتا رہا، میرے دادا کا انتقال ہوا تو سارے چچائوں نے گھر الگ کر لےے۔ ہمارا خاندان سے تعلق بہت کم ہوگیا۔ اچانک پورے پانچ سال بعد تمہارے دادا، دادی نے میرا رشتہ مانگ کر ہم سب کو حیران کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتشام کسی اور سے شادی پر تیار ہی نہیں ہے، اس لےے آخر انہیں ماننا ہی پڑا۔ میرے خاندان میں بھی برادری سے باہر شادی نہیں ہوتی تھی لیکن میرے ابا نے بغیر کسی تامل کے یہ رشتہ قبول کر لیا جس پر خاندان میں ایک بار پھر باتیں بنیں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ پانچ سال تک میں اپنی ضد پر اڑی رہی۔ آخر میرے ماں باپ کو جھکنا پڑا۔ جانے احتشام کو میں نے کون سا تعویز گھول کر پلا دیا تھا کہ اتنے سال ملک سے باہر رہ کر بھی اس کا فیصلہ نہیں بدلا۔ ضرور دونوں کے بیچ خط و کتابت رہی ہوگی۔ اپنے بارے میں ایسی باتیں سن کر میرا دل چاہتا، میں شادی سے انکار کر دوں لیکن میں ابا کے سامنے کچھ بھی نہ بول سکی۔

پھر ہماری شادی نے کسی حد تک اس بات پر مٹی ڈال دی لیکن میں ان سب لوگوں سے خائف ہوچکی تھی۔ میرا ان سے ملنے، ان سے بات کرنے کا دل نہ چاہتا اور جس شخص کی وجہ سے میری ذات کے ساتھ اتنے افسانے تھے، وہ تو مجھے گھر لا کر بھول ہی گیا۔ ہروقت اپنی پڑھائی میں مصروف رہتا۔ نجمہ کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا۔ ایک بیٹا بھی ہوگیا تھا پھر بھی تمہاری دادی جب تک زندہ رہیں، مجھے اس کی بربادی کا ذمہ دار ٹھہراتی رہیں۔ایسے میں تمہارے پاپا کا رویہ دیکھ کر میں خود پر قابو کھو دیتی اور ان سے لڑپڑتی۔کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ تم کیا سوچتی ہوگی۔ پہلی بار مجھے معلوم ہوا کہ تمہارے دل میں میرے لےے اتنا زہر بھرا ہے۔ میں تمہارے ساتھ سخت اس لےے نہیں تھی کہ مجھے تمہارے کردار میں کوئی کمزوری نظر آتی تھی بلکہ میں نے تمہارے لےے وہ رویہ اپنا کر رکھاجو مجھے اپنے زاویۂ نظر سے تمہارے لےے صحیح لگتا تھا لیکن تم اپنے زاویۂ نظر سے دیکھتیں تو تمہیں میرا وہی رویہ شک و شبہات سے بھرپور لگتا تھا۔ حالانکہ تمہارے پا پا نے مجھ سے کہا کہ تم ہانیہ کے کمرے کی تلاشی لے لو۔ اویس نے اسے ضرور کوئی موبائل خرید کر دے رکھا ہوگا جس کا بل بھی وہ خود ہی ادا کرتا ہوگا، ورنہ ان کے بیچ رابطے کا اور کوئی ذریعہ معلوم نہیں ہوسکا۔ یہ تو اب کی بات ہے جس زمانے میں احتشام تمہاری طرف سے بدگمان ہوئے تھے، انہوں نے اسی وقت مجھ سے صرف اتنا کہا تھا کہ ہانیہ کی درخشاں جیسی لڑکیوں سے دوستی ہے ،تم اس پر نظر رکھا کرو۔

درخشاں اپنے حلےے کی وجہ سے مجھے بھی پسند نہیں آئی تھی مگر میں نے تب بھی یہی کہا تھا کہ درخشاں خود ہی زبردستی فری ہوجانے والی لڑکیوں میں سے ہے، ورنہ ہانیہ اس سے کبھی دوستی نہیں کر سکتی اور اگر ایک کلاس میں پڑھنے کی وجہ سے ان کے بیچ بے تکلفی ہے بھی تب بھی اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس کے رنگ میں رنگ جائے گی۔ میں نے ہمیشہ تمہارا دفاع کیا۔

میں نجمہ سے اپنے لےے ایک لفظ نہیں کہہ سکی تھی مگر جب اس نے وہی الزام تم پر لگایا، تب میں نے تم سے تصدیق کرائے بغیر اس سے خوب بحث کی تھی کیونکہ مجھے یقین تھا، تم صائم میں ہرگز انٹرسٹڈ نہیں ہوسکتیں لیکن میری غلطی صرف اتنی ہے کہ میں اپنے روےے میں توازن نہیں رکھ سکی۔ میں اپنی سختی میں حد سے بڑھ گئی جیسے میری ماںا پنی نرمی میں حد سے تجاوز کر گئی تھی۔‘‘

مما کے چپ ہونے پر ایسا لگا جیسے پوری کائنات خاموش ہوگئی ہو۔ ایک ساتھ اتنے سارے انکشافات نے اسے پتھرا دیا تھا۔ بظاہر وہ بالکل بے حس و حرکت بیٹھی تھی لیکن اس کے اندر ایک طوفان برپا تھا۔ وہ کیا تھی اور اسے کیا سمجھا جارہا تھا۔ مما کی باتیں سن کر اسے دکھ تو ہوا تھا مگر اس سے بھی بڑا صدمہ اسے پاپا کی غلط فہمی کے بارے میں جان کر پہنچا تھا۔ پاپا نے اس کے کردار کو کتنا غلط سمجھا تھا اور اویس کا فون سننے کے بعد اس نے جس قسم کے رد عمل کا مظاہرہ کیا، وہ مما کی بھی نظروں میں پاپا کے ہر شک کو صحیح ثابت کر گیا تھا۔

مما اسے خاموش دیکھ کر اٹھ کر اندر چلی گئیں۔ اس کے پاس کہنے کے لےے بچا بھی کیا تھا۔ اب وہ کوئی بھی وضاحت دیتی، کوئی بھی صفائی پیش کرتی، وہ ہرگز بھی قابلِ قبول نہ ہوتی۔ ویسے بھی اسے ان دونوں سے بات کرنا ہمیشہ مشکل لگتا تھا۔ صرف ایک بار وہ خود پرسے اختیار کھو بیٹھی تھی اور جانے کیسے سب کچھ کہہ گئی جس کا نتیجہ اس کی خواہش کے عین مطابق نکلا تھا مگر اب اسے پچھتاوئوں میں مبتلا کر گیا تھا۔ بھلے ہی اویس اس کی زندگی میں نہ آتا مگر پاپا کے اندازے تو غلط ثابت ہوجاتے۔ اویس کے لےے اس کی پسندیدگی اپنی جگہ تھی مگر اس پسندیدگی میں وہ کوئی غلط حرکتوں پر نہیں اتر آئی تھی۔ اس نے تو شدید خواہش کے باوجود کبھی اسے فون تک نہیں کیا تھا۔ اس کی نظر میں تو یہ بھی ایک نامناسب بات تھی کہ بغیر کسی رشتے کے کسی انجان سے فون پر باتیں کی جائیں اور پاپا سوچتے تھے اس کی اور اویس کی دوستی تھی اور وہ اس کے ساتھ ڈیٹ پر جایا کرتی تھی۔ اس کا ذلت سے مرجانے کا دل چاہ رہا تھا۔ وہ رونا چاہتی تھی مگر اس کے سارے آنسو خشک ہوچکے تھے۔

اس نے فیصلہ کرلیا تھا، وہ پاپا سے ساری باتیں ضرور شیئر کرے گی۔ اور اسے اس بات کا موقع مل گیا تھا۔ اس نے صرف درخشاں والا واقعہ پاپا کو بتایا تھا باقی وضاحت فضول تھی وہ سب جان گئے تھے وہ اپنی بدگمانی پر شرمندہ تھے۔

اگلے دن وہ کسی مورتی کی طرح بے حس و حرکت دلہن بنی بیٹھی رہی۔ نکاح کے وقت اس کا دل چاہ رہا تھا، صاف انکارکر دے مگر جو ہمت وہ کل رات سے نہ کرپائی تھی، وہ اب کیسے اس کے اندر پیدا ہوجاتی۔ البتہ رخصتی کے وقت پاپا نے اسے گلے لگالیا۔

’’ہمیشہ خوش رہو۔ میں شرمندہ ہوں بیٹا۔‘‘ پتا نہیں اس ایک جملے میں ایسا کیا تھا کہ ہانیہ خود پر ضبط کھو بیٹھی۔ ایک گلیشیر اس کے اندر پگھلا ہوا تھا، وہ ایک دم ہی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور اتنا روئی کہ فائزہ اور نبیلہ کو اسے باقاعدہ ڈانٹنا پڑا تھا۔ بڑی مشکل سے انہوں نے اس جذباتی منظر کو ختم کر کے اسے گاڑی میں بٹھایا تھا۔

’’اللہ کے لےے بس کرو، ورنہ سیلاب آجائے گا۔‘‘

اویس نے بڑی عاجزی سے اسے ٹوکا۔ اس کے برابر میں اویس کی بھابھی بیٹھیں تو وہ بھی کہے بغیر نہیں رہ سکیں۔

’’ہانیہ! تم نے تو سارے میک اپ کا بیڑا غرق کر دیا۔ میں نے اپنی رخصتی کے وقت ایک آنسو ٹپکنے نہیں دیا تھا۔‘‘

’’ہاں لوگ کہنے لگے تھے۔ دلہن کے دیدوں کا پانی مر گیا ہے۔‘‘ اگلی نشست پر بیٹھے اویس کے بھائی برجستہ بولے۔

’’ہاں لوگوں نے کہا تو آپ کو پتا چلا، ورنہ آپ کو تو اسی وقت سمجھ جانا چاہےے تھا جب میں نے آپ سے شادی کے لےے ہامی بھری تھی۔‘‘ بھابھی فخریہ انداز میں بولیں۔ اویس کا پورا گھرانہ ہی ایک جیسا تھا یا وہ اسے بہلانے کے لےے کہہ رہے تھے۔ وجہ جو بھی ہو، وہ کافی سنبھل گئی تھی۔

’’بھائی باقی باتیں گھر پر کرلیجےے گا۔ جلدی سے کار اسٹارٹ کریں، ورنہ ہانیہ کہے گی۔ ایکسکیوزمی مجھے اترنا ہے۔ آپ پلیز راستہ چھوڑ دیں۔‘‘ اویس کی بات پر اس کے ذہن میں ایک جھماکا ہوا تھا۔ بہت پہلے فن لینڈ کے اس جھولے میں اس نے اویس سے یہی کہا تھا اور اس وقت اسے یہی لگا تھا کہ اویس نے اس کی بات سنی ہی نہیں مگر اسے تو آج تک یاد تھا۔

کل رات سے وہ یہی سوچ رہی تھی کہ کاش اس کی شادی اویس کے ساتھ نہ ہوتی یا کسی طرح وہ اس شادی کو روک سکتی لیکن وہ سارا انتشار جیسے ایک دم تھم گیا۔ بھابھی کے دےے ٹشو سے آنسو پونچھتے ہوئے اس نے ساری غیر ضروری سوچوںکو ذہن سے جھٹک دیا۔ اس کے والدین اگر اس کی طرف سے بدگمان تھے تو اس کے ذمہ دار وہ خود تھے، جنہوں نے اس سے کوئی باز پرس نہیں کی اور نہ ہی اسے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع دیا۔ وہ دونوں اعتدال رکھنا جانتے ہی نہیں تھے۔ خاص طو رپر مما، جنہوں نے زندگی بھر کچھ نہ کہا اور جب کہا تو ایسے وقت کہا جب وہ اپنی زندگی کے سب سے اہم موڑ سے گزر رہی تھی۔ اس کے پاس صورت حال واضح کرنے کا وقت نہیں تھا بلکہ انہوں نے اس کی ساری خوشی غارت کر دی۔ زندگی میں کبھی محبت نہیں کی اور جب اس کا اس گھر میں آخری دن تھا، تب اس کے سامنے ایک ایسی تقریر کر دی جو سوائے اذیت کے کچھ نہیں دے سکتی تھی۔ لہٰذا اس وقت ان کی نظروں میں معتبر بننے کی آرزو میں گھلنے کے بجائے اسے خود کو ایک نئے سفر کے لےے تیار کرنا تھا، جہاں اسے مما کے اعتراضات کو غلط ثابت کرنا تھا جو انہیں اویس کے ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے تھا۔ مما نے تو اسے صرف کوشش کرنے کے لےے کہا تھا مگر اس کی تو زندگی کا مقصد ہی یہ بن گیا تھا۔ گو کہ اس کے امکان بہت کم تھے کیونکہ اس کا مزاج مما جیسا نہیں تھا۔ اسے مما کی طرح چیخ چیخ کر لڑنا نہیں آتا تھا اور نہ ہی مما کی طرح وہ ذرا ذرا سی بات پر ضبط کھوتی تھی بلکہ مما سے وہ سب کہنے کے بعد وہ اپنی زبان پر اور بھی کنٹرول کرنا سیکھ گئی تھی کیونکہ اس ایک تجربے نے اسے سکھا دیا تھا کہ غصے میں انسان کئی غلط الفاظ استعمال کرجاتا ہے جو بعد میں شرمندگی کا باعث بنتے ہیں، ورنہ زندگی میں ایسے کئی مقام آئے، جہاں اسے اویس کی مصروفیت پر شدید غصہ آیا تھا اور ہزار ضبط کے باوجود اسے لگتا کہ وہ پھٹ پڑے گی۔ چنانچہ ایسے وقت میں وہ کوشش کرتی کہ اویس سے سامنا ہی نہ ہو۔ ویسے بھی اس نے ساری زندگی بھری سسرال میں گزارنی تھی، جہاں ویسے بھی ہر بات بولنے سے پہلے تولنی پڑتی ہے، ورنہ ہر بات کا الٹا مطلب با آسانی نکالا جاسکتا ہے۔

اویس کے دونوں بھائیوں کا اپنی بیویوں سے اکثر جھگڑاہوجاتا، تب ان دونوں کی مثال ضرور دی جاتی اور اس کا بھی نوے فیصد کریڈٹ ہانیہ کو دیا جاتا جو اتنی برداشت سے کام لیتی تھی۔ اس کی جٹھانیاں کبھی کبھی اسے ’’شوہر کو قابو‘‘ میں رکھنے کی ہدایتیں بھی دیتیں مگر ہانیہ نے تو جیسے تمام کی تمام ذمہ داریاں اپنے اوپر لے لی تھیں تاکہ اویس گھر کی طرف سے بالکل بے فکر ہو کر صرف اپنے مقاصد پر نظر رکھے۔ ایسا کرنے کے لےے ہانیہ کو انتھک محنت کرنی پڑی تھی۔

تینوں بچوں کی ذمہ داری میں بھری سسرال کے ساتھ رہتے ہوئے وہ اچھی خاصی گھن چکر بن جاتی۔ کبھی کبھی وہ جھنجلا بھی جاتی لیکن تسکین کا ایک ختم نہ ہونے والا احساس ہر وقت اس کے ساتھ رہتا۔ حالانکہ اب اویس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا تھا کہ وہ اسے سراہے لیکن وہ جانتی تھی، وہ اس کے لےے بہت اہم ہے۔ اویس نے ہی پاپا کو ساری بات بتا کر اس کی پوزیشن کلیئر کی تھی۔ پہلے وہ کئی بار اسے بتا چکا تھا۔

’’اس میڈیکل کالج کے بازار میں تمہیں اچانک دیکھ کر مجھے جتنی خوشی ہوئی تھی، اس سے بھی زیادہ تکلیف تمہارے اچانک غائب ہوجانے پر ہوئی تھی۔ اصل میں، میں تم سے تمہارا نام پتا نہیں پوچھنا چاہتا تھا۔ میرے لےے تمہیں پانا اتنا امپورٹنٹ نہیں تھا بلکہ یہ زیادہ اہم تھا کہ تم مجھے غلط نہ سمجھو لیکن تمہارے چلے جانے کے بعد مجھے خود پر بہت غصہ آیا ۔ ایٹ لیسٹ تمہارا نام تو پوچھ لیتا۔ تم سوچ بھی نہیں سکتیں، میں نے تمہیں کتنا ڈھونڈا ہے۔ تمہارے ملنے کی کتنی دعائیں مانگی ہیں اور جب مجھے یہ پتا چلا کہ تم ہی ڈاکٹر احتشام کی بیٹی ہو، تب مجھے دعا کی طاقت پر یقین آیا ہے۔ تمہیں یاد ہوگا، میں نے تم سے بھی کہا تھا دعا میں بہت اثر ہوتا ہے۔ میں نے اللہ کو کبھی اپنے اتنے قریب محسوس نہیں کیا تھا، تمہاری وجہ سے میں نے اتنی گہرائی میں اتر کر سوچنا شروع کیا کیونکہ جتنی میں تمہارے ملنے کی دعا مانگتا، اتنا ہی دادی کے حسرت بھرے جملوں میں اضافہ ہوتا جاتا۔

’’اے اتنی اچھی لڑکی دیکھی تھی تمہارے لےے تمہارے ڈاکٹر احتشام نے کہا۔ پہلے پڑھنے دیں اسے۔ آخر کب تک ختم ہوگی یہ پڑھائی۔ پڑھائی ہے یا شیطان کی آنت۔‘‘

مجھے لگتا تھا میری ہائوس جاب کرتے ہی وہ ڈاکٹر احتشام کے گھر پہنچ جائیں گی۔ میں گھبرا کر اور دعائیں مانگتا اور ان کا پریشر اور بڑھ جاتا۔‘‘

اپنی بات پر وہ خود ہی ہنستا چلا جاتا۔ ہانیہ بڑی دلچسپیسے چپ چاپ اس کی باتیں سنتی رہتی۔ اکثر اس کا دل چاہتا کہ وہ بھی اویس کی طرح اپنے بارے میں اسے بتائے جب پہلی بار وہ اس کی گاڑی میں بیٹھی تھی، تب وہ اس سے اور اس کے دوستوں سے کتنی خوف زدہ تھی یا جیسے اس کے مشورہ پر ہانیہ کے مزاج میں کتنی تبدیلی آئی تھی مگر اسے بچپن سے اپنے احساسات شیر کرنے کی عادت نہیں تھی اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ اویس کے پاس اتنی فرصت بھی نہ رہی کہ اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کی باتیں سنتا۔

وہ مما کو دیکھ کر اکثر سوچا کرتی تھی کہ اگر پاپا بزی رہتے ہیں تو مما کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ انہیں ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا کرنا چاہےے اور اس نے اپنے بچوں کے لےے یہی لائحہ عمل ترتیب دیا تھا، وہ نہ ان کے ساتھ اتنی سخت تھی کہ وہ اپنے ہی گھر میں اجنبیت محسوس کرنے لگتے اور نہ اتنی نرم کہ وہ بدتمیزاور گستاخ بن جاتے۔ البتہ اس کی بڑی بیٹی نازش بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اکثر اسے ٹوکنے لگی تھی لیکن وہ کبھی تمیز کے دائرے سے باہر نہیں ہوتی تھی بلکہ ہانیہ اس کی بات غور سے سنتی تھی اور اسے تسلی بخش جواب دینے کی کوشش کرتی کیونکہ نازش کے اعتراضات بالکل مما جیسے ہوتے تھے۔

’’پاپا ہم سب کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔ آخر بڑے تایا اور چھوٹے تایا بھی تو اتنا بڑا بزنس سنبھالتے ہیں۔ وہ بھی تو اپنے بچوں کے لےے وقت نکالتے ہیں۔ اصل میں آپ نے ضرورت سے زیادہ ذمہ داریاں اپنے سر لے لی ہیں کہ پاپا بالکل آزاد ہوگئے ہیں۔ وہ ہمارے اسکول میں پیرنٹس ڈے میں بھی نہیں آتے کیونکہ آپ خود کہتی ہیں۔

اگر آپ کے پاس ٹائم نہیں ہے تو کوئی بات نہیں، میں چلی جائوں گی۔ حالانکہ مما! آپ کے ہونے سے پاپا کی جگہ بھر نہیں جاتی۔‘‘ اس کے اعتراضات اتنے بے جا نہیں تھے بلکہ اس کی باتوںسے ظاہر ہوتا، وہ اویس سے متنفر ہوتی جارہی ہے، تب ہی ہانیہ اسے سمجھانے کے لےے کہتی۔

’’تمہارے پاپا کے کئی ہاسپٹل ہیں بلکہ دیہاتی علاقوں میں اسپتال کی ایک چین ہے، جہاں مفت علاج ہوتا ہے۔ ان کو خود جا کر وقفے وقفے سے چیک کرنا پڑتا ہے کہ فنڈ کی رقم واقعی مستحق لوگوں تک پہنچ رہی ہے یا نہیں۔‘‘ ہانیہ اسے سمجھاتی مگر نازش کی باتیں ہانیہ کا ذہن بھی منتشر کر نے لگتیں۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں وہ سب کبھی تنہائی کا شکار تو نہیں ہوتے تھے لیکن ہزار لوگوں کی موجودگی ایک اویس کی کمی کو پورا نہیں کر سکتی تھی اور اس کی مصروفیت تھی کہ دن بہ دن بڑھتی جارہی تھی۔ ڈاکٹر احتشام بھی ڈھلتی عمر کے باعث اپنے کام اس کے ذمہ ڈال دیتے۔ ہانیہ دل ہی دل میں زچ ہوجانے کے باوجود زبان سے کچھ نہ کہتی لیکن نازش کے اندر احساس کمتری پیدا ہونے لگا تھا۔ دونوں تایا اپنے بچوں کے لاڈ کرتے اسے دیکھ کر وہ روہانسی ہوجاتی۔

’’آخر دنیا کے مرد کام کرتے ہیں، اتنا غافل تو کوئی نہیں ہوتا اپنی اولاد سے۔‘‘ اس سے چھوٹے مہوش اور دانش تو بہت مطمئن رہتے لیکن نازش کی باتیں ہانیہ کے اعصاب کو جھنجوڑنے لگتیں اور پھر جس طرح کئی سال پہلے وہ ایک بار مما کے سامنے پھٹ پڑی تھی، ویسے ہی اویس کے سامنے اس کے اندر پکتا لاوا باہر آگیا۔ اس نے اپنے بچوں کی تربیت کے دوران اس بات کا بہت خیال رکھا تھا کہ وہ سب مذہب کے بہت قریب رہیں اور نازش کی جب سے شادی طے ہوئی تھی، وہ اور بھی عبادت گزار ہوگئی تھی۔ عشائ کی نماز کے بعد وہ دیر تک ہاتھ اٹھائے دعا مانگتی رہی تھی اور جب اٹھی تو اپنے پیچھے ہانیہ کو اپنا منتظر دیکھ کر شرمندہ سی ہوگئی۔

’’کیا مانگ رہی تھیں اتنی دیر سے۔‘‘ ہانیہ مسکرا دی۔

’’ایسی ہی بے کار سی دعا تھی۔‘‘

’’بالکل غلط، دعا کبھی بے کار نہیں ہوتی۔‘‘ ہانیہ نے فوراً ٹوکا۔

’’مہوش سنے گی تو چیخے گی۔ اتنا کچھ دیا ہے اللہ نے۔ ایک ذر ا سی کمی ہے وہ بھی برداشت نہیں ہوتی۔‘‘ نازش مسکرائی۔

’’ایسے نہیں کہتے نازش! انسان تو اپنی ہر حاجت کے لےے اللہ کا محتاج ہے پھر وہ ذرا سی کمی ہو یا بڑی سے بڑی ضرورت، اسی سے مانگنا چاہےے اور دعا میں تو بہت طاقت ہوتی ہے۔‘‘ ہانیہ نے بڑی گہری بات کافی شوخ سے انداز میں کہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی، نازش کیا مانگ رہی ہوگی۔ کچھ ہفتوں میں اس کی شادی ہونے والی تھی، یہی سوچ کر وہ مسکراتے ہوئے بولی لیکن نازش نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا۔

’’پاپا ایک ضروری ٹرپ سے باہر جارہے ہیں۔ کہا تو انہوں نے یہی ہے کہ شادی سے دو دن پہلے آجائوں گا لیکن مجھے یقین ہے وہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وقت پر نہیں پہنچ سکیں گے۔ بس یہی مانگ رہی تھی جو چند ہفتے میرے اس گھر میں رہ گئے ہیں، پاپا کم از کم وہ تو میرے ساتھ گزارلیں۔‘‘ اس بات کی تو ہانیہ کو توقع ہی نہیں تھی۔ اسے حیران ہوتا دیکھ کر وہ کچھ شرمندگی سے بولی۔

’’آپ کو بھی میری خواہش بے کار سی لگ رہی ہے نا۔ مہوش بھی ابھی ابھی ڈانٹ کر گئی ہے۔ پاپا اتنی محنت کرتے ہیں وہ نظر نہیں آتا، بس ہر وقت۔۔۔ کیا کروں مما! ہر ایک کا اپنا اپنا پوائنٹ آف ویو ہوتا ہے۔‘‘ وہ جائے نماز تہ کرتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ ہانیہ اس سے توکچھ نہیں بولی مگر اسی وقت اویس کے پاس پہنچ گئی جو سونے کی تیاری کر رہا تھا۔ پہلی بار اس کے تھکے ہوئے ہونے کا خیال کےے بغیر وہ اس کے ٹرپ کے بارے میں پوچھنے لگی جس پر اسے اگلے ہفتے جانا تھا اور ہانیہ کو اب پتا چلا تھا۔ ’’اور اگر شادی سے دو دن پہلے تم نہیں آسکے تو۔۔۔‘‘

’’کیوں نہیں آئوں گا، نازش کی شادی ہے۔‘‘ اس کے سپاٹ لہجے پر اویس نے حیرت سے جواب دیا تھا اور اس پل وہ اپنے آپ سے کیا ہر عہد بھول گئی۔ اس کی برداشت جواب دے گئی تھی۔ وہ ساری شکایتیں جو اس نے ایک مدت سے اپنے اندر دفن کر رکھی تھیِ سب زبان پر آگئیں۔ پرانی سے پرانی اور چھوٹی سے چھوٹی بات۔

’’نازش کی پیدائش کے وقت بھی تم نے یہی کہا تھا نا۔ بہت بڑا سیمینار ہے پوری دنیا سے ڈاکٹرز آرہے ہیں۔ بس دو دن میں آجائوں گا لیکن تم نہیں آسکے، برف باری کی وجہ سے ایک ہفتے تک کی ساری پروازیں کینسل ہوگئیں۔ بس آنے کے بعد کہہ دیا تمہارے لےے بہت پریشان رہا، سوری۔ تم اب بھی نہیں آسکو گے، وہاں کئی کام نکل آئیں گے اور تم سوچو گے۔ ہانیہ وہاں موجود ہے، وہ سب سنبھال لے گی اور ٹھیک ہی تو ہے، میں واقعی سب سنبھال لوں گی۔ ہمیشہ سب کچھ میں نے ہی تو سنبھالا ہے۔ ان کے لےے ماں اور باپ دونوں بن کر رہی ہوں لیکن کبھی تم نے سوچا کہ مجھے کون سنبھالے گا، میری زندگی میں تو تمہاری کمی کوئی دوسرا پوری نہیں کر سکتا۔

شادی کے شروع شروع میں تم کہتے تھے تھے نا کہ تم نے مجھے بہت ڈھونڈا تھا اور اب تم نے مجھے اپنے ہی گھر میں کھو دیا ہے اور تمہیں احساس تک نہیں ہے۔‘‘ نازش کا کمرا برابر میں ہی تھا۔ شور کی آواز پر وہ دوڑی چلی آئی اور ہمیشہ یہ سوچتے رہنے کے باوجود کہ ماں باپ کو بچوں کے سامنے نہیں لڑنا چاہےے، وہ نازش کو دیکھ کر بھی اپنے گلے شکوے دہراتی رہی اور پھر خود ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

اسے یقین تھا اب اویس اپنے گزشتہ روےے پر شرمندہ ہوتے ہوئے معافی مانگے گا جس پر ہانیہ ہمیشہ یہی کہتی تھی۔ ’’کوئی بات نہیں۔‘‘ جب وہ پہلے ہی معافی مانگ رہا ہے تو وہ اسے مزید کیا شرمندہ کرے مگر اس نے سوچ لیا تھا کہ اب کی بار وہ ایسا نہیں کہے گی اور اویس کو ہر گز جانے نہیں دے گی مگر جب وہ بولا تو ہانیہ رونا دھونا بھول کر اس کی شکل دیکھنے لگی۔

’’نازش کی پیدائش پر میں نہیں آسکا اور آنے کے بعد کہہ دیا۔ تمہارے لےے بہت پریشان رہا ہوں، سوری۔ میری کہی بات کتنی اچھی طرح یاد ہے تمہیں اور اپنی کہی بات بھول گئیں۔ تم نے کہا تھا۔ کوئی بات نہیں۔ میرے والدین تھے، تمہارے والدین تھے، بھابھیاں تھیں، پاپا کے ہسپتال کا پورا عملہ تھا، وغیرہ وغیرہ۔ میں سمجھ رہا تھا تم خفا ہوگی، مجھ سے بات نہیں کرو گی۔ میں مجبوری کی وجہ سے نہیں آسکا لیکن تم یہ تو ضرور کہو گی کہ تم نے مجھے مس کیا۔ شادی کے شروع میں، میں بہت کہتا تھا نا کہ میں نے تمہیں بہت ڈھونڈا، تمہارے ملنے کی بہت دعائیں کیں لیکن کیا تم نے کبھی کچھ کہا بلکہ کبھی کبھی مجھے لگتا جیسے میں دیواروں سے باتیں کر رہا ہوں۔ہمیں کسی پارٹی میں جانا ہوتا تو تم ہمیشہ یہی کہتیں۔ آپ بزی ہیں تو کوئی بات نہیں، میں بھی نہیں جائوں گی یا آپ کہیں تو بھابھیوں کے ساتھ چلی جائوں۔ بچوں کے اسکول کا فنکشن ہوتا تو تم کبھی چلنے کے لےے اصرار نہ کرتیں۔ آپ کے پاس ٹائم نہیں تو پریشان نہ ہوں۔ میں ہوں نا، میں چلی جائوں گی۔ کتنی بار میرا دل چاہتا کہ تم سے پوچھوں، تم ہر کام اکیلے کر سکتی ہو۔ اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میرے ساتھ کی خواہش ہی نہ رہی لیکن پھر یہ سوچ کر چپ ہوجاتا کہ تمہیں دکھ ہوگا۔ تم نے گھر کو کتنی اچھی طرح سنبھال رکھا ہے۔ بچوں کو بھرپور توجہ دیتی ہو، میرے ماں باپ کی اتنی عزت کرتی ہو۔ دادی کے آخری وقت میں ان کی اتنی خدمت کی۔ کبھی بھابھیوں سے تمہارا جھگڑا نہیں ہوا۔ بس ایک کمی رہی اور وہ بھی اویس نے جتا دی۔

’’آج پہلی بار تم نے کہا ہے کہ میری کمی کوئی دوسرا پوری نہیں کر سکتا، ورنہ مجھے تو لگتا کہ تمہاری زندگی میں میرے لےے کوئی جگہ ہی نہیں۔ تمہیں میری ضرورت ہی کہاں ہے۔ میں نے تمہیں کبھی جان بوجھ کر نظر انداز نہیں کیا لیکن یہ ضرور سوچتا تھا، کبھی بھی گھر چلا جائوں گا۔ تمہیں کون سا میرا انتظار ہوتا ہے۔ خود کو سمجھاتا بھی تھا۔ اتنا تو خیال رکھتی ہو تم میرے کپڑوں کا، میرے کھانے پینے کا، اب اس سے زیادہ محبت تمہارے دل میں ہے ہی نہیں تو تم کیا کرو۔‘‘ وہ بے یقینی سے اویس کو دیکھ رہی تھی جوعجیب یاسیت بھرے انداز میں بول رہا تھا۔

’’پاپا۔۔۔ امریکہ سے ڈاکٹر جون کا فون ہے۔‘‘ دانش کے آواز لگانے پر وہ تو کمرے سے نکل گیا لیکن ہانیہ کے لےے پانی کا گلاس لےے کھڑی نازش اسے تاسف سے دیکھنے لگی۔

’’ساری غلطی آپ کی ہے مما! ان سب باتوں کی ذمہ دار آپ ہیں۔ آج جو کچھ بھی ہوا، وہ ایک دن ہونا ہی تھا۔ مما! آپ کو کیا لگتا ہے کہ پاپا ڈاکٹر ہیں، اس لےے ان کے پاس فیملی کے لےے وقت نہیں، حالانکہ ڈاکٹرز کے پاس بھی اپنے بیوی بچوں کے لےے مناسب ٹائم ہوتا ہے کیونکہ وہ وقت نکالنا چاہتے ہیں لیکن پاپا ایسی کوئی کوشش ہی نہیں کرتے۔ انہیں اگر فرصت کے لمحات میسر بھی آتے ہوں گے، تب بھی وہ گھر آنے کے بجائے ہاسپٹل میں ہی آرام کرنے کو ترجیح دیتے ہوں گے۔‘‘ وہ گلاس ٹیبل پر پٹخ کر روہانسی ہوتے ہوئے بولی۔ ہانیہ اس سے کیا کہتی۔ وہ تو اس کی شدتوں سے واقف تھی۔ یہ جاننے کے بعد کہ ان سے بہت محبت کرنے والی ان کی ماں ہی ان کے پاپاسے دوری پیدا کرنے کا سبب ہیں۔ اسے ایسا ہی کوئی ردُِ عمل دکھانا تھا۔ وہ زیادہ کچھ کہہ کر ہانیہ کا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی، اس لےے یہ کہتی اس کے کمرے سے نکل گئی۔

’’آپ زندگی میں بیلنس نہیں رکھ سکیں مما!‘‘

ض ض ض

کتنی دیر اس کمرے میں، میں سن ذہن کے ساتھ بیٹھی رہی۔ چوبیس سال پہلے اپنے والدین کے لےے میں نے یہی سوچا تھا کہ وہ زندگی میں اعتدال نہیں رکھ سکے۔ میری ماں نے کبھی مجھے ’’میری بیٹی، میری جان‘‘ کہہ کر پیار نہیں جتایا تھا، اس لےے مجھے لگتا کہ انہیں مجھ سے محبت ہی نہیں ہے۔

میری نانی ٹھیک کہتی تھیں۔ ہر انسان دنیا کو اپنے زاویۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ ساری زندگی میں نے خود سے لڑتے ہوئے گزاری تھی کیونکہ مجھے مما جیسا نہیں بننا تھا مگر آج میری بیٹی نے مجھے وہیںکھڑا کر دیا تھا، جہاں چوبیس سال پہلے میں اپنی ماں کو کھڑا دیکھتی تھی لیکن میرے پاس ابھی بھی وقت تھا، میں زندگی میں توازن نہیں رکھ سکی لیکن میں پھر کوشش کروں گی۔ اگر پھر ناکام ہوئی تو پھر کوشش کروں گی۔

میں دروازہ کھول کر کمرے سے باہر آگئی، جہاں اویس فون پر ڈاکٹر جون سے بات کر رہا تھا۔ وہ انگلش میں کہہ رہا تھا۔

’’میں نہیں آسکتا جون! میری بیٹی کی شادی ہے۔ ہاں میری بیوی سب سنبھال لے گی لیکن اسے سنبھالنے کے لےے بھی تو کوئی ہونا چاہےے۔‘‘ اویس مجھ پر نظر پڑتے ہی مسکرا دیا اور میں اس کے فون بند کرنے کا انتظار کرنے لگی تاکہ اگر اویس اسے نہ سمجھا سکے تو ایک بار پھر میں اس سے لڑسکوں کیونکہ بچوں کے سامنے لڑنے سے ہمیشہ ماں باپ کی عزت کم نہیں ہوتی۔ بدگمان ہونا بہت آسان ہے اور کسی کو سمجھنا بہت مشکل۔ ماں باپ بھی انسان ہوتے ہیں، وہ اپنے تجربے کے مطابق ہی توازن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ساری بات اپنے اپنے زاویۂ نظر کی ہے۔

*****

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں