سجن سدائیں سوجھرو – کنیز نبوی

ناولٹ 2

محبت کے اظہار کے سو طریقے ہیں لیکن اس کیفیت کا مکمل احساس بیان کرنے کے لےے دنیا کی کسی بھی زبان میں الفاظ نہیں ہیں۔ اظہار کرنے بیٹھو تو الفاظ بے بس ہو کر ہار مان لیتے ہیں۔ وہ چاہنے کے باوجود ماروی تک سے اپنے احساسات کا اظہار نہ کر سکا تھا۔ اپنے ہجر کی داستان فراق کا سوز اور دوری کا پَردرد احساس اس تک نہ پہنچا سکا۔ اس کی سالوں پر محیط محبت کے اندر شامِ غریباں کا سا سوز تھا۔ اس کے قلب و جاں کا ہر احساس لٹ چکا تھا۔ محبت کے ہاتھوں وہ کتنا بے اماں ہوگیا تھا۔ اس شام جب گل نے کہا تھا۔

’’سانگی! ان تلوں میں تیل نہیں، اپنی ماں اور نانی کا انجام دیکھ کر اسے مرد اور محبت پر بھروسا نہیں۔ وہ مرد کی محبت کو پانی کا بلبلہ سمجھتی ہے۔ وہ تمہارا نام سننا بھی پسند نہیں کرتی۔ بہتر ہے کہ اس کا خیال دل سے نکال دو۔‘‘

شام کی ٹھنڈی ہوائوںمیں بھی وہ سارا پسینے میں نہا گیا تھا۔ بے سکونی نے اس کے جسم و جاں میں پنجے گاڑے تھے۔ وہ بے تحاشا پریشانی کے عالم میں گل کے گھر سے لوٹا تھا۔

بابا مکی شاہ کے مزار سے گزرا تو ایک خسرہ خیرات کے لےے صدا لگا رہا تھا۔ دوسری طرف اسے دیکھ کر قوال پارٹی نے ہارمونیم چھیڑ دیا تھا۔ اس نے دونوں طرف نوٹ اچھالے اور آگے بڑھ گیا۔

دونوں طرف سے ’’تیری مراد بر آئے‘‘ کی صدائوں نے اس کے دل کو جکڑا۔ دل کے اندر اور درد بھر گیا۔

محبت بھی کسی آسیب سے کم نہیں ہوتی کہ اس میں بھی بندہ چیختا چلاتا، روتا گڑگڑاتا رہتا ہے۔

وہ ساری رات حیدرآباد کے مختلف علاقوںمیں آٹو بھان روڈ، لطیف آباد، قاسم آباد، تلک چاڑی، صدر کنٹونمنٹ ایریا، پکُا قلعہ سے جام شورو تک موٹر سائیکل پاگلوں کی طرح دوڑاتا رہا۔

فجر کے وقت تھک ہار کر ہاسٹل آیا تو اسے نیند نہیں آرہی تھی۔ وہ مختلف سڑکوں اور درگاہوں پر روتے روتے تھک گیا تھا، اب سونا چاہتا تھا۔

تیسری ٹرینکولائزر لینے کے بعد وہ بے سدھ ہوگیا تھا۔ وہ بخارمیں پھنک رہا تھا۔

محبوب کی اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ وہ جسے چاہے وہ اسے نظر انداز کر دے جس کو وہ پوجے وہ دھتکار دے مگر اس کی آہ بے اثر نہیں تھی۔ ماروی کے دل کے دروازے کھلتے چلے گئے۔ جب ماروی کی مشکل گل کی زبانی اسے پتا چلی، اس نے پھر جیسے ہر جگہ ماروی کی نگرانی و حفاظت اپنا فرض اولین سمجھ لیا۔

اور پھر خود بخود اس کے لےے راہیں ہموار ہوتی چلی گئیں۔ وہ اس کی تھی اب۔وہ اس سے اپنی بھرپور محبت کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ گائوں آنے سے پہلے مگر جب اس سے ملنے گیا تو اسے صرف دیکھتا ہی رہ گیا۔

محبت میں دیکھتا محبوب کے پاس بیٹھ کر اس کو محسوس کرنا۔ محب اس میں محو ہوجاتا ہے۔ گم صم بیٹھا رہ جاتا ہے۔ اس کی گویائی خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے۔ محب اظہار کے پھول تب کہیں نچھاور کرتا ہے جب دھڑکنیں کچھ معمول پر آنے لگتی ہے۔

وہ گائوں میں نہر کنارے بیٹھا اس کی یادوں میں کھویا تھا، تب ہی میسج ٹون بجی۔ اس نے فوراً موبائل جیب سے نکالا۔

’’تم نے مجھے ایک نئے جذبے سے آشنائی دی ہے، راستے میں ساتھ نہ چھوڑ دینا۔‘‘ اس کے ہونٹوں پر بڑی آسودہ مسکراہٹ آئی۔

اس نے جواب میں بھٹائی کا بیت لکھا تھا۔

وری ورندا وائو وری وسندا مہینہ

سجن ملندا سجنیں نواں لگندا مہینہ

وچھوڑے جاڈینیہ رہی دھندا کیترا

(وصل کی ہوائیں بارشیں برسیں گی اور سجن سجنوں سے ملیں گے۔ عشق کے نئے باب کھلیں گے۔ جدائی کے دن آخر کتنے رہیں گے۔ جدائی کا عرصہ بالآخر ختم ہوگا۔)

اس نے تصویر کی آنکھ سے دیکھا۔ ماروی اس کا میسج پڑھ کر مسکرائی تھی ۔ وہ دیر تک سرشاری کے عالم میں ڈوبا رہا۔

ئ ئ ئ ئ

’’آج دودھ دوہنے میں دیر کر دی اماں!‘‘ وہ پیڑا رکھ کر ماں کے پاس آبیٹھا۔

’’ہاں بچڑا (پڑوس) میں دیر ہوگئی۔ قرآن خوانی میں گئی تھی۔‘‘ وہ دودھ چولہے پر رکھتے ہوئے بولی۔

’’ماں ماروی مان گئی ہے۔‘‘ وہ جھجکتے ہوئے بولا۔

’’شادی کے لےے؟‘‘

’’جی جیجل اماں!‘‘ اس کا انگ انگ مسکا رہا تھا۔ ماں نے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام لیا۔ نم آنکھوں سے بیٹے کی پیشانی چوم لی۔ بیٹے کو راتوں کو بے خواب رت جگے کا عذاب بھگتے دیکھ کر اس کے لبوں پر بے ساختہ دعا ٹھہر جاتی۔

وہ اپنے دونوں گالوں پر رکھے ماں کے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر باری باری چومنے لگا۔

’’اماں! یہ سب آپ کی دعائوں کا ثمر ہے۔‘‘

’’ہاں بچہ! مالک مٹھے کی لاکھ مہربانیاں کہ مجھ نمانی عیبوں بھری کی دعائوں کو شرفِ قبولیت بخش دیا۔ ہر وقت دعا مانگتی ہوں۔ اے اللہ! کَل جہاں کے بچوں کو آبادرکھ، ان کے صدقے میرے بچوں کو آباد رکھ۔‘‘

وہ آمین کہہ کر ان کے گھٹنے سے لگ گیا۔

وہ وفورِ محبت سے اس کے سر پر، منہ پر، شانوں پر ہاتھ پھیرتی دعائیں دیتی جارہی تھی۔

ماروی کی ماں اور نانی کی کہانی سرمد کی زبانی سن کے اسے حقیقی معنوںمیں ان سے ہمدردی محسوس ہوئی تھی مگر بات وہ خود بگاڑ کے آئی تھی اور اب پریشانی سے دعا کرتی رہتی تھی کہ ماروی راضی ہوجائے۔

ئ ئ ئ ئ

یہ ان دنوں کی بات تھی، جب پاکستان کے فوجی صدر نے ناعاقبت اندیشی سے پانچ دریائوں کی سرزمین پنج آب کے تین دریا، ستلج، بیاس، راوی کوڑیوں کے مول بھارت کو بیچ دےے تھے جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا تھا، ان ہی دنوں میں فائنل کا امتحان دے کر اس نے پرائمری ٹیچر کے لےے اپلائی کر دیا۔

ٹھیک تین ماہ بعد اس کو ملازمت کے آرڈر مل گئے۔ وہ خوشی خوشی مٹھائی لے کر سیدھا باپ کے پاس آیا تھا۔ مگر باپ نے سن کر خوشی کا اظہار نہیں کیا تھا۔

’’احمد علی! کیوں چند ٹکوںکی نوکری کرتا ہے۔ اپنی زمین ہے، وہ سنبھال۔ سردار صاحب کی جاگیر کی دیکھ بھال کر۔ میں نے تو سمجھا تھا کہ تَو پڑھ لکھ جائے گا تو آرام سے سردار صاحب کی پوری جاگیر سنبھال لے گا مگر تَو اس ڈیڑھ دو سو کی نوکری پر خوش ہورہا ہے۔

’’بابا ! میں سردار کا غلام نہیں بن سکتا۔‘‘ احمد علی سانگی نے قطعی لہجے میں کہا۔

’’یہ بھی تو تَو نوکر بنا ہے۔ کون سا صدر بن گیا ہے۔‘‘ اسے بیٹے کی بات پر طیش آگیا۔

’’بابا! ستاد نوکر نہیں، قوم کا محسن ہوتا ہے اور سرکاری نوکری کون نہیں کرتا، سب کرتے ہیں۔ یہ وڈیرے اور سردار بھی۔‘‘

اس کا باپ لاجواب ہو کر خاموش ہوگیا۔ عالم اور دلیل کو بندہ مان لے، اسے ہار ماننے میں تامل نہیں ہوتا۔

اس نے دونوں ہاتھ باپ کے پیروں پر رکھ دےے۔

’’مجھے افسوس ہے بابا! کہ میں آپ کی توقعات پر پورا نہیں اترا مگر میں نے علم کا راستہ وڈیروں کی غلامی سے نجات ہی کے لےے اپنایا ہے۔‘‘

اس کے باپ نے خاموشی سے اس کی پشت سہلائی تھی۔ اس کا شمار سرداروں، وڈیروں اورجاگیرداروں کے ان کمداروں میں ہوتا تھا جو ان کے ہر کہے پر عمل کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے تھے مگر اس بار بغاوت کسی مزارعے کی طرف سے نہیں، ان کے اپنے گھر سے اٹھی تھی۔ یہ گھر کا چراغ تھا جسے گل کر کے وہ اپنے آنگن میں اندھیرا نہیں پھیلا سکتا تھا، سو خاموش ہوگیا۔

اس نے افسوس سے باپ کو دیکھا جو سینکڑوں غلاموں میں سے ایک غلام تھا۔ ان سرداروں کا، جاگیرداروں کا جن کو انگریز سرکار نے وفاداری کے عوض سارے علاقے کی جاگیریں تفویض کی ہوئی تھیں۔ جو جاگیریں انگریز کے جانے کے بعد بھی قائم و دائم تھیں۔

کمدار دھنی بخش کا بیٹا احمد علی سانگی پتا نہیں اس کے اندر ایسی انقلابی روح کہاں سے آگئی کہ اس نے سردار کی جوتیاں سیدھی کرنے کے بجائے قلم اور کتاب سے ناتا جوڑ لیا۔ اس کے گائوں میں اسکول نہیں تھا، اس لےے اس کا باپ اس کو داخل نہیں کروا سکا تھا مگر اس کے شوق نے جنون کی شکل اختیار کر لی تھی۔ گیارہ سال کی عمر میں اس نے باپ سے بغاوت کی اور پانچ میل دور پیدل جا کر اسکول میں داخلہ لے لیا۔

اس کی ضد اور ماسٹر نیاز حسین کی پَرزور سفارش پر اس کا باپ خاموش ہوگیا تھا۔ اس نے سوچا تھا کہ کہاں یہ گیارہ سال کا بچہ اور کہاں روزانہ پانچ میل پیدل کا سفر، دو دن میں شوق پورا ہوجائے گا۔

مگر اس کو صرف شوق نہیں، اسے تو جنون تھا۔ وہ پڑھتا رہا، کمدار نے سردار کو پتا نہیں کیا کہہ کر مطمئن کیا تھا۔

پرائمری کے بعد اس کے باپ نے پھر اس کے آگے پڑھنے کی مخالفت کی مگر اس بار بھی اس نے اپنی بات منوا کر دم لیا۔ ماسٹر نیاز حسین کی مدد اسے ابھی تک حاصل تھی۔ وہ قریبی تعلقے کے ہائی اسکول میں داخل ہوگیا۔

ماسٹر نیاز حسین کے گائوں وہ روزانہ آسانی سے آجا نہ سکتا تھا، سو اس نے وہیں رہائش اختیار کر لی۔

ماسٹر نیاز حسین کی محبت نے اسے پیتل سے سونا بنا دیا۔ اس کے علم کی جوت کو جلا بخش دی۔ وہ شام کو اسکول سے آتا تو ماسٹر نیاز حسین اسے شاعری پڑھاتے، سمجھاتے۔ سندھی میں شاہ و سچل اور حمل فقیر کے اشعار کے معنی بتاتے۔مصری شاہ کی کافیاں گا کر سناتے اور اردو میں غالب اور اقبال کے شعروں کی تشریح کرواتے پھر خود کرتے۔ اسے تاریخ پڑھاتے اور ہر چھٹی والے دن وہ اسے لے کر کچُے میں جاتے۔ وہ سندھو دریا کو دیکھ کر خوش ہوتا رہتا اور ماسٹر نیاز حسین اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کر کے ہاری (مزارعے) کو مختلف ہدایات دے کر اس کے پاس آجاتے۔

وہ دونوں برگد کی چھائوں میں بیٹھ جاتے اور حسبِ معمول شینہ دریا (شیر دریا) کے قصے شروع ہوجاتے۔

جب یہ دریا شیر کی طرح گجگوڑ (شور کرتے)کرتا آتا تو ساری فصلوں اور بستیوں کو چیر پھاڑ کے رکھ دیتا۔ اس کے ایک کنارے پر کھڑے ہوکر دیکھتے تو دوسرا کنارہ نظر نہ آتا، تاحد نگاہ پانی ہی پانی۔ ایسا لگتا جیسے یہ دریا نہیں، یہ کوئی بحر ہے۔‘‘

ماسٹر نیاز حسین اپنی چھوٹی چھوٹی داڑھی کو سنوارتے ماضی میں کھوجاتے۔

’’وید دنیا کی قدیم مذہبی کتاب جسے رشیوں نے اور مہا پرشوں نے سندھو کنارے بیٹھ کر لکھا۔ رگ وید میں سندھ کے لےے اشلوک اس طرح ہے۔

’’بے خوف، نہ رکنے والی، طاقت ور سندھو، پہاڑوں اور میدانوںسے پانی کی لہریں چمکتی، شور کرتی، بہتی رہتی ہے۔

حسن والی تہذیب یافتہ سندھو، اچھے گھوڑوں والی شاہو کار سندھو۔

سوہنی گھڑے ہوئے سونے (زیوروں) میں ساہوکا۔

اٰن گنت وسائل کی مالک، یہاں کی گھاس آنکھوں کی ٹھنڈک۔

لذیذ، دمکتے سونے جیسا اناج

اور مٹھاس والا شربت۔‘‘

ماسٹر نیاز حسین خواب ناک لہجے میں اشلوک کا ترجمہ اسے سناتے، سندھو کنارے چلتے رہتے۔

’’پتا ہے احمد علی! رگ وید میں سندھو کو ’’اتم دیس‘‘کہا گیا ہے، ست سندھو کے حوالے سے۔‘

’’ست سندھو، یہ کیا ہے ماسٹر جی؟‘‘ اس نے اچنبھے سے پوچھا۔

’’ست سندھو، یعنی سات دریائوں والا ملک۔‘‘

’اور وہ سات دریا کون سے ہیں؟‘‘ اس نے بے تابی سے پوچھا۔

ماسٹر نیاز حسین بے ساختہ ہنس دےے۔

’’وہ دریا کابل، بیاس، ستلج، راوی، چناب اور جہلم ہیں، جو سب ایک سندھو میں گرتے ہیں۔ مہا بھارت میں گنگا اور سرسوتی کے ذکر کے وقت سندھو کو ندیوں کی ماتا کہا گیا ہے اور ویدوں میں گنگا کا ذکر دوبار جبکہ سندھو کا ذکر تیس بار آیا ہے۔ تاریخ میں سندھو کی عظمت اور شان ہی نرالی ہے۔‘‘

ماسٹر نیاز حسین نے جوش سے کہتے آنکھوں کے اوپر ہاتھ کا چھجا بنا کر سندھو کے دوسرے کنارے کو تکا۔

’’مگر مجھے اب ڈر لگنے لگا ہے کہ یہ دریا سکڑ نہ جائے۔‘‘ انہوں نے خود کلامی کی۔

اس بار سندھو کے کنارے سے واپسی کے بعد تاریخ سے گہرا شغف ہوگیا۔ اس نے ماسٹر نیاز حسین کی ذاتی لائبریری سے کتابیں نکال کر پڑھنا شروع کر دیں۔ چچ نامہ، عربوں کی سندھ آمد کے بعد کی تاریخ، سومرا، سمہ، کلہوڑا، تالپور ادوار کی تاریخیں قدیم سندھو اور انگریزوںکی سندھ آمد کے بعد کی تاریخیں۔ اسے کچھ کتابیں ماسٹر نیاز حسین کی لکڑی کے بڑے صندوق سے ملیں اور کچھ پیر سائیں گدا محی الدین جیلانی کی ذاتی لائبریری سے جہاں ہر قسم کی کتاب موجود تھی۔ پیر سائیں محی الدین، ماسٹر نیاز حسین کے مرشد تھے۔ وہ ہمیشہ کہتے۔ یہ نیاز حسین پیر سائیں کانیاز مند ہے۔ پیر سائیں کی وجہ سے سردار اور رئیس کے علاقے کے بیچ اس گائوں میں اسکول ہے، ورنہ وہ دونوں کبھی نہیں چاہتے کہ یہاں کے لوگ پڑھ لکھ کر ان کی غلامی سے آزاد ہوں۔

’’پوری پاکستانی قوم ان سرداروں، وڈیروں کے پاس یرغمال بنی ہوئی ہے۔‘‘

اس دن کے بعد اس کے دل میں پیر سائیں گدا محی الدین کی عزت گھر کر گئی۔

جب وہ خود ماسٹر بن گیا تو اس نے اپنے گائوں میں اپنی اوطاق کے اک کمرے میں اسکول کھول لیا اور گائوں کے بچوں کو گھروں سے پکڑ کر اسکول میں لا بٹھایا مگر یہ بات سردار کو پسند نہیں آئی، فوراً دھنی بخش کی طلبی ہوئی۔

’’اگر سارے لوگ پڑھ لکھ جائیں گے تو ہمارے کام کون کرے گا؟‘‘

’’سردار سائیں! وہ بچہ ہے، جوانی کا جوش ہے، ابھی کچھ عرصے میں خود ہی چپ کر کے بیٹھ جائے گا۔‘‘

دھنی بخش نے خوشامدانہ انداز میں لجاجت سے کہا۔

’’تم نے کہا تھا بیٹا اس لےے پڑھا رہا ہوں کہ سردار صاحب وہ میرے بعد آپ کی کمداری کرے گا تو جاگیر اچھی طرح سنبھال لے گا مگر یہ کیا ہورہا ہے کہ وہ اپنی اوطاق میں اسکول کھول کر بیٹھ گیا ہے۔ میرے مقابلے پر آرہا ہے وہ۔‘‘

سردار کی مونچھیںغصہ سے پھڑکنے لگیں۔

’’سائیں! آپ فکر نہ کریں، وہ کل کا بچہ بھلا کیا کرے گا۔ میں کل ہی وہ اسکول بند کروادوں گا۔‘

’’کمدار! تم اس کا نتیجہ جانتے ہو نا؟‘‘

’’ہاں سائیں! ہاں۔‘‘ اس نے ہاتھ جوڑ کر یقین دلایا۔

وہ تھک ہار کر بیٹے کے سامنے آکھڑا ہوا۔

’’تَو اگر چاہتا ہے کہ تیرے باپ کی پگڑی بھرے بازارمیں اچھالی جائے، سردار اسے پورے راج میں ذلیل کرے تو اس سے پہلے یہ پگڑی میں تیرے پائوں میں ڈالنا چاہتا ہوں کہ میری بے عزتی کرنے والوں میں تَو اوُل رہے۔‘‘

اس نے پگڑی اتار کر اس کے پائوں میں ڈالی۔

پگڑی عزُت کا نشان، اگر کوئی کسی کے پائوں میں ڈال دے تو وہ اپنی ساری حق تلفیاں اور ناراضیاں بھول کر معافی دے دیتا ہے۔ پگڑی ڈالنا یعنی اپنی عزُت دوسرے کے سامنے ڈال دینا ہے۔ پگڑی بہت سارے فیصلے اور تصفےے کر دیتی ہے اور اگر یہی پگڑی باپ بیٹے کے پیروںمیں ڈال دے؟

اک قیامت تھی، وہ بدک کر پیچھے ہٹا۔ فوراً آگے بڑھ کر پگڑی کو زمین سے اٹھالیا۔

’’بابا۔۔۔!‘‘ وہ صدمے اور حیرت سے بول نہ سکا۔ بے اختیار ہو کے بوسکی کی پگڑی کو چومنے لگا، آنکھوں سے لگانے لگا۔ اس کے بے ساختہ بہنے والے آنسو بوسکی میں جذب ہورہے تھے۔

اس کے بڑے بھائی احسان نے اپنے باپ کو شانوں سے پکڑ کر چارپائی پر بٹھایا۔

اس نے پگڑی کا کپڑا لپیٹ کر باپ کی گودمیں رکھا، خود زمین پر نیچے بیٹھ گیا اور باپ کی دونوں ٹانگوں سے لپٹ کر زار و زار رونے لگا۔

’’بابا ! کیوں ایسا قہر کر دیا۔ میرے تو دونوں جہاں گئے۔‘‘

وہ وڈیرے کی غلامی بھرنے والے گرد آلود پائوں کو چومنے لگا۔

’’آپ کی رضا تو میرے ربُ کی رضا ہے۔ کیوں مجھے گناہ گار کر دیا۔ ایسی کیا غلطی ہوگئی مجھ سے کہ آپ نے مجھے ایسا بدبخت بنا دیا۔‘‘

اس نے روتے بلکتے شکوہ کرتے بے گناہ باشعور بیٹے کی پیٹھ تھپکی۔

’’تمہیں نہیں پتا احمد علی! تمہیں نہیں پتا۔ یہاں جاگیردار، جنرل اور اعلا افسر یہ نہیں چاہتے کہ پاکستانی قوم باشعور اور خوش حال ہو۔ اگر یہ قوم خواندہ ہوگئی تو مطالبہ کرے گی کہ انگریزوں کے پٹھوئوںسے جاگیریں چھینو۔ اگر یہ قوم باشعور ہوگئی تو وہ جنرلوں کو بیرکوں میں بٹھا کر کہے گی، اقتدار کسی کو بھی سونپنا ہمارا حق ہے۔ یہ بدقسمت پاکستانی قوم خوش حال ہوگئی تو افسران کا احتساب شروع کر دے گی۔ میرے تبدیلی کے خواہاں سپوت! ان تینوں کا گٹھ جوڑ جب تک ختم نہیں ہوگا، یہ قوم اور ان کے مسائل ویسے ہی رہیںگے۔ یہ پاکستان پر قابض لوگ اور قوتیں عوام کو بنیادی مسائل، روزی روٹی کے جھگڑوں میں ہی الجھائے رکھنا چاہتی ہیں۔ یہ جاگیردار، سرمایہ دار، جنرل اور افسران اس قوم کا یونہی استحصال جاری رکھیں گے۔‘‘

وہ مایوسی سے کہتا اس کی پیٹھ تھپکتا رہا۔

’’میرے انقلابی بیٹے! تم ایسے ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہو جہاں سردار، نواب و جاگیردار اپنے مخالفوں سے نفرت اور انتقام کی خاطر ان کے علاقوں میں اسکول کھلوا دیتے ہیںاور یہ وڈیرے انتقاماً ان سرکاری اسکولوں کو اپنے بھانڈے (اسٹور) بنا لیتے ہیں۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے احمد علی ! ان سب نے مل کر ہمیں غلام بنا رکھا ہے۔ اگر ہم ان کی غلامی سے نکل گئے تو ان کے اقتدار تک پہنچنے والے دروازے بند ہوجائیں گے۔‘‘

کمدار دھنی بخش کے لہجے میں صدیوں کا دکھ تھا۔

’’میں نے پچیس سال سردار کی غلامی بھری ہے میںنے ہمیشہ جنرل، جاگیردار اور افسر کو ایک ساتھ پایا ہے۔ ان تینوں کے مفادات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ہم ان سے نہیں لڑ سکتے میرے بیٹے!‘‘

اس نے بازو سے پکڑ کر اسے اوپر اٹھایا، اپنے گلے لگایا، پیشانی چومی۔

’’چل میرے گھبرو! کل میں تمہیں بھی ان کی غلامی میںدے دیتا ہوں۔ احسان کو تو پہلے ہی میں نے ان کے حوالے کر دیا ہے۔‘‘

احمد علی تڑپ اٹھا۔ ’’نہیں بابا! نہیں، آپ میرے گلے میں یہ غلامی کا طوق نہ ڈالیں۔ مجھے اپنے ہاتھوں سے مار ڈالیں مگر سردار کے حوالے نہ کریں۔‘‘ وہ ہاتھ جوڑ کر باپ کے آگے گڑگڑانے لگا۔

کمدار دھنی بخش کچھ دیر گہری سوچ میں ڈوبا رہا۔

’’تَو کل صبح سویرے نیاز حسین کے پاس چلا جا، میں سردار کو کہوں گا کہ میں نے بیٹے کو گھر سے نکال دیا ہے۔ اسکول بند ہوجائے گا۔‘‘

اس نے تھکے تھکے لہجے میں کہا اور پائوں چارپائی پر سیدھے کر کے لیٹ گیا۔

احمد علی اس کی ٹانگیں دبانے لگا۔

آج اسے پتا چل گیا کہ اس کا باپ یہ طوق غلامی بخوشی نہیں جبراً گلے میں ڈالے بیٹھا ہے، کیونکہ آج اس نے اپنے باپ کے پورے وجود میں تھکن،صدمے اور دکھ کی پرچھائیں دیکھی تھیں۔

ئ ئ ئ ئ

گل کی زبانی ماروی مرتضیٰ کا ذکر سن سن کر پتا نہیں کیسے اسے بن دیکھے انسیت ہوگئی تھی۔

جب انٹر کا امتحان دے کر حیدرآبادکے ایک روزنامے میں اس کی آپریٹر کی جاب لگی تھی تو وہ گل کے والد کے کہنے پر ان کے ہاں ہی رہنے لگا تھا۔

تب گل کی زبانی ماروی کا ذکر سن کر اسے حیرت ہوئی تھی۔

’’کیا تم کسی لڑکی سے دوستی کر سکتی ہو؟‘‘

’’کیوں، میں لڑکی نہیں ہوں کیا؟‘‘ اس نے سنجیدگی سے برا مانا۔

’’نہیں، یہ بات نہیں۔ اصل میں آج تک کوئی لڑکی تمہاری گہری سہیلی نہیں بن سکی۔ ہمیشہ لڑکوں جیسا لباس، لڑکوںجیسے شوق اور لڑکوں جیسی ہی بے باک رہی ہو۔‘‘

سرمد سانگی ڈرتے ڈرتے بولا۔

’’مجھے پاپا سے بہت محبت تھی۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولی۔ ’’بچپن سے میں ان کو کاپی کرتی رہی میری ضد یہی ہوتی کہ پاپا جیسے کپڑے پہنوں، پاپا جیسی دوستیاں رکھوں۔ تم بھی اسی لےے میرے گہرے دوست بنے کہ انکل احمد علی، پاپا کے بہت گہرے دوست تھے اور کچھ پاپا کو بیٹے کا شوق تھا سو انہوں نے مجھے بیٹوں کی طرح پال کر یہ شوق پورا کیا۔‘‘ اس نے وضاحت کی۔

جب اس کے منہ سے بار بار ماروی کا ذکر سنا تو اس سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوگیا۔

’’مجھے بھی اس سے ملوائو۔‘‘

’’ہرگز نہیں۔ تمہیں پتا ہے وہ کسی کے گھر نہیں جاتی اور اس کے گھر میں تمہیں اس لےے نہیں لے جاسکتی کہ اس کی ماں بہت سخت ہے۔ اسے تو اس سے میری دوستی بھی پسند نہیں۔‘‘ اس نے انکار کیا۔

اس دن کے بعد سے اس نے پھر نہ کہا۔ اس نے بہت جلد ان کا گھر چھوڑ کر ہاسٹل میں رہائش اختیار کرلی۔ گو کہ گل اور انکل کو اس کی حرکت سے دکھ ہوا تھا مگر اس کو یہ مناسب نہیں لگا تھا کہ وہ ان کا مزید احسان لے۔ ویسے انکل تو سال میں آٹھ ماہ بیرون ملک دوروں پر رہا کرتے تھے۔ گھر میں صرف گل، ماسی کے ساتھ ہوتی تھی۔

اسے یہ بات پسند نہیں تھی، وہ گھرمیں اکیلی لڑکی کے ساتھ رہے۔ اب وہ ہر ویک اینڈپر گل کے گھر جاتا، اب وہ اسی اخبار میں کرائم رپورٹر ہوگیا تھا۔

گریجویشن کے بعد اس نے سندھ یونیورسٹی میں ایم اے صحافت میں داخلہ لے لیا تھا۔ اتنے سالوں کے دوران کبھی ماروی سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ البتہ اس کا ذکر وہ اب بھی گل کی زبانی سنتا رہتا۔ جب گل نے سوشل آرگنائزر کی جاب چھوڑی تو اپنی جگہ ماروی کو وہ جاب دلوادی۔ اب تو ماروی پر پہلے جیسی روک ٹوک بھی نہیں تھی مگر پھر بھی اس سے ملاقات نہ ہوسکی تھی۔

پہلی بار اس نے ماروی کو اس وقت دیکھا، جب بابا اللہ بچایو کا مسئلہ ہوا۔

گل نے اسے فون کیا تو وہ فوراً پہنچا۔

وہ پَرخلوص، ہمدردانہ طبیعت رکھنے والی لڑکی اسے بے حد اچھی لگی۔

ناجانے کب کی من میں چھپی گھونگھٹ نکالے بیٹھی محبت نے گھونگھٹ الٹا تھا۔ اس نے دبے لفظوں میں گل کو بتایا تو اس نے سر پکڑ لیا۔

’’سانگی! تم نے بھی کہاں دل لگالیا، وہ تمہیں گھاس بھی نہیں ڈالے گی۔‘‘ وہ جھنجلائی۔

’’میں بکرا نہیں ہوں۔‘‘ وہ بڑے سکون سے مسکرایا۔ ’’میری محبت سچی اور پرخلوص ہوگی تو اپنا آپ خود منوائے گی۔‘‘

’’یعنی تمہیں پکُا یقین ہے کہ تم اسے جیت لوگے؟‘‘

’’نہیں۔‘‘ اس نے گہری سانس لی۔

’’میں آہستہ آہستہ مکمل طور پراپنا آپ اس کے سامنے ہار جائوں گا۔‘‘

’’جب تک تم اسے جیت نہ لو؟‘‘ وہ دلچسپی سے مسکرائی۔

’’جب تک وہ میری ہار قبول نہ کرلے، مجھے اپنا نہ مان لے۔‘‘

’’تم جیت کے لفظ سے کیوں بدک رہے ہو؟‘‘ گل کو اس بحث میں مزا آنے لگا۔

’’اس لےے کہ جیتنے کی کوشش انسان کے اندر ضد پیدا کرتی ہے اور ضد انا کو توانا رکھتی ہے اور محبت میں انا نہیں ہوتی۔‘‘

پھر کتنے سالوں تک وہ صبر کی فصل کاشت کرتا رہا۔ آخر اسے صبر کا پھل ملنا تھا۔

گل کے گھر میں کبھی اچانک ملاقات ہوجاتی تو وہ اس کے سلام کا بھی ٹھیک طرح سے جواب نہیں دیتی تھی۔ وہ اکثر گل پر بگڑجاتا۔

’’تم نے میری محبت کے بارے میں اس کو بتا کر مجھ سے متنفر کر دیا ہے۔‘‘

اور وہ چڑ جاتی۔ ’’نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں، میں تو تمہارے لےے راہ ہموار کر رہی تھی۔ اب مجھے کیا پتا تھا کہ وہ بدک جائے گی۔اسے تو جیسے مرد کی ذات سے ہی نفرت ہے۔‘‘

’’تم فکر نہ کرو، میں دوں گا اسے مرد کی ذات پر اعتباد۔‘‘ وہ پورے یقین سے کہتا تو گل کو بھی جیسے یقین آجاتا۔ وہ بھی تو اپنی اس پیاری دوست کی زندگی میں خوشی چاہتی تھی۔

ئ ئ ئ ئ

وہ ایک بار پھر ماسٹر نیاز حسین کے پاس آگیا۔ پیر سائیں گدا محی الدین شاہ جیلانی نے اسے اپنے گائوں کے اسکول میں ماسٹر نیاز حسین کے ساتھ رکھوا دیا۔

اس کے آگے پڑھنے کا سلسلہ جاری رہا تو اس کی مصروفیت، اسکول کی ناکامی کا غم، کسی قدر اس کے دل سے محو ہوگیا۔ پورے ایک سال تک وہ گائوں نہیں گیا تھا۔اس کے ماں اور باپ کبھی کبھار آکے اس سے مل جاتے تھے۔ جب اس نے انٹر کا امتحان دے دیا تو اس کا باپ اس کو واپس لینے آیا۔ پتا نہیں سردار کو اس نے کیسے راضی کر لیا تھا۔ وہ جب گائوں پہنچا تو اس وقت اسے علم ہوا کہ اس کی شادی کی جارہی ہے۔ وہ پریشان تو ہوا مگر اس میں باپ کے سامنے انکار کی ہمت نہیں تھی۔ یوں زیب النسائ اس کی زندگی میں آگئی، وہ اس کی چچا زاد تھی۔ سگھڑ، سلیقہ شعار، ہنر مند مگر اس کی ناخواندگی اس کو کھٹکتی تھی۔

وہ اس سے کہتا ۔ ’’تم پڑھو، میں تمہیں پڑھاتا ہوں۔‘‘

’’میں۔۔۔ اس عمر میں۔۔۔؟‘‘ وہ حیرت سے اسے دیکھتی۔

’’ہاں، کیوں۔ ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟‘‘

’’نہیں، گائوں کی عورتیں میرا مذاق اڑائیں گی کہ شوہر سے پڑھ رہی ہے۔‘‘

اس نے بہت کوشش کی مگر وہ مان کے نہیں دی، وہ بد دل تو ہوا مگر ابھی مایوس نہیں ہوا تھا۔ اس کا خیال تھا۔ آہستہ آہستہ وہ پڑھ لے گی۔

کچھ عرصے بعد ماسٹر نیاز حسین کا چھوٹا بیٹا مختیار کار منظور حسین اپنی دوسری شادی کا کارڈ لے کر آگیا، سن کے سب کو حیرت ہوئی۔

’’اتنی اچھی بیوی کے ہوتے ہوئے شہر میں شادی رچانا کہاں کا انصاف ہے منظور حسین؟‘‘ کمدار دھنی بخش نے استفسار کیا۔

’’چاچا! میری بیوی اچھی تو ہے پر پڑھی لکھی نہیں۔ وہ شہر میں میرے ساتھ نہیں رہ سکتی، اسی لےے میں دوسری شادی کر رہا ہوں۔‘‘

احمد علی نے دیکھا۔ زیب النسائ کا چہرہ فق ہوگیا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک دم سے ایک ترکیب آئی۔

’’ہاں ہاں ادا! اچھا کر رہے ہو، اب شہر میں رہنے کے لےے شہر کی بیوی چاہےے۔ پڑھی لکھی۔‘‘ اس نے کن اکھیوں سے بیوی کو دیکھتے ہوئے بمشکل مسکراہٹ دبائی تھی۔

کچھ دنوں بعد وہ خود کتاب لے کر اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ ’’میں پڑھوں گی۔‘‘

’’اچھا پڑھو گی تم؟‘‘ لیٹے ہوئے احمد علی نے تکےے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ’’نہیں، تم نہیں پڑھ سکتیں۔ مجھے کچھ اور ہی سوچنا پڑے گا۔‘‘ آخری جملہ زیرِ لب اسے سنانے کوکہا اور کروٹ بدل لی۔

’’کیوں؟‘‘ وہ روہانسی ہوگئی۔

’’اس لےے کہ تمہیں شوق تو ہے نہیں پڑھنے کا۔‘‘ وہ مسکراہٹ دبا کر بولا۔

’’نہیں، آپ جو چاہیں، مجھ سے قسم لے لیں۔ میرا پکُا وعدہ پڑھنے کا۔‘‘

’’اچھا!‘‘ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ چہرے پر مصنوعی سنجیدگی طاری کرتے ہوئے کہا۔ ’’چلو دیکھتے ہیں، پڑھ سکتی ہو کہ نہیں۔‘‘ اس کے لہجے سے مایوسی ظاہر ہورہی تھی۔

زیب النسائ کو لگا کہ وہ دوسری شادی کا بہانا ختم ہونے پر مایوس ہوا ہے۔

وہ بڑی دل جمعی سے پڑھنے لگی۔ ایک سال میں دو کلاسیں پڑھتی رہی۔ احمد علی اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسے بھی پڑھاتا رہا۔ اس کے گریجویشن تک زیب النسائ نے بھی آٹھ جماعتیں پاس کرلی تھیں۔

ان ہی دنوں اس کی مختلف محکموں میں بھیجی ہوئی ملازمتوں کی درخواستوں کے جواب آگئے۔ اے ایس آئی، کے ای ایس سی میں اچھی پوسٹ اور ٹیچنگ۔ دوست یاروں نے مشورہ دیا کہ کے ای ایس سی کی ملازمت اختیار کرلو ، بڑے فائدے ہیں۔ کار، پیٹرول، ٹیلی فون، بجلی، گیس، سب مفت، گھرکا فرنیچر بھی کارپوریشن دیتی ہے۔ اگر گھر بنوائو گے تو ریتی بجری اور ڈیڑھ سو فٹ لکڑی بھی مفت ملے گی۔

اگر پولیس میں جائو گے تو بھی ٹھاٹھ ہی ٹھاٹھ ہیں۔ روز کی کمائی اور طاقت کا نشہ الگ ہی چیز ہے۔ لیکچر شپ میں کیا رکھا ہے مگر بنیادی طور پر جس علاقے سے اس کا تعلق تھا، وہ روحانیت کی سرزمین تھی۔ مادہ پرستی سے کوسوں دور۔ اس میں اپنی مٹی کے اثرات تھے سو اسی کو چنا۔ جس میں کچھ نہیں رکھا تھا، اس کا فطری رجحان اور میلان علم کی طرف تھا۔ وہ علم کو چھوڑ کر مادہ پرستی نہیں اختیار کر سکتا تھا۔ سو اس نے سندھ مسلم کالج کو ترجیح دی۔ یہ تب کی بات تھی جب پھلتا پھولتا کراچی امن کا گہوارہ تھا جسے سندھ کو واپس کےے ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا۔ دیہاتوں سے لوگ آکر یہاں ملازمتوں کے حصول کی کوششوں میں مصروف تھے۔

وہ اپنی فیملی کو لے کر کراچی منتقل ہوگیا۔ پاس پڑوس میں ناکوئی جان نا پہچان۔ یہاتی ماحول سے اٹھ کر شہر آنا۔ زیب النسائ سخت افسردہ ہوئی۔ کچھ ہی عرصے میں اس زندگی سے اکتا گئی، اپنی مشکل احمد علی کے سامنے رکھی۔

’’میں واپس گائوں جانا چاہتی ہوں، مجھ سے نہیں رہا جاتا اجنبی اور بے گانہ ماحول میں۔‘‘

احمد علی مسکرایا۔ یہ اس کے لوگوں کی ازلی کمزوری تھی۔ وہ سندھ کے ایک شہر سے دوسرے شہر تک بھی ہجرت نہیں کرتے تھے۔ وہ ان کی اس فطرت سے لا علم نہیں تھا۔

’’زیب النسائ! کراچی کوئی علاقہ غیر نہیں، پاکستان کا، ہمارے صوبہ کا حصہ ہے۔ دیہات بھی ہمارے ہیں اور شہر بھی ہمارے۔ گائوں اس لےے چھوڑ کر آیا ہوں کہ اپنی آنے والی نسل کو جاگیردار کی غلامی سے بچا کر علم کی زیب و زینت سے سجا سکوں اور زیب النسائ! تم میری زندگی کے اس مقصد میں میری معاون و مددگار ہو۔ یہ بات کبھی بھی نہیں بھولنا۔‘‘

اس نے اپنی دو سالہ بیٹی سارا کو اٹھا کر گود میں بٹھاتے ہوئے کہا۔

’’آج تم میرے ساتھ مل کر عہد کرو کہ میرے بچوں کو کبھی بھی علم کی میراث سے محروم نہیں کرو گی۔ چاہے میری زندگی ساتھ دے یا نہ دے۔‘‘

’’خدا نہ کرے کہ آپ کو کچھ ہو، میں سہاگن آپ کے ہاتھوں میں سہاگن مروں۔‘‘ وہ ہول اٹھی۔

احمد علی نے اس کو پریشان ہوتے دیکھ کر بات بدل دی۔

’’ماسٹریانی بنو گی؟‘‘

’’میں؟‘‘ اس نے حیرت سے شوہر کو دیکھا۔

’’ہاں تم، اس سے تمہاری تنہائی اور اجنبیت بھی ختم ہوگی۔ سب سے بڑی بات تمہیں بچوںکی تعلیم و تربیت کا شعور بھی آجائے گا۔‘‘

’’مگر گائوں والے کیا کہیں گے؟‘‘ اس کے خدشات زبان پر آگئے۔

’’گائوں کو ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں، تبدیلی کا خواب لےے۔ اگر ہم شہر میں رہ کر تبدیل نہ ہوسکے تو گائوں کو کیسے تبدیل کر سکیں گے۔ کبھی بھی لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھرنا، ان کی باتوں پر کان دھرو گی تو سفر رک جائے گا، منزل دور ہوجائے گی۔‘‘

اس دن اس نے اپنے سہاگ کے دوپٹے میں شوہر سے کیا گیا عہد باندھ لیا۔ تبدیلی کا، ظلم کے خلاف آواز حق بلند کرنے کا عہد۔

ئ ئ ئ ئ

احساسِ ندامت انسان کی سچائی کی علامت ہے، ندامت انہیں ہی ہوتی ہے، جن کے ضمیر زندہ ہوتے ہیں۔ جو ازالے کی کوشش، کفارے کی سعی شروع کرا دیتی ہے۔

ندامت گناہوں کو دھو ڈالتی ہے، جہنم کا ایندھن بننے سے بچا کر جنت کے باغوں میں لاڈالتی ہے۔

ندامت سے سزا سے پہلے دل میں جاگ اٹھے تو سزا جزا بن جاتی ہے۔

ندامت آنسوئوں کا خراج لیتی ہے اور بخشش کا سامان مہیا کرتی ہے۔ دنیا میں عزازیل کے بعد ہر آنے والے ظالم، شداد، نمرود و فرعون و ابوجہل نادم نہ ہونے کی وجہ سے ہی ذلیل و خوار ہوئے۔

ندامت آدم کے سر پر بخشش کا تاج پہنا دیتی ہے۔ ندامت عمر بن خطاب۶ کو فاروق اعظم بنا کر امیر المومنین خلیفتہ المسلمین بنا دیتی ہے۔ ندامت اگر حکمرانوں کو میسر آجائے توانہیں فاروق ثانی بننے میں دیر نہیں لگے گی مگر وہ نادم و شرم سار ہوں تو سہی۔

وہ نادم بھی تھا تو شرم سار بھی مگر باوجود ندامت کے وہ اپنے گناہ کا نہ کفارہ ادا کر سکا تھا نہ ازالہ، کیونکہ یہ گناہ اس نے بندے کی حق تلفی کا کیا تھا۔ حقوق اللہ کے زمرے میں آتا تو حسن ظن کی بنا پر بخش دیا جاتا مگر حقوق العباد میں کوتاہی بندے کی معافی سے مشروط تھی۔

وہ کیسے ان سے جا کر معافی مانگتا، اسے تو نفرت کا اژدھا نگلنے کو تیا رتھا۔

وہ مجرم کی طرح منہ چھپائے پھر رہا تھا، سالوں پہلے جو بے وفائی کا داغ اپنے دامن پہ لگایا تھا، وقت کی دھول نے وہ داغ معدوم نہیں اور نمایاں کر دیا تھا۔ وہ اسے مٹانا چاہتا تو بھی مٹا نہیں سکتا تھا، کیونکہ جس کے ساتھ بے وفائی کی اس کو بچے کی سوغات دے کر آیا تھا۔

باپ کے بلاوے پہ گائوں پہنچا تو اس کے باپ نے اپنے دوست کی بیٹی سے رشتہ طے کرنے کے بارے میں اس کی رائے پوچھی۔

خوب صورت، پڑھی لکھی، باپ کی جاگیر کی اکلوتی وارث۔ انکار کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ اس نے فوراً رضامندی دے دی۔ پندرہ دن کے اندر اس کی شادی کی تاریخ رکھ دی گئی کیونکہ اس کا بیمار سسر، بیٹی کے فرض سے جلد از جلد سبکدوش ہونا چاہتا تھا۔

اور اگر ان کو مریم کے بارے میں پتا چل جاتا تو سب کچھ ختم ہوجاتا۔ اس نے یہ سب بچانے کے لےے مریم کے ساتھ سارے ناتے توڑ دےے۔ شہر جا کر مہر علی شاہ کو بقیہ پیسے دےے اور گھر خالی کرنے کا وعدہ کر آیا۔ طلاق نامہ تیار کروا کر بھجوادیا۔ اسے پتا تھا وہ اس کے اصلی پتے سے ناواقف تھی۔ اس کے پیچھے کبھی بھی نہیں آسکتی تھی۔ خطرہ ٹل چکا تھا۔ سو وہ اپنی زندگی میں مگن ہوگیا، وہ بھول چکا تھا مریم کو اور یہ بھی کہ وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی تھی اور اس بچے کا باپ ہونے کے ناتے وہ بچہ اس کی بھی ذمہ داری ہے مگر پہلی بار اس کو تب خیال آیا، جب ہاسپٹل میں اس نے اپنی بچی کو گودمیں لیا۔ رئیسانی نے کہا تھا۔

’’مبارک ہو ، آپ باپ بن گئے۔‘‘

ضمیر نے پہلی بار چٹکی کاٹی تھی۔

’’باپ تو تم ڈیڑھ سال پہلے بھی بنے ہوگے، تب نہ تم نے مبارک باد وصول کی اور نہ ہی اپنے بچے کو اٹھایا۔‘‘

اس نے بڑی شدُت سے اس خیال کو جھٹکا اور رئیسانی کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

دوسری بار مریم اور اس کے بچے کا خیال اسے تب آیا، جب چند سال کے بعد باوجود علاج کرانے کے اس کی بیوی کو لیڈی ڈاکٹر نے جواب دے دیا تھا کہ اب وہ ماں نہیں بن سکتی۔

بیٹے کی خواہش اس کے اندر مر گئی تھی، تب اسے شدُت سے خیال آیا تھا۔ پتا نہیں مریم نے بیٹی کو جنم دیا تھا یا اس کے ہاں بیٹا ہوا ہوگا۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتا تھا۔ پہلی بار اسے احساس ہوا تھا کہ وہ اچھا انسان نہیں ہے جسے یہ بھی پتا نہیں، اس کسک نے اس کے اندر پنجے گاڑے تو وہ بے چین ہو اٹھا مگر وہ کس سے پوچھتا؟ کہاں جاتا، سوائے مریم کے گائوں کے۔ وہ مریم کے گائوں گیا تھا۔ مگر اس کے عزیزوں کو بھی آج تک اس کا پتا نہیں چلا تھا کہ وہ کہاں گئی، کس کے ساتھ گئی، زندہ ہے یا مر گئی۔ آسمان نگل گیا یا زمین کھا گئی۔

اس کے گائوں میں یہ تاثر عام تھا کہ بھائیوں کی مار سے تنگ آکر اس نے نہر میں کود کر خود کشی کر لی۔ وہ نامید وہاں سے واپس آگیا تھا مگر ایک چبھن تھی، جس نے دل کا اک کونا پکڑ لیا تھا۔

ئ ئ ئ ئ

’’مس ماروی! خدا کرے آپ کے اندر ہمیشہ خوشبو کا شہر آباد رہے۔‘‘

’’کون سی خوشبو کا شہر، گلاب یا چنبیلی کا؟‘‘ وہ مسرور ہو کے مسکرائی۔

’’خوشبو کا شہر، محبت کا شہر ہے جس کے آباد ہونے سے انسان کا ظاہر و باطن مہک اٹھتا ہے۔ وجودِ خاکی معطر ہوجاتا ہے۔ باقی خوشبوئیں تو عارضی ہیں، فوراً ختم ہونے والی۔‘‘ اس نے جام شورو کی فضائوں میں ایک لمبی سانس لی اور صحن میں ٹہلنے لگی۔

جام شورو کی ٹھنڈی ہوائیں سریلی سی ہوگئی تھیں۔ سرمئی بادل اتر (شمال) سے امڈے چلے آرہے تھے۔

سرمد سانگی محبت سے آشنائی کا پہلانام اور احسا س جس کا خیال اس کی ہم رکابی میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ اس کی یاد کامور، دل کے کارونجھر پر ہر وقت بیٹھا رہتا۔

اس کے پیار کا پرندہ سندھ دھرتی جیسی وسعت کے ساتھ دل کی دھرتی پر اڑانیں بھرتا رہتا۔ وہ خاموشی سے اس کی لمبی لمبی اڑانیں دیکھتی رہتی۔

وصل کی خواہش دل کو باندھتی، آنکھیں بند کرتی تو اس کے سپنے جاگ جاتے۔ وہ گھبرا کر آنکھیں کھولتی تو ا س کا خیال ساری خوب صورتیاں سمیٹ کر اس کے سامنے مسکرانے لگتا۔ اس کی آنکھوں کو جھیلوں میں اس کی یاد کا بادل برس کر سیلاب پیدا کرتا رہتا۔

اور ساون تو موسم ہی محبوب کی یاد کا تھا، اس موسم میں محبوب کو دیکھنا اور سننا، بھٹائی کے بیتوں کی طرح ہی دلکش تھا۔

’’کہاں ہے وہ، اس وقت کراچی کے کس گوٹھ میں سروے کر رہا ہے؟‘‘ اس کا خیال آیا تو وہ بے چین ہوگئی۔ یہ بھی محبت کی ادا ہے کہ وہ محبت کرنے والوں کو ہمیشہ بے چین رکھتی ہے۔

سیل فون کی آواز پر فون اٹھانے کمرے میں آئی۔ اسکرین پر سرمد سانگی کا نام جگمگا رہا تھا۔ اس نے فوراً میسج کھولا۔

سجن ساعت ہیکڑی جے تھےے اکھینئوں دھار

تہ کر سبھ جمار، ڈٹھوسیں نا کڈھیں

(سجن! اگر ایک ساعت بھی تم آنکھوں سے الگ ہوجائو تو ایسا لگتا ہے جیسے ساری عمر تمہیں دیکھا ہی نہیں۔)

دسویں صدی ہجری کے شاعر شاہ بھٹائی کے پڑداداشاہ عبدالکریم بلڑی والے کے بیت میں سانگی نے اپنے دل کی کیفیت لکھ بھیجی تھی۔ شاہ کریم جن کا شمار سندھ کے اوائلی شاعر و شاعری میں ہوتا ہے۔

’’محب بھلا محبوب سے الگ کب ہوتا ہے۔ دونوں کے قلوب ایک محبت کے قیدی، ایک نے یاد کیا دوسرے کو پتا چل گیا۔‘‘ تب سانگی نے بیت کی تشریح سینڈ کی۔

’’شاہ کریم کہتا ہے: ’’اپنے دل و من کو محبوب کے پاس ایسا قابو کرو جو سوائے اس کے دھیان کسی اور طرف نہ جائے۔ اور میرے خوابوں، خیالوں میں تیری ہی یاد غالب ہے۔ میں تم سے اک لمحے کو بھی غافل نہیں۔‘‘

اس کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ اٹکھیلیاں کرنے لگی ۔ اس نے چند لمحے آنکھیں موند کر سرشاری سے سوچا پھر شاہ کریم کی زبان میں ہی جواب ٹائپ کیا۔

پانیاری سر بہڑو، جرتے پکھی جنئیں

اساں سجن تینئں، رھیو آہے روح میں

(جیسے پانی بھرنے والی عورت کے سر پر دوہرے مٹکے اس کے جسم کا ہی حصہ لگتے ہیں۔ جیسے پانی کا پرندہ، پانی سے الگ نہیں ہوسکتا، ایسے ہی تیرا بسیرا میری روح کے اندر ہے۔)

شاہ کریم نے پرندے و پانی کا تذکرہ کیا ہے۔ پانی کے بغیر زندگی نہیں، ایسے ہی تمہارے بنا میری زندگی نہیں ہے۔ میری حیات کی ضامن تمہاری محبت ہے۔ سرمد! میں تمہارے بنا کچھ بھی نہیں، تَو ہے تو میں ہوں۔‘‘

مرد کی سائبانی پر اس کا یقین گہرا ہوچکا تھا۔ اسے سجاد علی کے واقعہ کے بعد احساس ہوا تھا کہ کسی مرد کا تحفظ بہت ضروری ہے۔ سرمد سے بہتر کون ہوسکتا ہے جو سالوں سے اس کو چپ چاپ چاہتا آیا تھا۔ باوجود اس کی نفرت کے جو اسے عزُت سے مانگ رہا تھا۔

اس نے محبت کے طویل سالوں میں کوئی غیر اخلاقی حرکت نہیں کی تھی۔ ماروی کے دل میں اس کی قدر تو تھی، محبت بھی شاید کسی کونے میں چھپی ہوئی تھی، جو فوراً باہر نکل آئی۔

وہ کبھی کبھی اپنی اس کیفیت پہ بڑی حیران ہوتی، جھنجھلاتی۔ کیا ہوگیا تھا اسے، وہ ہر وقت اسے ہی سوچتی رہتی۔ ہر منظر ہر جگہ اسے وہ ہی دکھتا تھا۔

سرمد کو اس کے اخبار کی طرف سے کراچی آفس بھیج دیا گیا تھا۔ وہ وہاں خصوصی فیچر پر کام کر رہا تھا اور اس کی جان جیسے سولی پر اٹک گئی تھی۔

پتا نہیں کیوں محبت میں آدمی ہمیشہ ہراساں رہتا ہے۔ دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے وچھوڑے کا، جدائی کا۔

کراچی پوسٹنگ سے پہلے سرمد آیا تو اس نے برملا اپنے خدشات کا اظہار کر دیا۔

وہ چند لمحے لب بھینچے اسے دیکھتا رہا بغور۔

’’آس۔۔۔ نراس۔۔۔ ہراس۔۔۔ محبت میں دل ان ہی میں گھرا رہتا ہے۔‘‘ وہ رک رک کے بولا تھا۔

’’کیا مطلب؟‘‘ اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

’’میرے خیال میں کسی محبت والے دل کو ان کے معنی بتانا بے معنی ہے۔‘‘ وہ ہنسا تھا اور دل کھول کر ہنسا تھا۔

اسے لگا تھا جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو۔ اس نے گھور کر سرمد کو مصنوعی خفگی سے دیکھا تھا، جو اسے شرارتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

تب اس نے اسے اپنا بہت سارا خیال رکھنے کی تلقین کی تھی اور اس نے اس کے سامنے ایسے ہی سر خم کر لیا تھا، جیسے رائے ڈیاچ نے بیجل کے سامنے۔

ئ ئ ئ ئ

جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی تھی۔ ملک کے اندر ایک سکوت و سنُاٹا تھا۔ یہ پہلی بار تو نہیں ہوا تھا کہ عوام کے بنیادی حق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہو۔ عوام سہمے ہوئے تھے۔ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا ہونے جارہا ہے اور ا یک آمر کی طاقت کی آخری حد آخر کیا ہوگی؟

وہ کچھ عرصے تک حالات کی گہرائی سے جائزہ لیتا رہا، جب لیور کھینچا جاچکا تو وہ رہ نہیں پایا، اٹھ کھڑا ہوا۔

’’وہ ہمارے ووٹوں سے منتخب ہوا تھا، اگر اس کی پالیسیاں غلط بھی تھیں تو یہ حق بھی ہمیں تھا کہ ہم ایک بار پھر اپنے ووٹ سے اس کا فیصلہ کرتے۔ ایک آمر کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ عوامی لیڈر کے مقدر کا فیصلہ کرے، اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کرے، اس سے زندگی چھین لے۔ آمر نے عوام کو ذلیل کیا ہے اور اس کی طاقت اور اختیار کو بوٹوں تلے روندا ہے۔‘‘

نوٹس دےے گئے کہ سرکاری ملازم سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے مگر اس کے اندر کی سرکار، آمر کی سرکار سے جیت گئی۔

وہ احمد علی تھا جس نے جاگیردار کی غلامی قبول نہیں کی تو جنرل کی کیسے کر سکتا تھا اور نتیجتاً ایک دن اس کو پکڑ کر تھانے میں بند کر دیا گیا۔

پندرہ دن تک اس کی خوب مہمان نوازی اور آئو بھگت ہوتی رہی۔ پندرہ دن بعد حوالات کی سیر کر کے وہ لڑکھڑاتے قدموں سے زخموں کوسہلاتے گھر پہنچا تھا۔

زیب النسائ اس سارے عرصے میں پریشانی سے کبھی اس کے دوستوں سے رابطہ کرتی، کبھی گھر والوں سے تو کبھی تھانے جاتی مگر وہاں ایک بار بھی اس کی ملاقات نہیں کروائی گئی۔ ہر بار صوبیدار اسے اپنے شوہر کی زبان بند کرنے کو کہتا رہا۔ وہ اپنے جگری یار رئیس غلام مرتضیٰ کی بھاری رشوت کے عوض رہا ہو کر آیا تھا۔ آیا تو گائوں سے اس کا باپ بھی تھا مگر اس کی کسی نے نہیں سنی کیونکہ سردار آمر کا حمایتی تھااور اس نے اپنے کمدار کے اس انقلابی بیٹے کی سفارش سے انکار کر دیا تھا، جس نے اس کی غلامی قبول نہیں کی تھی۔

’’تَو واپس چل احمد علی! بابا ہمارا وڈیرے کے بغیر گزارا نہیں۔ کیوں اپنی جان سے کھیل رہا ہے۔‘‘ دھنی بخش نے اس کا چہرہ چوم کے کہا۔

’’ہاں یار! تَو اکیلا اس فرسودہ نظام سے نہیں ٹکرا سکتا۔ چاچا دھنی بخش بالکل صحیح کہہ رہا ہے۔‘‘ مرتضیٰ کی تائید پر اس نے چند لمحے کے سکوت کے بعد بہت مضبوط لہجے میں کہا۔

’’میں بزدلوں کی طرح چپ نہیں رہ سکتا، ظلم جہاں ہوگا، میں بولوں گا اور لڑوں گا۔‘‘

’’تَو چل احمد علی! تَو چل واپس۔ بابا مان لے میری بات۔ کیوں سیدھا راستہ چھوڑ کے مشکل راستہ چنتا ہے۔ نہ چل اس راہ پہ بابا پٹ! (بیٹا) نہ چل۔‘‘

کمدار دھنی بخش آبدیدہ ہوگیا، اپنے پٹکے (پگڑی) کے پلو سے نم آنکھیں پونچھیں۔

’’بابا! یوں التجا کر کے مجھے گناہ گار تو نہ کریں۔‘‘اس نے سارا اور ثوبیہ کو نظر بھر کے دیکھا۔ ’’میں اپنی بچیوں کا مستقبل اندھیر نہیں کر سکتا۔ میری یہ بیٹیاں اورمیرا سرمد، میں ان کی تعلیم و تربیت کو دائو پر نہیں لگا سکتا۔ نہ ہی مجھ سے ظالموں کی غلامی بھری جائے گی۔‘‘

اس کے یوں قطعیت سے کہنے پر اس کا باپ مایوسی سے لوٹ گیا۔

چند دن بعد جب زخموں میں درد کچھ کم ہوا تو وہ سندھ مسلم کالج پہنچا، پرنسپل نے اس سے کہا۔

’’آپ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں، اس لےے آپ کی نوکری ختم کر دی گئی ہے۔‘‘

وہ بہت تحمل سے مسکرایا۔ ’’مجھے یہ اطلاع مل چکی تھی، میں نے سوچا یہ آرڈر میں خود وصول کروں کیونکہ بہر حال یہ بھی آمریت کا تحفہ ہے۔‘‘

وہ استہزائیہ انداز میں کہہ کر ہنسا۔

’’احمد علی! تم محتاط رہتے تو بہتر تھا۔‘‘ پرنسپل نے اس سے ہمدردی جتائی۔

’’سر! میں محتاط اس لےے نہیں رہ سکتا جبکہ ہم بائیس گریڈ کے آدمی کے محکوم نہیں رہ سکتے کہ وہ ہمیں۔۔۔‘‘ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔ ’’کوڑے لگوائے، جیل بھجوائے اور مارے حقِ حکومت، حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈالے۔‘‘

’’تم باز نہیں آئو گے۔ بہر حال مجھے افسوس ہے تمہاری جاب کے جانے کا۔‘‘

’’فکرنہ کریں سر! رزق دینے والے نے رزق لکھ دیا ہے قسمت میں۔ کہیں نہ کہیں سے ضرور دے گا۔‘‘ تیرہ سال بعد اس کالج سے ہمیشہ ہمیشہ کے لےے اٹھ کر آگیا۔

کچھ ہی عرصے بعد زیب النسائ کی جاب بھی جاتی رہی۔ وہ پریشان تو ہوا مگر ہمت نہیں ہاری۔

دونوں اپنی جمع پونجی کو احتیاط سے خرچ کر رہے تھے۔ آگے اللہ مالک تھا۔ وہ اکثر پریشان متفکر بیٹھی زیب النسائ سے کہتا۔

’’آمر سے اللہ بڑا ہے۔‘‘ اس کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی۔

کچھ ہی عرصے بعد اسے ایک اخبار میں اسٹاف رپورٹر کی جاب مل گئی اور اس کا قلم رواں ہوگیا۔ جاب کے ساتھ ساتھ وہ آرٹیکلز بھی لکھتا رہا۔ اس کے قلم کی چبھن صاحبِ اقتدار کے لےے ناقابل قبول تھی۔ بالآخر دو سال بعد حکومتی پریشر پر اس جاب سے بھی اسے فارغ کر دیا گیا۔ وہ پریشان ضرور ہوا مگر مایوس نہیں ہوا۔

’’اب کیا ہوگا؟‘‘ زیب النسائ پھر متفکر ہوئی۔

’’اللہ چنگی کرے گا۔‘‘ وہ سر کو بازو کے نیچے کےے بولا۔ حق اور سچ پر چلنا بہت کٹھن تھا۔ اس کے بہت سارے ساتھی دوست ضمیر بیچ کے خود داری کا سودا کر کے بہت ساری مراعات لے چکے تھے۔ سارا پانچویں میں تھی، ثوبیہ دوسری کلاس میں جبکہ سرمد نے ابھی اسکول جانا شروع کیا تھا۔ اس کے بچوں کے مستقبل کا سوال تھا۔ وہ آرام سے پیر پسار کے نہیں سو سکتا تھا۔ سو دوسرے دن سے ملازمت کے حصول کی کوششوں میں مصروف ہوگیا۔ دو ماہ بعد اس کی محنت رنگ لائی۔ ایک پرائیویٹ فرم میں اس کو سپروائزر کی جاب مل گئی۔ تب جاب حاصل کرنے کے لےے کراچی کے ڈومیسائل کی شرط نہیں تھی۔

اس کی خاموشی کا عرصہ دو سال پر محیط رہا پھر وہ گم نام کے نام سے طنز و مزاح کا کالم لکھنے لگا۔

کچھ ہی عرصے بعد غیر جماعتی بنیاد پر الیکشن ہوئے تھے اور نئی حکومت نے تعلیمِ بالغان کے تحت نئی روشنی اسکول کی بنیاد ڈالی تھی۔ مرتضیٰ کی کوشش سے زیب النسائ کووہاں جاب مل گئی تھی۔ ان کے شب و روز میں بڑی حد تک ٹھہرائو آچکا تھا۔ وقت نڈھالی سے اپنا سفر طے کر رہا تھا۔

آمریت کے بادل ابھی چھٹے نہیں تھے مگر لولی لنگڑی جمہوریت بھی آمر سے برداشت نہیں ہوئی، آٹھویں ترمیم کی تلوار سے اسمبلیاں قتل کر دی گئیں۔ آمر کی گود میں لے پالک بیٹھے رہے اور سندھڑی کا وزیراعظم چلا گیا اور کچھ وقت سرکنے کے بعد ایک دن اس نے اپنی ڈائری میں لکھاتھا۔

’’وقت کا فیصلہ بڑا عجیب ہوتا ہے۔ وقت طاقت وروں کو کمزور اور کمزور کو طاقت ور بنا دیتا ہے۔ یہ وقت کا فیصلہ اور قدرت کا انصاف ہے کہ ہم سب کو ایک دن اس کے پاس جانا ہے۔ محلات و ملکیت کے باوجود بے سرو سامان حاضری دینا ہے۔ شاہی سواری کے باوجود دوسروں کے کاندھے پر سوار ہو کے جاناہے۔ سب کچھ چھوڑ کے تنہا اس کے پاس پہنچنا ہے۔

ہمیشگی کی بادشاہی صرف اس کی ذات کا حصہ ہے۔ سارے بادشاہ، دارا و سکندر بادشاہتیں چھوڑ کر خالی ہاتھ اس کی دربار میں پہنچتے ہیں اور خالی صندوق بھی مٹی میں مدفون ہوتے ہیں۔ آمر خود موت کا رزق بن گیا تھا۔

اور پھر سازشوں میں گھِرا جمہوریت کا زرد کمزور سورج طلوع ہو ہی گیا۔ اس کا قلم پوری آزادی سے لکھنے لگا۔ وہ گم نام سے نام والا بن گیا، مگر تھوڑے ہی عرصے بعد جمہوریت دشمن عناصر نے جمہوریت کو ناکام کرنے کے لےے کراچی کے امن کو تہہ و بالا کر دیا۔ اندھی گولیوں کے شکار بوری بند نعشوں کی صورت ملنے لگے۔

بنیادی طور پر وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کا کارکن نہیں تھا۔ اس کی وابستگی صرف حق کے ساتھ تھی اور مظلوم کے ساتھ تھی۔ وہ سرمایہ داروں، جاگیرداروں، عیش پرست اعلا افسران اور آمریت کا مخالف تھا۔ پاکستانی عوام جو ان کے چنگل میں پھنسے ہوئے تھے، ان کے جائز بنیادی حقوق کی بات کرتا تھا۔ جمہوریت کو ناکام کرنے والوں نے سندھ کے دیہاتوں میں نعشیں بھیج کر جمہوری حکومت کو ناکام کرنے کی کوشش کی۔ ان نعشوں میں ایک نعش انقلابی سوچ رکھنے والے احمد علی سانگی کی بھی تھی۔

احمد علی کی موت صرف احمد علی کی موت نہیں تھی، یہ ایک خواب کی موت تھی، ایک سپنے کی موت تھی، ایک احساس کی موت تھی۔ ایک تبدیلی کے خواہاں کی موت نے سب کو خون کے آنسو رَلا دیا تھا۔

اس کی موت کی خبر جس جس جاننے والے تک پہنچی وہ تڑپ اٹھا، ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ کیا جمہوریت پسند ہونے کی سزا میں انہیں نعشوں کے تحفے مل رہے ہیں۔ سندھ کی سرزمین پہ کیسا برا وقت آیا تھا، اس کے شہر اس کے باسیوں کے لےے مقتل بن گئے تھے۔ بھٹائی کی نگری اور شہباز کے دیس کے لوگوں کے ذہنوں میں ایک ماتمی لہر تھی، جو صوفیا کی سرزمین پر چھا رہی تھی۔ ایک خوف کی فضا نے پورے سندھ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

مرتضیٰ اس کی شہادت کی خبر پر فوراً حیدرآباد سے کراچی پہنچا تھا۔ گائوں والوں کو اس نے وڈیرے کے شہر والے بنگلے پر فون کر کے اطلاع کے ساتھ آنے سے بھی منع کر دیا۔ وہ غم سے نڈھال زیب النسائ کے پاس آیا تھا۔

’’بھاجائی! یہاں کے حالات ایسے نہیں کہ آپ تنہا عدت کی مدت گزار سکیں۔ بہتر ہے کہ آپ بچوں سمیت گائوں چلیں۔‘‘

وہ خاموشی سے سر جھکا کے روتی رہی۔

’’آپ کے بچے چھوٹے ہیں، سرمد ابھی پانچویں میں ہے۔ اتنے چھوٹے بچے کے ساتھ آپ رہ ہی نہیں سکتیں۔‘‘

وہ احمد علی کی لاش کو تکتے ہوئے سسک پڑا۔ کیا قصور تھا اس کے اس دلیر دوست کا۔ نظام سے بغاوت حق کی تحریر، سچ کی سوچ، امن کی طلب۔ یہی نا! جس کی سزا میں اس کو موٹر سائیکل پر بیٹھے نقاب پوش دہشت گردوں نے گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا۔ اپنے ہی گھر کے سامنے، صبح آفس کے لےے نکلتے وقت، وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

تب زیب النسائ نے روتے روتے اثبات میں سر ہلا کر گائوں واپسی کی رضامندی دے دی۔ ان کی واپسی بڑی دکھی کرنے والی حقیقت تھی۔ وہ لاش لے کر واپس لوٹے تھے، تب ایمبولینس میں بیٹھ کر زیب النسائ نے احمد علی کے حق کے لےے لکھنے والے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر چن (وعدہ) کیا تھا۔ اس کے خواب کو تعبیر دینے کا عہد کر کے اس کی مردہ آنکھوں سے اس کا خواب چرایا تھا۔

پھر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس نے وہ خواب سرمد کی آنکھوں میں رکھ دیا تھا۔

ئ ئ ئ ئ

شروع شروع کی محبت میں اظہار، محبت کا جز و لازم بن جاتا ہے۔ یہ منہ زور دریا ہوتا ہے، جو ہر بند توڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ کتنے بھی بند باندھے جائیں مگر کہیں نہ کہیں سے وہ راستہ بنا لیتا ہے۔ وہ ایک بند باندھتا ہے تو دوسرا ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ اس کو بند کرتا ہے تو تیسرے بند سے پھوٹ نکلتا ہے۔ محبت میں ضبط کا قرینہ بہت دیر میں آتا ہے۔ محبت میں جتنی گہرائی ہوتی ہے، اتنی ہی خاموشی ہوتی ہے۔ اسے بھی اپنی محبت پرضبط کا بند باندھے کا ہنر آگیا تھا۔

وہ کراچی سے صرف چند گھنٹوں کے لےے اس سے ملنے آیا تھا۔ کراچی کے قدیم گوٹھوں کا سروے ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ اس نے فیچر کی ایک قسط بھیج دی تھی۔ وہ سنڈے ایڈیشن میں لگنا تھی۔ ابھی بقیہ دو اقساط مکمل کر کے اسے اپنے اخبار کو بھیجنا تھیں۔

’’تم آجائوسرمد! میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔‘‘

ماروی کے تیسرے میسج پر اس نے کوچ کا ٹکٹ لیا اور تین گھنٹوں بعد اس کے سامنے آبیٹھا۔

وہ اس کو اچانک اپنے سامنے دیکھ کر خوشی سے گنگ ہوگئی تھی۔ اپنی اس بے بسی کی کیفیت پر اس کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔ سامنے بیٹھے سرمد سانگی کا عکس دھندلا پڑنے لگا اور عکس دھندلا صرف اس کا ہی نہیں ماروی کا بھی پڑنے لگا۔

محبت کرنے والے جب محبت کی عروج پر پہنچتے ہیں تو ان کی کیفیات ایک دوسرے سے منسلک ہوجاتی ہیں۔ اس سمے جب دونوں کی بھیگتی آنکھوں اور دھندلے عکس کو دیکھ کرمحبت نے بڑی مضبوطی سے ان کو بانہوں میں لے لیا۔

’’ماروی! اب مجھے لگتا ہے کہ مجھے اپنی محبت کے جواب میں وہی شدُتیں چاہئیں جو میرے اندر ہیں۔ آپ لاکھ نہ چاہیں مگر آہستہ آہستہ آپ کے اندر خواہشات خود رو پودے کی طرح اگنے لگتی ہیں۔ آپ چاہیں انہیں کھاد پانی نا ہی دیں۔ مگر یہ حسرت اگتی بڑھتی پھیلتی چلی جاتی ہے کہ محبوب بھی آپ کو آپ ہی کی طرح چاہے۔ آپ کو آپ ہی کی طرح طلب کرے۔

ماروی نے اک نظر اس کے محبت سے منور چہرے پر ڈالی اور نظر جھکالی۔

’’یک طرفہ محبت جبری مشقُت کی طرح بڑی کٹھن رہی ہے میرے لےے۔ تم نہیں جانتیں یہ کتنی تھکا دینے والی، کتنی اذیت ناک ہوتی ہے۔ کتنا جبر کرنا پڑتا ہے خود پہ، احساسات پہ، خواہشات پہ۔‘‘ وہ خاموش ہوگیا تھا، ان دونوں کے درمیان ایک بھید بھری چپ چھا گئی تھی۔ وہ خاموش ہو کر اسے تکتا رہا۔ جیسے کہنے کے لےے کچھ باقی نہ بچا ہو۔ بعض دفعہ محب کے پاس محبت کے احساسات کے خزانے ہوتے ہیں مگر خزانے کا پتا دینا مشکل ہوجاتا ہے۔ اور وہ جو ہمیشہ اس کے سامنے بیٹھ کر محبت کے ٹھنڈے میٹھے گھڑے (مٹکے) سے امرت پیتی رہی تھی۔

ماروی کو شدُت سے اپنی بے زبانی کا احساس ہوا تھا۔وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ بول نہیں پارہی تھی۔ سونا خالص تب ہی ہوتا ہے جب آگ میں پک کر گرم ہو کر اپنا اصل روپ پاتا ہے۔ وہ بھی سرمد کی محبت کی تپش میں خالص ہوگئی تھی۔ مگر وہ خود کو اس خالص پن کے اظہار سے لاچار محسوس کرتی رہی۔

عشق کے بادشاہ بھٹائی کا بیت اس کی یادداشت میں وارد ہوا اور اظہار نے اس کی زبان کا کونا پکڑ لیا۔

نین نہ ننڈوں کن، بھگو آرس کھین

اجھا میو برن، توکھے ساریو سپریں

(نین تمہاری یاد کی شدُت سے نیند نہیں کرلیتے۔ تمہیں یاد کر کے میرے محبوب گل ہوتی آنکھیں جل اٹھتی ہیں۔)

جل اٹھنا یاد سے جل جانا تھا یا خوشی سے روشن ہونا تھا۔ احساس کوئی بھی تھا مگر خوب صورت تھا۔ یہ بات سرمد سے زیادہ کون جان سکتا تھا۔ اتنا خوب صورت اظہار سن کر کراچی سے جام شورو تک آنے کی تھکن ایک لمحے میں ختم ہوگئی ۔

ئ ئ ئ ئ

گھائو بہت برا تھا مگر ہر گھائو کو وقت اور مقصد بھر دیتا ہے۔ وقت تو اتنا نہیں گزرا تھا مگر اس کے سامنے جو مقصد تھا، اس نے اس کو اٹھنے کی قوت بخش دی۔ احمد علی کی موت بہت بڑا صدمہ تھا اس کے لےے۔ نہ صرف خود سر اٹھا کر جینا تھا بلکہ دوسروں میں بھی آزادی سے جینے کی امنگ پیدا کرنی تھی۔

اس کی ناگہانی موت کا دکھ سارے علاقے میں پھیلا ہوا تھا۔ اس کے باپ کمدار دھنی بخش کو بیٹے کی موت نے نڈھال کر دیا تھا۔ وہ عدت ختم ہونے کے دوسرے دن کمدار دھنی بخش کے پاس گئی تھی۔

’’آجائو میری اماں! کیسی ہو دھیڑی (بیٹی)۔‘‘ کمدار نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔

’’چاچا! میں چاہتی ہوں کہ یہاں لڑکیوں کا اسکول ہو۔‘‘ وہ چارپائی کے کونے پر ٹِک گئی۔

’’دیکھو بیٹا! یہ میرے بال سفید برف جیسے ہوگئے ہیں۔ میری کمر دوہری ہوگئی ہے۔ میرے تجربے کا یقین کرلو، یہاںنظام تبدیل ہو ہی نہیں سکتا۔ شہر ہو یا دیہات، اس ملک میں استحصالی قوتیں ہر جگہ بر سرِ پیکار ہیں۔ وہ احمد علی جیسے لوگوں کو کبھی قبول نہیں کرتیں۔ میرے احمد علی کو کیا ملا، تمہیں تو پتا ہے نا مجھ سے زیادہ کہ اس نے زندگی کتنی مشکل سے گزاری۔ ہر جگہ اس کی راہ میں کانٹے بچھائے گئے اور بالآخر سچ بولنے، حق لکھنے کی پاداش میں اس کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔‘‘ اس نے اجرک کے پلو سے آنسو پونچھے۔

شوہر کے ذکر پر اس کا زخم ہرا ہوگیا۔ اس نے آنکھوں میں آنے والے آنسو بڑے ضبط سے پی لےے۔

’’چاچا! میں احمد علی کے مقصد کو مرنے نہیں دوں گی۔ میں اس کے مقصد کی جدوجہد میں اس کے خون کو رائیگاں ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی‘‘ اس کا گلا رندھ گیا۔

’’میں تو اس لےے کہہ رہا تھا بیٹا! کہ یہ مشکل کام ہے، جان جوکھم میں ڈالنے والا۔ تیری بیٹی جوان ہوگئی ہے، اس کی شادی کا سوچ۔‘‘ کمدار نے کمزور آواز میں کہا۔

’’نہیں چاچا! میری بیٹی نے ابھی صرف میٹرک کیا ہے، اسے میں آگے پڑھائوں گی۔‘‘

’’مگر وہ شہر پڑھنے کیسے جائے گی؟‘‘

’’آپ پریشان نہ ہوں چاچا! احمد علی نے مجھے پڑھائی کا سلسلہ ختم کرنے ہی نہیں دیا۔ میں نے گریجویشن کی ہے۔ میں اسے خود پڑھائوں گی۔ صرف امتحانات کے دنوں میں اسے شہر جانا پڑے گا۔ میں خود اس کے ساتھ جائوں گی۔‘‘

وہ خاموش ہوگیا۔

’’میں آپ سے اسکول کے لےے پلاٹ مانگنے آئی ہوں۔ میں نے ادل کو پیغام بھجوادیا ہے۔ کل میں علاقے کے ایم پی اے سے ملنے جارہی ہوں۔ اگر یہاں میں اسکول نہ کھول سکوں گی تو میرے پاس پھر صرف ایک راستہ ہے، کراچی واپسی کا۔‘‘

کمدار دھنی بخش اس کے مضبوط ارادے کے آگے ہار گیا۔ بھینسوں کے باڑے کے پچھواڑے بڑا پلاٹ اسکول کے لےے دے دیا۔ دوسرے دن وہ ادل کے ساتھ علاقے کے ایم پی کے گائوں پہنچی۔

وہ شہید احمد علی کی بیوہ تھی، احمد علی کی تعزیت یہی ایم پی اے کرنے اس کے پاس آیا تھا۔ نام بتانے پر فوراً اس کو آفس بلوالیا گیا۔ اس نے اسکول کی درخواست ایم پی اے کے سامنے رکھی۔

’’مجھے اچھی طرح یاد ہے جب الیکشن جیتنے کے بعد احمد علی مجھے مبارک باد دینے آیا تھا۔ تب اس نے مجھ سے کہا تھا کہ میرا دیرینہ خواب پورا کردیں اور میرے گائوں میں پرائمری اور ہائی اسکول بنادیں۔ میں نے وعدہ کیا اور پورا کر کے دکھایا ۔ آج مجھے خوشی ہے کہ آپ لڑکیوںکے اسکول کے لےے میرے پاس آئی ہیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ تین ماہ میں یہ اسکول دینا میری ذمہ داری ہے۔‘‘

وہ بہت خوش ہو کے واپس لوٹی تھی۔ گائوں کی کچی پگڈنڈی جس کو پکُی کروانے کی منظوری احمدعلی نے دلوائی تھی۔ اس پر کام جاری تھا۔

طویل جبر کے بعد لوگوںکو کچھ آکسیجن جمہوریت نے فراہم کی تھی مگر اس کے خلاف سازشی ٹولے متحرک ہوچکے تھے۔

ئ ئ ئ ئ

وہ لینڈ مافیا کی طرف سے مسمار کےے گئے قدیم سندھی گوٹھوں پر فیچر مکمل کر کے واپس لوٹا تو جیسے ماروی کی جان میں جان آئی۔

وہ آفس میں رپورٹ دے کر اس سے ملنے آیا تھا اور اب گل کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا ماروی کے ہاتھ کی بنی چائے پی رہا تھا۔

’’سرمد۔۔۔!‘‘ لمبی خاموشی کے بعد اس نے پکارا۔

’’بولو ماروی!‘‘ وہ کافی دیر سے دیکھ رہا تھا، وہ کچھ کہنے کی ہمت اپنے اندر پیدا کر رہی تھی۔

’’جو کچھ کہنا چاہتی ہو کہہ دو، بلا جھجک۔‘‘ اس نے ایک لمحے کو اس کی آنکھوں میں جھانکا۔

’’تمہاری منگیتر کا نام کیا ہے؟‘‘

’’! مگر وہ میری منگیتر نہیں ہے۔‘‘

’’پھر کیا ہے وہ؟‘‘ اس نے مسکراہٹ کو کھینچ کے بمشکل ہونٹوں کے کونوں تک پہنچایا۔

’’وہ میرے دادا کی کہی صرف ایک بات ہے اور کچھ نہیں، نہ روایت کے مطابق منگنی ہوئی نا مٹھائی بانٹی گئی۔ یہ بات تمہیں میں نے صرف اس لےے بتائی تھی کہ کسی اور سے یہ بات سنو تو تم غلط نہ سوچو۔ یہ بات تمہیں پریشان کر رہی ہے؟‘‘

’’کیا نہیں ہونا چاہےے؟‘‘

’’میرے خیال میں نہیں۔‘‘ اس نے لمبی سانس لی۔

’’ہمارا رشتہ تو ناکس نگوید بعد ازیں من دیگر مرتو دیگری (تاکہ کوئی یہ نا کہہ سکے کہ تو الگ ہے میں الگ۔) والا ہے۔ ہم ایک دوسرے سے الگ ہیں ہی نہیں ماروی! ہمارا رشتۂ احساس ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ ہم دونوں کے وجود کا ظہور عالمِ ناسوت میں ایک دوجے کے لےے ہوا ہے۔‘‘

وہ اسے مکمل یقین سے کہتے ہوئے سن کر مسکرادی۔

’’پھر تم نے وہ بات ختم کیوں نہیں کر دی؟‘‘

’’ہماری طرف سے تو سمجھو بات ختم ہی ہے۔ مہرو خود ایسا نہیں چاہتی، وہ کسی کو پسند کرتی ہے۔ جب دادا نے یہ بات کی تو اماں ادی سارا کی شادی کر رہی تھی، ادل سے، دادا کو سخت اعتراض ہوا کہ گھر میں لڑکے ہوتے ہوئے وہ غیر برادری میں پوتی کی شادی نہیں کرنے دیں گے۔

میں تب آٹھویں میں تھا۔ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں تھا۔ اماں نے دادا سے کہا کہ میں چاچا احسان کے بیٹے فدا حسین سے سارا کی شادی اس لےے نہیں کر سکتی کہ وہ سردار کاکمدار ہے۔ چاچا احسان کی بیماری کے بعد فدا حسین نوجوانی میں سردار کا کمدار لگ گیا تھا۔ یہ بابا کے اصولوں کے خلاف بات تھی۔ جس شخص نے ساری عمر وڈیروں، جاگیرداروںکی غلامی اور ان کے نظام کے خلاف جنگ کی ہے، اس کی بیٹی اسی نظام کے اک کل پرزے کو سونپ دی جائے۔

تب دادا نے یہ شرط رکھ دی کہ اگر تم اپنی بیٹیاں نہیں دینا چاہتیں تو کم از کم سرمد کے لےے احسان کی لڑکی لے لو۔ امی مصلحتاً خاموش ہوگئیں کہ فی الحال ان کو اپنی دو بیٹیاں بیاہنی تھیں۔ میرے چاچا نے یہ بات مشہور کردی۔ امی سے اگر کوئی بھی پوچھتا تو وہ کہتیں، جب بچے بڑے ہوجائیں گے تب دیکھیں گے۔‘‘

وہ چند ثانےے کے لےے رکا۔

’’تم نہیں جانتیں ماروی! امی کو وہاں اسکول چلانے اور بیٹیاں بیاہنے میں کتنی مشکلات پیش آئی ہیں۔ مگر نے مردانہ وار مقابلہ کیا حالات کا۔ ویسے ایک بات ہے، بعض دفعہ محبت میں بھی وضاحت دینا ضروری ہوجاتا ہے۔‘‘

ماروی نے خجل ہوتے سرعت سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں شرارتی چمک دیکھ کر مسکرادی۔

’’ہاں تمہارے نام کے ساتھ کوئی اور نام لگے گا تو وضاحت تو مانگوں گی۔‘‘

’’اس ناچیز کے نام کے آگے ماروی کا نام ہی لگ سکتا ہے محترمہ!‘‘ اس نے سینے پر عاجزی سے ہاتھ رکھ کے جھک کے کہا۔

ان کومسکراتے دیکھ کر زندگی بھی مسکرا اٹھی تھی۔

ئ ئ ئ ئ

اس نے نوٹ کیا تھا کہ سرمد جب سے آیا ہے، کچھ بے چین اور پریشان ہے۔ اس نے اس دن بھی اس کو اتنا ہی پریشان دیکھا تھا، جب وہ ماروی کے گھر سے رشتے کی بات کےے بغیر اٹھی تھی۔

’’تمہیں پتا ہے ماروی کی ماں کون ہے؟‘‘ اس کی ماں نے سرمد سے پوچھا تھا۔

سرمد نے حیرانی سے سر ہلایا تو اس نے بتایا۔

’’وہ تمہارے انکل مرتضیٰ کی وہ بیوی ہے، جو اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ ماروی کی نانی بھی جوان اولاد کو چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔ مریم نے بھی بھائیوں کے طے کےے ہوئے رشتے کو چھوڑا اور مرتضیٰ کے پیچھے نکل آئی۔ میں نے اسے تب دیکھا، جب تمہارے بابا کے ساتھ گائوں جاتے ہوئے چند گھنٹوں کے لےے ہم حیدر آباد میں مرتضیٰ کے گھر ٹھہرے تھے۔

ایک سال بعد جب مرتضیٰ کی شادی کاکارڈ آیا تو ہم حیران رہ گئے۔ تمہارے بابا کے پوچھنے پر مرتضیٰ نے بتایا کہ جس کو اس نے مظلوم سمجھ کر پناہ دی تھی، وہ اس کا ساتھ نہ نبھا سکی اور اسے چھوڑ کر بھاگ گئی۔ مرتضیٰ نے تمہارے بابا سے التجا کی تھی کہ اس کی اس خفیہ شادی کا کسی کو علم نہیں ہونا چاہےے۔ اس کے بعد مریم کا نام ہماری زبان پر کبھی نہیں آیا۔‘‘

’’اماں! آخر انکل نے یہ شادی خفیہ کیوں رکھی۔ آپ نے کبھی اس ایک نکتے پر نہیں سوچا؟‘‘

’’مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ مریم کے بھائیوں کے ڈر سے اس نے شادی کو خفیہ رکھا ہے پھر وہ اسے چھوڑ کر چلی گئی، تب بھی مرتضیٰ نے اسے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی مگر وہ اسے کہیں نہیں ملی اور تم تو جانتے ہو مرتضیٰ کتنا اچھا ہے۔ صرف تمہارے بابا کی دوستی کی وجہ سے اس نے ہمارا کتنا ساتھ دیا ہے۔ وہ محبت کرنے والا،یار باش بندہ ہے بیٹا! اس عورت نے ہی اس سے بے وفائی کی تھی۔‘‘

’’اماں! اس جہاں میں کوئی بھی بندہ سب کے لےے اچھا یا سب کے لےے برا نہیں ہوتا۔ جو ہمارے لےے اچھا ہوسکتاہے وہ کسی اور کے لےے برا بھی تو ہوسکتا ہے۔‘‘ سرمد نے اسے قائل کرنے کی ایک اور کوشش کی۔

’’مگر بیٹا ! تم خود سوچو جو دوستوں کے لےے اتنا اچھا، مدد کرنے والا بندہ ہوسکتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کے لےے برا کیوں ہوگا جس کو اس نے پناہ بھی خود ہی دی ہو اور پتا نہیں ماروی اس کی بیٹی ہے بھی یا نہیں کیونکہ مرتضیٰ نے ایسا کوئی ذکر کبھی بھی نہیں کیا۔‘‘

سرمد کا چہرہ ایک دم سے سرخ ہوگیا۔

اس نے محبت ماروی سے کی تھی، اس کے باپ یا حسب نسب سے نہیں۔ اس کی ولدیت مشکوک ہوتی رہے، اس نے تو اسے ذلُتوں سمیت قبول کیا تھا۔ اب صرف اس بات پر چھوڑ دینا ممکن نہیں تھا۔

اس نے فوراً فون اٹھا کر رئیس مرتضیٰ کو بلایا تھا،وہ آدھے گھنٹے بعد آگیا تھا۔

’’ادا! آج ہم نے مریم کو دیکھا تھا۔‘‘ زیب النسائ نے بات سبھائو سے شروع کی۔

’’کہاں؟ اس کی بیٹی ہے یا بیٹا؟‘‘اس نے بے تابی سے سوال کیا۔

’’بیٹی ہے انکل!‘‘ سارا نے سارے قصے میں پہلی بار زبان کھولی۔

’’کیا وہ بیٹی آپ کی ہے؟‘‘ سرمد نے بغور اسے دیکھا۔

’’ہاں، جب میںنے مریم کو طلاق دی تو وہ پریگننٹ تھی۔‘‘

’’طلاق آپ نے دی یا اس نے لی؟‘‘

’’سرمد بیٹا! طلاق میں نے اسے دی۔ میں نے ہی اسے چھوڑ دیا تھا لالچ میں آکر۔ بعد میں جب مجھے احساس ہوا تو بہت دیر ہوچکی تھی۔ مریم کو میں نے بہت ڈھونڈا مگر وہ نہ جانے کہاں چلی گئی تھی۔ آج چھبیس سال بعد مجھے پتا چلا ہے کہ میری ایک بیٹی اور بھی ہے۔‘‘ اس کا لہجہ اور آنکھیں بھیگ گئیں۔

سرمد نے فون ملا کر اسپیکر آن کر دیا۔

’’ماروی!‘‘

’’کہو، اب کیوں فون کیا ہے؟‘‘ سرمد نے اس کے چَبھتے لہجے پر فوراً کرب سے آنکھیں موند لیں۔

’’تم جانتی ہو اپنے باپ کے متعلق؟‘‘

’’ہاں، میں سب کچھ جان چکی ہوں۔‘‘

’’کیا اس سے ملنا چاہو گی؟‘‘

’’نہیں، قطعاً نہیں۔ تم اچھی طرح جانتے ہو سرمد! کہ میں اس شخص سے نفرت کرتی ہوں۔‘‘

’’مگر وہ تمہارا باپ ہے ماروی! تمہاری ولدیت کے خانے میں اس کا نام ہے۔‘‘

’’ہاں، صرف ڈاکومنٹس تک اور تم جانتے ہو، ڈاکومنٹس میں ولدیت ضروری ہوتی ہے۔‘‘ اس نے فون بند کر دیا۔

ایک نفیس اور محبت کرنے والا انسان جو اپنی اولاد کے لےے قابلِ نفرت تھا، انہوں نے اسے بہت تھکے تھکے قدموں سے اٹھ کر جاتے دیکھا تھا۔

سب لوگ خاموش تھے۔ زیب النسائ کو احساس ہوا کہ اس نے عجلت میں بیٹے کی بنی ہوئی بات کو بگاڑ دیا ہے اور وہ صرف رشتے کی تو بات نہیں تھی کہ اس جگہ نہیں تو کہیں اور سہی۔ وہ تو اس کے بیٹے کی محبت تھی اور اس نے ذرا خیال نہ کیا، کچھ نہ سوچا۔ ماروی کے گھر سے یوں اٹھ کے آتے ہوئے کہ ا س کے بیٹے کی آنکھوں کی قندیلیں بجھ سکتی ہیں۔ اس کا دل مر سکتا ہے۔ وہ زندگی کی خوشیوں سے دور جا سکتا ہے۔

سب لوگ اپنی اپنی جگہ سنُاٹے میں آگئے۔ چور سے بن گئے تھے۔

’’سرمد! مجھے بتائو میری جان! میں کیا کروں۔ مجھے ابھی لے چلو، میں خود مریم سے، ماروی سے معافی مانگ لوں گی۔‘‘

’’نہیں اماں! ابھی نہیں۔‘‘ اس نے پشیمان سی ماں کے گرد بازو حمائل کیا۔ ’’آپ نے دیکھا نہیں کہ وہ لہجے سے کتنی ڈسٹرب لگ رہی تھی۔ اس کے باپ کا دھوکا، رشتے سے انکار اور ماں نانی کی حقیقت بہت بڑے دھچکے ہیں اس کے لےے۔ میں پہلے اسے منائوں گا پھر آپ اس سے معذرت کر لیجےے گا۔‘‘

دوسرے دن زیب النسائ دل پہ بوجھ لےے گائوں واپس لوٹ آئی تھی۔

پھر کتنے ہی دنوں بعد جب سرمد نے اپنی محبت و سچائی کو اپنے قول و فعل سے ثابت کیا تو اس نے مریم اور ماروی کو فون کر کے معذرت کی اور اپنی غلط فہمی کی حقیقت بتائی تھی۔

ئ ئ ئ ئ

’’پریشان ہو بیٹا! کیا بات ہے؟‘‘ اس نے اس کے بالوں کو پیشانی سے ہٹایا۔

’’اماں! اب میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ باقاعدہ ماروی کا رشتہ لینے جائیں مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ وہ اپنی اس مٹھائی (منگنی) کو گائوں میں ظاہر کردیں یا ابھی فی الحال چھپالیں۔‘‘

’’ابھی یہ بات ظاہر کرنا مناسب نہیں۔ تمہیں فدا حسین اور اختیار کا پتا نہیں، وہ مرنے مارنے پر تل جائیں گے کہ ہماری بہن کو بچپن سے زبان دی ہوئی ہے۔ اب اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتا ہے بیٹا! میں رشتہ لینے ضرور چلوں گی مگر یہاں برادری میں اس بات کو چھپا کر رکھنا چاہتی ہوں۔ شاید اللہ کوئی سبب پید اکر دے۔ اگر یہاں حالات نامواقف رہے تو میں ریٹائرمنٹ لے کر تمہارے ساتھ حیدرآباد چل کر رہوں گی۔‘‘

’’اور اسکول۔۔۔؟‘‘

’’اب وہاں میری ضرورت نہیں، تعلیم کا سلسلہ چل رہا ہے اور میرے بعد سارا ہیڈ مسٹریس بن جائے گی، وہ ادل کے مضبوط سائبان میں ہے۔ تمہارے چچا زاد اس کا نام بھی زبان پر نہیں لائیں گے۔ ویسے بھی سارا اور ثوبیہ کو ہم احتیاطاً اس معاملے سے لا تعلق دکھائیں گے۔‘‘

اس کی ماں نے بہت اچھی پلاننگ کی تھی، وہ مسکرا دیا۔ وہ بھی بیٹے کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھ کر مسکرادی۔

’’تمہیں زندگی کی یہ سب سے بڑی خوشی دینا میری زندگی کا مقصد ہے بیٹا! بہت سارے خوابوں کی تکمیل کے بعد اب اسی خواب کو تعبیر دینا ہے کہ ماروی کو تمہاری دلہن بنے دیکھوں۔‘‘

اس نے وفورِ مسرُت سے ماں کے ہاتھ چومے تھے۔ زیب النسائ نے محبت کی چمک سرمد کی آنکھوں میں دیکھی تھی اور خوشبو اس کے وجود میں محسوس کی تھی۔ وہ تو خود محبت کے زائرین میں سے تھی۔ پاپیا دہ اسی راہ پر چلنے والی، احمد علی کی محبت، خواب، مقصد۔ ایک لمحے کے لےے بھی اس سے الگ نہیں ہوئے تھے۔ اس نے اپنے کےے ہوئے وچن کو ہر مشکل حالات میں پورا کیا تھا۔

زندگی اس کے لےے پھولوں کی سیج تب تک تھی جب تک احمد علی اس کی ہمراہی میں تھا۔ اس کے وچھوڑے کے بعد تو کانٹوں کا بستر تھی جس پر کروٹیں بدلنے سے ہی جسم زخموں سے چور ہوتا تھا۔ بنی ہوئی عام راہ پر چلنا مشکل نہیں ہوتا مگر خود راہ بنانا پھر اس پر مسلسل چلتے رہنا بہت مشکل، کٹھن اور صبر آزما ہوتا ہے۔ زندگی اس کے لےے جہد مسلسل تھی، اس دن سے جب اعلا تعلیم یافتہ احمد علی کی محبت اور اس کے شہر میں شادی کرنے کے خوف میں وہ پہلا قاعدہ لے کر اس کے پاس آبیٹھی تھی۔

اس نے احمد علی کی کوشش و تعاون سے تعلیم مکمل کی۔ ٹیچری کی پھر جمہوریت پسند ہونے کے جرم میں بے روزگار کر دیا گیا۔ اس پر کیس بنا دےے گئے، مگر وہ کبھی ناامید اور مایوس نہیں ہوئی۔ احمد علی جیسا مضبوط روشنی بخشنے والا سائبان اس کے سر پر تھا۔ وہ اس سائبان تلے اپنے بچوں کی پرورش کرتی رہی۔

حالات کچھ موافق ہوئے تو اس نے نئی روشنی اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا۔ نئی حکومت نے وہ اسکول ختم کر دےے مگر ان کے اساتذہ کی نوکریاں بحال رکھ کر ان کو پرائمری اسکولوں میں تعینات کر دیا مگر احمد علی کی موت نے اسے توڑ دیا، مایوس کر دیا۔ وہ اس غم کے پہاڑ کے نیچے آکر ریزہ ریزہ ہوگئی۔

پھر احمد علی کے خواب کو تعبیر دینے کے عزم نے اسے حوصلہ دیا اور عدت گزرنے کے بعد اس نے اسکول کے لےے جدوجہد شروع کر دی۔ آمریت کے بعد پہلی جمہوریت نے جاتے جاتے ا ن کے گائوں کو لڑکیوں کے اسکول کا بھی تحفہ دے دیا۔

وہ دن رات ایک کر کے گائوں کی بچیوں کو اسکول لانے کے جتن کرتی رہتی۔ ان کے والدین سے مل کر انہیں راضی کرتی اور صبح سویرے لڑکیوںکو گھروں سے نکال کر اسکول لے جاتی۔ کچھ عرصے بعد سارا بھی ٹیچر بن گئی تو اسے اور بھی آسانی ہوگئی۔

ان سارے کاموں میں جس نے اس کے ساتھ مل کر جی جان سے کوشش کی، وہ ماسٹر نیاز حسین کا پوتا ادل حسین تھا۔ ادل بہت اچھا اور نیک طبیعت انسان تھا۔ احمد علی کا ذکر اکثر اس کے گھر میں ہوتا تھا کہ وہ کتنی محنت سے آگے بڑھا۔ اس کی مثالیں دی جاتیں اس کی، اور وہ دل ہی دل میں احمد علی سے متاثر ہوگیا اور اسے پتا ہی نہ چلا کہ کب احمد علی اس کا آئیڈیل بن گیا۔ احمد علی کے گائوں آنے کا سن کر وہ اپنے لڑکپن کے دور سے ہی بھاگا بھاگا آیا تھا اس سے ملنے۔

جب اسکول بنا تو وہ اس گائوں میں ہیڈ ماسٹر بن کے آگیا۔ احمد علی کی وفات پر وہ ہر رسم میں شریک رہا پھر سرمد کو پڑھانا اس نے اپنے ذمے لے لیا۔ مڈل کے بعد ہائی اسکول پھر کالج میں داخلہ دلوا کر آگے پڑھانے میں مدد کرتا رہا۔ جب اس نے سارا کا رشتہ مانگا تو زیب النسائ کو اس سے بہتر کوئی لڑکا نظر ہی نہ آیا۔ اس کے دیور احسان کے بیٹے فدا حسین اور اختیار دونوں بچپن سے وڈیرے کے غلام تھے۔ اس نے بڑی دلیری سے دونوں کو ٹھکرا دیا اور سارا کا نکاح ادل حسین سے کر دیا۔ گھر میں بہت بڑا جھگڑا کھڑا ہوگیا۔

مگر اس کے سسر نے اس کا ساتھ دیا مگر ساتھ یہ تاکید بھی کی کہ سرمد کی شادی مہرو سے کرنا۔

وہ مصلحتاً خاموش ہوگئی۔ دو سال بعد ثوبیہ کی شادی بھی اس نے اپنی مرضی سے کر دی۔ وہ بہت کامیاب تھی اپنے مقصد اور زندگی میں۔

انٹر کے بعد سرمد کی حیدرآباد میں ایک نیوز پیپر میں آپریٹر کی جاب لگ گئی۔ وہ جاب کے ساتھ ساتھ سندھ یونیورسٹی میں پڑھتا رہا۔ ایم اے صحافت کے بعد وہ رپورٹر پھر سینئر رپورٹر بن گیا۔

حیدرآباد میں ہی اس کی ماروی سے محبت پروان چڑھی تھی۔ جب اس نے زیب النسائ کو ماروی کے بارے میں بتایا تو اسے بے تحاشا مسرت نے آگھیرا مگر وہ مریم کو دیکھ کر غلطی کر بیٹھی۔ مرتضیٰ نے ہمیشہ مریم کے بارے میں یہی کہا تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔ یہ تو نہ جانے کیسے اتنی مدت بعد اس نے ضمیر کی خلش سے تنگ آکر سچ بول دیا تھا۔

آج سرمد کی بجھتی آنکھوں کو پھر سے روشن ہوتے دیکھ کر اس نے سوچا تھا کہ وہ کیسے اس بیٹے کو دکھ اور اذیت دینے جارہی تھی، جس بیٹے پر اس نے کبھی تنکا گرا ہوا بھی برداشت نہیں کیا تھا مگر فی الحال وہ اس بات کو مخفی رکھنا چاہتی تھی۔

مگر سرمد چاہتا تھا کہ وہ علی الاعلان ماروی کو اپنی شریکِ حیات بنائے، اس لےے پریشان تھا اور وہ اچھے وقت کی منتظر تھی۔

مہرالنسائ جس کو اس نے بچپن سے مہرو کے نام سے پکارا تھا۔ مہرو گائوں کی ان چند لڑکیوں میں سے تھی جن کوپڑھنے کی اجازت نہ ملی۔ زیب النسائ چند بار خود چل کر دیور اور اس کے بیٹوں کے پاس آئی مگر ان کا جواب یہی تھا کہ جو لڑکیاں پڑھتی ہیں، وہ لڑکوں کو خط وغیرہ لکھ کر بھاگ جاتی ہیں۔ اس نے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی مگر اس کے دلائل ان کی ضد و جہالت سے ہار گئے۔ مجبوراً اس کو ہار ماننی پڑی۔

سرمد پہلے بھی ددھیال والوں سے زیادہ قریب نہیں تھا۔ مہرو سے سرسری ہی بات ہوتی تھی۔ وہ خود بھی اکھڑی اکھڑی رہتی تھی۔ انٹر کے بعد تو وہ مستقل حیدرآباد میں رہنے لگا تھا جب کبھی گائوںمیں آتا تو وہ اس سے زیادہ بات نہیں کرتی۔ وہ اگر حال دریافت کرتا تو وہ ’’ٹھیک ہوں‘‘ کہہ کر اس کا دوسرا سوال سننے کے لےے رکتی نہیں تھی۔

اسے کئی دفعہ محسوس ہوا کہ وہ اس میں دلچسپی نہیں لیتی بلکہ اکثر و بیشتر اسے لگتا کہ وہ بے زاری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ‘‘مجھے اس سے کون سا لگائو ہے۔‘‘ وہ یہ سوچ کر سر جھٹک دیا کرتا۔

مگر پھر حیدرآبادمیں پتا نہیں کیسے محبت نے اس کو آغوش میں لے لیا کہ اس کو پتا ہی نہیں چلا۔

آہستہ آہستہ ماروی کی محبت ایک میٹھی کسک بن کر اس کے من میں چٹکیاں لینے لگی۔ وہ بھول بھال گیا کہ پیچھے اس کی منگیتر مہرو بھی ہے۔ ماں کو جب ماروی کے رشتے کے لےے بھیجا تھا، تب بھی اسے خیال تھا کہ ان لوگوں کوپتا چل گیا تو ہنگامہ کریں گے۔ اب دوبارہ ماں رشتے کے لےے جارہی تھی تو اسے یہی پریشانی تھی۔

لائٹ چلی گئی تھی۔ اندر کمرے میں حبس محسوس کر کے وہ باہر نکل آیا۔

جاتی گرمیوں، آتی سردیوں کے موسم میں لوگ اب صحن سے بستر اٹھا کر اندر کمروں میںسونے لگے تھے۔ باہر آکر وہ ٹہلنے لگا۔ چاند اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ چہرے پر داغ لےے کچھ شرمندہ شرمندہ سے چاند کو اس نے سر اٹھا کر دلچسپی سے دیکھا۔

چاند جس کو شاہ سائیں نے طعنہ دیا تھا کہ

چند تنہنجی ذات، پاڑیاں نہ پریں سیں!

توں اچھو منجھ رات، مہنجو سجن سدائیں سوجھرو

(چاند تم چاہے کتنے ہی حسین ہو مگر میرے محبوب جیسے نہیں بن سکتے۔ اس کا اور تمہارا کوئی مقابلہ نہیں کہ تم صرف رات کو چمکتے روشن لگتے ہو مگر میرا محبوب تو ہمیشہ روشن رہتا ہے۔)

اور ابن انشائ کا چاند بھلا کیسا ہوگا، جس کے لےے انہوں نے چاند سے کہا تھا۔

اس کو دیکھ کر عید کریں گے اپنا اور اسلام ہے چاند

’’محبوب کے چہرے اور چاند کا بھی کیا ہی دلفریب تعلق ہے۔ کبھی چاندمیں محبوب کا چہرہ نظر آنے لگتا ہے تو کبھی محبوب کا چہرہ چاند جیسا لگتا ہے۔‘‘وہ مسکرایا۔

اس وقت میرا چاند بھی جام شورو کی فضائوں میں سانس لے رہا ہوگا۔ لے رہا نہیں، لے رہی ہوگی۔ وہ خود ہی سوچ کی تصحیح کر کے متبسم ہوا۔ اس نے چاند کو دیکھتے آنکھیں موند لیں اور منہ نیچے کر کے بغور دل کی دھڑکنیں سنیں، جو اسی کا نام لے رہی تھیں۔ چند منٹ بعدآنکھیں کھولیں تو اسے سایہ سا نظر آیا۔ وہ آہستگی سے برآمدے کے پلر کی اوٹ میں ہوگیا۔

وہ یقینا مہرو ہی تھی جو دروازہ کھول کے باہر نکلی تھی۔ وہ حیران ہوا، یہ اس وقت کہاں جارہی ہے۔ وہ دروازے کی اوٹ میں آکھڑا ہوا۔ تھوڑی دیر بعد وہ لوٹ آئی۔ اس کے اندر قدم رکھتے ہی اس نے دروازہ بند کر دیا۔ وہ بری طرح خوف زدہ ہوگئی پھر سامنے چاند کی روشنی میں کھڑے سرمد کو دیکھ کر اس کی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی۔

’’دلدار سے ملنے گئی تھیں؟‘‘

اس نے تردید نہیں کی، خاموش کھڑی رہی۔

’’اگر کسی روز تمہارے بھائیوں کو پتا چل گیا تو وہ تمہیں زندہ زمین میں گاڑ دیں گے۔‘‘ سرمد نے غصہ دبا کر چَبھتے لہجے میں کہا۔

’’یہ نوبت نہیں آئے گی۔‘‘ وہ کہہ کے رکی نہیں، تیزی سے اندر کی جانب بڑھ گئی۔

وہ اس کی دیدہ دلیری پر حیرت زدہ ساکھڑا اسے دیکھتا رہا۔

کتنا عجیب اتفاق تھا کہ اس کو پہلے بھی دلدار سے ملتے اس نے پکڑا تھا۔ اس کے بھائیوں کو ابھی تک پتا نہیں چلا تھا کہ اس کی بہن کس راہ پہ چل نکلی ہے۔

پہلی بار جب اس نے اس کو باہر جاتے دیکھا تو اسے حیرت ہوئی کہ یہ رات کے دو بجے کہاں جارہی ہے۔ وہ اس کے پیچھے آیا۔ اسے آتے دیکھ کر وہ جو کوئی بھی تھا، گنے کے کھیت میں چھپ گیا۔

’’تم رات کو کیا کرنے آئی ہو یہاں؟‘‘ اس نے ڈپٹ کر پوچھا۔

’’کچھ نہیں۔‘‘ کہہ کر وہ بھاگ کر اندر گئی تھی۔ اس آدمی کو گنے کے کھیت میں ڈھونڈنا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ سو اس نے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا مگر اب وہ جب بھی گائوں آتا مہرو کی طرف سے چوکس ہی رہتا۔

آفس سے اس کے ایڈیٹر نے اسے فیچر لکھ کر صبح فیکس کرنے کوکہا، وہ جھنجلا گیا۔

’’سر! میں تین ماہ کے بعد گائوں آیا ہوں۔ یہ آپ کسی اور سے لکھوالیں۔‘‘

’’او سانگی یار! کیا ہوگیا ہے تمہیں۔ تمہارا تو قبائلی جھگڑوں پر رپورٹنگ کا وسیع تجربہ ہے۔ جتنا اچھا تم لکھ سکتے ہو، کوئی اور نہیں۔ شاباش آج لکھ کے کل فیکس کردو۔ ہری اٰپ۔‘‘

ایڈیٹر صاحب حکم سنا کے فون رکھ چکے تھے، اسے غصہ تو بہت آیا مگر اب چارہ کوئی نہیں تھا۔ ایڈیٹر صاحب کا حکم ٹالا بھی نہیں جاسکتا تھا۔

وہ سندھ کے اندر قبائلی جھگڑوں پر فیچر لکھنے لگا کہ کیسے سردار، وڈیرے، نواب اپنے قبیلوں کو یرغمال بنائے رکھتے ہیں اور ان کی زندگی و موت کے فیصلے سناتے ہیں۔ اگر کوئی ان کے احکامات کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس کی ملکیت کو اپنے پاس رکھ کر ان کو علاقہ بدر کر دیتے۔ پولیس میں جھوٹے مقدمات، زمینوں کا پانی بند کرنا، ان کے مال مویشی چرانا اور فصلوں کو آگ لگا دینا۔ ان جرائم کو اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں، کوئی الیکشن میں ان کے خلاف ووٹ دیتا تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جاتا۔

پاکستان کے سارے جاگیردار کسی کو بولنے اور اپنے سامنے سر اٹھانے کا حق دینے کے سخت مخالف تھے۔ وہ ہر طریقے سے اپنی سرداری کو بچانے اور مضبوط کرنے کے حق میں تھے۔ آپس میں رشتہ داریاں کر کے اپنے قبیلوں کو مضبوط بنانے کے کامیاب پلان بناتے اور پستے وہ جن کا جینے کا حق بھی وہ اپنے ہاتھ رکھے رہتے۔ ایک فرد کی لڑائی ان وڈیروں کی آشیرباد سے پورے قبیلے تک پھیل جاتی پھر وہ نہیں دیکھتے کہ کون مجرم ہے۔ کون بے گناہ۔ دوسرے قبیلے کے کسی بھی فرد سے انتقام لے لیتے۔ یوں دونوں قبیلوں میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی اور دوسرے قبیلے کا کوئی بھی فرد ہاتھ لگتا تو اسے چھوڑتے نہیں۔ ایک فرد کے جرم و جھگڑے کی سزا پورے قبیلے کو دینے کے چکُر، اس قبیلے کے سردار یا وڈیرے کے حکم پر چلائے جاتے۔ وہ اپنے قبیلے کا جرگہ بلا کر حکم صادر کرتے اور دوسرے قبیلے نے مجرم نہیں دیا یا وہ بھاگ گیا تو پورے قبیلے سے انتقام کی دھمکیاں دے کر پریشرائز کیا جاتا۔ نتیجتاً اسکول بند ہوجاتے۔ خوف کے عالم میں لوگ زندگی گزارتے، مورچہ بند ہو کر بیٹھ جاتے۔ چونکہ دوسرا قبیلہ پورے قبیلے سے انتقام لینے کی دھمکیاں دیتا۔ سو جواِن جھگڑوں کا حصہ نہ بھی بننا چاہتے، وہ غریب بھی مجبوراً یا جبراً حصہ بن جاتے۔ پوری قوم، برادری، قبیلہ ایک سردار کے ہاتھ میں یرغمال ہوتی اور وہ ان کی ڈوریاں موقع کی مناسبت سے کھینچتے رہتے۔

یہی حال الیکشن کا تھا کہ اپنے قبیلے اور برادری کی بنیاد پر جیت کے آتے، اسی لےے ان کو اپنی پارٹیوں اور کارکنوں اور منشور کی پروا بھی نہیں ہوتی مگر اس کی ذمہ داری پاکستان کی بڑی سیاسی پارٹیاں بھی ہیں۔ چاہے وہ اسٹیبلشمنٹ کے زیرِ سایہ پلی ہوںیا اس کی مخالف ہوں۔ یہ سردار، وڈیرے، جاگیردار ہر جگہ مساوی ہیں۔

اسے ایسے جاگیرداروں سے نفرت اپنے باپ سے ورثے میں ملی تھی، اس کو کئی بار دھمکیاںبھی مل چکی تھیں مگر وہ ڈرنے، بکنے اور جھکنے والوں میں سے نہیں تھا۔ جاگیردارانہ سسٹم کے خلاف بڑے دھڑلے سے لکھتا۔

اس نے کام ختم کیا تو کافی رات گزر چکی تھی، چارپائی پر آکر لیٹا تو ماروی کی یاد دل کے اندر چوکڑی مار کر بیٹھ گئی۔ اس کے چار اطراف اجالا پھیل گیا۔ وہ تصور میں مجسم تصویر بنی کھڑی تھی قدموں کی آہٹ پر اس کے تصور کا طلسم ٹوٹ گیا اس نے چونک کر دیکھا۔ مہرو اپنی چارپائی سے اتر کر باہر جارہی تھی۔ اس نے چاہا اٹھ کر اس کے پیچھے جائے۔ یک دم اس کی محبت اس کے سامنے آکھڑی ہوئی۔

وہ چور سا بن گیا۔ یہ انسان کی فطرت ہے، جب تک اس کو اپنی ذات کے حوالے سے حقائق کاادراک نہیں ہوتا، تب تک وہ صرف اپنی سوچ دوسروں پر مسلط کرتا ہے۔ سرمد یہ چوٹ کھائے ہوئے تھا۔ اس لےے وہ مہرو کو روکنے کی ہمت نہ کر سکا۔ البتہ ٹارچ جلا کر اس نے مہرو کو یہ احساس ضرور دلایا تھا کہ وہ جاگ رہا ہے۔ اس نے مڑ کر ایک لمحے کو اسے دیکھا پھر باہر نکل گئی۔

اسے مہرو کے نڈر پن اور دلیری پر شدید حیرت ہوئی۔ شاید محبت انسان کو کچھ بھی سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں چھوڑتی۔

پانچ منٹ بعد وہ واپس آگئی تھی، اس نے پھر ٹارچ روشن کر کے اسے اپنے جاگنے کا احساس دلایا تھا۔ وہ صحافی تھا، بات کی تہہ تک پہنچنا اس کے لےے مشکل نہیں تھا۔ وہ دلدار سے ہی ملنے جاتی تھی۔ دلدار، مہرو کے بھائی اختیار کا جگری یار تھا۔ وہ دونوں مل کے وڈیرے کی زمین پر کاشت کر رہے تھے۔ دلدار کے بھائی کی تیس ایکڑ زمین اس کا بڑا بھائی سنبھالتا تھا۔وہ یہاں زمین آباد کر رہا تھا۔ سارا دن بے دھڑک ان کے گھر آتا جاتا، کھاتا پیتا، بیٹھا رہتا۔ البتہ رات کو وہ باہر سوتا۔

’’صبح میں اس سے ضرور بات کروں گا۔‘‘ یہ سوچ کر اس نے آنکھیں موند لیں۔

صبح فدا حسین اور اختیار جب گھر سے نکل گئے تو وہ اس کے سامنے آگیا۔

’’تمہیں ڈر نہیں لگتا؟‘‘

وہ وتھان (باڑے) میں جھاڑو لگا رہی تھی۔ جب اس نے بھینس کے آگے چارہ ڈالنے کے بہانے اس سے بات کی۔

اس نے سر اٹھا کر ایک نظر اسے دیکھا پھر سے لاپروائی سے جھاڑو لگانے لگی۔ ’’یہ اپنا راستہ لو۔‘‘ والی بات تھی۔

وہ اس کی لاپروائی پر متبسم ہوا، صحافی تھا۔ مقابل سے اپنے سوال کا جواب لینا خوب جانتا تھا۔

’’اگر میں اختیار کو بتادوں تم کس سے ملنے جاتی ہو؟‘‘ اس نے بھینس کی پیٹھ تھپک کر کہا۔

’’تم نہیں بتائو گے۔ تم یہی تو لکھتے ہو نا کہ لڑکیوں کو ان کی مرضی کی شادی کی اجازت دی جائے تو کاروکاری کے بہت سارے واقعات سرے سے ختم ہوجائیں گے۔ تمہیں تو نفرت ہے نا وڈیروں اور ان کے چیلوں سے پھر کیوں وڈیروں کے نظام کا ساتھ دو گے؟‘‘ وہ جارحانہ انداز میں اسے گھورتے ہوئے بولی۔

’’میں صرف تمہاری بھلائی چاہتا ہوں، تمہارے بھائیوں کو پتا چل گیا تو پھر تم اپنے انجام سے بے خبر نہیں ہو۔‘‘ وہ لاجواب ہوکر بولا۔

’’محبت انجام کا سوچنے کب دیتی ہے ادا سرمد۔۔۔!‘‘ اس کا لہجہ دھیما ہوا۔

وہ اس کے ادا کہنے پر بے ساختہ مسکرایا تھا۔

’’مگر تم احتیاط کرو تو اچھی بات ہے۔ میں نہیں چاہتا تم بے موت ماری جائو۔‘‘ سرمد نے رسانیت سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

’’میری تقدیر تم نے نہیں لکھی جس نے لکھی اس نے لکھ دی۔ اب تمہارے یا میرے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔‘‘

وہ جھاڑو پھینک کر اٹھی۔ ’’میں موت کے خوف سے زندگی سے منہ نہیں موڑ سکتی۔‘‘

اس نے سرمد کے سامنے آکر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا اور اس کا جواب سننے کے لےے رکی نہیں تھی۔

اس نے سوچا وہ اختیار سے بات کر کے دلدار کا گھر میں آنا جانا بند کروادے گا اور رات کو گیٹ پر تالا لگوا دے گا۔ یہ کہہ کر کہ علاقے میں چوری کی وارداتوںمیں اضافہ ہورہا ہے۔ اس مسئلے کا اس ایک حل کے علاوہ فی الحال کوئی اور حل اسے نہیں سوجھا تھا۔

’’یہ بے وقوف لڑکی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔‘‘ اس نے پریشانی اور تاسف سے سوچا۔

ئ ئ ئ ئ

سجاد علی بحال ہو کر اس سیٹ پر واپس آگیا تھا، وہ اس کے ماتحت کام کرے، یہ ناممکن تھا، وہ حد درجہ پریشان ہوئی۔ اس نے پہلے ہی این جی اوز کی ماہانہ میٹنگز وغیرہ میں جانا چھوڑ رکھا تھا۔ آفس ورک میں خود کو زیادہ مصروف رکھتی۔ جن تنظیموں نے قرضے وغیرہ منظور کروانے ہوتے، اس تنظیم کی صدر و منیجر اس سے آفس میں ملنے آجاتیں۔

وہ لوگوں کی سوالیہ، طنزیہ، استہزائیہ نظروں کا سامنا نہیں کر سکتی تھی، اس لےے ان سے ملنے سے کترانے لگی، پھر مردوںکے معاشرے میں ان کے بنائے ہوئے نظام میں عورت بے گناہ ہوتے ہوئے بھی سماج کے اندر معتوب ٹھہرتی ہے، سو وہ بھی معتوب تھی۔

اس نے فوراً سانگی کو فون کر کے سجاد علی کی بحالی کا بتایا۔ اسے عجیب سی تضحیک کا احساس ہورہا تھا۔ سجاد علی کا بحال ہو کر واپس آنا اس کی جیت تھی وہ حق پر ہوتے ہوئے بھی ہار گئی تھی۔ وہ بہت مشکل سے چکراتے سر کے ساتھ گھر پہنچی تھی۔

بار بار اس کے تصور میں اخبارات میں چھپی من گھڑت خبریں اور سجاد علی کے جھوٹے الزامات آرہے تھے۔ اذیت میں گزارے وہ شب و روز یاد آرہے تھے۔اگر سرمد اس کی مدد کو نہ اٹھتا تو شاید وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہتی۔

شام کو وہ اس کے سامنے موجود تھا۔

’’میں اب اس ادارے میں کام نہیں کر سکتی۔‘‘ اس نے سرمد کو دیکھتے ہی بے چارگی سے کہا۔

اس نے ماروی کے ستے ہوئے چہرے، سوجی ہوئی سرخ آنکھوں کو دیکھا۔ وہ اپنے تئیں اسے راضی کرنے آیا تھا کہ وہ اس ملازمت سے استعفیٰ نہ دے لیکن ماروی کی پریشانی اور ذہنی تنائو کو دیکھتے ہوئے اس نے اپنا ارادہ بدل دیا۔

’’میں اس کے ساتھ کام کر ہی نہیں سکتی۔ کرنا چاہوں بھی تو مجھ سے کام نہیں ہوگا سرمد!‘‘ وہ بے بسی سے بولی۔

سرمد کو شدید غصہ آرہا تھا۔ ہیڈ آفس نے سجاد علی کو بحال کر کے اپنے ادارے کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا تھا۔ ان حالات کی وجہ سے کون اپنی بیٹیوںکو یہ ادارہ جوائن کرنے دے گا جو ان کی بہبود کے لےے بنایا گیا تھا۔ عورت کتنا بھی کام کرے مرد پھر بھی اس معاشرے میں جیت جاتا ہے۔ اور جہدِ مسلسل والی زندگی گزارنے والی عورت ہر جگہ ہار جاتی ہے۔ مردوں کے معاشرے نے اسے صرف سراہنے، اپنا دل بہلانے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ کام کرنے والی عورت چاہے دفتروں میں کام کرے یا کھیتوں میں اس کو اس کا مقام نہیں دیتے۔ سجاد علی کو ماروی پر فوقیت اس معاشرے کی سوچ کی کھلی عکاسی تھی۔

’’ٹھیک ہے اگر کام ہی کرنا ہے تو اور بھی ادارے ہیں، جہاں تم کام کر سکتی ہو۔ میں کوشش کروں گا کہ کسی ایسے ہی ادارے میں تمہیں جاب مل جائے جہاں سجاد علی جیسے گندے گدھ نہ ہوں۔‘‘ وہ اسے تسلی دیتے ہوئے نرمی سے بولا۔

’’تھینک یو سرمد! میرے سر سے بوجھ اتر گیا۔ تم نے پہلے بھی مجھے ریزائن کرنے نہیں دیاتھا، مجھے یہی پریشانی تھی کہ تم اب بھی یہی کہو گے۔‘‘ وہ مسکرائی۔

’’تو تمہیں اتنی پریشانی کیوں تھی۔‘‘

’’اس لےے کہ میں تمہاری بات ٹالنا نہیں چاہتی تھی اور وہاں کام بھی نہیں کر سکتی تھی۔ میں عجیب مخمصے اور مشکل میں گھری ہوئی تھی۔‘‘ وہ بے چارگی سے بولی۔

سرمد سانگی اسے تکتا رہ گیا۔

’’کیا یہ ماروی اس ماروی سے الگ ہے جس کو شاہ سائیں نے گایا ہے۔ اس کو وقت کے بادشاہ نے قید کیا اور اسے بھی وقت کے عمر نے اغوا کیا اور ماروی کا حسن دونوں زمانوں میں اس کے لےے وبال بن جاتا ہے۔‘‘

شاہ سائیں نے ماروی کے لےے کہا تھا۔

’’اگر میں اس کے زمانے کو پاتا تو عمر کے پاس جا کے عرض کرتا۔ اس کے بدلے اپنا انگ(جسم) پیش کرتا۔ اس سوہنی ماروی کو زنجیروں سے آزاد کرا کے اس کے ماروئوں (عزیزوں) کے پاس بانہہ سے پکڑ کر لے آتا۔‘‘

وہ بھی تو اس ماروی کو ریسٹ ہائوس سے بازو سے پکڑ کر لے آیا تھا۔ اس سمے صدیوں کا فاصلہ کہیں گم ہوگیا اور اسے لگا وہی ماروی، عمر کے محلات سے اٹھ کر اس کے سامنے آبیٹھی ہے جو اپنے جھونپڑوں کو نہ بھول پائی جس نے اپنے سانگیوں کے لےے عمر کے محلات کو ٹھکرا دیا۔

جس نے انواع و اقسام کے کھانوں پر ملیر کی مٹی کوجنگلی سبزیوںاور پھلوں پر ، ریشم پر کھدر، محل پر جھونپڑے، میوئوں پر جنگلی گھاس، نرم بستروں پر تھر کی ریت کو فوقیت و ترجیح دی، جو اپنی سرتیوں (سہیلیوں) کو یاد کر کے روتی جو کہ زمین میں ٹنڈے چن رہی ہوں گی، بکریاں چرا رہی ہوں گی، آزادی سے تھر کی ریت پر گھوم رہی ہوں گی۔ وہ عمر کے محل میں بیٹھی قید سے آزادی کی دعائیں مانگتی اور اپنے ماروئوں سے شکوے کرتی، جنہوں نے اس کی پلٹ کر خبر نہیں لی تھی۔ وہ ان طعنوں کو سہنے کے لےے بھی تیار تھی جو بے قصور ہوتے بھی اس کے عزیز اس کو دیتے مگر وہ واپس پلٹنا چاہتی تھی۔ اپنے عزیزوں اور اپنی محبت کھیت کے پاس جن کی نظروں میں اب وہ پہلے والی ماروی نہیں رہی تھی۔

اس نے صدیوں کا سفر پل میں طے کر لیا تھا شاہ لطیف نے کہا تھا۔

’’میں نے محلوں میں ماروی کو دیکھا، وہ اداس و ملول تھی۔ اس کے بال خشک تھے، وہ لوہے کی زنجیروں میں قید تھی۔ وہ تیل خوشبوئیں لگا کر، بن سنور کے ناز و نخرے نہیں دکھاتی۔‘‘

اس نے ماروی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے شاہ سائیں کا بیت پڑھا تو وہ بے ساختہ مسکراید۔ جوابی بیت اس کے لبوں پر مچلنے لگا۔

تن رہین وٹاں لڈ، جن جی نا ہے مھاڑ لیر ڈے

سانگین سے سید چئے، روڈ اچی اڈ

تہ ھانجے سندی ھڈ، کوک نہ سنیں کڈھیں

(ان بے کار و نکمُے لوگوں کو چھوڑ کر ان سے دور ہو کر ہجرت کرو جن کا رخ ملیر (صحیح راستے) پر نہیں ہے۔

سانگیوں کے قریب آکر جھونپڑے بنا کر رہو تو ظلم و جبر کی فریاد کبھی نہیں سنو گے۔) ماروی کا بے ساختہ جواب سن کر سرمد مسکرادیا۔ وہ بھی تو سانگی کے قریب آگئی تھی جو ظلم کا مخالف جبر کا دشمن تھا۔ اس نے سرمد سانگی کو من کی محویت سے دیکھا جو شاہ کے بیت میں سانگی کی تشبیہ پر مسکرا رہا تھا، جس کی محبت کا سلسلہ کھیرتھر پہاڑ جتنا طویل و دراز تھا۔

جس کی بہادری رینی کوٹ جیسی بلند اور منچھر جھیل جیسی حسین تھی۔ اس نے اپنے دل کا مکان اس جرأت مند کے دل کے پڑوس میں بنایا تھا۔ جو ظلم کو نابود کرنے کے جتن کرنے، ظالم کو للکارتا رہتا جس کا لکھا ہر اک لفظ سورج کی شعاعوں کی طرح اجالا بکھیرتا رہتا۔ وہ ظلم کے اندھیروں کوختم کرنا چاہتا تھا اور روشنی پھیلانا چاہتا تھا۔ وہ روشنی جو اس ماروی کی دھرتی کے غریب مسکین سادہ لوگوں کو بے دار کر دے تاکہ وہ سینہ سپر ہو کے ظالموں کے خلاف میدانِ عمل میں آجائیں۔وہ شاہ عبدالکریم بلڑی والے کی طرح صابرین اور رائے ڈیاچ کی طرح سر کی بازی لگانے والا فیاض شخص جس سے ماروی نے محبت کی اور اس محبت کی چلہ کشی میں ہجر کی سب صعوبتیں جھیلیں تھی۔وہ دونوں سالکِ محبت ہی تو تھے محبت کی موہر مئے پینے والے، محبت کے میلے میں گم ہونے والے جنہوں نے اپنی راہ مادہ پرستوں سے الگ چنی تھی۔

اکتوبر کی گرم دوپہر کے بعد ٹھنڈی شام اتر رہی تھی۔ پرندے اپنے آشیانوں کو لوٹ رہے تھے۔ انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا۔

ایسے ہی کسی غول کو دیکھ کر شاہ سائیں نے اشرف المخلوقات کو دعوتِ فکر دی تھی۔

’’اے انسان! ان پرندوں سے سبق حاصل کر جو اپنے اپنے حصے کا رزق چَن کر کتنی محبت سے مل کر اپنے گھونسلوں کی طرف اڑتے ہیں جو دوسرے سے اس کاحصہ نہیں چھینتے۔ ان کے اندر کی مٹھاس ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتی۔

وہ بھی اسی پریت اور مٹھاس کی ڈوری سے بندھے ہوئے تھے۔

محبت کی فصل اگر من کے اندراگنے لگے تو پریت کا پھل خود بخود میٹھا اور ذائقہ دار ہوجاتا ہے۔

انسان کی ترشی و تلخی گھاس پھوس کی طرح سوکھ جاتی ہے۔

ئ ئ ئ ئ

محبت کی صحبت انسان کو در حقیقت حقیقی انسان بنا دیتی ہے۔ وہ انسان جس پر اشرف المخلوقات کا لقب ناز کرے۔ یہ انسان کے باطن میں نرمی و حلاوت و گداز کے جہان وارد کرتی ہے۔ مگر یہ تب ہوتا ہے جب بندہ محبت کا صادق صحبتی بنتا ہے اس کا صدق و صحبت ایسا رنگ اختیار کرلیتی ہے کہ پتا نہیں چلتا کہ وہ محبت پر طاری ہوتا ہے یا محبت اس پر طاری ہوتی ہے۔

سراپا محبت سرمد سانگی جس کو مہرو کے نڈر پن نے پریشان کردیا تھا۔ وہ موت کی طرف بڑھ رہی تھی اور وہ یہ نہیں چاہتا تھا، بہت سوچنے کے بعد ایک ہی حل اس کی سمجھ میں آیا تھا کہ وہ اس کے راستے سے ہٹ جائے تاکہ دلدار کے لےے راستہ صاف ہوجائے۔ وہ ماں کو ماروی کے گھر لے جانا چاہ رہا تھا، اس کا ارادہ تھا نکاح کرنے کے بعد آکر وہ پورے گائوںمیں مٹھائی بانٹے گا، تاکہ سب کو اطلاع مل جائے مگر تب تک مہرو کو محتاط رہنا چاہےے۔ وہ دلدار سے بھی بات کرنا چاہتا تھا لیکن اس سے ملاقات نہ ہوسکی تھی۔ اس نے بہتر یہی سمجھا کہ وہ اختیار کو کہے کہ دلدار کا گھر میں آنا جانا بند کرادے۔

وہ صبح جلدی اٹھ کر سردار کی اوطاق پر چلے جاتے تھے، سو وہ ناشتا کےے بغیر ان کے پاس آگیا۔ دونوں چبوتروں کے بیچ تین فٹ گرل ہی تو لگی ہوئی تھی۔

’’آجائو آجائو، آج کیسے رستہ بھول پڑے سرمد؟‘‘ فدا حسین ہاتھ جوڑ کر اس سے ملتے ہوئے بولا۔

’’بس ادا! کچھ ضروری بات کرنی تھی آپ سے۔‘‘

’’ہاں ہاں، آجائو آجائو۔ بات بھی کرلیں گے، پہلے ناشتا تو کرلیں۔‘‘ فدا حسین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر برآمدے میں ہی اپنے سامنے پڑی کرسی پر اس کو بٹھایا۔

’’اوہو! آج تو انسانی حقوق کا علم بردار ہمارے گھر آیا ہے۔‘‘

’’آپ کو اعتراض کس بات پر ہے۔ علم بردار ہونے پر یا گھر آنے پر۔‘‘ اختیار کے چَبھتے لہجے کا اس نے مسکرا کرجواب دیا۔

’’ارے نہیں، مجھے تو دونوں باتوں پر اعتراض نہیں۔‘‘ اختیار کھسیانا ہو کر اس سے گلے ملنے لگا۔

اختیار سے مل کر کرسی پر بیٹھتے ہی اس کی نظر سامنے روٹیاں پکاتی مہرو پر پڑی۔

اس کی نگاہوں میں التجا تھی اور خوف کی پرچھائیاں۔

’’پاگل سمجھ رہی ہے، میں اس کی شکایت لگانے آیا ہوں۔‘‘ اس نے نظریں مہرو پر سے ہٹالیں، تب ہی ایک لڑکی روٹی کی چنگیر لے کر ان کے سامنے روٹیاں رکھنے لگی۔ اس نے اپنے سامنے تازہ روٹی رکھنے والی اجنبی لڑکی کو حیرت سے دیکھا۔

’’یہ میری بیوی ہے۔‘‘ اس کی سوالیہ نگاہوں کا اختیار نے جواب دیا۔

’’اچھا۔۔۔ کیا تیسری۔۔۔‘‘

’’ہاں، تیسری۔ تمہیں اعتراض؟‘‘ اختیار چڑ گیا۔

’’نہیں نہیں، مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔‘‘ وہ مسکرایا۔

’’آپ کی مرضی ایک رکھیں یا دس ادا! میں آپ سے ایک ضروری بات کرنے آیا تھا۔‘‘

اختیار کا موڈ آف دیکھ کر اس نے فدا حسین سے بات کرنا بہتر سمجھا۔

’’ہاں ہاں کہو۔‘‘ فدا حسین نوالہ چباتے ہوئے بولا۔ ’’مگر ناشتا کیوں نہیں کر رہے ہو؟‘‘ فدا حسین نے آملیٹ کی پلیٹ اور لسُی کا جگ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔

اس نے اثبات میں سر ہلا کر روٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

’’ادا! میں آپ کو بتانے آیا ہوں کہ مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں اور علاقے میں بدامنی بھی بڑھ رہی ہے۔ سو میں چاہتا ہوںکہ آپ رات کو گیٹ پر تالا لگوادیں اور پہرہ بھی بٹھادیں۔‘‘

’’دھمکیاں کون دے رہا ہے تمہیں؟‘‘ فدا حسین پَر سوچ انداز میں بولا۔

’’میرے تو بہت سارے دشمن ہیں، کوئی ایک نہیں۔ کس کا نام لوں۔ مجھے میسجز کے ذریعے دھمکایا جارہا ہے کہ سچ لکھنا چھوڑ دو، سو وہ میں چھوڑ نہیں سکتا۔‘‘

’’ہاں تو تم خود کو پتا نہیں کیا سمجھتے ہو۔ بڑے بڑے لوگوں کے خلاف لکھو گے تو وہ تمہیں چھوڑ دیں گے۔ ارے! تم تو ان کی ایک گولی کا رزق ہو۔‘‘ اختیار کا متکبرانہ لہجہ طنزیہ ہوگیا۔

’’اختیار! منہ سنبھال کر بات کرو۔‘‘ فدا حسین کو اس کی بات ناگوار گزری تھی۔

اس نے فدا حسین کو بولتے دیکھ کر اختیار کو جواب دینے کا ارادہ ملتوی کیا۔

’’اور دوسری بات یہ کہ دلدار غیر ہے، مجھے اس کا یوں گھر میں آنا جانا پسند نہیں۔ اس سے کوئی رشتہ داری ہوتی تو اور بات تھی۔‘‘ اس نے بڑی سمجھ داری سے اصل مدعا بیان کیا۔

’’تمہیں کیا تکلیف ہے دلدار کے آنے سے۔ خود کو نہیں دیکھتے، جب دو بہنیں غیروں میں بیاہیں، تب نہیں سوچا کہ یہ غیر گھروں میں آئیں گے۔ اب بڑے آئے ہیں، غیرت مندکہ دلدار غیر ہے۔‘‘ اختیار غصے سے سیخ پا ہوگیا۔

اس نے تحمل سے بات سنی پھر ہنس کے بولا۔

’’مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا، اگر تم لوگ بھی دلدار سے رشتہ داری جوڑ لو۔‘‘

’’بے غیرت! ہمارے گھر میں بیٹھ کر ہمیں گالی دیتا ہے۔ ہاں حیثیت کیا ہے تیری۔ کل کا لال منہ والا چھورا۔‘‘ اختیار کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سرمد کو دھن کے رکھ دے۔

’’ادا! آپ دیکھ رہے ہیں اختیار کی زبان۔ میں اس سے نہیں، آپ سے بات کرنے آیا تھا۔‘‘ سرمد نے نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا۔

’’ارے چل چل دو ٹکے کا صحافی۔۔۔‘‘

’’اختیار! چپ کر جو منہ میں آیا بکے چلے جاتا ہے۔‘‘ فدا حسین نے اسے گَھر کا۔

وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ’’میں نے اپنا فرض ادا کیاہے، کسی اجنبی وغیرہ کو گھر کے فرد کی سی اہمیت دینا ٹھیک نہیں۔ وہ سارے گھر میں بغیر کسی روک ٹوک کے دندناتا پھرتا ہے۔ یہ گھر ہمارا بھی ہے، ہم اعتراض کا حق رکھتے ہیں۔‘‘

سرمد نے کہتے ہوئے ایک نظر مہرو پر ڈالی جو اِن کے جھگڑے سے دور راز کھلنے کے خوف سے زرد پڑ رہی تھی، وہ اٹھ کر باہر آگیا۔

فدا حسین نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر اس نے غصے میں اس کی بات نہیں سنی۔ اب تو مہرو سے بات کرنا، سمجھانا بھی ناممکن ہوگیا تھا۔

ئ ئ ئ ئ

’’میں بہت جلد آپ کوحیدرآباد بلوائوں گا۔‘‘ گائوں سے واپسی پر وہ ماں سے کہہ کر آیا تھا۔

اس نے حیدرآباد پہنچ کر ماروی کو بتایا اور ماروی کو اس اہم موقع پر گل کی کمی شدُت سے محسوس ہوئی تھی۔ وہ چند ماہ سے گم تھی۔ اتنا عرصہ تو وہ مسلسل کہیں بھی نہیں رہتی تھی۔ تعلیمی سلسلہ منقطع ہونے کے بعد وہ کہیں بھی ٹک کر نہیں رہتی تھی۔ اس نے چند بار سرمد سے بھی پوچھا تھا۔

’’وہ تو ہے ہی ایسی لا ابالی۔ قلندر کی فقیر کبھی کہاں، کبھی کہاں۔‘‘ وہ ہنس کر ٹال جاتا۔

’’سرمد! گل جہاں بھی ہو، اسے بلائو۔‘‘ وہ فون پر جھنجلائی۔

’’آخری اطلاعات تک وہ دبئی میں تھے۔ میں پتا کرتا ہوں، کہاں ہے۔‘‘ اس نے سیل آف کر دیا۔ وہ اس وقت کنسٹرکشن کمپنی کے آفس میں بیٹھا ہوا تھا۔

اس نے تعلقہ قاسم آباد میں فلیٹ بک کروایا ہوا تھا۔ اب جلد از جلد مکمل کرانا چاہتا تھا۔ تعلقہ قاسم آباد، حیدرآباد کا تقریباً نیا تعلقہ تھا جس کا وجود تب پڑا، جب دھرتی کے باسیوںکے پائوں کے نیچے دھرتی کھسکنے لگی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ویرانہ جنگل قاسم آباد کے نام سے آباد ہوگیا اور پھر سندھ کے کونے کونے سے لوگ تعلیم، روزگار، کاروبار کے سلسلے میں رہائش پذیر ہوتے چلے گئے۔ کراچی، منی پاکستان تھا تو حیدرآباد کا تعلقہ قاسم آباد، منی سندھ بن گیا۔

سندھ کے چاروں کونوں کے ہر طبقے کے لوگوں نے اس کو اپنا ٹھکانا بنالیا تھا۔ آئے دن نئی رہائشی اسکیمیں تیار ہوتی رہتیں۔ اس نے بھی اپنا اپارٹمنٹ اسی علاقے میں بک کرایا تھا۔

’’ٹائلز، ماربل فلورنگ اور پینٹ رہتا ہے آپ کے اپارٹمنٹ میں۔ اگر آپ پے منٹ یکمشت کردیں تو ان شائ اللہ ہم آپ کو ایک ماہ میں فلیٹ کمپلیٹ کر کے دے سکتے ہیں۔‘‘

’’ٹھیک ہے، میں پے منٹ آپ کو کل ہی پہنچادوں گا۔‘‘ وہ کہہ کر آفس سے باہر نکل آیا۔

ئ ئ ئ ئ

ماروی کے اصرار نے اسے پریشان کر دیا تھا۔

’’کیا مجھے اس کو بتا دینا چاہےے؟‘‘ لائٹ آف کر کے بستر پر جاتے ہوئے اس نے سوچا۔

’’کاش سرمد! ماروی میری بہن ہوتی۔‘‘ گل نے ماروی کے گھر سے نکلتے ہوئے ہمیشہ کی طرح حسرت کا اظہار کیا تھا۔

’’اور اگر وہ تمہاری بہن نکل آئے تو؟‘‘

’’تو میں خوشی سے پھولے نہ سمائوں گی۔ مٹھائی بانٹوں گی، ایک بہت بڑی پارٹی ارینج کروں گی، جس میں تمہیں جوکر بنائوں گی اور دنیا کو بتائوں گی کہ بھئی دیکھو یہ گل اس دنیا میں اکیلی نہیں ہے۔ ماروی جیسی پیاری بہن رکھتی ہے۔‘‘ وہ کھلکھلا کر ہنسی۔

وہ اس کے غیر سنجیدہ روےُے پر چند لمحے تک اسے دیکھتا رہا۔

’’گل! ماروی واقعی تمہاری بہن ہے۔‘‘

’’چھوڑو سرمد! کیوں انہونی کو ہونی قرار دے رہے ہو۔‘‘ اس نے آئس کریم کھاتے ہوئے ازلی لاپروائی سے کہا۔

’’تمہیں یاد ہے، ماروی نے بتایا تھا کہ اس کے باپ نے اس کی ماں کو چھوڑ دیا تھا۔‘‘

’’ہاں، بالکل یاد ہے۔‘‘

’’تمہیں پتا ہے وہ کون تھے؟‘‘

’’نہیں۔‘‘ اس نے سوالیہ انداز میں سرمد کو دیکھا۔

’’انکل مرتضیٰ۔‘‘ سرمد سرسری انداز میں کہہ کر انہماک سے آئس کریم کھانے لگا۔

وہ آئس کریم بھول کر چند لمحے حیرت سے گنگ سرمد کو دیکھتی رہی پھر دفعتاً اٹھی اور شاپ سے باہر نکل گئی۔

سرمد خاموشی سے گاڑی کا لاک کھول کر اس کو جاتے دیکھتا رہا۔ کافی دنوں بعد اس نے ماروی کے کہنے پر فون کیا تو اس کا سیل آف تھا۔ وہ دبئی چلی گئی تھی اپنی ماں کے پاس۔

سرمد کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ اس کو اپنے باپ کے بارے میںجان کر دھچکا لگا تھا۔ اس کا باپ اس کا آئیڈیل تھا۔ ہر بات میں وہ اپنے باپ کی مثالیں دیتی تھی۔ اس دن کے بعد گل اس سے نہیں ملی تھی۔

وہ سیدھا انکل مرتضیٰ کے پاس آیا تھا۔

’’وہ مجھ سے ناراض ہے۔ کہتی ہے، ماروی آپ کو معاف کرے گی تو پھر میں واپس آئوں گی، ورنہ نہیں جبکہ ماروی تو میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ وہ مجھے کیسے معاف کر سکتی ہے؟‘‘ مرتضیٰ نے پریشانی سے ہاتھ مسلے۔

’’انکل! کوشش کرلینے میں کیا ہرج ہے۔ یہاں تو لوگ خون تک معاف کر دیتے ہیں۔‘‘

’’میں نے بھی تو کسی کے دل کا خون کیا ہے۔ گل کہتی ہے، میں نے ساری عمر ماروی کو زندگی کی چھوٹی چھوٹی ضرورتو ں کے لےے ترستے دیکھا ہے۔ اس کی خود دار طبیعت نے کبھی کسی کی یا میری مدد قبول نہیں کی۔ وہ اتنی غربت میں، کسمپرسی کی حالت میں رہی۔ وقت میری مٹھی میں نہیں ہے بیٹا! جس کو میں واپس لاسکوں۔ اب تم ہی بتائو، کیا ازالہ کروں؟‘‘ مرتضیٰ نے شکستہ لہجے میں کہا۔

’’میں رائیگاں مسافتوں کامسافر ہوں بیٹا!آج سب کچھ ہوتے ہوئے میرے دامن میں کچھ بھی نہیں۔ میرا آنگن خالی ہے، میرا گھر سونا ہے۔ میں ساری عمر محبتوں کے لےے ترستا رہا ہوں کیونکہ میں نے محبت سے وفاداری نہیں کی تھی۔ اتنی دولت، امارت، کوٹھی، نوکر چاکر ہوتے تہی دست ہوں کیونکہ میرے ارد گرد رہنے والے پیسے کی وجہ سے میرے ساتھ رہتے ہیں، محبت کی وجہ سے نہیں۔ ایک کو میں نے چھوڑ دیا، دوسری مجھے چھوڑ گئی۔ دونوں بیٹیاں مجھ سے دور ہیں۔ کوئی ایک بھی سچُا رشتہ نہیں۔ کیا کروں اس دولت کا۔‘‘ بات کرتے کرتے ان کا گلہ رندھ گیا۔

سرمد نے اٹھ کر ان کے شانے پر ہاتھ رکھا۔

’’انکل! میں کوشش ضرور کروں گا، کامیابی خدا کے ہاتھ ہے کہ ان کے دلوںمیں معافی اور درگزر ڈال دے۔‘‘

ئ ئ ئ ئ

’’مہرو گھر سے بھاگ گئی۔‘‘ یہ خبر اس کو حیدرآباد میں ملی تھی۔

’’کہاں، کس کے ساتھ؟‘‘ اس نے بے ساختہ اپنے بڑے بہنوئی ادل حسین سے پوچھا۔

’’دلدار کے ساتھ۔‘‘

’’دلدار پر ہی شک کیوں؟‘‘ اس نے گہری سانس لیتے ہوئے فون پر کہا۔

’’اس لےے کہ دلدار بھی غائب ہے۔ اس کے بڑے بھائی نے اپنی آبائی زمین بیچ دی ہے اور بیوی بچوں سمیت وہ بھی غائب ہے۔ تمہارے چچا زاد خون خوار درندوں کی طرح دھاڑتے پھر رہے ہیں۔ دعا کرو، مہرو ان کے ہاتھ نہ لگے۔‘‘ ادل کالہجہ رنجیدہ ہوگیا۔

’’ہاں ادل! خدا کرے مہرو ان کے ہاتھ نہ لگے اور دلدار ثابت قدم رہے۔‘‘ اس نے سیل فون آف کر دیا۔

بہت برا ہوا تھا جس بات سے وہ ڈر رہا تھا، وہ ہو کر رہی تھی۔ اسے بے طرح رنج نے آگھیرا۔ ’’کاش مہرو! تم اتنی جلدی نہ کرتیں۔ کچھ تو وقت کا انتظار کرتیں ۔ ہوسکتا ہے وقت تمہارے حق میں ہوجاتا۔‘‘

یہ اس کی سوچ تھی، اختیار، مہرو کا رشتہ دلدار کے ساتھ کبھی نہ کرتا کیونکہ دلدار غیر برادری کا تھا۔ اس کی ماں نے جب سارا کی شادی ادل کے ساتھ کی تھی تو ان لوگوں نے بہت شور مچایا تھا مگر تب دادا زندہ تھا، اس نے ماں کا ساتھ دیا تھا۔

’’اب کیا ہوگا؟‘‘ وہ بے چین ہو اٹھا۔ ’’ وہ لوگ آخر کتنا چھپیں گے، بالآخر سردار اور اس کے پالتو کتُے ان کو زمین کی تہہ سے بھی نکال باہر کریں گے۔ کاش مہرو! تم ذرا صبر سے کام لیتیں۔ میں خود تمہارا ساتھ دیتا۔‘‘

اس کی ذہنی حالت خراب ہورہی تھی۔ ایک درد ناک موت مہرو کا مقدر نظر آرہی تھی۔ اسے کوئی چیز بچا سکتی تھی تو وہ دلدار کی غیرت اور محبت تھی۔ اگر دلدار نے سردار کے سامنے ہتھیار ڈال دےے اور مہرو کو سردار کے حوالے کر دیا تو اس کی زندگی کا فیصلہ پھر جرگہ کرتا اورجرگے کے اندھے قانون سے اسے مہرو کی جان بخشی کی کوئی امید نہیں تھی۔ امید تو اسے دلدار سے بھی کم ہی تھی۔

’’پتا نہیں کیوں محبت کے میدان میں مرد ہی کیوں ہار مانتے، گھٹنے ٹیکتے نظر آتے ہیں۔ اسے ہمیشہ اس بات پر حیرت ہوتی کہ آخر سوہنی ہی کیوں تیر کر آتی رہی۔ مہینوال کیوں نہیں؟ وہ مرد تھا۔ تیرنا اس کی شان تھی، وہ کیوں صرف بیٹھ کر انتظار ہی کرتا رہا۔

آخر سسی نے ہی کیوں صحرا کی صعوبتیں کاٹیں، عشق کے پَرپیچ سفر پر محوِ سفر ہو کر وہ درندوںسے بھری ہوئی راہ گزر پر چلتی رہی۔

ہیر ہی کیوں بیمار ہوئی، اس روگ میں رانجھا کیوںنہیں؟

سیتا ہی کیوں اقتدار کے لےے بن باس کاٹنے والے کرشن کے چرنوں میں بیٹھ کر اس کی سیوا کرتی رہی پھر سیتا کا دامن شک سے تار تار کر دیا گیا۔

مردوںکے قبیلے میں فرہاد اور قیس نے ہی مردوں کی لاج رکھی ہے،ورنہ تو عشق کی ہر داستان کے پیچھے عورت کی وفا ہی مشروط رہی ہے۔

اور اب پتا نہیں دلدار، عشق کے میدان کا شہسوار ہوگا یا بھگوڑا؟

ئ ئ ئ ئ

وہ اک طویل و بور پریس کانفرنس کور کر کے ماروی کے پاس آیا تھا۔ باہر صحن میں بیٹھی نانی کو سلام کر کے وہیں بیٹھ گیا۔ وہ اس کی آواز سن کے باہر نکل آئی۔

’’تمہارے لےے خوش خبری ہے۔‘‘ اس نے مسکرا کر کاٹن کے پرنٹڈ کڑھائی والے سوٹ میں ملبوس اس کے اجلے روپ کو دیکھا۔

’’کون سی مہرو والی؟‘‘ اس نے تھوڑا ناراضی سے کہا۔

’’نہیں۔‘‘ وہ اس کے ناراض لہجے پر بے ساختہ ہنسا۔ ’’جاب کی۔ ادل حسین کو آرڈینیٹر لگا ہے، اک عورتوں کی فلاحی تنظیم سجاگی (بے داری) میں۔ اسے اسسٹنٹ کو آرڈینیٹر کی ضرورت ہے۔ مجھ سے ذکر کیا تو میں نے تمہارا نام لیا۔ تمہیں این جی او کا وسیع تجربہ ہے۔ لوگوں کو کنوینس کرنا تمہارے لےے شاید اتنا مشکل نہ رہے۔‘‘

’’میں اماں اور نانی سے پوچھ کر بتائوں گی۔‘‘

’’ارے بیٹا! ادل اپنا بچہ ہے۔ سارا کا شوہر ہے۔ اس پر تو اعتماد کیا جاسکتا ہے، کتنی اچھی طبیعت والی ہے سارا۔‘‘

’’لگتا ہے نانی! سارا آپی نے فون پر ہی آپ کو اپنا مکمل گرویدہ بنالیا ہے۔‘‘ وہ ہنسی۔

’’لو مریم بھی آگئی، اس سے بات کرو۔‘‘ نانی نے چائے کا مگ مریم کے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا۔

’’اماں! اگر ماروی کام کرنا چاہتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘

اس نے ماں اور نانی کو تشکُر سے دیکھا، جن کا اعتماد اپنی ذات پر دیکھ کر اس کا سیروں خون بڑھ گیا تھا اور اس کے سامنے چائے کے ہلکے سِپ لیتا ہوا سرمد جس نے اس کی ذات کو اعتماد بخشا تھا، جس کی محبت نے اس کے اندر کام کرنے کی لگن کو قائم رکھا تھا۔

’’تمہارے لےے ایک اور خوش خبری بھی ہے۔‘‘ سرمد نے چائے کا کپ ٹرالی میں رکھ کر دروازہ کھولا تھا۔ سامنے گلی میں آلٹو کھڑی تھی۔

’’میں نے سوچا، میں تمہیں کہاں موٹر سائیکل پر اڑاتا پھروں گا۔ شادی سے پہلے گاڑی ضروری ہے۔‘‘

ماروی اس کے ماں اور نانی کے سامنے یوں کہنے پر جزبز ہوئی۔ وہ دونوں خوشی سے اسے مبارک باد دینے لگی تھیں۔

’’اور ہاں، میں نے گل کی شرط مان کر اس کو دبئی سے بلوالیا ہے۔ مجھے امید ہے میرا مان ضرور رکھو گی۔‘‘ وہ دونوں بازو سینے پر باندھ کر اس کو تکنے لگا۔

’’کون سی شرط؟‘‘

’’صلح کی شرط۔‘‘

’’مگر میرا اور اس کا تو کوئی جھگڑا، کوئی دشمنی، کوئی ناراضی نہیں۔‘‘ وہ حیرت سے بولی۔

’’تمہاری نہیں مگر انکل اور آنٹی کی ناراضی ضرور ہے۔‘‘

’’کیا مطلب؟ سرمد! پہیلیاں کیوں بجھوا رہے ہو، صاف بات کرو۔‘‘ وہ بے چینی سے بولی۔

’’تم نے مجھ سے کہا تھا نا ماروی! کہ دنیا میں تمہاری ایک ہی دوست ایک ہی بہن ہے گل اور اسے تمہاری شادی میں ضرور ہونا چاہےے۔ گل تمہاری بہن بن کر تمہاری شادی میں حصہ لینا چاہ رہی ہے۔ بشرطیکہ تم لوگ انکل مرتضیٰ کو معاف کر دو۔ انکل مرتضیٰ بہت تنہا ہیں، انہیں زندگی میں کبھی محبت نہیں ملی۔ شاید آنٹی کی بد دعا ہمیشہ ان کے تعاقب میں رہی۔ اسی لےے گل کی ماں بھی انہیں چھوڑ کر چلی گئی ہے۔‘‘

وہ اب ایک دم سکتے میں آگئیں۔

’’کیا۔۔۔۔ گل۔۔۔۔؟‘‘ ماروی ایک لفظ بھی آگے نہ بول سکی۔

’’ہاں گل! تمہاری بہن ہے۔ جب سے اسے پتا چلا وہ دوبئی اپنی ماں کے پاس چلی گئی ہے۔ اس کی واپسی کی صرف ایک شرط تھی، انکل کی معافی۔ انکل مرتضیٰ تمہاری شدید نفرت کی وجہ سے معافی مانگنے کی جرأت نہ کر سکے۔ اگر تمہارا دل اپنے باپ کو معاف کرنے پر راضی ہوجائے تو مجھے ضرور بتانا۔‘‘ اس نے واپسی کے لےے قدم بڑھا دےے۔

’’رکو بیٹا! کیا معافی کیا تلافی جو میرے نصیب میں لکھا تھا، وہ ہوا۔ ماروی اور تمہاری شادی میں مرتضیٰ اور گل ضرور شریک ہوں گے۔‘‘ خاموشی بیٹھی مریم نے اٹھ کر اسے روکتے ہوئے کہا تو ماروی نے حیرت سے ماں کودیکھا، جس کے مضبوط لہجے نے اسے کچھ بھی کہنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔ وہ ساری زندگی دکھوں اور مصائب میں گزارنے والی عورت کتنی بہادر، کتنی فراخ دل اور درگزر کرنے والی تھی۔

’’میں پھربھی تمہارے جواب کامنتظر رہوں گا۔‘‘ اس نے ایک لمحے کے لےے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ ’’تمہارا فیصلہ میرے لےے مقدم ہے۔‘‘ وہ لب بھینچ کر پلٹا تھا۔

ماروی کی آنکھوں میں نمی تیر گئی۔ گل کیسی عزیز دوست تھی اس کی جو اٰب بہن بھی بن گئی تھی۔ کتنا انمول رشتہ مل رہا تھا اسے۔

’’بیٹا! معاف کرنے میں سو سکھ ہیں۔‘‘

مریم نے اس کا شانہ تھپکا۔

اس نے اپنا سر ماں کے کاندھے پر رکھ دیا۔ گرم سیال گالوں پر بہنے لگا۔

نانی کی تسبیح کے دانے خاموشی سے گرتے رہے۔

’’گل! میری دوست، میری بہن۔۔۔‘‘ اس سوچ کے ساتھ اسے ایک بار پھر شدُت سے رونا آیا تھا۔

ئ ئ ئ ئ

دلدار سے اس کی پہلی ملاقات کیسی ہوئی، اسے اچھی طرح یاد تھا وہ سردیوں کی شام تھی، جب پانچ بجے اس نے چائے کاپانی چڑھایا تھا۔ اختیار غصے سے گھر میں داخل ہوا۔

’’سارا دن گزر گیا، دلدار کو کسی نے کھانا نہیں بھیجا۔ کہاں مر گئی تھیںتم؟‘‘ اسے سامنے دیکھ کر وہ اس پر برسا۔

’’ادا! گھر میں کوئی تھا نہیں جو اوطاق میں کھانا لے کر جاتا۔ میں کس کو کہتی بھلا۔ وہ دیکھیں، کھانا دوپہر سے بندھا رکھا ہے۔‘‘

اس نے تپائی پر رکھے رومال میں بندھی روٹی کی طرف اشارہ کیا۔

’’بچے کہاں چلے گئے تھے؟‘‘

’’آپ کا بیٹا بخار میں پھنک رہا ہے، آنکھ نہیں کھل رہی اس کی اور ادا! فدا حسین صبح آپ کے ساتھ نکل گیا تھا۔ اس کے بیوی بچے ننھیال گئے ہوئے ہیں پھر میں کس کو دیتی۔‘‘

’’کسی پڑوس کے بچے کو نہیں بلا سکتی تھیں۔ صرف بہانے کرنے آتے ہیں تمہیں۔ دلدار۔۔۔ او دلدار۔۔۔! اندر آجا۔‘‘ وہ دروازے پر کھڑا دلدار کو آوازیں دینے لگا۔

مہرو کو سخت ہتک محسوس ہوئی گو کہ دروازہ باورچی خانے کے بنے ہوئے چھپر سے دور تھا مگر اختیار کی آواز غصے میں اتنی بلند تھی کہ دلدار تک بخوبی سنی جاسکتی تھی۔

’’آج سے دلدار گھر میں کھانا کھائے گا۔ میرا یار ہے یہ۔ میں اسے غیر نہیں سمجھتا۔‘‘

اختیار نے دلدار کو اپنے ساتھ چارپائی پر بٹھایا۔

’’یہ میری بہن ہے مہرو! جلدی کر کھانا لے کر آ۔‘‘ اس نے تعارف کراتے ہوئے کہا۔

دلدار نے ایک نظر اس کے تپے تپے چہرے پر ڈال کر نظر جھکالی۔

مہرو نے ان کے آگے دستر خوان بچھا کر رومال میں بندھا ہوا کھانا اس پر رکھا۔ جگ میں لسُی ڈال کر پانی کا جگ اور گلاس بھی آگے رکھے۔

وہ دونوں پائوں چارپائی پر رکھ کر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ رومال سے بندھاہوا کھانا نکالا۔

لمبائی کی طرز پر چھپر (باورچی خانہ) بنا ہوا تھا جس کو وہ لانڈھی کہتے تھے۔ باورچی خانے کے اسی کونے میںمٹی کے بنے ہوئے چولہے تھے۔ دوسری طرف لکڑی کا بڑا سا تخت تھا جس پر برتن رکھے ہوئے تھے اور روٹی رکھنے کے لےے لکڑی کا نعمت خانہ جس کے چاروں طرف جالی لگی ہوئی تھی۔ نیچے تین موڑھے اور دو چارپائیاں پڑی ہوئی تھیں۔ وہ بیٹھا جائزہ لے رہا تھا۔

سامنے پانچ پکُے کمرے جن کے آگے برآمدہ جس میں ٹائل لگے ہوئے تھے جبکہ سامنے کا چبوترے کا فرش سیمنٹ سے بنا ہوا تھا۔

اس چبوترے کے ساتھ دوسرا چبوترا بھی تھا جس کے سامنے بھی تین کمرے اور آگے برآمدہ تھا۔ اس میں بھی ماربل اور ٹائل کا کام تھا۔

یہ ٹائل سندھی قدیمی نقش و نگاری کا بہترین نمونہ تھے۔ ڈیزائن گو کہ قدیمی تھا، عموماً سندھ کی بڑی بڑی حویلیوں، درگاہوں اور مسجدوں میں اپنے اپنے حساب سے استعمال ہوتا آرہا ہے۔ برآمدے کے پلرز پر شیشے اور چینی کا کام تھا۔ مختلف رنگوں کا امتزاج برآمدے کے باہر کو بڑا دلکش بنا رہا تھا۔ برآمدے میں رکھی پرانی طرز کی بنی ہوئی ہالا کی کرسیاں اور سائیڈ میں جھولا تھا۔ پلرز کے ساتھ رکھے مرتبانوں میں پھول سجائے گئے تھے۔کہنے کو تو یہ گھر جدید طرز پر بنا ہوا تھا، جس میں ہر طرح کی سہولت بھی تھی مگر اس کے پرانے طرز کے ٹائلز اور شیشے کے کام کی وجہ سے یہ کسی پرانی شاندار قسم کی حویلی کا تاثر دیتا تھا جو گھر والوں کے مزاج اور روایات کی عکاسی کرتا تھا۔ وہ بڑی دلچسپی سے ہر ایک چیز کو بغور دیکھ رہا تھا۔

’’دو کمرے میرے اور فدا حسین کے ہیں۔ ایک مہرو کا ہے اور یہ سامنے والا گھر اس انقلابی کا ہے۔‘‘

اختیار نے اس کی دلچسپی دیکھتے ہوئے اسے بتایا۔

سرمد کے نام پر وہ دونوں طنزیہ ہنسے تھے۔ چائے ابل کر چولہے میں گری تھی۔ لکڑیاں دھواں دینے لگی تھیں۔

’’بند کر لکڑیاں جلانا۔‘‘ اختیار کھانستے ہوئے چیخا۔

اس نے فوراً چائے اتار کر لکڑیوں پر پانی ڈال کر بجھایا۔ چائے کپوں میں ڈال کر ٹرے ان دونوں کے بیچ میں رکھ دی۔

اس دن کے بعد دلدار ایک آواز دے کر اندر آجاتا تھا۔ وہ دوپہر کا کھانا وہیں کھانے لگا۔ وہ اکثر روٹیاں پکا رہی ہوتی۔ فدا حسین کی بیوی سالن نکال کر روٹی اٹھا کر اس کو دے دیتی۔ وہ وہیں چارپائی پر بیٹھ کر روٹی کھانے لگتا۔ ایک نظر اس پرڈال لیتا جس کا رنگ آگ کی تپش سے دہک رہا ہوتا۔

آہستہ آہستہ وہ گھر کے فرد کی سی حیثیت اختیار کر گیا۔ وہ اس سے زیادہ بات چیت نہیں کرتی تھی مگر اب اس کی بدلتی نظروں سے گھبرانے لگی۔ بنیادی طور پر عورت بڑی حسُاس واقع ہوئی ہے۔ مرد کی اٹھتی نظر کا ہر پیغام پڑھنے سمجھنے کا شعور رکھتی ہے۔ دلدار کی نظر کے پیغام سے وہ ڈر گئی۔ وہ اس وقت آتا جب وہ باورچی خانے میں روٹی پکا رہی ہوتی۔ اس کی بدلتی نظر سے گھبرا کر اس نے روٹی جلد ڈالنا شروع کر دی، تاکہ اس کے آنے سے پہلے باورچی خانے سے نکل جائے۔ دو تین دن اس کا اس سے سامنا نہیں ہوا۔ اس نے شکر کا سانس لیا مگر چوتھے دن وہ جلد ہی روٹی کھانے آگیا۔ وہ اس کا گریز بھانپ گیا تھا۔

’’دلدار! آج تَو جلدی آگیا۔ ابھی سالن میں تھوڑی دیر ہے۔‘‘ دوسرے چولہے پر بیٹھی فدا حسین کی بیوی نے کہا۔

’’کوئی بات نہیں بھاجائی! میں لسُی سے کھالوں گا۔ آج زمین پر بہت کام کرنا پڑا، اس لےے جلد بھوک لگ گئی۔‘‘ اس نے خوامخواہ وضاحت دی۔

’’ارے تمہارا اپنا گھر ہے، جب جس وقت جی چاہے، آجایا کرو۔‘‘ پیچھے سے آنے والے اختیار نے س کا شانہ تھپتھپایا۔

’’ہاں یار! اپنا گھر سمجھ کر ہی تو آتا ہوں۔‘‘ اس نے اپنے شانے پر رکھے اختیار کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔

’’اس بار تم نے زمین پر بڑی دل لگا کر محنت کی ہے۔ کماد کی فصل بڑی بھلی (اچھی) ہوئی ہے۔ ہر دیکھنے والا تعریف کرتا ہے۔‘‘ اس نے استری لگے کپڑوں کو جھاڑ کے نامعلوم شکنیں دور کیں۔

’’ہاں، اللہ بری نظر سے بچائے۔ کہاں جارہے ہو؟‘‘

’’جرگہ ہے سردار کے بنگلے پر۔ اس کے انتظامات دیکھنے ہیں۔‘‘

’’کتنا خون بہا دیا جائے گا؟‘‘

’’تین لاکھ سے زیادہ نہیں ہوگا۔ اگر سنگ چٹی (خون کے بدلے رشتہ) میں دیا گیا تو، ورنہ یہ جرمنہ دو تین گنا بڑھ بھی سکتا ہے۔‘‘

’’مگر ان کے پاس تو مقتول کے باپ کے علاوہ کوئی مرد نہیں جس کو خون کے بدلے رشتہ دیا جائے۔‘‘دلدار نے حیرت کا اظہار کا۔

’’یہ فیصلہ سردار کرے گا کہ مقتول کی برادری میں سے قاتل کی بہن کا رشتہ کس کو دیا جائے۔‘‘

اختیار نے مونچھوں کومروڑتے ہوئے کہا۔ اس کی آنکھیں چمکنے لگیں اور ہونٹوں پر مسکراہٹ ٹھہر گئی۔

’’تمہیں نہیں پتا کہ رشتہ دینے کا فیصلہ سردار کرتا ہے۔ سردار سائیں کی مرضی وہ لڑکی فائزہ کسی شینیہ (شیر) کے کاندھے پر چڑھائے۔‘‘

اس نے ہاتھ مسلے، زمین پر ایک پائوں ہلکے سے مارا اور ہاتھ جھاڑتا سینہ تان کر کروُفر سے باہر نکل گیا۔

اور پتا نہیں کیوں اس دن دلدار کی نظر اس کے چہرے پر ٹھہر گئی۔

کسی خوف یا جھجک کے بغیر، وہ بھاجائی کا بھی خیال نہیں کر رہا تھا، وہ اسے دیکھے بغیر تیزی سے روٹیاں بیلنے لگی۔

بھاجائی نے ایک نظر یک ٹک اسے دیکھتے دلدار کو دیکھا پھر بے پروائی سے روٹی پکاتی مہرو کو، جس کی سفید رنگت آگ کی تپش سے سرخی مائل ہورہی تھی یا غصے سے، وہ اندازہ نہیں لگا سکی۔

ئ ئ ئ ئ

جام شورو، گارڈن بقعہ نور بنا ہوا تھا۔ بہترین لائٹنگ نے آسمان کے تاروں کو چھپا دیا تھا۔ ہر آنے والا مہمان کو گیٹ سے داخل ہوتے ہی خوش گوار احساس گھیرے میں لے لیتا۔ سامنے اسٹیج تک راستے پر ریڈ کارپٹ پر چل کر ہر کوئی دولہا دلہن تک پہنچ کر مبارک باد کے پھول نچھاور کر رہا تھا۔ یہ سارا انتظام رئیس غلام مرتضیٰ نے اپنی بیٹی ماروی کی شادی میں کیا تھا۔ وہ شاداں و فرحاں ہر مہمان کو بھلیکار (خوش آمدید) کر رہا تھا۔ ویلکم کرنے والوں میں اس کے ساتھ گل اور زیب انسائ ساتھ ساتھ تھیں۔ ’’آپ کو بہت بہت مبارک ہو۔‘‘ جیسے جملے ان کی سماعتوں کو بھلے لگ رہے تھے۔ وہ مبارک وصول کرتے، خوشی سے، سرشاری سے مسکرا اٹھتے۔اس شادی میںہر حلقے، ہر طبقے کے لوگ شریک تھے۔

سرمد اور ماروی کاصحافتی اور این جی اوز کا حلقہ رئیس غلام مرتضیٰ کے دوست احباب سرمد کے گائوں کے لوگ سوائے چچا زادوں کے ،خوش تھے۔ ان کی سچائی اور محبت و خدمت تھی جس کا صلہ آج دعائوں کی صورت مل رہا تھا۔ سفید شلوار قمیص اور بلیک واسکٹ میں ملبوس رئیس مرتضیٰ نے وہیں گیٹ کے قریب پڑی کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر ایک نظر اسٹیج پر بیٹھے دولہا دلہن اور ان کے پاس بیٹھی مریم اور نانی کے خوشی سے دمکتے چہروں کو دیکھا۔ اس کی آنکھیں خوشی سے نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔

اسے یہ موقع سرمد کی دانش مندی نے فراہم کیا تھا،جہاں سے وہ کچھ نہ کچھ ازالہ کر کے اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کر سکا تھا۔ اسے وہ دن یاد آرہا تھا جب وہ مارے شرمندگی کے مریم کے سامنے سر بھی نہیں اٹھا پارہا تھا۔

اس چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں جس کے ایک صوفے پر سرمد، نانی اور مریم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو دوسرے پر گل اور ماروی سر جھکائے بیٹھی تھیں۔ ان کے سائیڈ والے صوفے پر وہ مجرم بنا بیٹھا الفاظ کو ترتیب دے رہا تھا، جو بار بار بکھرے جارہے تھے۔ گہری دھند جیسی خاموشی تھی جو ہر نفس پر طاری تھی۔

’’انکل ! آپ کو کچھ کہنا ہے؟‘‘ سکوت کے سمندر میں سرمد نے اپنی آواز کا پتھر پھینکا اور اس کی گویائی جیسے لوٹ آئی ہو۔

’’مریم! میں تمہارا گناہ گار ہوں۔ اپنی محبت کے صدقے مجھے معاف کر دو۔‘‘ اس نے اپنی ٹوپی اتار کر مریم کے سامنے ٹیبل پر رکھ دی۔ بلوچی خون اس کے سفید چہرے پر سمٹ آیا۔

مریم نے تڑپ کر اسے دیکھا اور اس کی ٹوپی اٹھا کر سرمد کی طرف بڑھا دی اس کی محبت میں وہ گھر سے نکلی تھی، جس نے بیچ منجدھار میں اسے زمانے کے ظالموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اس کی بے وفائی کا زخم تو وہ ساری عمر سہتی رہی تھی۔ لوگوں کی مشکوک نظریں، عورتوں کے طعنے، مفلسی، تنگ دستی، کیا کچھ نہیں سہا تھا۔ اس کی نظر ماروی پر پڑی جو آنسو پینے کی کوشش کر رہی تھی۔

’’رئیس! مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں۔ یہ سب تقدیر کے لکھے نصیب کے کھیل ہیں، جہاں انسان بے بس کھڑا رہ جاتا ہے۔ ہم ایک راستے پر چلنا چاہتے ہیں اور تقدیر ہمیں دوسرے راستے پر لے جاتی ہے۔ میں نے آپ کو بہت پہلے معاف کر دیا تھا، جب تقدیر کی حقیقت میری سمجھ میں آگئی۔‘‘ سرمد نے اٹھ کر وہ ٹوپی رئیس مرتضیٰ کو پہنادی۔ رئیس نے دونوں بیٹیوں کو بازوئوں کے حلقے میںلے لیا۔ وہ اس کے سینے سے لگی کھڑی تھیں۔ وہ دونوں کو گلے سے لگائے ان کا سر چوم رہا تھا۔

ماروی اس کے سینے سے لگ کے رو پڑی تھی، اس سے زیادہ بہتر کون جان سکتا تھا کہ ماں کی گود، پناہ گاہ اور باپ کا سینہ سائبان ہوتا ہے۔وہ اس سائبان کے نہ ہونے کی وجہ سے ہی تو بھیڑیوں کی زد میں آئی تھی۔

کتنی ہی دیر آنسو بہانے کے بعد اس نے مرتضیٰ کے سینے سے سر اٹھا کر گل کو دیکھا، جو مرتضیٰ کے دوسرے کندھے سے لگی اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔ ان دونوں کی نظریں ٹکرائی تھیں۔ وہ ایک دوسرے کی لال آنکھوںکو دیکھ کر بے ساختہ روتے روتے ہنس پڑی تھیں۔

اس ملاپ نے جہاں سب کی آنکھیں نم کی تھیں، وہاں لبوںپر مسکراہٹیں بھی بکھیر دی تھیں۔

’’میں نے زندگی میں اپنی بیٹی کی کوئی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ اب اپنی بیٹی کی شادی کی ذمہ داری میں خود اٹھانا چاہتا ہوں۔‘‘ مرتضیٰ نے مریم کی طرف التجائیہ نظروں سے دیکھا۔

’’جیسے آپ کی مرضی سائیں! یہ آپ کی بیٹی ہے۔‘‘ مریم نے سر جھکا کر کہا تھا۔

گل نے ساری تیاریاں ماروی کے ساتھ مل کر کی تھیں۔ ہروقت اس کو گھسیٹتے وہ حیدر آباد اور کراچی کے شاپنگ سینٹرز کے چکُر لگواتی رہتی۔

’’گل! بس کرو اب۔‘‘ وہ اکثر جھنجلاتی۔

’’تم چپ رہو، دلہن نہیں بولتیں۔‘‘

’’ہاں دلہنیں نہیں بولتیں لیکن وہ یوں گھوم گھوم کے شاپنگ بھی نہیں کرتیں۔‘‘’

’’نہیں بھئی، اب اتنا تو دور بدل بھی گیا ہے۔‘‘ گل ہنسی۔

’’اپنی بات کے حق میں فوراً دلیل ڈھونڈ لاتی ہو۔‘‘

یوں شادی کی تیاریوں میں دن پٰر لگا کر اڑ گئے تھے۔

اور اب جام شورو گارڈن میں رنگ تھے، روشنیاں تھیں۔ ہر فرد مسرت سے ہمکنار تھا۔ ہنسی کے پھول ہر ٹیبل کے گرد بیٹھے لوگوں کے ہونٹوں پر کھل رہے تھے۔

اسٹیج پر بیٹھے سرمد نے ایک بھرپور نظر ماروی پر ڈالی، جو میرون برائیڈل ڈریس میں پاگل کر دینے کی حد تک اچھی لگ رہی تھی۔ وہ یک جان دو قالب ہو کر اب اک دوسرے کے محب بھی تھے تو محبوب بھی۔ محبت کی صحبت فیض رساں سے مستفید ہونے والے محبوب۔۔۔ اور محبوب جو کہ سجن بھی ہوتا ہے اور ہمیشہ روشن بھی رہتا ہے۔ ایسا اجلا اور روشن کہ جس کی روشنی و اجالا دوسروں تک پہنچ کر انہیں بھی روشن اجلے سفر پر گامزن کر دیتے ہیں۔احمد علی، سرمد، زیب النسا، ادل اور ماروی انہی روشن لوگوں میں سے تھے جو روشنی کی آگاہی دیتے روشنی بانٹتے تھے۔

اس کی نظروں کی تپش اور وارفتگی محسوس کر کے ماروی کی نظر بے ساختہ اس کی طرف اٹھ گئی تھی۔ نظروں کے اس ملاپ نے ان کے ہونٹوں پر تبسم روشن کر دیا تھا۔

’’اگر میری محبت، روشنی کی صورت ہوتی تو تم اتنی روشن ہوجاتیں کہ جہاں بھی اندھیرے میں قدم رکھتیں تو اجالا ہوجاتا۔‘‘

اس کی سرگوشی نے اس کی سماعت میں رس گھولا۔

کھانا لگ چکا تھا، لوگ مصروف ہوئے تو اس نے اپنے دل میں پنہاں بے تاب اظہار کو اس کی سماعتوں کی نذر کیا۔

’’اگر میری محبت خوشبو کی صورت ہوتی تو تم اتنی معطر ہوجاتیں کہ جہاں بھی جاتیں، ساری فضا معطر ہوجاتی۔‘‘

وہ متبسم ہوئی۔

’’اگر میری محبت خوشی کی صورت ہوتی تو دنیا تمہیں دیکھتے ہی مسکرانے لگتی۔‘‘

محبت کے اس اظہار پر ماروی کی آنکھوں میں خوشی سے نمی تیرنے لگی تھی۔

’’میں اپنا دل دیکھتا ہوں تو وہ محبت کے لےے تنگ پڑنے لگتا ہے۔ مجھے دنیا میں، کائنات میں کوئی پیمانہ ایسا نظر نہیں آتا جو میری محبت کو ناپ تول سکے۔‘‘

اس کا ہاتھ اس کے مہندی رچے ہاتھوں پر آٹھہرا۔

اس سہانے سمے کی شاخ پر محبت کی شبنم گر رہی تھی۔

اور وہ اس میں پور پور بھیگ رہی تھی۔

ایک دعا جو ہر لب پر مچل رہی تھی۔

’’خدا کرے کشمیر سے لے کر کراچی تک سندھو کنارے یونہی آباد رہیں، شاد رہیں۔‘

کراچی سے کارونجھر تک، کارونجھر سے کشمور تک، کشمور سے کوئٹہ تک، کوئٹہ سے کہوٹہ تک، کہوٹہ سے کوہاٹ تک۔

خدا کرے سیجیں ہمیشہ سجی رہیں۔

کبھی مائوں کی گودیں خالی نہ ہوں، کبھی خوشیوں کے پھول نہ مرجھائیں۔ امن، خوش حالی اور سکون اس قوم کا نصیب ہو۔ (آمین)‘‘

ان کے دلوں سے بے ساختہ دعا نکلی تھی۔

*****

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں