گھر میں ہائو ہو، شور شرابے بلکہ طوفان بے پناہ کا اک عالم تھا، جدھر دیکھو لوگ ہی لوگ، جدھر جائو رنگینی ہی رنگینی، کہیں بڑی بوڑھیوں کی محفل جمی ہے، کہیں لڑکیاں سَر اور تال کی قید سے بے نیاز گا بجا رہی ہیں، کہیں لڑکوں نے آفت مچا رکھی ہے۔ بے ہنگم موسیقی پر بے ہنگم اَچھل کود کرتے ہوئے وہ سب دنیا کے ہر غم اور دکھ سے بے نیاز تھے۔ اَدھر ہال کمرا تو بس جیسے چھوٹے بچوں کے لےے وقف ہو کر رہ گیا تھا۔ مائوں کو محفل اٹینڈ کرنے کی فکر ہوتی۔ دودھ پلایا، تھپک تھپک کے سَلایا اور چل دیں۔ کپڑوں کی تیاری کے مرحلے ایک ماہ پہلے ہی طے ہوچکنے کے باوجود ابھی تک افرا تفری کا وہی عالم تھا۔ کسی کے پاس میچنگ لپ اسٹک نہیں کسی کے پاس سینڈل، کوئی پرس کے لےے مارا مارا پھر رہا ہے، بازاروں میں۔ اور ہال کمرے میں دو چار بچے بیک وقت چیخ رہے ہوتے۔
’’اے خدا کی مار لڑکیوں پر۔ اے گھر میں شور کی کمی تھی کیا جو ان بچوں کو رَلانا بھی ضروری ہوگیا۔ اے کوئی دیکھو تو جا کے، کیسا ہنگامہ ہورہا ہے اندر، کہاں گئی ہیں ان کی مائیں؟!‘‘
’’دادی بی! وہ تو بازار گئی ہیں۔‘‘ کسی نے انہیں بتایا۔
’’لو اور سنو! میں کہتی ہوں، اتنے دن جو خاک چھانتی رہی ہیں بازاروں کی، کیا اَس میں سیری نہیں ہوئی تھی، ان کی جو پھر چلی گئیں۔ نہ بچوں کی پروا ہے، نہ شوہروں کی خبر۔ انہیں تو بس نکاح میں بَلوایا ہوتا۔ غیروں کی طرح آتیں، شرکت کر کے چلی جاتیں۔ اَدھر کھانا پڑا ٹھنڈا ہورہا ہے، ادھر بچوں کی چیخم دھاڑ۔ ان کے میاں موم کی ناک ہیں جو برداشت کر رہے ہیں یہ سب۔ بھئی ہم نے تو ایسی بد تمیزی اور بد نظمی نہ کی۔ نہ سنی۔ ایک وہ ہمارے میاں تھے، مجال ہے، جو ایک پل کو بھی انہوں نے ایک ایسی چھوٹ دی ہو ہمیں، ہمیں تو ہفتوں سر کے بال سنوارنے کی فرصت نہ ہوتی تھی، بس لگے ہیں دن بھر بچوں کی دیکھ بھال میں، جاگ رہے ہیں راتوں کو، یہ آج کل کی لڑکیاں۔ خدا کی پناہ، پیدا کیا اور بے خبر ہوگئیں۔‘‘
دادی بی فضل کے بیٹے کو کندھے سے لگائے چَپ کراتے ہوئے اپنے غصے کا اظہار کر رہی تھیں اور فضل مسکراتے ہوئے اَن کا لیکچر سَن رہے تھے۔
’’دادی بی! لائیں مجھے دے دیں اسے۔‘‘ سمن نے بچے کو گود میں لینا چاہا۔
’’اے لو اور سنو! اب چَپ ہوئے بچے کو سنبھالین گی اَدھر جو پڑے ریں ریں کر رہے ہیں اَن کی طرف جائو لڑکی،اسے تو میں چپ کراچکی ہوں۔
دادی بی نے اختری بَوا کی لائی ہوئی دودھ کی بوتل بچے کے منہ سے لگاتے ہوئے سمن کو ٹوکا۔
وہ ہال کی طرف چل دی۔
پورچ میں دو گاڑیاں ایک ساتھ رکنے کی آواز آئی۔
’’اوہ! لگتا ہے واپسی ہوگئی ہے۔‘‘ فضل بے اختیار کہہ اٹھے۔
دادی بی نے جھٹ ان کی طرف دیکھا۔ وہ دادی بی کے لیکچر سے تنگ آئے ہوئے تھے۔
’’ہاں ہاں جائو بچے، رستے میں پوھل بکھیرو، استقبال کرو، آگئی ہے سواری بادِ بہاری۔‘‘
دادی بی سدا کی تنک مزاج تھیں۔ طبیعت کے خلاف چھوٹی سی بات برداشت نہ کرتی تھیں۔
بے چارے فضل مسکراتے رہے۔ وہاں سے اٹھنے کی ہمت نہ کر سکے۔
وہ ساری کی ساری دادی بی کے کمرے میں آ دھمکیں۔ کوئی قالین پر گر رہا ہے، تو کوئی تخت پر۔ کسی نے دادی بی کے نرم و گداز بستر پر دھم سے اپنا آپ ڈال دیا۔
’’اَف مائی گاڈ! ایسا رش نہ کبھی دیکھا نہ سَنا، سانس لینے کی فرصت نہیں تھی۔‘‘
نوید نے چادر ایک طرف ڈال کر بال سمیٹ کر ربڑ بینڈ کی قید میں دیتے ہوئے کہا۔
’’اے کوئی پنکھا تو چلا دو، مارے گرمی کے دم نکلا جارہا ہے۔‘‘ فری نے صدا دی۔
’’اوئی نوج! مارچ کا مہینہ اور پنکھا۔ ہٹو بی، کسی اور کمرے میں جائو۔ جا کے ایئر کنڈیشنڈ چلا لو۔ یہاں تو بچہ ہے، میری گود میں، خدا خدا کر کے سویا ہے۔‘‘ دادی بی نے فری کو گھور کے دیکھا۔
’’لائےے اسے مجھے دے دیجےے، میں سَلا آتا ہوں اپنے کمرے میں۔‘‘ فضل نے بچے کو لینا چاہا۔
شفُو نے شوہر کی طرف دیکھا اور دادی بی نے شفُو کی طرف، جو تخت پر نیم دراز تھی، سخت تھکی ہوئی۔
’’توبہ ہے بھئی، زن مریدی کی حد ہوگئی، اے بیٹا۔ بیوی کے آتے ہی فرمانبرداری دکھانے لگے۔‘‘
’’کیا ہوا دادی بی! بچہ صرف شفُو کا ہی نہیں میرا بھی ہے اور یہ شادی بیاہ کے معاملے تو ہوتے ہی ایسے ہیں۔ اے بے چاریوں کو بازار جانے کی خوشی تھورا تھی۔ چچی بی نے بھیجا تھا۔ بصد منُت، پھر سب کو اپنے اپنے کام بھی یاد آگئے۔‘‘ فضل نے ساف بیوی کی حمایت کی۔ دادی بی کو پتنگے لگ گئے۔
’’کیسے چَپ چاپ بیٹھے تھے۔ بیوی کا منہ دیکھتے ہی زبان کھل گئی۔ چڑھائو سر پر۔ ہمارا کیا ہے۔سر پکڑ کر روو گے۔ آتا ہی کیا ہے، ان آج کل کی لڑکیوں کو سوائے فیشن اور نخرے کے، یہ تم جیسے بدھو شوہروں کی مہربانیاں ہیں، ایک ایک دو دو بچے پال کر بھی مزاج نہیں ملتے بے چاریوں کے، ایک ہم تھے، پورے آٹھ بچے پیدا کےے۔ پانچ بیٹے، تین بیٹیاں۔ مجال ہے جو کسی نے ایک پل کو مدد کی ہو ہماری۔‘‘
’’کیوں دادی بی! وہ دس دس نوکرانیاں کیا ہوئیں جو گھر میں کام کیا کرتی تھیں۔‘‘
سمن، دادی بی کی بہت لاڈلی پوتی تھی، ساتھ ہی منہ پھٹ بھی تھی۔
’’وہ بچوں کو نہیں سنبھالتی تھیں۔ بچوں کے سارے کام ہم نے خود کےے اپنے ہاتھوں سے وہ تو اللہ بخشے تمہارے دادا کو۔ اَن کی مہمانداری کا سلسلہ ہی کچھ ایسا تھا کہ دن بھر توا چولہے پر ہی رہتا تھا۔ صفائی کے لےے جھاڑو اور پوچی ہاتھ میں۔‘‘
’’اور وہ پھپھو کہتی ہیں کہ سارے بچے انہوں نے ہی پالے ہیں۔‘‘ شفُو نے دادی بی کو چھیڑا۔
’’کون؟ کس نے۔۔۔۔؟؟ خودتو بالشت بھر کی تھی سڑی سوکھی چھپکلی جیسی، آتے ہی بچے پالنے لگ گئی۔ کدھر ہے۔۔۔ کدھر ہے بَلائو تو ذرا۔۔۔ خدا کی مار جھوٹے پر۔ وہ تو جب بیوگی کا داغ لےے پھر سے میری دہلیز پر آ بیٹھی، تب دو چھوٹے بھائی اس کے ساتھ مانوس ہوگئے۔ اس کے کمرے میں سونے لگے اور وہ بھی کوئی دودھ پیتے بچے تھوڑا ہی تھے۔ چھ اور آٹھ سال کی عمریں تھیں اپن کی۔ پالے تو ہیں اَس نے بچے، مگر بھاوجوں کے، میرے نہیں۔‘‘
دادی سدا کی سخت مزاج تھیں۔ ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتی تھیں۔
’’یہ احسان اَس نے بھائیوں کی اولادوں پر کےے ہیں مجھ پر نہیں۔ اے میں کہوں لوگوں کو اتنا جھوٹ بولنے کی عادت کیوں ہوتی ہے۔ اَس نے میرے بچے پالے ہیں۔ ذرا بلانا تو رضی۔ اپنی پھوپھو بی کو۔ پوچھوں ذرا اس سے میں۔۔۔!‘‘
’’چھوڑےے دادی بی! اب بھلا یہ بھی پوچھنے کی بات ہے، آپ نے پالے ہوں یا کسی اور نے، اب تو خیر سے آپ کے بچے خود دادا، دادیان بن چکے ہیں، اب کیا حساب کرنا، نفع و نقصان کا۔‘‘
فضل سد اکے ہنس مکھ اور صلح جو تھے۔
تایا ابُا کے چھوٹے بیٹے، شفُو کے شوہر نامدار، ابھی چند سال پہلے جب وہ میڈیکل کے طالب علم تھے، دادی بی کی گود میں سر رکھ کر منہ بسورتے ہوئے اپنی نامکمل سی خواہشات دادی بی سے کہنا اَن کا دل پسند مشغلہ تھا۔ اب بھی چھٹیاں گزارنے دادی بی کے پاس آتے تو بس اَن ہی کے کمرے میں چین ملتا انہیں۔ اکثر یہیں پائے جاتے۔
دادی بی کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا۔ بچے کو شفُو کی گود میں ڈال کر وہ لپک جھپک باہر نکل گئیں۔
فون کی گھنٹی جانے کب سے بج رہی تھی۔ انسانوں سے بھرے اس گھر میں کسی کو فرصت ہی نہ تھی فون اٹینڈ کر لینے کی۔
’’مجال ہے جو کسی کو کسی ذمہ داری کا احساس ہو۔ جانے کون ہوگا فون پر۔‘‘ پھوپھو بی بڑبڑاتے ہوئے فون کی طرف بڑھ رہی تھی، کہ دادی بی نے انہیں جالیا۔
’’کیا اَلٹا سیدھا بکتی رہتی ہو بچوں کے سامنے؟‘‘ مائوتھ پیس پر رکھے پھوپھو بی کے ہاتھ کے باوجود دادی بی کی آواز فون کرنے والے تک پہنچ رہی تھی۔
’’امُاں! چَپ ہوجائیں۔۔۔ ہیلو۔۔۔۔ ہیلو۔۔۔۔ کون۔۔۔؟‘‘
’’میں ہوں پھوپھو بی!‘‘
’’ارے معظم بیٹا۔۔۔ تم ہو، کمال ہی کر دیا تم نے تو، سب لوگ پریشان ہیں تمہاری طرف سے، ابھی تک وہیں بیٹھے ہو۔‘‘
کیا کروں پھوپھو بی، نوکری کا معاملہ ہے ۔ آپ جانتی ہیں چھٹی منظور کرانا کتنا مشکل ہے۔‘‘
’’تمہیں ہی شوق تھا بیٹے، اس محکمے میں نوکری کرنے کا۔ میں پوچھتی ہوں آخر کیا ضرورت تھی، جا کے کالے پانی بسیرا کر لیا۔‘‘
’’اوہ پھوپھو بی! چھوڑےے اس بات کو، میں کل شام پہنچ جائوں گا، بس اب کچھ نہ کہےے گا اور اس وقت میں فون بھی سر کے آفس سے کر رہا ہوں، ایکسٹینشن پر انہوں نے سن لیا نا کہ آپ کوس رہی ہیں محکمے کو، تو دی ہوئی چھٹی کینسل بھی کر سکتے ہیں وہ۔‘‘
’’لائو مجھے فون د، معظم ہے نا۔‘‘ دادی بی اپنا غصہ بھول بھال کر نئی فکر میں لگ گئیں۔
انہوں نے فون کا چونگا پھوپھو بی کے ہاتھ سے جھپٹ لیا۔
’’اے بیٹے! بھاڑ میں گئی ایسی نوکری، ہمارے ہاں دولہا بھی چھ سات روز پہلے گھر میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ کل شام مہندی ہے اور تم ابھی تک وہیں ہو۔ اے میں کہتی ہوں چھٹی نہیں مل رہی تو استعفیٰ دے کر آجائو۔ میں تو اب جواب دے دے کر تھک گئی ہوں لوگوں کو۔ بھلا ایسی بھی کوئی شادی دیکھی کسی نے، جس میں دولہا گھر سے غائب ہو اور رسمیں کی جارہی ہوں۔ شگن منائے جارہے ہوں۔‘‘
’’اوہ پیاری دادی! شادی کے وقت میں آپ کے حضور حاضر ہوں گا۔ آپ بالکل فکر نہ کریں۔ دراصل آپ نے شادی ہی غلط وقت پر رکھ دی۔ اس میں میرا یا میرے محکمے کا کیا قصور، یہ بھی احسان سمجھیں سر کا کہ انہوں نے و دن پہلے آنے کی اجازت دے دی۔ میرے ساتھی ابھی تک صحرائوں کی خاک چھان رہے ہوں گے۔ میں وہاں سے جلدی لوٹ آیا۔ نوکری کرنی ہے دادی بی نوکری۔ شادی نوکری سے کم اہم ہے بہرحال۔‘‘
’’ہائے ہائے۔ کیسی بات کرتا ہے یہ لڑکا۔ شادی اور نوکری کا کیا مقابلہ بھلا؟‘‘
’’مقابلہ کیسے نہیں دادی بی! یہ ٹھاٹ باٹ والی نوکری نہ ہوتی تو آپ کے بیٹے نے کب دینی تھی اپنی اکلوتی لاڈلی، دلاری بیٹی آپ کے اس پوتے کو۔‘‘ معظم نے دادی بی کو یاد دلایا۔
’’بس میں کچھ نہیں سنوں گی، تم جلدی سے آجائو، میری آنکھوں کو ٹھنڈک ملے، دل کو سکون نصیب ہو۔ سچ پوچھو تو دل کہیں نہیں لگ رہا۔ شادی کی ساری رونق دولہا کے دم سے ہی ہوتی ہے۔ لڑکیاں ڈھولک پہ گیت گاتی ہیں اور میرا دھیان تیری طرف ہوتا ہے۔ کہا تھا اپنے ابُا کی کمپنی میں اَن کے ساتھ کام کرلو، مگر تم مان کے ہی نہ دےے۔ سدا کے ضدُی ہو تم اپنی ہی منوا کے چھوڑی تم نے۔‘‘ پھوپھو بی نے گھور کے ماں کو دیکھا۔
’’امُاں! یہ وقت ایسی باتوں کا ہے بھلا، لائیں مجھے دیں فون! ہیلو۔۔۔ معظم چندا! تم شام کو جلدی آنے کی کوشش کرنا، مہندی لگائی جانی ہے، پہلے وہ لوگ تمہیں مہندی لگانے آئیں گے، پھر ہم لوگ اَن کی طرف جائیں گے۔ گھر میں رش تو آج بھی ہے ماشائ اللہ اپنا خاندان ہی اتنا بڑا ہے، کل تو اور مہمان بھی آجائیں گے، لیکن تم فکر نہ کرنا، میں نے تمہارے لےے پورا انتظام کر دیا ہے۔ چلو رات کی رات تو تم ٹھیک طرح سے آرام کر سکو گے۔ شادی والے دن تو یار دوست اور کزنز وغیرہ ایک پل کو جان نہ چھوڑیں گے تمہاری۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھوپھو بی! میں آجائوں گا، کوشش کروں گا جلد از جلد پہنچنے کی۔‘‘
’’اتنی بھی جلدی نہ کرنا، گاڑی بڑی تیز چلاتے ہو تم، اور یہ ڈرائیور آخر کس مرض کی دوا ہے، تم آرام سے پیچھے بیٹھنا، تھکنے کی ضرورت نہیں، پورے چار سو کلو میٹر کا سفر ہے، اتنا سا منہ نکل آئے گا۔ جانتی ہوں جتنا تم کھاتے پیتے ہو۔ یہ فوج کی نوکری ہوتی ہی نری مشقفت ہے اور کیا ہے، اب بھلا کوئی پوچھے، صبح دم جگا کر میلوں دوڑانے سے کیا فائدہ ہوتا ہے انہیں ۔ کم از کم تمہیں تو معاف کر دیا ہوتا ان دنوں میں، اتنا سا منہ نکل آیا ہوگا میرے بچے کا۔‘‘
’’اوہ پھوپھو! کرنل صاحب سن لیں گے۔ اب پلیز خدا حافظ میں شام سے پہلے ہی پہنچ جائوں گا آپ بے فکر رہیں۔ اللہ حافظ۔‘‘ اَس نے فون بند کر دیا۔
دادی بی ، پھوپھو پر آنے والا سارا غصہ بھول بھال چکی تھیں۔
’’اے رابعہ! میں تو بھول ہی گئی تھی، تمہاری چچی کے ہاں مہندی کے کارڈ بھجوائے بھی یا نہیں۔‘‘
’’آپ نے ہی منع کیا تھا کہ میں خود اَن کے ہاں جائوں گی۔‘‘
’’اے کیا کرتی میں، آخر کون کون سا کام کروں۔ فضل سے کہتی ہوں جا کے انہیں بلا لائے۔‘‘
’’تو آپ ہی چلی جائےے نا فضل کے ساتھ، خوش ہوجائیں گی وہ، یوں لڑکوں کے ہاتھ بلوانے پر شاید نہ بھی آئیں۔
’’یہ ٹھیک کہا تم نے، فضل سے کہو، موٹر نکالے اور لے جائے مجھے اَن کے ہاں۔‘‘
٭٭٭
چھوٹے چچا کا خاندان شہر سے بیس پچیس کلو میٹر دور اپنی زمینوں پر آباد تھا۔ سدا سے ہی، بیٹے پڑھ لکھ گئے تھے نوکری چاکری کرنے لگے تھے، پھر بھی انہوں نے اپنی آبائی جگہ کو نہیں چھوڑا تھا۔ ان کے اندازِ رہن سہن پر دیہاتی ماحول کی سادگی چھاپ تھی۔ اَن کے طور طریقے باقی سارے خاندان سے جدا تھے۔ چچی، دادی بی کی سب سے چھوٹی دیورانی تھیں۔ دادی بی نے چھوٹے چچا کی خواہش کے باوجود اَن کی بیٹیاں اپنے بیٹوں کے لےے نہیں لی تھیں۔ یہ بات انہیں ناراض کر دینے کو کافی تھی، لیکن وہ لوگ شاید عفو و درگزر کی مٹی سے بنے تھے۔ بَرا مانا بھی ہوگا تو بہت جلد بھول بھال گئے، پھر سے پہلے کی طرح ملنے لگے۔ اب تو خیر سے بیٹوں کے ہاں بھی جوان اولادیں تھیں، بلکہ اَن کے ہاں بھی بچے تھے۔
دادی بی زمانہ شناس عورت تھیں، رکھ رکھائو والی، زندگی بھر بظاہر کسی سے بگاڑ کر نہ رکھتے ہوئے بھی انہوں نے اپنی مرضی چلائی تھی۔ انہیں لوگوں کو تسخیر کرنے کا ڈھنگ آتا تھا، کسی کو خبر ہی نہ ہوسکتی تھی کہ دادی بی نے کب اور کیسے کسی سے کوئی مفاد حاصل کر لیا۔ کس طرح اَسے استعمال کر کے اپنا مطلب نکال لیا۔
دادی بی گھر کی بلکہ خاندان کی سب سے بڑی بزرگ تھیں۔ اَن کی حکمرانی کا دور اَسی دن سے شروع ہوگیا تھا، جس روز وہ بیاہ کر اس گھر میں آئی تھیں۔
غلام رسول اس گھر کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ اٹھارہ برس کی عمر تھی اَن کی جب دادی بی سے اَن کیش ادی ہوگئی۔ دادی بی اَن کی تایا زاد تھیں۔ عمر میں اَن سے پورے چار برس بڑی تھیں۔
دادا ابا میٹرک کا امتحان دے کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ اَن کا بیاہ ہوگیا۔ گھر والے چاہتے تھے کہ وہ گھر کے بڑے بیٹے ہونے کی حیثیت سے زمینوں کا سارا کاروبار سنبھال لیں، مگر دادی بی نے انہیں شہر بھیج دیا۔ جہاں انہوں نے ایف اے اور پھر بی اے کا امتحان پاس کیا اور تحصیلدار ہوگئے۔
اَس زماے میں پڑھے لکھے لوگوں کا کال تھا۔ دفتروں میں کلرکی یا افسری کی خالی اسامیاں منتظر رہتی تھیں کہ کون کب آئے گا؟ سو دادا ابا کو تحصیلدار ہوتے دیر نہ لگی تھی، سسر کے جو دادی بی کے چچا بھی تھے زندہ رہنے تک دادی بی طوعاً و کرہاً دیہات میں اَن کے ساتھ رہیں۔ سسر کے آنکھیں بند ہوتے ہی وہ شہر چلی آئیں۔
جب وہ شہر آئیں تو دادا ابُا ڈی سی ہوچکے تھے۔ بڑی ساری کوٹھی رہنے کو مل گئی تھی۔ دادی بی کے نصیب جاگ اٹھے تھے۔ یوں بھی دادا ابُا دادی بی کے ممنونِ احسان تھے۔ اَن کے ابا کے پاس اتنے پیسے ہکاں تھے کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے۔ اَن کی تعلیم کے اخراجات اور دورانِ تعلیم پیدا ہونے والے بچوں کے اخراجات دادی بی کے میکے والوں نے برداشت کےے تھے۔
چھ سال کی مدت کوئی کم نہیں تھی۔ شہر میں رہتے ہوئے دادا ابا کو کسی قسم کی تنگی نہیں آنے دی تھی اَن کے سسرال والوں نے۔ رہنے کو ایک چھوٹا سا پختہ گھر، کھانے پینے، پہننے کو اور تعلیم کے اخراجات کے لےے معقول رقم۔ یوں وہ تعلیم پوری کر سکے۔
یوں تو وہ شروع دن سے ہی دادی بی سے دبنے لگے تھے۔ ان کھلے احسانوں کے بعد تو بنا کسی مول کے ہی اَن کے ہاتھ بک گئے۔
باقی بھائی زیادہ پڑھ لکھ نہ سکے۔ انہوں نے باپ کی چھوڑی ہوئی دو سو بیگھ زمین سنبھال لی، جس میں دادا ابا کے حصے کی پچاس بیگھ زمین بھی تھی۔ دادی بی کو بھلا کس چیز کی کمی تھی۔ انہوں نے وہ زمین بٹوارے پر اپنے دیوروں کو دے دی۔
سال کے سال اَس سے ملنے والی رقم کی اَن کی نگاہ میں کوئی اہمیت ہی نہیں تھی۔ وہ تو لاکھوں کی مالک تھیں۔ گھر میں ہَن برستا تھا۔ اللہ نے مال و دولت کے ساتھ ساتھ اولاد بھی دل کھول کر دی تھی۔ پانچ بیٹے، تین بیٹیاں تھیں۔ جنہیں انہوں نے بڑے ناز و نعم سے پالا تھا۔ سارے خاندان میں جن کی چاہ تھی۔ یہ چاہ آج بھی ہر دل میں اَسی طرح قائم و دائم تھی۔ دادی بی آج تک کسی ملکہ کی طرح حکمرانی کر رہی تھیں۔ خاندان بھر کے لوگ بلکہ برادری تک کے لوگ اَن کے ہاں آنے یا بلائے جانے کو اپنے لےے باعثِ فخر سمجھتے تھے۔
٭٭٭
دادی بی اَسی وقت چل پڑیں۔ فضل گاری خود ڈرائیو کر رہے تھے۔ دادی بی نے کسی اور کو ساتھ نہیں آنے دیا تھا، حالانکہ لڑکیوں کی بڑی خواہش تھی گائوں جانے کی۔
’’اے میں کہوںاَن کے ہاں کون سی موٹر گاڑیاں ہیں۔ چلو باقی تو سب لوگ جیسے تیسے آجائیں گے ویگنوں یا بسوں سے، پر تمہاری چچی اور اَن کی بہووئوں کو تو میں ساتھ ہی لے آئوں گی۔‘‘ دادی بی نے اپنے بڑے بیٹے نواز رسول سے کہا۔
دادی بی کے یہی تو انداز تھے، جو دوسروں کے دل میں اَن کی جگہ بنا دیتے تھے۔ وہ تھوڑی سی انوسٹمنٹ سے بہت سارا نفع کمانے کا گَر جانتی تھیں اور اپنے اس طریقۂ کار کے تحت وہ آج تک کامیاب تھیں۔ آنے جانے کے لےے ایک گھنٹہ چاہےے تھا۔ ایک گھنٹہ آنے والوں کی تیاری کے لےے۔ پورے چار بجے دادی بی اَن سب کے ساتھ گھر واپس آچکی تھیں۔
شام تک پورا گھر مہمانوں سے بھر چکا تھا۔ مہمان بھی کون چار بیٹوں اور ایک بیٹی کے بال بچے، تین دیوروں کی اولادیں اور بس۔
دن کو گرمی، رات کو سردی کچھ عجیب سا موسم ہورہا تھا۔ کہیں کوئی کمبلوں اور لحافوں میں چھپا ہے کہیں پنکھے چل رہیں ہیں، کہیں مشروب کی بوتلیں بھک بھک کَھل رہی تھیں، کہیں چائے کا دور دورہ ہے۔
’’حسینہ بی! تمہارے لےے تو میں نے پکُا انتظام کر دیا ہے، نہ شور نہ شرابا۔۔۔ نہ ہائے ہائے نہ کِل کِل، تم تو مزے سے سو رہنا۔‘‘
دادی بی اپنی چھوٹی دیورانی کو حسینہ بی کہہ کر ہی پکارتی تھیں۔ برسوں پرانی عادت جو تھی حالانکہ اس وقت وہ خود بھی کئی جوان بچوں کی دادی تھیں۔
’’وہ کیسے؟‘‘ چچی بی نے پوچھا۔
’’ہاں بھئی تم اور تمہاری بہو اور بیٹی معظم کے کمرے میں سو رہنا۔ تم نے کون سا شور کرنا ہے وہاں اور یوں بھی بچہ اکیلا رہے، اچھا نہیں ہے۔ آتے کے ساتھ ہی تو اَسے مہندی لگ جائے گی۔ میں نے وہاں قالین پر بستر لگوائے ہیں تم جانو، یہاں تو سب ہی شادی بیاہ کے موقعوں پر نیچے قالینوں پر بستر لگا کے سوجاتے ہیں۔ ہاں کمرے میں خاصے پلنگ فارغ ہیں، لیکن وہاں تمہیں آرام نہیں مل سکے گا بچوں کا شور سونے ہی نہیں دے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے تائی جی، ہم وہیں سو رہیں گے۔‘‘
’’مم۔۔۔ مگر۔۔۔ بڑی بھاوج۔۔۔ میں تو۔۔۔۔ میں تو۔۔۔ میں تو آپ کے کمرے میں آپ کے پاس سوتی۔۔۔ تو آپ سے کچھ باتیں ہوجاتیں۔ ایک مدت ہوئی آپ سے ملے۔‘‘ چچی بی نے جھجکتے ہوئے کہہ ہی دیا۔
’’چلو ایسا ہی کر لیتے ہیں سو رہنا یہیں، حلیمہ اور ثریا بانو وہیں جا سوئیں گی۔ میں نے تو تمہارے آرام کے لےے کہا تھا یہاں میرے کمرے میں رات گئے تک آنا جانا لگا رہتا ہے۔ شور شرابا، ہائو ہو۔ میں تو سو ہی نہیں پاتی، کیا کروں؟ میرے بغیر یہ گھر اب بھی ایک پل کو نہیں چل سکتا۔‘‘
’’تو کیا ہوا؟ پھر روز روز کون کسی کو جگاتا ہے۔ قسمت سے تو ایسے دن آتے ہیں، کون جانے پھر کب اور کس کے نصیب میں خوشی دیکھنی لکھی ہے۔‘‘
حسینہ بیگم دیہات کی پروردہ سادگی کا مظہر خاتون تھیں۔
’’میں تو تمہاری خاطر کہہ رہی تھی، دو روز کو تو آئی ہو۔ اچھا ہے میرے ساتھ ہی رہو۔‘‘ دادی بی نے ساتھ والے پلنگ پر ان کے لےے بستر لگوادیا۔
رات کے کھانے پر سینکڑوں لوگ تھے۔ دو دن سے ہی کھانے پینے کا سارا انتظام باورچی کے ہاتھ میں تھا اور اب معاملہ دیگچیوں سے آگے بڑھ کر دیگوں تک جا پہنچا تھا۔
چھوٹے چچا یعنی حسینہ بیگم کے شوہر نے جو اللہ کے فضل سے اب تک بقید حیات تھے (چار بھائیوں میں سے صرف وہی زندہ تھے) گندم، باسمتی چاول، بکرے، مرغیاں، پیاز، لہسن، مرچ اور جانے کیا کیا تھوک کے حساب سے بھجوا دیا تھا۔ معظم میاں سے انہیں بے حد پیار تھا۔ اَن کے اَس سے دہرے رشتے جو تھے اور یوں بھی وہ اپنی دلکش شخصیت کے سبب پورے خاندان میں ہر دل عزیز تھا۔
چھوٹے چچا یعنی اعجاز رسول کی حیثیت اس وقت دادی بی کے بعد سب سے نمایاں تھی کیونکہ وہ خاندان کے واحد بزرگ تھے۔ بھتیجیوں، بھانجیوں اور بیٹوں کے لےے یکساں طور پر قابلِ احترام، اس شادی کے سلسلے میں چاہے رسماً ہی سہی، دادی بی کے پانچوں بیٹوں نے ہر طرح کا مشور اور صلاح اَن ہی سے کی تھی۔ شادی تو گھر کی ہی تھی، لیکن اس میں خصوصی اہتمام پہلے سے کہیں زیادہ تھا۔
ہزاروں کی تعداد میں بلائے جانے والے مہمانوں کے خور و نوش اور بودوباش کا انتظام کرنا کوئی معمولی سی بات نہ تھی۔ ماں کی ہدایت پر وہ سارے کے سارے اَن کے ہاں آگئے تھے۔ چھوٹے بھائی کو شکوہ تھا کہ سب نے انہیں اکیلا کر دیا ہے اور جو لمبی چوڑی بارات اَن کے ہاں لائی جارہی ہے، اَسے وہ سنبھال پائیں، یہ کام بڑا مشکل ہے۔ سو لڑکے بابے اَن کے ہاں بھجوا دئےے گئے تھے۔ لے دے کے فضل اور نعیم ، دادی بی کے ہاں موجود تھے اور اَن دونوں کو بھی لڑکیوں کی قوم کے کاموں سے فراغت نہ تھی۔ باقی کا کام تین چچائوں کی اولادوں نے ہی سنبھال رکھا تھا۔
دادی بی کو یہ سارے دیہاتی رشتے دار شادی بیاہ کے موقعوں پر اس لحاظ سے بے حد کار آمد اور اچھے لگتے تھے۔ اعجاز رسول نے اپنے بیٹے اور پوتوں کے ذمے کھانے پکانے کے معاملات لگا دےے تھے اور پچھلے دو روز سے دادی بی کو ناشتا، کھانا، چائے پانی سب وقت پر مل رہے تھے۔ خواتین کی جان کھانا پکانے اور تقسیم کرنے کے جھنجٹ سے چھوٹ گئی تھی۔
دوسری صبح طلو ہوئی۔ دادی بی سرتاپا انتظار ہوگئیں معظم کے لےے۔ انہوں نے آرڈر پر خصوصی ڈشیں بنوائیں۔ شامی کباب اور مٹر پلائو معظم کا پسندیدہ کھانا تھا۔ پھوپھو بی کو ڈھونڈ ڈھانڈ کر کچن میں بھیج کر ہی انہوں نے دم لیا۔
’’اے رابعہ! ساتھ میں ایک دو میٹھی ڈشیں بھی بنوا لینا۔ میس میں کھانے کو کیا ملتا ہوگا بھلا، قیدیوں جیس اکھانا۔ مرضی ہو تو بھی کھائو نہ ہو تو بھی کھائو۔ مرغی بھی روسٹ کر لینا۔ میرے تو ہاتھوں میں دم نہیں رہا ورنہ میرے بچے کومیرے ہاتھ کی روسٹ کی ہوئی مرغی بے حد پسند آیا کرتی تھی۔‘‘
’’امُاں! آپ جائیں اپنے کمرے میں، میں بھی جانتی ہوں، وہ کیا کھاتا ہے اور کیا نہیں۔‘‘ پھوپھو بی نے انہیں واپس بھیجتے ہوئے کہا۔
شام کے جھٹ پٹے میں معظم کی جیپ پورچ میں رکی تو پورے گھر میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ خلاف حکم جیپ وہ خود چلا رہا تھا، جبکہ ڈرائیور ساتھ والی نشست پر تھا۔ انجن بند کر کے وہ گاڑی سے اَترا ہی تھا کہ چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔ رشتے کی بہنیں اور بھائی اَس کی آمد پر کتنے خوش تھے۔ یہ دیکھ رک اَس کا سیروں خون بڑھ گیا تھا۔
دادی بی نے اَسے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ قرآن کریم کے سائے میں اپنے کمرے تک لائیں۔ بار بار اَس کی بلائیں لیتی رہیں۔ جانے کتنی بار پیشانی چومی، گلے سے لگایا۔ اکلوتا بیٹا تھا وہ اَن کے لاڈلے، دَلارے سپوت کا۔ بڑی چاہت سے پالا تھا انہوں نے اسے۔ وہ تو انہیں چھٹا بیٹا ہی لگتا تھا۔ لڑکے لڑکیاں اکثر شکوے کیا کرتے۔
’’دادی بی! آپ کی نظروں میں ہماری تو کوئی اہمیت ہی نہیں۔‘‘
’’چلو ہٹو! معظم میں تو میری جان ہے۔ بالشت بھر کا لوتھڑا ہی تھا جب میری گود میں آیا تھا۔ بس میں نے جگر کا خون ہی نہیں پلایا۔ اور تو سب کچھ کیا ہے اس کی خاطر۔ جان سے بھی زیادہ پیارا ہے مجھے، تم لوگ اس سے اپنا مقابلہ نہ کیا کرو۔‘‘
سب چَپ ہوجاتے۔
سفید را سلک کے بے داغ سوٹ میں اپنے فوجی ہئیر اسٹائل کے ساتھ دراز قد اور کسرتی بدن والا معظم ان لمحوں میں بے پناہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔ سفر کی تھکان تو چہرے پر کہیں تھی ہی نہیں۔
مسکراتی آنکھوں کے ساتھ وہ ہر ایک کو دیکھ رہا تھا۔ اَن کے والہانہ پن کو۔
’’باقی لوگ کہاں ہیں دادی بی! کیا انہیں میرے آنے کی خبر نہیں ہوئی؟‘‘ معظم نے کئی ایک کزنز کو نہ پاکر کہا۔
’’آرہے ہیں، سب ہی آرہے ہیں دھیرج رکھےے۔ آپ تو بس پلُو بندھائی اور باگ پکڑائی جیسی رسموں کے لےے کیش تیار رکھےے۔ ہزار ہزار سے کم نہیں لیں گے ہم سب یاد رہے۔‘‘
’’سَنا آپ نے دادی بی! یہ لڑکیاں کیا کہہ رہی ہیں۔‘‘
’’دادی بی نے تو سن رکھا ہے، صرف آپ ہی سن لیجےے ساری لڑکیاں آپ کی بہنیں بھی ہیں اور سالیں بھی۔ بارات کے ساتھ جانے کے وقت تک بہنیں اور بارات لڑکی والوں کے گھر پہنچ جانے کے بعد سالیاں اور میں آپ کو بتادوں، عظمی، بھائی، آپ کے سسرال سے آئے اور گھر کے بھی سارے جوتوں کا ایک ایک پیر محفوظ مقام تک پہنچ چکا ہے۔ حتیٰ کہ شادی کے دن پہننے والے سوٹ کے ساتھ پہنائے جانے والے کھسُے کا ایک پیر بھی۔‘‘ سَمن نے خبر دی۔
’’یہ نکاح کے بعد تو جوتا چرایا جانا سمجھ میں آتا ہے، یہاں تو معاملہ نکاح سے قبل ہی شروع کر دیا گیا۔ دادی بی!‘‘ فضل جھٹ بولے۔
’’ہاں لڑکیو! یہ بات غلط ہے بھئی، بچے کو دونوں پیروں میں جوتا پہن کر سسرال تک پہنچنے تو دو، پھر کر لینا یہ کارروائی۔‘‘
’’نہیں دادی بی! معاملہ ذرا موٹی رقم کا ہے۔ عنبرین آپی، زرُیں باجی، عذرا باجی، نازی ، فائزہ، سارا، عائشہ، شفُو آپی اور مہک اور۔۔۔ اور۔۔۔ مابدولت کتنے ہو گئے پورے دس۔۔۔۔ دس اور دس بیس۔۔۔ پورے بیس ہزار جو بھی لا رکھے میری ہتھیلی پر جوتے اَس کے حوالے کر دوں گی میں۔‘‘
’’رکو تو سمن! رَکو تو۔۔۔ یہ دس کس خوشی میں۔ یعنی عائشہ بھی، وہ بھی نیگ وصول کرے گی۔ دادی بی! سَنا آپ نے دلہن بھی۔ یعنی کہ دلہن بھی اپنے دولہا سے بے ایمان لڑکی! تم نے کیا سوچا تھا روانی میں میں کسی کو خیال ہی نہ رہے گا؟‘‘ نعیم اپنی جگہ سے اَچھلے۔
’’اوہ مائی گاڈ! غلطی ہوگئی نعیم بھائی۔ چلو اٹھارہ ہزار تو کہیں نہیں گئے نا۔ اور یوں اگر عائشہ کے نام کو رہنے ہی دیتے تو کیا بگڑ جاتا، بھئی اَن کے ہاں اور کوئی لڑکی ہی نہیں اور عائشہ رشتے میں بہرحال عظمیٰ بھائی کی کزن تو ہے نا۔‘‘
’’لیں جی یہ اور سنیں۔ محترمہ سمن صاحبہ، وہ اب ان کی ہونے والی بیوی ہیں اور جس وقت یہ جوتا چھپائی وغیرہ کی رسمیں ہورہی ہوں گی، وہ بیوی بن چکی ہوں گی۔‘‘
’’چلیں نکال دیں یہ نام، نو نام تو کھرے ہیں نا۔ نکالےے اٹھارہ ہزار۔ عظمی بھائی قسم سے ہم نے کئی کام ان ہی دو ہزار روپوں پر چھوڑ رکھے ہیں۔ سارا نے تو اپنا کامدانی کا ایک سوٹ پورے دو ہزار روپے دے کے ہی لانا ہے بازار سے۔‘‘
’’اَف میرے خدا۔۔۔ دادی بی! سَنا آپ نے یہ لڑکیاں شیطان ہیں پوری۔‘‘ جو پیسہ ملا نہیں بلکہ جس کے ملنے کی موہوم سی امید ہے امید ہے اَس کے سہارے بھی کام کرائے جارہے ہیں۔‘‘ فضل ہنستے چلے گئے۔
’’میں تم لوگوں کی مجبوریوں سے آگاہ تھا میری پیاری بہنو، اور پورے دو سال سے انتظام میں لگا تھا۔ دادی بی! یہ لیجےے یہ ہیں بیس ہزا روپے اور اَن کا حصہ جو اٰب ہم سے نیگ وصول نہیں کر سکتیں، وہ بھی ان بلائوں کو دے دیجےے گا۔ کیوں ایوب بھائی، آپ حساب کتاب کے بڑے ماہر ہیں، کتنی رقم آرہی ہے فی کس؟‘‘ معظم نے شوخ لہجے میں کہا۔
’’دو ہزار د و سو بائیس روپے بائیس پیسے فی کس۔‘‘ کسی نے با آواز بلند کہا۔ سب نے اَسی طرف دیکھا۔ وہ حسن تھے۔ شاید ابھی چھوٹے چچا کے گھر سے آئے تھے۔ اور چپ کھڑے یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔
اَن پر نظر پڑتے ہی معظم اٹھ کر اَن کی طرف آیا اور اَن سے گلے ملنے لگا۔
’’میاں! بہنوں کا تو اتنا خیال تھا اور ہمارے لےے؟‘‘
’’آپ سے تو بٹورنے کے ارادے ہیں حسن بھائی! خیر سے اتنے سارے بڑے بھائیوں کا ایک چھوٹا بھائی ہوں۔ اپنی نصف بہتر کے لےے خریداریوں میں سے جو بچا ہے، سارا ان بہنوں پر اسی لے تو اڑا دیا ہے کہ میں آپ سب کے ذمے ہوں۔ اب آپ سب پر منحصر ہے کہ۔‘‘
ایک زور دار قہقہہ کمرے میں گونج گیا۔
’’ویسے تو پھوپھو بی نے مجھے بتا دیا تھا، یہاں صرف لڑکی کے سولہ سنگھاروں کی ہی نہیں،لڑکے کا بھی خیال رکھا جارہا ہے اور یہ خیال سب مل کر رکھ رہے ہیں۔‘‘
’’وائی ناٹ مائی برادر۔‘‘ حسن مسکراتے ہوئے پاس بیٹھ گئے۔
دادی بی کے کمرے میں تِل دھرنے کو بھی جگہ باقی نہیں رہی تھی۔ گھنٹہ بھر بعد کھانا لگ جانے کی خبر آئی تو سب ڈائننگ ہال کی طرف چل دےے۔
دادی بی ایک ایک ڈش معظم کے آگے رکھ رہی تھیں۔ وہ اَن کی خوشی کی خاطر بھی اور کچھ اپنی بھوک کا خیال رکھتے ہوئے بھی کھانے سے انصاف کر تا چلا گیا۔
آج وہ بے حد خوش تھا۔ ان ساری محبتوں کے احساس سے سرشار جو اس کے ارد گر د تھیں۔ وہ سب کا منظورِ نظر بنا ہوا تھا۔ ہر ایک کے دل اور نگاہ میں تھا۔ دادی بی نے تو اَسے ایک پل کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا تھا۔
’’اچھا بھئی لڑکیو! اب جلدی سے تیار ہوجائو، معظم کو مہندی لگانے کے لےے وہ لوگ آیا ہی چاہتے ہوں گے۔ اعجاز میاں نے سب کا کھانا اَدھر ہی بھجوادیاتھا۔ گھر کی تو بات تھی۔ یہاں کھانا کھلانے میں اتنا وقت لگ جاتا۔ گانے بجانے کی جتنی تیاری اتنے دنوں میں کی ہے، آج اَس کا بھرپور مظاہرہ کرنا تم لوگ۔ میرے بیٹے کی مہندی کا شگن ہے، برسوں دنیا یاد رکھے۔‘‘ دادی بی نے کھانے سے فراغت پاتے ہی کہا۔
لڑکیاں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ابھی وہ پوری طرح تیار بھی نہ ہوپائیں کہ مہمان آنا شروع ہوگئے۔
وسیع و عریض، برقی قمقموں اور ٹیوب لائٹس سے سجا مرکری بلبوں سے روشن لان جو پہلے ہی ہفت رنگوں سے مزُین تھا، رنگ برنگے ملبوسات اور چہروں سے جگمگا اٹھا۔ لڑکوں نے اپنی ساری قابلیت نشست و برخاست کے اعلا انتظام اور اسٹیج کو دلفریب بنانے میں صرف کر دی تھی۔
لڑکی والے مہندی کے ساتھ آئے تو ماحول کی رنگینی نے آخری حدوں کو چھو لیا۔ ساری لڑکیاں پل کی پل میں لڑکی والوں کی ہو کر رہ گئیں۔
سارے لڑکے معظم کی طرف ہوگئے۔ ایسی ڈھولک بجی، اتنا شور شرابا ہوا کہ الاماں و الحفیظ آج تو ہر ایک خوشی اور جذبوں سے معمور تھا۔ ایوب کے ہاتھ ایک ڈھولک لگ گئی ۔ وہ باقاعدہ اسٹک سے اَسے پیٹنے لگے ڈھولک کی تھاپ پر لڑکوں نے جو رقص کیا تو لڑکیوں کو ہار مانتے ہی بن پڑی۔
معظم اسٹیج پر جلوہ افروز تھا۔ اس نے شاید پہلی بار ایسا نظارا دیکھا تھا۔ شاید وہ کبھی بھی ایسی تقریبات کا حصہ نہیں رہا تھا۔ اپنی چوبیس سالہ زندگی کا بیشتر حصہ اس نے تعلیمی اداروں میں گزار دیاتھا۔ پھر عسکری تربیت کے اداروں میں۔ وہاں کی مصروفیات اور رنگینیاں چاہے جیسی بھی ہوں، کم از کم آج کی اس محفل جیسی نہیں تھیں اور پھر اس تقریب کے ساتھ اس کے بہت سے نادیدہ ارمان وابستہ تھے۔ آنے والی کل کی ڈھیروں خوشیاں۔۔۔!
عائشہ اَس کی سگی چچا زاد تھی۔ ایک مدُت ہوئی اس نے اسے دیکھا تھا۔ اَسے یاد تھا مگر زیادہ نہیں۔ کہ وہ ایک بے حد حسین، دلکش اور خوب صورت لڑکی تھی۔ اپنے ماں، باپ کی اکلوتی اولاد۔ پورا خاندان بلکہ پورا شہر جسے بہو بنانے کا خواہش مند تھا۔ گزری گرمیوں کے آخر میں اس نے بی۔اے کا امتحان دیا تھا اور ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی فرسٹ کلاس پوزیشن میں پاس ہوئی تھی۔
عائشہ کے پاپا اعتزاز رسول، دادی بی کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ شہر کے مشہور بیرسٹر۔ وہ اَن کی اکلوتی اولاد تھی۔ اَن کی بے تحاشا جائیداد کی واحد وارث، عائشہ کی ماں کا خیال تھا کہ اَن کی بیٹی کی شادی سی والیٔ ریاست کے بیٹے سے ہونی چاہےے۔ پر اس کا کیا کیجےے کہ عائشہ نے خود اپنی زبان سے اس کا اظہار کیا کہ وہ شادی کرے گی تو صرف اور صرف اپنے کزن معظم سے۔ وہ دن معظم کو اچھی طرح یاد تھا۔ جب پھوپھو نے اَسے فون پر بتایا تھا۔
’’معظم! کچھ سنا تم نے، وہ عائشہ ہے نا۔‘‘
’’کون عائشہ؟‘‘
’’ارے بھئی! تمہاری کزن اپنے اعتزاز کی بیٹی عائشہ۔‘‘
’’کیا ہوا اَسے؟‘‘
’’کچھ نہیں ہوا، وہ اصل میں۔۔۔ وہ کہتی ہے۔‘‘
’’پھوپھو! آپ تو کسی الجھن میں پڑ گئی ہیں۔‘‘
’’بات ہی ایسی ہے چندا، وہ عائشہ کہتی ہے کہ میں معظم سے شادی کروں گی۔‘‘
’’جی۔۔۔ جی۔۔۔ کیا کہتی ہے وہ؟ وہی عائشہ نا پھوپھو جو سَنا ہے ہمارے خاندان کی سب سے حسین لڑکی ہے۔ جس کے لےے نواب احمد یار خان اپنے بیٹے کا رشتہ لائے ہیں، جس پر چچی سلمیٰ اِترائی اِترائی پھرتی تھیں۔‘‘
’’ہاں، ہاں، میرے لعل وہی عائشہ، بھئی ایک ہی تو عائشہ ہے ہمارے خاندان میں۔‘‘
’’وہ کیا کہتی ہے کہ میں معظم سے شادی کروں گی۔۔۔ لاحول ولا قوۃ۔۔۔ اَسے کہےے کہ یہ مذاق کسی اور سے۔۔۔‘‘
’’وہ سیریس ہے چندا۔۔۔ بالکل سیریس۔۔۔ کیسے نہ ہو سیریس۔ ہمارا بیٹا بھی تو لاکھوں میں ایک ہے، بلکہ کروڑوں میں ایک۔ اور سنو معظم! اماں اور چھوٹے چچا تو منگنی کر دینے کو تیار ہیں، لیکن اعتزاز نے کہا ہے کہ تمہاری رائے معلوم کرنے سے پہلے کچھ نہ کیا جائے۔ امُاں نے مجھ سے کہا ہے کہ میں تم سے بات کروں۔‘‘
’’اوہ پھوپھو بی! آپ نے تو مجھے حیران کَن مشکل میں ڈال دیا۔ بھئی میں۔۔۔ میں نے تو شادی کے حوالے سے آج تک کبھی ایک پل کو سوچا تک نہیں۔ نونو پھوپھو! میں، میں شادی نہیں کروں گا۔‘‘
’’اے میاں! کیسے شادی نہیں کرو گے۔ اکلوتے بیٹے ہو اپنے باپ کے۔ تم سے ہی تو نام چلے گا اور پھر خاندان کے واحد کنوارے لڑکے ہو۔ ایوب، حسن، فضل، اختر، ندیم، مظہر، عظیم اور نعیم سب ہی تو گھر بار والے ہوگئے ہیں۔ خیر سے بچوں کے باپ ہیں۔ تمہاری شادی تو ہر طرح سے ضروری ہے اور پھر کون سا آج ہی شادی طے ہوجائے گی۔ تم ہاں تو کہو، شادی ہوتے ہوتے بھی سال تو لگ جائے گا۔‘‘
’’میں سوچوں گا پھوپھو! یہ زندگی بھر کا بندھن ہے۔ ایک دو دن کی بات نہیں، پلیز مجھے کچھ وقت دیجےے۔‘‘
اَس نے مہلت مانگ لی۔
وہ واقعی ایک بے حد خوبرو نوجوان تھا۔ اَن دنوں جب وہ تعلیمی مدارج طے کر رہا تھا، اَن دنوں جب وہ زیر تربیت تھا، اور ان دنوں جب وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریں ادا کر رہا تھا۔ کئی ایک لڑکیاں اَس کی طرف ملتفت ہوئی تھیں۔ خود اَس کے دوست کیپٹن یاسر عزیز کی خواہش تھی کہ وہ اس کی بہن کو اپنا جیون ساتھی منتخب کر لے۔ یہ بات اَسے اَن دونوں کے مشترکہ دوست کیپٹن اسد اکبر نے بتائی تھی، لیکن اَسے یہ تجویز اچھی نہیں لگی تھی۔ وہ دوست کی بہنوں کو اپنی بہنیں ہی سمجھتا تھا، جبکہ یاسر کا خیال تھا، معظم ایک بہترین نوجوان ہے اَس کا دیکھا بھالا ہے اور اَسے اپنی بہن کے لےے اَس سے بہتر جیون ساتھی کہیں نہیں مل سکتا۔ اسد نے اَسے قائل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹا رہا تھا۔
’’یار! میں نے جو کہہ دیا ہے، سو کہہ دیا ہے، میں جب سے اَن کے گھر اانے جانے لگا ہوں، میں نے اَن تینوں لڑکیوں کو اپنی بہنیں ہی سمجھا ہے۔ وہ بھی مجھ سے ویسا ہی پیار کرتی ہیں، جیسا یاسر سے کرتی ہیں۔ میں اتنے پیارے رشتے کو۔۔۔۔ تم سمجھو نا یار! وہ مجھے سمن، فائزہ اور سارا کی طرح ہی لگتی ہیں۔‘‘
تب اسد نے یاسر کو ساری بات بتادی، تو یاسر کو بھی ان جذبوں کا اور رشتے کے تقدس کا قائل ہونا پڑا تھا۔
اور جب پھوپھو نے عائشہ کا پروپوزل اَس کے سامنے رکھا تو اَس نے کافی سوچ بچار کے بعد اپنے ان دونوں دوستوں سے بھی مشورہ طلب کرلیا۔ اَس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ کے موقع پر چچا اَسے اپنے ہمرا لائے تھے اور یاسر اور اسد نے اَسے دیکھا تھا۔ وہ انہیں یاد آگئی۔
’’یار وہ۔۔۔۔ وہی ہے نا جو بہت ساری لڑکیوں میں بھی علیحدہ سی لگ رہی تھی۔بیرسٹر صاحب نے ہم دونوں سے باقاعدہ تعارف کرایا تھا بھئی وہ جو آف وائٹ سوٹ میں ملبوس تی۔ غالباً دوپٹے پر کوئی خوب صورت سا کام بھی تھا۔‘‘ کیپٹن اسد اکبر نے اپنی یادداشت پر زور دیا۔
’’یار! تم نے تو ایسے یاد رکھا ہوا ہے، جیسے خدانخوستہ معاملہ تمہارے پروپوزل کا ہو۔‘‘ معظم نے منہ بنایا۔
’’اوہو! آئی ایم سوری یار، میں نے تو محض تمہاری وجہ سے۔‘‘
تینوں ہنس دےے۔
’’بھئی معظم! میں نے تو اَسے پاس کر دیا ہے۔ اسد کی رائے اس کے احساسات سے معلوم ہو ہی گئی ہے۔ تسلی کے لےے زبانی اقرار کروالو اور یار سیانوں کا کہنا ہے جس سے تم محبت کرتے ہو اَنے اپنالو، یا جو تم سے محبت کرتا ہے اَسے اپنی زندگی میں شامل کرلو۔ تمہاری زندگی میں اب تک یہ نوبت تو آنہیں سکی کہ تم کسی سے محبت کرتے۔ ایک خوش جمال پری چہرا نے تمہیں منتخب کرلیا ہے، تو ہنسی خوشی اَس کے ہوجائو۔ زندگی بھر خوش خوش جینے کو یہ احساس ہی کافی رہے گا کہ تم چاہے گئے تمہاری آرزو کی گئی۔ ویسے یار! یہ ہماری مجوزہ بھابھی ہوگی بڑی خوش نصیب، جسے تم جیسا لائف پارٹنر مل رہا ہے ایک دم سیدھا سا پیشہ ور فوجی۔ ہر قسم کے مکر و فریب سے پاک۔‘‘ یاسر عزیز نے خلوصِ دل سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
مہندی کی رسم کے دوران معظم کو دونوں دوستوں کی کمی شدت سے محسوس ہورہی تھی، لیکن وہ ساتھ آنے سے قاصر تھے۔ کرنل صاحب اَسے بھی بمشکل چھٹُی دینے پر آمادہ ہوئے تھے۔ یاسر اور اسد کا ارادہ کل کی فلائیٹ سے آنے کا تھا۔ یعنی نکاح کے وقت سے پندرہ منٹ قبل ہی وہ پہنچ سکتے تھے۔
لڑکیوں کا ریلا اَس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ لڑکوں نے دفاعی انداز اختیار کر لےے تھے۔ دادی بی نے سرخ زرتار دوپٹا اس پر ڈال دیا تھا، گلے میں گلاب اور موتےے سے گوندھی خوب صورت مالا تھی۔ بہت سے چنبیلی کے ہاروں نے اس کی گردن بھر رکھی تھی۔
چچی اعتزاز بھی آئی ہوئی تھیں۔ اَن کا ہاتھ اس کے گھنیرے بالوں والے سر پر تھا۔
’’لڑکی کی ماں مہندی کی رسم ادا کرنے نہیں آیا کرتی۔ آپ کیسے آگئیں بھابھی؟‘‘ پھوپھو آسیہ نے اعتراض کیا۔ انہیں بات منہ پر کہہ دینے کی عادت تھی۔
’’میں لڑکی کی ماں بن کر نہیں، لڑکے کی ماں بن کر آئی ہوں۔ بس میرا دل ایک دم بے چین ہوا تھا۔ آسیہ آپا کچھ بھی ہو، ان لمحوں میں ماں کی عدم موجودگی بڑی کٰھل رہی ہے۔ کم از کم مجھے۔۔۔ میں بیاہ کے آئی تو معظم سال بھر کا تھا۔ میں نے ہی اسے پالا پوسا۔ بڑی آپا تھک جایا کرتی تھیں کام سے، تو معظم کو میرے حوالے کر دیتی تھیں۔ میںنے اسے نہلایا، دَھلایا، کھلایا اور پلایا ہے، مجھے اپنے بیٹوں کی طرح ہی لگتا ہے۔‘‘
چچی اعتزاز کو معظم کے بچپن کے حوالے سے ایک ایک بات یاد تھی اور واقعی انہیں شدُت سے احساس ہورہا تھا۔
’’آسیہ آپا! آپ لوگوں نے اَسے بلایا تو ہوتا، آخر ماں تھی، بلکہ ماں ہے۔‘‘
’’اے لعنت بھیجو، ایسی عورتوں کو اولاد کی کیا پروا، وہ تو اَسی دن ہی مر گئی تھی بچے کے لےے، جس دن یہاں سے گئی تھی۔‘‘
معظم کا ہنستا، کھلکھلاتا چہرا ایک دم بَجھ کر رہ گیا۔ دونوں خواتین اس بات سے انجان کہ وہ اَن دونوں کی گفتگو سن رہا ہے، اپنی کہے جارہی تھیں۔
یہ ایک تکلیف دہ موضوع تھا۔ اَس کی زندگی کا تاریک ترین پہلو، جسے اَس نے جتنا بھلانا چاہا تھا، اَتنا ہی اسے یاد آرہا تھا۔
کب، کب یہ نام اس کے سامنے نہیں لیا گیا تھا۔ اَس نے تو شعور کی آنکھ کھولتے ہی سارے گھر کے لبوں پر یہ نام انتہائی نفرت آمیز انداز میں آتے دیکھا تھا اور کوئی بھی کچھ نہ کہتا۔ ایک پھوپھو ہی کافی تھیں جو اٹھتے بیٹھتے اَس کی ماں کی مدح سرائی کیا کرتی تھیں۔
اَسے لفظ ماں سے ہی نفرت تھی۔
اَسے ماں کی ضرورت ہی کبھی محسوس نہ ہوئی تھی۔
اتنی محبتیں تھیں اَس کے ارد گرد، اتناپیار تھا اس کے آس پاس کہ کسی اور پیار کی ضرورت ہی نہ تھی۔
وہ نفرت جو لفظ ’’ماں‘‘ کے ساتھ وابستہ تھی، گزرتی عمر کے ساتھ اَس میں اضافہ ہوا چلا جارہا تھا۔
اَس کی ماں ایک بے وفا عورت تھی، جس نے کسی غیر مرد کی خاطر، جس سے وہ محبت کرتی تھی، اپنے شوہر کو چھوڑ دیا تھا۔ یہاں تک کہ چند روز کے بچے کو چھوڑ کر چلی گئی تی۔ ماں کے بارے میں اَس کی معلومات یہی تھیں اور ان معلومات کی روشنی میں محبت کا کوئی سوتاکہاں سے پھوٹتا۔ بس نفرت تھی چاروں طرف۔ جو آکٹوپس کی مانند اسے چاروں سے اپنے گھیرے میں لے چکی تھی۔
’’نہیں آسیہ آپا! حقیقت پھر بھی حقیقت ہوتی ہے آخر اَس نے اسے جنم تو دیا تھا، ہم اس سے ماں کہلانے کا حق نہیں چھین سکتے، اچھی تھی یا بَری، بہرحال اَس کا حق تھا کہ اسے شادی کا دعوت نامہ بھیجا جاتا۔‘‘
’’سنو بھابھی! امُاں کے سامنے نام بھی نہ لینا، خوامخواہ میں اَن کا موڈ بگڑ جائے گا۔ اے تمہیں بھلا اس کے لچھُنوں کی کیا خبر، تم بیاہ کے آئیں تو اَسے دفعان ہوئے سال ہونے کو آیا تھا۔ تم ہوتیں تو تمہیں خبر ہوتی، کہ وہ تھی کیا بھلا؟‘‘
معظم کے کانوں میں جیسے کوئی پگھلا ہوا سیسہ ڈالے جارہا تھا۔ اس کے ہنستے مسکراتے چہرے پر ایک دم خزاں چھا گئی۔ چہرے پر کئی رنگ آ کے گزر گئے۔ اَس نے بمشکل خود کو نارمل کیا۔ اَس کا چہرا دوپٹے کی اوٹ میں تھا۔ کسی نے اس کے بدلتے ہوئے انداز نہیں دیکھے۔ اَس کی سانس حلق میں اٹک کر رہ گئی۔ پھر اس کا دل اس محفل میں نہیں لگا۔ یہ سب سَن لینے کے بعد اور کچھ سَن ہی نہ سکا وہ۔ آوازیں ایک بے ہنگم شور بن کر رہ گئیں اس کے لےے۔
چچی اعتزاز اَس کا چہرا اوپر کر رہی تھیں۔
’’بیٹے منہ کھولو، مٹھائی کھائو، مجھے معلوم ہے گلاب جامن تمہاری پسندیدہ مٹھائی ہے، پھر میں رسموں کی اتنی بھی قائل نہیں، تمہاری دادی بی تو اصرار کریں گی کہ لڈُو ہی کھلائو، چلو جلدی سے کھالو تم۔‘‘
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھیں۔ اَن کی نظر اَس کی نم آنکھوں پر پڑ ہی نہ سکی تھی۔
اس نے منہ کھول کر گلاب جامن لے لی لیکن وہ اَس کے حلق میں ہی اٹک کر رہ گئی، کون کیا کر رہا تھا۔ یا کوئی رسم باقی تھی، اس سے بے نیاز وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
’’اے بیٹے! آپ ہی آپ اتھ کھڑے ہوئے، بیٹھو تو۔‘‘
’’نہیں دادی! نیند آرہی ہے سوئوں گا۔‘‘
’’ہاں امُاں! سونے دیں اسے اتنا لمبا سفر تھا، پھر آتے ہی رسمیں شروع ہوگئیں۔ آرام کرنے دیں، جائو فضل میاں اسے لے جائو اس کے کمرے میں، دودھ میں لے آئوں گی، جب آنکھ کھلے پی لینا۔‘‘ پھوپھو رابعہ نے پیار سے کہا۔
فضل اَسے اسٹیج سے اَتار کر اندر لے آئے۔
لان میں ہنگامہ جوں کا توں رہا۔ وہ بستر پر پڑا کروٹیں بدلتا رہا۔
رات کے جانے کس پہر سب لڑکی والوںکے ہاں چلے گئے۔ گھر میں سنُاٹا چھا گیا۔
وہ از حد تھکا ہوا تھا، آرام کرنا چاہتا تھا، بلکہ کھانا کھاتے ہی نیند کا غلبہ ہونے لگا تھ اَس پر، مگر اب نیند اس سے کوسوں دور تھی۔ بستر پر گویا انگارے بکھرے تھے۔
اَس کا وجود جلنے لگا تھا۔ کسی پل، کسی کروٹ اَسے چین نہیں ملا تھا۔ وہ بیڈ سے اٹھ کر نیچے قالین پر آرہا۔ ماہی بے آب کی طرح تڑپتا، کبھی اس اور کبھی اَس اور۔
کیس ماں کے وجود سے جنم لیا تھا اَس نے، ایک پل کو کسی نے اَسے الفاظ سے یاد نہیں کیا تھا۔ اَسے یاد تھا، بخوبی یاد تھا، وہ نہانے سے بڑا ڈرا کرتا تھا۔ مشکل سے آمادہ ہوتا تھا نہانے پر۔ پھوپھو اس کے پیچھے بھاگا کرتیں۔ وہ سڑک تک بھاگ بھاگ جایا کرتا تھا۔ ملازم اَسے پکڑ کر لے آتے۔ اَس نے نہ نہانے کے لےے ضد کرنے پر پھوپھو کے ہاتھوں مار بھی کھائی تھی۔
’’ڈائن چلی گئی، دانت یہیں رکھ گئی۔ یہ عذاب میرے لےے تھا، میرے نصیب میں لکھا ہوا، لے جاتی اس حرام کے جنے کو اپنے ساتھ۔ میرے کرموں میں یہی لکھا تھا۔ بیوہ ہو کے اس در پر آن پڑوں گی اور نوکرانیوں کی طرح ان کے بچوں کی خدمتیں کروں گی۔‘‘ اَسے پھوپھو کے الفاظ آج تک یاد تھے۔
’’اے بھلا دس روز کا بچہ بھی کوئی چھوڑ جاتا ہے، رکھ دی ہوگی شرط یار نے، اے ایسا عشق تو تھا۔ بدن میں، پیٹ میں رکھ کے نو ماہ پالا۔ درد سہہ کر جنا اور چھوڑ کے چلی گئی۔ ناگن تھی ناگن وہ تو، یہ سنپولیا چھوڑا ہمارے لےے اور چل دی، مر بھی نہ گئے، پیدا ہوتے ہی، خدا میرے بھائی کو اور بچے دے دیتا۔ ضروری تھا کہ اس کا پیٹ ہمارے گھر میں رہ جاتا۔ جیسی ماں تھیج ہرجائی، بے حیا، بے وفا، ویسا ہی بیٹا ہوگا۔ میں تو ناگ کو دودھ پلا رہی ہوں، کون جانے کب مجھے ڈس لے۔‘‘
معظم، پھوپھو کا منہ دیکھتا رہ جاتا۔ ان باتوں کی سمجھ اَس وقت کہاں تھی اَسے۔ تائی نواز، تائی فیاض، تائی ریاض، آسیہ پھوپھو، ہاجرہ پھوپھو، کونا تھا جس نے اَس کی ماں کے حوالے سے اَس پر کوئی طنز نہ کیا تھا۔
دادی بی کو تو اَس کی ماں کے نام سے بھی نفرت تھی اور وہ خود اتنی ساری معتبر گواہوں کے حوالے سے اپنی ماں کے نام سے بھی خوف کھاتا تھا۔ اَسے اپنی ماں کے کےے جرموں پر شرمندگی تھی۔ وہ ہر دم اس شرمندگی کے بوجھ تلے دبا ہی رہتا تھا۔ وہ تو اپنے باپ تک سے نظریں نہیں ملا سکتا تھا۔ باپ جو اس سے دور رہتا تھا جس سے وہ زندگی کے کسی پل بے تکلف ہو کے بات نہ کر سکا تھا، جس سے اپنی ماں کے کےے کی معافی نہیں مانگ سکا تھا۔
درد کی ایک بارات اَس کے اندر اَتر آئی۔
وہ سہما ہوا، ترسا ہوا کسی کونے میں دبکا، بچوں کو اپنی مائوں سے لاڈ کرتا دیکھتا رہ جاتا۔ سد ایک احساسِ کمتری و محرومی میں جکڑا رہتا۔ اَس کی ماں کے جانے کے دوسرے ماہ ہی اَس کے پاپا نئی بیوی لے آئے تھے۔ بڑی دھوم دھام سے بیاہ ہوا تھا پاپا کا۔ اس دھوم دھام کا ذکر آج بھی ممی ارباز رسول خان بڑے فخر سے کرتی تھیں۔ انہوں نے آتے ہی ارباز رسول خان کو ساتھ لیا اور غیر ملک جا بسیں، کیونکہ انہیں مشرقی ماحول سے، دادی بی کی عائد کردہ پابندیوں سے نفرت تھی۔ اپنی تین بہنوں سَمن، فائزہ اور سارا کو اس نے پہلی بار دیکھا تھا تو وہ تینوں بڑی بڑی لڑکیاں تھیں اور ممی ارباز کے ہاں چوتھا بچہ پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔ تب ایک دم ہر دل میں اس کی محبت کے سوتے جاگ اٹھے۔ دادی بی نے اسے قیمتی متاع جان کر کلیجے سے لگایا تو پھوپھو نے عزیز از جان سمجھ کر دل میں بند کیا۔
ارباز رسول خان سے اَس کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ ایف۔ایس۔سی کر چکا تھا۔ اور امتحان سے فارغ ہو کر چھٹیاں گزارنے حویلی آیا تھا۔
ایک شب سو کر اٹھا تو ملازم اَسے بلانے آگیا۔
’’آئو معظم، آئو بیٹے، یہ پاپا ہیں تمہارے، ارباز رسول خان۔‘‘ تایا ریاض رسول خان نے اَسے مخاطب کیا۔ انہوں نے ہی اسے بلوایا تھا۔
اَس نے سامنے دیکھا، اپنے باپ کو، جس کا خون اسے کی رگوں میں دوڑ رہا تھا۔
ٹائٹ گائون میں ملبوس، صوفے پر نیم دراز ارباز رسول خان اپنی تمام تر مردانہ وجاہت فخر و غرور کے ساتھ اسے بے حد اچھے لگے۔ سرخ و سفید رنگت پر ڈارک برائون آنکھوں اور سرمئی بالوں والے ارباز رسول خان، برائون نرم نرم ویلوٹ کے گائوں میں لپٹے بغور اسے دیکھ رہے تھے۔ دیکھتے چلے گئے۔ وہ یہ سنتے ہی جھجک کر جو رَکا تو پھر آگے نہ بڑھ سکا۔ ارباز خان کے چہرے پر بری عجیب مسکراہٹ تھی، جس کا کوئی مفہوم کم از کم معظم کی سمجھ میں تو نہیں آرہا تھا۔
’’اب یہ ہمیشہ کے لےے پاکستان آگئے ہیں۔ یہیں کاروبار کریں گے، کارخانہ وغیرہ لگانے کا ارادہ ہے۔ بھئی ارباز سنبھالو اب اپنے لختِ جگر کو بہت رکھ لیا ہم نے اس کا خیال۔‘‘ تایا ریاض رسول بڑے سادل دل، سادل مزاج آدمی تھے۔
جواب میں پاپا کی مسکراہٹ کا محض زاویہ بدلا۔
’’ہم کہاں مالک ہیں اس کے، یہ تو امُاں بی کا بیٹا ہے سدا اَن کے پاس رہا۔‘‘
ارباز خان نے اَسے پاس بلایا نہ گلے لگایا۔ پیار سے بولے تک نہیں۔
’’بیٹھ جائو۔‘‘
وہ وہیں پاس رکھے صوفے پر ٹک گیا۔
’’کیا کرتے ہو؟‘‘
’’آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘
’’فوج کے کس شعبے میں جائو گے؟‘‘
’’کس تربیتی ادارے میں داخلہ ملے گا؟‘‘
’’نمبر کتنے آئیںگے؟‘‘
یہ یا بس ایسے ہی دو چار اور سوال تھے، جو انہوں نے کےے اور وہ جواب دیتا رہا۔
انہیں پہلی نظر دیکھ کر جو کچھ خوشگوار سی دھڑکنیں اَس کے دل میں بیدار ہوئی تھیں۔ خود بخود معدوم ہوتی چلی گئیں، پھر ممی ارباز آگئیں۔ انہوں نے اَس کے کھڑے ہونے پر اسے اپنے ساتھ لگا کے اَس کی پیشانی چوم لی۔ وہ دوستوں کے ہمراہ پکنک کی غرض سے گیا تھا، پھر وہ ذرا آگے نکل گئے۔ رات وہ بارہ ایک بجے واپس آیا تھا، تبھی کسی سے نہ مل سکا تھا۔
’’جیتے رہو۔۔۔ جیتے رہو، تمہاری بہنوں نے تو تمہارے بارے میں سوال کر کر کے میرے کان کھا لےے تھے۔ رات تم لیٹ پہنچے تھے۔ وہ کافی دیر انتظار کرنے کے بعد سو گئیں۔ ابھی جاگی نہیں ہیں۔ ناشتے پر تم سے ملیں گی۔‘‘ ممی ارباز، پاپا سے تو اچھی رہیں۔ کم از کم اظہار تو کیا گرم جوشی کا۔ اظہار بہت سے فتنوں کو جنم نہیں لینے دیتا۔ اظہار کی اہمیت نہ ہوتی تو دنیا کے کسی ملک میں کوئی سفارت خانہ نہ پایا جاتا۔ ممی ارباز بھی پپا کی طرح سرد مہری سے کام لیتیں، تو پہلے روز ہی اَسے مایوسی ہوتی، یہ مایوسی نفرت میں بدل سکتی تھی۔ پر جانے کیوں اَس نے کبھی کسی سے نفرت نہیں کی تھی اَسے نفرت کرنا آتا ہی نہ تھا۔
پھر ناشتے پر بہنیں اس سے ملیں تو اس کی گرویدہ ہوکر رہ گئیں۔ سمن اَس سے ایک ڈیڑھ سال چھوٹی تھی اور دوسری دو لڑکیاں اس سے بھی چھوٹی تھیں۔ سارا تو تمام وقت اس کے گلے کا ہار بنی رہی۔ سمن نے اس سے دنیا جہان کی باتیں کیں۔ فائزہ جو ذرا خاموش طبع تھی، ایک ٹک اَس سب کو دیکھتی مسکراتی رہی۔ اس کی آنکھیں ذرا کمزور تھیں۔ دور کے نمبر کے چشمے سے جھانکتی اس کی ذہین آنکھوں میں معظم کے لےے پیار ضرور تھا۔
ممی ارباز اس سے پیار سے پیش آتیں۔ جتنے دن وہ لوگ حویلی میں رہے، وہ برابر اَس کا خیال رکھتی رہیں۔ کھانے کی میز پر خاص طور پر اپنے ساتھ والی کرسی اس کے لےے خالی رکھواتیں۔ اس سے اچھی اچھی باتیں کرتیں۔ اس کے کمرے میں آتیں تو گھنٹوں اس سے اس کی فیوچر پلاننگ اس کی تعلیم، اس کے دوست احباب سے متعلق بات چیت کرتی رہتیں۔ اس گھر کی دوسری خاتون تھیں، وہ چچی اعتزاز کے بعد جنہوں نے اس کی ماں کو بَرا بھلا نہیں کہا تھا یا اس کے متعلق کوئی بات نہیں کہی تھی۔
بہادر بنو میرے بیٹے، یہ دنیا ہے۔ یہاں گَھٹ گَھٹ کے جینے والے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بہادری، عزم اور ہمت کو اپنا ساتھی بنالو۔ ترقی تب تمہاری ہم رکاب ہوگی۔‘‘ اَسے ممی ارباز کی یہ بات ہمیشہ یاد رہی تھی، بلکہ وہ خود بھی کراچی جانے کے بعد تک اسے یاد رہی تھیں۔
دراصل وہ حویلی کی ساری خواتین سے بالکل مختلف تھیں۔ شاید اعلا تعلیم یافتہ تھیں، پھر روشن خیال بھی تھیں۔ امریکہ میں ایک فرم میں خاصی ذمہ دار پوسٹ پر کام کرتی رہی تھیں۔ اب پاکستان آکر بھی اپنی تعلیمی ڈگریوں اور کام کے تجربے کو کام میں لانا چاہتی تھیں اور پاپا کی ورکنگ پارٹنر بن کر ان کے ساتھ ورک کرنا چاہتی تھیں، جبکہ حویلی کی خواتین کا سب سے بڑا کام صرف گھر میں رہنا، ملازموں کی نگرانی کرنا اور ہال کمرے میں محفل جما کر دنیا جہان کے گلے شکوے کرنا تھا۔ وہ ممی ارباز سے حد سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔ اَن سے مل کر اسے یاد ہی نہ رہا تھا کہ و اس کی سوتیلی ماں ہیں یا لڑکیاں اس کی سوتیلی بہنیں۔ ہاں اپنے پاپا سے مل کر بارہا اسے شک گزرا تھا کہ کہیں وہی اس کے سوتیلے باپ تو نہیں ہیں۔
پھر اس کے واپس جانے سے پہلے ہی وہ سب کراچی چلے گئے۔ ممی کے اصرار کے باوجود وہ کراچی نہ جا سکا۔ پاپا کی بے نیازی اور سرد مہری کا سامنا کرنے کی اَس میں جرأت نہ تھی۔ شاید ان دونوں کے درمیان موجود قدرتی رشتے کے تحت پیدا ہونے والی محبت کا احساس نہ جاگ سکا تھا۔ بہت سا فاصلہ درمیان میں حائل تھا۔وہ اس فاصلے کو طے نہ کر سکا۔ اور جانے کی ہمت ہی نہ کر سکا۔ پھر پاسنگ آئوٹ پریڈ کے بعد ممی خود ہی بہنوں کو لے کر آگئیں۔ اس کے لےے قیمتی تحائف کے ساتھ۔
’’تمہارے پاپا تو کوشش کے باوجود نہیں آسکے۔ بچیوں نے جب سنا کہ تم کمیشنڈ آفیسر ہوگئے ہو، ایک پل کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا، جان کو آگئیں۔ سارے کام چھوڑ کر آناپڑا مجھے۔ تم کراچی نہیں آئے، اور تو اور تمہیں تو فون تک کرنے کی فرصت نہیں ہے۔ یہاں جب بھی فون کیا تم کبھی ملے نہیں۔ اب میں آئی ہوں نا، تمہیں لے کر جائوں گی۔‘‘
’’آپ سے مل تو لیا، میں فی الحال نہیں جا سکتا بہت جلد آئوں گا۔‘‘
لیک وہ بہت جلد کبھی نہ آسکی۔ بہنوں کے خط، ممی کے فون اکثر اَسے ملتے رہے۔ وہ فون پر اَن سے بات کر لیتا یا کبھی چند لائنوں کا خط لکھ دیتا جواب میں۔ کبھی کبھار کوئی چیز پسند آجاتی تو بہنوں کے لےے خرید کر بذریعہ ڈاک روانہ کر دیتا۔
پچھلے دنوں کیپٹن اسد کی منگنی کے سلسلے میں اَسے کراچی جانا پڑ گیا دو تین راتیں وہ سب وہیں رہے۔ ایک شب اَس کے ہاتھ ٹیلی فون کی طرف اٹھ گئے۔ انگلیوں نے بے اختیار پاپا کا نمبر گھما دیا۔ گھنٹی بجی کسی نے ریسیو کیا۔
’’ہیلو۔۔۔ ہیلو۔۔۔!‘‘ شاید ممی ارباز تھیں۔
اَس نے نہ چاہتے ہوئے بھی رابطہ کاٹ دیا۔
رات کو وہ اسد اکبر کی منگیتر کی طرف سے انٹر کان میں مدعو تھے۔ اسد کی منگیتر ایک بہت بڑے بزنس مین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اسد کے بڑے ٹھاٹ تھے۔
انٹر کان میں ایک ٹیبل اَن چاروں کے لےے بَک تھی۔ وہ وہاں پہنچے تو آمنہ وہاں پہلے سے ہی موجود تھی۔ انٹرینس سے میز تک اَن تینوں کو اپنے ساتھ لے گئی، ہال کے خوابناک ماحول میں بھی اَس کے ذہن میں یہ پریشانی موجود تھی کہ وہ دو قدم کے فاصلے پر موجود اپنے باپ کے گھر نہیں جا سکا۔ اچانک اس نے اپنے بائیں طرف دیکھا۔ بائیں طرف کی چوتھی میز پر ایک خوش رو جوڑا بیٹاھ تھا۔ ہنستی مسکراتی بلکہ کھلکھلاتی لڑکی اور ایک مرد۔
اس مرد کو بے شک اَس نے بہت زیادہ بار نہیں دیکھا تھا لیکن پہچان تو سکتا تھا بخوبی ۔ اسد اور یاسر کی نظریں بھی اَسی طرف تھیں۔
’’یار! کیا جوڑی ہے، کیا شاندار پرسنالٹی ہے بندے کی، سرمئی بال اس کا حسن اور وقار بڑھا رہے ہیں۔ یار میں نے پہلی بار ایک بے حد و بے حساب خوبرو مرد دیکھا ہے۔‘‘ اسد کہے چلا جارہا تھا۔
’’ارے! آپ لوگ اس چوتھی میز والے جوڑے کی بات کر رہے ہیں نا۔‘‘
’’ہاں، ہاں بھئی اَس بے تحاشا حسین لڑکی نے جوان لڑکوں کوچھوڑ کر اس بندے کو چَنا ہے تو وہ حق پر ہے۔ شہزاددوں جیسی آن بان کا مالک ہے یہ بندہ۔‘‘
’’یہ شہر کی جانی پہچانی شخصیت تھی اور منہ دھو رکھےے۔ ایک لڑکی ان کے پہلو میں چند روز ہی دیکھی جاسکتی ہے ہمیشہ کے لےے نہیں، حسن تلاش کرنا ان کی ہابی ہے ہابی۔ خود تو بلا شبہ خوبرو ہیں اور خوب روئی میں جوانوں کو مات کر رکھا ہے انہوں نے، لیکن کمال کی بات ہے حسن تلاش کرنا بڑی دولت ہے ان کے پاس اور جو شاید صرف حسین لڑکیوں پر ہی خرچ ہوتی ہے۔ قسمت کے دھنی ہیں ہر معاملے میں۔ کاروبار دو چار سالوں میں ہی چمک اٹھا ہے اور اس حوالے سے بھی پورے شہر کی مشہور ہستی ہیں۔‘‘
آمنہ بتائے جارہی تھی اور وہ مارے شرم کے زمین میں گڑا جارہا تھا۔ وہ تو شکر تھا کہ اَس نے ان کا نام نہیں بتایا ورنہ وہ سب شاید جان جاتے۔
وہ اپنی سیٹ پر جمے شاید اپنے مقابل بیٹھی لڑکی کے حَسن کا قصیدہ پڑھ رہے تھے۔ تبھی وہ شرمائے جارہی تھی۔
معظم کی بھوک پیاس اڑ گئی ، لیکن اس نے دوستوں پر واضح نہ ہونے دیا۔ بس اس نے آمنہ سے اپنی جگہ بدل لی۔ اس طرف پشت کر کے بیٹھ گیا۔ پھر وہ سب بھی یہ موضوع بھول گئے۔ اس نے کسی کو محسوس ہی نہ ہونے دیا کہ ابھی ابھی اس پر کیا گزری ہے۔ اَسے ممی ارباز پر بے تحاشا رحم آیا۔ شاید ان ہی حالات نے انہیں بہادر بنادیا تھا۔ شاید وہ زخم کھا کر مسکرانا سیکھ گئی تھیں۔ اَس کا جی چاہا، وہ جا کر ان سے محبت کا اظہار کرے۔ ان کا دکھ بانٹے مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔
اس کا احساس کمتر اور بڑھ گیا۔ نہ صرف یہ کہ وہ ایک غلط عورت کا بیٹا تھا۔ ایک غلط کار باپ بھی اس کا ہی مقدر تھا۔
اَسے مجموعی طور پر اس دنیا میں لڑکیوں سے دلچسپی نہ رہی تھی۔ اب وہ مردوں سے بھی مایوس ہوگیا تھا۔ دنیا میں شاید کوئی بھی قابل بھروسا نہ تھا۔
ماں اور باپ دونوں نے اسے اپنے اپنے مفاد کی خاطر چھوڑ دیا تھا۔ دادی بی نہ ہوتیں۔ پھوپھو کا دم نہ ہوتا تو وہ جانے کہاں ہوتا، کیا کرتا؟
اب بھی ارباز رسول خان نہیں آئے تھے۔
اَس کی شادی میں صرف ایک دن باقی تھا مگر وہ نہیں آسکے تھے۔ ممی بھی شام کو پہنچی تھیں۔ البتہ سمن وغیرہ شاید پندرہ دن پہلے ہی آگئی تھیں۔
’’تمہارے پاپا میرے ساتھ ہی آرہے تھے مگر ایک بڑی ڈیل کی خاطر انہیں رکنا پڑ گیا۔ کل تو ہر حال میں پہنچ جائیں گے۔‘‘ ممی اسے تسلی دے رہی تھیں۔
’’کیا خبر کون سی بڑی ڈیل، شاید کسی بے تحاشا حسین لڑکی کو وقت دے رکھا ہو پاپا نے۔‘‘ اس نے دکھ کے ساتھ سوچا، لیکن کچھ نہ کہہ سکا۔
اس کے ماں باپ دنیا کے اس میلے میں اپنی اپنی مصروفیات میں گَم تھے اور وہ دادی بی اور پھوپھو کے پیار کے ہوتے ہوئے بھی کس قدر تنہا تھا۔
کزنز سے، بہنوں سے، دوستوں سے، اپنوں سے پرایوں سے کبھی دل کی بات ہ کہہ سکا تھا۔ وہ ایک بات جو کسی ایسے شخص سے کہی جائے، جس سے کوئی پردہ نہ ہو، کوئی شرم نہ ہو۔
ماں کے کردار نے اسے ساری دنیا کی لڑکیوں سے خوفزدہ کر دیا تھا۔ پر جانے کیسے وہ عائشہ اعتزاز کے لےے ہاں کر بیٹھا تھا۔ شاید وہ بہت اچھی تھی، یا معظم، دادی بی کو دکھ نہیں دے سکتا تھا یا عائشہ کی پہل نے اس کے دل میں بہت سی جگہ پیدا کر دی تھی۔ یہ سب کیا تھا اَسے خود بھی خبر نہ تھی۔ بس وہ ہاں کہہ بیٹھا تھا، شاید بنا سوچے سمجھے ہی۔
وہ کب سے اسٹڈی میں اِدھر سے اَدھر پھرتا، جانے کیسی کیسی باتیں سوچے جارہا تھا۔ ایک پل کو چین سے سو نہیں سکا تھا اور اب تھک کے ایک صوفے پر نیم دراز ہوگیا تھا۔ اس کے کمرے میں کون آیا، کون گیا، اس کی اَسے خبر ہی نہ تھی۔
’’ادُی! معظم میاں کا بستر تو خالی پڑا ہے، سویا نہیں ہے کیا وہ؟‘‘ جانے کس نے کہا۔
’’سویا کیوں نہیں ہوگا، ہم لوگ تو آتے ہی پڑ کے سو گئے تھے۔ اَدھر لڑکوں نے گانے بجانے کا پروگرام کیا تھا وہیں ہوگا۔ ہمارے آنے کے بعد آیا ہوگا اور تم جانو فوجی جوان ہے، صبح صبح ورزش کے لےے نکل گیا ہوگا، بابا بتا رہے تھے، فوجی بڑے سخت جان ہوتے ہیں۔ راتوں کی جگار کو کچھ نہیں سمجھتے۔ مشقوں پہ جاتے ہیں تو ایسی کئی راتیں جاگ کر گزار دیتے ہیں۔‘‘ دوسری خاتون نے کہا۔
’’ادُی! ارباز لالہ تمہیں نظر آئے، میں نے تو انہیں نہیں دیکھا۔ اَن کی بیگم و بیٹیاں تو ملی تھیں مجھ سے۔‘‘ پہلی نے پوچھا۔
’’میں نے بھی نہیں دیکھا بلکہ پوچھا بھی تھا تائی بی سے، بتا رہی تھی کل آجائے گا۔ اے بھرجائی! بیٹے کا بیاہ اور باپ گھر سے غائب۔‘‘
’’بن ماں کے بچوں کا یہی حال ہوتا ہے حلیمہ! خدا نہ کرے جو ماں باپ میں جدائی ہو اور اس کرموں جلی کو تو کسی نے پوچھا تک نہیں۔‘‘
پہلی کا نام شاید حلیمہ تھا۔ معظم ان دونوں کو جو اس کے کمرے میں تھیں جانتا تک نہ تھا، کہ وہ کون تھیں۔
’’کس کو ادُی ثریا۔۔۔؟‘‘دوسری ثریا تھیں شاید یہ دونوں یقینا اَن کی قریبی رشتہ دار تھیں۔
’’یہی معظم کی سگی ماں کو۔۔۔‘‘ معظم کے کان کھڑے ہوئے۔ طبیعت میں جو سستی اور اضمحلال تھا ختم ہوگیا۔
’’ادُی ثریا! وہ جو اَس دن آئی تھی۔۔۔ بابا کے ساتھ، وہی ہے نا؟‘‘
’’بھرجائی حلیمہ! دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ اب کہا ہے پھر نہ کہنا۔ بابا تو اَسے چوری چوری لائے تھے۔ تائی بی کو خبر ہوجائے نا تو کھڑے کھڑے ختم کر دیں آنا جانا۔‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘
’’لو پوچھتی ہو وہ کیوں؟ بھئی اَسے تائی بی کے بیٹے نے طلاق جو دے دی تھی، الزام لگا کر۔‘‘
’’اللہ بھرجائی! اتنی تو وہ اچھی تھی۔ ارباز لالہ کی دوسری بیوی اَس سے زیادہ اچھی تو نہیں ہے۔ کتنی خوب صورت تھی وہ پیازی رنگ کے سوٹ میں اَس کا چہرا دمک رہا تھا۔‘‘
’’ادُی! وہ بھی ہماری طرح ہی تھی۔ پوڈر سرخی نہیں لگا ہوا تھا اَس کے ۔ہاتھ کیسے تھے اَس کے، گورے چٹُے گلابی گلابی اور پیر دیکھے تھے تم نے بھرجائی۔ سوٹ کے رنگ کی چپل تھی پیروں میں، پتا نہں لگ رہا تھا ڈوریاں کدھر ہیں۔ پیروں کے رنگ سے رنگ مل رہا تھا چپل کی ڈوریوں کا۔ ادُی! بابا تو اس پر صدقے واری ہورہے تھے۔‘‘
’’بابا کی سگی پھوپھی زاد بہن کی بیٹی ہے وہ ، بھانجی لگی اَن کی۔‘‘
’’پھر تو بڑے تایا جی کی بھی بھانجی تھی۔‘‘
’’ہاں وہ تو اتنے چاہ سے بیاہ کر لائے تھے اپنے لاڈلے بیٹے سے، اصل میں بابا کی پھوپھی زاد بہن کی شادی غیروں میں ہوئی تھی۔ اَن کے میاں جوانی میں ہی مر گئے۔ مریم اَن کی ایک اکلوتی بیٹی تھی۔ ماں نے غربت میں پالا، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ وہ تو بڑے تایا جی اَسی شہر میں ڈی۔سی جا لگے تو اچانک اَن کی ملاقات بہن سے ہوگئی۔
ان دنوں مریم کالج میں پڑھ رہی تھی۔ نواز لالہ، ریاض لالہ، فیاض لالہ یہ تینوں شادی شدہ تھے۔ اعتزاز لالہ کی منگنی ہوچکی تھی۔ ایک ارباز لالہ ہی تھے، غیر ملک گئے ہوئے تھے۔ بڑے تایا جی نے اَن کی غیر موجودگی میں اَن کی شادی مریم سے طے کر دی۔ وہ واپس آئے تو اس شادی پر بڑا بگڑے، پھر مریم کی تصویر دیکھ کر خاموش ہوگئے۔ اور شادی کی ہامی بھر لی۔‘‘
’’اچھا۔۔۔ ادُی! وہ سوہنی بھی تو بہت ہی نا، مگر پھر یہ طلاق کیوں ہوگئی؟‘‘
’’تم سنو تو، خوامخواہ ہی بیچ میں ٹوک دیا۔ شاید سے پہلے ہی ارباز لالہ نے اپنی خالہ کی بیٹی کو دیکھا تو اس پر لٹو ہو بیٹھے۔ یہ جوان کی بیوی ہیں نا، یہ اَن کی خالہ کی بٹی ہی تو ہیں۔ اَدھر شادی سر پر تھی، اَدھر ارباز لالہ کا عشق زوروں پر۔ شادی والے دن بھی انہیں زبردستی خالہ کے ہاں سے لایا گیا۔ وہ صرف اس شرط پر آئے کہ فرزانہ یعنی اَن کی موجوہ بیوی ان کے ساتھ آئیں گی۔ بڑے تیا جی کو اس بات کی خبر ہی نہ تھی۔ ہم سب بھی شادی میں موجود تھے۔
بارات مریم کے شہر گئی تھی۔ فرزانہ زرتار کپڑے پہنے ارباز لالہ کے ساتھ ساتھ تھی۔ شادی ہوگئی دلہن گھر آئی۔ ارباز لالہ نے گھونگھٹ اٹھا کر اَس کا چہرا دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔
دوسری شب بھی سب کے سب زبردستی دھکیلنے پر دلہن کے کمرے میں گئے۔ بڑے تایا جی نے رونمائی میں دینے کے لےے جو نیکلس سیٹ بنوا کر انہیں دیا تھا وہ بھی انہوں نے فرزانہ کو دے دیا۔
بڑے تایا جی تو مردانے میں رہا کرتے تھے۔ گھر میں کیا ہورہا ہے، اس کی انہیں خبر ہی نہ ہوتی۔ کہنے والے تو کہتے ہیں، ارباز لالہ نے مریم سے نکاح سے پہلے ہی فرزانہ سے نکاح کر لیا تھا۔ اے میں نے اپنی گناہ گار آنکھوں سے انہیں ایک کمرے میں بند دیکھا تھا کئی بار۔ ہم تو تھے نا سیدھے سادھے دیہاتی بندے۔ وہ سمجھتے تھے ہمارے پاس سوچنے کو عقل ہی نہیں، ہمیں کسی بات کا پتا ہی نہیں چلتا۔ بے چاری مریم کے نصیب میں پہلی رات سے جو رونا لکھا تھا وہ ختم نہ ہوسکا۔ یہ جو بڑی اللہ والی بنتی ہیں تائی بی اور یہ رابعہ آپا اور ہاجرہ آپا۔ انہوں نے تو مریم کا ناک میں دم کر دیا۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے، وہ بے چاری باورچی خانے میں ہوتی اور اَسے کے کمرے سے ارباز لالہ اور فرزانہ بیگم کے قہقہے گونجا کرتے۔ اللہ کی دین تھی کہ معظم پیٹ میں پڑ گیا۔ اچھی بھلی لڑکی دنوں میں بستر سے لگ گئی۔ اس کی بیماری کو پچھلے یاروں کی یاد کہا جاتا۔ تائی بی نے حد کر دی اپنے بیٹے اور بھانجی کے عیب چھپانے کے لےے مریم پر الزام لگا دیا۔ اور تو اور رابعہ آپا نے گھر کے ملازموں کو بھی نہ بخشا۔ بڑے تایا جی بھانجی اور بہن کو سکھ دینے چلے تھے۔ مریم کی جھولی میں انگارے بھر گئے۔ مریم کو بڑے تایا جی کی نظروں سے گرانے کے لےے انہوں نے کیا کیا حربے نہ استعمال کےے۔ یہ سب کی سب جو اب معظم کی ہمدرد بنی پھرتی ہیں، مجھے تو غصہ آتا ہے ان پر، خون جلتا ہے میرا، آخر یہ اَسی عورت کا بیٹا تو ہے جس سے انہیں خدا واسطے کا بیر تھا۔
اصل میں بڑے تایا جی نے، خود میرے بابا نے اپنی پھوپھو زاد بہن کی غریبی اور بیوگی کو سہارا دینے کے لےے اور اَسے پھر سے خاندان سے جوڑنے کے لےے یہ رشتہ جوڑا تھا۔ مگر تائی بی دولت کے نشے میں چور تھیں۔ اس میں تو انہیں بدکاری کے علاوہ بھی کئی عیب نظر آتے تھے۔ جہیز نہ لاسکنے کا طعنہ، اگلے پچھلوں کا پتا نہ ہونے کا طعنہ، ماں کی بیوگی کو اس کے منحوس پن سے جا ملاتیں تائی بی، اپنے بخت پر خوب ناز کرتیں، اپنے بھگوان ہونے کا ناز تو آج تک ہے انہیں۔
اے خود ہی بھانجی اور بیٹے کے تعلقات کی پردہ پوشی کرتی تھیں، بلکہ بیٹے کو شہ دیتی تھیں۔ بڑے تایا جی نے ساری زندگی ان کے اشاروں پر چل کر گزاری تھی۔ بھائیوں ک کہنے میں آکر ایک کام اپنی مرضی سے کیا تھا اَسے بھی پورا نہ ہونے دیا۔ بڑے گھر میں مریم کی زندگی نوکروں سے بھی بدتر تھی۔ اپنے خاوند کو اپنی آنکھوں سے کسی غیر کے ساتھ دیکھ کر بھی چپ رہنا۔ جان کا روگ بن گیا تھا اس کے لےے۔ اَن ہی دنوں رابعہ بیگم بیوہ ہو کے اس گھر میں آکے ماں کی نائب جو بنیں تو آج تک ان کی حکمرانی اَسی طرح قائم ہے۔
تائی بی کو خود کو سفائی پسند کہلوانے کا تو جنون تھا۔ مریم تو انہیں سر سے پیر تک غلاظت اور گندگی کی پوٹ نظر آتی، اس کے ہر کام پر اعتراض ہر عمل میں کیڑے کسی نے اَس کے حق میں کچھ کہہ دیا، بس اَسی سے اَسے منسوب کر دیا۔ وہ کالج کی پڑھی بی۔اے پاس لڑکی تھی۔ جو میں خوبیوں کوٹ کوٹ کربھری تھیں۔ اس نے بڑوں کے آگے بولنا نہیں سیکھا، نہ اَسے تائی بی جیسی چالاکیاں آتی تھیں۔ تائی بی کی زبان مغلظات بکتی اور وہ ان کا منہ دیکھتی رہ جاتی۔ ارباز لالہ نے تو اَسے پیر کی جوتی کے برابر بھی نہ سمجھا تھا۔ اس کے حسن کی، سلیقے کی، تعلیم کی اَن کی نگاہ میں کوئی قر ہی نہ تھی۔ اے اب کیا کہوں ارباز لالہ صرف فرزانہ بی کے عشق میں ہی مبتلا نہ تھے۔ آئے دن اَن کی پسند بدلتی رہتی تھی۔ نئی نئی عورتوں سے تعلق رکھنے میں ماہر تھے۔ خود بڑے تایا جی کو بھی اس بات کی خبر تھی۔ تائی بی کے لاڈ پیار نے انہیں بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ بڑے تایا جی کی لاکھوں کی جائیداد آدھی سے زیادہ تو ارباز لالہ نے ہی اڑائی ہوگی۔ وہ تو فرزانہ نے جب بعد میں آنکھوں سے محبت کی پٹُی اتار کر ان کے لچھنوں کا اندازہ لگایا تو یہاں سے لے اڑیں۔ پر چور، چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ پر ارباز لالہ تو وہ چور تھے، جو ساری عمر چوری سے باز نہ آئے۔ سنا ہے اس عمر میں بھی وہ لڑکیاں پھانستے پھرتے ہیں۔‘‘
’’ادُی! تم بتا رہی تھیں، تائی بی نے مریم کو بدنام کرنے کے لےے گھر کے ملازموں کو بھی نہ چھوڑا۔‘‘
’’ہاں بھرجائی! تائی بی نے تو ساری حدیں ہی پار کرڈالیں۔ ہر حربہ اَس پر آزمایا۔ ہر طرح سے اَسے ستایا۔ ہر طرح سے اَس کو تنگ کیا، محض اس لےے کہ وہ گھر سے نکل جائے۔
وہ نکلی تو نہ مگر بستر سے ضرور لگ گئی۔ اسے ہر وقت بستر پر پڑے دیکھ کر بڑے تایا جی بھی اس سے بدگمان ہوگئے۔ بیوی اور بیٹیوں کی بات کا یقین کر لیا۔ وہ بے چاری اپنی ماں سے دَور اِن بھیڑیوں کے چنگل میں پھنس گئی۔ اے جب گھر والا ہی اپنا نہ ہو تو عورت کی زندگی ہے بھی کیا۔ جیسے تیسے نو مہینے کٹے، مریم کی ماں علالت کی وجہ سے اس کے پاس نہ آسکتیں، ہمسایوں کے لڑکے کو بھیج دیا کرتیں۔ اگر کائی کام ہوتا یا خیریت پوچھنا ہوتی۔
تائی بی کے ہاتھ نیا بہانہ آگیا۔ اَس کے گھر میں آتے ہی انہوں نے نیا شوشہ چھوڑ دیا کہ بہو بیگم کا اصلی عاشق یہی لڑکا ہے۔ بڑے تایا جی نے اس لڑکے کی جو بے عزتی کی، بابا بھی وہیں موجود تھے، سمجھا سمجھا کے ہار گئے، لیکن بڑے تایا جی کا غصہ تھما ہی نہیں۔
معظم کے پیدا ہونے پر بھی گھر میں ماتمی حالت تھی بچے کو پہلے ہی دن ماں سے الگ کر دیا گیا۔ خود اماں کو بھی خبر تھی کہ یہ سارے مریم کو گھر سے نکالنے کے بہانے ہیں۔ ارباز لالہ نے طلاق نامے ر باقاعدہ لکھ کر دے دیا کہ وہ اپنی بیوی کو بدچلنی کی وجہ سے اور رنگے ہاتھوں پکڑنے پر طلاق دے رہے ہیں۔
’’ہائے ہائے! کیا سوچا ہوگا مریم نے جب یوں گیارہ دن کی زچُہ اس گھر سے گئی ہوگی۔ اَسے گئے ایک مہینہ بھی نہ گزرا تھا کہ ارباز لالہ بڑے شوق سے اور تائی بی بڑے ارمانوں سےا پنی بھانجی کو بیاہ کر گھر لے آئیں۔ فرزانہ بیگم آتے ہی ارباز میاں کو لے کر چلتی بنیں۔ مجھے تو تائی بی ایک نمبر کی مکُار لگتی ہیں۔ میرا دل یہاں کبھی نہیں لگا۔ بڑے تایا جی کی اونچی نوکری نے انہیں آسمانوں پر بٹھا دیا ہے ورنہ یہ بھی تو ہم میں سے ہی ہیں۔ بابا کہتے ہیں انہیں تو اپنے مرے بھائی کا منہ ہے، وہ ان کے لےے باپ کے برابر تھے ورنہ وہ کبھی بھی یہاں قدم نہ رکھتے۔ خود میں بھی تو اسی لےے آئی ہوں، بلکہ سچ پوچھو تو اپنے معظم بیٹے کے لےے دل جل رہا ہے میرا، کلیجہ منہ کو آرہا تھا رات جب سارے شگن ہورہے تھے۔ امبڑی کے گیت گائے جارہے تھے اور وہ کرموں جلی اپنے بیٹے کی خوشی میں موجود ہی نہ تھی۔ اب تو بڑے لاڈ دلار ہورہے ہیں۔ یاد ہے مجھے اچھی طرح یاد ہے، جب ننھا سا معظم نوکروں کے حوالے کر کے ساری ماں بیٹیاں مزے کی نیند سویا کرتی تھیں۔ وہ تو خدا کی خدا ہی جانے کہ ارباز لالہ کے ہاں پھر بیٹا ہوا ہ نہیں۔ تب ماں بہنوں کو قدر معلوم ہوئی معظم کی۔ ورنہ تو ہر کوئی اَسے ماں کا طعنہ دےے بغیر مخاطب ہی نہیں کرتا تھا۔ بےچ ارے بچے کے دل میں جانے کیا خیال آتے ہوں گے اپنی ماں کے نام پر۔ اَسے بھلا کیا معلوم کہ وہ کیسی ہے، کتنی نیک اور شریف ہے، کس ڈھنگ سے زندگی گزار رہی ہے۔ میرا تو دل بھر آیا تھا۔ معظم کے ہاتھ پر مہندی رکھتے ہوئے جی چاہا اَسے گلے لگا کر رونے لگوں، مگر میں نے ضبط کر رلیا۔ کیا فائدہ خوامخواہ میں باتیں بننے لگیں۔ بھرجائی حلیمہ! مریم اسے دیکھے تو حیران رہ جائے۔ معظم جیسا گھبرو جوان تو پورے خاندان میں کوئی نہیں ہے۔ کتنا سوہنا لگ رہا تھا۔ گوٹے والے دوپٹے میں اَس کی تو دھیمی سی ہنسی کا بھی کوئی مَل نہیں ہے۔ عائشہ کو بھی دیکھا ہے میں نے وہ بھی بہت سوہنی ہے پر معظم کے آگے تو وہ بھی پانی بھرتی نظر آئے گی۔‘‘
’’ادُی! مریم بی بی وہیں نہیں ہیں بھلا اپنے گھر سے آگے والے شہر میں۔۔۔ بابا کو وہیں تو نظر آئی تھیں وہ۔‘‘
’’ہاں ہاں بھرجائی! میں نے کہا تو ہے چَپ رہو۔ وہاں لڑکیوں کا کالج ہے نا ابھی چند سال پہلے وہاں کَھلا ہے یہ کالج، وہاں کی بڑی استانی ہے اپنی مریم۔ چھوٹی سی سفید گاڑی میں وہاں جاتی ہے اور لوٹ جاتی ہے۔ اَس نے زندگی گزار دی اَن زخموں کے ساتھ جو تائی بی نے اَس کے دل پر لگا دےے تھے۔ اب تو اس کی ماں بھی نہیں ہے۔ دو چار نوکر اور اکیلی اس کی جان، بابا کہہ رہے تھے مریم بی نے باہر کے ملک سے بڑی ڈگری لی ہے۔ بہت بڑی ڈگری۔ میں نے کہا مریم بی اب تک پڑھے جارہی ہو۔ کہنے لگی کہ انسانوں کی دوستی سے کتابوں کی دوستی سود مند ہے۔ انسان بنا دیتی ہے۔ میں نے اَس سے کچھ نہیں کہا۔ کسی کے بارے میں بھی، یہ تک نہیں بتایا کہ تمہارے بیٹے کی شادی ہے، خوامخواہ اَس کے دل میں خلش سی اَبھرتی رہتی۔‘‘
’’ادُی! اَسے اپنا بیٹا یاد نہیں آتا ہوگا؟‘‘
’’کیا خبر۔۔۔ کیا خبر دل دریائوں کی، کتنے طوفان سینے میں اٹھتے ہیں۔ کسی کو کیا پتا۔ ماں ہے جنم دیا تھا اَس نے۔ مائیں تو بیسیوں بچے اور پیدا کرلیں تب بھی بچھڑی اولاد اَنہیں یاد رہتی ہے۔ اَس نے تو نہ شادی کی نہ بچے جنے، وہ بھلا کیسے بھولی ہوگی اپنے جگر کے ٹکڑے کو۔‘‘
’’ادُی! بابا کو تو سب پتا ہے۔ جیسے تمہیں خبر ہے۔ انہوں نے کیوں نہ حق کے لےے آواز اٹھائی؟‘‘
’’سب ڈرتے ہیں بھر جائی حلیمہ! سب ڈرتے ہیں۔ خود میرے بابا بھی۔ تمہیں ان کی خبر نہیں۔ ان ہنستے چہروں کی۔ ان کے اندر شیطان بستے ہیں۔ اب دیکھ لو ایک ارباز لالہ ہی کیا۔ انہوںنے تو ریاض لالہ کا بھی گھر نہیں بسنے دیا۔ اَن کی بیوی جو میکے جا کے بیٹھی ہیں تو اولاد کے جوان ہونے پر ہی آئی ہیں۔ عائشہ کی ماں سمجھ دار تھی،اَس نے اس گھر کے رنگ ڈھنگ دیکھ کے اعتزاز کو لیا اور علیحدہ جا بسی۔‘‘
’’انہوں نے تو اب بھی سمجھ داری کا ثبوت دیا ہے۔ خاندان کا ہیرا چَن کر بیٹی کے دامن میں سجا دیا ہے، اس جیسا لڑکا اعتزاز لالہ کو ڈھوڈے سے نہ ملتا۔‘‘
معظم جو دم سادھے یہ گفتگو سَن رہا تھا بمشکل اپنی سسکی روکی۔ اَس کی آنکھیں تھیں کہ اشک بار، دل تھا کہ زخم زخم۔ اَس نے آنسوئوں سے بھری آنکھوں سے وال کلاک کی طرف دیکھا۔
صبح کے سات بجنے کو تھے۔ وہ پوری رات جاگتا رہا تھا۔ پوری رات سوچتا رہا تھا۔ رات اَس کی سوچ کے زاوےے کچھ اور تھے اب کچھ اور۔ رات کی رات میں بلکہ صبح دم اس ایک گھنٹے میں اس کے اندر کیسی تبدیلی آگئی تھی۔
رات اَس کے ہاتھ میں کنگنا باندھتے ہوئے جو سرخ ، سبز ریشم کی ڈوریوں اور طلائی و نقرئی تاروں سے سجا ہوا تھا ، دادی بی نے کہا۔
’’اب اکیلے باہر نہ جانا بیٹے، تمہارے ہاتھ میں کنگنا ہے اور کنگنا بندھ جانے پر دولہا اکیلا باہر نہیں جاتا۔ خصوصاً سبزے کی طرف، درختوں کے نیچے، سو ستُر بلائیں ہوتی ہیں، اسی لےے تو میں نے چھوٹے چچا کے گھر والوں کو تمہارے کمرے میں سلایا ہے کہ تم اکیلے نہ رہ جائو۔‘‘
دادی بی نے کتنے پیار سے اَسے ہدایات دی تھیں۔ دادی بی، پھوپھو، ہاجرہ پھوپھو، آسیہ پھوپھو یہ سب لوگ، یہ سارا خاندان۔
ابھی کچھ دیر پہلے تک اَسے کتنا عزیز تھا۔
اور اب۔
اب اَسے ان سب سے نفرت ہورہی تھی۔
ایک اٰن دیکھی ہستی جو رات تک اس کے لےے باعثِ ملامت تھی۔
انجان تھی، جس کا اَس کی زندگی کی کہانی میں ذکر تک نہ تھا۔
اب اَس کے دل میں اَتری جارہی تھی۔ اَس کی پیاری ماں جس سے وہ بدنصیبی کے تحت بچھڑ گیا تھا۔
ان دو خواتین نے جو اَس کے دادا کے بھائی کی بیٹی اور بہو تھیں، انجانے میں اَس کی آنکھوں پر بندھی بے خبری کی پٹُی اَتار دی تھی۔
اَس کا جسم دکھ رہا تھا۔ روح اس سے بھی بوجھل تھی۔ سر مارے درد کے پھٹا جارہا تھا۔ اَس نے دونوں خواتین کو مغالطے میں ڈالنے کے لےے اسٹڈی کا بیرونی دروازہ کھولا اور باہر گیا اور عمارت کا چکر کاٹ کر اندرونی داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا۔ اپنے دل کے درد کو دل میں چھپا کر اَس سے مسکراتے ہوئے انہیں سلام کیا۔
’’ارے تم کب جاگے بیٹا! نہ تمہارے آنے کی خبر ہوئی نہ جانے کی، میں تہاری پھوپھو ہوں ثریا بانو۔ چھوٹے چچا کی بڑی بیٹی یہ تمہاری چاچی ہے۔ حلیمہ بیگم تمہارے چھوٹے چچا کی بیوی۔ اے بیٹا! تم ہمیں نہ پہچانو ہم تو تمہیں جانتے ہیں؟‘‘
اَس کا جی چاہا، وہ اَن کے گلے لگ کے جی بھر کے روئے، اپنی ماں کی باتیں کرے اَن سے، لیکن وہ چپ رہا۔
’’تم کب آکے سوئے اور کب جاگے، مجھے تو لگتا ہے تم سوئے ہی نہیں۔‘‘ ثریا پھوپھو مسکرا رہی تھیں۔
وہ چَپ رہا، پھر باتھ روم میں چلا گیا۔ کتنی دیر شاور لیتا رہا مگر جلتی روح کو بھلا کیسے تسکین مل سکتی تھی۔ باہر نکلنے سے قبل ہی اَس کو معلوم ہوگیا کہ اَس کی دادی بی کمرے میں موجو دہیں۔
’’ہا۔۔۔ ہائے! یہ کیا کیا تم نے بچے۔ اے لڑکے بھی کتنے کتنے روز مایوں بیٹھتے ہیں۔ تم نے آج بھی نہا کر کپڑے بدل لےے؟‘‘
دادی کو اپنے سامنے پا کر اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا، لیکن وہ چپ رہا۔
’’طبیعت خراب تھی میری، سر چکرا رہا تھا۔ سوچا نہالوں فریش ہوجائوں۔‘‘
’’اے ثریا بیگم! تم نے بھی منع نہ کیا، نہانے دیا اسے۔‘‘
’’انہیں کیا خبر تھی دادی بی کہ میں نہانے جارہا ہوں اور نہالینے سے کیا ہوگیا ہے بھلا، نہ نہاتا تو سارا دن چکراتا رہتا۔‘‘
’’اے نوج! تمہاری تو آنکھیں سرخ انگارہ ہورہی ہیں لگتا ہے رات بھر سوئے نہیں۔ میں تو کہتی ہوں تم ناشتا کرلو اور سو رہو۔ کیا خبر رات کتنے بجے تک جاگنا پڑے۔ آرام کرلو گے تو شام میں اچھے بھلے ہوگے۔‘‘
’’اب میں کبھی اچھا بھلا نہیں ہوسکتا دادی بی! کبھی بھی نہیں۔‘‘ اَس نے چیخ چیخ کر کہنا چاہا، مگر نہ کہہ سکا۔
رابعہ پھوپھو اس کا ناشتا کمرے میں لے آئیںٰ ایک ایک نوالہ اپنے ہاتھ سے کھلایا۔ وہ انہیں بغور دیکھ رہا تھا۔
’’آپ لوگ بیوپاری ہیں پھوپھو بی! انسانوں سے نہیں ضرورتوں سے پیار کرتے ہیں، خواہشات سے عشق کرتے ہیںٰ میری ماں اپنے تمام تر حسن اور خوبیوں کے باوجود آپ کی ضرورت نہیں تھی، تبھی آپ نے اَسے دھتکار دیا۔ مجھے اَس سے چھین لیا، آپ انسانوں کو کھلونوں سے زیادہ اہم نہیں سمجھتے اور میری بد قسمتی یہ تھی کہ میں آپ کا پسندیدہ کھلونا بن گیا۔ آپ کے پیارے بھائی کا اکلوتا بیٹا ہونے کی حیثیت سے۔‘‘
اَس کی سوچوں کے دھارے کسی مچلتے، تڑپتے طوفان کی طرح اَس کے دل اور دماغ سے ٹکرا کر شور برپا کر رہے تھے اس کے سینے میں۔
وہ ناشتا کرتے ہی پہلی بار خواب آور گولیوں کے سہارے گہری نیند سوگیا۔
کیسے جاگا، کب نہایا دھویا، کیسے کپڑے بدلے، کیونکر دولہا بنا، کب باہر آیا۔
کس سے ملا، کس سے نہ ملا۔
کب سہرا بندھا، کب وہ ہزاروں کے ہجوم کے ساتھ اپنی سسرال گیا۔
کب اَس نے نکاح نامے پر دستخط کےے۔ کب اپنے اور عائشہ کے بندھن کو ہزاروں کی موجودگی میں قبول کیا۔ بہنوں نے کیونکر اَس سے دوسری بار پلُو بندھائی لی۔
سالیوں نے کیسے جوتا واپس کیا۔
آر سی مصحف کی رسم کیسے ہوئی؟
وہ تو بس ایک معمول تھا، جس کے ساتھ یہ سارے عمل آپ ہی آپ ہوئے جارہے تھے۔
بنا سوچے، بنا سمجھے وہ سب کچھ کےے جارہا تھا۔
وہ تو بس جسمانی طور پر یہاں موجود تھا۔
اَس کی روح کہیں اور تھی۔ بہت دور۔ ایک اٰن دیکھی انجانی ہستی کے پاس۔
اس کا دل جل رہا تھا، روح سلگ رہی تھی، اس کی آنکھیں دھواں دھواں تھیں۔
جانے کون کون سی رسموں سے گزر کر رخصتی کا مرحلہ آیا۔ عائشہ اس کی دلہن اس کی رفیقِ سفر اس کے ہمراہ تھی۔
خود اعتزاز چچا نے اپنی نازوں پلی بیٹی کا نرم و نازک ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھما دیا تھا اور وہ ہاتھ اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا۔
گاڑی کی پچھلی نشست پر وہ اس کے پہلو میں بیٹھی تھی۔ خوشبوئوں اور رنگوں کی نرم و گرم گٹھڑی کی مانند۔
دادی بی نے اَس کا ہمیشہ کا بیڈ روم چھوڑ کر نئے پورشن میں عروسی کمرا تیار کرایا تھا۔ جس میں پہلا قدم وہ اپنی دلہن کے ہمراہ ہی رکھ رہا تھا۔ جہیز کے بیش قیمت فرنیچر سے سجا۔ یہ طویل و عریض بیڈ روم کسی شہزادے کا مسکن ہی ہوسکتا تھا۔
عروسی کمرا گھر کے افراد سے پَر تھا۔ لڑکے لڑکیاں بے انتہا خوش تھے۔ لڑکیاں اب تک عائشہ کو نک سک سے درست کر رہی تھیں۔ کسی کو نتھ بندیا کی فکر تھی تو کسی کو لپ اسٹک کی۔ کوئی لہنگا درست کرنے میں لگی تھی تو کوئی زرتار دوپٹُا، پھر دادی بی کی ایک آواز پر لڑکیوں نے کمرا خالی کر دیا۔ لڑکے بھی کھسک لےے ، بڑے بھی دعائے دیتے رخصت ہوگئے۔
معظم نے دروازہ لاک کر دیا۔ جذبات کی ایک عجیب سے جوالا مکھُی اَبل رہی تھی اَس کے اندر۔ ابھی کل رات تک جس کے خیالوں نے اَس کی دنیا کو حسین بنا رکھا تھا۔ اب اَس کے یہاں موجود ہونے نے اَسے وحشت میں مبتلا کر دیا تھا۔
اسد اور یاسر نے کان کھا لےے تھے اَس کے پچھلے دنوں۔ بلکہ انہوں نے تو تحریری ہدایات بھی دی تھیں۔ ڈائیلاگ یاد کرائے تھے اَسے باقاعدہ وہ خود بھی کتنی خوشی کے ساتھ اَن کی شرارتوں کو انجوائے کرتا رہا اور اب۔ جب عروسی شب سے دو چار تھا وہ۔
جب وہ اَس کے التفات کی منتظر اس کے سامنے تھی، وہ صوفے پر سر جھکائے بیٹھا اپنے شوریدہ سر جذبات پر قابو پارہا تھا۔
اپنے ہی دکھ سے رنجیدہ تھا۔
بعض باتیں کتنے غلط وقت پر ہوجاتی ہیں۔
کیا خبر شادی کا وقت غلط تھا۔
یا اَس پر انکشاف کا وقت۔
کتنی چاہ سے اَس نے عائشہ کے لےے رونمائی کا سیٹ بنوایا تھا۔ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیت میں سے وقت نکال کر کتنی بار اَسے یولر کے ہاں جانا پڑا تھا۔ ایک ایک بات سمجھانے کے لےے۔ وہ جس کا یہ شعبہ نہیں تھا، جسے ڈرائنگ یا آرٹ سے ذرُہ بھر دلچسپی نہیں تھی۔ کسی توجہ سے ڈیزائن کے بارے میں اَن سے ڈسکس کرتا تھا۔ یاقوت، زمرد، نیلم، پکھراج اور ہیروں سے سجا بیش قیمت سیٹ جس میں ایک عدد جڑائو چوڑی بھی شامل تھی۔ مکمل ہوا تو اَسے چین ملا۔ دراصل وہ عائشہ اعتزاز رسول کی محبت کے احترام میں، اَس کے ساتھ ایک صاف ستھری زندگی کی ابتدا کرنا چاہتا تھا۔ منگنی ہوتے ہی اس نے بغیر کسی رئو وکد کر کے اپنا آپ بڑی ایمانداری سے اَس کے نام لگا دیا تھا۔ اَس نے تصور میں کتنی باتیں اَس سے کر لی تھیں۔ اپنے دل کے سارے دکھ درد ساری خوشیاں، سارے مسائل اس کے سامنے رکھ دےے تھے۔ اَس نے سن رکھا تھا کہ چائشہ جتنی حسین ہے اتنی ذہین اور سمجھ دار بھی ہے۔
اور اب جب وہ سرتاپا اَس کی اپنی بنی اس کی خواب گاہ میں سجی سجائی گڑیا کی طرح موجود تھی۔ وہ اس سے بے نیاز تھا۔ اپنے ہی اس دل چیر دینے والے دکھ سے اَسے فرصت نہیں تھی۔
کتنی دیر وہ یونہی سر ہاتھوں میں تھامے صوفے پر بیٹھا رہا۔ اپنی اٰن دیکھی ماں کی تصویر اَس کی نگاہوں میں پھرتی رہی۔ اپنی بد قسمت ماں پر اَسے صرف پیار ہی نہیں آرہا تھا۔ ترس بھی آرہا تھا۔
یہاں زندگی اپنی بھرپور رونق کے ساتھ جلوہ افروز رہی۔ ہر ایک ہنستا مسکراتا زندگی سے اپنا حصہ وصول کرتا ۔ وہاں وہ تنہا اپنے دکھوں کا ماتم کرتی رہی۔ محرومیوں سے لڑتی رہی۔ جانے کیسے زندگی بتائی اَس نے، کتنے پہاڑ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے اس نے۔ تنہائی کے دن رات کیسے بسر کےے اَس نے؟
یہ سارے سوال اَسے دن بھر تنگ کرتے رہے تھے، اب بھی اَس کے ذہن میں کلبلا رہے تھے۔
’’ماں کہاں ہے تَو؟ میری پیاری ماں، یہ تیرا بد نصیب بیٹا، لوگوں کی نقلی محبتوں کے ہاتھوں بے وقوف بنتا رہا۔ تیرے سچے اور اصلی پیار سے محروم رہا۔ ماں! میں کیا کرتا ماں! میں تو ایک کمزور اور بے بس ذی روح تھا۔ میں نے تو آنکھ ہی غیروں کی آغوش میں کھولی۔ مجھے کیا پتا ماں کی آغوش کی گرمی کیس ہوتی ہے۔ میں تو دادی بی کو اور پھوپھو کو اپنا سب کچھ سمجھتا رہا۔ اَن کی جھڑکیوں میں۔ اَن کے طعنوں میں پناہ تلاش کرتا رہا۔ اَن کی سَنائی کہانیوں کی روشنی میں تم سے تو کیا اپنےا ٓپ سے بھی نفرت کرتا رہا، کہ میں نے اتنی قابل نفرت عورت کے وجود سے جنم لیا۔ میں ہزاروں میں بھی تنہا رہا ماں۔ سدا تیرے کردار کی کمزوریوں کے جال میں جکڑا دنیا والوں سے ڈرتا رہا۔ اپنے آپ کو حقیر سمجھتا رہا۔ مجھے کیا پتا تھا ماں! یہ دنیا والے خباثت اور مکاری کے خوشنما ملبوسوں میں چَھپے ہیں، اَن کے اصل کردار مجھے نظر ہی نیہں آسکتے، مجھے کیا خبر تھی ماں کہ تَو دنیا کی سب سے عظیم عورت ہے جس سے قربانی لے لی گئی ہے شوہر کی، گھر کی، ممتا کی، نہیں ماں نہیں۔۔۔ دوسری بار تجھ سے ایک مرد، تیرا اپنا بیٹا نہیں چھینا جائے گا۔ اب کی بار تَو تنہا نہیں رہے گی۔ میں آرہا ہوں۔ میں تیرے پاس آرہا ہوں۔ میں تےرے لےے، تیری محبت کے لےے یہ ساری کائنات چھوڑ سکتا ہوں ماں! یہ ساری کائنات۔ مجھے تَو چاہےے ماں صرف تَو۔ کیا ہے میری زندگی میں گر تَو نہیں ہے ماں۔ میں ان کے سینے میں، میں ان سب کے سینے میں اپنے انتقام کی ایک ایسی آگ جھونک کے جائوں گا کہ یہ جل کر بھسم تو ہوجائیں گے مگر مر نہ سکیں گے، ایسا تیر اِن کے دلوں یں اَتاروں گا کہ تڑپتے تو رہیں، اس تڑپ سے نجات نہ پاسکیں۔ یہ سب میرے مجرم ہیں ماں، ان سب نے مل کر تیری زندگی کو کھیل بنادیا۔ تجھے بے وقعت کھلونا سمجھ کر تجھ سے کھیلے اور توڑ ر دور پھینک دیا۔ تَو بھی تو ایسے ہی دلہن بن کر، دل میں ارمان سجا کر اس گھر میں آئی ہوگی، جیسے یہ عائشہ آئی ہے، تیرے دل میں بھی وہی اَمنگیں ہوں گی جو اس کے دل میں ہیں، تَو نے بھی تو سپنوں کے تاج محل تعمیر کےے ہوں گے۔ نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ میں اس خاندان کیا س لڑکی کو اس کے سپنوں کے بلند و بالا حسین محل سے دھکا دے کر نیچے گرادوں گا، چَور چَور کر دوں گا اسے میں۔ میں انتقام لوں گا ماں۔۔۔ تیرا انتقا، تاکہ انہیں خبر ہوسکے۔ لَٹ جانے کا برباد ہوجانے کا عمل کتنا جان لیو اہوتا ہے۔ اَن کی بیٹی تڑپے گی تو انہیں تیرے لَٹ جانے کی، تیرے برباد ہوجانے کی اذُیت کا اندازہ ہوگا
٭٭٭
دادی بی کمرے میں داخل ہوئیں تو عروسی کمرے کی رنگینی اور خوشبوئوں میں اور بھی اضافہ ہوچکا تھا۔ ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے کے سامنے بیٹھی عائشہ اپنے دراز خوب صورت بال سلجھا رہی تھی۔ سہا گ رات گزر جانے کی کہانیاں سناتی البیلی مہک اَس کے ارد گرد تھی۔
’’آئےے دادی بی!‘‘ اَس نے مارے حجاب کے دوپٹُا سر پر لیتے ہوئے، نظریں جھکاتے ہوئے دادی بی کو بیڈ پر بٹھایا۔ پھولوں سے سے بیڈ پر۔ دادی بی کے آتے ہی پھوپھو رابعہ، پھوپھو ہاجرہ بھی اندر آگئیں۔
’’معظم کہاں ہے؟‘‘
پھوپھو رابعہ نے اِدھر اَدھر دیکھا۔
’’شاید جوگنگ کے لےے گئے ہیں۔‘‘ عائشہ نے جھجکتے ہوئے کہا۔
’’اے لو، اس لڑکے کو آج کے دن بھی جوگنگ یاد رہی۔‘‘ دادی نے ناگواری سے کہا۔
’’تو اور کیا دادی بی! برسوں کا معمول ہے، ایک دن کے لےے کیسے بھلایا جاسکتا ہے۔‘‘
وہ ٹریک سوٹ میں اَن تینوں کے سامنے تھا۔ کافی لمبا فاصلہ طے کر کے آیا تھا شاید۔ آتے ہی صوفے پر دراز ہوگیا۔
’’ارے لڑکے! میں تو اس لےے کہہ رہی تھی کہ رات رات کے دو بجے تک تو ہم سب جاگ رہے تھے، ابھی ابھی جاگے ہیں۔ تَو نے آرام بھی کرلیا اور جوگنگ کے لےے بھی نکل کھڑا ہوا۔‘‘
’’آرام اپنی قسمت میں اب کہاں؟‘‘
معظم کے انداز پر سب نے اَس کی طرف دیکھا۔
’’ہاں ہاں دادی بی! اب تو گھر بار والا ہوگیا ہوں سمجھیں آرام کے دن ختم۔ اب بیوی کی فکر ہے، پھر بچوں کی بھی ساتھ ہی ہوگی، آرام کا خیال دل سے نکال دیا ہے میں نے۔‘‘
’’امُاں! یہ معطم کا بچہ کچھ زیادہ ہی ذمہ داری کی باتیں نہیں کرنے لگ گیا۔‘‘ رابعہ پھوپھو نے کہا۔
عائشہ سر جھکائے مسکراتی رہی۔
’’ایک رات کا فاصلہ ہے میری سمجھداری اور بے سمجھی کے درمیان پھوپھو۔ ایک رات نے زندگی کے سارے اسرار و رموز مجھے سمجھا دےے ہیں۔‘‘
دادی بی کا دل دھک سے رہ گیا۔
پھوپھو نے اسے معظم کی بے باکی سمجھا۔ خود عائشہ نے اَسے بڑے پیار بھرے انداز میں دیکھا، جس میں ملامت اور شکوہ بھی شامل تھا۔ وہ ان سب کی طرف دیکھ رہا تھا اور لَطف اندوز ہورہا تھا۔
’’ہاں، ہاں، آپ لوگ مجھے گھور کیوں رہے ہیں؟ زندگی میں پہلی بار تو مجھے احساس ہوا ہے اپنی ذمہ داریوں کا۔ اب تو پتا چلا ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔‘‘
’’اچھا، اچھا! اچھی بات ہے، خدا کرے تم دونوں سدا خوش رہو، دودھوں نہائو پوتوں پھلو۔‘‘ معظم نے دعائیں دیتی دادی بی کی طرف دیکھا۔ ایک تمسخر آمیز ہنسی اَس کے لبوں پر آئی اور پل بھر میں معدوم ہوگئی۔ شاید کسی نے غور نہیں کیا۔
’’سنبھال کے رکھنا اپنی پوتی کو عمر بھر کے لےے، دعائیں دینا اسے، سدا خوش رہنے کی۔‘‘ اس نے دادی بی کو غور سے دیکھا۔
اَن کے چہرے پر کتنی ملائمت اور نرمی تھی۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ انہیں ظلم کرنا آتا ہوگا۔ ستم توڑنا ان کا شیوہ رہا ہوگا۔
’’ناشتا سب کے ساتھ کرو گے یا یہیں لے آئوں معظم۔‘‘
’’عائشہ سے پوچھ لیجےے، ہم تو اب بس ان کے حکم کے غلام ہیں، جو یہ کہیں گی وہی ہوگا، اب ہم کیا، ہماری رائے کیا۔ وہ مسکراتے ہوئے اَسے دیکھ رہا تھا۔
عائشہ نے پھر اَسے تنبیہی انداز میں گھورا۔
وہ مسکرادیا۔
’’چلو یہیں بھیج دیتی ہوں اور دیکھو ناشتا کر کے جلدی سے تیار ہوجانا، ابھی مہمان آنا شروع ہوجائیں گے۔‘‘
’’میں بھی پھوپھو یا میرا رول ختم ہوگیا ہے اس ڈرامے میں؟‘‘
’’اے بچے! کیسی باتیں کر رہا ہے، تیرا رول خدا نہ کرے ختم ہو۔ دولہا کو تو سب نے کل دیکھ لیا تھا، اب تو ان دنوں دلہن ہی دیکھی جاتی رہی گی۔‘‘
’’ہاں ورائٹی دلہن میں ہی زیادہ ہوتی ہے، رنگوں کی، خوشبوئوں کی، دولہا کو دیکھ کر کیا ملے گا کسی کو، وہی پرانا چہرا بار بار کا دیکھا ہوا۔ نہ میک اپ نہ زیور، نہ رنگ برنگے کپڑے۔ کیوں دادی بی! اجازت ہو تو میں بھی کوئی سا سوٹ پہن لوں، ایک آدھ سیٹ، کوئی بھاری سا دوپٹا؟‘‘
’’اے ہٹو بھی! تم تو مارے خوشی کے بالکل ہی پٹڑی سے اَتر گئے ہو، اپنے کپڑوں میں ہی بہت بھلے لگتے ہو۔ ایک وردی ہی کیا کم ہے تمہیں سجانے کو، جو لیڈیز کپڑے پہننے لگو۔‘‘
دروازہ ایک بار پھر کَھلا۔ ممی ارباز اَس کے سامنے کھڑی تھیں۔
’’ہیلو بیٹا! کیسے ہو، ہیلو بہو؟‘‘ اَن کے ہاتھ میں خوشی رنگ پھولوں سے سجا گلدستہ تھا ارو چہرے پر خوشی کے رنگ۔
’’گڈ مارننگ! نئی زندگی کی صبح مبارک ہو۔‘‘ ممی ارباز کے پیچھے ہی ارباز رسول خان تھے۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ عائشہ نے بھی اس کی تقلید کی۔
’’گڈ مارننگ بیٹا۔‘‘
’’گڈ مارننگ۔‘‘ وہ اتنا ہی کہہ سکا۔
نکاح کے وقت وہ اس کے ساتھ ساتھ رہے تھے، لیکن اپنی ہی مشکلات سے دو چار معظم کے پاس اَن کی طرف دیکھنے اَنہیں سننے کی فرصت ہی نہ تھی۔
وہ عائشہ کے سر پر ہاتھ رکھ رہے تھے۔ معظم کے تصور میں انٹر کان والی ارباز رسول خان کی محبوبہ آرہی تھی جو زیادہ سے زیادہ عائشہ کی عمر کی ہوگی۔ اَسے اس سارے ماحول سے نفرت ہورہی تھی۔ دم گھٹ رہا تھا اس کا۔ پانچ میل لمبی جوگنگ نے بھی اس کے دماغ کو فریش نہیں کیا تھا۔
ان سارے چہروں کی اصلیت اَس کے سامنے آرہی تھی۔ وہ اب ممی ارباز کی شکست و ریخت کی حقیقت جانتا تھا۔ جس ارباز رسول خان کو انہوں نے مریم سے چھین لیا تھا۔ وہ اَن کا کب رہا تھا۔ وہ تو ڈالی ڈالی بیٹھ کر ہر نئی کلی کا رس چوسنے والا بھنورا تھا۔ ہر حسین چہرے کا دیوانہ۔ ممی ارباز جس کی چند روز خواہش تھیں سدا بہار آرزو نہیں۔ یہ جو ممی ارباز، معظم سے پیار کرتی ہیں تو شاید اندرونِ دل وہ ندامت اور پچھتاوا ہی کام کرتا ہے، جو انہیں اپنے سلوک اور کردار پر رہے۔
پہلی بار جب اس نے انہیں دیکھا تھا تو اسے رشک آیا تھا کاش اس نے انہی کی کوکھ سے جنم لیا ہوتا۔ کاش وہ ایک بدکردار ماں کا بیٹا نہ ہوتا۔ ممی ارباز نہ ہوتیں تو شاید پاپا اس کی ماں کے دےے بے وفائی کے زخم کو بھلا ہی نہ پاتے۔
یہ خبر تو اسے آج ہی ہوئی تھی ان سارے درندوں نے مل کر اس کی معصوم ماں کو اپنی ناجائز خواہشات کی سولی پر لٹکا دیا تھا۔
اَس کا دل پھر تڑپ اٹھا۔ اس نے سب کی موجودگی کا خیال کےے بغیر واش روم کا رخ کیا۔ اپن وہ آنسو چھپانے کی خاطر جو اس کی آنکھوں کے کنارے بھگو چکے تھے۔
ٹپ۔۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ آنسو قطار اندر قطار واش بیسن میں گرتے چلے گئے۔ وہ دھاڑیں مار کر رونا چاہتا تھا لیکن اس نے اپنی سسکیاںاور آہیں اندر ہی کہیں روک لیں۔ اس کی ماں انہی فضائوں میں کہیں سانس لے رہی تھی اور وہ اس سے بے خبر تھا۔ بے نیاز تھا۔ اپنی خوشیوں میں مگن تھا۔
’’ماں! کہاں ہو تم؟ ماں کہاں ہو؟ میں آرہا ہوں ماں۔ تمہارے پاس۔۔۔ سدا کے لےے اس گھر کو، ان لوگوں کو چھوڑ کر۔‘‘ وہ کتنی دیر شاور تلے کھڑا کپڑوں سمیت بھیگتا رہا کوئی دروازہ بجا رہا تھا۔
’’معظم! ناشتا ٹھنڈا ہورہا ہے۔ جلدی سے باہر نکلو۔‘‘
ہو ہواش میں آیا اور نہا کر باہر نکل آیا۔ اب کمرے میں عائشہ کے سوا کوئی نہ تھا اس نے کریم کلر کا کامدار سوٹ پہن رکھا تھا۔ اسی مناسبت سے ہلکا ہلکا میک اپ زلفوں کی گھٹائیں اس کی کمر کو اپنے احاطے میں لےے ہوئے تھیں۔ اور اس نے رونمائی کے طور پر دےے سیٹ کے سوا کوئی زیور نہیں پہن رکھا تھا۔
’’بڑا عزیز ہوگیا ہے اپنے شوہر کا دیا یہ تحفہ۔‘‘ وہ اسے بغور دیکھ رہا تھا۔ بلا شبہ وہ بے حد حسین تھی۔ عائشہ نے اس کی طرف نہیں دیکھا۔
’’لازمی بات ہے۔ پہلے پہلے تحفے کی بات ہی اور ہوتی ہے۔ حق بنتا ہے اس کا کہ اس کی قدر کی جائے۔‘‘
’’بعض لوگ تو اتنے ظالم ہوتے ہیں کہ عورت کو پیار کے اس پہلے تحفے کا حق دار ہی نہیں سمجھتے۔‘‘ اس نے جلے دل کے پھپھولے پھوڑے۔
’’اوہ میرے خدا! کیسی بات کہہ دی آپ نے۔ خدا نہ کرے کوئی عورت اتنی بدنصیب ہو کہ اس اولین تحفے سے محروم ہوجائے۔‘‘
’’ہے ایک بدنصیب عورت جس کے سامنے یہ تحفہ ایک دوسری عورت کو دان کر دیا گیا۔‘‘ اس نے سوچا۔ پھر اچانک اس نے اپنے دونوں ہاتھ عائشہ کے شانوں پر رکھ دےے۔
’’عائشہ۔۔۔‘‘ وہ کہیں کھو گیا۔
وہ اس کی آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔
’’عائشہ۔۔۔ اگر تمہیں یہ خبر ہوجائے کسی دن کہ میں کسی اور لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوں تو۔۔ تمہارا کیا حال ہو؟‘‘
’’ناممکن۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘
’’وہ کیسے؟ کیا گارنٹی ہے تمہارے پاس۔‘‘
’’ہے نا گارنٹی۔ جناب میں نے یونہی بچوں کا کھیل سمجھ کر اس کہانی کی ابتدا نہیں کی تھی۔ پوری چھان بین کرائی تھی آپ کے بارے میں۔ آپ کسی کی محبت میں گرفتار ہوتے تو میں اپنے جذبوں کو دل میں دفن کر کے آپ کو اسی کے لےے چھوڑ دیتی۔‘‘
’’تم نے میرا ہی ساتھ کیوں چاہا عائشہ۔‘‘
’’بس مجھے تو یہی خبر ہے کہ ایک آپ ہی تھے اس جہان میں میرے قابل۔ میں آپ پر فخر کر سکتی ہوں۔ آپ پر اعتماد کر سکتی ہوں۔ آپ۔۔۔ آپ اس خاندان کے سارے لڑکوں سے مختلف ہیں۔ آپ اس سارے جہان سے مختلف ہو۔‘‘
وہ حیران سا اسے دیکھ رہا تھا۔ عائشہ کی اس معصومیت نے اعتماد کی، اس فراوانی نے بارہا اس کا دامن تھاما۔ لیکن اس نے اپنے ارادوں کو کمزور نہیں پڑنے دیا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ ولیمے کے اجتماع کی پروا کےے بغیر ہی یہاں سے چلا جائے لیکن جانے کیوں اس نے ایسا نہ کیا۔
ابھی وہ ناشتا کر کے فارغ بھی نہ ہوا تھا کہ فضل اسے بلانے آگئے۔ اسد اور یاسر اسے بلا رہے تھے۔ وہ لباس بدل کر باہر چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی کمرے پر ساری لڑکیوں کا قبضہ ہوگیا۔
اتنی ساری لڑکیوں کی موجودگی میں بھی عائشہ کو رات کے پرفسوں لمحات، معظم کی قربت کا سحر برابر یاد آتے رہے۔ لڑکیاں کرید کرید کر پوچھنے کی کوشش کرتی رہیں۔ لیکن وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی۔ ایک لفظ بھی بتا کے نہ دیا۔ وہ اسے باہر جانے کے لےے تیار کرتی رہیں۔ ولیمے کی دو تقریبات تھیں۔ ایک گھر پر ہی اور دوسری ہوٹل میں۔ اور دونوں تقریبات کے لےے دادی بی نے علیحدہ سے سوٹ بنوائے تھے۔
جب وہ سرتاپا قیامت بنی اسٹیج پر جلوہ افروز تھی معظم کئی بار وہاں سے گزرا۔ کئی بار اس کی نظر عائشہ پرپڑی۔ ہر بار دل ایک پل کو تو دھڑکنا ہی بھول گیا۔ لیکن ہر بار وہ اپنے ان محسوسات کو جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔ پھر جانے کس نے پکڑ کر اسے عائشہ کے پہلو میں لا بٹھایا۔ شاید یہ سب لوگوں کا اصرار تھا۔ ہر کوئی اپنے اپنے مووی کیمروں میں ان یادگار لمحوں کو قید کر رہا تھا۔ کچھ لڑکے نایاب قسم کی تصویرں بھی بنا رہے تھے۔ کسی من چلے نے ڈیک پر دو گانا لگا دیا۔
تجھے رب نے بنایا کس لےے؟ کس لےے؟کس لےے
تو اکیلا نہ رہ جائے اس لےے۔ اس لےے، اس لےے
عائشہ کا ہاتھ سب کی نظر سے بچ کر اس کے ہاتھ پر آٹکا۔ اس کے وجود کی ساری حرارت سارے جذبے معظمن کے وجود میں منتقل ہورہے تھے وہ سرجھکائے بیٹھا مسکرا رہا تھا پراسرار سی مسکراہٹ۔
’’اچھا ہے عائشہ اعتزاز۔۔۔ اچھا ہے تمہارا یہ اظہار۔ یہ اظہار مجھے تمہاری تڑپ سے آشنا کرتا رہے گا۔ تمہاری تڑپ اس حویلی کے پتھر دل مکینوں کے دلوں میں سوراخ کر دے انہں تڑپا دے۔ یہی میری آرزو ہے۔ مجھے افسوس ہے عائشہ! مجھے افسوس ہے کہ میرا نشانۂ ستم تم بن گئی ہو۔ تم ایک معصوم لڑکی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میری ماں بھی تو معصوم تھی۔ کسی نے اس پر ترس نہیں کھایا تھا۔ میں تم پر کیوں ترس کھائوں۔‘‘
رات کو ہوٹل میں وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لےے سجے سجائے ہال میں جانے کے لےے سیڑھیاں طے کر رہا تھا۔ بھاری شرارے کو ہاتھوں سے سمیٹتی زیورات سے لدی عائشہ کسی دوسری دنیا کی مخلوق لگ رہی تھی۔ وہ جب بھی اس کی طرف دیکھتا اس کا دل پگھل جاتا، جل جاتا۔ مگر وہ اس کی طرف سے نگاہیں چرالیتا۔ دوپہر کے بعد جب وہ آرام کی غرض سے اپنی خواب گاہ میں تھے۔ کچھ اور حسین لمحے اس نے عائشہ کی جھولی میں ڈال دےے تھے۔ اپنے دامن میں بھی کچھ پھول بھر لےے تھے اس نے، جی بھر کے پیار کیا تھا اس کو۔
’’عائشہ۔۔۔ میں بھی۔۔۔ میں بھی۔۔۔ تمہارے بعد کسی کو نہ چاہ سکوں گا۔‘‘
میرے دل کے کورے کاغذ پر ایک نام لکھا گیا ہے۔ تمہارا نام۔ لیکن یہی تو قربانی ہے عائشہ! یہی تو قربانی کی اصل روح ہے اپنی عزیز ترین شے کی قربانی۔ میں نے اپنا دل، اپنی جان تمہارے نام کر کے تم سے جدا ہورہا ہوں۔ شاید ایسا ہو کہ زندگی بھر کوئی لڑکی میری دنیا میں داخل نہ ہوسکے۔ کاش تم اس خاندان کی لڑکی نہ ہوتیں۔ دور کسی پہاڑی گائوں کی بے فکر اور الہڑ دو شیزہ ہوتیں۔ میں تمہیں دیکھتا پسند کرتا اپنی جان بنا لیتا۔ اپنی ماں کے حضور لے جاتا۔ ہم تمام عمر ان کے وجود کی چھائوں میں گزار دیتے۔‘‘
عائشہ کو اپنی بانہوں کے حصار میں قید کےے اس کی آنکھیںبھیک سی گئیں۔ اس کے ارادے متزلزل ہونے لگے۔ بشری تقاضوں کی کمزوریوں نے اس کی راہ روکی۔ لیکن ایک دم وہ پھر اپنے آپ میں آگیا۔
’’نہیں عائشہ نہیں۔۔۔ کیا ایک بیٹا ماں کے لےے اتنی سی قربانی بھی نہیں دے سکتا۔ کیا اسے عمر بھر کے احساسِ محرومی سے نجات نہیں دلا سکتا۔‘‘
اس نے عائشہ کی طرف سے نظریں چَرالیں۔ عائشہ اس سے دنیا جہان کی باتیں کرتی رہی۔ اپنے ماں باپ کی، دادی بی کی، پھوپھووں کی، کزنز کی، اپنی اور اس کی مشترکہ زندگی،ا پنے مستقبل کے خوابوں کی۔
’’معظم! میں نے آپ کی صرف تصویریں ہی دیکھی ہیں وردی میں۔ کبھی روبرو نہیں دیکھا آپ کو چلےے خیر کوئی بات نہیں۔ اب تو ہر صبح آپ کو اپنے ہاتھوں تیار کر کے بھیجا کروں گی۔ معظم ہم کب جارہے ہیں۔ سمن بتا رہی تھی کہ آپ کو کچھ زیادہ چھٹیاں نہیں ملیں۔ ایاز چچا نے ہمیں تحفے میں غیر ممال کے ہوائی ٹکٹ دےے ہیں۔ سمن کہہ رہی تھی شاید ہمیں ولیمے کے دوسرن دن ہی جانا ہوگا۔‘‘
’’ہاں شاید دوسرے دن ہی جانا ہوگا۔‘‘ معظم بڑبڑایا۔
’’اَف معظم کتنا اچھا لگے گا آپ کے سنگ چلنا، قدم قدم آپ کے ساتھ رہنا، معظم یہ کیسا رشتہ ہے میاں بیوی کا رشتہ ایک رات ہی مضبوط بندھنوں میں باندھ دیتی ہے۔ لگتا ہے صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، ایک دوسرے کے لےے ہیں۔‘‘
’’کبھی کبھی ایسا نہیں ہوتا عائشہ اعتزاز۔ بد نصیبیاں حالات بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ ایسی کئی راتیں بھی کوئی رشتہ جوڑنے میں ناکام رہتی ہیں۔‘‘ وہ تلخ ہو کر سوچنے لگا۔
عائشہ کا پیر رپٹ گیا تھا شاید، وہ گرنے کو تھی بے اختیار اس نے سنبھال لیا۔
’’سنبھل کر چلا کرو۔ اگر میں ساتھ نہ ہوتا تو گر جاتیں نا۔‘‘
’’بھلا آپ کیوں ساتھ نہ ہوتے۔ آپ ہمیشہ میرے ساتھ ہوں گے۔ اب سنبھل کے کیا چلنا۔ آپ جو ہیں سنبھالنے والے۔‘‘
معظم مسکرا اٹھا اس کی بے خبری اور یقین پر۔
ہوٹل سے رات گئے واپسی ہوئی۔ عائشہ کتنی دیر ان پیسوں کو سنبھالتی رہی جو اس کے پرس میں تھے۔ معظم کے ڈنر سوٹ کی ساتی جیبوں میں ۔ یہ پیسے غلام رسول خان کے وسیع و عریض حلقۂ احباب کی طرف سے سلامی کے طور پر ملے تھے۔ تحفوں کا انبار سامنے میز پر تھا۔ وہ اپنا سامان دیکھنے لگا۔ جو دادی بی نے پرانے کمرے سے یہاں منتقل کرایا تھا۔ ساری ضروری چیزیں اس نے سمیٹ رکھ لیں۔
جانے کتنی دیر اسی مصروفیت میں لگ گئی۔ وہ بیڈ کی طرف آیا تو عائشہ اس کے انتظار میں جاگ رہی تھی۔ شب خوابی کے پنک روز لباس میں میک اپ سے پاک چہرے پر دنیا جہان کا حسن سمیٹے وہ بے حد معصوم لگ رہی تھی۔ معظم بے اختیار اس پر جھک گیا اور اس نے طمانیت کے ساتھ آنکھیں موند لیں۔
٭٭٭
پیار کا یہ دورانیہ کتنا مختصر تھا۔ رفاقت کی یہ نئی کہانی دو دن اور دو راتوں پر مشتمل تھی۔ دوسری صبح سوئی ہوئی عائشہ کو الوداعی نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ ہمیشہ کے لےے اس گھر کو چھوڑ آیا۔ اس کے دونوں دوست جو اس کے سارے ارادوں سے دوسروں کی طرح ہی بے خبر تھے، ولیجے کی شب ہی واپس چلے گئے تھے۔ اس نے سرونٹ کوارٹر میں جا کر سوئے ہوئے ڈرائیور کو جگایا اور نامعلوم منزلوں کی جانب چل دیا۔ چھوٹے چچا کا سارا خاندان بھی یہیں تھا۔ کئی بار وہ ان کے ہاں گائوں میں گیا تھا۔ گھر سے گائوں کا فاصلہ اس کی تیز رفتاری کے سبب بیس منٹ میں ہی طے ہوگیا۔ اسے وہاں جا کر صرف نوکروںسے قریبی شہر کے کالج کا پتا معلوم کرنا تھا۔ جمعے کا دن بھی اس نے محض آج کے دن کے انتظار میں کاٹ دیا تھا اس وقت دن کے ساڑھے چھ بجے تھے۔ سورج نے ابھی کائنات کو اپنی روشنی سے روشن نہیں کیا تھا۔ وہ سارا وقت اِدھر سے اَدھر گاری دوڑاتا رہا۔ پورے آٹھ بجے وہ گورنمنٹ کالج فار ویمن کے احاطے میں تھا۔ چپراسی نے اسے پرنسپل کے ملاقاتی کمرے میں لا بٹھایا تھا۔
ڈرائیور باہر جیپ میں ہی تھا۔ وہ اپنے دل میں ایک اٰن دیکھی ہستی کی تصویر بنا بنا کر مٹا رہا تھا پھر سے بنا رہا تھا۔
کیسی ہوگی اس کی ماں؟ جیسی وہ خواتین بنا رہی تھیں پَرنور چہرے والی، گلابی گلابی ہاتھ پیروں والی، شرم و حیا کی مظہر آنکھوں والی، گریس فل، سنجیدہ سوبر۔
کیا کہے گا وہ؟ کیسے ملے گا اس سے؟ کیسے اپنا تعارف کروائے گا۔
کیا وہ مان لے گی کہ وہ اس کا بیٹا ہے۔ وہی بیٹا جو جنم لیتے ہی اس کی نظروں سے اوجھل کر دیا گیا تھا۔
کیا وہ اسے اپنی بانہوں میں بھر کر محبت کے اس نشے سے آشنا کرنا پسند کرے گی جس سے وہ آج تک محروم تھا۔ کیا وہ اسے سینے سے لگ اکر اپنی اور اس کی عمر بھر کی محرومیوں کا ازالہ کر سکے گی؟ وہ سخت اضطرابی کیفیت سے دو چار اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتا کبھی بیٹھ جاتا، کبھی اٹھ کھڑا ہوتا۔
ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے کوئی گاڑی باہر پورچ میں رَکی۔ اس کا دل دھڑک اٹھا۔ شاید اس کی ماں آچکی تھی۔
وہ واقعی وہی تھی۔ ہزار سی سی کی سفید سوزوکی اس بات کی گواہ تھی۔ اس کے اضطراب اور بے چینی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ وہ پھر اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’میڈم آفس میں آچکی ہیں۔ آپ کو یاد فرمایا ہے۔‘‘ چپراسی اسے مطلع کر رہا تھا۔ وہ کسی سحر میں ڈوبا آفس کی طرف چل دیا۔
آسمانی رنگ کے ڈھیلے ڈھالے لباس میں ملبوس دوپٹے کے آنچل کو سر پر سجائے ایک عورت اس کے سامنے تھی۔ وہ دروازے میں ٹک کر رہ گیا۔ ایک نظر اسے دیکھتا۔
میز پر پڑی نیم پلیٹ پر موٹے موٹے جلی حروف جگمگا رہے تھے۔
’’مریم ارباز رسول خان۔‘‘
’’ماں، ماں! تَو نے آج تک اس بے وفا ہرجائی کا نام اپنے نام کے ساتھ سجا رکھا ہے۔‘‘ وہ اسے دیکھ کر چونکی۔
’’آئےے اندر آئےے۔ رک کیوں گئے۔ تشریف لائےے۔‘‘ وہ بڑے دھیمے لہجے میں مخاطب تھی۔ وہ تھوڑا سا آگے بڑھا۔ پھر بھی اسے دیکھتا رہا۔
’’تشریف رکھےے پلیز۔ آپ کو انتظار کرنا پڑا۔ لیکن کالج نو بجے کھلتا ہے۔ شاید آپ کو معلوم نہ تھا۔‘‘ وہ کہے جارہی تھی۔ ساتھ ہی حیران بھی تھی اس کی دیواگی اور وارفتگی پر۔
وہ تو ساری دنیا سے مختلف تھی۔ اَجلی اَجلی نکھری نکھری۔روشن آنکھوں والی چمکتے چہرے والی، صاف ستھری بے داغ۔ عین اپنی زندگی کی طرح۔ وہ اب بھی کھڑا تھا۔ اسی طرح اپنی نظریں اس کے چہرے پر گاڑے۔
’’آپ مریم ہیں نا۔۔۔ مریم۔‘‘ وہ بے چینی کو پورے یقین میں بدلنا چاہ رہا تھا۔
’’ہاں ہاں۔ مگر آپ۔‘‘
’’مجھے معلوم تھا کالج نو بجے کھلتا ہے۔ لیکن میں تو ازل سے آپ کی تلاش میں تھا۔ پہلے یہ تلاش میری روح کو بے چین رکھتی تھی۔ آج جسم و جان نے بھی بے چینی کا یہ کرب سہا۔ بڑی مشکلوں سے پہنچا ہوں۔ ڈر تھا راستے میں دم ہی نہ نکل جائے۔ مر ہی نہ جائوں۔ آپ۔۔۔ آپ مریم ہیں نا۔ میری ماں مریم۔۔۔ اپنے بیٹے کی ماں مریم۔‘‘
وہ حیران سی اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے کوئی دیوانہ سمجھنے لگی تھی۔ وہ ایک دم اپنی نشست سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’کک۔۔۔ کون ہو تم؟‘‘
’’آپ کے بارے میں جب تک انجان تھا معلوم ہی نہ تھا کہ کون ہوں۔ اب پتا چلا ہے ماں۔۔۔! اب پتا چلا ہے کہ ایک پاکباز عورت کا بیٹا ہونا کتنی قابلِ فخر پہچان ہے۔ میں نے زندگی میں نفرت کی تھی تو صرف آپ کے تصور سے۔ اس میں میرا ایک بیٹے کا قصور ہی کیا تھا۔ وہ تو زندگی بھر اپنے اور آپ کے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتتا رہا ہے۔ اسے آپ کی تصویر ہی نفرت کے قابل دکھائی گئی۔ آپ تو۔۔۔ آپ تو۔۔۔۔ حور ہیں۔۔۔ جنت کی حور۔۔۔ بہت اعلا و ارفع مقام ہے آپ کا۔ میں کتنا خوش ہوں آپ کوکھوج کر آپ کے بارے میں جان کر۔‘‘
’’بیٹا۔۔۔ میرا بیٹا۔۔۔ تم میرے بیٹے ہو۔۔۔ میرے اپنے بیٹے۔‘‘
’’ہاں ماں آپ کا اپنا بیٹا۔ آپ کا ۔۔۔ آپ کا معظم۔۔۔ آپ کی پہچان، آپ کی شناخت، آپ کے وجود کا حصہ۔۔۔ بچھڑا ہوا حصہ۔ آپ میری ہیں میں آپ کا ہوں۔ ان لمحوں میں مجھے اس کے سوا کوئی بات یاد نہیں۔ میں چھوڑ آیا ہوں سب کچھ۔ آپ کی خاطر بس آپ کا رہوں گا۔ آپ کی خاطر جیوں گا۔ صرف آپ کی خاطر۔ آپ نے جتنے دکھ سہنے تھے سہہ لےے جتنے غم اٹھانے تھے اٹھا لےے۔ اب ہمیں کوئی جدا نہ کر سکے گا۔‘‘
معظم اس اچانک ملاقات کے لےے تیار ہوتے ہوئے بھی کتنا جذباتی ہورہا تھا۔ امتحان کی گھڑی تو مریم کے لےے تھی۔ جس کے وہم و گمان میں بھی یہ لمحات نہ تھے۔ وہ آگے بڑھی۔ قبل ازیں کہ لڑکھڑا کے گر جاتی معظم کے جوان بازوئوں نے اسے اپنے سینے سے لگالیا۔
’’ماں۔۔۔ پیاری ماں۔۔۔ میری ماں۔‘‘ وہ اپنے گال اس کے بالوں پر رگڑ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ مریم کے ہاتھوں میں تھے۔ اس کا دل مریم کے دل میں سمایا جارہا تھا۔
’’تم معظم ہونا۔۔۔ میرے بیٹے معظم۔۔۔ میرے اپنے بیٹے۔۔۔ میر اجگر، میری روح معظم۔۔۔ تم اتنے بڑے ہوگئے ہو، مجھے معلوم ہی نہ تھا۔‘‘
وہ اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔ اس کی پیشانی، اس کی آنکھیں، اس کا منہ چوم رہی تھی۔ دونوں دھواں دھار رو رہے تھے اور دروازے میں کھڑا چپڑاسی یہ نیا منظر دیکھ کر حیران تھا۔ معظم اسے لے کر دیوار کے پاس رکھے صوفے کی طرف آگیا۔
’’بیٹھ جائو ماں۔۔۔ بیٹھ جائو۔۔۔ گر جائو گی۔‘‘
’’نہیںجان۔۔ میں نہیں گر رہی۔ بھلا جوان بیٹے کی ماں بھی گر سکتی ہے کبھی۔‘‘ وہ بھی دیوانی ہوئی جارہی تھی۔ دونوں صوفے پر بیٹھ گئے۔ معظم نے اس کی آغوش میں سر رکھ دیا۔ وہ پہلی اور آخری بار جی بھر کے رونا چاہتا تھا۔ اس کی سسکاریوں سے آفس کی خاموشیاں گونج اٹھیں اسے اپنے بازوئوں میں سمیٹے ہزار ضبط کے باوجود وہ بھی رو دی۔ جانے کتنے پل بیت گئے۔ گھڑیاں گزرتی چلی گئیں۔ چپڑاسی پریشان ہو کر بلا اجازت اندر دوڑا چلا آیا۔ بنا کسی کے کہے گلاس میں پانی بھر لایا جو مریم نے معظم کے لبوں سے لگا دیا۔ پھر دو گھونٹ آپ بھرے۔
’’مہر دین! یہ میرا بیٹا ہے۔ معظم ارباز رسول خان۔ اس سے ملو مہر دین۔‘‘ وہ کتنی خوش تھی۔ معظم آنسو پونچھتے ہوئے اس کی آغوش میں کھوجانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مہر دین باہر چلا گیا۔ وہ ان کی گود میں پڑا انہیں تک رہا تھا پیار سے حسرت سے۔
’’چھوٹے ماموں بتاتے تھے تمہارے بارے میں ہر بات۔ لیکن میں ان سے کبھی یہ نہ کہہ سکی کہ میں تمہاری یاد میں کتنا تڑپی ہوں۔ جل رہی ہوں۔ بس میں نے خدا سے تم کو بارہا مانگا تھا۔ مجھے یقین تھا تم آئو گے ایک نہ ایک دن۔ اور تم آگئے۔ ان ساری محبتوں سے دامن بچا کر۔ اب نہ جانا کہیں بھی۔ معظم اب ناجان۔ میں نے بہت سہہ لیا جدائی کا درد۔ نہیں دیکھا تھا تو بات اور تھی۔ اب تم بچھڑ گئے تو جی نہ سکوں گی۔ میں ان دکھوں کو یاد نہیں کرنا چاہتی جو ان لوگوں نے مجھے دےے۔ تم آئے ہو تو ان زخموں کا مرہم بن جانا میری جان! ماں کے سارے دکھوں کی دوا بن جانا۔‘‘
’’میں کہیں نہیں جائوں گا ماں کہیں نہیں۔ ہم دونوں سدا ساتھ رہیں گے۔ جی بھر کے جینے کا لطف اٹھائیں گے۔‘‘
اس نے اسی وقت کالج سے پندرہ روز کی چھٹی کی درخواست لکھی اور معظم کے ساتھ چل دی۔ گھر میں وہ اتنی دیر رَکے کہ اس نے سارا سامان اٹھایا۔ جیپ کو وہ ڈرائیور کے ہاتھ اپنے یونٹ بھیج کر ماں کے ساتھ ایک نئے سفر پر چل نکلا۔
اس کی پہلی منزل اس کا پسندیدہ شہر اسلام آباد تھا۔ جہاں وہ کچھ دن چین اور سکون سے رہ کر اپنی ماں کے قرب کا لطف اٹھانا چاہتا تھا۔ اس سے جی بھر کے باتیں کرنا چاہتا تھا۔ زندگی کا ایک نیا رنگ دیکھنا چاہتا تھا۔ حسین مرغزاروں میں راستے کی اونچ نیچ پر وہ ماں کے ہاتھوں میں ہاتھ دےے کسی ننھے منے بچے کی طرح بھاگتا دوڑتا پھرا۔
’’آپ کو عجب تو نہیں لگتا میں آپ کو امی، اماں، ممی، مام، ماما کچھ بھی نہیں کہہ کر پکارتا۔ بس ماں کہتا ہوں۔‘‘
’’نہیں تو۔‘‘
’’مجھے آپ کو بس ماں کہہ کر پکارنا اچھا لگتا ہے۔ اس لفظ میں اپنائیت کے سارے احساس بند ہیں۔ یہ لفظ دل کی گہرائیوں میں قید سارے جذبوں کو چھو کر لبوں پر آتا ہے۔ میں جب آپ کو پکارتا ہوں تو اس پکار میں میرا دل میری روح تک میرے ساتھ ہوتے ہیں۔
آپ کو بَرا تو نہیں لگتا۔ میرا یوں پکارنا۔ مجھے لگتا ہے میں پہلا بچہ ہوں اس کائنات کا اور آپ پہلی ماں ہیں اور یہ ماں کہہ کر پکارنے کا ادراک پہلی بار کسی کو ملا ہے۔‘‘
مریم رک کر اسے دیکھنے لگیں۔
’’مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے میرے بچے۔ جیسے پہلی بار کسی بچے نے اپنی ماں کو مخاط کیا ہے۔ تم ماں کہہ کر بلاتے ہو میری جھولی خوشیوں کے سارے رنگوں سے بھرجاتی ہے۔ میرے دل میں بے حساب خوشی سماجاتی ہے۔ تم سدا اسی نام سے مجھے پکارنا۔
یونہی چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے، ہنستے گاتے اس نے ماں کی داستان خود اس کی زبانی بھی سن لی تھی۔ یوں جیسے وہ اس کا بیٹا نہیں دوست ہو۔ جگری دوست، رازدار۔
ایک شام وہ تیار ہوا تو مریم نے بتایا کہ آج رات کے کھانے پر وہ کسی کے ہاں مدعو ہیں۔ وہ یہ پوچھے بنا اس کے ساتھ چل دیا کہ وہ کہاں جارہے ہیں۔
گھر کے باہر لگی نیم پلیٹ نے اسے بتایا کہ وہ کس کے ہاں آئے ہیں۔‘‘سکندر علی زیدی۔‘‘اس نے زیر لب پڑھا۔
’’یہ کون ہیں ماں؟‘‘
’’پہلے مل تو لو ان سے پھر سوال و جواب کرنا۔‘‘
’’او۔کے ماں۔‘‘
وہ ایک بھرا پَرا گھر تھا۔ ایک سنجیدہ باوقار آدمی تھا گھر کا سربراہ۔ ایک عدد بیوی تھی جس کی۔ مکمل خانہ دار خاتون اور کچھ جوان بچے تھے جو بہرحال معظم سے چھوٹے تھے اور سب کے سب ان دونوں کے استقبال کو پورچ میں جمع تھے۔
’’ہیلو سکندر! ۔۔۔ ہیلو رباب!۔۔۔ ہیلو کڈز۔ بھئی سکندر! اسے پہچانو۔ کون ہے یہ؟ میں نے تم سے وعدہ کیا تھا نا۔ جب کبھی زندگی میں پَراعتماد ہوگئی تمہارے گھر تم سے ملنے ضرور آئوں گی۔ آج مجھے خدا نے وعدہ وفا کرنے کا موقع دے دیا۔ یہ معظم ہے معظم ارباز رسول خان۔‘‘
’’یعنی تمہارا لختِ جگر۔ آئو مائی سن۔ میں سکندر ہوں سکندر علی زیدی۔ یہ میری زوجۂ محترمہ ہیں۔ اور یہ چاروں میرے بچے۔‘‘ سکندر علی زیدی نے اسے گلے لگالیا۔ رباب سکندر علی نے اس کی پیشانی چومی۔ لڑکے لڑکیوں نے اس سے ہاتھ ملایا۔ شام سے رات تک کے ڈھیر سارے لمحات وہ اس فیملی کے ساتھ رہے۔
لڑکوں نے معظم کو گھیرے رکھا۔ اس کی فوجی زندگی کے بارے میں اس کا انٹرویو کرتے رہے۔ پھر کتنی دیر سکندر علی خان سے باتیں ہوتی رہیں۔ ان کی دونوں لڑکیاں بے حد حسین اور شوخ و شریر تھیں۔ سب کے ساتھ اسے بھی قہقہے لگانے پر مجبور ہونا پڑا۔ وہ خاصا انجوائے کرتا رہا۔ رباب سکندر علی زیدی اس سے بڑے پیار سے پیش آئیں۔
رات گئے جب وہ ہوٹل آرہے تھے مریم نے اس سے کہا۔
’’یہ سکندر تھا معظم۔ میرا دوست۔۔۔ میرا ہمدرد۔۔۔ میرا طلبگار۔۔۔ میرا کلاس فیلو۔ مگر یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں مریم ارباز رسول خان نہیں تھی۔ محض مریم احمد تھی۔ سکندر علی زیدی ہماری طرح از حد غریب تھا۔ بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا۔ جس نے ہر آڑے وقت میں میری اور میری ماں کی مدد کی۔ مجھے اس وقت تحفظ فراہم کیا جب میں بالکل بے آسرا تھی۔ ماں کا بلکہ سکندر کی ماں کا بھی خیال تھا ہم دونوں کی شادی کرنے کا۔ مگر ایک دن تمہارے دادا اعجاز رسول ان کے بھائی بھی تھے انہیں میری ماں کی بیوگی پر ترس آیا تھا۔ وہ ہمارے دکھ دور کرنا چاہتے تھے۔ سو مجھے بہو بنا کر اپنے گھر لے گئے۔ پھر جو بھی ہوا۔ اس کا انجام یہ نکلا کہ میں طلاق نامے پر رسوائیوں کی سیاہی لےے پھر بیوہ ماں کے دل کا بوجھ بن کر واپس آگئی۔ میرے طلاق نامے پر لکھی جانے والی بدکاریوں میں سے ایک نمایاں بدکاری یہی سکندر علی زیدی تھا۔ جسے میری طلاق نے اَن دنوں بستر پر ڈالے رکھا۔ اس نے اس کی ماں نے میری رسوائیوں کو اپنے سینے سے لگالینے کی آفر کی۔ مگر میں نے انکار کر دیا۔
شاید طلاق کا وہ حادثہ اور میرے ساتھ گزرنے والے واقعات مجھے زندگی بھر کے لےے گھائل کر دینے کو کافی تھے۔ اور میں ان کے الزامات کو سچ نہیں بنانا چاہتی تھی۔ میں نے سکندر کی قربانی بھی دے ڈالی اپنے ہاتھوں اس کی شادی اپنی دوست رباب سے کر دی اور اس کی دنیا سے دور چلی گئی۔ سکندر مجھ سے کہہ رہا تھا۔
’’اگر تم چاہو تو ہم اپنے پاکیزہ رشتے کو خوب صورت روپ دے سکتے ہیں۔ میں اپنی بیٹی تمہارے بیٹے کو دے کر خوشی محسوس کروں گا۔ مگر میں نے اسے جواب نہیں دیا۔ بھلا تمہاری مرضی معلوم کےے بغیر میں ایسا کیسے کر سکتی تھی۔ تم نے دیکھا ہی ہے اس کی بیٹی کو۔ پیاری سی لڑکی ہے شہزینہ۔‘‘
’’نہیں۔۔۔ نہیں ماں۔ ابھی میں نےش ادی کے بارے میں سوچا تک نہیں۔‘‘
اس کے تصور میں دھم سے عائشہ آئی۔
ماں کے تو تصور میں بھی نہیں کہ میں شادی شدہ ہوں۔ دو دن کی بیاہی دلہن کو ہمیشہ کے لےے چھوڑ کر اس کے پاس سے چلا آیا ہوں تاکہ اس کا دل سدا کے لےے ترپتا رہے۔ چلو یہ اور بھی اچھا ہے۔
’’چلو ٹھیک ہے۔ مجھے بھی ایسی کوئی جلدی نہیں ہے۔ ہوجائے گی کسی دن تمہاری شادی۔ ہاں وہ لڑکی تمہیں پسند ہو تو منگنی کر لیتے ہیں۔‘‘
’’نہیں ماں منگنی بھی نہیں۔ کچھ بھی نہیں۔ بس ابھی تو مجھے آپ کی خاطر جینا ہے۔ لمحوں سے خوشیاں وصول کرنی ہےں۔‘‘ وہ جذباتی ہونے لگا۔
٭٭٭
یوں ہی ملک کا کونہ کونہ، گوشہ گوشہ گھومنے میں اس کی پندرہ بیس چھٹیاں تمام ہوگئیں۔ماں کو گزرتے وقت نے کتنا اعتماد بخش دیا تھا۔ بہادری سے جینا سکھا دیا تھا۔ جن لوگوں کی زندگی میں اونچ نیچ نہ ہو۔ شاید وہ ایسی آزاد زندگی آسانی سے بسر کر سکتے ہیں۔ ماں بھی کنول کا ایک پول تھی۔ نرم رو سفید بے داغ۔ کیچڑ اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا تھا۔ لوگ اس کے معترف تھے۔ اس کو مثال بنا کر یاد کرتے تھے۔ سکندر علی زیدی کی نگاہ میں کتنا احترام تھا اس کی ماں کے لےے۔ رباب کتنی محبت سے ملی تھیں اسے۔ قربانی تو رنگ لاتی ہے نا ایک دن۔ تپسیا کا کوئی پھل تو ملتا ہی ہے نا۔ آدمی عزت کمالے اس سے بڑی دولت اور ہو بھی کیا سکتی ہے اور اس کی ماں ان لمحوں میں دنیا کی امیر ترین عورت تھی ارباز رسول خان کے ٹھکرا دینے پر اس نے دن صرف اس دن کے ماتم میں نہیں گزارے تھے۔ تعلیم پھر سے جاری کر دی تھی۔ ایم۔اے کر لینے پر لیکچرر ہوگئی تھی۔ اور آج ایک ادارے کی سربراہ تھی۔ ابھی حال ہی میں اس نے شاید باہر کے کسی ملک سے ی ایچ ڈی کی تھی۔ وہ کوئی عام عورت نہ تھی۔ اس نقشے سے بالکل مختلف جو خان فیملی نے اس کے دل پر نقش کر دیا تھا اپنی ماں کے حوالے سے۔ اس کا رہن سہن اس کی گفتگو کے دھیمے پن میں ایک عجیب سی چاشنی تھی۔ ایک انوکھا وقار۔ اس کی مسکراہٹ پر فرشتے جان دیتے ہوں گے۔ اس کی نگاہ میں ڈوب کر ابھرنے کوجی چاہتا تھا معظم کی۔ دن گزرتے دیر نہ لگی۔ اسے ہر حال میں ڈیوٹی پر پہنچنا تھا وہ فوجی افسر نہ ہوتا تو شاید کب کا اپنی ماں کو لے کر یہ ملک چھوڑ چکا ہوتا۔ اب وہ زپنی زندگی پر اس خاندان کا سایہ نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا اور عائشہ بھی بہرحال اس خاندان کا ایک فرد تھی۔
مریم او وہ واپسی کے سفر میں ایک دوراہے پر ایک دوسرے سے جدا ہوگئے۔ اس ویگن میں سوار کرا کے وہ اپنے شرف کی طرف لوٹ آئیں۔ وہ اپنے یونٹ پہنچا تو اسد اور یاسر اسے دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے۔ ’’زندہ ہو۔ ہم نے تو تمہارے قل وغیرہ بھی کر لےے ہیں۔‘‘
’’بکو نہیں یار۔‘‘
’’کیسے نہ بکیں۔ دو دن کی بیاہی دلہن کو چھوڑ کر کہاں فرار ہوگئے تھے۔ ذرا چل کر دیکھو تو اپنے کمرے میں ڈاک کا ایک انبار ہے تمہارے لےے۔ خود عائشہ بھابھی یہاں آئی تھیں اپنے والد کے ساتھ۔ تم انہیں دیکھو تو پہچان بھی نہ پائو۔‘‘
مجھے دیکھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ نہ ہی ڈاک کا وہ انبار پڑھنے کی۔ وہ سب کچھ ہمیشہ کے لےے چھوڑ آیا ہوں۔ میں اگر فرشتہ ہوتا تو نکاح سے پہلے ہی حویلی چھوڑ آتا۔ مگر میں انسان تھا۔ انتقام جس کی گھٹی میں ہے۔ میں نے اپنی ماں کا بدلہ چکا لیا ہے۔ چاہتا تو طلاق کے تین حرف لکھ کے رکھ آتا۔ مگر میں نے ایسا نہیں کیا۔ جب بھی عائشہ کا خاندان طلاق چاہے گا، دے دوں گا۔‘‘ اس نے دونوں دوستوں کو حیران و پریشان کر دیا۔
اس نے جواب میں ساری بات انہیں بتادی۔ وہ اپنے معاملات میں از حد سیریس تھا۔وہ دونوں بے چارے سب کچھ سن کر خاموش ہورہے۔ کچھ ہی دنوں میں اس نے لمبی چوڑی سفارش کے بعد اپنا ٹرانسفر کسی نامعلوم جگہ پر کرالیا اور ہر ایک کو تاکید کی کسی کو اس کے بارے میں کچھ نہ بتایا جائے۔ وہ بھول جانا چاہتا تھا ہر بات۔ وہ یاد رکھنا چاہتا تھا بس ایک ماں کے وجود کو۔ ہر روز ماں کو فون کرتا ہر روز ایک طویل خط لکھتا۔ لیکن ایک بار بھی بھو کر اس نے عائشہ یا اپنی شادی کا ذکر تک نہ کیا۔ اس رواداری پر وہ خود کو ملامت بھی کرتا۔ لیکن پھر بھی خاموش ہی رہا اس بارے میں۔
اسد اکثر اس سے فون پر بات کرتا۔ یاسر نے کئی ایک تفصیلی خط لکھے لیکن جواب میں وہی ایک خاموشی۔ وہ اس خط کو اپنی ہر بات، اپنے ہر عمل کے حساب کے لےے کافی سمجھتا تھا جو اس نے اپنے پاپا ارباز رسول خان کے نام لکھا تھا اور آتے وقت ان کے کمرے میں ڈال آیا تھا۔
*****


