خط بھجوانے کے لیے پتا۔ خواتین ڈائجسٹ۔ 37۔ اردو بازار کراچی۔
صائمہ گل . مردان
جون کا باغ و بہار شمارہ ہاتھوں میں ہے اور ہم پڑھ کر اتنا خوش ہیں کہ بلا تمہید ہی تبصرے کی طرف آتے ہیں۔ نگہت عبداللہ ،راحت جبیں ، آسیہ رئیس، فرح بخاری، حسنہ حسین یا ر ہم تو خوشی سے بے حال ہو گئے۔
ہماری پسندیدگی کا اندازہ اس بات سے لگالیں۔ کہ جون کی تپتی دوپہرمیں جب سب گھر والے گرمی سے بے حال کمروں میں بند اونگھ رہے ہیں۔ ہم چائے کے کپ کے ساتھ شمارے کو خط لکھ رہے ہیں۔ ’’ کہنی سننی‘‘ ہمیشہ کی طرح خوب صورت اورجامع۔ ’’ کرن کرن روشنی‘‘آخرہماری درخواست پر عمل کر لیا گیا۔ نظر بد اور اس کے علاج پر روشنی ڈالنے کا شکریہ ۔ صدقہ پر بھی روشنی ڈالیں۔
انعم تنویر ان جانی شخصیت تھی۔ اس لیے آگے بڑھ گئے۔ سب سے پہلے اپنی راحت کا ’شام سے پہلے آنا‘ پڑھا۔ نیلوفرمیں ثانیہ اورچراغ کی جھلک دکھائی دی۔ راحت کی تحریریں مجھے ذاتی طور پر اس لیے پسندہیں کہ ان کے جملے ، کردار، سادہ اور آسان ہوتے ہیں۔ ذہن پربوجھ نہیں ڈالنا پڑتا۔ ان کے کرداروں کے ساتھ ہم ہنستے ہیں روتے ہیں ہر لفظ ہر جملہ سیدھا دل میں اترتا ہوا اپنے ساتھ باندھتا ہوا ۔ راحت جی شکریہ ۔
نگہت عبداللہ اپنے وہی منفرد روایتی انداز کے ساتھ آئیں ،ہمیں تو 90 کے دور میں لے گئیں۔ جب نیا نیا خواتین سے تعارف ہوا تھا تو ایسی ہی سادہ، بے ریا اور دلوں کو چھوتے تحریریں آتی تھیں۔
فرح بخاری کیا بات ہے آپ کی۔ بن پاکھی کی یاد دلا دی۔ خوش رہیں، آباد رہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ دے ایک دفعہ کا ذکر اگر سیریزہے تو ہماری تو قسمت کھل گئی ۔تھینک یو فرح جی۔
آسیہ رئیس کے کرداروں کے طرز ستم تو واقعی میں اور طرح کے تھے۔ بقول شاعر کے۔
دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
’’ابتہال ‘‘ سبک روی سے رواں دواں ہے رفتہ رفتہ پسندیدگی کی سند پا رہا ہے۔
’’منی خالہ کا بیل ‘‘ چھوٹا سا پیارا سا افسانہ پسند آیا۔ بلکہ ایک پرانی بات یاد دلا دی۔ ایک عید پر کچھ ’’قریبی رشتہ داروں‘‘نے گوشت بھیجا جیسے ہی تھیلا اسٹیل والی ٹرے میں انڈیلا آپ یقین کریں سارے میں ٹھن ٹھن کی آواز پھیل گئی۔ یعنی ساری ہڈیاں ہی ہڈیاں تھیں۔ دل بہت برا ہوا۔ اتنا کہ آٹھ دس سال گزرنے کے بعد بھی یاد ہے۔ یاد رکھیے عید پر آپ جو تھیلے بھیجتی ہیں ان میں گوشت ہڈیاں نہیں خلوص محبت اور اعلا ظریفی جھلکتی ہے یا پھر تنگ نظری اور دل شکنی اور کوشش کریں اس مبارک تہوار پر کسی کی دل شکنی نہ ہو۔
عید اور آئی فون تحریر توپیاری تھی مگر راغب نام پسند نہیں آیا۔اچھے اچھے سیدھے سادے نام دیا کریں۔
’’اینٹیک دلہن‘‘ پڑھ کر الجھن ہی ہوئی۔ ہمارے ہاں تو بارات اور ولیمے دونوں دن کے جوڑے بری میں آتے ہیں۔ جیولری اور مہنگا میک اپ بے شک نہ کرواتی مگر ڈریس تواچھا لیتی نا۔‘‘ خیر سانوں کی ؟ دلہن تو عابعہ کو بننا تھا ہی ہی ہی (یہ واحد تنقید تھی خط میں )
’’عید آن لائن ‘‘تحریر حمیرا کی ہو تو بندہ نہ مسکرائے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔
آسیہ رئیس ، راحت جبیں، فرزانہ کھرل ، نادرہ اور رفیعہ آپا کو روبرومیںلا کر ہمیں شکریہ کا موقع دیں۔
ج: پیاری صائمہ !خط پہلے نمبر پہ شائع نہ ہونے سے اس کی اہمیت میں کمی نہیں آتی ۔ ناہید اسماعیل اور صدف ناصر سب کی طرح آپ کا خط بھی ہمیں بہت اچھا لگتاہے۔ آپ نے بہت خوب صورت اور جامع تبصرہ کیا ہے۔ ہم ایسے ہی تو نہیں کہتے کہ ہماری قارئین بہت باصلاحیت اور ذہین ہیں۔
ناہید اسماعیل . کراچی
ٹائٹل پر خوش رنگ لباس میں ملبوس خوب صورت سی ماڈل نظروں میں سما گئی۔
کرن کرن روشنی میں مختلف امراض اور تکالیف میں دم کرنے کے فوائد اور فضائل بیان کیے گئے جو بلاشبہ ہماری زندگی کا اہم ترین حصہ ہیں۔
ابتہال کی قسط کافی سنسنی خیز رہی ہالہ کا گردیزی ہائوس کے ہیشم سے پراسرار سالنک فی الحال سمجھ میں نہیں آ رہا کیونکہ گردیزی ہائوس تو ویران پڑا ہے کیا یہ کوئی ٹائم اسپیس جیسا ہے یا کوئی میجک ؟ آئلہ کا قصر جلال میں جاب کرنے کا مقصد کسی کا قتل ؟ کیا واقعی وہ ایسا کرے گی ؟ کئی سوال ، الجھائو اور اسرار کہانی کو دلچسپ بنا کر ہمارے تجسس کو مزید ابھار رہے ہیں۔ اتنی درخواست ہے کہ ناول کو بہت طویل نہ کیجیے گا زیادہ سے زیادہ بیس بائیس اقساط پلیز۔
نئے ناول کی فہرست میں راحت جبین کا نام دیکھ کر دل بلیوں اچھلنے لگا لاکھ سمجھایا اس عمر میں اچھلنے کودنے کا خمیازہ اچھا نہیں نکلے گا لیکن آپ تو جانتی ہیں دل پگلا کب سنتا ہے ہاہا ۔ ناول کے تمام کرداروں کو دل کی آنکھوں سے پڑھا اور معصوم مٹھو کو تو دل میں ہی اتار لیا۔ آغاز خوب صورت ہے ۔
نگہت عبداللہ کا نام طویل عرصے بعد نظر آیا۔ کیا یہ ان کی نئی تحریر ہے اگر پرانی بھی ہے تب بھی ہم جیسے کمزور یاد داشت والوں کے لیے تو پرانی رائٹرز کی تحریریں ایک بڑا تحفہ ہیں بہرحال ناول اچھا لگا۔ فرح بخاری نے ایک بار پھر ایک دفعہ کے ذکر سے بھرپور متاثر کیا ۔ انوکھے کرداروں سے ملواتی رہیے گا۔
آسیہ رئیس خان کی ایک اور خوب صورت تحریر جہاں واقعی ستم گری کی ایک الگ ہی طرز نظر آئی۔ ممانی اپنا عہد ، وفا کرنے کی مجرم ضرور تھیں مگر ان کا قصور دانیہ کے والدین سے کم ہی تھا، امن کے سچے جذبے رنگ لائے۔
اس بار افسانے سب ہی زبردست اور سبق آموز تھے۔ عید اور آئی فون ۔ ساجدہ رمضان نے مختصر سی کہانی میں کمال کر دکھایا۔ دوسرا کمال نظیر فاطمہ نے ’’اینٹیک دلہن‘‘ میں دکھایا ۔ حرا خان کا افسانہ بہت پیارا لگا ،بے شک قربانی اگر منفی جذبات کی دے دی جائے تو دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں۔ حمیرا شفٰیع کا افسانہ اچھا لگا ،اس دور میں قربانی جیسا مقدس فریضہ بھی نمود و نمائش اور دکھاوے کی نذر ہو گیا ہے ۔
انشاجی کے درجہ وار اشتہارات نے بے ساختہ کھلکھلانے پر مجبور کیا ،خصوصاً راجکماری کے طلب گار کا قصہ تو بار بار پڑھتے رہے ہنستے رہے۔ عیدالاضحی کے سروے میں ساری بہنوں کے جوابات اچھے لگے ہماری صدف ناصر اور فرخندہ سلیم نے شرکت کیوں نہیں کی۔
گوشی جمال کا باورچی خانہ اچھالگا۔نفسیاتی الجھنیں میں بنت حوا صاحبہ کا مسئلہ پڑھ کر دل دکھا اللہ ان کے لیے آسانی فرمائے آمین۔ یہ درست ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ سسرال میں زیادتیاں ہوتی ہیں لیکن اکثربہوویں بھی کچھ کم نہیں ہوتیں، ایک کم عمر لڑکی تن تنہا پورے گھرانے کوبکھیر کر رکھ دیتی ہے ۔ کچھ عرصہ قبل سفر کے دوران تقریباً چھبیس ستائیس سالہ لڑکی موبائل پربا آواز بلند ساس کے ظلم کی داستان کسی کو سنا رہی تھی۔ باتوں سے اندازہ ہوا کہ کالر مرد تھا اور اس کا فیملی ممبر بھی نہیں تھا یہ بھی پتا چلا کہ شوہرکے علاوہ ساس سسر اور صرف ایک دیور تھا وہ بھی جاب کی وجہ سے رات گئے گھر پہنچتا تھا اور وہ خود کسی ہاسپٹل میں نرس تھی۔ آدھے گھنٹے بعداپنے اسٹاپ پر اترنے تک اسے مصروف ہی دیکھا میرے ذہن میں سوال گونجا جو لڑکی ساتھ بیٹھے پسینجرز کا خیال کیے بغیر تیز آوازمیں اتنے برے الفاظ اور انداز میںگھر سے باہر ساس کا ذکر کر رہی ہے کیا وہ گھر کے اندر واقعی مظلوم ہو گی؟
رضوانہ فاروقی کا خط اچھا لگا انہوں نے لائف پارٹنر کے حوالے سے درست کہا اور یوٹیوب توواقعی جھوٹ سے لبالب ہے۔ زینب عطاریہ کے مطالعے کے شوق نے بہت متاثر کیا پلیز آپی ان کے لیے یہ میسج ہے کہ وہ چاہیں تو ہم سے پرانے رسالے لے لیں بلا معاوضہ۔
صائمہ علی نے بہت اچھی اور سچی بات کی کہ اپنے لکھے الفاظ جب رسالے میں چھپتے ہیں تو معتبر ہو جاتے ہیں وہ تو ماشائ اللہ رائٹر ہیں، لیکن میں معمولی تبصرہ کرنے والی قاری بھی ایسا ہی محسوس کرتی ہوں۔ آپ نے انہیں جواب دیا کہ اب کسی کہانی میں سرمدکو ہیرو بنا دیں گے تو جناب ہیرو بنانے والا قلم آپ کے ہاتھ میں ہونا چاہیے کیونکہ کہا آپ نے ہے دیکھا میں نے کیسی آپ کی بات پکڑی ہے۔
ج: پیاری ناہید !سارا پرچا پڑھ کر آپ اس پر بہترین تبصرہ کرتی ہیں ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کے خط میں کیا رکھا جائے اور کیا ایڈٹ کیا جائے۔ یقین جانیے آپ کا خط ہمارے لیے امتحان ہوتا ہے۔ بہت شکریہ اتنے اچھے تبصرہ کا ۔
صائمہ علی . اسلام آباد
’’ابتہال ‘‘ پڑھ کر اس مرتبہ تو ساری ڈراؤنی فلمیں یاد آئیں۔ منظر کشی بہترین تھی۔ خاص طور پر ابتہال کا گردیزی ہائوس جانے والا منظر اوراور اس کا ہیشم سے تعلق ۔ تاشا جے کاجے مجھے تو جلال لگ رہا ہے اور اس کا تعلق شاید جلال فیملی سے ہی ہو گا۔
’’شام سے پہلے آنا‘‘ راحت جبیں کا ناول ہے تو یقینا دلچسپ ہو گا ،کچھ اقساط پڑھ لیں پھر ان شائ اللہ تفصیلی تبصرہ ہو گا پہلی قسط سحر انگیز تھی۔
نگہت عبداللہ کا مکمل ناول پسند آیا۔ باقی سب ناول اور کہانیاں اچھی لگیں۔ آسیہ رئیس خان کا ناول بہت زیادہ اچھا لگا۔ اس پورے ناول میں سب سے زیادہ مظلوم کردار ممانی کا تھا۔ مرتے ہوئے شوہر سے کیے وعدے کی وجہ سے اپنے بیٹے سے کنارہ کش ہونا آسان تو نہیں ہو گا۔ دانیہ اور امن دونوں ہی اچھے کردار تھے بس ایک معمولی سا اختلاف تھا کہ ایک طرف تو بہو کی اتنی حفاظت کہ گھر میں بھی چادر اوڑھ کر رہے اور دوسری طرف ایک جوان لڑکے کو دن رات گھر میں ہی رکھ لیا۔ مگر چلیں اتنی بد احتیاطی کہانی کی ڈیمانڈ تھی تو ٹھیک ہے۔
’’منی خالہ کا بیل ‘‘ میں سبق وہی تھا جوہر عیدالاضحی کی کہانیوں میں ہوتا ہے بس طرز تحریر کچھ مختلف تھا اس لیے زیادہ پر اثر لگا۔
ج: پیاری صائمہ !ہمیں خوشی ہے کہ آپ اتنی توجہ سے پرچا پڑھتی ہیں ۔آسیہ رئیس خان کے ناول پر آپ نے صحیح لکھا ہے۔ دراصل یوں سمجھ لیں کہ بہت احتیاط کرنے والا انسان کبھی کبھی ایسی غلطیاں کر بیٹھتا ہے۔
سعدیہ جہلم شہر سے لکھتی ہیں
دھوپ کی سنہری کرنوں میں کھڑی ماڈل بہت حسین لگی۔ میری پیاری بہن ناہید اسماعیل کا بہت شکریہ جنہوں نے مجھے اپنی دعائوں میں یاد رکھا۔ رضوانہ وقاص بہن کو یہ ضرور کہوں گی کہ آپ پریشان نہ ہوں اس آزمائش کے بدلے اللہ آپ کو بہت نوازیں گے ان شائ اللہ۔
’’ابتہال ‘‘ بہت خوب صورت کہانی، اب سب کرداروں کی کہانی سمجھ آ رہی ہے پر میرال کے ماضی کو بھی جلدی لکھیں۔ نئی تحریر میں ’’شام سے پہلے آنا‘‘ شروعات ہی بہت عمدہ ہے راحت جبیں ہمیشہ ہی اچھا لکھتی ہیں۔ مانوس اجنبی اچھا تھا۔ ایک دفعہ ذکر ہے فرح بخاری نے الگ قسم کی کہانی لکھی مزہ آیا۔ آسیہ رئیس خاں ہمیشہ کی طرح چھا ہی گئیں۔
منی خالہ کا بیل پڑھ کر لگا کہ یہ ہرگھر کی ہی کہانی لگتی ہے۔
’’اینٹیک دلہن‘‘ نظیر فاطمہ نے اپنی کہانی میں سادگی کو نمایاں کیا۔ کاش سب لوگ یہ سمجھ جائیں ۔ تو ہر کسی کو آسانی ہو۔ باقی سب سلسلے اچھے لگے۔ میرے سسرال میں ڈائجسٹ پڑھنا سب کو برا لگتا ہے۔ میری ساس کی نظر میں یہ کہانیاں پڑھ کر ہمارے دماغ خراب ہو جائیں گے۔ اب شوہر کی وفات کے بعد چھپ کر پڑھتی ہوں اور چھپ کر ہی خریداجاتا ہے۔ ان کو سمجھایا بھی پر ہر دفعہ ہی اگر وہ دیکھ لیں تو طوفان آجاتا ہے۔
زندگی میں اپنے ماں باپ کے بعد سب سے زیادہ رہنمائی آپ کے شمارے نے کی۔ صبر اور تحمل کا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔بیوہ ہونے کے باوجود شکوہ نہیں کیا۔ بہت کچھ سیکھا آپ کی تحریروں سے۔
ج: پیاری سعدیہ !آپ کے شوہر کی وفات کا جان کر بہت افسوس ہوا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کے لیے آسانیاں کرے۔ بلا شبہ شوہر کی وفات کے بعد سسرال میں رہنا بڑی آزمائش ہوتی ہے اور میکہ میں رہنا اس سے بڑی آزمائش ۔ ہم آپ کے لیے دعاگو ہیں۔ خواتین ڈائجسٹ کی پسندیدگی کے لیے شکریہ۔
معصومہ مہناز. ضلع بھکر مورانی
سب سے پہلے ’’کہنی سننی‘‘ پر نظر پڑی اور راحت جبیں کا نام دیکھ کر دل تک ٹھنڈک سی اتر گئی۔ پھر ’’کرن کرن روشنی‘‘ میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری پیاری باتوں نے ایمان کو تازگی بخشی اور دل کو سکون دیا۔ انعم تنویر سے گفتگو بھی اچھی رہی۔
اس کے بعد سب سے پہلے راحت جبیں کا نیا ناول ’’ شام سے پہلے آنا ‘‘ پڑھا۔ راحت جبیں اس بار بھی ہماری امیدوں پر پوری اتریں۔
’’ابتہال‘‘ بھی زبردست انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ قصرِ جلال کی کہانی نے اچھی رفتار پکڑی اور نہایت خوب صورتی سے آگے بڑھی۔ مروان کا کردار دن بدن متاثر کر رہا ہے۔ البتہ ہالہ کی کہانی نسبتاً آہستہ چل رہی ہے۔
اس بار ناولٹ کی کمی ضرور محسوس ہوئی۔ ’’مانوس اجنبی‘‘ نگہت عبداللہ کی خوب صورت تحریر دل کو بہت بھاگئی۔ ’’طرزِ ستم اور طرح کے‘‘ آسیہ رئیس خان کی تحریر پہلے تو اپنے منفرد نام کی وجہ سے متوجہ کر گئی ، پھر کہانی نے بھی دلچسپی برقرار رکھی۔ ‘‘ ایک دفعہ کا ذکر ہے‘‘ بھی اچھا لگا، خاص طور پر اس کی منظر نگاری نے بہت متاثر کیا۔
اب رخ کرتے ہیں افسانوں کی جانب ۔ حمیرا شفٰیع کا افسانہ ’’عید آن لائن‘‘ ایک بڑا سبق دے گیا۔
’’اینٹیک دلہن‘‘ بھی ایک عمدہ اصلاحی افسانہ تھا۔
ساجدہ رمضان کا افسانہ ’’عید اور آئی فون ‘‘بہترین تھا۔
’’منی خالہ کا بیل ‘‘ قابل تعریف افسانہ تھا۔ اعتبار ساجد کی نظم دل کو لگی جبکہ ناہید اسماعیل کی ڈائری بھی بہت پسند آئی۔
بہنوں کی محفل میں آپی فرخندہ سلیم ، سلمیٰ مسرت اور ریحانہ آپی کی غیر حاضری محسوس ہوئی کہاں غائب ہیں سب ۔
ج: پیاری معصومہ !آپ کا تبصرہ مصنفین تک پہنچا رہے ہیں ۔ بہت شکریہ کہ آپ ہماری محفل میں تشریف لائیں۔
دیا فاطمہ ملک. علی پور
ڈائجسٹ پڑھنا میں نے اپنی پھپھو (شگفتہ ناز) سے وراثت میں لیا ہے۔ وہ خواتین ڈائجسٹ کی قاری ہونے کے ساتھ ساتھ تبصرہ نگار اور لکھاری بھی رہی ہیں۔ ساجدہ رمضان کی ’’میرا اعتبار کر‘‘ اور ’’ فصلِ امید‘‘ نے سیلابی صورتحال کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ ایک لکھاری کی حساسیت اور مشاہدہ کا عکاس بھی ہے اور معاشرتی المیہ بھی۔
’’گوشت خور‘‘ میں انیسہ عائش نے صحت سے متعلق طبی نقطہ اٹھا کر اہم معلومات فراہم کیں۔ ’’می ٹائم ‘‘ نے سوشل میڈیا کی حقیقت کھول کر رکھ دی۔’’نظر آتے ہیں کچھ‘‘ ایسے لوگ معاشرے کا ناسور ہیں۔ ’’آدھا کپ ‘‘ رلا گیا۔ مائیں یونہی اولاد کی فکر میں آدھی رہ جاتی ہیں۔
ج: پیاری دیا ! آپ نے ہماری محفل کو رونق بخشی بہت شکریہ ۔اب باقاعدگی سے لکھتی رہے گا۔
رضوانہ فاروقی . حافظ آباد
جون کو شمارہ آیا۔ وہ بھی شام کے وقت کہ جب کھانے کا ٹائم کسی نہ کسی کے آنے کا ٹائم ۔ یوں کہیں جاکے رات دس بجے کے بعد پڑھنے کا ٹائم ملا۔
لیکن دن میں میری بڑی بہن کے پاس رسالہ آ گیا تھا تو اس کا فوراً فون آ گیا۔ رسالے سے ہمیشہ سے محبت ہے۔ مگر اب زیادہ توجہ ہو گئی ہے۔ بھابھی کہتی ہیں۔ کہ بہن رائٹر بن گئی ہے ۔ اور بھائی صاحب ڈاکیا اچھی جوڑی ہے۔
پہلے افسانے پڑھنے کا موڈ تھا۔ لیکن صفحہ پلٹتے جو نظر راحت جبیں کے نام پر پڑی ان کی تحریر کی کشش ۔ کہ پتا ہی نہیں چلا اور ایک نشست میں پورا ناول پڑھ لیا۔ اورجب کبھی ایسا ہوا جائے تو دل کو یقین ہو جاتا ہے کہ ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘
مختصر افسانوں میں اس مرتبہ ’’اینٹیک دلہن‘‘ اچھا پیغام تھا۔ ’’منی خالہ کا بیل ‘‘ حقیقت کے قریب ترین تھا۔ اور اکثر ہماری زندگی میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ کہ ہم غریب رشتہ داروں کو کسی قابل نہیں سمجھتے۔ عید آن لائن بھی اس مادی زمانے پر ایک طمانچہ ہے کہ ہم دوسروں کو دیکھ کر خود کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔
نگہت عبداللہ کا ’’مانوس اجنبی ‘‘ ہلکا پھلکا سا رومانٹک ناول رہا۔ آسیہ رئیس خان کا تو نام ہی کافی ہے۔ تحریر تو کیا بات ہے۔
نفسیاتی الجھنیں میں بنت حوا کا خط واقعی گھر گھر کی کہانی ہے۔ پتا نہیں ہم شاید آخری نسل ہیں ۔ کہ جو سب کے ساتھ محبت سے رہنے اور عزت و احترام کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے ہیں۔ لیکن آج کے دور میں کہیں نہ کہیں اچھی بچیاں ہیں جو پیاری بیٹیاں اور پیاری بہویں ہیں۔ میری اپنی دونوں بہویں بہت اچھی ہیں۔ زیادہ تعریف نہیں کہ پھر سب کہتے ہیں۔ کہ ہاں جی اپنی چیزیں سب کی اچھی ہوتی ہیں۔
گوشی جمال واقعی آپ اچھا لکھتی ہیں۔ ہری پور کرلاں سے رضوانہ وقاص کے خط بھی اچھے ہوتے ہیں۔ اللہ کریم آپ کو صحت و تندرستی عطا فرمائے۔
کبھی ہم خوب صورت تھے مطلب چست و خوش مزاج اور بھرپور۔ اب تو عمر کے ساتھ ساتھ اچھا نبھا رہے ہیں۔
خط طویل ہو گیا۔ میں پوچھنا چاہ رہی تھی کہ افسانہ یا مضمون ہم بیس تاریخ کے بعد بھی بھیج سکتے ہیں ؟. اللہ آپ کو بہت سی کامیابیاں عطا کرے
ج: رضوانہ جی !صرف آپ کے خطوط کے سلسلے کے لیے مقررہ تاریخ تک بھجوانا ضروری ہے ۔ باقی تمام سلسلے اور ناول افسانے جب چاہیں بھجوا سکتی ہیں۔ خط مقررہ تاریخ تک نہ ملیں تو ہم آئندہ ماہ لگا دیتے ہیں۔اس ماہ شعاع کے سال گرہ نمبر کے لیے سروے ہے۔ آپ اس میں حصہ لے سکتی ہیں۔
صدف ناصر . گوجرانوالہ
سرورق دیکھ کر ماشائ اللہ بولا بے حد پیارا ہے۔
’’کہنی سننی‘‘ خوش گوار موڈ کے ساتھ ۔’’کرن کرن روشنی‘‘ دم ، بخار اور جادو ٹونے کے احکام و فضائل نے معلومات بڑھائیں۔ دنیا اتنی ترقی کر گئی مگر جادو ٹونے کو مات نہ دے پائی۔
انعم تنویر ایم بی اے کر کے اس فیلڈمیں کیوں آ گئی بھئی ؟ عیدالاضحی کی خوشیاں زرینہ خانم ، ارم اور فجر ناصر کے ساتھ بہت اچھی لگیں۔ ’’ہمارے نام ‘‘ اپنی شمولیت کے بغیر اداس لگا۔ وقت کم اور کام زیادہ بچوں کی چھٹیاں جس بنا پر ہر وقت بچے گھر اور مائیں پریشان ۔ زندگی بے حال ۔ ہر کام ادھورا۔
اس پریشان حال زندگی کو ناہید اسماعیل کے خوب صورت اور شاندار تبصرے نے پر سکون کیا اور اینڈ پر ہنسایا بھی کہ ’’بہوویں الگ ہو کر خوب اچھی طرح کام کرتی ہیں۔ یہ مسئلہ نفسیاتی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی بھی ہے۔‘‘
گوشی جمال کی آمد سرپرائز لگی۔ صائمہ علی ، رضوانہ وقاص ، الکا عباسی سے ہیلو ہائے کر کے نئے ناموں (رضوانہ فاروقی، سعدیہ ، سمیرا ، ایمان اور نائلہ ) کو خوش آمدید کہا۔ آپ سے دلی التماس ہے اس سلسلے کو پیغامات رسانی کا سلسلہ مت بنائیے گا۔ قاری بہنیں ایک دوسرے کو یاد کر لیتی ہیں ، یہ کافی ہے۔ پیغام رسانی کے لیے موبائل (شیطانی ڈبے) کافی ہیں۔
سب سے پہلے بات ہو جائے سب سے بڑی خوشی کی خبر کی ۔ جی ہاں ! راحت جبیں کے ناول ’’ شام سے پہلے آنا ‘‘ قسم لے لیں ’’انگنا پھول کھلیں گے‘‘ کے فیز سے ہم اب تک نہیں نکل پائے تھے۔ دل اداس ہی تھا راحت کے بغیر ۔
’’مانوس اجنبی‘‘ سب سے اچھی رہی کیونکہ بہت عرصہ بعد نگہت عبداللہ پرانے رنگ میں تشریف لائیں۔ صبا کی والدہ کا بے بی ڈے کیریکٹر اچھا لگا۔
کرداروں کے نام صبا ، حمزہ، شبانہ نے خود ہی بنا دیا یہ نگہت کی تحریر ہے۔ شکر ہے بھئی بغیر کسی لگی لپٹی اور ظالم سماج کے تمام معاملات سلجھ گئے۔
افسانوں کی بات ہو جائے تو منی خالہ کا بیل بہت ہی اچھا اور سبق آموز افسانہ ہے۔ منی خالہ نے تو بہن کی آنکھوں سے لالچ اور کم ظرفی کی پٹی کھول دی۔
عید اور آئی فون بھی ساجدہ رمضان کی اچھی تحریر۔ ہر گھر میں بچوں کو موبائل ہی لے بیٹھا ہے ۔ کتنا پر سکون اور خوب صورت دور تھاجب موبائل نہیں تھا۔
سب سے زیادہ متاثر تو نظیر فاطمہ کی ’’اینٹیک دلہن‘‘ نے کیا۔ سادگی اور سمجھ داری سکھانے کو یہ تحریر کافی ہے۔ ’’عید آن لائن‘‘ بھی دوسرے افسانوں سے پیچھے نہ رہا۔ ناہید اسماعیل کا انتخاب پڑھ کر ہنسی آ گئی۔ یہ نظم ہمارے موجودہ حکمرانوں پر فٹ آتی ہے۔ باقی انتخاب پسند نہیں آئے۔ ’’میری بیاض سے ‘‘ بھی متاثر نہیں کر پایا۔ اس ماہ شاعری کو خاص توجہ نہیں دی گئی۔
’’نفسیاتی ازدواجی الجھنیں‘‘حسب معمول زبردست ۔’’بیوٹی بکس کے فیشل ، ٹوٹکے اور عید کی تیاری سپر ہے بھئی ۔
ج: پیاری صدف ! تبصرہ تو آپ کا ہمیشہ ہی زبردست ہوتا ہے لیکن اس بار آپ کا تبصرہ بہت مشکل سے پڑھا گیا ہے بہت دھندلا تھا آپ بلیک پین سے لکھا کریں ۔
ناصرہ اور مریم. اوکاڑہ
راحت جبیں کا نام دیکھ کر آنکھیں اور باچھیں دونوں کھل گئیں۔ پہلی قسط ہی ہمیشہ کی طرح لاجواب باغ کے منظر نے طبیعت باغ و بہار کر دی۔
اس کے بعد بھاگم بھاگ ’’ابتہال ‘‘ پر پہنچے تجسس اور کرداروں میں ایک ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر کردار ایک سے بڑھ کر ایک دلچسپ ۔ ہالہ اور ہیشم کے ساتھ بیک وقت کیا پیش آیا ،ہم سمجھنے سے قاصر رہے۔
نگہت عبداللہ کا مانوس اجنبی پسند آیا۔ ’’ایک دفعہ کا ذکر‘‘فرح بخاری نے ہیروئن بچاری کو اتنا بھگایا کہ ہمیں بھی اپنی ٹانگیں دکھتی محسوس ہونے لگیں۔ آسیہ رئیس کا ’’طرز ستم‘‘ بھی اچھا تھا۔ سروے میں ارم جاوید کے جوابات بہت پسند آئے۔ ان کے اس جملے پر توقہقہہ نکل گیا کہ ’’میرے شیف کورس کو اس ملیدے نے ملیدہ کر دیا۔ (ہاہاہا)سالک صاحب کا حلیہ پڑھ کر ہم بھی اپنی مسکراہٹ روک نہیں پائے ۔ باقی سب سلسلے بھی اچھے تھے۔
ج: ناصرہ اور مریم !تشریف آوری کا شکریہ ۔ آپ کے خط ہمیں موصول نہیں ہوئے۔ ورنہ ضرور شائع کرتے۔
رباب فاطمہ .نامعلوم
ہمیشہ کی طرح اس دفعہ کا شمارہ بھی زبردست تھا، سب سے پہلے ابتہال کو پڑھا، یہ ناول بہت زبردست جا رہا ہے کہانی اور کردار بہت پراسرار ہیں اور ابتہال کا کردار تو میرا پسندیدہ ہے ، کیا ایسے نہیں ہو سکتا ہم قارئین کو ڈبل اقساط پڑھنے کو ملیں۔ دیکھتے ہیں کیا عنبرین کے عروسی لباس کا الزام بھی ہالہ پر لگتا ہے یا وہ سب کو حقیقت بتاتی ہے۔ مروان کی ولید کی شادی میں انٹری والا سین بہت اعلیٰ تھا۔
ج: پیاری رباب !بہت شکریہ حسنہ حسین تک آپ کی تعریف ان سطورکے ذریعے پہنچائی جا رہی ہے۔
سلمیٰ مسرت اسلام آباد
سالگرہ نمبر کی اسمارٹ سینس دیکھ کر پچھلے شمارے بہت یاد آئے اسی لیے بہت سی بہنوں کو سروے اور خطوط کی محفل میں جگہ نہیں ملتی قیمت کا ابھی ہمیں تو کوئی ایشو نہیں ہے کیونکہ مہنگائی سے آپ بھی اتنے ہی متاثر ہیں بس یہ کریں کہ دو شمارے سالگرہ نمبر کے ہونے چاہئیں۔
اس بار سروے بہت دلچسپ تھا جتنا خوب صورت تبصرہ اور مس فرخندہ کا تھا یقینا ناہید، رضوانہ، صدف اور گوشی کا بھی ہوگا اور بے شماربہنیں ہیں فرخندہ نے نام لیے شائع ہوگئے لیکن بھئی ہمارا خط تو پہلے بہت ایڈٹ ہوتا ہے۔
بہرحال اس بار اپنا تذکرہ ہر دوسرے خط میں ملا تو میرا دل بھی گلستان بن گیا اور ہاں ایک اور بات میں نے سوچی ہے کہ وقت بہت کم ہے سب کے پاس ۔دنیا کے حالات بہت تیز رفتاری سے بدل رہے ہیں اس لیے اب غموں کا تذکرہ بالکل نہیں بلکہ خوشیوں کو اچھی یادوں کو دہرانا ہے اسی لیے میں تمام سلسلوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتی ہوں ایک سب رائٹرز میں سنیعہ عمیر چھاگئی ہیں بازی کدہ میں کیا خوب صورت ہیروتراشا ہے۔ اس لیے بلا مبالغہ سنیعہ آپ نمرہ احمد، عمیر ہ احمد اور سمیر احمید کی فہرست میں آگئی ہو خوب لکھو،بہترین لکھو۔ ہم تمہاری تحریروں کے منتظر ہیں۔مختصر افسانے ہماری بہترین تربیت کررہے ہیں اللہ سب کے قلم کو روانی دے آمین ایک بار پھر شکریہ ۔
میرے تبصرے بے شک لیٹ ہوتے ہیں کبھی کبھی شائع کردیا کریں آپ میری مجبوری جانتی ہیں اس عمر کے اس حصے میں بھی24 گھنٹے مصروف رہتی ہوں سب کچھ فرائض سمجھ کر کرتی ہوں صرف خواتین شعاع کو جو وقت دیتی ہوں ،وہ میرا اپنا ذاتی مشغلہ وفا محبت چاہت ذہنی سکون جو بھی سمجھیں بلکہ میرا یہ میکہ ہے اس مان کو قائم رکھیں ۔ آمین۔ سنیعہ عمیر ٹاپ ٹین فیورٹ رائٹرز میں شامل ہوگئیں ہیں ہر تحریر زبردست ما شائ اللہ ان کی تحریروں کا انتظار رہتا ہے ۔صائمہ اکرم تو نظر آتی ہیں لیکن فائزہ افتخار کہاں غائب ہیں ان کا پتا کریں۔
سلمیٰ جی!ہم نے پوری کوشش کی کہ آپ کا خط پڑھ سکیں لیکن یہ ممکن نہ ہوسکا۔ آپ کے خط کے صفحات تین بار کمپیوٹر سے نکلوائے لیکن پھر بھی آپ کا خط پڑھا نہ جاسکا۔ صفحات کا لے ہیں۔ آپ دوبارہ صفحات اس طرح اسکین کریں کہ ان پر روشنی پڑرہی ہو۔
ریحانہ چوہدری. مدوکے
میں میرب اور اس کی ماما کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی دونوں ہی میری شاگرد ہیں جنہوں نے سمبڑیال سے خط لکھا اور میرے بارے میں اپنے جذبات کااظہار کیا۔یہاں میں ایک بات کہنا چاہوں گی کہ جو بھی بہنیں خط لکھتی ہیں اپنی پہچان کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش نہ کیا کریں ہم ڈائجسٹ میں خط لکھ کر کسی جرم کا ارتکاب نہیں کرتے بلکہ ہمارے لیے تو یہ بات قابل فخر ہونی چاہیے کہ ہم اپنے علاقے کا تعارف ایک بہترین پلیٹ فارم پر کروانے کا باعث بن رہے ہیں۔
رضوانہ فاروقی کی بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ خطوط پڑھنے میں واقعی بہت مزا آتا ہے اور جتنی مرتبہ پڑھیں اتنی ہی مرتبہ پہلے سے بھی زیادہ مزا آتا ہے۔ پیاری ناہید اسماعیل آپ کی محبت کا شکریہ میں ادا کرہی نہیں سکتی۔ محفل میں صدف ناصر، سلمیٰ مسرت (دونوں) اور فرخندہ، سلیم کی بہت کمی محسوس ہوتی گوشی کا خط تو حسب معمول بہت اچھا لگا مگر اصل میں ان کے باورچی خانے نے تو دل ہی جیت لیا۔ خاص طور پہ لسوڑھے کا اچار بنانے کا طریقہ تو بہت ہی اچھا لگا۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ خوش رکھے اور ان کے تمام گھریلو مسائل ختم کرے آمین۔
ہماری پیاری بہنوں نے عید کی خوشیاں بانٹیں تو ہم نے بھی اپنی جھولی بھر لی ۔
راحت جبین کے ناول کو پڑھ کے یوں لگا جیسے کوئی بہتا ہوا ،جھرنا ہو صبح کا سماں ہو، بہت آسان سا، بہت رواں، بہت سلجھا ہوا، شائستہ سا وہی زندگی ،وہی روز وشب کی گردشیں وہی چاہتیں، وہی گھبراہٹیں، نیلوفر کی حماقتیں مٹھو کی تکلیف اس کے دادا کی اس سے بے پناہ محبت، گائوں کی منظر نگاری تو کمال کی ہے راحت جی نے یوں لگتا ہے جیسے یہیں کہیں کا منظر دیکھ رہے ہیں۔
راحت جی ایک بات تو بتایئے آپ کی آنکھوں کا رنگ کون سا ہے۔ حرا خان کا منی خالہ کا بیل شکر ہے کہ زبیدہ بیگم کی سمجھ میں منی کی بات آگئی اور اس نے عمل بھی کرلیا۔ عید اور آئی فون سا جدہ رمضان کا بہترین اصلاحی افسانہ تھا۔ یہ کہوں گی کہ احساس مرنہ جائے ۔ حمیرا شفیع کا عیدان لائن ’’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔‘‘ کی مانند آج کل تو آنکھوں دیکھی پر بھی یقین کرنے کا دور نہیں رہا۔
نظیر فاطمہ کی انٹیک دلہن پڑھ کر اپنی ارجمند کی شادی یاد آگئی وہ بھی ان چیزوں پر کمپرومائز نہیں کرنا چاہتی تھی بہت مشکل سے ارسلان نے ضد کرکے اس کو لہنگا دلوایا اور پارلر سے تیار کروایا تھا۔ مگر نہ تو وہ اسٹیج پر بیٹھی اور نہ کوئی فضول رسم ہونے دی اس نے۔ اس مرتبہ تو ابتہال پڑھ کر یوں لگا جیسے ایک خوب صورت الجھے ہوئے ریشم کا گچھا ہے جس کو سلجھانے کا کام کرنا پڑرہا ہے ،جانے سوچ کی کون سی بھول بھلیاں ہیں جن سے گزر کر ان خیالات کو ہماری حسنہ حسین نے زینت قرطاس بنایا ہے۔
ماضی اور حال کہاں ایک دوسرے سے مل رہے ہیں کہاں جدا ہورہے ہیں، کہاں ہماری مصنفہ ہمیں مستقبل کی جھلک دکھادے گی، کہاں خدشات اپنی معصوم آنکھوں میں حقیقت کے آنسوؤں کے پردے کے پیچھے سے غیر واضح منظر میں اپنی شہبیہ دکھانے کے لیے کوشاں نظر ٓتے ہیں۔ اس صورت حال کو اتنی چابک دستی سے ترتیب دینا قابل ستائش تو ہے ۔ لہٰذا ان تمام خصوسیات کی بنا پر ہم اس ناول کو تجریدی آرٹ کا شاہکار کہہ سکتے ہیں اور یہ خالص میری رائے ہے کسی دوسرے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
فرح بخاری کا ایک دفعہ کا ذکر پڑھ کے یوں لگا کوئی انگلش فلم دیکھ رہے ہوں۔ آسیہ رئیس خان کے ناول طرز ستم اور طرح کے سمجھ میں نہیں آرہا کہ کن الفاظ میں تعریف کروں کیسا ردھم ہے؟ کیسا تسلسل ؟ کیسا سکوت ہے؟ کیسی ہلچل ہے؟الفاظ کی روانی ہے۔ ہر لفظ اک کہانی ہے۔
نگہت عبداللہ (مانوس اجنبی) ابتدا سے ہی ہماری توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں اور ناصرف اس نے ہمارے انہماک کو خود کے ساتھ وابستہ کرلیا بلکہ دوسرے تمام کام بھی فراموش کروادیے، تلخ مگر حقیقی صورت حال کو چھوٹے چھوٹے برجستہ جملوں نے تحریر کے حسن میں اضافہ کیا ۔کون ظالم ہے اور کون مظلوم اس بات کے درمیان فیصلہ کرنا بعض اوقات مشکل ہوجاتاہے۔ صبا کے لیے ایک ہی فقرہ ذہن میں آرہاہے کہ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔
ایک ہلکے پھلکے مزاج کا ناول ہمارے تسکین ذوق کے لیے اپنا کردار ادا کرتا نظر آیا۔
ادارے نے نفسیاتی الجھنوں کے بارے میں بہت صائب رائے سے نوازا۔ لیں جناب آپ کی محبت اور محنت کا حق تو ہم نے یوں ادا کرنے کی کوشش کی ہے کہ آپ کے چنیدہ الفاظ کو حرف حرف پڑھ اور یوں پڑھا کہ گویا ہر حرف اک داستان ہو۔
ج: پیاری ریحانہ ! تفصیلی تبصرے کے لیے ممنون ہیں ۔ فون نمبر آپ کو مل جائیں گے۔
ان بہن نے اپنا نام نہیں لکھا
میں بھارت (انڈیا) سے ہوں اور اردو ناول لکھتی ہوں۔ کیا آپ بھارت میں مقیم لکھاریوں کے ناول یا افسانہ نگاری کی تحریریں قبول کرتے ہیں؟ اگر جی ہاں تو براہ کرم طریق کار کے بارے میں رہنمائی فرما دیں۔
ج: جی بالکل قبول کرتے ہیں۔ بھارت میں مقیم مصنفین کی تحریریں۔ بھیجنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ خواتین ڈائجسٹ ای میل ایڈریس پر میل کردیں۔قابل اشاعت ہوئی تو شائع ہوجائے گی۔
٭٭


