خط بھجوانے کے لیے پتا۔ خواتین ڈائجسٹ۔ 37۔ اردو بازار کراچی۔
جویریہ حیدر ملغانی .سوکڑ تونسہ شریف
منیر نیازی نے ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں والی بات یقینا ہم جیسوں کے بارے میں کہی ہو گی۔
بچوں کے اسکولوں میں چھٹیاں ، شدید گرمی، طویل دن ، چھوٹی راتیں ہمارے سوکڑ میں درجہ حرارت تقریباً 47c یا 48c رہتا ہے۔ دن بھر سورج تانبے کی طرح جو تپتا ہے اورشام تک زمین سے بھی آگ کی لپیٹیں نکلتی رہتی ہیں۔
پھر گرمی اور حبس جو رنگ لاتا ہے وہ آندھیوں کی شکل میں آتے ہیں۔ اکثر شام کو شدید آندھی آتی ہے۔ گھر اندر باہر دھول مٹی سے اٹ جاتے ہیں۔ اگلی صبح اٹھو ، جھاڑو اٹھائو اور اللہ کا نام لے کے شروع ہو جائو۔ شدید گرمی ، سخت دھوپ اور دھول مٹی نے رنگت کا وہ حال کر دیا ہے کہ چلتے پھرتے آئینہ پر نظر پڑ جائے تو پھر بس .
پھل دار درختوں اور سولر پینلز کا شدید نقصان ہو رہا ہے۔ اللہ رحم کرے۔ موسم سے ہٹ کر اب آتے ہیں تبصرہ کی طرف ۔
ہر ماہ آئی ٹی کاشاہکار ماڈلز دیکھ کے دل سے واہ نکلتی ہے۔
’’ہمارے نام‘‘ بہترین اور زبردست سلسلہ ہے ۔ میرا سب سے پسندیدہ سلسلہ ہے۔ تمام بہنیں زبردست لکھتی ہیں۔
میرا بھی دل کرتا ہے ۔ہر ماہ تبصرہ کرنے کو مگر کیا کریں ایک تو ہماری سستی دوسرا رسالوں کا دیر سے ملنا، شدید گرمی میں سوکڑ سے تونسہ جانامہنگے ہوتے پٹرول کی وجہ سے کرایوں کا بڑھنا ، ڈاک کے اخراجات کا بڑھنا یہ بہت سارے عوامل ہیں (سب سے بڑھ کر اپنے افسانوں کا شائع نہ ہونا۔شاید سستی اور دل ٹوٹنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہو۔ماہ جون میں عیدالاضحی کا سروے خوب رہا ہے۔ اتنی شدید گرمی میں ایک ہی وقت میں اتنی ساری ڈشز پکانا اور اس کے بعد ڈھیروں ڈھیر برتن دھونا دل گردے کا کام ہے۔
ہمارے اپنے گھرکے پلے ہوئے موٹے تازے بکرے ہوتے ہیں۔ ان کا گوشت بہت لذیذ ہوتا ہے۔
میں توبس ون ڈش پکانے اور کھانے کی قائل ہوں۔ بھنا گوشت ، قیمہ والا سالن اور مٹن پلائو ادل ابدل کر کے پکاتی ہوں۔ سادہ مگر غذائیت اور لذت سے بھرپور سالن۔ پندرہ دن میں گوشت ختم۔ اس سے زیادہ گوشت فریز نہیں کیا جاتا۔
چکن سے الرجک ہوں کبھی نہیں کھایا برائلر تو آج تک چکھی بھی نہیں ۔ دیسی مرغی مل جائے تو بسم اللہ ۔
واقعی اس عید پر گندگی اور بو کی وجہ سے بہت مسائل ہوتے ہیں۔ مگر اس سال ستھرا پنجاب کے کارکنوں نے زبردست کام کیا۔ فوراً ہی آلائشیں گلیوں اور مین چوکوں سے اٹھالی گئیں۔
صاف ستھرا پنجاب کے اثرات چھوٹے چھوٹے دیہاتوں کے غیر معروف محلوں اور گلیوں تک پہنچ رہے ہیں۔ ویلڈن
حسنہ حسین ’’ابتہال میں‘‘خوب رنگ جما رہی ہیں۔
محبت میں ،نفرت میں ،ظلم کرنے میں بلکہ ظلم ڈھانے میں ،ظلم سہنے میں اتنی شدت ، اتنے ڈھیروں راز، اتنا سارا سسپنس ، دولت کے ڈھیر، الجھے رشتوں کے کردار، بڑی گنجلگ کہانی ہے جو پیاز کی طرح پرت در پرت کھل رہی ہے۔
(بے چاری پیاز میں اتنی پرتیں کہاں ہوتی ہیں ۔ انسانی ذہن کی طرح پیچیدہ ہے کہہ سکتے ہیں۔)
کرداروں کی بھرمار ہے۔ پھر بھی پڑھنے میں مزہ آ رہا ہے۔ ویسے قارئین کی اکثریت ہلکی پھلکی اور سیدھی کہانیاں پسند کرتی ہے۔
اپنی راحت جبیں تشریف لائی ہیں۔ ’’ شام سے پہلے آنا ‘‘ میں زبردست منظر نگاری۔ زمین دار گھرانے کے مسائل ، ان کا طرز زندگی ، وڈیروں اور ملازمین کا تعلق، سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کرنا راحت جبیں کا انداز ہے۔ آم کے باغات میں آندھیوں سے شدید نقصان ہوتے ہیں۔
عائشہ نصیر احمد کے تقریباً تمام مکمل ناول میں کہانی شادی سے شروع ہوتی ہے۔ شہری اور پڑھی لکھی بیوی ، دیہاتی ، کم پڑھا لکھا مگر مالی لحاظ سے تگڑا دولہا ، خواہ مخواہ کی غلط فہمیاں ، وہی گھساپٹا رومانس اور ذومعنی جملے اور آخر میں سب ٹھیک ہو جانا۔
بقول فیض احمد فیض .
اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا
مانا کہ ٹین ایجر اور دوسری بہت سی قارئین ایسی کہانیاں پسند کرتی ہیں۔
نسیم ارشد بڑے طویل عرصے بعد تشریف لائیں۔ بہت خوب لکھا۔ کوثر کا کردار ہانیہ کے لیے مشعل راہ بن گیا۔
گول روٹی کے ساتھ نائلہ نواز کی واپسی ہوئی۔ نگی اور اس کی ساس کی طرح ہم سے بھی آج تک گول اور پھولی پھولی روٹی نہ بن سکی۔ (ہاہا) میں بھی سب کچھ اچھا پکا لیتی ہوں سوائے روٹی کے۔ اور ہماری روٹی بھی خاندان میں شہرت حاصل کر چکی ہے۔ (ہاہاہا)
ہماری مرحومہ ساس بھی نگی کی ساس کی طرح بہت اچھی تھیں ۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے ہاتھ کی پکی روٹیاں بہت نرم ، گول اور پھولی پھولی ہوتی تھیں۔
اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ آمین
پیاری گوشی جمال کا باورچی خانہ نے خوب رنگ جمایا۔ اپنائیت بھرا اور سادہ انداز۔
سلمیٰ مسرت کا باورچی خانہ خوب رہا۔ ماشا اللہ اتنا سگھڑاپا اور پھرتی نانی دادی بننے کے بعد بھی۔
آج کل سمیرا حمید اور منشا محسن کی واپسی نے خوب رنگ جمائے ہیں۔ ’’منے کی سالگرہ‘‘ پڑھ کے بس یہی کہہ سکتے ہیں ویل ڈن سمیرا حمید۔
سمیرا حمید سے جیل اور قیدیوں پہ ضرور لکھوائیں اس موضوع پہ اپنی سمیرا سے زیادہ بہتر کون لکھ سکتا ہے۔
ج:پیاری جویریہ !اس ماہ خواتین میں آپ کا ناولٹ سعد کی شادی شامل ہے ۔اتنی شدید گرمی اور پھر آندھیاں یہ تو واقعی بہت تکلیف دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنا کرم کرے۔ انسان نے قوانین فطرت میں جو دخل اندازی کی ہے موسموں کی شدت اسی کاشاخسانہ ہے۔عائشہ نصیر احمد نے صرف رومانس پر نہیں لکھا۔ دیگر موضوعات پر بھی لکھا۔ ہمیں تو ان کی تحریریں بہت اچھی لگتی ہیں اور محبت کی کہانیاں کبھی پرانی گھسی پٹی نہیں ہوتیں۔
رضوانہ وقاص کرلاں ہری پور سے لکھا ہے
ماڈل خواتین کی سادہ سی اچھی لگی۔ زیادہ اچھی اس وجہ سے لگی کہ سرپر دوپٹہ لیا ہوا تھا۔ ’’کرن کرن روشنی ‘‘ میں بہت ہی اچھی باتیں پتا چلیں۔ باتیں آغا مصطفی سے اچھی لگیں۔ سیما مناف سے بھی ملاقات اچھی رہی۔ ’’ہمارے نام ‘‘ سب کے خط پڑھے اور سب کے خط اچھے ہوتے ہیں۔ اور نئی آنے والیوں کو خوش آمدید۔ سعدیہ جہلم پریشان ہونا تو چھوڑ دیا ہے۔ لیکن انسان ہوں کبھی کبھی بہت زیادہ دکھی ہو جاتی ہوں۔ آپ کے شوہر کی وفات کا سن کر دکھ ہوا ہے۔
صدف ناصر آپ کی باتیں سمجھ میں نہیں آئیں کہ ہم ایک دوسرے کا حال احوال نہ پوچھا کریں۔ فون تو سب کے پاس ہے لیکن نمبر توسب کا ایک دوسرے کے پاس نہیں ہے ناں۔ ایک دوسرے کا پوچھنا اچھا لگتاہے ۔ یا پھر ایسا سلسلہ شروع ہوناچائیے کہ ہم سب ایک دوسرے سے گپ شپ لگا سکیں ۔ ’’ شام سے پہلے آنا ‘‘ بہت اچھا لگا پڑھ کر۔ مٹھوکے دادا کا اس کے لیے پیار بہت ہی اچھا لگا۔ نیلوفر اور صباحت کی آپس میں نوک جھونک اچھی لگتی ہے۔ ’’گھر کی بیٹیاں ‘‘ راجیہ نے اچھا کیا جو سسر کی بہن کو بلا لیا۔ اپنی نندوں کے ساتھ۔ اپنی بیٹیاں آئیں میکے میں اور شوہر کی بہن نہ آئے ۔ یہ راجیہ کی ساس کا کہنا اور ماننا غلط تھا۔ اچھا کیا راجیہ نے۔ ’’گول روٹی‘‘ نائلہ نواز نے اچھا لکھا۔ ساس کا اپنی بہو کا خیال رکھنا اچھا لگا۔ حسنہ حسین! ’’ابتہال ‘‘ کہانی بہت اچھی جا رہی ہے آپ کی ۔
میرال پر غصہ آتا ہے۔ اس گھر میں رہ کر اتنی بے عزتی کیوں سہہ رہی ہے ۔ کیوں چپ کر کے سنتی رہتی ہے اچھا کرتی ہے۔ ابتہال آگے سے بولتی ہے۔ ابتہال نام نیا ہے اچھا لگا۔ ’’ رنگا رنگ پھول‘‘ پڑھے ’’آپ کا باورچی خانہ ‘‘ سلمیٰ مسرت کا اچھا لگا۔ بہو کو صبح کے ناشتے کی بھی عادت ڈالیں کہ بتایا کرے۔ کیونکہ اب جلدی جلدی نہیں پڑھ سکتی۔میری اور میرے شوہر کی اگست کے مہینے میں سالگرہ ہے وش کر دینا ہے۔ شوہر کے لیے دعا ہے کہ اللہ پاک صحت و تندرستی کے ساتھ لمبی زندگی جئیں اور اپنے بچوں کی خوشیاں دیکھیں،اللہ جی آمین، بہت اچھے ہیں میرے شوہر، سالگرہ مبارک کسی کی نظر نہ لگے بس ڈر لگتا ہے ۔
ج: پیاری رضوانہ ! آپ کواور آپ کے شوہر کو سالگرہ مبارک۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت کاملہ سے نوازے۔ آپ دونوں کا سلامت رہے
ام ہادیہ شہزاد . لاہور
بہت حسین ٹائٹل پسند آیا تبصرہ توسب پہ کرتی لیکن کیا کروں خط لیٹ ہو جاتا۔ اس لیے صرف دو ناول ہی پڑھ سکی ،ابتہال کی میں کیا ہی تعریف کروں زبردست شاندار، مزہ آ رہا ہے پڑھ کے آگے بہت سے راز کھلیں گے مزہ آئے گا ایک راز تو کھل چکا ابتہال کے بارے میں مجھے بہت پسند آئی یہ لڑکی۔ دوسری نیلی آنکھوں والی نیلی بھی اچھی لگی ،دل میں اتر رہا ہے نیلی کو تیمور مل جائے بس ۔باقی شمارہ بھی یقینا شاندار ہو گا ۔ ایک پورا سال ہو چکا میرے افسانہ شائع ہونے کو میری تحریر تیری الفت میں آپ نے کہا تھا کہ زیر غور ہے لیکن اب تک کوئی اتاپتہ نہیں پلیز بتائیں انتظار بہت لمبا ہو گیا ہے دو اور تحریریں لکھی پڑی ہیں ڈر سے پوسٹ نہیں کروا رہی۔
ج:پیاری ہادیہ !آپ کے افسانے زیرغور کی فہرست میں ہیں ۔ آپ ان کے شائع ہونے کا انتظار نہ کریں۔ ہمیں مزید افسانے بھجوائیں ،آپ کی علالت کا سن کر تشویش ہوئی اللہ تعالیٰ آپ پر اپنا کرم فرمائے۔ آمین ،پیاری بہن آپ کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھائیں جو حالات آپ نے لکھے ہیں ضروری نہیں کہ وہ جادو کی وجہ سے ہوں۔ آپ وقت ضائع نہ کریں جو افسانے لکھے ہیں وہ بھجوادیں۔
مصباح نذیر . پنڈ دادن خان
امید ہے سب خیریت سے ہوں گے۔ مگر ہمارا دل خیریت سے نہیں ہے بے چارا اپنی میل نہ پا کر دکھی ہوا پڑا ہے۔ بھلا بتائیں مالا کے مرنے کے دن ہی سے منگوا کر رکھا گیا لفافہ اور کاغذ ، پڑے پڑے دھول میں اٹ گئے مگر کھولنے کا موقع نہ ملا تو آپ لوگ ہی ہماری دوبارہ کی گئی میل کو بزم ، یاراں میں جگہ عنایت کر دیتے۔
اپنی میل نظر نہ آئی تو آپ سے التجا ہے کہ برائے مہربانی ہم جیسے بال بچوں والے ، اساتذہ کرام ، گھریلوخاتون یعنی ہم بذات خود (ہاہاہا) کی میل کو قبول کر لیا کیجئے۔ لکھنا مشکل تب ہے کہ محمد اذلان صاحب جن کو اب خیر سے پر لگ چکے ہیں ان کا پسندیدہ کام پنسل کھانا ، کاغذ پھاڑنا ، سرورق کی آنٹی کی تصویر کا ستیا ناس کرنا ہے۔ فی الحال اتنا ہی لکھا جائے گا کہ شعاع ، خواتین اور ہمارے ساتھ کا اب ہمارے گھر والوں اور اسکول والوں سب کو پتا ہے کہ چولی دامن کا ساتھ ہے جو سلامت رہے۔ اب روٹی بنانے کا ٹائم ہے چونکہ اذلان صاحب بھی واپسی کی راہ پر ہوں گے جن کو خالہ ساتھ گھمانے لے گئی ہیں ۔ تو ہم نے غنیمت جانا کہ دو لفظ لکھ لیے جائیں حالانکہ دل تو بہت کچھ لکھنے کا ہے مگر مجبوری ہے ۔ ہاں سچ ہماری کزن اور بڑی نند نجمہ کا ذکر لازمی ہے جو شادی سے پہلے رسالے منگواتی تھیں اور اب ہم انہیں دوسرے گائوں پارسل کرتے ہیں۔ دیکھی ہماری محبت ۔ اماں تندوری گرم کر کے بیٹھی ہیں اور ہم بجائے آٹالے جانے کے ، لکھ رہے ہیں۔ بس اگلی بار شائع نہ ہو ا تو .
ج:پیاری مصباح !ہمیں بے حد افسوس ہے کہ آپ نے دو خط لکھے اور آپ کا ایک خط بھی شائع نہیں ہوا لیکن اس میں ہمارا قصور نہیں کیونکہ آپ کے خط ہمیں موصول ہی نہیں ہوئے ۔ یہ تو ممکن ہے ایک خط شائع نہ ہو لیکن یہ ممکن نہیں کہ آپ نے دو خط لکھے اور ایک بھی شائع نہ ہوا۔
رضوانہ فاروقی . اسلام آباد
کافی دیر سے رسالہ ہاتھوں میں آیا۔ پھر پڑھنا اور لکھنا۔ میں تو جلدی سے پڑھ لیتی ہوں۔ اور پھر خط پوسٹ کر کے بعد دوبارہ سے پڑھتی ہوں۔
اس مرتبہ بھی سرورق پر معصوم سی ماڈل کا بہت اچھا سا میک اپ ۔ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
ابتدائی صفحات پڑھنا تو لازم ہوتا ہے۔ ’’کرن کرن روشنی‘‘ بہت اچھی معلومات ہیں۔ سلسلہ وار ناول میں ’’ابتہال ‘‘ سنسنی خیز اور ’’ شام سے پہلے آنا‘‘ نے ایک دم پینترا بدلا ہے۔ دونوں بھائیوں کی تکرار میں تجسس بھی ہے۔ کہ اصل میں کون غلط ہے۔ مکمل ناول پڑھنے کے لیے تو خاصا وقت درکار ہوتا ہے اور مہمانوں کو بھی ان ہی دنوں آنا ہوتا ہے۔ توخیر وہ تواللہ کریم کی رحمت ہوتے ہیں۔ اور زندگی میں رونق بھی۔ تو پھر میں اکثر رات کو دیر سے یا پھر فجرکے بعد لکھتی ہوں۔
پہلے میں افسانے بعد میں پڑھتی تھی۔ تو ناول پڑھتے زیادہ دن لگ جاتے تھے۔ اب میں افسانے فوراً پڑھتی ہوں۔ پھر سلسلہ وار اور پھر مکمل ناول پڑھنے کے بعد جب خط پوسٹ کر لیتی ہوں۔ تو پھرفرصت سے مطالعہ کرتی ہوں۔
اس مرتبہ کے تمام افسانے بہت اچھے ہیں۔ ہر روز کے مسائل کو بہت پیارے اور حساس انداز سے لکھا گیا ہے نظیر فاطمہ ، راشدہ رفعت اور نائلہ نواز کی بہت اچھی کاوش تھی۔ اور سمیرا حمید نے تو موضوع کو بہت اچھے اور تفصیلی انداز میں بیان کیا ہے۔ ’’منے کی سالگرہ‘‘ میں پڑے ہوئے خط کا تجسس تھا۔ انداز تحریر بہت اچھا تھا۔ اور فہیم صاحب کی زوجہ کا محبت بھرا انداز دل کو چھو گیا۔ عام سی ناراضی کو خاص انداز سے بیان کر کے دور کیا۔ ویل ڈن سمیرا حمید ۔
’’خاتون کی ڈائری ‘‘ کا تمام انتخاب بہت ہی اعلا رہا۔ پروین شاکر کی غزل تو میری پسندیدہ ہے۔ اور کومل جو ئیہ کو ہم فیس بک پر بھی پڑھتے ہیں۔
فرخندہ سلیم کا انتخاب بہت اچھا تھا۔ رحمان فارس کی غزل جو صدف ناصر کا انتخاب ہے۔ واقعی زمانے کا چلن ہے ۔
سلمیٰ مسرت کا باورچی خانہ پڑھ بہت اچھا لگا۔ اسی لیے مجھے خواتین ڈائجسٹ اچھا لگتا ہے۔ کہ ہم دوستانہ ماحول میں جب بات کرتے ہیں۔ کہ دوست آمنے سامنے اپنے معمولات کا ذکر کر رہی ہیں۔
ان کی باتیں پڑھ کر مجھے اپنی چھوٹی بہو زینب کا خیال آ گیا۔ کہ کنیئرڈ کالج سے جینٹکس میں بی ایس کرنے کے بعد تھوڑا عرصہ گھر میں رہ کر کھانا پکانا تو سیکھ لیا۔ مگر روٹی یا پراٹھا بنانا نہیں سیکھا۔ اب پیا گھر سدھاری ہے۔ تو خود ہی کوشش کر کے سیکھ لے گی۔ اور اچھا سیکھے گی۔ اگلی بار اس کی پراگریس بتائوں گی۔
باقی تمام سلسلے بھی اچھے ہیں۔
آپ سے ناتا جوڑا ہے۔ تو دل سکون سے بھر گیا ہے۔ کیونکہ ہم ریٹائرڈ لوگ فرصت میں کبھی کبھی منفی سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔ مگر اب اپنی سوچوں میں کہانی کے پلاٹ جوڑتی رہتی ہوں۔ خطوط کو بار بار پڑھ کر لطف اندوز ہوتی ہوں۔ ایسا لگتا ہے ہم سب بہنیں ہیں۔ اور پتا ہے نا کہ زیادہ بہنیں ہوں تو کتنا مزہ آتا ہے۔ شرارتیں ، خوش گپیاں اور مشورے مزہ آتا ہے۔ میں تو اس عمر میں بھی شوخ و خوش مزاج ہوں۔ اور نئی نسل کی پسندیدہ اور دوست ہوں۔
ج: رضوانہ بہن !ہمیں احساس ہے کہ فورا پرچا پڑھ کر خط لکھنا مشکل ہوتا ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ خواتین آپ کو جلد مل جائے ۔
شائزہ احمد خاں . پتوکی
سوچا پھر آج آپ کو خط لکھ ہی دوں۔ خواتین اور شعاع سے میرا پرانا رشتہ ہے۔ چھٹی کلاس میں ٹیچر کے ہاتھ میں دیکھا تو بہن کے نام سے لے آئی۔ سب سے پہلے ’’آبرو‘‘ ناول پڑھا جس کا صرف نام ہی یاد ہے۔ ہم تو پنجاب کے لوگ ہیں، مشکلات تو ہوتی ہیں۔ دوسال پہلے میں نے سوچا اب لکھنا چاہیے۔ میں پتوکی سے ہوں۔ پوری پتوکی میں ایک ہی دکان پر ڈائجسٹ ملتے ہیں۔ اب تو ان کا بھی کہنا ہے کہ کوئی نہیں خریدتا تو وہ کم لاتے ہیں۔ شروع دسمبر میں تین افسانے پوسٹ کروائے تھے۔ کوئی جواب نہ ملا۔ مارچ میں پھر سے دو افسانے پوسٹ کیے مگر وہ بھی کڈنیپ (لاپتا) تھے ’’من کی خوب صورتی‘‘ اور ’’محبت کا رنگ ‘‘ میری بہنیں کہتی ہیں شادیوں کا سیزن ہے شادی ہال میں پتا کرو۔ کیا معلوم دعوت پر چلی گئی ہوں۔ بہنیں میرا مذاق اڑاتی ہیں۔
پلیز خط کے ساتھ پھر سے ایک ناول پوسٹ کروا رہی ہوں۔اس کا نام ’’فلک‘‘ ہے ۔ دل سے لکھا ہے آپ بھی دل سے پڑھیئے گا ۔ مایوس مت کرنا۔
ج: پیاری شائزہ !آپ کے افسانے ابھی پڑھے نہیں گئے ۔ درا صل ہمارے پاس بڑی تعدادمیں تحریریں آتی ہیں اور کوئی بھی دو تین سو صفحات سے کم نہیں لکھتا۔ اس لیے ہم پڑھ نہیں پاتے۔ ان شائ اللہ اب جلد پڑھ کر جواب دیں گے۔
پیاری شائزہ : پنجاب ہر لحاظ سے بہت زرخیز صوبہ ہے۔ سب سے زیادہ مصنفین کا تعلق بھی پنجاب سے ہے۔ سب سے زیادہ شاعر بھی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں ہمارے سب سے زیادہ پسندیدہ شاعر فیض اور انشا جی بھی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ فیض سیالکوٹ اور انشا جی کا تعلق جالندھر سے تھا۔
ناہید اسماعیل . کراچی
کہنی سننی میں ماہ حرمت کے حوالے سے بے حد جامع انداز میں بیان کیا گیا ۔
ٹائٹل پر ترو تازہ چہرے کے ساتھ سرپر دوپٹہ لیے ماڈل معصوم اور پاکیزہ سی لگی۔ کرن کرن روشنی میں مختلف مسائل کی وضاحت کے ساتھ ان کی فضائل و فوائد کو اجاگر کیا گیا۔
’’ابتہال ‘‘ کی اس قسط میں ایسا لگا جیسے ہالہ کا کوئی روحانی سا تعلق گردیزی ہائوس کے کرداروں سے جڑا ہوا ہے جبکہ ہماری سمجھ کے مطابق گردیزی ہائوس ماضی کا قصہ ہے۔ شمو کی چوری کا سراغ ہالہ نے ہرنائی کے جنگل کی مدد سے لگا لیا ۔کیا کوئی غیر مرئی شے اس کی مدد کرتی ہے اس راز کے کھلنے کا بے چینی سے انتظار ہے، دل ربا شاید ناقابل تلافی نقصان اٹھا کر ہی سنبھلے گی اس کے ساتھ امل اور راکان دونوں فیضان کے ٹارگٹ پرہیں۔ چلیں کم از کم فیضان کا اصل تو پتا چلا اب باقی بھید اور اسرار کھلنے کا انتظار ہے۔ شام سے پہلے آنا میں وہی کشش ہے جو راحت جبیں کے قلم کا خاصا ہے رافع میں کچھ نہ کچھ منفی ہے لگتا ہے نسیم اسی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ معصوم مٹھوکو باپ اس کی ماں کے خلاف نہ کر دے، فائزہ کی دشوار زندگی میں ننھی سی روشن امید مٹھو ہی تو ہے۔
میں سنڈریلا نہیں۔ شوہر کی بے وفائی کے بعد مہرماہ کی اچانک موت اور کمسن امامہ کی محروم زندگی نے افسردہ کیا وہیں اختتام نے خوش بھی کیا ۔ہم زہر تھے کہ امرت۔ شعر سے ہٹ کر دیکھیں تو سچ پوچھیں اس میں زہر سراسر مجتبیٰ تھا اور زعم اس کو تھا اپنے مرد ہونے کا۔ اس تحریر کا منطقی انجام یہی ہونا تھا لیکن زیب داستان کے لیے تھوڑا سا حقیقت سے ہٹ کر میرب کی زندگی میں بھی کچھ اچھا ہونا چاہیے تھا میرب دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر غلطی کر بیٹھی تھی مگر بری لڑکی نہیں تھی۔
نسیم ارشد کی تحریر حقیقی زندگی کی مکمل عکاس تھی۔ بڑے سہل اور رواں انداز میں لکھی اس تحریر نے کافی متاثر کیا متوسط طبقے کی زندگی واقعی دھیمی آنچ پر رکھی ہوئی ہے ذرا سی بے دھیانی سے جل بھن جاتی ہے ۔
سالگرائیں تو بہت منائیں اور دیکھیں لیکن منے کی سالگرہ ، اففف .!! یہ منفرد اور انوکھی سالگرہ محض ایک تقریب نہیں تھی ایک قرینہ تھا زندگی بسر کرنے کا جو اس میں شریک ہر فرد نے سکھایا۔ ہم نے جانا کہ کسی کی زیادتی بھلا دینا دماغ کو پھول سا ہلکا کر کے زندگی کو مہکا دیتا ہے۔ سارہ کی ساس بہت پیاری اور خوب صورت تحریر تھی ۔آخری سطور واقعی دل گداز کر گئیں راشدہ رفعت آپ اتنا پیارا کیسے لکھ لیتی ہیں۔ گول روٹی بھی ایک اچھی اور قدرشناس ساس کی روداد تھی ۔
گھر کی بیٹیاں زبردست اور سبق آموز تحریر جس میں راجیہ کی ساس جیسی کئی خواتین کی اصلاح چھپی ہوئی ہے۔ (گوکہ کہانی میں ساس صاحبہ سدھرتی نظر نہیں آئیں)ویسے بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ مرد بیوی کی ایسی ناجائز باتوں کو تسلیم کر کیسے لیتے ہیں بیوی دھڑلے سے ان کی بہنوں کے خلاف زہر اگلتی ہے اور وہ اتنے بے بس کہ اسے چپ تک نہیں کروا پاتے ۔
بہنوں کی محفل میں اپنا نام دیکھتے ہی پہلے آپ کا جواب پڑھا آپ کے لفظوں نے ہمیشہ کی طرح بے پناہ خوشی کے ساتھ بے حد حوصلہ افزائی بھی کی ، پیاری آپی بہت شکریہ۔ صائمہ گل مروان کا تبصرہ بہت اچھا لگا میں ان سے سو فیصد متفق ہوں کہ کرداروں کے نام اچھے اور سادہ ہونے چاہیں کرن کی تحریر میں کردار کا نام یثرب رکھا گیا۔ یثرب کے لغوی معنی فساد ، خرابی ، ملامت اور بیماری کا گڑھ ہیں۔ جبکہ حدیث کے مطابق بھی اس نام کو منع کیا گیا ہے۔ کچھ بہنوں نے تعریف کی شاید وہ قارئین نہیں جانتیں ہوں گی سو رائٹرز کو اس بارے میں محتاط ہونا چاہیے۔ سیما مناف سے ملاقات پسند آئی اپنی رائٹرز کے انٹرویوز کے (خواہ وہ نئی ہوں یا پرانی) ہم ہمیشہ ہی مشتاق رہتے ہیں انہوں نے لکھنا کیوں چھوڑ دیا۔ آغا مصطفی کا انٹرویو اچھا لگا اپنے جوابات سے وہ کافی محب وطن لگے۔ اس دفعہ سوالات کی تعداد ابھی آدھی تھی۔ انشاجی نے لندن کے اردو اخبارات کا مطالعہ کرواتے ہوئے خوب مسکرانے پر مجبور کیا۔ ان کی ہر تحریر ہر دور کی تحریر ہے۔ مجھے بہن سلمیٰ مسرت بہت اچھی لگتی ہیں ان کا باورچی خانہ بھی بہت اچھا اور ٹپس بھی بہت پسند آئیں۔ موسم کے پکوان میں کسٹرڈ کے علاوہ تینوں ڈشز لذیز لگیں۔ کسٹرڈ مجھے پسند جو نہیں بھئی آپی اس کا اپنا تو کوئی ذائقہ ہوتا نہیں ۔ جتنے لوازمات اس میں ڈالے جاتے ہیں ان ہی کے بل بوتے پر اس کا سارا غرور ہے ، ہاں نہیں تو ۔ بہتر ہے وہ لوازمات یونہی کھا لیے جائیں ہاہاہا۔
مستقل سلسلوں میں ڈائری نے اس بار امتحان میں ڈال دیا معصومہ ، تسنیم ، صدف ، سلمیٰ مسرت، فرخندہ اور اقرا کس کا نام نمبر ون پر لیا جائے سب کا انتخاب نمبر ون کو چھو رہا ہے۔ کھلا ہوا اور مہکتا ہوا ہوتا ہے۔ نفسیاتی الجھنیں میں عدنان بھیانے دونوں بہنوں کو مناسب ترین مشوروں سے نوازا اور ہم ہمیشہ بہنوں کے ساتھ ساتھ عدنان بھیا کے لیے دعائیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ اللہ انہیں اجر عظیم عطا فرمائے۔
ج: پیاری ناہید !ابتہال کے بارے میں آپ کا اندازہ درست ہے ۔ اسے قدرتی طور پر یہ صلاحیت عطا کی گئی ہے۔ناہیدجس طرح آپ ہر کہانی پر بھرپور تبصرہ کرتی ہیں۔ پڑھ کر دل خوش ہو جاتا ہے ۔
نصرت جبین ملک .خوشاب
فہرست پر نظر ڈالی تو اپنی پسندیدہ رائٹر سیما مناف کا انٹرویو دیکھ کر دل خوش ہو گیا یہ ملاقات بہت زبردست رہی اور ہمیں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ وہ بہت اچھی رائٹر ہونے کے ساتھ ساتھ سگھڑ اور صفائی پسند بھی ہیں۔
’’ہم زہر تھے کہ امرت ‘‘ میں عائشہ نصیر نے احمر بن مجتبیٰ اور میرب کے بنیادی کرداروں کو الفاظ کی رنگینی محبت کے اتار چڑھائو ، بہت سی غلط فہمیوں اور خوش فہمیوں سے سجا کر اپنے انجام کو پہنچایا۔
نظیر فاطمہ کا افسانہ ’’گھر کی بیٹیاں‘‘ بہترین رہا اس معاشرے کی سب بہوئیں اگر اتنی ہی حقیقت پسند ہوں تو ہر گھر رونق اور محبتوں کی آماجگاہ بن سکتا ہے۔
نائلہ نواز کی ’’گول روٹی‘‘ میں ساس کی ہنسی سے ہمیں فوراً اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ بھی ابھی تک گول روٹی بنانے کا شرف حاصل نہیں کر سکیں۔
نسیم ارشد کے ناول ’’دھیمی آنچ پر زندگی کو بھی ایک عمدہ ذخیرہ الفاظ کا آئینہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے کرداروں پر بھی گرفت حاصل رہی ’’سارہ کی ساس‘‘ میں راشدہ رفعت نے بتایا کہ کس طرح بدگمانیاں ایک بہت نیک انسان کے کردار کو بھی دھندلا کر دیتی ہیں۔
ج: پیاری نصرت ! آپ کو پرچا پسند آیا ۔یہ جان کر خوشی ہوئی تہہ دل سے شکریہ ۔
صائمہ علی . اسلام آباد
اس مرتبہ تو گرمی سارے ریکارڈ توڑ دے گی۔ جب درخت اور جنگل کاٹ کر سڑکیں اور (سوسائٹیاں) کالونیاں بنائی جائیں گی تو گرمی تو بڑھے گی ہی۔ اوپر سے ایئرکنڈیشنر سے نکلنے والی گرم ہوا۔ گاڑیوں کا دھواں سب مل کر موسم کی تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں۔ آج سے آٹھ دس سال پہلے تک دو تین دن گرمی پڑتی تھی اور چوتھے دن بارش ہو جاتی تھی۔ اسلام آباد کا موسم ایسا ہی ہوتا تھا ۔ اب تو پہلی بار یہاں پارہ 40cہوا ہے۔ اللہ خیر کرے۔
اب آتے ہیں جولائی کے شمارے کی طرف ۔ سیما مناف سے گفتگو بہت پسند آئی۔ سادہ انداز میں بات کرنے والے ویسے ہی دل کے بہت صاف ہوتے ہیں۔ اللہ ان کی حفاظت فرمائے۔
سب سے پہلے ’’ابتہال ‘‘ پڑھا ۔ اس مرتبہ کی قسط پڑھ کر ہالہ کی طلسمی قوت کا بخوبی اندازہ ہوا اور مزہ بھی آیا۔ دل ربا کا تعلق بھی ہالا کے خاندان سے ہے پڑھ کر اچھا لگا کہ شائد کسی طرح دل ربا کو اس کی بے وقوفی سے باز رکھا جا سکے۔ یا پھر یہ مکافات عمل ہو کہ جس طرح عصمت بیگم ، میرال اور ابتہال کے ساتھ سلوک روا رکھتی ہیں شاید اللہ ان کی بیٹی کو اسی جگہ پہنچا دے کہ وہ سارے طعنے اس کی قسمت میںلکھے جائیں۔
’’ شام سے پہلے آنا ‘‘ اچھا ہے۔ گائوں کا ماحول ۔ گھر کے اندر عورتوں کی گفتگو ۔ مردانہ ۔ تیمور اور رافع کے کردار۔ نیلو فر۔ ابھی کہانی آگے بڑھے گی تو کچھ واضح ہو گی۔
مجھے سب سے خوب صورت تحریر ’’منے کی سالگرہ‘‘ لگی۔ ایک دن کو اتنی خوب صورتی اور تفصیل سے بیان کرنا کہ وہ افسانہ بن جائے یقینا سمیرا حمید کا ہی خاصہ ہے ہر کردار کا حلیہ ، بات چیت کا طریقہ ، سالگرہ کی تیاری سب کچھ ، ایک ایک لفظ خوب صورت تھا۔ جتنی مرتبہ تازہ کلیوں کا ذکر آیا یقین کریں اپنے آس پاس خوشبو محسوس ہوئی۔ بہت ہی زبردست تحریر تھی۔
’’گھر کی بیٹیاں‘‘حقیقت یہ ہی ہے جو پھپھو کو پوچھتے بھی نہیں وہ جب بیٹی کی شادی کر دیں توایسے ہی گیان بانٹتے ہیں مگر کبھی کبھی کوئی ایسی ہمت کرنے والی بہو آجائے توسب ٹھیک بھی ہو جاتا ہے۔ آپ اسے ذاتی تجربہ بھی کہہ سکتے ہیں۔
سارہ کی ساس اور گول روٹی دونوں ہی مثبت تحاریر تھیں۔ ویسے اب میرے جاننے والوں میں زیادہ تر ساسیں ایسی ہی ہیں ۔ میری اپنی بیٹی کی ساس اتنی ہی سمجھ دار ہیں کہ میں ان سے سیکھ رہی ہوں کہ جب بیٹے کی شادی کریں تو کس طرح گھر کو پر سکون رکھنا ہوتا ہے۔
مکمل ناول تینوں ہی اچھے تھے۔ ’’میں سنڈریلا نہیں ہوں‘‘ میں دونوں بہنوں کا ایک دوسرے کے شوہروں سے نکاح کچھ نامناسب لگا۔
’’دھیمی آ نچ پر زندگی ‘‘ ایک حوصلہ دینے والی تحریر تھی۔ اگر محنت کریں تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔
’’ہم زہر تھے کہ امرت‘‘ پہلے سوچا اس پر کچھ نہ کہوں کہ اس ناول نے آخر تک دکھی رکھا۔ پھر سوچا کہ یہ ہی تو مصنف کا کمال ہے کہ ’’کہانی ابھی باقی ہے‘‘ والا تاثر دیا گیا۔ نہ احمریں کے فیصلے کو صحیح کہا بلکہ ساری ذمہ داری پڑھنے والوں پر ڈال دی۔ اختتام کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔
ج: پیاری صائمہ !تبصرہ بہت جامع اور خوب صورت ہے ۔ بہت شکریہ
سلمیٰ مسرت . اسلام آباد
راحت کے ناول پر میرا طویل تبصرہ شائع نہیں ہوا بہرحال میں دوبارہ ذکر کرتی ہوں لکھنے والی راحت اور ناول کا نام اتنا خوب صورت یہ نظم میں اکثر خیالوں میں گنگناتی ہوں۔
پہلے ناولوں کے نام بھی خوب صورت تھے کیا بات ہے ’’شام سے پہلے آنا ‘‘ آپ نے وہی خوشی دی ہے جو ’’گنگا کنارے ‘‘ شروع کر کے دی تھی اب شعاع اور خواتین ان ناولوں کی وجہ سے مکمل اور جھلملا اٹھے ہیں ۔مکمل ناول سب زبردست ہوتے ہیں اس بار گول روٹی کے افسانے پر ویسے ہی تبصرے آئیں گے جیسا کہ منی کا بیل تھا ہر خط میں اس افسانے کی تعریف ہوئی گول روٹی نے ہمیں اپنی جدوجہد یاد کروادی میری باقی کوکنگ اتنی اچھی نہیں ہے لیکن روٹی الحمد للہ ہاتھ سے پکانی آتی ہے سیکھی ہے۔ باقی تینوں بہنیں بیلن کا استعمال کرتی ہیں۔ نجمہ کی کوکنگ بہترین ہے لیکن روٹی اس نے آٹھ سال کی پریکٹس میں بیلن کے ساتھ سیکھی ہے۔
بہرحال ایک اچھا پیغام تھا کہ ہر بندہ مکمل نہیں ہوتا ہمارے آنگن تب ہی مہکیں گے جب ہم آنے والی بچیوں کو محبت چاہت دیں گے ناہید، صدف اور دیگر بہنوں کے تبصرے شان دار تھے ریحانہ کے خطوں میں شاعری اور ردھم تبصروں کے ساتھ اچھا لگتا ہے رضوانہ فاروقی ،معصومہ مہناز سب کے تبصرے اچھے تھے رضوانہ وقاص بھی اپنی صحت سے آگاہ کریں
ج: پیاری سلمیٰ ! باقی کوکنگ کیسی ہی ہو بس روٹی پکانا آتی ہے تو سمجھیں آپ ماسٹر شیف ہیں کیونکہ سارے پکوان آپ کسی سے پوچھ کر پکاسکتی ہیں لیکن روٹی کے لیے پریکٹس کی ضرورت ہے۔ بہت سی خواتین کی روٹی سخت پاپڑ کی طرح ہوتی ہے۔ کسی کی روٹی پھولتی نہیں ہے اور کچھ نقشے بناتی ہیں۔
سعدیہ.جہلم شہر
سب سے پہلے’’ہمارے نام‘‘ طرف دوڑ لگائی بہنوں کے تبصرے پڑھے بڑا مزا آیا۔
’’ابتہال‘‘ کی جتنی تعریف کروں کم ہوگی۔ بہت عمدہ میرال کا اپنی بیٹی کو بچانااور ابتہال کا زیور پکڑنا اس پر ثمرہ کی حالت ،مزا آگیا اب آگے کا انتظار ہے کہ عصمت بیگم کیا کریں گی۔
شام سے پہلے آنا بہت اچھا جارہا ہے۔
میں سنڈریلا نہیں ہوں، اچھی کہانی رہی جیسے کو تیسا والا حساب ہوا۔ وینزہ کو لالچ میں اکر منہ کی کھانی پڑی۔
’’ہم زہرتھے کہ امرت‘‘ میرب جیسی ہزاروں لڑکیاں ہوگی جو اپنی اس محرومی کی وجہ سے ہمیشہ نظر انداز کی جاتی ہیں مگر جو وہ کررہی تھی شادی شدہ مرد سے رابطہ ،وہ بھی اچھا نہ تھا بہرحال اچھا اختتام تھا۔
’’دھیمی آنچ پر زندگی‘‘ فضول خرچی کو کنٹرول کیے طریقے سمجھائے جو ہم بھی اب کرتے ہیں مہنگائی کے اس ماحول میں بہت سنبھل کر چلنا پڑتا ہے۔ میں بھی اپنا گھر بنانے کے لیے بچتیں کررہی ہوں آپ دعا لازمی کرنا کہ اللہ مجھے اپنا گھر دے۔(سب بولو آمین )
افسانے لاجواب، گھر کی بیٹیاں پڑھا دل میں بڑا دکھ آیاسچ میں والدین کے بعد بھابھیاں منہ کیوں بنالیتی ہیں۔
گول روٹی مزے دار تھی تندور نے بے چاری کو سکون دیا اور ساس امی کو بھی یہ مسئلہ تھا پر انہوں نے اپنے وقت کی تلخیاں بہو پر نہیں کی۔
باقی سب سلسلے اچھے تھے آپ کا باورچی خانہ اچھا تھا بھئی کام کرنےکے بعد پھیلا وا دیکھ کر میرا بھی منہ بن جاتا ہے۔ پھر کرنا پڑتا ہے۔ پر میں جب بھی پکاتی ہوں ساتھ ہاتھ کے ہاتھ صفائی۔
فہمیدہ جاوید کے بھائی کی وفات پڑھ کر بہت افسوس ہوا اللہ ان کی بخشش کرے۔آمین۔
اور ہماری پیاری مصنفہ رفعت سراج کے شوہر کے انتقال پر دلی افسوس ہے اللہ انہیں اس مشکل وقت میں ہمت دے۔آمین۔
پیاری سعدیہ!میرب نے شادی شدہ مرد سے تعلق نہیں رکھا۔ جب میرب نے بات چیت کی تو مجتبیٰ شادی شدہ نہیں تھا۔ ہماری دل سے دعاہے کہ آپ کا اپنا ذاتی گھر بن جائے۔ آمین۔
عابدہ وحید.راولپنڈی
یہ میرا خواتین میں دوسرا خط ہے۔ پہلا خط تب لکھا تھا جب بڑی بیٹی کی شادی ہوئی تھی۔ اب خیر سے دوسری بیٹی کی بھی شادی ہوگئی ہے۔بہت بار سوچتی تھی کہ خط لکھوں پر چونکہ رسالہ دیر میں ختم کرتی ہوں تو لکھ نہیں پاتی۔ صحن میں چار پائی پر بیٹھی ہوں۔ چار پائی گرم ہورہی تھی تو میں نے پانی ڈال کر اسے ٹھنڈا کرلیا۔ میں رسالہ پہلے صفحے سے پڑھنا شروع کرتی ہوں پرانی عادت ہے۔ کرن کرن روشنی سے مستفید ہو کے انشائ جی تک آتی ہوں۔ آج بھی انہیں پڑھ کر ان کی حس مزاج کی داد دیتی ہوں ۔ منے کی سالگرہ ۔کتنی پیاری کہانی ہے۔ سمیرا حمید کتنی خوش قسمت ہیں ۔ اللہ نے ان کے قلم میں کتنی روانی دی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ انہیں لکھنے کے لیے بالکل محنت نہیں کرنی پڑتی۔ الفاظ ان کے قلم سے نکل کر صفحات پر خود بخود بکھر جاتے ہیں۔ سمیرا پلیز کوئی ناول لکھیے ناں۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ کہانیاں تین طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک جو دل سے پڑھی جاتی ہیں ان کے کرداروں کے ساتھ ساتھ ہم روتے ہیں، ہنستے ہیں ،بہت عرصہ انہیں بھول نہیں پاتے۔ دوسری وہ جو دماغ سے پڑھی جاتی ہیں۔ انہیں چوکس ہوکر پڑھنا پرتا ہے۔ ایک پیرا بھی مس ہوگیا تو کہانی کچھ سے کچھ ہوجاتی ہے۔چوکس اور ہوشیار ہوکر مالا بھی پڑھی جاتی تھی۔ نمرہ کی ہر تحریر دماغ سے پڑھی جاتی ہے ۔
۔خاتون کی ڈائری سے رحمان فارس کی غزل اچھی لگی ۔پروین شاکر تو ہیں ہی بے مثال۔
ج۔پیاری عابدہ!ہمیں نہیں پتا کہ آپ کی کتنی بیٹیاں ہیں بس اتنا کہیں گے کہ اب بیٹی یا بیٹے کی شادی کا انتطار نہ کیجیے گا۔ہمیں ہر ماہ باقاعدگی سے خط لکھیے گا۔ بہت اچھا تبصرہ کیا ہے آپ نے۔
معصومہ مہناز.ضلع بھکرمورانی
خواتین ہاتھ میں آیا تو یوں لگا جیسے مدتوں کی آس پوری ہوئی ہو۔
سرورق پر سجی حسینہ دوپٹے میں کچھ ایسی دلکش لگ رہی تھی کہ نظریں چند لمحوں کے لیے وہیں ٹھہر گئیں۔
ہمیشہ کی طرح’’ کرن کرن روشنی‘‘ نے روح کو تازگی بخشی، انشا جی کو پڑھا حسب روایت دل کو چھوگیا، جبکہ آغا مصطفی حسن سے ملاقات پڑھ کر بے حد لطف آیا۔سیما مناف سے ملاقات بھی اچھی لگی، کیونکہ سچ پوچھیں تو ہمیں فنکاروں سے زیادہ قلم کاروں کی باتیں اپنی طرف کھینچتی ہیں۔
مکمل ناولوں کی فہرست میں جیسے ہی عائشہ نصیر احمد کا نام دیکھا، دل خوشی سے جگمگا اٹھا۔سب سے پہلے’’ وہ زہر تھا کہ امرت‘‘ شروع کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اختتام تک مجتبیٰ زہر ہی محسوس ہوتا رہا، مگر آخری چند صفحات میں جاکر امرت ثابت ہوا اور ساتھ ہی ناول بھی اختتام کو پہنچ گیا۔
’’دھیمی آنچ پہ زندگی‘‘ اس شمارے کا ایسا ناول تھا جس نے آغاز سے اپنی گرفت مضبوط رکھی۔
جیسے جیسے کہانی کے دریچے کھلتے گئے، اندازہ ہوا کہ اصل مسئلہ تنگ دستی نہیں بلکہ بے جا اخراجات اور غیر ضروری نمودونمائش تھی۔
اور آخر میں ہانیہ کا فاطمہ باجی کی مدد کرنا۔
واہ!یہی تو اصل ظرف ہے، یہی اعلا تربیت کی پہچان۔
’’میں سنڈریلا نہیں ہوں‘‘ ۔ کہانی کہیں بھی بوجھل نہیں ہوئی سب سے زیادہ اس کی مضبوط بنت نے متاثر کیا۔
اب آیئے سلسلہ وار ناولوں کی طرف. سب سے پہلے تو ہماری پیاری راحت جبیں کا نیا ناول’’شام سے پہلے آنا‘‘ پڑھا، اور کیا ہی خوب قسط تھی!اس بار پہلی مرتبہ تیمور میں ایک مکمل ہیرو کی جھلک دکھائی دی۔ نیلی کے لیے اس کی بے ساختہ فکر مندی دل کو بھاگئی۔
البتہ نہ جانے کیوں میرا دل بار بار یہی کہتا ہے کہ کہیں نیلی کی شادی رافع سے نہ ہو جائے۔(اللہ نہ کرے، آمین!
ویسے قسط کا اختتام بہت اچھا تھا،مگر صفحات کچھ اس قدر کم تھے کہ یوں لگا ابھی تو کہانی میں ڈوبنا شروع ہوئے تھے اور قسط ختم بھی ہوگئی۔
اس کے بعد’’ابتہال‘‘ کی طرف لپکے۔ حسنہ حسین آپی نے واقعی اس کہانی کو ریشم کے دھاگوں کی طرح بڑی نفاست سے بنا ہے۔
اللہ کرے شاہزل ہر آزمائش سے محفوظ رہے۔ دوسری طرف آئلہ حدید کی حالت بھی دل دکھارہی ہے۔
اور آخر میں ہالہ کا جلالی روپ.واہ!اس کی وہ ہنسی، اور پھر ایک ہی لمحے میں شمو کی چوری کا راز کھل جانا،قسط کا یادگار منظر بن گیا۔
پھر رخ کیا افسانوں کی جانب۔ اپنی موسٹ فیورٹ رائٹر، سمیرا حمید جی، کا نام نظر آیا تو دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ پہلے تو خود کو ذرا سنبھالا، پھر’’منے کی سالگرہ‘‘ پڑھنا شروع کیا۔ سمیرا جی نے ایک بار پھر لفظوں کے ایسے موتی پروئے کہ ابتدا سے اختتام تک قاری ان کے سحر میں بندھا رہتا ہے۔
سمیرا جی!آپ کا قلم واقعی کمال ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ اسی طرح رواں اور بابرکت رکھے۔ آمین
منی کا کردار بے حد پیارا لگا، جبکہ زوجہ کی کمنٹری تو اتنی فطری تھی کہ بے اختیار مسکراہٹ لبوں پر آگئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے چند لمحوں کے لیے ہم واقعی پرانے زمانے کی کسی سادہ، پرخلوص دنیا میں جا پہنچے ہوں۔(ہی ہی ہی)
’’گول روٹی‘‘ایک ہلکا پھلکا مگر دل آویز افسانہ تھا۔
’’گھر کی بیٹیاں‘‘ہمارے معاشرے کے دوہرے معیار کی نہایت خوب صورت عکاسی کرتا افسانہ تھا۔بہو کی حکمت عملی بہت پسند آئی۔
’’سارہ کی ساس‘‘ بھی راشدہ رفعت کا عمدہ افسانہ تھا۔
غزل اور نظم حسب روایت اچھی لگیں۔’’آپ کی بیاض سے‘‘ بھی بہت پسند آیا۔ تسنیم کوثر کی ڈائری دل کو چھو گئی۔
ج۔پیاری معصومہ!افسانے بھجوانے کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں افسانے ای امیل کرسکتی ہیں لیکن اتنا خیال رکھیے کہ افسانے یا کہانیاں زیادہ طویل نہ ہوں۔ مکمل ناول آپ ڈاک کے ذریعے بھجوائیں۔
زرینہ خانم لغاری. مظفر گڑھ
خواتین ڈائجسٹ میں بازی کدہ پڑھ رہے تھے تین قسطیں پڑھیں ،چوتھی آخر ی قسط تھی تمام دکانوں سے خواتین ڈائجسٹ نہیں ملا اتنا دکھ ہو اکہ پوچھیں نہ۔
ج: پیاری زرینہ ! ہم آپ کو پرچا بھجوادیں گے آپ آئندہ خط میں اپنا ایڈریس ارسال کردیں۔
خواتین کی پسندیدگی کے لیے تہہ دل سے شکریہ۔
کوثر مصطفی.. خیرپور میرس
میں خواتین ڈائجسٹ میں خط نہٰں لکھ سکتی کہ ہمیں خواتین بہت لیٹ ملتا ہے۔ اس لیے اس پر یہی کہوں گی کہ ’’ خواتین بھی اپنی مثال آپ ہے۔‘‘ ابتہال شاندار جارہاہے ڈاکٹر آئلہ حدید ہی مروان جلال کی ہیروئن ہے۔ راحت جبیں کا ناول بھی اچھا لگا۔
ج: پیاری کوثر ! خواتین کی پسندیدگی کے لیے تہہ دل سے ممنون ہیں ۔ آپ کی پسندیدگی ہمارا حوصلہ بڑھاتی ہے۔


