خط بھجوانے کے لیے پتا۔ خواتین ڈائجسٹ۔ 37۔ اردو بازار کراچی۔
رضوانہ فاروقی . حافظ آباد
اس ماہ سرورق تو بہت ہی پیارا۔ ’’سادگی و پرکاری‘‘ کہنی سننی میں ریاض صاحب کی شخصیت کا پڑھا۔ اور پھر رخ چوہدری کا بھرپور، بہت ہی پیارا مضمون پڑھا ۔ یادوں کے در کھل گئے۔
اس مرتبہ’’ ابتہال ‘‘بھی نظر آیا۔ مگر سب سے پہلے ’’بازی کدہ‘‘ پڑھا۔ اس کی آخری قسط تھی۔ راحین کا کردار بہت اعلا تھا۔ اس نے گھر والوں کے لیے بنا جتائے بہت کچھ کیا۔ سائرہ کے لیے اس کے لیے اتنی دور تک کی سوچ بہت اچھی تھی۔
دوسرے جس مکمل ناول نے متاثر کیا۔ وہ ثمین صداقت کا منتظر تھا۔ اسکول و کالج میں اساتذہ کے ماحول کی بھرپور اور جاندار عکاسی کی گئی ہے۔ جیسے کہ پیپرز کی تیاری میں ڈسکشن اسکول کے ماحول میں ہریالی و خوب صورتی لانے کی کوشش۔
میں بھی اس طرح کے ماحول کا حصہ رہی ہوں۔ لیکن اللہ کا شکر ہے۔ کہ میرا ساتھ دینے والے زیادہ اور تنقید والے قدرے کم تھے لیکن اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ تنقید آگے بڑھنے کا موقع دیتی ہے۔
افسانے اس مرتبہ اچھے رہے۔ حساس سے مزاج کے تھے۔ ’’می ٹائم ‘‘ حقیقت پر مبنی افسانہ تھا۔ ہماری اکثر نادان لڑکیاں دیکھا دیکھی میں اپنی جنت کو اجاڑ بیٹھتی ہیں۔ ’’گوشت خور‘‘ بھی اچھا تھا۔ ہمارے اردگرد بہت سی لڑکیاں ایسی ہیں۔ میری بڑی بہن کی تین بہوئیں ہیں۔ بڑی ریڈ میٹ پسند کرتی ہے اور منجھلی صرف چکن اور چھوٹی دونوں نا پسند کرتی ہے۔ تو ایسا یقینا ہر گھر میں ہوتا ہو گا۔
باقی تمام سلسلے بھی اچھے رہے۔ محسن نقوی کی غزل بہت پسند آئی۔
نفسیاتی الجھنیں میں دکھی ماں کا پڑھ کر بہت دکھ ہوا۔ اور میری نظر میں 80%سے 90% قصور بیٹے کا ہے۔ کہ ایسا بھی کیا۔ کہ بیوی کام ہی نہ کرے۔ میں نے ایک جگہ پڑھا تھا۔ کہ اگر آپ کی بیوی آپ کو بہن بھائیوں اور ماں باپ سے ملنے سے منع کرتی ہے۔ توآپ نے بہت غلط فیصلہ کیا ہے۔ اور غلط ساتھی کا ساتھ ملا ہے اور ایم این کوہاٹ کی محترمہ کا مسئلہ بھی عام ہے۔ اکثر سوشل میڈیا پر اسلامی نوازشات بھٹکا دینے والی ہوتی ہیں۔ یہ نہ پڑھو اور ایسے نہ پڑھو۔ یہ کھائو اور یہ نہ کھائو۔ یوٹیوب تو جھوٹم جھوٹ ہے۔
خطوط پڑھنے میں بہت مزاہ آتا ہے۔ اور آپ کے محبت بھرے جواب ہمارا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ میں نے اپنے بچوں سے کہہ رکھا ہے کہ کتاب سے محبت کی عادت وہ اپنے بچوں کو بھی ڈالیں گے۔ گل شیر کا پڑھنے کا ذوق ہے۔ تو ان شائ اللہ مارب کو کتاب پڑھنے کی عادت ضرور ڈالوں گی چھوٹی بہو زینب کو تو انگلش میں شاعری کا شوق ہے۔ اور اس کی نظمیں شائع بھی ہوئی ہیں۔
ج: رضوانہ جی ! خواتین ڈائجسٹ آپ کو پسند آیا بہت شکریہ ۔ بہت اچھی بات ہے کہ آپ نے اپنے بچوں کو مطالعہ کی طرف راغب کیا۔ مطالعہ کی عادت بہت سی برائیوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ آپ کا سروے موصول ہو گیا تھا لیکن اس وقت جب پرچا پریس جا چکا تھا۔ آئندہ کوئی سروے ہوا تو ہم سوالات ایک ماہ پہلے دے دیں گے۔ ہماری قارئین اتنی محنت سے خط لکھیں اور ہم وہ شائع نہ کر سکیں تو ہمیں آپ سے زیادہ افسوس ہوتا ہے۔
ناہید اسماعیل . کراچی
گرما کے حبس بھرے دنوں میں خوب صورت ٹائٹل سے سجا مئی کا شمارہ بہار کا تروتازہ جھونکا محسوس ہوا۔ سب سے پہلے بیاد محمود ریاض میں رخ چودھری کی تحریر پڑھی جس ہستی کے بارے میں لکھا گیا اور جس ہستی نے لکھا ،وہ دونوں ہی ہمارے درمیان نہیں میں نے صدق دل سے دونوں کے لیے ڈھیروں دعائیں کیں۔
کرن کرن روشنی میں کئی اہم مسائل کی اہمیت واضح کی گئی۔ اللہ پاک ہمیں با عمل مسلمان بنائے آمین ۔
تحریروں میں سب سے پہلے بازی کدہ کے صفحات کھولے جہاں ہمارے پسندیدہ کردار کہیں جذبوں کی بازی جیتتے نظر آئے تو کہیں حالات کی ستم ظریفیوں کو شکست سے دوچار کرتے ہمیں خوشی سے ہمکنار گئے۔ اور اس کا سہرا سنیعہ عمیر کے سر ہے برق رفتاری کے باوجود کہانی میں کسی بھی مقام پر یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ جلد بازی میں اختتام کیا گیا ہو۔ فواد کا کردار ہر حوالے سے بہترین رہا دوسری طرف راحین کا دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز اس کی صاف گوئی سائرہ کے لیے کی گئی اس کی مخلصانہ کوششیں متاثر کن تھیں۔
ابتہال کی کہانی سبک رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے ، الجھی الجھی سی بہت سارے راز و اسرار میں ڈوبی ہمارے تجسس کو خوب ابھار رہی ہے شاہ زیب کی بے حسی اور انوشے کی میرال اور ہالہ کو اپنے آگے سرنگوں دیکھنے کی خواہش ان دونوں کو مزید کس کس آزمائش سے گزارے گی اور اس احساس برتری کی ماری عورت کا تب کیا حال ہو گا جب اسے میرال کی اصل حیثیت معلوم ہو گی۔
اس قسط میں دل ربا اور شاہ زل کا ذکر بالکل ہی غائب تھا۔
راشدہ رفعت نے مکمل ناول پیش کر کے ہم پر احسان کیا ۔سچ میں بہت دل چاہ رہا تھا ان کی طویل تحریر پڑھنے کا۔میں راشدہ جی کی تحریر سب سے آخرمیں پڑھتی ہوں کیونکہ مجھے سکون و ٹھنڈک کا بھرپور احساس ملنے کی پوری امید جو ہوتی ہے، اس بار بھی یہ امید پوری ہوئی۔
ثمین صداقت ایک اہم موضوع زیر تحریر لائیں۔ ایسے واقعات اور حادثات سننے میں آتے رہتے ہیں جو کسی خاص سبجیکٹ یا فیلڈ میں نہ جا سکنے کے باعث اسٹوڈنٹس کے ساتھ رونما ہوئے۔ رفا کی امی قصور وارنکلیں۔ اوپر سے بیٹا اور بیٹی کے درمیان تفریق کر کے اولاد کے لیے مزید امتحان کھڑے کرتی رہیں۔
مراد نے بہت متاثر کیا ۔مضبوط کردار، ستھری سوچ اور خوش امید و خوش گمان ۔ جس نے ہرحال میں خوش رہنے کا گر سکھایا جسے گرین ٹی کی خوشبو ہی خوش کرنے کا کافی تھی ۔ ثمین نے بہت خوب صورت منظر لکھا جب ایک طرف دونوں بہن بھائی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف مراد چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خوش ہو رہا ہوتا ہے۔
رفا کی حاضر جوابی اور برجستگی قابل تعریف تھی۔ اختتامی سطورپڑھنے کے بعد ہم سوچتے رہے کہ ثمین کو کم از کم ایک پیرا اور لکھنا چاہیے تھا جس میں کسی تیسرے کی موجودگی کے بغیر دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہوتے بہرحال یہ تحریر بار بار پڑھی جانے والی تحریروں میں سے ایک ہے۔
دانیہ سمیع کی تحریر پر بھی پسندیدگی کی مہر لگنا لازم ہے ۔ جعلی عامل اور جھوٹے پیر فقیروں اور ان کے آلہ کار لوگوں کے کرتوت اور انجام دکھا کر دانیہ نے ایک اہم پیغام بھی قارئین تک پہنچایا۔
وطن عزیز کے حالات کی عکاسی کرتی تحریر فصل امید میری رائے میں ٹاپ آف دالسٹ ہے ، ام زینب کا افسانہ پسند آیا ساس صاحبہ نے تو حد ہی کر دی ویسے اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرنے میں وہ تنہا نہیں تھیں ،ان کا بیٹا یعنی رومی کا شوہر برابر کا شریک تھا بلکہ پورے ہی گھر کا آوے کا آوہ بگڑا ہوا تھا۔ می ٹائم میں صائمہ علی نے موجودہ دور کا ایک المیہ دکھایا المیہ یوں کہ اس حوالے سے مجھے یہی لفظ موزوں لگا۔ صد شکر کہ ہم سوشل میڈیا کی ان فضول چیزوں سے دور ہیں۔
عقیلہ ہاشمی کا مختصر افسانہ اچھا تو لگا مگر مجھے آدھے کپ کا فلسفہ سمجھ میں نہیں آیا کیونکہ سفید پوش گھرانوں میں قہوہ ابال کر ذرا سا دودھ ملا یا اور چائے تیار۔ ایک مناسب سائز کے کپ میں ایک ٹیبل اسپون دودھ کافی ہوتا ہے تو محض آدھا چمچہ دودھ کی بچت سمجھ نہیں آئی جبکہ افراد خانہ بھی کل چار تھے ۔
عنبرین ابدال کے انٹرویو کے دوسرے حصے سے لطف اندوز ہوئے۔ ہم انہیں غیر شادی شدہ سمجھتے تھے۔ مبشر محمود سے ملاقات پسند آئی ان کے جوابات دوسروں سے کچھ الگ لگے۔ لیکن سوال نمبر چونتیس کا جواب اب تک تمام فنکاروں نے ایک سا دیا ہے جس پر کم از کم مجھے تو حیرانی ہوتی ہے ،یعنی موبائل کے مقابلے میں دل ایسی بیکار چیز ہے کہ ٹوٹے سو ٹوٹے بس موبائل نہ ٹوٹے۔ ویسے ہماری گریٹ شنو آپی کا سوالنامہ خواہ انٹرویوز ہوں یا سروے ہمیشہ لا جواب ہوتا ہے۔
ہر ماہ اپنا خط اور آپ کا جواب پڑھ کر ایسی ہی خوشی ہوتی ہے جیسی پہلی بار خط شایع ہونے پر ہوئی تھی۔ سب سے پہلے ہمارے ہر فن مولا ریحانہ چودھری کی صحت یابی کی دعائیں۔ تبصرہ اور خط ان کا ہوتا ہی لا جواب ہے۔ ان کے اس جملے نے بڑا لطف دیا کہ وہ ریحانہ چودھری ہی کیا جو اتنی سی چوٹ سے پریشان ہو جائے۔ صدف اور فرخندہ کے تبصرے زبردست تھے، صدف آپ کو اقبال عظیم کی غزل پسند آئی لیکن یہ غزل بھی مکمل نہیں ہے اس کے مزید تین اشعار اور بھی ہیں۔ جہلم کی سعدیہ بہن کے لیے بہت دعائیں ۔ صائمہ علی۔ معصومہ مہناز اور مریم لشکری کے تبصرے اچھے مگر مختصر تھے۔ نصرت جبیں اور رضوانہ فاروقی کے تبصرے اچھے لگے۔
بیاض عالیہ نظام کا انتخاب بہت اچھا لگا پسند آیا۔ ہما سلیم اور حورالعین کی ڈائری اچھی لگی۔ جناب اس کا یہ مطلب ہر گز نہیںکہ باقی بہنوں کی اچھی نہیں لگی بس کم یا زیادہ کی بات ہوتی ہے۔
نفسیاتی الجھنیں میں مسائل سے دوچار دونوں مائوں کے لیے صدق دل سے دعا کی۔ لانڈھی سے جو مسئلہ پوچھا گیا ،بالکل ایسے ہی دوچار مسائل اپنے جاننے والوں میں دیکھے ہیں،انہوں نے جب بیٹے بہو کو الگ کر دیا تب بہوؤیں سارے کام خوب اچھی طرح کرنے لگیں۔ سو یہ مسئلہ نفسیاتی کے ساتھ ساتھ سیاسی بھی لگ رہا ہے۔ ہاہا
طیبہ اللہ یار کا باورچی خانہ مختصر پر اچھا لگا۔ مصروفیت کی وجہ سے ہر ترکیب ٹرائی نہ بھی کروں تب بھی میں موسم کے پکوان بہت دلچسپی اور غور سے پڑھتی ہوں اور مزے کی بات یہ کہ پڑھنے کے بعد ایسی فیلنگز آتی ہیں جیسے بنا لیا ہو اور کھا بھی لیا ہو۔ ہم نے آزما لیے ۔ چیک کریں ہم بھی کتنے عجیب ہیں اتنے عجیب کہ بس .؟
ج:پیاری ناہید !عجیب ہمیں تو اتنا پتا ہے کہ دلچسپ اور ذہین ضرور ہیں۔دلوں میںگھر کرنا جانتی ہیں ۔ اور دل رکھنا بھی ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے۔ اسی طرح چہکتی رہیں۔
عقیلہ ہاشمی کے افسانہ پر اعتراض ٹھیک نہیں کچھ لوگ ایک کپ میں ایک چمچہ قہوہ اور باقی دودھ ڈالتے ہیں ، ممکن ہے وہ خاتون بھی اسی قبیل سے ہوں۔
الکا عباسی . حیدر آباد
خواتین کا اپریل والا شمارہ ،ہاتھوں میں آیا تو سب سے پہلے ہمارے نام اور سب بہنوں کے سوال جواب پڑھے جو سالگرہ نمبر کے حوالے سے لکھے گئے تھے، خدا کی قسم ’’اللہ جھوٹ نہ بلوائے‘‘ دل جل جاتا ہے اتنے لمبے خطوط دیکھ کر مگر میرا خط آدھے سے بھی کم شامل ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اب میں نے خط لکھنا چھوڑ دیا ہے میں اب لکھتی ہی نہیں لیکن فرخندہ سلیم ملتان نے ایک بار پھر میرا نام پکار کر (اپنے خط میں)مجبور کیا کہ آج کچھ لکھوں۔
اس ماہ کے شمارے میں ’’ابتہال‘‘ غیر حاضر رہا وجہ نا معلوم اور کہیں بھی ذکر نہیں کہ کس وجہ سے شامل نہیں کیا گیا ۔جب کہ ہر ماہ انتظار ہوتا ہے مجھے ، پھر سے پرانے ڈائجسٹ خرید لائی تلک چاڑی والی شاپ سے جہاں کا ذکر میں نے پہلے بھی کیا تھا۔ اللہ کا شکر ہے نگہت عبداللہ اور قرۃ العین خرم ہاشمی کے انٹرویو ان میں تصویر کے ساتھ شامل تھے ۔دل خوش ہو گیا ان دونوں رائٹرز کو دیکھ کر۔ کاش عالیہ بخاری رفعت سراج ، نبیلہ عزیز ، نبیلہ ابر راجہ ، راحت جبین ، آسیہ سلیم ، قریشی ، آمنہ ریاض بھی تصویر کے ساتھ انٹرویو شائع ہوں تو دل اور بھی خوش ہو جائے ان پیاری بہنوں کو دیکھ کر ۔
میں ہر ماہ لکھوں یا نہ لکھوں لیکن باقاعدگی سے رسالہ خواتین پڑھتی ہوں ،اب تو میرا کچھ خیال کریں میں تو اتنا طویل بھی نہیں لکھتی آسیہ رئیس خان اور آپ سب کی پیاری ناہید اسماعیل کراچی کی طرح اب تو خط مکمل شائع کریں۔
اور صدف ناصر نے کیا خوب کہی کہ رائٹر کس دماغ سے ایسے عجیب و غریب نام سوچتے ہیں کیا مسلمانوں کے نام اب ختم ہو گئے ہیں ،میرا نام الکا ہی کسی کہانی میں ہیروئن رکھ لیں کیوں کہ بقول خواتین میرا نام منفرد ہے۔
میں نے ایک ناول لکھ کر ای میل کیا تھا اب تک اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا کہانی کے متعلق ؟ ہمارے نام کے دو پیجز پہلے اور باقی آخری صفحات پر ہونے کی وجہ ہی بتا دیں ؟
سواسیرکہانی میں جو دکھایا گیا ہے۔ آج کل ہر گھر کی یہی کہانی ہے ساس اپنی بیٹیوں کے آگے اپنی بہوئوں کو کچھ سمجھتی ہی نہیں ہیں ۔
ج: پیاری الکا !آپ کے نام کے کیا معنی ہیں ۔ آئندہ خط میں ضرور لکھیں ۔ اس سے پہلے کوئی خط نہیں ملا ورنہ ضرور شائع کرتے ۔جہاں تک خط ایڈٹ کرنے کا تعلق ہے تو اس کا ایک ہی سبب ہے صفحات محدود ۔ خط زیادہ کسی ماہ گنجائش ہوتی ہے تو ہم پورا خط بھی شامل کر لیتے ہیں۔
ساسوں کو بہوئوں سے اچھا رویہ رکھنا چاہیے جب وہ انہیں بیٹی کی طرح سمجھیں گی۔ تب ہی بہووئیں بھی ان کی عزت کریں گی۔
زینب عطاریہ چک نورسرتحصیل و ضلع بھاول نگر
آپی یہ کہانیاں لکھی ہیں پسند آجائیں تو شائع کر دیں۔ آپی جو پہلے قسط وار ناول آتے تھے وہ آپ کے پاس کتابی شکل میں ہے کہ نہیں۔ ہمیں پرچے کبھی نہیں ملے ہم پرانے ہی منگوا کے پڑھتے ہیں، ابو پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے لیکن ہم چوری بھائی سے منگواتے ہیں ہمارے گائوں میں کوئی بک شاپ نہیں ہے ،ہمیں شہر سے منگوانے پڑتے ہیں وہ بھی اولڈ بک ڈپو سے ۔آپی ہمارے گھر میں کوئی موبائل نہیں ہے ایک بھائی کا موبائل ہے آپ نے جو بات بھی کرنی ہو ان کے نمبر پر کال کر لیں۔
خواتین ڈائجسٹ کے ہم بہت بڑے فین ہیں۔ ہم ساری بہنیں شوق سے پڑھتی ہیں ہمیں خواتین بہت پسند ہے آپ لو گ اتنا اچھا پرچہ نکالتے ہیں ہم تہہ دل سے شکر گزار ہیں آپ کے اور آپ کی ٹیم کے کسی قاری بہن سے پوچھ لیں اگر ڈائجسٹ پرانے پڑے ہوں تو ہم معاوضہ دے دیں گے بس بتا دیں آپ لوگ۔ اپنا خیال رکھیے گا۔
ج: پیاری زینب !ناولوں کے بارے میں آپ درج ذیل نمبر پر فون کر کے پتا کر لیں ۔0333-
3792066
سعدیہ . جہلم شہر
ماڈل بہت اچھی لگی، گرمی کے حساب سے کپڑے بھی اچھے لگے۔ سب سے پہلے پڑھا ’’بازی کدہ‘‘ بہت اچھا اختتام ہوا ۔بہت پیاری کہانی تھی۔ اس کے بعد ’’ابتہال ‘‘ بہت زبردست ہے۔ دل کرتا ہے ختم ہی نہ ہو منتظر بہت الگ کہانی تھی دل کو لگی اور پھر ’’حال دل ‘‘ شاندار کہانی ۔شکر ہے کہ ہیرو صاحب کے دل میں کوئی شک نہیں آیا معاملہ آرام سے حل ہو گیا۔
اور پھر جی ’’چھوٹی چھوٹی بڑی باتیں‘‘ مزہ آ گیا دادی بہت اچھی لگیں ۔یہ جادو پر یقین کرنے والوں کے لیے اچھی کہانی ہے۔ پر آج کل لوگ اس طرف پتا نہیں کیوں لوگوں کی باتوں میں آ کر لگ پڑتے ہیں۔
افسانے سب ہی اچھے لگے۔ گوشت خور پڑھ کر اپنی یاد آ گئی میرے مرحوم شوہر مجھے زبردستی پائے کھلاتے تھے ۔میری امی کو غصہ آتا کہ شادی سے پہلے تو نہیں کھاتی تھی اب کیا ہوگیا! فصل امید بھی اچھا لگا۔ مختصر یہ کہ ہر کہانی بہت اچھی لگی۔ جون میں میرے مرحوم شوہر کی چھٹی برسی ہے ،آپ سب ان کے لیے دعا کرنا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے آمین۔
ج:پیاری سعدیہ !اللہ تعالیٰ آپ کے شہر کو جنت الفردوس میں اعلا مقام سے نوازے ۔ آمین
خواتین ڈائجسٹ کی پسندیدگی کے لیے ممنون ہیں۔ آپ باقاعدگی سے شرکت کریں ۔ہمیں خوشی ہو گی۔
صائمہ علی . اسلام آباد
سب سے پہلے اپنی خود کی کہانی پڑھی کہ اپنے ہاتھ سے لکھی کہانی اور لگتی ہے مگر وہی الفاظ جب رسالے میں چھپتے ہیں تو معتبر ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کیا کہوں کہ اس طرح عزت دینے کا شکریہ۔ اب آتے ہیں دوسری کہانیوں کی طرف تو ۔
کہنا یہ تھا کہ بازی کدہ خوب صورتی سے ختم ہوا فواد اور راحین کو زندہ رکھ کر آپ نے دل خوش کر دیا۔
’’ابتہال‘‘ ابھی تو ایک سسپنس سے بھری کہانی لگ رہی ہے۔ ابتہال کے گھر والوں کے علاوہ دوسرے کردار کچھ زیادہ ہی گنجلک ہیں۔ مگر خیر ابھی تو بالکل شروع ہے ،آگے کہانی کھلے گی تو یقینا واضح ہو جائے گی۔
ثمین صداقت کا منتظر ایک خوب صورت ترین تحریر تھی۔ بہت سادہ انداز میں لکھی ہوئی جامع تحریر۔ میری ساری تعلیم بھی مخلوط اداروں کی ہے۔ سچ ہے ہر ہر موڑ پر اپنے آپ کو سنبھالنا پڑتا ہے۔ دنیا کے ڈر سے نہیں بس اپنے اصولوں کے حساب سے ۔مجھے یاد ہے وہ زمانہ کہ اب تو تیس سال گزر گئے جس طرح نمازوں میں دعائیں کرتے تھے کہ اللہ ثابت قدم رکھے۔ خیر یہ تحریر مجھے توتیس ، پینتیس سال پیچھے لے گئی۔
’’چھوٹی چھوٹی بڑی باتیں‘‘اور حال دل میں بہت اچھی تحاریر تھیں۔ مگر دونوں کہانیوں میں منفی رول والے کردار کا نام سرمد تھا۔ یقینا اتفاق تھا مگر سب سرمدوں کی مائیں ناراض ہو سکتی ہیں۔
ج: جی صائمہ !آپ کا کہنا درست ہے ۔آپ نے ٹھیک نوٹ کیا۔ سرمد کی مائیں ہی نہیں سارے سرمد بھی ناراض ہو سکتے ہیں چلیں ،اب ہم کسی کہانی میں سرمد کو ہیرو بنا دیں گے۔ خواتین کی پسندیدگی کے لیے شکریہ۔
فیری زمان.کراچی
ایک وقت تھا جب ہم فراغت کے بڑے مزے لیا کرتے تھے۔ جب سے دونوں بہنوں کی شادیاں ہوئیں، تب سے فرصت کی باتیں خواب و خیال ہوئیں۔ ہم جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں، گھر میں بھابھیاں، والدہ ہیں، الحمدللہ۔
پھر بھی گھر کی زیادہ تر ذمہ داری مجھ پر ہے کبھی خوشی محسوس ہوتی ہے کہ اس قابل تو ہوں کہ بہنوں کے بعد گھر کو اچھے سے سنبھال لیا ہے۔ کبھی کبھار تنگ آجاتی ہوں کہ زندگی صرف ذمہ داریوں کا نام تو نہیں ہے۔ کہتے ہیں اگر زخم کو وقت پر کیئر نہ کیا جائے تو وہ ناسور بن جاتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک غلطی کو وقت پر نہ سدھارا جائے تو آنے والے وقت میں ،وہ ایک بہت بڑی مشکل کی صورت سامنے آکر کھڑی ہوجاتی ہے کچھ ایسی ہی صورت حال سے دوچار رہیں ۔
شمارے کی طرف آتے ہیں۔سب سے پہلے مالا کے بارے میں بات کرنا چاہوں گی۔ ایک طویل تحریر کا اختتام اتنا بے رنگ اور ادھورا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ زیاد کو اتنی آسان موت نہیں مارناچاہیے تھا۔ دل کسی طور پر بھی نمرہ جی کے پوائنٹ آف ویو سے متفق نہیں ہوپارہا۔
حسنہ حسین کے نام نے دل پر مرہم لگایا۔ ابتہال نے آتے ہی دھوم مچادی۔ ابتہال نے دل جیت لیا۔ زبردست۔ جانثار کا اختتام توقع کے برعکس جلدی کردیا گیا۔ لیکن شان دار اختتام کیا گیا ۔ اور بازی کدہ بھی بہترین تھی۔
آسیہ رئیس سے کہنا ہے ایک طویل ناول بھی اب لکھ ہی ڈالیں۔
شاہین آپی آپ صرف ہماری لکھاری بہنوں کے انٹرویوز ہی لیا کریں۔ بھئی زہر لگتے ہیں ہمیں ایکٹرز کے انٹرویوز۔
آسیہ جی اور نمرہ احمد کا انٹرویو جب بھی لیں تو سوالات کا موقع ہمیں بھی دیجیے گا اور پورا شمارہ ہی شان دار ہوتا ہے۔
ج۔پیاری فیری!ہمیں علم نہیں ہے کہ آپ کی مشکل کیا ہے۔ ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کی تمام مشکلات آسان فرمائے۔ آپ سے صرف ایک بات کہیں گے کہ صبروتحمل کے ساتھ دعا کرتی رہیں۔ ان شائ اللہ ساری مشکلیں آسان ہوجائیں گی۔ پریشانی میں بہت سے لوگ صبروتحمل کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ یا ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کوشش اور دعا کرتی رہیں۔ ان شائ اللہ کامیابی ہوگی۔
خواتین ڈائجسٹ آ پ کو پسند آیا۔ یہ جان کر بہت خوشی ہوئی۔ گھر کی ذمہ داریاں ضرور نبھائیں لیکن تھوڑا وقت ہمارے لیے ضرور نکالیں۔
معصومہ مہناز.ضلع بھکرمورانی
میرے خط لکھنے کی سب سے بڑی وجہ خواتین ڈائجسٹ کی پوری ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا ہے، جو دن رات کی انتھک محنت سے ہر ماہ ہمارے سامنے ایک شان دار شمارہ لے کر حاضر ہوتی ہیں اور ہر نیا شمارہ پہلے سے زیادہ خوب صورت، جان دار اور یاد گار محسوس ہوتاہے۔بے’’مثال‘‘ شخصیت میں محمود ریاض صاحب کے بارے میں پڑھا تو آنکھیں نم ہوگئیں، عنبرین ابدال سے ملاقات بھی بہت اچھی رہی، اور یہ بات تو بالکل سچ ہے کہ ہمیں فنکاروں سے زیادہ رائٹرز سے ملاقات پسند آتی ہے، ہم سیدھا اپنے پسندیدہ ناول ’’بازی کدہ‘‘ کی طرف آنکلے۔ پہلے تو بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالا، پھر راحین کی صحت یابی کے لیے دل سے دعائیں مانگیں۔ آخری صفحے تک سنیعہ آپی ہماری دھڑکنوں کے ساتھ کھیلتی رہیں۔ سنیعہ آپی آپ کا بہت شکریہ خوش گوار اختتام کیا،سنیعہ آپی! اب آپ سے ایک طویل ناول کی پرزور فرمائش ہے۔
’’ابتہال‘‘ واقعی ایک انمول تحریر تھی، اندر تک سرایت کرجانے والی۔ آپی حسنہ حسین کا انداز تحریر لفظوں کی پہنچ سے کہیں بلند محسوس ہوا۔ کہانی کی گرہیں جس مہارت سے کھلتی گئیں، وہ کمال تھا۔ البتہ دل ربا اور شاہ زل کبیر کی کہانی اس بار بہت مس ہوئی۔
’’چھوٹی چھوٹی بڑی باتیں ‘‘نہایت دلچسپ اور منفرد موضوع پر لکھی گئی بہترین تحریر تھی۔
’’حال دل‘‘ واقعی کمال تھا، راشدہ رفعت نے دل کے جذبات کو بہت خوب صورتی سے لفظوں میں ڈھالا۔ ثمین صداقت نے ’’منتظر‘‘ کے ذریعے معاشرے کی بہترین عکاسی کی۔
’’افسانوں میں فصلِ’’ امید رلاگیا جبکہ ’’نظر‘‘ آتے ہیں کچھ ‘‘ٹاپ آف دی لسٹ رہا۔
’’می ٹائم ،ایک ناقابل فراموش سبق دے گیا، آدھا‘‘۔ ’’کپ ہر گھر کی کہانی محسوس ہوا، جبکہ حورالعین‘‘ کی ڈائری سیدھا دل میں اتر گئی۔
آخر میں اپنی موسٹ فیورٹ رائٹر سمیرا حمید سے طویل ناول کی فرمائش ہے۔
ج: پیاری معصومہ!تہہ دل سے شکریہ۔ آپ نے ہمیں خط لکھا اور ہماری حوصلہ افزائی کی۔ سمیر احمید تک آپ کا پیغام ان سطور کے ذریعے پہنچارہے ہیں۔
گوشی جمال.منڈی یزمان
دو ماہ سے جمال ہائوس خواتین بشمول اکا دکا مرد، مصروفیات کی انتہائوں پہ ہیں، وجوہات کے تو انبار لگے ہوئے ہیں۔ لکھنے کو دل بے انتہا ہوتا ہے ہائے رے زندگی کے سیاپے ۔جان نہیں چھوڑ رہے،
گڈی آپا اور زوباریہ کا کیس فیملی کورٹ تک آن پہنچا ہے۔ دونوں خواتین نے اپنا جائز حق جو وصول نہیں ہوپایا۔ کچھ میری ملی بھگت سے آپا کا سامان جہیز ودیگر نان نفقہ کی حصولی اور زوباریہ کی طرف سے اپنا خرچا ،ڈیٹا بلاک کی صورت جو شناختی کارڈ میں احمق ترین بہنوئی سے سرزد ہوا ،اس کے بابت عدالت کے کٹہرے میں تشریف آوری کروالی۔ وکیل اور جج صاحب ہی اب اس کی درگت بنائیں گے۔
اوپر سے ان دنوں مستری حضرات بھی بھائی نے گھسیڑے ہوئے ہیں۔ ان کی ہانڈی روٹی پکاتی شاہانہ آپا اور گڈی آپا اور کورٹ کے چکر اور میں دکان داری میں خوار ،اپنا حقیقت پہ مبنی افسانہ شائع ہونے پہ خوش گوار حیرت ہوئی۔ بہنوں کی پسندیدگی پہ خوشی ہوئی ۔ رضوانہ فاروقی آپ مجھ سے متاثر ہوکر لکھنا چاہتی ہیں ،جان کر اور پڑھ کر میرے چہرے پہ مسکراہٹ درآئی۔ شکریہ آپی۔ صدف ناصر آپ کی محبت پہ سرخم تسلیم ہے ۔میں نے حاضری لگوادی ۔
عنبرین ابدال کے انٹرویو کی دونوں اقساط ایک ساتھ پڑھ کر معرکہ سر کیا۔ دلچسپ اور رنگین ملاقات تھی۔
انشائ جی کے انڈے اور رخ چوہدری کی بے مثال شخصیت لرزہ طاری کر گئی۔’’طیبہ اللہ یار‘‘ کا باورچی خانہ بہت مختصر سا تھا۔باورچی خانے سے یاد آیا کچھ عرصہ قبل یہ کارنامہ میں نے انجام دے کر ارسال کیا تھا۔ کوئی خیر خبر نہ آئی۔ کیوں چنگانئیں لگیا۔عید الفطر کے دن بہت تیزی سے گزر جاتے ہیں ،عید قرباں کا ویلکم قربانی کے جانوروں کی خریدوفروخت کی نذر ہوجاتا ہے۔ اس بار قربانی کے لیے عمدہ بکرا ہی لینا ہے بکری ہرگز نہیں۔
ج: گوشی جی!آپ نے یاد کیا، بہت شکریہ لیکن یہ بتائیں کہ پرچے پر تبصرہ کہاں ہے ،اتنے طویل خط میں تبصرہ کے نام پر صرف چار لائنیں۔ آئندہ خط میں پرچے کے بارے میں بھی لکھیے گا۔
سمیرا شفیع.رحیم یار خان
’’کرن کرن روشنی‘‘ پڑھ کر دل کو بہت سکون حاصل ہوتا ہے۔’’خاتون کی ڈائری‘‘میں بہت دلچسپ غزلیں ہوتی ہیں دل چاہتا ہے کہ بس پڑھتے رہیں’’رنگ عید کے‘‘ یہ سروے بھی بہت اچھا لگا۔ ہر کسی کی عید پڑھ کر خاص طور پر’’رضوانہ بیٹیاں جو ہوتی ہیں والدین کو پریشان نہیں کرتیں۔
’’باتیں رابعہ رضوان‘‘ سے ملاقات بہت اچھی رہی ۔’’بازی کدہ بہت اچھا جارہا ہے۔’’کاج بٹن اور دھاگا۔‘‘ بہت ہی عمدہ ناولٹ ہے واقعی کسی ایسے انسان کے ساتھ پانچ سال گزارنا جس کے دل کے دروازے آپ کے لیے بند ہوں، بہت درد ناک ہوتا ہے افسانے بھی بہت ہی لاجواب رہے ۔نظمیں اور غزلیں تو میری جان ہے۔’’موسم کے پکوان‘‘ سے بہت لذیذ کھانے بنانے کو ملتے ہیں۔
’’نفسیاتی ازدواجی الجھنیں‘‘ لگتا ہے عدنان بھائی نے سمجھ داری میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔
ج: پیاری سمیرا!آپ کے خط لیٹ موصول ہونے کے باعث شائع نہیں ہوپائے۔ آپ کا مارچ کے شمارے کا خط شامل کررہے ہیں۔ آپ کے افسانے ابھی پڑھے نہیں گئے۔ قابل اشاعت ہوئے تو ضرور شائع ہوں گے۔
رضوانہ وقاص.کرلاں ہری پور
ماڈل اچھی لگ رہی تھی۔ بچوں کو تیار کرکے اسکول بھیجا پھر میں نے اور میرے شوہر نے ناشتا کیا۔ ناشتے کے بعد قران پاک کی تلاوت کی تو سوچا آج شعاع اور خواتین میں خط لازمی لکھنا ہے۔
’’کہنی سننی‘‘پڑھی ریاض صاحب کے لیے دعا کی ہے۔’’کرن کرن روشنی‘‘ بہت اچھی باتیں ہوتی ہیں ۔پڑھ کر عمل بھی کرنے کی کوشش بھی کرتی ہوں۔
’’ہمارے نام‘‘نہ پڑھوں یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ ناہید اسماعیل کا اتنا لمبا خط کیا بات ہے جی۔ فرخندہ سلیم کے اور صدف ناصر کے خط بھی بہت اچھے ہوتے ہیں۔بہت شکریہ یاد کرنے کا ۔چھوٹے بیٹے موذن کو اس بار اسکول میں داخل کروادیا ہے نہ اسلامیہ پبلک اسکول سرائے نعمت خان میں تو اس کے ساتھ زیادہ مصروف ہوتی ہوں، خود پڑھانا اس کو کام کروانا یہ مصروفیات ہیں۔ سب گھر والے اور پورے محلے والوں کا لاڈلا سب ناراض ہورہے تھے کہ تم نے بہت جلدی داخل کروادیا اس کو ،رات کو جلدی سلانے کی کوشش کرتی ہوں پانچ سال کا ہونے والا ہے۔
نصرت جبیں خوشاب میں کہاں رہتی ہیں۔ ضرور بتائیں رضوانہ فاروقی خوش آمدید۔ریحانہ چوہدری مدوکے، بہت اچھا لگا آپ سے بات کرکے۔ اللہ آپ کو جلد ٹھیک کرے۔(آمین)بستر میں ہر وقت بیٹھے رہنا بہت مشکل ہے۔ آپ سب میرے لیے دعا کریں۔
جس طرح ریحانہ چوہدری آپ نے مشین بیڈ پر رکھوائی ،میں بھی پہلے چھوٹی عید ہو یا بڑی عید ہو، یا امی سے مشین چارپائی پررکھواکر بچوں کے کپڑے سلائی کرلیتی تھی۔
لیکن اب نہیں کرسکتی اب درد ہوتا ہے ہاتھوں میں شہادت کی انگلی سیدھے ہاتھ سے بہت سرخ ہوجاتی ہے ۔ابو کو بتا دیتی ہوں کہ یہ دیکھیے ہاتھ دکھ گئے ہیں امی کو نہیں بتاتی کہ وہ غصہ ہوتی ہیں ،ناراض ہوجاتی ہیں لیکن کبھی کبھی صبر نہیں آتا۔ میں مہندی بھی لگوالیتی ہوں دل تو اب بھی کرتاہے۔ لیکن پھر بات وہی کہ ہاتھ درد کرتے ہیں۔
جب میں نے اپنے چھوٹے بیٹے فوزن کو اسکول داخل کروایا ،تو میرا بہت بہت دل خفا ہوا ہے۔ کہ میں کہتی ہوں اللہ جی ایک بار مجھے اپنے پیروں پرکھڑا کرے میں اپنے موذن کے لیے خود اسکول کی چیزیں لے کر آئوں جس طرح اور بچوں کی مائیں لاتی ہیں۔ ان کے بابا سب کچھ لادیتے ہیں لیکن میں اپنے دل کی بات آپ لوگوں سے کررہی ہوں۔
’’گوشت خور‘‘ نے گوشت پر لکھی کہانی بچے تو سبزیاں کھاتے ہی نہیں۔ برہان کی طرح گوشت ہو یا پھر بریانی۔’’می ٹائم‘‘ صائمہ علی نے بہت اچھا لکھا ۔
’’رومی جی یہ ہی ہوتا ہے جی منگنی سے پہلے کچھ اور شادی کے بعد کچھ۔
’’آدھا کپ‘‘ جب بیٹوں کی سمجھ میں باتیں آنے لگتی ہیں نا تو مائیں نہیں ہوتیں اور نہ کوئی سمجھانے والا۔
میری امی بھی ایسا ہی کرتی ہیں، میں بولتی ہوں امی کہ جب آپ کے پاس پیسے ہو ں اپنے اوپر خرچ کیا کریں۔نہیں جی یہ کرلوں وہ کرلوں۔’’چھوٹی چھوٹی بڑی باتیں‘‘ دانیہ سمیع نے بھی اچھا لکھا آج کل یہ ہی ہورہا ہے۔’’آپ کا باورچی خانہ‘‘ طیبہ اللہ یار کا اچھا لگا۔
نفسیاتی الجھنیں پڑھیں۔ دکھی ماں کی پڑھ کر تو بہت ہی دکھی ہوگئی میں خود بھی۔ ایم این کوہاٹ۔کابھی پڑھا یہ ہی حال میرا ہے کوئی کچھ باتیں بتاتا ہے کوئی کچھ۔ میں خود سن کر پریشان ہوجاتی ہوں آپ نے کرن کرن روشنی میں بتایا نا کہ مجھے کوئی کہتا ہے کہ تم قرآن مجیدوضو کے بغیر بھی پڑھ سکتی ہو نماز بھی لیکن میں نے ابھی تک نہ نماز اور نہ ہی قرآن مجید وضو کے بغیر نہیں پڑھا، مشکل ہے میرے لیے میں کلی اور منہ پر مسح کرنا یہ سب مشکل سے کرتی ہوں منہ بھی بہت مشکل سے دھوتی ہوں سارے کپڑے گیلے ہوجاتے ہیں لیکن وضو کرتی ہوں لیکن آپ نے بتانا ضرور ہے۔ جب میرے پاس کوئی نہیں ہوتا ،میں خود وضو نہیں کرسکتی تو اشاروں والی نماز کا صحیح طریقہ بتادیں۔
چھوٹی عید بہت ہی اچھی گزری بھائیوں کے ساتھ اور عید کے تیسرے دن فرحت باجی ٹیکسلا سے ملنے آئیں ،مجھے بہت بہت اچھا لگا۔ لیکن اب ان کا نمبر نہیں ملتا۔
پیاری رضوانہ!اللہ تعالیٰ آپ کو صحت کاملہ سے نوازے۔آمین
پیاری بہن!قرآن پاک آپ وضو کے بغیر بھی پڑھ سکتی ہیں۔آپ کے لیے وضو کرنا مشکل ہے لیکن جو بہنیںآسانی کے ساتھ وضو کرسکتی ہیں، وہ بھی وضو کے بغیر قرآن پاک پڑھ سکتی ہیں البتہ پریڈ کے دنوں میں قرآن پاک کوہاتھ لگانا منع ہے۔
نماز کے لیے مجبوری میں تیمم کیا جاسکتا ہے۔ آپ کے لیے وضو کرنا ضروری نہیں ہے۔
ایمان راشد.مری
میں آپ سب کو اس دلکش لمحے سے آگاہ کرتی چلوں کہ اس وقت ہم مری(کوٹلی ستیاں)کے پرفضا پہاڑوں میں موجود ہیں، یہاں کی خاموشی، قدرت کی دلکشی اور فضا کی لطافت دل کو ایک عجب سکون بخش رہی ہے۔
اب آتے ہیں پرچے کی جانب.وہ لاجواب، انتہائی لاجواب۔اتنا لاجواب کہ اس کی تعریف کے لیے الفاظ بھی کم پڑجائیں۔جب سے ہم نے پڑھنا شروع کیا، تب سے لے کر آج تک خواتین نے جس خوب صورتی سے اپنا معیار برقرار رکھا ہے، وہ واقعی قابل تحسین ہے۔
ہمارا سفر خواتین کے ساتھ ،آج سے تقریباًسات سال قبل ہوا، جب ہم محض نو برس کے تھے۔ ایک دن ہم بک اسٹال پہ گئے اور وہیں سے پہلی بار خواتین کا ایک پرانا شمارہ خریدا۔ اس وقت یہ محض ایک اتفاق تھا، مگر ہمیں کیا خبر تھی کہ یہی لمحہ ،ایک خوب صورت وابستگی کی ابتدا بن جائے گا۔
اس کے بعد تو بقول ہماری والدہ کے، ہمیں ایسا ’’چسکا‘‘پڑا کہ بس مت ہی پوچھیے۔ ہر شمارہ ہمارے لیے کسی انمول خزانے سے کم نہ ہوتا ،اور ہم بے چینی سے اس کے صفحات میں کھوجانے کا انتظار کرتے۔یہ شوق آہستہ آہستہ عادت بنا، عادت سے محبت،اور محبت سے ایک ایسی لگن جو آج تک قائم ہے۔
میرے والدین کے بعد، اگر میری تربیت اور اصلاح میں کسی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے تو وہ خواتین کا ہے۔ اس کے صفحات نے نہ صرف مجھے جینے کا سلیقہ دیا بلکہ سوچنے اور سمجھنے کی نئی راہیں بھی روشن کیں۔
اب تو یہ محض ایک پرچا نہیں رہا بلکہ اپنا گھر سا محسوس ہوتا ہے.امتل آپی، ہماری عزیز قارئین اور دیگر مدیران، سب کے ساتھ ایک ایسا دل کا رشتہ قائم ہوچکا ہے جو کبھی نہ ٹوٹنے والا ہے۔یہ رشتہ خلوس، محبت اور اپنائیت کی خوب صورت بنیادوں پر قائم ہے۔
پیاری ایمان!آپ نے بہت خوب صورت انداز میں خواتین ڈائجسٹ سے اپنی وابستگی کااظہار کیا ہے۔ آپ میں لکھنے کی صلاحیت ہے۔ آپ اپنی تخلیقات ہمیں بھجوائیں۔ اچھی تحریروں کے لیے ہمارے دروازے ہمیشہ کھلے ہوئے ہیں۔
نائلہ یوسف خان.وہاری
میں بلوچ فیملی سے تعلق رکھتی ہوں جن کے رسم ورواج بہت سخت ہوتے ہیں۔ بھائی کی منتیں کرکے یہ خط پوسٹ کرنے پر رضامند کیا ہے۔
ہم ساری کزنز آپ کا رسالہ بہت شوق سے پڑھتی ہیں۔ میں چھٹی کلاس سے آپ کے رسالے پڑھ رہی ہوں۔آپ کے تمام سلسلے بہت اچھے ہیں مگر سب بہنوں کی طرح ہمیں بھی خطوط کا سلسلہ بہت پسند ہے۔ آسیہ رئیس ہمیں بہت پسند ہیں۔ ان کا نام دیکھ لیں تو وہ رسالہ ضرور خریدتے ہیں۔
پیاری نائلہ!آپ نے خط لکھا، بہت خوشی ہوئی، آسیہ رئیس ہمیں بھی بہت پسند ہیں۔ ان کا مکمل ناول آئندہ ماہ یعنی جولائی کے شمارے میں پڑھ سکیں گے۔
حفصہ،حجاب زہرہ.آڑا اکبر شاہ
ہم دس سال سے خواتین کی خاموش قاری ہیں۔ ہم مطلب میں اور میری کزن حجاب۔ ہم چھپ چھپ کے رسالے پڑھتے ہیں کیونکہ میرے دادا، بھائیوں اور ابو کو لگتا ہے کہ معاشرے میں لڑکیوں کو خراب کرنے والی چیز رسالوں سے بڑی کوئی چیز نہیں۔ لیکن میری پھوپھیاں اور میری بہن بھی پڑھتی تھیں اور اب ان کے بعد میں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم وہ آخری نسل ہیں کہ جنہیں کتابوں سے عشق ہے۔
ہمیں جس چیز نے خط لکھنے پر مجبور کیا وہ سنیعہ عمیر کا ناول’’بازی کدہ‘‘ اور حسنہ حسین کا ناول’’ابتہال‘‘ ہے۔ ابتہال سے یاد آیا۔ پچھلے ماہ کی قسط کیوں نہیں آئی۔ہمیں بڑا انتظار تھا ۔سنیعہ عمیر کی یہ تحریر زبردست تھی۔ پڑھ کر اچھا لگا۔
ہماری طرف سے اقرا بتول اور بشریٰ بتول کا بہت بہت شکریہ۔
پیاری حفصہ اور حجاب! ہمیں حیرت ہوتی ہے جب ہم یہ پڑھتے ہیں کہ والد اور بھائی ڈائجسٹ پڑھنے پر پابندی لگاتے ہیں۔ کم از کم انہیں پابندی لگانے سے پہلے ایک بار ڈائجسٹ کھول کر ضرور دیکھ لینا چاہیے۔ کہ اس میں کیا شائع ہوتاہے۔ آج کل تو موبائل پر وہ کچھ ملتا ہے جسے دیکھ کر ہم کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔
٭٭


