کوئی حد ہوتی ہے بے ایمانی کی – ابن انشاء

Inb-e-Insha 70

اخبار میں کسی کا مراسلہ چھپا ہے کہ حکومت نے تو بنا سپتی گھی کا ریٹ ساڑھے سات روپے سیر مقرر کیاہے جو پہلی قیمت چھ روپے فی سیر سے ڈیڑھ روپیہ اوپر ہے لیکن دکان دار اپنی چوتھ یا عشر الگ وصول کرتے ہیں وہ اس طرح کہ سیر کے بجائے پونڈ کاباٹ استعمال کرتے ہیں یعنی دو پونڈ دیتے ہیں اور سیر کی قیمت لیتے ہیں اور یوں دو باٹوں کے بیچ میں ثابت رہے نہ کوئے ۔ چار سیر گھی لینے والے کو آدھ پاؤ گھی کا نقصان رہتاہے اور دکان دار ایک روپیہ زیادہ بٹور لیتاہے۔ پونڈوں کے حساب سے تول کر دیتے ہیں ہر دکان دار کو اپنے جائز منافع کے علاوہ ہر ٹین پر چار روپے ملتے ہیں۔ مراسلہ نگار نے متعلقہ حکام سے وضاحت کی درخواست کی ہے۔

سیر ہمارا سکہ ہے، پونڈ انگریزوں کا گویا انگریز یہاں سے جانے کے بعدبھی ہمیں گزند پہنچانے سے باز نہیں آئے۔ متعلقہ حکام کو توجہ ضرور کرنی چاہیے لیکن یہ متعلقہ حکام کون ہوتے ہیں، کہاں ہوتے ہیں۔ ہمیں آج تک معلوم نہ ہوا۔ راشن کے آٹے میں بھوسی ملتی ہے۔ اسے بھی چھوڑیے کیونکہ بھوسی سناہے وٹامن سے بھرپور ہوتی ہے۔ سیدھی سیدھی مٹی ملتی ہے ،دودھ میں پانی ملتاہے۔ اور پانی میں نہ جانے کیا کیا ملتاہے لیکن کسی کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ متعلقہ حکام کے کان ہی نہیں ہوتے کان ہوں تو ان سے سنیں اور کان ہوں تو ان پر جوں رینگے۔ اور کان ہوں تو حکومت ان کو اینٹھے۔ ان کی گوشمالی کرے۔ سب سے پہلا کام حکومت کو یا اسمبلیوں کو یا عوام کو یہ کرنا چاہیے کہ متعلقہ حکام کے کان لگواکے دے۔ اور ان سے کم سنتا ہو تو کانوں میں ٹونٹی لگواکے دے ۔بھونپو لگوا کے دے ورنہ وہی عالم رہے گا جو ہے۔

یاںلب پر لاکھ لاکھ سخن اضطراب میں

داں ایک خامشی تری سب کے جواب میں

ایک چیز ہوتی ہے صارف، کنز یومر، آپ میں سے جو بازار سے آٹا ڈال خریدتا ہے، دودھ خریدتاہے۔ اخبار خریدتا ہے ،گوشت خریدتاہے ، بکری خریدتاہے، غم خریدتا ہے۔ اس کا کام صرف خریدنا ہے کچھ بیچنا نہیں ہے سوائے اپنی محنت کے ،سوائے اپنی جان کے ، دوسرے ملکوں میں ان کی انجمنیں ہیں سوسائٹیاں ہیں۔ غذا ناقص ہو تو غذا بیچنے والے کی جان کو آجاتی ہیں۔ دوا ناقص ہو تو دوا بنانے والے کو جیل بھجواتی ہیں ان کی لیبارٹریاں ہوتی ہیں۔ اس میں چیزوں کی جانچ کراتی ہیں۔ قیمتوں کی چھان پھٹک کرتی ہیں۔ غلط دعوے کرنے والوں کے گریبان میں ہاتھ ڈالتی ہیں۔

ادھر ہمارے ملک میں دکان داروں کی انجمنیں ہیں کارخانہ داروں کی انجمنیں ہیں۔ آڑھتیوں کی انجمنیں ہیں۔ٹھیکے داروں کی انجمنیں ہیں۔ کنزیو مر کی کوئی انجمن نہیں ہے۔ رکشہ والوں کی ایسوسی ایشن ہیں۔ ویگن والوں کی ہیں۔ ٹیکسی والوں کی ہیں۔ اگر نہیں ہیں تو مسافروں کی نہیں ہیں ۔سب کی سنی جاتی ہے ۔ان کی غم کی کہانی اور پریشانی یہاں سننے والاکوئی نہیں۔ ان سے یتیم اچھے ۔ ان کو کچھ کہیے تو جو رو کی بھابی کہیے۔ یہی دکاندار جو پاؤنڈ کے باٹ سے دیتاہے خریدے گا تو سیر کے باٹ سے خریدے گا بلکہ کلو کے باٹ سے کہ صاحب اس وقت یہی میسر ہے۔ اب یہ اتفاق کہیے کہ کلو سترہ چھٹانک کا ہوتا ہے۔ جب تک یہاں صارفین متحد نہ ہوں گے سیدھی انگلیوں گھی نہ نکلے گا۔ یہ ہم بناپستی گھی کی بات کررہے ہیں۔ اصلی گھی تو فی ئزمانہ ٹیڑھی انگلی سے بھی نہیں نکلتا۔

جب بھی کوئی نیا بھاؤ آتا ہے اور ہر روز آتاہے، خواہ وہ صابن کا ہو، ٹوتھ پیسٹ کا ہو۔ ہلدی کا ہو چونے کا ہو۔ دوا کا ہو، دارو کا ہو، پہلے سے چڑھا ہوا آتاہے اور کہیں سکے میں تبدیلی ہو، اعشاری نظام آجائے۔ باٹ بدلیں، عالمی ناپ تول کا نظام تشریف لائے۔ زد بہر حال خانہ انوری پر ہی پڑتی ہے۔ لفافہ دو آنے کاتھا۔ حساب سے ساڑھے بارہ پیسے جانیے لیکن اعشاری نظام آتے ہی تیرہ پیسے کا ہوا کہ ROUNDFIGUREکردی ہے۔ یہ کوئی نہیں مانتاکہ بارہ پیسے بھی تو راؤنڈ فگر ہیں۔ لوگوں نے ا یک ایک پیسے کے فرق سے ہزاروں لاکھوں کمائے اور چھ پیسے کا آنہ شمار کرنے والوں نے تو روپے میں پورے چار پیسے بچائے۔ اعشاری سے غیر اعشاری کیجیے یا عالمی سے غیر عالمی نظام کیجیے۔ نکلے گا ہماری جیب سے ،جائے گا دکان دار یاکارخانہ دار کی جیب میں ،سڑکوں پر ون وے ٹریفک کوئی مانے نہ مانے۔ اس معاملے میں ہم نے ہمیشہ ون وے ہی دیکھا۔

اس مراسلہ نگار نے لکھا ہے کہ یہ نقصان تب ہے اگر دکان دار ایمان داری سے پورا تولے۔ یعنی صرف اکبری بے ایمانی کرے۔ بعض تو تولتے بھی پونڈ سے ہیں اور اس میں بھی ڈنڈی مارتے ہیں۔ ان صاحب کو معلوم ہو کہ یہ سارا نظام ہی ڈنڈی ماروں کا ہے۔ کبھی ڈنڈے مار آئیں گے تو ان کو راہ راست پر لائیں گے۔

ایک قصبے کے بنیے کا قصہ ہمیں یاد آتاہے جس کے ترازو میں پاؤ بھر کا پاسنگ تھا ۔کوئی سیر بھر گہیوں لاتا تھا تو ترازو کا کانٹا پون سیر ہی دکھاتا تھا۔ ایک روز ایک بڑھیا سوت کی انٹی بیچنے آئی۔ اس کا وزن تھا آدھ پاؤ ، دکاندار نے ترازو کے پلٹرے میں رکھی۔ اور سوچ میں پڑ گیا۔ بڑھیا نے کہا لالا کیابات ہے کتنا وزن نکلا سوت کا ۔بولا۔ مائی کیا بتاؤں اگر تو آدھا پاؤ سوت اور لائے تو تیرا کچھ بھی نہیں۔

ناپ کے پیمانے بدلتے جارہے ہیں۔ تول کے بدلے جارہے ہیں۔ شاعروں کو تشویش ہوگئی ہے کہ اگر شاعری میں اعشاری اوزان رائج کردیے گئے تو کیا ہوگا۔ یہ فاعلاتن ،فاعلات تو سیر چھٹانک کا معاملہ ہے کہ بحر میں آٹھ رکن ہوتے ہیں۔ سولہ رکن ہوتے ہیں۔ پانچ اور دس والے پیمانے آگئے تو شعروں کو کیسے ناپا کریں گے اور مضمون کو کیسے تولا کریں گے وہ تو جو ہوگا سو ہوگا اور جب ہوگا تب ہوگا بے ایمانی اس میں ہوتی ہے کہ بعض لوگ شاعری کرتے ہیں۔ شعر عطا فرماتے ہیں تو کبھی ایک رکن اپنے پاس رکھ لیتے ہیں کبھی دو رکن کا گھپلا کردیتے ہیں۔ یعنی ڈنڈی مارتے ہیں۔ شاعری کے بارے میں کم تولنے کی یہ شکایتیں روز بروز بڑھتی جارہی ہیں۔ بلکہ جو جتنا کم تولے اتنا ہی بڑا شاعر سمجھاجاتاہے۔ بعض مصرعے تو ایک ایک لفظ کے بلکہ ایک ایک حرف کے ہوتے ہیں۔ نئی نسل کے بعض شاعر ایسے بھی دیکھے ہیں کہ ایک حرف بھی نہیں۔ بس نقطے ڈال کے تقطیع پوری کردیتے ہیں۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں